Iman Umeed Or Muhabbat By Umerah Ahmed Readelle50316 Iman Umeed Or Muhabbat (Episode 11)
No Download Link
Rate this Novel
Iman Umeed Or Muhabbat (Episode 11)
تین دن کے بعد سادگی سے ایمان علی کے ساتھ اس کا نکاح ہو گیا ۔ یہ امید کی ضد تھی کہ شادی کی کوئی رسم ادا نہ کی جائے ۔ اس کے گھر والوں کے اصرار کے باوجود وہ اپنی ضد پر قائم رہی۔ نکاح نامہ پر دستخط کرنے کے بعد بھی بہت دیر تک اس کا ہاتھ کا نپتا رہا تھا۔ ہاں ساری بات تقدیر ہی کی ہوتی ہے اور تقدیر وہ چیز ہے جو ہماری آنکھوں میں ریت بھر دیتی ہے۔ نو سال جب بھی میں نے اس کاغذ کا سوچا تھا میری سماعتوں میں صرف جہاں زیب کا نام ہی گونجتا رہا تھا۔ پچھلے پانچ سال میں نے یہی سوچا تھا کہ میں زندگی میں کبھی کسی شخص سے شادی نہیں کروں گی۔ میری زندگی میں جہاں زیب نہیں تو کوئی دوسرا بھی نہیں آئے گا اور اب یہاں اس کا غذ پر دستخط کرتے ہوئے میرا کوئی فیصلہ کوئی خواہش رکاوٹ نہیں بنی آپ نے ٹھیک کہا تھا ڈا کٹر خورشید میں ایمان علی کے مقدر میں لکھ دی گئی تھی۔ میرے لیے ممکن ہی نہیں تھا کہ میری کوئی تدبیر میری تقدیر کو بدل دیتی۔ مجھے یقین نہیں آرہا کہ تم میرے گھر میں یہاں میرے کمرے میں ہو۔ یہ دنیا کا سب سے حیرت انگیز واقعہ ہے اور میں خوش اس لیے ہوں ، کیونکہ یہ حیرت انگیز واقعہ میری زندگی میں ہوا ہے۔ پچھلے ایک سال میں، میں نے تمھیں بہت بار اس کمرے میں دیکھا ہے۔ بہت بار ... اور اب جب تم واقعی یہاں ہو تو میں سمجھ نہیں پا رہا کہ وہ خواب تھا یا یہ خواب ہے مگر جو بھی ہے مجھے اس خواب سے محبت ہے۔ تم میر Soul mates ہو امید میری بیوی نہیں ہو۔ مجھے کسی لڑکی سے محبت کا اظہار ہمیشہ بہت مشکل لگتا رہا ہے، مگر آج تم سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے کوئی وقت نہیں ہو رہی ہے۔ میرے پاس اتنے لفظ ہیں تمھارے لیے کہ تمھیں اندازہ بھی نہیں ہے۔ صبح دس بجے اس کا نکاح ہوا تھا۔ شام کو وہ اس کے ساتھ لاہور میں موجود تھی۔ سعود ارتضی کی بیوی کچھ دیر پہلے ہی گئی تھی اور اب وہ دونوں گھر میں اکیلے تھے۔ وہ کاٹن کے ایک ایمبرائیڈ ڈسوٹ میں اس کے سامنے بیٹھی تھی اور وہ بچوں جیسی شفاف مسکراہٹ کے ساتھ دھیمے لہجے میں اسے بتا رہا تھا کہ اس نے پہلی بار ا سے کہاں دیکھا۔ کتنا عرصہ وہ اس کے لیے وہاں جاتا رہا تھا۔ کس طرح وہ ہاسٹل تک اس کا تعاقب کرتا رہا تھا۔ وہ بے یقینی کے ساتھ اس کا چہرہ دیکھتی رہی ۔ پھر اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔ " محبت تو جہاں زیب نے بھی مجھ سے کی تھی اور ایسی ہی محبت کی تھی۔ نو سال وہ محبت
کرتا رہا تھا پھر سب کچھ بھک سے اڑ گیا۔ مشخص چاہتا ہے میں اس کی ایک ڈیڑھ سال کی محبت پر ایمان لے آؤں- وہ اس کے آنسوؤں سے پریشان ہوا تھا، وہ ان کی وجہ جانا چاہتا تھا۔ اس نے وجہ بتائی تھی۔ اس نے اس سے کہا تھا کہ اس کے لفظ اسے جھوٹے لگتے ہیں۔ اسے ایمان کی باتوں پر یقین نہیں آتا۔ وہ بہت دیر خاموش بیٹھا اس کا چہرہ دیکھتا رہا۔ تمہارا یقین نہ کرنا میری محبت کوکم نہیں کر سکتا نہ ہی میرے لفظوں کو جھوٹا کر سکتا ہے۔ بہت دیر بعد اس نے کہا تھا۔ ایمان علی اس کی زندگی میں آنے والا عجیب ترین مرد تھا۔ اسے حیرت ہوتی کیا کوئی مردانا کے بغیر ہو سکتا ہے اور ایمان علی ایسا ہی ایک مرد تھا۔ وہ کم گو اور ریز رو تھا۔ اس کا اندازہ اسے شادی کے چند دن میں ہی ہو گیا تھا۔ اسے ایمان کی سرگرمیوں اور مصروفیات پر حیرت ہوتی ۔ گھر ، آفس حجم اور پھر گھر شادی کے تیسرے چوتھے دن اس نے اپنی مصروفیات بتائی تھیں تو پر امید نے مسکرا کر کہا تھا۔ تم خاصے مطمئن اور خوش تھے اپنی زندگی سے۔ یہ شادی کہاں سے آگئی۔ اچھا نہیں تھا کہ تم یونہی رہتے آزاد…………… ہاں ۔ اچھا ہوتا اگر میں نے تمھیں دیکھا نہ ہوتا ، تب شاید میرا اطمینان ہمیشہ ایسے ہی برقرار رہتا ۔ اس نے بڑی سادگی سے جواب دیا تھا۔ وہ خاموشی سے اس کا چہرہ دیکھنے لگی۔ وہ کھانا کھا رہا تھا۔ اگر میں تمہاری زندگی سے نکل جاؤں تو تمھیں کیا فرق پڑے گا ایمان ؟ وہ کھانا کھاتے کھاتے رک گیا۔ میرے پاس ایسے کسی سوال کا جواب نہیں ہے جو ممکن نہ ہو۔“ دنیا میں سب کچھ ممکن ہوتا ہے ۔ ہوتا ہوگا مگر یہ نہیں ۔ اس نے اپنی بات پر زور دے کر کہا۔ ” تم مجھے چھوڑ کر اس وقت جاؤ گی جب میں تمھیں کوئی تکلیف دوں گا۔ مگر میں تمھیں کوئی تکلیف نہیں دوں گا ، اس لیے تمھارے چھوڑ کر جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ اسے بے اختیار کوئی اور یاد آیا۔ وہ ڈائننگ ٹیبل سے اٹھ گئی۔ وہ اس کے ساتھ خوش نہیں تھی تو نا خوش بھی نہیں تھی، مگر ایمان علی کے وجود نے جہاں زیب عادل کے الوژن کو ختم نہیں کیا تھا۔ ایمان علی ہر لحاظ
سے جہاں زیب سے بہتر تھا۔ مگر وہ جہاں زیب نہیں تھا۔ وہ امید سے محبت کا اظہار کرتا اور اسے جہاں زیب یاد آنے لگتا۔ اس کے لہجے کی نرمی ، اس کی مسکراہٹ ، اس کی ہر بات اسے جہاں زیب کی یاد دلاتی تھی۔ وہ سوچتی اگر میں ایمان علی کے ساتھ نہیں جہاں زیب کے ساتھ ہوتی تو تو کیا ہوتا کیا زندگی یک دم خوبصورت اور دنیا مکمل نہ ہو جاتی ۔ ایمان علی کی محبت اور خلوص جہاں زیب کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ شادی کے ایک ہفتے کے بعد وہ اسے اپنے والدین سے ملوانے جرمنی لے کر گیا۔ وہ اس کے والدین سے دو تین بارفون پر بات کر چکی تھی ۔ وہ اس بات کا بھی اندازہ لگا چکی تھی کہ ایمان اپنی ماں سے بہت اٹیچڈ تھا اور اس کی باتوں اور خیالات پر اس کی ماں کے نظریات کی خاصی گہری چھاپ تھی۔ اسے پھر بھی اس بات پر حیرت تھی کہ ماں سے اتنا متاثر ہونے کے باوجود اس نے کر چھین ہونے کی کوشش کیوں نہیں کی ۔ باقاعدہ طور پر کسی بھی مذہب کو اختیار کرنے سے اس طرح اجتناب کیوں کیا ۔ سبل سے مل کر اسے خوشی ہوئی تھی۔ وہ واقعی بہت مختلف قسم کی عورت تھی۔ اس نے مغربی عورت کے بارے میں جو کچھ سن رکھا تھا ، وہ اس کے برعکس تھی۔ مجھے اب تک یقین نہیں آرہا کہ ڈینیل نے شادی کر لی ہے اور تم واقعی اس کی بیوی ہو ۔ جرمنی پہنچنے کے دوسرے دن اس نے دو پہر کو پنچ کرتے ہوئے امید سے کہا ۔ یہ تو اب شادی کرنا ہی نہیں چاہتا تھا مگر میں خوش ہوں کہ اسے بالآ خرویسی بیوی مل گئی جیسی یہ چاہتا تھا۔ یہ کیسی بیوی چاہتا تھا ؟ امید نے ایمان کو دیکھتے ہوئے دلچسپی سے پوچھا۔ ایسی لڑکی جس کا بھی کوئی بوائے فرینڈ نہ رہا ہو، جو بہت مشرقی ہو بلکہ تنگ نظر اور قدامت پرست ۔ یقینا تم ایسے ہی کسی گھرانے سے تعلق رکھتی ہوگی جہاں آدمیوں سے زیادہ میل جول نہیں ہوتا ہوگا مگر پھر ڈینیل سے تمہاری ملاقات کیسے ہو گئی ؟ اور شادی عجیب بات ہے نا ۔ امید کے چہرے کی مسکراہٹ یک دم غائب ہو گئی۔
نہیں میں! امید ایک ریسٹورنٹ میں کام کرتی تھی۔ میں نے اسے پہلی بارہ ہیں دیکھا ۔ وہ مدھم آواز میں مسکراتے ہوئے ماں کو بتا رہا تھا۔امید نے عجیب نظروں سے اسے دیکھا۔
اور تمھیں اس بات پر کوئی اعتراض نہیں ہوا کہ یہ اس طرح کی جاب کر رہی ہے ۔
