Iman Umeed Or Muhabbat By Umerah Ahmed Readelle50316 Iman Umeed Or Muhababt (Last Episode )
No Download Link
Rate this Novel
Iman Umeed Or Muhababt (Last Episode )
ایمان کی آواز گونج رہی تھی۔ ” تم نے ہمیشہ محبت کے وجود پر یقین کیا محبت تمھیں بھی ہوئی مگر تمہاری محبت نے تمھیں یہ دونوں چیزیں نہیں دیں ۔“
میری محبت نے مجھ سے ایمان اور یقین چھین لیا۔ ہاں تم نے ٹھیک کہا، میری محبت مجھے ایمان سے دور لے گئی تمہاری محبت تمھیں ایمان کے پاس لے آئی فرق صرف اس میں نہیں ہوتا جس سے محبت کرتے ہیں۔ فرق اس میں بھی ہوتا ہے جو محبت کرتا ہے، میں نے محبت کر کے صرف کھو یا تم نے محبت کر کے صرف پایا میں کیا کوئی بھی تمھیں اور تمھارے ایمان کو کسی کسوٹی پر پرکھنے کی جرات نہیں کر سکتا اور میری خوش قسمتی یہ ہے کہ ایسے شخص کو خدا نے میرا مقدر بنایا اور میں
آنکھیں بند کیے دلدل میں اس ہاتھ کو تلاش کرتی رہی جو مجھے بھی دلدل کے اندر کھینچ لینا چاہتا تھا اور آج اتنے سالوں کے بعد پہلی بار میں تمہاری قید سے آزاد ہو گئی ہوں جہاں زیب پہلی بار مجھے تمھارے چہرے پر لگی ہوئی وہ سیاہی نظر پرلگی آنے لگی ہے جسے تم میرے چہرے پر محبت کے نام پرل دینا چاہتے تھے۔
پہلی بار مجھے احساس ہو رہا ہے کہ تب تمہاری طرف بڑھایا جانے والا قدم مجھے کہاں لے جاسکتا تھا۔ پہلی بار مجھے خوف محسوس ہو رہا ہے کہ محبت کے اس بھنور سے اپنے پیروں کو آزاد کرنے پر خوشی کے بجائے ہونے والا پچھتاوا آج تک کس طرح میرے پورے وجود کو بھنور بنائے ہوئے تھا اور آج تم میرے سامنے ایسی غلاظت بن گئے ہو جس میں پاؤں نہ رکھنے پر ہونے والی شرمندگی میرے لیے ہمیشہ تکلیف دہ رہے گی ، مجھے
خدا نے ایمان علی کے دل کے تخت پر بٹھا یا تمھارے پیروں کی دھول بنا کر روند انہیں ۔ میں نے چھ سال پہلے تمھیں چھوڑ کر کوئی غلطی نہیں کی ، آج پہلی بار میں خدا کا شکر ادا کر رہی ہوں کہ چھ سال پہلے میں تمھارے ساتھ نہیں گئی۔
میں خوش ہوں جہاں زیب میں تم جیسی غلاظت سے بچ گئی ، میرے پاس وہ ہے جو کسی دوسرے کے پاس نہیں . میرے پاس ایمان کی محبت ہے۔
اس کی آنکھوں کی دھند چھٹنے لگی تھی۔
اگر وقت ایک بار پھر پیچھے چلا جائے تو اس بار ایمان اور محبت میں سے انتخاب کرتے ہوئے میں ایمان علی جیسی بے رحمی کے ساتھ فیصلہ کروں گی۔ اتنی ہی استقامت اتنی ہی ثابت قدمی اور اتنی ہی جلدی اور میں چاہتی ہوں جہاں زیب ! زندگی میں ایک بار تم دوبارہ میرے سامنے آؤ۔ تب میں تم پر تھوک دوں گی اور کہوں گی کہ میرے لیے میرا اللہ کافی ہے۔ وہ جو بدترین چیزوں کے بدلے ہمیں بہترین چیزیں عطا کرتا ہے اور تب تب تم سوچنا ۔
کیا مذہب بھی آؤٹ ڈیٹڈ ہو سکتا ہے؟
کیا کوئی چیز ایمان کی جگہ لے سکتی ہے؟
کیا کوئی اپنی خواہشات کو شریعت پر ترجیح دے سکتا ہے کیا زندگی صرف نفس کی اطاعت کے بل پر گزاری جا سکتی ہے؟
کیا کبھی کوئی تاریکی کو روشنی اور روشنی کو تاریکی کہہ سکتا ہے اور پھر اگر ہر سوال کا جواب نفی میں آئے تو تم پاتال میں گرے ہوئے اپنے وجود کو وہیں دفن کر دینا تا کہ یہ دوبارہ کسی کے سامنے ترغیب بن کر
