373.2K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Iman Umeed Or Muhabbat (Episode 15)

پھر اس نے ایک بار نہیں کئی بار ٹریگر دبایا تھا۔ کمرے میں کسی دھماکے کی آواز گونجی تھی نہ ایمان کے سینے پر گولیوں کا کوئی نشان نمودار ہوا تھا۔ ریوالور خالی تھا۔ اسے یقین نہیں آیا تھا۔ اسٹڈی میں ریوالور رکھتے ہوئے اس نے خود گولیاں چیک کی تھیں۔ ریوالور پوری طرح لوڈ ڈ تھا اور اب ………………………… تو یہ شخص گولیاں نکال چکا تھا اس لیے کہ میں……… کیوں؟ کیوں قتل کرنا چاہتی ہو مجھے تم ؟“ اس نے ایمان کے منہ سے سنا تھا اور پھر وہ جیسے اپنے حواس کھو بیٹھی ۔ ہاں میں مارنا چاہتی ہوں تمھیں اور ماردوں گی کیونکہ تم اس قابل ہو۔ وہ بلند آواز میں چلائی۔ ایمان نے اسے بھی چلاتے نہیں دیکھا تھا آج وہ دیکھ رہا تھا۔ میں تمھارے بارے میں سب کچھ جان چکی ہوں … ہر بات ۔ میں نے تم سے ایسا کچھ نہیں چھپایا جس کے جانے پر تم مجھے اس طرح قتل کر دینے کی کوشش کرتیں۔ جھوٹ مت بولو مت بولوا تنا جھوٹ کم از کم اب تو نہیں جب میں سب کچھ کچھ جان چکی ہوں ۔ وہ حلق کے بل چلائی کیا جان چکی ہو تم ؟‘ وہ ابھی تک شاک میں تھا۔ تم اس قوم سے تعلق رکھتے ہو ڈینیل ایڈگر جو منافق ہے، دھوکہ باز ہے، جھوٹی ہے، کمینی ہے اور سازشوں میں اپنا ثانی نہیں رکھتی ۔ اس کے جسم کو ایک جھٹکا لگا۔

ڈینیل ایڈگر ؟ ایمان نے بے یقینی سے زیر لب اپنا پرانا نام دہرایا۔ وہ کہہ رہی تھی۔ تم نے میرے ساتھ جو کچھ کیا ، وہ تمھارے خون میں رچا ہوا تھا تم کو وہی کرنا تھا۔ آخر کو یہودی ہونا ؟ وہ بدلتی رنگت کے ساتھ اسے دیکھتا رہا۔
کیا سوچا تھا تم نے کہ میں تمھارے ساتھ گناہ کی زندگی گزارتی رہوں گی اور مجھے بھی پتا نہیں چلے گا اور پتا چلے گا تو بھی میں کچھ نہیں کروں گی۔ سمجھوتا کرلوں گی ۔ ڈینیل ایڈگر تمہار اوجود مجھے کتنا گندا اور مکر وہ لگ رہا ہے، اس کا اندازہ نہیں کر سکتے تم ۔“ میں ایمان علی ہوں ، ڈینیل ایڈ گرنہیں ہوں اور دوبارہ مجھے اس نام سے مخاطب مت کرنا ۔ مت کرنا ۔ اس بار وہ مشتعل ہو گیا تھا۔ نام بدلنے سے تمہارا کردار بدل جائے گا ؟ نام بدل کر کس کو دھوکا دینا چاہتے ہو؟“ میں یہودی ہوں نہ ڈینیل ایڈگر ہوں اور اب تم مجھے اس نام سے پکارو گی تو میں تمھارے منہ پر تھپڑ ماروں گا ۔ اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔ امید نے ہاتھ میں پکڑا ہوار یو اور کھینچ کر اس کے ماتھے پر دے مارا۔ ایمان نے بچنے کی کوشش کی تھی مگر بچتے بچتے بھی ریو اور اس کی کنپٹی سے
کچھ او پر لگا۔ درد کی ایک لہر اس کے سر میں دوڑ گئی۔ تم ڈینیل ہو۔ ایمان علی کبھی نہیں ہو سکتے ۔ وہ ہونٹ بھینچے یک دم آگے آیا ۔ ” اب مجھے ڈینیل کہو ۔ اس نے امید کو چیلنج کرتے ہوئے کہا۔ میں تمھیں اسی نام سے پکاروں گی جو تم ہو، ڈینیل ۔ اس کے منہ پر اتنے زور کا تھپڑ پڑا کہ وہ فرش پر گر پڑی۔ کیا ثابت کرنا چاہتے ہو تم یہ کہ تم بہت بڑے مسلمان ہو؟ میں تمھارے بارے میں سب کچھ جان گئی ہوں ۔ میرے منہ پر تھپڑ مارنے سے پہلے اپنے آفس کے لوگوں کے منہ پر تمھیں تھپڑ مارنا چاہیے جہاں سب تم کو ڈینیل کہتے ہیں۔ جہاں کوئی ایمان علی کو جانتا ہی نہیں ہے۔ ایسیسی کے لوگوں کے منہ پر تھپڑ مارنا چاہیے جو تمھیں ڈینیل کہتے ہیں ۔
وہ اٹھ کر کھڑی ہوگئی تھی ۔ ایمان یک دم پیچھے ہٹ گیا۔ اپنے سارے ڈاکومنٹس میں تم ڈینیل ایڈگر ہو تو صرف میرے لیے ایمان علی بننے کا ڈرامہ کیوں کیا۔ کیوں مجھے گندگی کی دلدل میں کھینچ لائے