می! آپ میرے بارے میں کچھ زیادہ ہی غلط سوچنے لگی ہیں۔ میں اتنا قدامت پرست بھی نہیں ہوں ۔
اس نے ماں کی بات پر کچھ جھینپ کر امید کو دیکھا جو بے تاثر چہرے کے ساتھ کھانا کھانے میں مصروف تھی۔
کیوں امید! کیا تمہارا کوئی وائے فرینڈ نہیں رہا؟ سبل نے بڑی بے تکلفی کے ساتھ امید سے پوچھا امید کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ می پلیز ! ایمان نے برق رفتاری سے احتجاج کیا۔ ارے اس میں ایسی کیا بات ہے؟ سبل نے کچھ حیرانی سے کہا۔ نہیں ، آپ اس بات کو چھوڑیں ۔ آپ یہ بتائیں کہ یہ مچھلی آپ نے کیسے بنائی ہے۔ مجھے پہلے تو کبھی آپ نے اس طرح کی ڈش نہیں کھلائی ۔ وہ بڑی مہارت سے موضوع بدل گیا۔ تم جانتے تھے کہ میری منگنی ہوئی تھی۔ یہ بھی جانتے ہو کہ میں آج تک جہاں زیب کو بھلانے میں کامیاب نہیں ہوئی پھر بھی مجھ سے شادی تمہاری ممی کہہ رہی تھیں کہ تم ایسی لڑکی چاہتے تھے جس کا کوئی بوائے فرینڈ نہ ہو پھر تمھیں اس بات پر اعتراض کیوں نہیں ہوا کہ میرا ایک منگیتر تھا جس سے میں بہت محبت کرتی ہوں ۔ اس رات امید نے سونے سے پہلے ایمان سے بات کرتے ہوئے اسے جتایا تھا۔ وہ تمہارا بوائے فرینڈ نہیں تھا ۔ اس نے جیسے بحث شروع کرنے سے گریز کیا۔ میرے لیے وہ کسی بوائے فرینڈ سے بڑھ کر تھا ۔ اس نے بڑی بے خوفی سے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا۔ ایمان کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ کچھ کہے بغیر اس نے آنکھیں بند کرتے ہوئے ٹیبل لیمپ آف کر دیا۔ میں تم سے پوچھ رہی ہوں ، تمھیں مجھ پر اعتراض کیوں نہیں ہوا ؟ امید نے ڈھٹائی سے اپنی بات دہرائی۔ مجھے نیند آ رہی ہے امید ۔ اپنی آنکھوں کو بازو سے ڈھکتے ہوئے اس نے بے تاثر لہجے میں جواب دیا۔ وہ کچھ دیر سے دیکھتی رہی پھر اس نے بھی ٹیبل لیمپ آف کر دیا۔ نائٹ بلب کی مدھم روشنی میں وہ بہت دیر کمرے کی چھت کو گھورتی رہی۔ اس شخص کی خواہش تھی کہ اس کی زندگی میں وہ لڑکی آئے ، جس نے اس سے پہلے کسی سے محبت نہ کی ہو اور اس کی زندگی میں، میں آئی۔
امید عالم جس کی زندگی میں جہاں زیب عادل کے علاوہ اور کچھ ہے ہی نہیں ۔ اسے بے اختیار ایمان پر ترس آیا۔ کیا یہ شخص اس طرح کے سلوک کا مستحق ہے جو میں اس کے ساتھ کرتی ہوں۔ کیا اسے تکلیف نہیں ہوتی جب میں جہاں زیب کا نام اس طرح اس کے سامنے لیتی ہوں اور میں میں یہ سب کیوں کرتی ہوں . جب میں اس سے شادی کر چکی ہوں ۔ اس کے ساتھ زندگی گزار رہی ہوں . اس شخص کے ساتھ جو میری ہر خواہش پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے، جس نے اپنی زندگی بہت دیانت داری سے گزارنے کی کوشش کی تھی۔ پھر میں یہ بات تسلیم کیوں نہیں کر لیتی کہ اب میرے پاس اس شخص کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے۔ یہ شخص اتنے کا تو مستحق ہے کہ میں اس کے جذبوں کی قدر کروں ۔ اس طرح اسے تکلیف پہنچا کر میں کون سے جذبے کی تسکین چاہتی ہوں ۔
وہ پتا نہیں کسی رو میں آکر سوچ رہی تھی۔ ذہنی ابتری کے جس طویل دور سے وہ گزر رہی تھی ، وہ چند لمحوں کے لیے جیسے ختم ہو گیا تھا۔ چند لمحوں کے لیے اس نے اپنے اندر کہیں سکون اور ٹھہراؤ محسوس کیا۔ بہت نرمی سے اس نے ایمان کی آنکھوں سے اس کا باز و ہٹاتے ہوئے کہا۔ کیا واقعی ہی سو گئے ہو؟“ میں کوشش کر رہا ہوں ۔ ایمان نے آنکھیں کھول کر اندھیرے میں اسے دیکھنے کی کوشش کی ۔