m آئے نہ کسی کو پاتال میں کھینچنے کی کوشش کرے۔ وہ آہستہ آہستہ اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔ اپنے دونوں ہاتھوں سے اس نے اپنے گالوں اور آنکھوں کو رگڑا۔ اسٹڈی کا دروازہ کھول کر وہ باہر آگئی۔ پورے گھر میں تاریکی تھی۔ اسکے علاوہ صرف ایک جگہ روشنی تھی اور وہ جگہ بچپن تھی وہ جان گئی تھی ، وہ کہاں موجود تھا۔ کچن میں جانے کے بجائے وہ بیڈ روم میں چلی گئی۔ ڈریسنگ میں جا کر اس نے فرسٹ ایڈ کا سامان نکالا اور دھیمے قدموں کے ساتھ وہ کچن کی طرف آئی وہ کچن کے دروازے میں
رک گئی۔
ڈائٹنگ ٹیبل کے اوپر لٹکنے والے لیمپ کی روشنی میں ڈائٹنگ ٹیبل کی ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے ایمان کے علاوہ ہر چیز دھندلی نظر آرہی تھی اس کا وجود اس روشنی میں بے حس و حرکت نظر آ رہا تھا، اور اس کے چہرے پر پڑنے والی روشنی چہرے پر موجود ہر تاثر کو واضح کر رہی تھی ۔
ممکن افسردگی بے چینی اضطراب اور امید وہاں کیا تھا ؟ وہاں کیا نہیں تھا ؟ اس نے ایمان کو مجسم حالت میں دیکھا تھا۔ اسے رشک آیا تھا۔ وہ خوش قسمت تھا۔ اسے حسد ہوا وہ منتخب لوگوں میں سے تھا ؟ اسے فخر
ہوا، یہ خوش قسمت منتخب شخص اس کے مقدر میں تھا۔
وہ بے اختیار آگے بڑھ آئی۔ وہ آنکھیں بند کیسے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ ایمان علی کو اپنے چہرے پر ہاتھ کے لمس کا احساس ہوا، چند لمحوں کے لیے اس کا جسم تن گیا پھر جیسے سکون اور سرشاری کی ایک لہر اس کے وجود میں دوڑ گئی۔ اس نے آنکھیں نہیں کھولیں ۔ وہ بڑی نرمی اور ملائمت سے اس کا زخم صاف کر رہی تھی۔ اس کی کنپٹی سے نیچے بہنے والے خون کو Roe کے ساتھ گردن تک صاف کر رہی تھی ۔ اب وہ زخم پر موجود بال کاٹ رہی تھی۔
ایمان ایک دم ہی جیسے بہت پر سکون ہو گیا تھا۔ سر میں ہونے والی تکلیف ختم ہو گئی تھی۔ ہر تکلیف ختم ہو گئی تھی۔ اس کے ہاتھوں کے لمس میں جادو تھا۔ وہ اس کی بینڈ بیچ کر چکی تھی مگر اب بھی اسی طرح اس کے سر پر ہاتھ رکھے پاس کھڑی تھی۔
چند لمحے اور گزرے پھر اس نے اپنے گال پر پانی کے چند قطرے گرتے محسوس کیے۔ اس نے آنکھیں نہیں کھولیں ۔ وہ جانتا تھا یہ پانی نہیں تھا۔ آنسو تھے اپنے آنسو کسی دوسرے کے گال پر بہنے لگیں تو کیا ہوتا ہے۔ وہ سوچ رہا تھا۔
کیا یہ پھر ؟ مگر کیوں ؟ اور اب مجھے کیا کرنا چاہیے؟ پھر اسے یاد آیا ڈاکٹر خورشید نے کہا تھا۔
ہمارا ہر عمل اللہ کے لیے ہونا چاہیے۔ ہماری دوستی ہماری دشمنی ہماری محبت ہماری نفرت اپنے لیے کچھ نہیں ہونا چاہیے۔
اور میں اگر اللہ کے لیے اس کی ساری غلطیاں معاف کردوں اسے ایک بار پھر یقین اور ایمان کی زمین پر پیر جمانے کا موقع دوں تو ؟
اگر اللہ نے زندگی میں اسے اس کے ایک عمل کے لیے اسے اتنی چیزوں سے نواز دیا ہے تو کیا میں ایک بار پھر اسے اپنی محبت کے طور “ اس نے سوچا تھا۔
مسکرایا۔
اس نے اپنے دل کو ٹولا ، اسے حیرت نہیں ہوئی، اس کے دل میں اب بھی وہی عورت تھی اور وہیں تھی جہاں پہلے دن کھڑی ہوئی تھی۔ وہ
ہاں ، یہ معافی ہم دونوں کی آزمائش ختم کر سکتی ہے۔ یہ چند لمحوں کا ایثار اور اعلیٰ ظرفی بہت سے رشتوں کو مضبوط بناسکتی ہے اور پھر اب اب جب ہم زندگی میں ایک نئے رشتے سے آشنا ہونے والے ہیں یہ ضروری ہے کہ میں اس پر مہربانی کروں، ایک پار سا عورت اتنے کی مستحق ہوتی ہے
کہ اس کی زیادہ غلطیوں کو معاف کر دیا جائے۔