۔ مسلمان ہونے کا دھوکا کیا ۔ فریب دیا اور اب مجھ سے جان چھڑا کر تم یہاں سے چلے جانا چاہتے ہو ۔“ وہ چپ چاپ اسے دیکھتا رہا۔ مجھے یقین نہیں آتا، کوئی شخص اتنا جھوٹا، اتناذلیل ، اتنا بے ضمیر ہو سکتا ہے جتنا تم ہو ۔ محبت کا فریب دے کر مجھ کو دوزخ میں پھینک دیا۔ اتنی جرات ہونی چاہیے تھی تم میں کہ میرے سامنے کھڑے ہو کر مجھے بتاتے کہ تم مجھے چھوڑنا چاہتے ہو ۔ اس طرح چوروں کی طرح فرار نہ ہوتے اور میرے ساتھ یہ سب کچھ کرنے کے بعد بھی تم یہ توقع رکھتے ہو کہ میں تمھیں ایمان علی کہوں اور تمہاری اس سچائی پر یقین کروں جو تمھارے پاس ہے ہی نہیں ۔ میں نے تم کو کوئی دھوکا دیا ہے نہ تمھیں چھوڑ کر بھاگا تھا۔ میں یہیں کھڑا ہوں تمھارے سامنے ۔“ تم کہاں گئے جرمنی یا امریکہ ؟ اس کا خیال تھا ایمان کے چہرے کا رنگ اڑ جائے گا مگر ایسا نہیں ہوا وہ خاموش رہا۔ امریکہ کا ویز الیا تم نے مذہبی رسومات میں شرکت کے لیے کون سی مذہبی رسومات، یہودیوں کا سالانہ اجتماع تم آفس کے کام سے گئے تھے مگر وہاں تو تم ریزائن کر چکے ہو تم نے بینک میں اپنا اکاؤنٹ بند کر دیا۔ اس گھر سے تمھارے سارے ڈاکومنٹس غائب ہیں ۔ جرمنی میں تمھارے پیرنٹس اپنا گھر بیچ کر کہیں اور چلے گئے ہیں۔ کہاں گئے ہیں یہ صرف تم جانتے ہو۔ یہ گھر تم خالی کر رہے ہو مالک مکان کو انفارم کر چکے ہو۔ باہر پورچ میں کھڑی گاڑی کمپنی کی ہے جو اس ماہ کے ختم ہونے پر کمپنی واپس منگوا لے گی ۔ اپنے ساتھ اپنی گرل فرینڈ کو بھی جرمنی لے کر گئے تھے۔ تم نے کہا تھا تمھارے سارے پیپرز میں تمہارا نام ایمان علی ہے۔ جھوٹ تھا یہ تمھارے سارے پیپرز میں تمہارا نام اب بھی ڈینیل ایڈگر ہی ہے۔اپنے انکل سے تم نے یہ کہا کہ تم نے میرے ساتھ کوئی ایڈ جسٹمنٹ کی ہے اور مذہب نہیں بدلا ۔ ابھی بھی یہودی ہوا اور یہ بات میں بھی جانتی ہوں لیکن مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں تم مجھے ایک ہفتے کا کہہ کر جرمنی گئے تھے اور اس کے بعد یک دم رابطہ ختم کر دیا اور اب تم ایک ماہ بعد کس لیے آئے ہو۔ یہ میں نہیں جانتی مگر جو کچھ تم کہہ رہے ہو اس کی حقیقت میں ضرور جانتی ہوں ۔ اس کا خیال تھا ایمان کے چہرے پر خوف ہوگا ۔ شرمندگی ہوگی ۔ وہ کوئی بہانا بنائے گا یا پھر معذرت کرلے گا۔ وہاں ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ وہ سرد اور بے تاثر چہرے کے ساتھ اسے یوں دیکھ رہا تھا جیسے اس سے یہی سب کچھ سننے کی توقع رکھتا ہو۔ تمھیں چھوڑ کر چلا گیا ، اس لیے تم نے مجھے شوٹ کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔ اس کی آواز بھی اس کے چہرے کی طرح بے تاثر تھی۔ مجھے تمھارے چھوڑ کر جانے کی پروا نہیں ہے نہ ہی میں نے تمھیں اس وجہ سے تم نے مذہب بدلنے کا فریب دے کر مجھ سے شادی کی۔
میں تمھیں تمھارے اس گناہ کے لیے مارنا چاہتی ہوں اور صرف تمھیں ہی نہیں، خود کو بھی ۔“
ایمان یک تک اسے دیکھ رہا تھا۔ اس کی کنپٹی سے بہنے والا خون اب اس کی شرٹ کو بھگو رہا تھا مگر وہ اس زخم کی طرف مت متوجہ نہیں تھا۔ کچھ اور کہنا چاہتی ہو تو وہ بھی کہو۔ میرا کوئی اور جھوٹ اور فریب اور گناہ بھی میرے سامنے لاؤ یا پھر کوئی اور الزام ہو تو وہ بھی لگا دو …
