373.2K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Iman Umeed Or Muhabbat) Episode 6

آئندہ آپ محتاط رہیے، اس طرح رات کے وقت منگیتر کے ساتھ جانا بھی مناسب نہیں ہوتا ۔ وہ کچھ کہے بغیر بے یقینی کے عالم میں باہر نکل آئی۔ کیا واقعی یہ لوگ مجھے چھوڑ رہے ہیں ۔ وہ ابھی بھی شش و پنج میں تھی ۔ مگر آرمی کی ایک جیپ میں بٹھا کر وہ فوجی نہ صرف اسے ہاسٹل چھوڑ گئے بلکہ انھوں نے چوکیدار سے گیٹ کھلوا کر اسے اندر بھی بھیجوایا۔ عقیلہ اپنے کمرے میں اس کی منتظر تھی۔ اس کے چہرے پر کوئی ایسی بات ضرور تھی کہ وہ چونک گئی۔ کیا ہوا ؟ امید نے جواب دینے کے بجائے بستر پر بیٹھ کر اپنے جوتے اتار دیے۔ پھر آہستہ آہستہ وہ اپنی ساری جیولری اتار نے لگی۔ کیا ہوا امید؟ سب کچھ ٹھیک تو ہے؟ وہ اٹھ کر اس کے پاس آگئی۔ امید خالی نظروں سے اس کا چہرہ دیکھنے لگی پھر یک دم عقیلہ کے ساتھ ۔لپٹ کر اس نے بلند آواز میں رونا شروع کر دیا۔ عقیلہ اس کی اس حرکت سے گھبرا گئی۔اسے ساتھ لپٹا کر دلا سا دیتے ہوئے وہ اس کے رونے کی وجہ پوچھتی رہی۔ بہت دیر روتے رہنے کے بعد اس نے سسکیوں اور ہچکیوں کے درمیان اپنے ساتھ ہونے والا سارا واقعہ اسے سنا دیا۔ اس کا خیال تھا۔ عقیلہ جہاں زیب کو برا بھلا کہے گی۔ اسے اس سے منگنی توڑنے کے لیے کہے گی۔ ایسا نہیں ہوا تھا۔ اس کی ساری بات سننے کے بعد اس نے اسے خود سے الگ کر دیا۔تمہاری حماقت کی وجہ سے جہاں زیب پکڑا گیا ۔ وہ بے یقینی سے اس کے جملے پر اس کا چہرہ دیکھنے لگی- میری حماقت کی وجہ سے؟“ ہاں تمہاری حماقت کی وجہ سے۔ جب اس نے تم سے کہا تھا کہ تم سارجنٹ سے کہہ دو کہ تم اس کی بیوی ہو تو تم خاموش کیوں رہیں اور بعد میں تم نے ملٹری پولیس کے ہیڈ کوارٹر پہنچ کر سب کچھ کیوں بتایا ۔ عقیلہ اتم جانتی ہو۔ وہ میرے ساتھ کیا کر رہا تھا ؟“ کیا کر رہا تھا؟ عقیلہ نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا۔ وہ اس کا چہرہ دیکھ کر رہ گئی۔ وہ جو بھی کرنا چاہتا تھا۔ وہ نیچرل چیز ہے۔ تمہاری شادی اس شخص کے ساتھ ہوتی ہے اور وہ بھی چند ہفتوں کے اندر پھر اس کا یہ مطالبہ کوئی ایسا غیر مناسب نہیں تھا ۔“ وہ خوف کے عالم میں عقیلہ کا چہرہ دیکھتی رہی وہ اس سے کیا کہہ رہی تھی۔ تم دونوں میچیور ہو۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں تھی جس پر تم اس طرح ہنگامہ کھڑا کر دیتیں ۔ اب سو چود را، وہ بے چارہ تو پھنس گیا۔ عقیلہ اطمینان سے کہہ رہی تھی۔ وہ فق رنگت کے ساتھ اسے دیکھتی رہی۔ مجھے اس طرح مت دیکھو امید ! میں کوئی ایسی بات نہیں کر رہی جو ناممکن ہو۔ تم ہی کہتی رہی ہو مجھ سے کہ تم اس سے محبت کرتی رہی ہو اور یہ محبت نو سال پرانی ہے وہ بھی تم سے محبت کرتا ہے۔ اس طرح جس طرح تم تمھارے لیے وہ باہر سے واپس آگیا۔ اس نے اگر تم سے ایک مطالبہ ایسا غیر مناسب نہیں تھا ۔“کیا تو میں نہیں مجھتی یہ غلط تھا۔“ امید ایک جھٹکے سے کھڑی ہوگئی ۔ اگر میری جگہ تم ہوتیں اور جہاں زیب کی جگہ شفیق ہوتا تو ، تو کیا تم اس کی بات مان لیتیں ۔ وہ مشتعل ہو گئی۔ ہاں بالکل مان لیتی جس شخص سے محبت ہو۔ اس شخص کی بات ماننی پڑتی ہے ۔ چاہے وہ بات غلط ہو ؟“ ہاں چاہے وہ غلط ہو۔ میں نے کہا ناں ، ساری بات محبت ہی کی ا ہوتی ہے۔ انسان کو محبت ہو تو اس کے عوض کچھ نہ کچھ تو قربان کرنا پڑتا ہے۔“ وہ بے یقینی سے اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔کیا محبت کی بھی قیمت ہوتی ہے ؟ اسے اپنی آواز کسی کھائی سے آتی ہوئی سنائی دی محبت ہی کی تو قیمت ہوتی ہے ۔ عقیلہ اس کی آ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ رہی تھی۔ تمھیں پتا ہے عقیلہ تم کیا کہہ رہی ہو؟ ہاں میں جانتی ہوں۔ میں کیا کہہ رہی ہوں ۔ ہاں بالکل مان لینی چاہیے تھی ۔ تمہارا مطلب ہے۔ مجھے اس شخص کی بات مان لینی چاہیے تھی۔ ہاں بالکل مان لینی چاہیے تھی ۔ میں یہ سب نہیں کر سکتی ۔ کیوں نہیں کر سکتیں تمھیں تو خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے کہ کہیں وہ تھیں چھوڑ نہ دے، وہ تو شادی کر رہا ہے تم سے نو سال سے وہ شخص تمھارے ساتھ ہے۔ تمہاری ہر مصیبت میں اس نے تمہارا ساتھ دیا۔ مگر تم اسے مصیبت میں پھنسا آ ئیں، لڑکیاں تو بوائے فرینڈز کے ساتھ چلی جاتی ہیں اور تم اپنے منگیتر کے ساتھ آخر وہ شادی کر رہا ہے تمھارے ساتھ پھر مسئلہ کیا تھا۔ بات شادی کی نہیں ہے۔ بات تو گناہ کی ہے۔ میں گناہ نہیں کر سکتی۔ میرے مذہب میں یہ سب جائز نہیں ہے۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ مذہب کو زندگی سے الگ رکھ کر دیکھو جو اخلاقیات ہمیں مذہب دیتا ہے۔ وہ معاشرے میں لاگو نہیں ہوتیں، زندگی میں گناہ اور ثواب کے چکر میں پڑی رہوگی تو تمھیں کچھ بھی نہیں ملے گا ، میری بات لکھ لو امید تھیں کچھ بھی نہیں ملے گا کم از کم محبت نہیں ۔ ہم بیسویں صدی میں رہ رہے ہیں عورت کو اپنی زندگی کے فیصلوں کی آزادی ہونی چاہیے اور اس آزادی کا استعمال کرنا چاہیے۔ تم بھی آج کی عورت ہو۔ اپنے آپ کو ان فضول رسموں رواجوں سے آزاد کرو۔ کم از کم محبت کو گناہ اور ثواب کے دائرے سے نکال دو۔ محبت کو محبت رہنے دو۔

وہ بہتے آنسوؤں کے ساتھ اس کا چہرہ دیکھتی رہی ، وہ سب کچھ بڑی لا پروائی سے کہہ رہی تھی ۔ امید ساری رات اپنے بستر پر اکڑوں بیٹھی روتی رہی۔ اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا۔ اس نے کیا کیا ؟ کیوں کیا۔ جہاں زیب کے ساتھ کیا ہوگا۔ اسے چھوڑ دیا گیا ہوگا یا پھر وہ واپس چلا گیا ہو گا اور جب وہ چھوٹ جائے گا تو وہ کیا کرے گا۔وہ شدید ڈپریشن کا شکار تھی۔ اگلے دن جہاں زیب نے فون نہیں کیا۔ دو دن اور گزر گئے ۔ اسے یوں لگ رہا تھا جیسے وہ پھانسی کے پھندے پر جھول رہی ہو۔
چوتھے دن رات دس بجے کے قریب عقیلہ کے موبائل پر اس نے کال کیا۔ امید ! جہاں زیب کا فون ہے۔ عقیلہ نے سلام دعا کے ساتھ ہی فون اس کی طرف بڑھا دیا۔ کپکپاتے ہاتھ کے ساتھ اس نے موبائل پکڑ لیا۔