بات بدلنے کے لیے آنکھیں بند کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ وہ اب اطمینان سے اس کے کندھے پر سر لگائے آنکھیں بند کیے ہوئے تھی۔
ایمان نے بہت حیرت سے اپنے کندھے پر سکے ہوئے اس کے سرکو دیکھا پھر اس کی نظر اپنے سینے پر دھرے اس کے ہاتھ پر گئی ۔ وہ آنکھیں بند کیے پرسکون انداز میں سونے کی کوشش کر رہی تھی ۔ وہ بے اختیار مسکرا دیا۔ اپنا ہا تھ اس کے ہاتھ پر رکھ کر اس نے خود بھی آنکھیں بند کر لیں ۔ اگلے کچھ دن اس نے پوری طرح جہاں زیب عادل کو اپنے ذہن سے جھٹکنے کی کوشش کی ۔ وہ ایمان کے ساتھ اس کے مختلف فیملی ممبرز کے ہاں دعوتوں میں شرکت کرتی رہی۔ ہر جگہ اسے ایمان کے بارے میں کچھ نہ کچھ ضرور معلوم ہوتا رہا۔ اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ اپنی عادات کی وجہ سے اپنے خاندان میں خاصا پسند کیا جاتا تھا اور یہ پسندیدگی صرف اس کے لیے ہی نہیں بلکہ سبل اور پیٹر کے لیے بھی تھی۔ وہ اس کے ساتھ اپنے رشتے کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس کا ہاتھ پکڑ کر سڑکوں پر چلتے ہوئے ، اس کی باتوں پر ہنستے ہوئے ، اس کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے اس نے ہر بار جہاں زیب کے الوژن سے فرار حاصل کرنے کی کوشش کی ۔ جرمنی میں قیام کے دوران اس نے ایمان کے ساتھ اپنی زندگی کی سیڑھی پر دوبارہ چڑھنے اور قدم جمانے کی کوشش کی مگر وہ ایک بار پھر گری……………….. جرمنی سے واپس آنے سے دو دن پہلے وہ ایمان کے ساتھ کچھ شاپنگ کرنے گئی اور وہاں اسٹور پر شاپنگ کرتے ہوئے اس نے اچانک ایمان کو وہاں نہیں پایا۔ متلاشی نظروں کے ساتھ اس نے اسٹور کے ہر حصے میں اسے ڈھونڈنے کی کوشش کی مگر وہ وہاں نہیں تھا۔ وہ کچھ پریشان ہو کر آپ کے ساتھ جو وہ اپنے سوئیٹرز کی پے منٹ کر کے جاچکے ہیں ۔ کیا مطلب ! وہ کہاں جاسکتے ہیں۔ وہ شوہر ہے میرا اور
تو پھر آپ انتظار کریں ، شاید وہ کسی ضروری کام سے باہر گئے ہوں ۔“ اس لڑکی نے اپنی ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں اسے سمجھایا۔ وہ کچھ کہے بغیر اسٹور کے دروازے پر جا کر کھڑی ہو گئی ۔ شاپنگ مال سے گزرتے ہوئے لوگوں کی بھیڑ میں وہ اسے کہیں نظر نہیں آیا۔ وقت بہت آہستہ آہستہ گزر رہا تھا اور اس کی بے چینی اور اضطراب میں اضافہ ہو رہا تھا۔ اس طرح مجھے چھوڑ کر وہ کیسے جا سکتا ہے؟ اس کے ہاتھ اب کا اپنے لگے تھے۔ اس نے گھر کا ایڈریس یاد کرنے کی کوشش کی مگر وہ ناکام رہی ۔ جرمن زبان میں گھر کے دروازے پر لکھا ہوا پتا وہ کسی طرح بھی یاد نہیں کر پائی تھی۔ اس کے پاس پرس نہیں تھا وہ بالکل خالی ہاتھ تھی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے۔ دس منٹ گزر گئے ۔ وہ نہیں آیا۔
امید نے خود کو اسی خوف کی گرفت میں پایا جس نے پانچ سال پہلے اس رات اپنی گرفت میں لیا تھا، جب جہاں زیب کے جانے کے بعد وہ گیٹ پر آئی تھی۔ اسے اپنا آپ ایک بار پھر کسی اندھے کنویں کی تہہ میں محسوس ہونے لگا تھا۔کیا ایمان مجھے جان بوجھ کر چھوڑ کر چلا گیا ہے؟ مگر کیوں اور اس طرح اوه خدایا اس کے دماغ میں سنسناہٹ ہونے لگی۔ اور اگر وہ بھی مجھے جہاں زیب کی طرح چھوڑ گیا ہے تو میں میں کیا کروں گی۔ یہاں اس طرح خالی ہاتھ مگر میں نے ایمان کے ساتھ ایسا کیا گیا ہے کہ وہ یوں کرے گا۔ میں اس کی بیوی ہوں ، کوئی بیوی کو اس طرح چھوڑ کر نہیں جا سکتا ۔ مگر شاید وہ مجھے چھوڑ کر چلا گیا ہو۔ جہاں زیب بھی تو چلا گیا تھا۔“