آج سننا چاہتا ہوں کہ تمھارے دل میں میرے لیے کتنا ز ہر ہے۔ کتنی نفرت ہے۔ کتنی بد اعتمادی ہے ۔“ وہ تیز اور بے ترتیب سانس کے ساتھ مشتعل نظروں سے اسے دیکھتی رہی۔ امیدا تمھیں مجھ سے شادی نہیں کرنی چاہیے تھی کیونکہ تمھیں مجھ پر اعتماد نہیں تھا، نہ ہی اب ہے – ہاں با لکل ٹھیک کہہ رہے ہو تم ۔ مجھے تم جیسے گھٹیا اور ذلیل آدمی کے ساتھ شادی نہیں کرنا چاہیے تھی ۔ ایمان کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ تم نہیں جانتے ، اس ایک ماہ میں تم سے شادی کے فیصلے پر میں کتنا پچھتائی ہوں ۔ تم نے میری پوری زندگی تباہ کر کے رکھ دی۔ میرے سارے خوابوں ، ساری خواہشوں کو کوڑے کا ڈھیر بنا دیا اور میرے وجود کو ایک گٹر…………….. میں نے یا جہاں زیب نے؟“ وہ اس کے الفاظ پر ساکت رہ گئی تھی۔ وہ بے خوفی سے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑا تھا۔ اس کا نام مت لو۔ وہ غرائی ۔ کیوں نہ لوں؟ میں نے تمہارا سچ سنا ہے ، اب تم میرا سچ سنو۔ تمہاری زندگی میں نے تباہ نہیں کی جہاں زیب نے کی۔ اس دن جس دن وہ تمھیں چھوڑ کر چلا گیا اس کا نام مت لو ۔ وہ یک دم چلائی
کیوں تکلیف ہوتی ہے؟ یا وہ یاد آنے لگتا ہے؟ اور کیا فریب دیا ہے میں نے؟ کسی گناہ کی دلدل کی بات کر رہی ہو؟ تم وہ عورت ہو جس سے محبت کی ہے میں نے اور پھر شادی کی ہے تمہارا بچہ میرا بھی بچہ ہے، میں اپنی بیوی اور بچہ چھوڑ کر بھاگ نہیں سکتا ۔ تمہاری جگہ کوئی ایسی عورت بھی ہوتی جس سے مجھے محبت نہ ہوتی وہ صرف میری گرل فرینڈ ہوتی ۔ تب بھی میں اس گرل فرینڈ اور اپنے بچے کو چھوڑ کر بھاگتا نہیں۔ میں بے ضمیر نہیں ہوں میں یہ نہیں کہتا کہ میں نے تم سے جھوٹ نہیں بولا ۔ میں نے تم سے جھوٹ بولے ہیں ۔ کچھ مصلحت کی خاطر اور کچھ تمھیں پریشانی سے بچانے کے لیے۔ مگر تم کو سچ سننا ہے تو سنو۔ ہاں میں امریکہ گیا تھا۔ پہلے جرمنی پھر امریکہ میں نے ویزا کی درخواست مذہبی رسومات میں شرکت کی وجہ بتا کر دی ۔ مگر مذہبی رسومات میں جنازے میں شرکت بھی شامل ہے۔ میں یہودیوں کے کسی اجتماع میں شرکت کرنے نہیں گیا تھا۔ میں اپنے ایک فیملی فرینڈ کی آخری رسومات میں شریک ہونے کے لیے گیا تھا۔ میرے ماں باپ گھر بیچ کر غائب نہیں ہو گئے ۔ میں نے اپنے ماں باپ کو ایک دوسری جگہ گھر خرید دیا ہے۔ پرانا گھر بیچ دیا۔ میں نے تم سے یہ کہا کہ آفس کے کام سے جارہا ہوں جبکہ میں ریزائن کر چکا تھا ؟ ہاں میں نے ریزائن کر دیا کیونکہ میرے کچھ اختلافات تھے جس کمپنی میں، میں کام کرتا ہوں ، وہ بنیادی طور پر یہودیوں کی ہے اور میں یہاں اس کمپنی کی برانچ میں بہت اہم عہدے پر کام کر رہا تھا۔ میرا مسلمان ہونا اور میرے نام کی تبدیلی ان کے لیے ایک بہت بڑا شاک ہوتی اس لیے میں نے اس بات کو چھپائے رکھا مگر ابھی کچھ عرصے سے میرے بارے میں کچھ افواہیں ان تک پہنچی تھیں۔ شاید میں اب بھی ان کو یہ یقین دلا دیتا کہ یہ صرف افواہیں ہی ہیں مگر اب کچھ چیزیں بدل گئی ہیں۔ میں چاہتا تھا میرا بچہ جب اس دنیا میں آئے تو اسے کی Identity Crisis ( تشخص کا بحران ) کا شکار ہونا نہ پڑے۔ میں مسلم ہوں تو مجھے ایک مسلم کے طور پر پہچانا جانا چاہیے۔ میں تمھارے اور اپنے بچے کے لیے کوئی مسائل کھڑے کرنا نہیں چاہتا تھا کوشش کر رہا تھا ہر چیز حیح جگہ پر آ جائے اس لیے میں نے ریزائن کر دیا ۔
