Iman Umeed Or Muhabbat By Umerah Ahmed Readelle50316 Iman Umeed Or Muhababt (Episode 18)
No Download Link
Rate this Novel
Iman Umeed Or Muhababt (Episode 18)
اور اب وہ ایک ایسی لڑکی کی محبت میں گرفتار ہو چکا تھا جس کے بارے میں وہ کچھ نہیں جانتا تھا سوائے نام کے ۔ اگر یہ لڑکی بھی ان ہی لڑکیوں جیسی ہوئی جنہیں میں آج تک مستر د کرتا رہا ہوں تو پھر کیا میں اسے بھی چھوڑ دوں گا ؟“ اس نے خود سے پوچھا تھا اور جواب دینے کی ہمت اپنے اندر نہیں پائی۔ میں اسے نہیں چھوڑ سکتا۔ میں اس کے ماضی سے کوئی دلچسپی نہیں رکھوں گا اور اپنے حال کو دیسا بنایا جا سکتا ہے جیسا میں چاہتا ہوں۔ جب میں اسے زندگی میں سب کچھ دوں گا تو کیا وہ میرے لیے پارسائی اختیار نہیں کر سکے گی ۔ اس نے سوچا۔ وہ کرلے گی کیونکہ وہ مشرقی عورت ہے اور شاید مسلمان بھی ۔“ پچھلے پینتیس سالوں سے جس مسئلے کو وہ ٹالتا رہا تھا ، اب وہ اس کے سامنے اس طرح آگیا تھا کہ وہ آنکھیں چرا کے آگے نہیں جا سکتا تھا۔
کیا میں ایک مسلمان عورت سے شادی کے لیے اسلام قبول کر سکتا ہوں؟“
اس نے اپنے آپ سے پوچھا تھا۔ اس کے اندر خاموشی کا ایک طویل وقفہ تھا۔
ہاں، میں کر سکتا ہوں ۔ بالاخر جواب آیا تھا۔
اگر وہ لڑکی مجھے مل جائے تو میں کچھ بھی کر سکتا ہوں ۔ فیصلہ بہت آسان ہو گیا تھا۔
اگلے دن ایک بار پھر فاسٹ فوڈ چین پر گیا تھا ، وہ آج بھی نہیں تھی ۔ رات کو وہ سعود کے پاس پہنچ گیا۔ ٹھیک ہے، تم نے فیصلہ کر لیا کہ تم اس لڑکی کے لیے مذہب تبدیل کر لوگے اچھا فرض کرو، کچھ عرصہ کے بعد تم دونوں کی شادی ناکام ہو جاتی ہے اور تم اسے طلاق دے دیتے ہو پھر تم کیا کرو گے؟ کیا اسلام چھوڑ دو گے؟ اس کے پاس ڈیٹیل کے لیے ایک اور مشکل سوال تھا۔
شادی نا کام ہونے سے مذہب کی تبدیلی کا کیا تعلق ہے؟“
بہت گہرا تعلق ہے، تم مذہب سے متاثر ہو کر اسلام قبول نہیں کر رہے۔ صرف ایک عورت سے شادی کی خاطر ایسا کر رہے ہو، ظاہر ہے اگر وہ عورت تمہارے پاس نہ رہی تو پھر تمہارے مسلمان رہنے کا بھی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ بہت معذرت کے ساتھ کہوں گا لیکن سچ یہی ہے کہ تم جیسا
شخص جس کی زندگی میں کبھی مذہب رہا ہی نہیں اس کے لیے کسی مذہب میں داخل ہونے سے زیادہ آسان کام نکلنا ہے۔“ وہ سعود کا چہرہ دیکھتا رہا میرے ذہن میں اس بارے میں کوئی الجھن نہیں ہے، ٹھیک ہے، میں ایک عورت کے لیے اسلام قبول کر رہا ہوں اور میرا خیال ہے یہ مذہب مجھے ایک بہتر انسان بنائے گا لیکن ایک عورت کو چھوڑنے پر میں یہ مذہب چھوڑنے کا کوئی خیال نہیں رکھتا۔ شادی ایک
معاشرتی معاملہ ہے مگر مذہب کا تعلق عقائد سے ہوتا ہے ۔“
پھر تم یہ بات تسلیم کرو کہ بعض معاشرتی معاملات ہمارے عقائد پر اثر انداز ہوتے ہیں .