وہ بے اختیار اسٹور سے باہر نکل آئی۔ پاگلوں کی طرح لوگوں کی بھیڑ کاٹتے ہوئے وہ ایک ایک چہرے کو دیکھ رہی تھی ۔ اپنے آگے چلتا ہوا ہر شخص اسے ایمان لگ رہا تھا۔ اسے اندازہ نہیں ہو سکا کہ وہ شاپنگ مال کے کسی حصے میں پہنچ چکی تھی ۔ وہ صرف یہ جانتی تھی کہ وہ اسے نہیں ملا تھا۔ اس کا ذہن بالکل ماؤف ہورہا تھا۔ اپنے پاس سے گزرتی ہوئی ایک عورت کو روک کر اس نے انگلش میں اپنا مئلہ بتایا تھا۔ اس عورت کے بجائے اس کے ساتھ چلنے والے ایک آدمی نے اسے پبلک ایڈریس سسٹم پر ایمان کو متوجہ کرنے کے لیے کہا۔ وہ انتظامیہ کے آفس کا رستہ نہیں جانتی تھی۔ وہ شخص اور اس کی ساتھی عورت اسے وہاں تک چھوڑ گئے ۔ آفس میں موجود ایک لڑکی اور دو آدمیوں نے بڑی ہمدردی سے اس کی بات سنی اور پھر بڑے معمول کے انداز میں اسے تسلی دینے کے بعد پبلک ایڈریس سسٹم پر ایمان علی کا نام دہرانے لگے ۔ وہ زرد چہرے کے ساتھ ان لوگوں کو دیکھتی رہی۔ یہاں اکثر لوگ ایک دوسرے سے الگ ہو جاتے ہیں ۔ یہ ایسی پریشانی کی بات نہیں ۔
اعلان کرنے کے دوران اس لڑکی نے شاید اس کے فق چہرے کو دیکھتے ہوئے اسے تسلی دی۔ وہ بے تاثر چہرے کے ساتھ اسے دیکھتی رہی۔ وہ جانتی تھی یہاں وہی لوگ ایک دوسرے کو ڈھونڈ لیتے ہوں گے جو ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہوں گے، اور اگر کوئی جان بوجھ کر کسی کو لڑکی ایک بار پھر ایمان کے نام پیغام دے رہی تھی۔ اسے اپنا پورا وجود بہت سرد محسوس ہو رہا تھا ۔ اس کے بعد اب آگے مجھے کیا کرنا ہے … یہاں سے پاکستان ایمبیسی فون کروں انھیں بتاؤں کہ میرے ساتھ کیا ہوا ہے۔ پھر وہ اسے ڈھونڈنے کی کوشش کریں اور ڈھونڈنے کے بعد بھی کیا ہوگا۔ اگر اس نے میرے ساتھ اپنی شادی سے انکار کر دیا یا اس نے کہا کہ وہ مجھے رکھنا نہیں چاہتا تو تو کیا ہوگا۔ میں واپس کیسے جاؤں گی اتنی بے عزتی کے ساتھ-
اسے اپنا پورا وجود کسی آکٹوپس کی گرفت میں محسوس ہورہا تھا ۔ پہلے جہاں زیب اب ایمان۔ میں نے ایسا کون سا گناہ کیا ہے کہ مجھے اس طرح سزا مل رہی ہے۔ آخر میں نے اس شخص سے کیوں شادی کی۔ مجھے شادی نہیں کرنی چاہیے تھی۔ ڈاکٹر خورشید وہ غلط کہتے تھے۔ وہ بھی اس شخص سے دھوکا کھا گئے ۔
اسے اپنا جسم پتھر کی طرح بھاری لگنے لگا تھا۔“
اعلان کرتے ہوئے پانچ منٹ گزر چکے تھے۔ وہ نہیں آیا تھا۔ لڑکی نے اب اعلان کرنا بند کر دیا۔
آپ اب گھر چلی جائیں۔ ہو سکتا ہے وہ یہاں سے جاچکے ہوں ۔ اس لڑکی نے کہا ۔ وہ گم صم اس کا چہرہ دیکھتی رہی ۔ وہ اس لڑکی کو بتا نہیں پا
رہی تھی کہ اس کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ تب ہی کوئی ایک جھٹکے سے دروازہ کھول کر اندر آیا تھا اور امید کا دماغ بھک سے اڑ گیا۔ اس کا دل چاہا تھا وہ ایمان کو اتنا مارے اور اتنی بری طرح مارے کہ وہ…………………………. وہ… وہ بے اختیار اس کی طرف آیا تھا۔ وہ نہیں جانتی اسے یک دم کیا ہوا۔ وہ بس اس پر چلانے لگی تھی۔ پھر اسے ۔ پر بے تحاشا رونا آیا۔ ایمان فق چہرے کے ساتھ اسے روتا دیکھتا رہا۔ بہت دیر وہ اس سے معذرت کرتا رہا مگر وہ اس کے ساتھ جانے کو تیار نہیں تھی۔