وہ دم بخود اس کی باتیں سن رہی تھی ۔ تمھیں اس لیے نہیں بتایا کہ تم پریشان ہوگی ۔ چند ہفتوں تک میرے پاسپورٹ اور دوسری ڈاکومنٹس میں بھی تم میرا تبدیل شدہ نام اور مذہب دیکھ لو گی کیونکہ میں اس کے لیے اپلائی کر چکا ہوں ۔ اپنے سارے ڈاکومنٹس لے کر فرار نہیں ہوا۔ اس لیے ساتھ لے کر گیا تھا کیونکہ مجھے جاب کے لیے کچھ جگہوں پر اپلائی کرنا تھا۔ یہاں کچھ ملٹی نیشنل کمپنیز سے میری بات ہوئی مگر مجھے انٹرویو کے لیے ان کے ہیڈ آفس ہی جانا پڑا۔ بنیادی طور پر میں اسی لیے جرمنی اور امریکہ گیا تھا۔ بینک اکاؤنٹس اس لیے بند کر وا دیا کیونکہ وہ کمپنی کی طرف سے کھلوایا گیا تھا۔ اس میں جو روپیہ تھا اس سے میں نے اپنے پیرنٹس کو جرمنی میں ایک نسبتا بہتر جگہ پر گھر خرید دیا۔ وہ لوگ کہیں غائب نہیں ہوئے۔ یہ سچ ہے کہ میں گھر چھوڑ رہا ہوں ۔ گاڑی بھی کمپنی واپس لے لے گی تو ؟ باہر جانے سے پہلے تمھیں فٹ پاتھ پر تو نہیں چھوڑ کر گیا ۔“ اس کی آواز میں تلخی تھی۔ یا تمھیں کسی نے گھر سے نکالا ؟ اور میں گھر خالی کرنے کی ڈیٹ سے پہلے واپس آچکا ہوں۔ تمھیں اگر نہیں بتایا تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تمھیں اب بھی جہاں لے کر جاؤں گا، وہ اتنا ہی اچھا گھر ہوگا ۔ اس لیے تمھیں اس کے بارے میں فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں تھی اور کس گرل فرینڈ کی بات کر رہی تھیں تم سمانتھا کی ۔
اس کے چہرے پر اب ایک تلخ مسکراہٹ تھی۔
ہاں ، وہ میرے ساتھ جرمنی ضرور گئی تھی مگر میں اس کو لے کر بھاگا نہیں تھا، یہ ایک اتفاق تھا کہ اسے بھی ان ہی دنوں واپس جانا تھا ۔ امید کو لگ رہا تھا کہ اس کا وجود آہستہ آہستہ سرد ہوتا جا رہا تھا۔
تم سے رابطہ ٹوٹنے کی وجہ یہ تھی کہ میں ایک حادثے کا شکار ہو گیا تھا۔ امریکہ میں سڑک پر جاتے ہوئے دو آدمیوں نے مجھ پر حملہ کیا۔ میرا والٹ لے گئے اور میرے سر کی پشت پر کوئی چیز ماری۔ اس کے بعد کیا ہوا یہ مجھے یاد نہیں ۔ ہاسپٹل میں کئی دن کے بعد مجھے ہوش آیا اور اس دوران وہ لوگ میرے بارے میں کچھ بھی نہیں جان سکے۔ کیونکہ میرے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ ہوش میں آنے کے بعد بھی مجھے ٹھیک سے کچھ یاد نہیں آ رہا تھا۔ میری یادداشت ٹھیک تھی مگر میں سب کچھ بھول جاتا تھا۔ یاد کرتے کرتے ، نارمل ہوتے ہوتے کچھ اور دن لگ گئے ۔ اس کے بعد جب میں نے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو تم یہاں نہیں تھیں ۔ راولپنڈی کا نمبر میرے والٹ میں تھا ، اس لیے میں وہ بھی کھو بیٹھا۔ وہاں بھی تم سے رابطہ نہیں کر سکا۔ مگر میں نے سوچا کہ تم یہی کبھی ہوگی کہ میں کچھ مصروفیات کی وجہ سے تم سے رابطہ نہیں کر پایا ۔ اس لیے مجھے کوئی پریشانی نہیں تھی ۔ ہاں یاد آیا۔ تم انکل کی بات کر رہی تھیں۔ میں نے ان سے جھوٹ بولا تھا۔ امید ! میں اپنے ماں باپ سے بہت محبت کرتا ہوں اور میں نہیں چاہتا کہ اس خبر سے انھیں تکلیف پہنچے۔ میرے مذہب تبدیل کرنے کا اعلان انھیں رشتہ داروں کی نظروں میں بہت بے عزت کر دیتا۔ وہ لوگ ان کا بائیکاٹ کر دیتے ۔ وہ میرے ساتھ صرف اس لیے کبھی نہیں رہے کیونکہ وہ بڑھاپے میں اس علاقے میں رہنا چاہتے تھے جو ہمارا آبائی علاقہ ہے، جہاں ہمارے سارے رشتہ دار ہیں اور وہ لوگ میرے مذہب تبدیل کرنے پر ان سے بھی ناراض ہوئے اس لیے میں نے انکل سے جھوٹ بولا بلکہ سب سے ہی۔ مگر یہ جھوٹ میں اب نہیں بولنا چاہتا تھا کیونکہ اب مجھے اپنی اولاد کے بارے میں بھی سوچنا تھا ۔