کل رات آٹھ بجے میں تمھیں لینے آؤں گا اور کل رات تم میرے ساتھ رہوگی ۔ جہاں زیب ! میں ۔ اس نے سرد آواز میں امید کی بات کاٹ دی۔ پہلے میری بات سن لو پھر میں تمہاری سنوں گا۔ آٹھ بجے تم گیٹ پر آ جاؤ گی اور کل اگر تم میرے ساتھ چلنے پر تیار نہیں ہوئیں تو پھر میں تم سے شادی نہیں کروں گا ۔ ہمارا رشتہ ختم ہو جائے گا ۔ اب تم یہ طے کر لینا کہ تم میری بات مانو گی یا پھر………….. تمھیں پتا ہے۔ تم مجھ سے ایک گناہ کروانا چاہتے ہو ۔ وہ بے اختیار سکنے لگی۔ اچھا، کروانا چاہتا ہوں پھر ؟ اس کا لہجہ اتنا ہی جارحانہ تھا۔ جہاں زیب ! تمھیں کیا ہو گیا ہے ؟
جو بھی ہوا ہے ٹھیک ہوا ہے۔ میں دیکھنا چاہتا ہوں ۔ تمھیں مجھ سے کتنی محبت ہے ۔“
تم جانتے ہو۔ میں تم سے کتنی محبت کرتی ہوں ۔
پھر ٹھیک ہے۔ میری بات مان لو۔“
ہمارے مذہب میں یہ جائز نہیں ہے۔ حرام ہے یہ۔“
مجھے مذہب سے کوئی نہیں ہے اور دوبارہ مجھ سے مذہب کے بارے میں بات مت کرنا ۔ جہاں زیب ! میں ایسا کام کر کے اللہ کے سامنے کیسے جاؤں گی…………………
.تو ٹھیک ہے ۔ میری بات نہ مانو اور مجھے چھوڑ دورہ کئیہو میرے بغیر نہیں۔ میں نہیں رہ سکتی ۔ وہ بلکنے لگی تو ٹھیک ہے پھر میری بات مان لو۔ دو نہیں، میں یہ بات نہیں مان سکتی ۔ اس کے باوجود کہ میں تم سے شادی کرنے والا ہوں، کیا تمھیں یہ خوف ہے کہ میں تم سے شادی نہیں کروں گا اگر اس خوف کی وجہ سے تم……………… مجھے کوئی خوف نہیں ہے۔ مجھے صرف اللہ کا خوف ہے۔ اللہ نفرت کرتا ہے ان چیزوں سے ، مجھے اتنا بے وقعت مت کرو کہ میں تمھارے سامنے زندگی میں دوبارہ کبھی نظریں اٹھا سکوں نہ اپنے وجود پر نظریں دوڑا اسکوں ۔ جس ہاسٹل میں تم رہتی ہو۔ اس ہاسٹل کی کسی بھی لڑکی کو میں اگر محبت کے جال میں پھانسوں تو جہاں چاہے بلو اسکتا ہوں حتی کہ تمہاری اس دوست عقیلہ کو بھی اور مجھے ایسی ہی لڑکیاں پسند ہیں جو بولڈ ہوں ۔ فیصلہ کر سکتی ہوں جس سوسائٹی میں، میں موو کرتا ہوں ۔ اس سوسائٹی میں مودکر سکیں ۔ تمہاری طرح گناہ اور ثواب کی رسیاں گلے میں لڑکانے والی لڑکیوں سے مجھے کوئی دلچپسی نہیں ہے۔ اس لیے میں امید عالم! آج آپ یہ فیصلہ کر لیں ، آپ کو جہاں زیب عادل کی محبت چاہیے یا آپ مذہب کو گلے کا ہار بنا کر پھریں گی ، آپ کو زندگی میرے ساتھ گزارنی ہے یا پھر اپنا Code of ethics لیے پھرنا ہے۔ محبت اور مذہب میں سے ایک چیز کو چن لو، اس سے کم از کم میری زندگی بہت آسان ہو جائے گی ۔ فون بند ہو گیا تھا۔ عقیلہ ساری رات اسے سمجھاتی رہی۔ اسے بتاتی رہی کہ جہاں زیب کے بغیر زندگی اس کے لیے کتنی مشکل ہو جائے گی ۔ کیا وہ ایک ایسے شخص کے بغیر زندگی گزار سکے گی جو اس سے محبت کرتا تھا۔ نو سال جس کے ساتھ اس نے اپنی ہر خواہش ہر خواب با نتا تھا۔ جس کا ساتھ اس کے گھر والوں کا مستقبل سنوار سکتا تھا اور اگر وہ اس شخص کو چھوڑتی ہے تو پھر پھر اسے کون مل سکے گا۔ مڈل کلاس فیملی کی ایک لڑکی کو اس کے گھر والوں کی ذمہ داری کے ساتھ کون قبول کرے گا۔
