373.2K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Iman Umeed Or Mohabbat) Episode 4

میں صحن کی لائٹ جلا دوں ؟ اب وہ ایک بار پھر اس سے پوچھ رہی تھیں۔ نہیں، اندھیرے میں بہت سکون مل رہا ہے۔ روشنی پریشان کرے گی۔“اس نے گردن موڑے بغیر انھیں جواب دیا تھا۔اور اگر انھیں پتا چل جائے کہ میں کیا کر بیٹھی ہوں یا میرے ساتھ کیا ہو چکا ہے تو شاید یہ ساری عمر مجھے تاریکی میں ہی رہنے دیں ۔“ اس نے ان کے اگلے جملے پر سوچا تھا۔ایک تو تمہاری عادتیں بھی بہت عجیب ہیں۔ بھلا روشنی کیسے پریشان کرے گی؟“ وہ اب بھی اس کی پشت پر کھڑی تھیں ۔ ” اس طرح اندھیرے میں بیٹھنا کوئی اچھی بات تو نہیں ہے۔“ وہ ایک بار پھر کہہ رہی تھیں۔بس تھوڑی دیر بیٹھنے دیں، پھر میں اٹھ جاؤں گی ۔ اس نے بہتے آنسوؤں کے ساتھ انھیں یقین دلایا۔ اچھا اور کھانا؟ کھانا کب کھاؤ گی؟“ وہ اب دوسری بات پر پریشان ہو رہی تھیں۔کچھ دیر بعد “ اس نے کہا۔میں اندر جا رہی ہوں۔ تم بھی جلدی اندر آ جاؤ ۔ ٹھیک ہے؟ وہ کسی بچے کی طرح اس سے یقین دہانی چاہ رہی تھیں۔وہ خاموش رہی۔ اس کی پشت پر قدموں کی چاپ ابھری۔ وہ اب واپس اندر جا رہی تھیں۔کاش اس وقت وہ میری پشت پر کھڑی نہ ہوتیں، میرے سامنے آ جاتیں، میرے آنسوؤں کودیکھ کو دیکھ لیتیں پھر مجھسے مجھ وجہ سے وجہ پوچھتیں یا یا پھر میری میری آواز سے ہے ہی کچھ اندازہ کرلیتیں پھر میں ان کو سب کچھ بتا دیتی سب کچھ ایک ایک بات ایک ایک لفظ، ایک ایک حرف وہ سب جو میں آج تک کسی سے کہہ نہیں سکی، جسے چھپانے کے لیے مجھے اپنے وجود کو ایک قبر بنانا پڑا ہے۔“وہ اسی طرح صحن میں پڑی کرسی پر بیٹھی سوچتی رہی۔مگر اس نے میرے ساتھ یہ سب کیوں کیا؟ میرے ساتھ ہی کیوں؟ میں نے تو میں نے تو ۔ وہ کچھ سوچتے سوچتے ایک بار پھر رک گئی۔ہاں مخلص تو میں بھی نہیں رہی، میں نے بھی اسے ہمیشہ For granted لیا ۔ مگر میں نے اس سب کی خواہش تو نہیں کی تھی اور پھر اب، اب جب میں ۔اس نے ہونٹ بھینچ لیے۔ آنسو اب اس کی گردن پر پر پھیلتے ہوئے قمیص کے گریبان میں جذب ہو رہے تھے۔ہوا ایک دم تیز ہو گئی، اس نے فضا میں گرد محسوس کی صحن میں لگے ہوئے درخت بہت تیزی سے مل رہے تھے۔ ہوا میں اڑنے والے پتے اب اس سے ٹکرانے لگے تھے۔ وہ بے جان قدموں سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ اندر کمرے میں آ کر اس نے روازہ بند کر لیا، بیڈ پر ابٹ کر اس نے آنکھیں بند کر لیں۔اسے وہاں آئے کتنے دن ہو گئے تھے۔ اسے یاد نہیں تھا۔ وہ کوشش کے با وجود بھی وہاں سے وائی جانے میں کامیاب نہیں ہوئی۔تمہاری عادتیں بہت خراب ہو گئی ہیں۔ اس بار اسے آنے دو، میں بات کروں گی اس سے کہ تمھیں کچھ کہتا کیوں Nahi اپنی مرضی کرتی رہتی ہو ۔وہ امی کی باتوں کو خالی ذہن کے ساتھ Sunti ہیں۔د تمھیں اپنا خیال رکھنا چا ہیے، اس طرح کی لاپروائی تمھارے لیے مناسب نہیں ہے ۔ وہ چپ چاپ ان کا چہرہ دیکھتی رہتی۔آنکھیں بند کیے اس نے اپنی پوری زندگی کو دیکھنے کی کوشش کی ، کون سی چیز کہاں غلط تھی اس سے کب کون سی غلطی ہوئی تھی۔ غلطی ؟ کیا اقعی مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہے۔ ۔ زندگی میں جس Code of ethics (اخلاقی قدروں ) کو لے کر میں چلتی رہی، کیا وہ غلط تھا ؟ اور اب … اب میں کس سے کون کی اخلاقیات کی بات کرنے کے قابل رہی ہوں ۔ اس نے تکلیف سے سوچا۔ اس نے اپنی آنکھیں کھول دیں۔ تلاوت کی جا رہی تھی اور کرنے والے سے وہ اچھی طرح واقف تھی اور وہ یہ بھی جانتی تھی کہ ابھی چند منٹوں کے بعد یہ آواز اسے جگا رہی ہوگی ، وہ مندھی آنکھوں کو رگڑتے ہوئے اٹھ کر بیٹھ گئی۔ منہ پر ہاتھ رکھ کر اس نے جماہی کو روکا۔پتا نہیں ڈیڈی کسی طرح اتنی صبح اٹھ جاتے ہیں یا شاید یہ رات کو سوتے ہی نہیں۔اس نے بیڈ سے اترتے ہوئے تجزیہ کیا ساتھ والے بیڈ سے اس نے عدیلہ کو جھنجھوڑ کر اٹھایا پھر وہ اٹھ کر اپنے کمرے سے باہر آ گئی ویری گڈ! آج تو بغیر جگائے ہی بیداری ہو گئی۔ میجر عالم جاوید نے اپنی بیٹی کو جماہیاں لیتے ہوئے کمرے سے باہر آتے دیکھ کر کہا۔ ہاں تو میں نے سوچا، اس سے پہلے کہ آپ اندر آئیں۔ میں خود ہی آ جاؤں۔ وہ ان کے پاس آکر بیٹھ گئی۔اب اتنی ہمت کر لی ہے تو اٹھو اور وضو کر کے نماز بھی پڑھ لو ۔انھوں نے قرآن پاک بند کرتے ہوئے اسے پچکارتے ہوئے کہا۔ وہ کچھ کہے بغیر اٹھ گئی۔ وہ میجر عالم جاوید کی سب سے بڑی بیٹی تھی اس سے چھوٹی عدیلہ تھی اور پھر دو جڑواں بھائی۔ وہ صرف ان کی بڑی بیٹی ہی نہیں تھی، بلکہ ان کی بہت زیادہ لاڈلی بھی تھی۔ اس کے مزاج میں میٹرک میں آنے کے باوجود بہت زیادہ بچپنا تھا اور اس کی بنیادی وجہ میجر عالم جاوید کا لاڈ پیار تھا۔ بچپن میں میجر عالم جاوید جب بھی گھر پر ہوتے وہ ان کی گود میں چڑھی رہتی۔ اس کا اب بھی یہی حال تھا جب تک وہ گھر پر رہتے۔ وہ سائے کی طرح ان کے ساتھ لگی رہتی۔ وہ ماں کے بجائے اپنا ہر کام باپ سے کروانے کی عادی تھی۔ کتابوں پر کور چڑھانے کا کام ہو۔ لنچ باکس تیار کروانا ہو یا پھر بال سنوارنے کا خالص زنانہ کام امید اپنے سارے کام باپ سے ہی کرواتی تھی اور شاید اس عادت کو ڈالنے میں بھی بڑا ہاتھ میجر عالم جاوید کا ہی تھا۔ انھوں نے بچپن سے ہی اس کا ہر کام خود کیا تھا اور اب یہ حالت ہو گئی تھی کہ اپنی ماں کی ناراضی کے باوجود وہ سارے کام باپ سے ہی کرواتی ۔ جب عالم جاوید ایکسر سائز پر گئے ہوتے تو امید کے سوا کسی کو شش پیش نہیں آتی تھی صرف وہ تھی جو اپنا ہر کام رو رو کر کیا کرتی تھی کیونکہ اسے عادت میں نہیں تھی کوئی دوسرا بھی اس کا کوئی کام کرتا تو وہ مطمئن نہ ہوتی جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ نامی خفا ہو کر اس کا کوئی کام نہ کرتیں اور بیٹ مین کو بھی منع کر دیتیں۔باپ کے واپس آنے پر وہ یہ سہ ، کچھ باپ کو بتاتی اور وہ اگلے کئی دن جیسے ترقی کے طور پر اس کا چھوٹے سے چھوٹا کا بھی خود ہی کرتے۔امید نے اپنے باپ کو بہت مدہوا دیکھا تھا۔ وہ با قاعدہ پار با قاعدہ پانچ وقت کی نماز parha کرتے تھے اور بہت چھوٹی سی عمر میں انھوں نے اسے بھی نماز کی عادت ڈال دی تھی۔ وہ ساتھ رکھتے ہوئے اسے مذہب کے بارے میں بہت کچھ بتایا کرتے تھے۔ وہ کچھ باتوں کو سمجھ جاتی کچھ کو سمجھ نہ پائی مگر خاموشی سے سنتی رہتی۔ زندگی بہت پرسکون انداز میں گزر رہی تھی۔ امید نے ان دنوں بہت اچھے نمبروں سے میٹرک کرتے ہوئے ایف ایس سی میں داخلہ لیا تھا، جب اسے گھر کے ماحول میں کچھ عجیب سی تبدیلیاں محسوس ہوئی تھیں۔ امی اور ڈیڈی یک دم بجھے بجھے نظر آنے لگے تھے۔ اس نے امی کو کئی دفعہ آنسو بہاتے دیکھا۔ ڈیڈی بھی بہت پریشان نظر آنے لگے تھے۔ ان کی شوخی اور شگفتگی یک دم ماند پڑ گئی تھی۔ اس نے کئی بار امی اور ڈیڈی سے ان کی پریشانی کی وجہ پوچھنے کی کوشش کی مگر وہ بڑی عمدگی سے ٹال گئے۔ پھر ایک دن میجر جاوید عالم نے اسے اپنے پاس بٹھاتے ہوئے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔تمھیں آج کچھ ضروری باتیں بتانی ہیں امید ۔“اسے ان کی آواز میں کوئی بہت ہی غیر معمولی چیز محسوس ہوئی تھی جس نے اسے خوفزدہ کر دیا تھا مدھم آواز میں سر جھکائے انھوں نے اسے بتایا تھا کہ میڈیکل چیک آپ کے دوران ان کے دماغ میں تین جگہ شور کی تشخیص ہوئی ہے۔ ڈاکٹرز نے انھیں فوری طور پر آپریشن کا کہا ہے۔ اسے زندگی میں کبھی اتنا خوف نہیں آیا تھا۔ جتنا اس نے اس وقت باپ کا چہرہ دیکھتے ہوئے محسوس کیا۔

جاری ہے…………….