ایمان کے لیے آسکتے ہیں۔ اس نے بھی اسی طرح سرگوشی میں کہا۔
اور محبت کے لیے؟ امید نے اسے کہتے سنا۔
اب نہیں وہ کیا پوچھ رہا تھا، وہ جانتی تھی ۔ وہ خاموش رہا۔ اس کے چہرے پر نظر جمائے وہ ہر نقش کو غور سے دیکھ رہی تھی ۔ ڈائننگ ٹیبل کے سامنے کھلی کھڑکی سے تیز ہوا کا ایک جھوٹ کا اندر آیا۔ ڈائننگ ٹیبل کے اوپر لٹکنے والا آرائشی لیمپ فضا میں لہرانے لگا۔ وہ اس کے چہرے پر لہراتی تیز اور مدھم ہوتی ہوئی روشنی کو دیکھنے لگی۔ لیمپ آہستہ آہستہ جھول رہا تھا۔ خاموشی اور روشنی عجیب سے رقص میں مگن تھیں۔ وہ اس کے بالوں میں سے آہستہ آہستہ ہاتھ اس کے ماتھے پر لے آئی پھر ہاتھ کی ہتھیلی سے اس نے ایمان کی آنکھیں ڈھک دیں، ایمان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ ابھری یوں جیسے وہ اس کے ہاتھ کی حرکت سے محظوظ ہوا ہو، وہ اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھے۔ چہرہ دیکھتی رہی یوں جیسے اس کی آنکھوں کو روشنی کے لہراتے سایوں سے بچانا چاہتی ہو۔ جیسے سکون دینا چاہتی ہو، وہ گہرے سانس لیتا ہوا بے حد پر سکون نظر آ رہا تھا۔ تیز ہوا کے کچھ اور جھونکے اندر آئے ، اس نے ہوا میں گرد محسوس کر لی تھی۔ آندھی آ رہی تھی۔ اس بار اس نے ہر گھر کی ، ہر دروازہ بند کرنا تھا اس بار وہ کسی بھی چیز کو آلودہ ہونے نہیں دینا چاہتی تھی۔ اپنے ارد گرد موجود ہر چیز اسے یک دم جیسے بہت قیمتی لگنے لگی تھی۔ وہ ہاتھ ہٹا کر بہت تیزی سے کھڑکی کی طرف گئی۔ ایمان نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔ وہ کھڑ کی بند کر رہی تھی ۔ ہوائیں یک دم شدت اور تیزی آگئی ۔ اسے وقت ہو رہی تھی، ایمان بے اختیار اٹھ کر اس کی طرف گیا۔ کھڑکی کا پٹ کھینچ کر ایک جھٹکے کے ساتھ اس نے کھڑ کی بند کر دی۔ باہر لان میں سے اٹھنے والا ہوا کا ایک بگولا اپنے ساتھ لیے ہوئے پتوں اور مٹی کے ساتھ کھڑکی کے شیشوں سے ٹکرایا مٹی اندر نہیں آسکی ، کھڑکی کے شیشوں سے مٹی اور پتے ٹکراتے ہوئے نیچے گر رہے تھے۔
امید نم آنکھوں کے ساتھ مسکراتے ہوئے سحر زدہ ہی کھڑکی سے ٹکرانے والے پتوں اور مٹی کو دیکھ رہی تھی وہ یک دم خود کو بہت محفوظ محسوس کرنے لگی تھی۔
باہر سے آنے والی گندگی اندر نہیں آسکی ۔ اس بار کوئی آلودگی اندر آ ہی نہیں سکتی۔ اس بار ” ایمان اور امید ایک ساتھ کھڑے ہیں ۔
اس نے مسکراتے ہوئے سوچا ایمان برق رفتاری سے کچن کی دوسری کھڑکیاں بند کر رہا تھا۔ اس نے پلٹ کر اسے دیکھا اور وہیں کھڑی رہی۔ مجھے یہ موسم پسند نہیں ہے، اتنی مٹی ، ہر وقت کا طوفان اب پھر صبح سارا گھر صاف کرنا پڑے گا ۔ سارا دن ضائع کرے گا صابر .. میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ یہ کھڑکیاں کیسے کھلی رہنے دیں۔ پتا نہیں کس کس کمرے کی کھلی ہوں گی اور پتا نہیں کہاں کہاں سے مٹی اندر آ رہی ہوگی ۔ وہ اب بولتے ہوئے کچن سے نکل رہا تھا۔ وہ مسکرا رہی تھی۔ اس کے پیچھے کچن سے نکلتے ہوئے اس نے سوچا’
ایمان کے شیشے پر کتنی ہی گرد اور مٹی کیوں نہ ہو۔ اسے صاف کیا جا سکتا ہے بس صرف ایک ہاتھ پھیرنا پڑتا ہے اور شیشے میں سے عکس نظر آنا شروع ہو جاتا ہے اور پھر ہر ہاتھ کے ساتھ عکس پہلے سے زیادہ صاف اور چمکدار ہوتا جاتا ہے۔ اور وہ ہاتھ اس محبت کا ہوتا ہے جو ایمان سے ہوتی ہے