مجھے اب تمھارے ساتھ نہیں جانا، پاکستان جانا ہے۔ مجھے اپنا پاسپورٹ چاہیے- وہ روتے ہوئے صرف ایک ہی بات کہہ رہی تھی۔ وہ نہیں جانتی وہ اس کے رونے سے زچ ہوا یا اس کی باتوں سے مگر بہت دیر تک اس کے پاس بیٹھے رہنے کے بعد وہ یک دم چلایا تھا ۔ میں تمہارا منگیتر نہیں ہوں کہ تمھیں چھوڑ کر چلا جاؤں گا۔ میں تمہارا شوہر ہوں – اسے یقین نہیں آیا کہ یہ لفظ ایمان نے اس سے کہے تھے۔ کیا یہ خش اب مجھے جہاں زیب کے حوالے سے طرز کا شکار جائے۔ وہ یک دم رونا بھول گئی۔ اب چلیں ؟ وہ اسی طرح بلند آواز میں چلایا۔ کچھ کہے بغیر اس کے آگے چلتے ہوئے وہ کمرے سے باہر آ گئی۔میں اپنے ایک کزن کو دیکھ کر شاپ سے نکلا تھا۔ چند منٹ لگے مجھے اس سے باتیں کرتے اور تم وہاں سے غائب ہو گئیں۔ میں مانتا ہوں مجھے وہاں سے اس طرح تمھیں بتائے بغیر نہیں جانا چاہیے تھا، مگر تمھیں بھی وہیں رک کر میرا انتظار کرنا چاہیے تھا۔ تمھیں اندازہ نہیں ہے تمہاری وجہ سے میں کتنا پریشان ہوا ہوں، اور اب بچوں کی طرح تم نے چیخ و پکار شروع کر دی۔ میں تمھیں چھوڑ کر کیوں جاؤں گا ، وہ بھی اس طرح اس کے ساتھ چلتے ہوئے اب وہ وضاحتیں دے رہا تھا مگر وہ اس کی کسی بات کو نہیں سن پارہی تھی۔ اس کے ذہن پر ابھی بھی کچھ دیر پہلے کا جملہ سوار تھا۔ شخص کون ہوتا ہے مجھے جتانے والا کہ میرا منگیتر مجھے چھوڑ کر چلا گیا۔ آخر اسے یہ بات کہنے کا کیا حق پہنچتا ہے۔“ اس کی وضاحتیں صرف وہیں نہیں گھر آ کر بھی جاری رہی تھیں اور شاید اس کی خاموشی اسے پریشان کر رہی تھی ۔ اس لیے وہ ایکسکیو ز کرتا رہا تھا مگروه با لکل خاموش ہو رہی اسے اس سے پہلے بھی وہ اتنا برا نہیں لگا تھا جتنا اس وقت لگا تھا۔
اسے رات بہت دنوں کے بعد ایک بار پھر وہ جہاں زیب کے الوژن کا شکار ہوئی تھی۔ اسے وہ بے تحاشا یاد آیا۔ ایمان علی بھی بھی جہاں زیب نہیں بن سکتا ۔ رات تین بجے تک جاگتے رہنے پر اس نے بیڈ کے دوسرے کونے میں گہری نیند سوئے ہوئے ایمان علی کو دیکھ کر اپنے گیلے چہرے کو صاف کرتے ہوئے سوچا۔ الوژنز کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہو گیا تھا۔
جرمنی سے واپس آنے کے بعد وہ ایک ہفتے کے لیے راولپنڈی رہی ۔ ایمان اس دوران اسے باقاعدگی سے فون کرتا رہا۔ یہاں آکر اسے احساس ہوا تھا کہ اس کی زندگی اور مستقبل اب کس حد تک ایمان سے وابستہ ہو چکا تھا۔ وہ کسی طور بھی اس سے الگ نہیں ہو سکتی تھی۔ گھر میں ہر ایک کی زبان پر ایمان کا ذکر تھا۔ امید کی کوئی بات ایمان کے حوالے کے بغیر نہیں کی جاتی تھی۔ اس کی امی اس کے بھائی ، اس کی بہن اسے ان کی باتیں سن کر احساس ہوتا تھا کہ ایمان اس گھر اور اس کی زندگی کے لیے کتنی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔
اس نے بے بسی سے سوچا۔
ایک ہفتے کے بعد وہ اسے لینے آیا تھا اور وہ خاموشی کے ساتھ بالکل نارمل طریقے سے کسی خفگی کا اظہار کیے بغیر اس کے ساتھ چلی آئی۔ ایمان آفس جوائن کر چکا تھا۔ آفس سے آنے کے بعد وہ باقاعدگی سے رات کو ڈاکٹر خورشید کے پاس جایا کرتا تھا۔ امید کو حیرانگی ہوتی کہ وہ ان کے پاس کس لیے جاتا تھا اور پھر اس طرح باقاعدگی ہے۔ ان دونوں کے تعلقات آہستہ آہستہ پھر اچھے ہو گئے تھے۔ مگر جہاں زیب کا الوژن ابھی بھی اس کی زندگی سے اوجھل نہیںہوا تھا۔ جب وہ اس کےحواس پر سوار ہوا جب سے دوسر کوئی نظرنہیں آتا تھا اگلے چند ماہ بعد اس نے اپنی زندگی میں ایک اور نیا موڑ دیکھا تھا۔
میرا بچہ ؟ اس نے ڈاکٹر کی بات سن کر بے یقینی سے کہا تھا اور پھر گھر آنے تک وہ اسی بے یقینی کا شکار رہی تھی ۔ اور یہ کیفیت اگلے کئی دن رہی مگر ایمان کا رد عمل بالکل مختلف تھا۔ وہ بہت خوش تھا۔ اس نے جرمنی فون کر کے اپنے والدین کو بھی اس بارے میں بتا دیا تھا۔ غیر محسوس طور پر ان کے درمیان ہونے والی گفتگو کا موضوع بدل گیا تھا۔ اب ان کے پاس بات کرنے کے لیے صرف ایک ہی موضوع تھا۔ باقی ہر چیز جیسے یک دم پس منظر میں چلی گئی تھی۔ حتی کہ جہاں زیب بھی۔ ساڑھے پانچ سال بعد پہلی بار اس نے خوشی کو محسوس کیا تھا۔ پہلی بار اس نے دنیا کو ایک بار پھر سے رنگین ہوتے دیکھا۔میں ایمان اور اپنے بچے کے ساتھ بہت خوش رہ سکتی ہوں ۔ شاید میں سب کچھ بھول جاؤں گی ۔