عورت تمہارے پاس نہ رہی تو پھر تمہارے مسلمان رہنے کا بھی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ بہت معذرت کے ساتھ کہوں گا لیکن سچ یہی ہے کہ تم جیسا شخص جس کی زندگی میں کبھی مذہب رہا ہی نہیں اس کے لیے کسی مذہب میں داخل ہونے سے زیادہ آسان کام نکلنا ہے۔“ وہ سعود کا چہرہ دیکھتا رہا میرے ذہن میں اس بارے میں کوئی الجھن نہیں ہے، ٹھیک ہے، میں ایک عورت کے لیے اسلام قبول کر رہا ہوں اور میرا خیال ہے یہ مذہب مجھے ایک بہتر انسان بنائے گا لیکن ایک عورت کو چھوڑنے پر میں یہ مذہب چھوڑنے کا کوئی خیال نہیں رکھتا۔ شادی ایک معاشرتی معاملہ ہے مگر مذہب کا تعلق عقائد سے ہوتا ہے ۔“
پھر تم یہ بات تسلیم کرو کہ بعض معاشرتی معاملات ہمارے عقائد پر اثر انداز ہوتے ہیں .
کم از کم میں اپنے معاشرتی معاملات کو عقائد پر اثر انداز ہونے نہیں دوں گا ۔ میں اس معاملے میں تم سے بحث نہیں کروں گا، ٹھیک ہے ایک فیصلہ اگر تم نے کیا ہے تو میں یہی چاہوں گا کہ خدا تمہیں استقامت اور ثابت قدمی عطا فرمائے ۔ سعود نے بحث ختم کرتے ہوئے کہا۔ اگلی شام وہ سعود کے ساتھ وہاں گیا تھا اور ہال میں داخل ہوتے ہی اس کے چہرے پر ایک چمک نمودار ہوئی تھی اس نے بے اختیار سعود کا بازوپکڑ لیا۔
وہ واپس آگئی ہے۔“ سعود نے کچھ حیرت کے ساتھ اس کے چہرے کے تاثرات دیکھے، چند لمحوں میں ہی اس کے چہرے کی اداسی اور بےچینی ختم ہو گئی تھی۔ سعود نے کاؤنٹر کی طرف دیکھا۔ وہاں بہت سی لڑکیاں نظر آرہی تھیں۔ ڈینیل اسے اپنے ساتھ لیے ایک لڑکی طرف بڑھ گیا۔ اس نے سر اٹھا کر ڈینیل کو اپنی طرف آتے دیکھا اور مسکرائی ۔ ڈینیل نے آرڈ رنوٹ کروانے کے بجائے بے تابی سے اس سے پوچھا۔ آپ ایک ہفتہ سے کہاں تھیں ؟ اس لڑکی کے چہرے پر مسکراہٹ غائب ہو گئی ہے۔ کچھ نہ سمجھنے والے انداز میں وہ ڈینیل اور سعود کا چہرہ دیکھتی رہی ۔ سعود نے بروقت مداخلت کی اور آرڈر نوٹ کروانا شروع کر دیا۔ وہ وہاں سے چلی گئی تھی۔ ڈینیل ! خود پر قابورکھو، تمہاری اس کے ساتھ اتنی جان پہچان نہیں ہے کہ تم اس کے یہاں نہ ہونے کے بارے میں اس طرح پوچھنے لگو۔“ سعود نے اسے کچھ سرزنش کی۔ دس منٹ کے بعد وہ دوبارہ ٹرے کے ساتھ نمودار ہوئی۔ اس بار اس لڑکی نے ڈیٹیل کی طرف دیکھنے کی کوشش کی تھی نہ ہی وہ مسکرائی تھی۔ خاموشی کے ساتھ اس نے آرڈر سرو کیا اور پیچھے ہٹ گئی۔ وہ دونوں اپنی ٹرے اٹھا کر ایک قریبی ٹیبل پر پہنچ گئے۔
تو یہ امید عالم ہے؟“
ہاں ! ڈینیل نے دور کاؤنٹر پر اس پر نظریں جماتے ہوئے کہا۔ ٹھیک ہے، میں اس کے بارے میں اتا پتا کرنے کی کوشش کروں گا۔ مگر کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ تم اسے شادی کا پر پوزل دو ۔ کم از کم اس کا رد عمل تو معلوم ہو سکے گا ۔ “ سعود نے اسے مشورہ دیا تھا۔ ا گھر کی پیشکش
شادی کا پر پوزل ؟ ٹھیک ہے، میں اسے آج پر پوز کردوں گا ۔