وہ بات کرتے کرتے جیسے کچھ تھک کر رک گیا ۔ امید بے یقینی کے عالم میں اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔ اس لیے میں نے انھیں سب کچھ بتا دیا۔ گھر خرید کر گفٹ کرنے کے بعد اور اس کے بعد جو ایک ہفتہ میں نے جرمنی میں گزارادہ میری زندگی کا سب سے تکلیف دہ ہفتہ تھا۔ مجھے پہلے سمجھایا گیا، پھر ڈرایا گیا اور آخر میں مجھ سے سارے تعلقات ختم کر لیے گئے ۔ میں نے اپنے ماں باپ کو مذہب کے بارے میں کبھی اتنا کر نہیں دیکھا جتنا اس بار دیکھا۔ انھوں نے مجھے دوبارہ کبھی اپنی شکل نہ دکھانے کے لیے کہا ہے ۔ اس بار واپس آتے ہوئے میں اپنی کشتیاں جلا کر آیا ہوں اور یہ آسان کام نہیں تھا مگر میں نے ایسا کر لیا۔ اب اگر تم میرے انکل کو فون کر کے ان سے میرے بارے میں کچھ پوچھو گی تو وہ میرا نام گالیوں کے ساتھ لیں گے۔
مذہب تبدیل کرتے ہوئے مجھے لگا تھا، یہ بہت آسان کام ہے مگر یہ آسان کام نہیں تھا، خاص طور پر مجھ جیسے شخص کے لیے جو رشتوں کو بہت اہمیت دیتا ہو۔ اپنے ماں باپ کو یہ حقیقت بتانے کے بعد میں نے ان کا جو رویہ دیکھا اس نے مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔ میں سوچتا تھا خون کے رشتے گنوانے کے بعد میرے پاس کیا رہا ہے مگر پھر مجھے خیال آیا کہ میں حساب کیوں کر رہا ہوں ۔ مذہب میں نے سودے بازی کی خاطر تو نہیں بدلا ۔ جب ایک رستے پر چل پڑا ہوں تو پھر یہ کیوں سوچوں کہ میں کیا چھوڑ کر جا رہا ہوں یا منزل پر پہنچ کر حاصل ہونے والی چیزیں ان چھوڑنے والی چیزوں سے زیادہ اور بہتر ہوں گی یا نہیں۔ کوئی بھی انسان ایک وقت میں دو کشتیوں پر سوار نہیں ہو سکتا اور میں یہی حماقت کر رہا تھا۔ میں نے اپنی مرضی کی ایک کشتی کا انتخاب کر لیا۔ اب اس کے بعد میں ڈوبوں یا بچ جاؤں مجھے اس کی پروا نہیں ہے۔
امید کو لگ رہا تھا وہ جس کھائی میں اب گرمی تھی اس سے بھی باہر نہیں آ سکتی۔
پھر جرمنی میں مجھے تمہارا اور اپنے بچے کا خیال آیا اور میں سوچتا کہ ایسا بھی نہیں ہے کہ میرے پاس کچھ ہے ہی نہیں۔ کچھ خونی رشتے جو مجھے چھوڑنے پڑے ہیں ، ان کے بدلے میرے پاس دوسرے رشتے ہیں۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی تو ان کے سارے رشتہ داروں نے چھوڑ دیا تھا مگر پھر انھیں سب کچھ مل گیا تھا۔“
وہ ایک بار پھر وہی ریفرنس دے رہا تھا جسے وہ اس کی مکاری اور فریب سمجھتی تھی ۔ امید کا دل چاہا، وہ ڈوب کر مر جائے۔
میری زندگی میں مذہب اتنا اچانک داخل ہوا کہ میں کچھ سمجھ نہیں سکا۔ میرا ہمیشہ یہ خیال رہا کہ میری زندگی میں کوئی کمی نہیں ہے مگر با قاعدہ طور پر مذہب کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ میں کتنی بڑی کمی کا شکار تھا۔ یہ دو سال میری زندگی کے سب سے اچھے سال تھے مگر آج تمھارے منہ سے یہ سب کچھ سن کر میں سوچ رہا ہوں، میں کہاں کھڑا ہوں … اور میں یہ بھی سوچ رہا ہوں کہ ابھی آگے مجھے کس کس آزمائش سے گزرنا پڑے گا۔ ہر آسمانی مذہب انسان کو آزماتا ضرور ہے مگر اسلام تو انسان کو کچھ اور ہی طرح سے آزماتا ہے۔ یہ ایسی آزمائشیں سامنے لے آتا ہے جو بندے کو کندن بنا دیتی ہیں یا پھر راکھ کا ڈھیر ۔ اور پچھلے ایک ڈیڑھ ماہ سے میں بھی ایسی ہی آزمائشوں سے گزر رہا ہوں ۔ کندن بننے میں مجھے بڑا وقت لگے گا مگر مجھے فخر ہے کہ میں راکھ کا ڈھیر نہیں بنا۔