وہ خالی نظروں کے ساتھ اس کا چہرہ دیکھتی رہی ۔ جہاں زیب ہاں جہاں زیب کے بغیر میں کیسے رہ سکتی ہوں۔ کیسے برداشت کر سکوں گی کہ وہ شخص میرا نہ رہے جسے نو سال میں نے دن رات اپنے خوابوں میں دیکھا ہے جس سے محبت کی ہے میں تو اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی یا اللہ میں جانتی ہوں یہ گناہ ہے مگر یہ ایک گناہ میری زندگی تباہ ہونے سے بچا سکتا ہے۔ سب کچھ بچا سکتا ہے ۔“ اس نے اپنی گردن کے گرد لپٹی ہوئی رسی کے پھندے کو کسنا شروع کر دیا۔ اگلے روز عقیلہ نے شام کو اسے خود تیار کرنا شروع کیا تھا۔ وہ جیسے اس کے ہاتھوں میں ایک کٹھ پتلی تھی ۔ آٹھ بجے عقیلہ کا موبائل بجنے لگا۔ امید
کا دل ڈوبنے لگا۔ ہاں، وہ آرہی ہے ۔ عقیلہ نے جہاں زیب سے بات کرنے کے بعد فون بند کر دیا وہ گیٹ پر تمہارا انتظار کر رہا ہے جاؤ ۔ وہ اپنے کمرے سے باہر نکل آئی۔ ہاسٹل کے لان تاریکی میں ڈوبے ہوئے تھے۔ کہیں کہیں جلنے والی روشنیاں تاریکی کومکمل طور پر ختم کرنے میں نا کام ہورہی تھیں ۔ دور ہاسٹل کا بند گیٹ اس وقت اسے ایک بھوت کی طرح لگ رہا تھا۔ وہ چلتے چلتے رک گئی۔
کیا میں واقعی جانتی ہوں کہ میں کیا گنوانے جارہی ہوں اور اگر میں یہ گیٹ کر اس نہیں کرتی تو تو کیا میں اس شخص کے بغیر رہ پاؤں گی ۔“ اس نے قدم بڑھانے کی کوشش کی ۔تو امید عالم ! تم آج وہ کرنے جا رہی ہو ، جس پر تمہارا باپ اپنی زندگی میں خود کشی کر لیتا۔ کیا ساری عمر وہ اس لیے تمہاری انگلی پکڑ کر تھیں چلاتا رہا ہے کہ سامنے گڑھا آنے پر تم آنکھیں بند کر کے اس میں کو دجاؤ۔ کیا اپنے باپ کی آواز کا نقش اتنا پھیکا تھا اس نے ہونٹ بھینچ لیے۔ مگر میرے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ میں نے اس شخص سے اتنی محبت کی ہے کہ اب اس کے بغیر رہنا میرے لیے ممکن ہی نہیں ۔ اس نے اپنے گالوں پرنمی محسوس کی۔مسلمان ہو کر تم وہ کرنے جا رہی ہو جو امید ! کیا تم اللہ کا سامنا کر پاؤ گی ۔اس نے اپنے وجود میں سے ساری ہمت نچڑتی پائی تھی۔ مگر اللہ جانتا ہے میں مجبور ہوں اور وہ معاف بھی تو کر دیتا ہے کیا مجھے معاف نہیں کرے گا ؟ اس نے دل کو دلیل سے سمجھانا چاہا۔ اور اگر اللہ نے اس گناہ کے لیے تمھیں معاف نہ کیا تو ؟“ اسے اپنے پیروں میں زنجیریں پڑتی محسوس ہوئیں ۔ ” اور پاکیز گی تو صرف اللہ ہی عطا کرتا ہے ۔ اپنے باپ کی اکثر سنائی جانے والی ایک آیت کا ترجمہ اسے لرزا گیا ۔ تو کیا میں پاکیزگی کو چھوڑ کر اپنے وجود کو گندگی میں دھکیلنے جا رہی ہوں۔ مگر اللہ جانتا ہے میں مجبور ہوں ۔ اس نے اپنے ملامت کرتے ہوئے ضمیر کو ایک اور بہانا پیش کیا۔ تمھیں اللہ سے خوف کیوں نہیں آتا امید ؟ گناہ کو پہچاننے کے باوجود تم اس کی طرف جانا چاہتی ہو اور تمھیں آس ہے کہ وہ تمھیں معاف کر دے گا۔ دین میں صرف دو راستے ہوتے ہیں اچھائی کا یا برائی کا۔ گناہ کا یا ثواب کا۔ تم کون سا تیسرا راستہ ڈھونڈ نے جارہی ہو۔ گناہ کرنے سے پہلے ہی خود کو بخشوا لینا چاہتی ہو کیا اس طرح تمہارا گناہ ثواب میں بدل جائے گا۔“اس کا اضطراب بڑھتا جار ہا تھا۔ سامنے نظر آنے والا گیٹ یک دم ہی بہت دور نظر آنے لگا تھا۔ کیا میں بھی ان لڑکیوں میں سے ہو جاؤں جو ایک طوائف اور مجھ میں کیا فرق رہ جائے گا ، وہ روپے کے لیے اور میں، میں محبت کے لیا ……………………….
جاری ہے……………………