وہ اب بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ سعود کو ڈیٹیل کی بے اختیاری پر حیرت ہو رہی تھی۔ وہ بہت سنجیدہ اور ریز رو قسم کا آدمی تھا۔ کسی لڑکی کے بارےمیں اس طرح کا والہانہ انداز سعود کے لیے نیا تھا۔ اس وقت سعود کو یوں لگ رہا تھا جیسے ڈینیل پوری طرح سحر زدہ ہے۔ اس نے ایک لمحے کے لیے بھی بات کرتے ہوئے اس لڑکی سے نظریں نہیں ہٹائی تھیں یوں جیسے اسے خوف ہو کہ وہ دوبارہ گم ہو جائے گی۔ سعود آدھ گھنٹہ اور بیٹھا تھا پھر اُٹھ کر چلا گیا تھا جبکہ ڈینیل وہیں بیٹھا رہا تھا رات کو اس وقت سے پہلے جب وہ چلی جایا کرتی تھی وہ اٹھ کر اس
کی طرف آیا تھا۔ اس بار اس لڑکی نے کچھ الجھن بھری نظروں سے اسے دیکھا۔
امید! کیا آپ مجھ سے شادی کریں گی ؟“
اس نے لڑکی کو پتھر کے بت کی طرح ساکت ہوتے دیکھا۔ چند لمحے وہ سانس رو کے اسی طرح کھڑی رہی پھر وہ بڑی تیزی سے کاؤنٹر کے پیچھے دروازے سے غائب ہو گئی ۔ ڈینیل کچھ دیر اس کا انتظار کرتا رہا مگر وہ دوبارہ نمودار نہیں ہوئی۔ وہ کچھ بے چین اور مایوس ہو کر باہر اپنی گاڑی میں آ کر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر بعد وہ معمول کے مطابق باہر ریسٹورنٹ کی گاڑی میں آکر بیٹھ گئی۔ ڈینیل نے ہمیشہ کی طرف گاڑی کا تعاقب ہاسٹل تک کیا ۔ پھر واپس گھر آگیا ۔ گھر آنے کے بعد اس نے فون پر سعود کو اس کے رد عمل کے بارے میں بتایا۔ اچھا ٹھیک ہے، اب میں اس کے بارے میں کچھ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ تم پریشان مت ہو۔“ سعود نے اسے تسلی دے کر فون بند کر دیا۔ اگلے دن وہ اپنے معمول کے مطابق آفس سے فارغ ہونے کے بعد دوبارہ وہیں گیا تھا اور یہ دیکھ کر بے چین ہو گیا کہ وہ ایک بار پھر کاؤنٹر پر نظر نہیں آرہی تھی۔
امید عالم انہوں نے کل جاب چھوڑ دی ۔ اس کے پیروں تلے سے جیسے کسی نے زمین کھینچ لی تھی پتا نہیں کیوں اسے یہ محسوس ہوا تھا کہ اس نے اس کی وجہ سے جاب چھوڑی تھی ۔ وہ چند لمحے کچھ کہے بغیر کاؤنٹر پر کھڑا رہا پھر باہر نکل آیا اور باہر نکلتے ہی وہ سیدھا اس ہاسٹل گیا تھا جہاں وہ رہتی تھی۔ چوکیدار سے اس نے امید کے بارے میں پوچھا اور چوکیدار نے قدرے سرد لہجے میں اس سے کہا۔
وہ کل ہاسٹل چھوڑ کر جا چکی ہیں ۔
کہاں چلی گئیں؟ اس کی جیسے جان پر بن آئی تھی۔ یہ ہمیں نہیں پتا۔ چوکیدار نے سرد مہری سے جواب دیتے ہوئے گیٹ بند کر لیا۔ وہ پتا نہیں کتنی دیرین ذہن کے ساتھ گیٹ کے باہر کھڑا رہا تھا اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اب وہ کیا کرے ۔ اسے کس طرح اور کہاں ڈھونڈے پھر پتا نہیں کسی خیال کے تحت اس نے ایک بار پھر گیٹ
چوکیدار با ہر نکلا ۔
کیا امید عالم مسلمان ہیں؟ چوکیدار نے کچھ حیرانی کے ساتھ اس کے سوال پر اسے دیکھا۔ ترکی شکش