اپنا وہ ماضی جس سے میں آج تک جان نہیں چھٹر اسکی جو ایک ہولناک بھوت کی صورت میں میرے تعاقب میں رہتا ہے۔”
اسے بعض دفعہ ہنسی آتی۔ واقعی ایمان مجھے کہاں چھوڑ سکتا تھا اور اب تو شاید کبھی بھی نہیں اور میں میں ہر وقت اس بے یقینی سے دوچار رہتی تھی کہ وہ مجھے چھوڑ سکتا
ہے۔ میرے سارے خدشات کتنے بے بنیاد ثابت ہوئے ہیں ۔ وہ اپنی ہر پرانی سوچ کو ذہن سے جھٹکنے لگی ۔ ہاں مجھے اب سب کچھ بھلا کر نئے سرے سے زندگی کا آغاز کرنا چاہیے۔ اپنے وہموں کو ہمیشہ کے لیے دفنادینا چاہیے ۔“ اسے ہر چیز اچھی لگنے لگی تھی ۔ اپنا گھر ، ایمان ایمان کے لیے کام کرنا اس کے آفس چلے جانے کے بعد دن میں دو تین بارفون پر اس سے بات کرنا۔ رات کو اس کے ساتھ ڈرائیو پر جاتے ہوئے مستقبل کے بارے میں منصوبے بنانا، زندگی جیسے اس کے لیے نئے سرے سے شروع ہوئی تھی اور وہاں دور دور تک کسی جہاں زیب عادل کا سایہ نہیں تھا اور شاید یہ اس کی بھول تھی اس رات وہ ایمان کے ساتھ ایک ہوٹل میں کھانا کھانے گئی ۔ کھانا کھانے کے بعد واپس آتے ہوئے ہوٹل کی اینٹرنس پر اس نے جس شخص کو دیکھا تھا اس کے وجود نے اسے منجمد کر دیا تھا۔ وہ ہر چہرے کو فراموش کر سکتی تھی مگر اس چہرے کو نہیں ۔ اسے لگا وہ ایک بار پھر کسی الوژن کے حصار میں ۔ اس بار کچھ بھی الوژن نہیں تھا۔ وہ ایک لڑکی کے ساتھ ہنستا ہوا سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اس کی طرف آ رہا تھا۔ پھر جہاں زیب نے بھی اسے تھی دیکھ لیا تھا۔ چند لمحوں کے لیے اس کے پاؤں بھی ساکت ہوئے پھر وہ تیزی کے ساتھ اس کے پاس سے گزر گیا ۔ امید کا دل چاہا وہ بھاگ کر اس کے پیچھے چلی جائے اس لڑکی کو اس کے پہلو سے ہٹا کر خود اس کی جگہ لے لے۔ وہ نہیں جانتی، ایمان اس وقت اسے کن نظروں سے دیکھ دیکھ رہا رہا تھا۔ تھا۔ اسے اسے یوں لگ رہا تھا تھا وہ وہ ساڑھے پانچ سال پہلے کے اس جنگل میں ایک بار پھر پہنچ گئی تھی۔ جہاں زیب کے علاوہ دنیا میں اب بھی کچھ نہیں تھا۔ اس کے ہاتھ اب بھی خالی تھے۔ زندگی اب بھی ایک کشکول تھی۔ وہ ہال میں کہیں گم ہو چکا تھا۔ اسے نظر نہیں آ رہا تھا۔ اسے یک دم اپنے کندھے پر ہلکا ساد باؤ محسوس ہوا۔ وہ جیسے یک دم اپنے حال میں لوٹ آئی تھی ۔ گردن موڑ کر
اس نے ایمان کو دیکھا۔ اس کے کندھے پر اس کا ہاتھ تھا۔
جہاں زیب ؟ اس نے ایمان کے منہ سے صرف ایک لفظ سنا۔ ہوٹل کے بند دروازے کو دیکھتے ہوئے اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ ایمان یک دم کچھ کہے بغیر تیزی سے سیڑھیاں اتر گیا۔ اس نے بے چینی سے اسے جاتا دیکھا اور اسے احساس ہو گیا کہ ایمان کو کیا ہوا ہے۔ہوٹل کے دروازے سے نظر آنے والے لوگوں کی چہل پہل پر آخری نظر ڈالتے ہوئے وہ اس کے پیچھے سیڑھیاں اتر گئی۔