امید نے اس کے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ دیکھی۔
جب میں بالکل مطمئن ہو چکا تھا کہ میرا کیریر بن چکا ہے، چند ماہ تک میری پروموشن ہونے والی تھی اور پھر اپنی کمپنی کاریجنل ہیڈ بن جاتا مگر میرے سامنے دو راستے آگئے ۔ مجھے انتخاب کرنا تھا اور میں نے انتخاب کر لیا۔ ریزائن کر دیا۔ عجیب بات ہے مجھے کوئی پچھتاوا نہیں ہے اور اب اتنے سالوں کے بعد ایک بار پھر سے مجھے اپنا کیر پیر بنانا ہے۔ میں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ میرے ماں باپ مجھے اس طرح چھوڑ دیں گے۔ مجھے لگتا تھا میرا ان کے ساتھ تعلق بہت گہرا ہے اور میں ان کی ناراضی برداشت نہیں کر سکتا مگر میں نے ان کی ناراضی کی پروانہیں کی ۔ ایک بار پھر مجھے انتخاب کرنا پڑا اور میں نے اپنے مذہب کو ان پر ترجیح دی اور اب تم میرے سامنے ایک آزمائش بن کر آکھڑی ہوئی ہو۔ بے یقینی اور بے اعتمادی کی انتہا کے ساتھ ۔ ڈینیل ایڈگر میرے وجود کا سایہ بن چکا ہے۔ یہ ساری عمر میرے ساتھ رہے گا۔ کوئی بھی شخص اپنا حال اور مستقبل تو بدل سکتا ہے مگر ماضی نہیں بدل سکتا۔ میں بھی نہیں بدل سکتا ۔ یہ حقیقت ہمیشہ حقیقت ہی رہے گی کہ میں ایک یہودی کا بیٹا ہوں اور میری ماں کرسچین ہے مگر میں اس بارے میں کچھ نہیں کر سکتا۔ کیا اس حوالے سے ساری عمر مجھے گالیاں دو گی اور شک کرو گی ؟ تم تو شادی سے پہلے ہی جانتی تھیں کہ میں یہودی ہوں ، میری نسل کی خصوصیات کے بارے میں تم نے تب کیوں نہیں سوچا ؟
اس کے پاس ایمان کے سوال کا جواب نہیں تھا۔ اس کے پاس شاید اب کسی بھی سوال کا جواب نہیں تھا میری چند ہفتے کی غیر موجودگی میں تم نے میرے خلاف اس طرح ثبوت اکٹھے کیسے جیسے میں کوئی بہت خطرناک مجرم تھا جس سے جتنی جلدی چھٹکارا پا لیا جاتا ، اتنا ہی بہتر ہوتا ۔ رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والے چور کو بھی صفائی کا موقع دیا جاتا ہے۔ تم نے تو مجھے اس قابل بھی نہیں سمجھا۔ مجھے قتل کرنے کی پلاننگ کر لی ۔ اس نے سر جھکا لیا۔ یہ سب کچھ کرنے سے پہلے مجھ سے پوچھ سکتی تھیں، مجھ پر شک تھا تو مجھ سے بات کر سکتی تھیں۔ میں ہمیشہ سے جانتا تھا کہ تمھیں مجھ سے محبت نہیں ہے لیکن میں نے سوچا کہ محبت نہ ہونے کا مطلب یہ تو نہیں کہ محبت ہو نہیں سکتی ۔ امید نے اپنے پیروں کی انگلیوں پر پانی کے چند قطرے گرتے دیکھے تھے۔ میرا خیال تھا، کچھ وقت گزرے گا پھر تم مجھ سے محبت کرنے لگو گی ۔ میری محبت ، میری توجہ، میرا ایثار، میری قربانیاں تمہارا دل جیت لیں گی۔ تم میری پروا کرنے پر مجبور ہو جاؤ گی ، کوئی فلم ہو، ناول ہو ڈرامہ ہو یا پھر حقیقی زندگی ان سب میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ مگر میرے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔ مجھے یہ غلط نہی تھی کہ جہاں زیب تمہاری زندگی کا ایک ایسا باب تھا جسے تم بند کر چکی ہو۔ میں یہ نہیں جانتا تھا کہ تم نے اسے ہمیشہ اپنے اور میرے درمیان رکھا۔ تم نے اس شخص کو کبھی اپنی زندگی سے جانے ہی نہیں دیا۔ اس نے اپنی مٹھیاں بھینچ لیں۔ ہاتھوں کی لرزش کو چھپانے کا کوئی دوسرا طریقہ نہیں تھا۔ ایمان کے لہجے میں جھلکتا ملال اس کے پورے وجود کو لرزار ہا تھا۔ تمھیں پتا ہے امید! اس شخص نے تمھارے ساتھ کیا کیا ؟ اس نے تمھارے اندر بے یقینی کا ایک پیج بود یا اور تم نے اس پیج کو پہنچ کر درخت بنا دیا ، اب بے یقینی اور بے اعتمادی کا یہ درخت اتنا تناور ہو چکا ہے کہ تم چاہو بھی تو اسے کاٹ نہیں سکتیں ۔ اس نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ وہ نہیں جانتی تھی۔ ایمان بھی اس سے یہ سب کہہ سکتا ہے۔ کوئی شخص اپنی بند مٹھیوں میں دھول لے کر آتا ہے اور آپ کی آنکھوں میں دھول پھینک کر چلا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر شخص کی بند مٹھی میں دھول ہی ہو جس سے بچنے کے لیے آپ کو اپنی آنکھیں بند کرنا پڑیں۔ کم از کم میری مٹھیوں میں تمھارے لیے کوئی دھول نہیں ہے ۔“ وہ اسے اپنے ہاتھ دکھا رہا تھا۔ میں نے کبھی محبت کے وجود پر یقین نہیں کیا۔ شاید شاید اسی لیے مجھے محبت ہو گئی اور میری محبت نے مجھے یقین اور ایمان دیا۔ تم نے ہمیشہ محبت کے وجود پر یقین کیا۔ محبت تمھیں بھی ہوئی مگر تمہاری محبت نے تمھیں یہ دونوں چیزیں نہیں دیں ۔
وہ بالکل بے حس و حرکت اس کی باتیں سن رہی تھی۔ ہم دونوں کی محبت کے معیار میں فرق تھا نہ انتہا میں جس شخص سے محبت کر رہے تھے۔ اس شخص میں فرق تھا۔ تم میں کھوٹ نہیں تھا جہاں زیب میں تھا۔ آگ کا کام پکانا ہوتا ہے اس پر سونا رکھو گے تو وہ اسے کندن بنادے گی مگر پانی رکھو گے تو بھاپ بن کر اڑ جائے گا۔“ اسے لگ رہا تھا، سب کچھ ختم ہورہا ہے ۔ ہم دونوں کے رشتے میں دراڑ آ گئی ہے مگر رشتہ ٹوٹا نہیں ہے۔ امید ! ہمیں یہ ابھی طے کر لینا چاہیے کہ اس دراڑ کو پر کر دینا چاہیے یا رشتہ
مکمل طور پر توڑ دینا چاہیے ۔ کوئی مجھے جان بوجھ کر ڈینیل ایڈگر کہے گا تو میں برداشت نہیں کروں گا ۔ ڈینیل ایڈگر سے ایمان علی بننے تک میں نے ایک لمبا سفر طے کیا ہے۔ بہت کچھ چھوڑا ہے اور جس شخص کو میری اس شناخت پر یقین نہیں ہے مجھے اس کے ساتھ زندگی نہیں گزارنا “
اس کے لہجے میں قطعیت تھی۔ تمھیں چھوڑتے ہوئے مجھے بہت تکلیف ہوگی ۔ اس سے کہیں زیادہ تکلیف جتنی مجھے اپنے ماں باپ کو چھوڑتے ہوئے ہوئی مگر میں اب کسی کسوٹی پر پرکھا جانا نہیں چاہتا۔ میں بار بار لوگوں کو وضاحتیں پیش کر سکتا ہوں نہ یہ یقین دلا سکتا ہوں کہ میں واقعی مسلم ہوں ۔ میں کسی کو یہ یقین دلانا بھی نہیں چاہتا۔ میں نے لوگوں کے لیے اسلام قبول نہیں کیا۔ یہ کام میں نے اللہ کے لیے کیا ہے اور میری نیت کو جانچنے کا اختیار صرف اسے ہے۔ کسی دوسرے کو نہیں ، تمھیں بھی نہیں ۔
وہ اس کی طرف انگلی اٹھاتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
اگر تمھیں مجھ پر اعتبار نہیں ہے یا یہ شبہ ہے کہ میں ابھی بھی مسلم نہیں ہوں تو پھر تمھیں مجھ کو چھوڑ دینا چاہیے۔ مجھ سے الگ ہو جانا چاہیے۔“ اس کی آواز میں شکستگی تھی ۔ میرے ساتھ رہ کر اگر تم خوش نہیں ہو تو تمھیں حق ہے کہ تم میرے ساتھ نہ رہو۔ مگر اپنے ذہن سے یہ نکال دو کہ میں تمھیں چھوڑ کر بھاگ گیا یا آئندہ کہیں بھاگ جاؤں گا۔ میں تمھیں اور اپنے بچے کو مکمل طور پر اپنا تا ہوں ۔ تم میرے بچے کو اپنے پاس رکھ سکتی ہو میں تم دونوں کی ذمہ داری لیتا ہوں جب تک بچے کو اپنے پاس رکھنا چاہو رکھ سکتی ہو۔ اگر دوسری شادی کرنا چا ہو اور بچے کو پاس نہ رکھنا چاہو تو میں اسے اپنے پاس لے جاؤں گا۔ ابھی میں پاکستان میں ہی ہوں، جتنا عرصہ یہاں رہوں گا تم دونوں سے رابطے میں رہوں گا۔ اگر واپس کہیں اور جانا پڑا تب بھی تم لوگوں کے اخراجات پورے کرتا رہوں گا۔ اس کے بدلے میں یہ ضرور چاہوں گا کہ تم مجھے اپنے بچے سے ملتے رہنے دو۔ اسے شاید پہلی بار اپنی کنپٹی سے بہنے والے خون کا احساس ہوا تھا اپنے زخم کو اس نے ہاتھ سے چھوا اور پھر انگلیوں پر لگے ہوئے خون کو دیکھا۔