ہاں وہ مسلمان ہیں ۔ وہ اپنی گاڑی کی طرف پلٹ آیا۔ وہ نہیں جانتا ، وہ کون سے علاقے کی کون سی مسجد تھی اسے صرف یہ یاد تھا کہ کئی گھنٹے سڑک پر بے مقصد گاڑی چلانے کے بعد اس نے ایک بہت بڑی مسجد دیکھی اور اس نے وہاں گاڑی روک دی۔ مسجد کے اندر جا کر اس نے امام سے ملاقات کی تھی اور اپنے آنے کا مقصد بتایا، امام مسجد بہت دیر حیرانی سے اسے دیکھتے رہے پھر انہوں نے مسجد میں اس وقت موجود چند لوگوں کو ڈینیل ایڈگر کے آنے کی وجہ بتائی تھی۔ ڈینیل نے ان سب کے چہرے پر بھی اتنی ہی حیرانی دیکھی۔ وہ بڑے صبر سے ان سب کو کچھ فاصلے پر ایک دوسرے سے باتیں کرتا دیکھتا رہا چند منٹوں بعد وہ بالآخر اس کی طرف آئے اور گرم جوشی کے ساتھ اس سے ہاتھ ملایا۔ ایک گھنٹے کے بعد ڈینیل ایڈگر ایمان علی کی صورت میں اس مسجد کے ہال میں کچھ دوسرے لوگوں کے ساتھ انہی کی پیروی میں نماز ادا کر رہا تھا۔ دعا مانگتے ہوئے امام کی دعا ختم ہو جانے کے بعد اس نے ایک دعا اور مانگی تھی اور اس کے بعد آمین کہا تھا۔
کی پیشکش ڈینیل نہیں ایمان علی، میں جو کام کرنا چاہتا تھا۔ وہ کر چکا ہوں ۔ جلد کیا ہے یا دیر سے اس کا فیصلہ وقت کرے گا۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ تم مجھے بتا دو کہ امید کو ڈھونڈنے کے سلسلے میں تم میری کیا مدد کر سکتے ہو۔ اس کے علاوہ میں ایسے کسی عالم سے بھی ملنا چاہتا ہوں جو مجھے کچھ رہنمائی وہاں سے واپس گھر آ کر اس نے سعود ارتضی کو فون کر کے سب کچھ بتا دیا تھا۔
فراہم کر سکے ۔
سعود کو اس کے لہجے میں موجود سکون اور اطمینان نے حیران کیا۔
کے آفس میں ہوئی تھی ۔ سعود نے اسے گلے لگا کر مبارکباد دی۔ اگلے دن دونوں کی ملاقات ایمان کے آ میں ابھی کسی پر اپنی مذہب کی تبدیلی کا انکشاف نہیں چاہتا۔ توقع رکھتا ہوں کہ تم اس بات کا خیال رکھو گے ۔“ اس نے بات کا آغاز کرتے ہوئے سعود کو ہدایت دی۔
ٹھیک ہے تمہیں اس بارے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ جہاں تک امید کا تعلق ہے تو کل تک تمہیں اس کے بارے میں پتا
چل جائے گا۔ آج شام کو میرے ساتھ چلنا ، میں تمہیں ایک اسکالر سے ملواؤں گا ۔“ سعود نے اٹھنے سے پہلے کہا تھا۔
شام کو وہ سعود کے ساتھ اس اسکالر کے پاس گیا تھا جس کا سعود نے ذکر کیا تھا۔ ایک نسبتا غیر معروف علاقے میں ایک چھوٹے سے مگر بہت عمدگی سے بنے ہوئے گھر میں وہ ایک دراز قامت ، سانولی رنگت کے باریش آدمی سے ملا تھا جس نے مصافحہ کرنے کے بعد اس کو گلے لگایا تھا۔ وہ اسے اندر اپنے ڈرائنگ روم میں لے گیا تھا جہاں کی سب سے نمایاں اور خاص بات وہاں کی سادگی اور کتابوں کی تعداد تھی۔ ان کے اندر بیٹھتے ہی
ایک ملازم ایک ٹرے میں کھانے پینے کی کچھ چیزیں لے آیا تھا۔ ایمان اپنی نظر میں اپنے سامنے بیٹھے ہوئے اس شخص پر جمائے رہا جس کا نام ڈاکٹر خورشید اصغر تھا جبکہ وہ شخص بڑے پر سکون انداز میں ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ ملازم کو میز پر چیزیں سجاتے دیکھ کر ہدایات دیتارہا۔ اس شخص کے انداز میں کوئی خاص ٹھہراؤ اور تمکنت تھی جس نے ایمان کو متاثر کیا تھا۔ ملازم کے جانے کے بعد چائے پیتے ہوئے اسی پر سکون انداز میں اس نے ایمان علی کو مخاطب کیا۔
مجھے شرمندگی ہے کہ آپ کے سامنے بہت زیادہ چیزیں پیش نہیں کر سکا ۔ اس کی بات پر ایمان کچھ شرمندہ ہو گیا۔ آپ نے پہلے ہی ی بہت بہہ تکلف کیا ہے ، اتنے اہتمام کی ضرورت نہیں تھی چائے کا ایک کہ کپ ہی کافی ہوتا ۔