ایمان گاڑی میں اس کا انتظار کر رہا تھا۔ امید کے بیٹھتے ہی اس نے گاڑی چلا دی۔ وہ بہت محتاط ڈرائیونگ کرتا تھا۔ پہلی بار وہ اسے اتنی ریش ڈرائیونگ کرتے ہوئے دیکھ رہی تھی ۔ تین جگہ اس نے سگنل توڑا دو بار اس نے غلط ٹرن لیا۔ دو بار اس نے غلط طرح سے اوور ٹیک کی ۔ اس کا چہرہ بے تاثر تھا مگر اس کی ہر حرکت سے اس کا اضطراب ظاہر ہورہا تھا۔ امید کو احساس ہو رہا تھا اس طرح بے اختیار ہو کر اس نے کتنی بڑی غلطی کی تھی۔ میں گھر جا کر اس سے معذرت کروں گی۔ کوئی بہانا بنادوں گی۔ اس نے خود کو تسلی دینے کی کوشش کی۔ گھر پہنچ کر اس سے بات کرنے کی کوشش بری طرح ناکام رہی تھی ۔ وہ اس کا ہاتھ جھٹک کر کوئی معذرت سے بغیر اسٹڈی میں چلا گیا۔ وہ
پریشانی کے عالم میں بیڈ روم میں بیٹھ گئی۔ بہت عرصے کے بعد اس نے خود کو اس طرح بے بس محسوس کیا تھا۔ وہ ایمان سے محبت نہیں کرتی تھی مگر اس وہ وہ کا شوہرتھا۔ اس کے باوجود وہ اس سے معذرت کرنا چاہتی تھی کیونکہ وہ اس کا شوہر تھا۔ اس کے بچے کا باپ تھا۔ وہ اس کے ساتھ اپنے کسی رشتے کو اس اسٹیج پر ختم نہیں کرنا چاہتی تھی۔ وہ ختم کر ہی نہیں سکتی تھی۔بہت دیر بعد وہ اٹھ کر اسٹڈی میں گئی ۔ ایمان کمپیوٹر پر اپنے کام میں مصروف تھا۔ وہ اس کے قریب جا کر بیٹھ گئی۔ ایک بار پھر اس نے ایمان سے معذرت کرنے کی کوشش کی مگر وہ یک دم بھڑک اٹھا تھا۔ جب تم یہ جانتی ہو کہ تم ایک غلط کام کر رہی ہو تو کیوں کر رہی ہو؟ ایک ایسے شخص کے لیے جس نے نو سال تمھیں اپنی منگیتر رکھنے کے بعد بھی تم سے شادی نہیں کی ، اس کے لیے کیوں پریشان ہو تم ؟ جو شخص تم سے محبت نہیں کرتا اس کے پیچھے کیوں بھاگتی ہو۔ جس شخص نے تمھیں دھوکا دیا۔
اس نے مشتعل ہو کر ایمان کی بات کائی۔
اس نے مجھے کوئی دھوکا نہیں دیا۔ میں نے اسے دھوکا دیا۔ اس نے س نے مجھے نہیں چھوڑا۔ میں نے اسے چھوڑا۔
وہ اسے حیرانی سے دیکھ رہا تھا۔ وہ اتنے اشتعال میں تھی کہ رکے بغیر وہ اسے سب کچھ بتائی گئی تھی۔
جہاں زیب سے زیادہ کسی شخص کے احسان نہیں ہیں مجھ پر ۔ لیکن اس کی جو قیمت وہ چاہتا تھا وہ میں نہیں دے سکتی تھی۔ میں نے اس سے بہت محبت کی تھی۔ نو سال بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے مگر محبت کے باوجود میں اس کی بات نہیں مان سکتی تھی۔ میں خوفزدہ ہوگئی تھی۔ میرے باپ نے سولہ سال میرے کانوں میں اتنی نصیحتیں ٹھونس دی تھیں کہ میں کچھ اور سننے کے قابل ہی نہیں رہی۔ تم جو آیات سناتے ہو مجھے، میرے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ جب تم آزمائش میں پڑو گے تب تمھیں احساس ہوگا کہ Morality کسی تیز دھار خنجر سے کم نہیں ہوتی ۔
میں نے خود اپنے ہاتھوں اپنی ہر خوشی کو آگ لگائی ہے۔ اس واقعہ کے بعد چار سال میں نے کیسے گزارے ہیں مجھے یاد نہیں ہے۔ میں نے کیا کھایا، کیا پہنا ، کہاں گئی مجھے کچھ یاد نہیں۔ مجھے صرف اتنا یاد ہے کہ میرے ہر طرف جہاں زیب تھا۔ اس کے علاوہ مجھے کوئی دوسرا چہرہ نظر نہیں آتا تھا۔ اس کی آواز کے علاوہ مجھے کوئی دوسری آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ چار سال مجھے سمجھ نہیں آئی۔ میں نے کیا کیا ؟ کیوں کیا ؟ ٹھیک کیا یا غلط کیا۔ میں نے جاتی اپنا ہر خواب اس شخص کے حوالے سے دیکھا تھا اور پھر وہ میری زندگی سے نکل گیا۔ تم کہتے ہو میں اس کے لیے کیوں پریشان ہوں۔ کیوں ٹھٹھک جا ہوں اسے دیکھ کر ۔ میرے اختیار میں نہیں ہے کچھ بھی۔ مجھے اس شخص سے کتنی محبت ہے تم اس کا اندازہ نہیں لگا سکتے ۔ مگر پھر بھی میں نے اس کو چھوڑ دیا کیونکہ وہ مجھ سے ایک غلط کام کروانا چاہتا تھا۔ مگر مجھے اس سے نفرت نہیں ہوئی۔ مجھے اس سے کبھی بھی نفرت نہیں ہو سکتی ۔ وہ روتے ہوئے اسے سب کچھ بتاتی رہی وہ اب اس کے آنسو پونچھ رہا تھا اسے تسلی دے رہا تھا۔۔