سراٹھا کر اس نے امید کو دیکھا۔ شاید وہ کچھ اور کہنا چاہتا تھا مگر پھر وہ کچھ کہنے کے بجائے اسٹڈی ٹیبل کی طرف بڑھ گیا۔ دراز کھول کر اس نے کچھ نکالا تھا اور پھر امید کی طرف اچھال دیا۔ امید نے اپنے پیروں میں گرنے والی اس چیز کو دیکھا اور ہونٹ بھینچ لیے۔ وہ ریوالور کی گولیاں تھیں۔
مجھے اگر ایک لمحے کے لیے بھی یہ خیال آ جاتا کہ یہ ریوالور یہاں تم نے مجھے مارنے کے لیے رکھا ہے تو میں کبھی اس میں سے گولیاں نہ نکالتا۔ موت تمھارے منہ سے نکلنے والے لفظوں سے زیادہ تکلیف دہ نہیں ہو سکتی تھی ۔ وہ زمین میں دھنستی جارہی تھی۔
مجھے تم سے اس قدر محبت ہے امید! کہ تمھیں اتنی لمبی چوڑی پلاننگ کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ چوکیدار کو بھیجنا، ریوالور کو چھپانا ، ملازم کو غائب کرنا وہ عجیب سے انداز میں ہنسا۔ تم جب چاہتیں میرے سامنے کھڑے ہو کر مجھے مار سکتی تھیں، میں کبھی تمہارا ہا تھ نہیں پکڑتا نہ تمھیں کوئی نقصان پہنچاتا۔ چاہو تو ابھی آزما کر دیکھ لو۔“
وہ کچھ دیر اس کے سامنے جیسے منتظر سا کھڑا رہا۔ یوں جیسے اسے یہی کرنے کی دعوت دے رہا ہو۔ وہ ہل نہیں سکی۔ وہ تھکے تھکے انداز میں اسٹڈی کے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ امید نے دروازہ کھلنے کی آواز سنی مگر وہ اسٹڈی سے نکلنے کے بجائے وہیں رک گیا۔ تم اگر پچھتا رہی ہو تو مت پچھتاؤ میں تمھیں اس سب کے لیے معاف کرتا ہوں ۔ مجھے تم سے کوئی شکایت نہیں ہے ۔ اسٹڈی کا دروازہ بند ہو گیا۔ وہ اسٹڈی سے نکل کر کچن میں آگیا۔ فریج کھول کر اس نے پانی کی بوتل نکالی اور ڈائننگ ٹیبل پر آ کر بیٹھ گیا۔ گلاس میں پانی ڈال کر اس نے پانی کے چند گھونٹ ہے ۔ سر میں کچھ دیر پہلے لگنے والے زخم کی تکلیف کا احساس اسے اب ہو ر ہا تھا مگر اس میں اتنی ہمت نہیں رہی تھی کہ وہ اٹھ کر اپنے زخم کو صاف کر کے بینڈ بج کرنے کی کوشش کرتا۔ دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں پھنسائے کہنیاں ٹیبل پر رکھے وہ سامنے پڑے ہوئے گلاس کو دیکھتا جارہا تھا۔ کچھ دیر پہلے ہونے والے واقعات اسے ایک خواب کی طرح لگ رہے تھے۔ مگر وہ جانتا تھا کہ وہ سب خواب نہیں تھا۔
وہ جیسے دنیا کے آخری سرے پر آ کر کھڑا ہو گیا تھا۔ واپس جانے کا راستہ وہ بھول چکا تھا۔ آگے قدم بڑھانے پر پیر کے نیچے زمین آئے گی ، خلا آئے گا یا پھر پانی ، وہ
نہیں جانتا تھا۔ کیا میں اب اس طرح اکیلا رہ سکتا ہوں جس طرح امید کے آنے سے پہلے رہتا تھا ۔ اسے اپنی آنکھوں میں پہلی بار می اند تی محسوس ہوئی۔ ہونٹ بھینچ کر اس نے خود پر قابو پانے کی کوشش کی تھی۔ تھکن کا احساس کچھ اور بڑھ گیا تھا۔ اس نے پیچھے ہٹ کر اپنی پشت کرسی سے لگا کر آنکھیں بند کرلیں۔
ڈائننگ ٹیبل کے اوپر لٹکنے والے لیمپ کی روشنی میں ڈائٹنگ ٹیبل کی ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے ایمان کے علاوہ ہر چیز دھندلی نظر آ رہی تھی ۔ اس کا وجود اس روشنی میں بے حس و حرکت نظر آ رہا تھا اور اس کے چہرے پر پڑنے والی روشنی چہرے پر موجود ہر ہر تاثر کو واضح کر رہی تھی۔ تھکن…………… مایوسی …………..افسردگی…… بے یقینی……. اضطراب……… اور “امید”…………. وہاں کیا نہیں تھا ؟