یہ اہتمام اس شخص کے لیے نہیں ہے جو مجھ سے کچھ سیکھنے آیا ہے، یہ اہتمام اس شخص کے لیے ہے جس سے میں کچھ سیکھنے والا ہوں ۔“ ایمان چائے پیتے پیتے رک گیا۔ اس کی بات اس کی سمجھ میں نہیں آئی تھی کچھ الجھی ہوئی نظروں سے اس نے ساتھ بیٹھے سعود کو دیکھا جو بڑی بے نیازی سے چائے پینے میں مصروف تھا۔ سعود صاحب سے پتا چلا کہ آپ ایک عورت کے لیے ڈینیل ایڈگر سے ایمان علی بن گئے ہیں۔ ہمیں اس عورت کو دیکھنے کا اشتیاق ہے جس کے لیے آپ ایمان علی بن گئے ۔ سچ پوچھیے تو بہت کم عورتیں ایسی ہوتی ہیں جن کے لیے کوئی ایمان علی بننے کی خواہش کرے۔ ایمان علی اس کا چہرہ
دیکھنے لگا۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ نے کسی رستے کا انتخاب کر لیا ہے؟“
نہیں ۔
اس شخص کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ آگئی۔
میں اتنا جانتا ہوں کہ اپنے سامنے موجود تین رستوں میں سے میں نے سب سے بہتر رستے کا انتخاب کیا ہے، اب وہ راستہ کہاں جائے گا
یہی جاننے میں آپ کے پاس آیا ہوں ۔
یہ آزمائش کا راستہ ہے۔ آزمائش جانتے ہیں آپ؟ ایمان نے نفی میں سر ہلا دیا ۔ ہاں آپ کو اس لیے علم نہیں ہوگا کیونکہ آپ ساری زندگی مذہب کے دائرہ سے باہر رہے ہیں۔ مگر ابھی کچھ عرصہ کے بعد آپ کا سامنا آزمائش سے بھی ہو گا ۔ اسی وقت یہ فیصلہ ہو سکے گا کہ دین کے لیے آپ میں کتنی استقامت ہے۔ آپ ہر روز اسی وقت میرے پاس آ جایا کریں۔ میں کوشش کروں گا کہ دین کے بارے میں آپ کی واقفیت بڑھا سکوں ، دین سے عشق تو اللہ ہی بڑھائے گا۔“
انہوں نے بڑے عجیب سے انداز میں مسکراتے ہوئے کہا تھا۔ گھر کی پیشکش وہ تقریبا دو گھنٹے ان کے پاس بیٹھا رہا۔ انہوں نے اسے بہت کی بنیادی اور ضروری باتوں سے آگاہ کیا تھا۔ جانے سے پہلے انہوں نے اسے کچھ کتا بیں مطالعہ کے لیے دیں۔ وہ ان کے پاس سے واپس آتے ہوئے بہت مطمئن تھا۔ رات کو سونے سے پہلے اسے اپنی پچھلی رات کو نماز کے دوران کی جانے والی دعا یاد آئی تھی۔
ہر شخص کو کسی نہ کسی چیز کی طلب ہی مذہب کی طرف لے کر آتی ہے مجھے ایک عورت کی طلب اس طرف لے آئی ہے اور اب جب میرے کوکسی پاس ایمان ہے تو میں اس ایمان کا سہارا لے کر تم سے دعا کرتا ہوں کہ مسلمان کی حیثیت سے میری پہلی دعا قبول فرماؤ۔ اگر میری محبت میں اخلاص ہے تو وہ لڑکی مجھے مل جائے۔ میں زندگی میں پہلی بارتم سے کچھ مانگ رہا ہوں اس سے پہلے مجھے بھی ضرورت ہی نہیں پڑی تھی مگر اب اس طرح ایک مسلمان کے طور پر تمہارے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئے مجھے یہ یقین ہے کہ میں ٹھکرایا نہیں جاؤں گا۔ میری دعا قبول کی جائے گی۔ مجھے اس چیز سے نواز دیا جائے گا جس کی مجھے خواہش ہے۔“ ایمان علی نے آنکھیں بند کر کے اپنے الفاظ یاد کیے تھے اور پھر آنکھیں کھول دیں۔ ہاں مجھے یقین ہے کہ وہ مجھے مل جائے گی کم از کم اب ضرور مل جائے گی۔ اس نے دوسری بار سونے کے لیے آنکھیں بند کرتے ہوئے سوچا۔
