Iman Umeed Or Muhabbat By Umerah Ahmed Readelle50316 Iman Umeed Or Muhababt (Episode 22)
No Download Link
Rate this Novel
Iman Umeed Or Muhababt (Episode 22)
چند دنوں کے بعد ڈاکٹر خورشید نے اس سے کہا کہ وہ اب اپنے مذہب کی تبدیلی کے بارے میں اپنے عزیز واقارب اور کمپنی کو بتا دے اور اپنے کا غذات میں اپنا نام تبدیل کروائے۔ اس نے ان کی بات پر سر جھکا دیا۔ وہ خود بھی اب یہی چاہتا تھا، اپنے بچے کی پیدائش سے پہلے وہ چاہتا تھا
کہ سب اس کے نئے نام اور مذہب سے واقف ہو جا ئیں ، تاکہ بچے کے لیے کوئی مسئلہ نہ ہو۔
اس نے اپنی کمپنی کے ڈائر یکٹر کو تحریری طور پر اپنے طور پر اپنے نام اور مذہب کی تبدیلی سے آگاہ کر دیا اور یہ جیسے سب کے لیے ایک بڑے شاک کے طور پر سامنے آیا تھا اسے ملنے والی پروموشن روک لی گئی تھی اور اسے پہلے ہی اس بات کی توقع تھی۔ مذہب کی تبدیلی ایک ایسا عمل تھا جس سے اس کی کمپنی کی انتظامیہ کو یہ محسوس ہوا کہ اس کی وفاداریاں متاثر ہوں گی۔ ریجنل چیف نے اس سلسلے میں اس سے لمبی چوڑی بات کی اور کمپنی کی
انتظامیہ کا موقف اس کے سامنے پیش کر دیا۔ وہ اگر اپنا موقف بیان نہ بھی کرتے تو بھی وہ اچھی طرح اس حقیقت سے آگاہ تھا کہ یہ کمپنی امریکن یہودیوں کے سرمائے سے چل رہی تھی۔ کسی مسلمان کو وہ اتنے بڑے عہدے پر کبھی نہ لاتے ۔ ڈاکٹر خورشید سے مشورہ کے بعد اس نے کمپنی میں اس عہدہ پر کام کرتے رہنے کے بجائے ریزائن کرنے کا فیصلہ کر لیا اور کچھ اور مٹی نیشنل کمپنیز میں اپلائی کرنا شروع کر دیا۔ امید کو اس نے اس بات سے آگاہ نہیں کیا تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ پریشان ہو، اپنی کمپنی سے ریزائن کرنے کے بعد اس نے جرمنی جا کر اپنے ماں باپ کو بھی اپنے اس فیصلے سے آگاہ کرنا اور اس کے بعد امریکہ جا کر اسے کچ کمپنیز میں انٹرویو دینے تھے۔ اس نے امید سے یہی کہا کہ وہ آفس کے کسی کام سے جرمنی جا رہا ہے مگر ان ہی دنوں اتفاقا اس کے ایک فیملی فرینڈ کی ڈیتھ ہوگئی ایمبیسی سے اس نے امریکہ کا ویز امذہبی رسومات میں شرکت کا بتا کر لیا کیونکہ اس طرح اسے فوری طور پر ویزامل گیا تھا ، اس سے پہلے اس کا خیال تھا کہ وہ جرمنی میں قیام کے بعد وہیں سے ویزہ لے کر امریکہ چلا جائے گا کیونکہ اس کے پاس جرمنی کی شہریت تھی۔
مگر پھر اپنے والدین سے بات کرنے کے بعد اس نے پہلے جرمنی ہی جانے کا فیصلہ کیا تھا، اس نے سوچا تھا کہ وہ وہاں سے اپنے والدین کے ساتھ امریکہ چلا جائے گا اور امریکہ جانے سے پہلے اسے اپنے والدین کو اپنے مذہب کی تبدیلی کے بارے میں بھی بتانا تھا۔ یہ ایک اتفاق ہی تھا کہ ایئر پورٹ پر اسے سمانتھا مل گئی۔ وہ اپنی جاب چھوڑ کر پاکستان سے واپس جارہی تھی ۔ فلائٹ میں وہ اس کے ساتھ رہی ۔
ایمان کے والدین کے لیے اس کے مذہب کی تبدیلی ایک شاک تھا۔ یہودی یا عیسائی ہونے کی توقع رکھتے ہوئے وہ یہ کبھی نہیں سوچ سکتے تھے کہ وہ مسلمان ہو جائے گا اور پھر مذہب کا انکشاف اس نے تقریبا پوری فیملی کے سامنے کر دیا تھا۔ پیٹرک کا خاص طور پر غم و غصے سے برا حال تھا۔ وہ اپنی فیملی کے سامنے بالکل بے وقعت ہو کر رہ گیا تھا۔ ایک اعلیٰ نسب یہودی کا بیٹا مسلمان ہو جائے تو پھر اس کے پاس باقی کیا بچتا ہے۔ اس کی فیملی نے اسے مجبور کیا تھا کہ وہ ایمان علی کو اسلام چھوڑنے پر آمادہ کرے یا پھر ایمان سے قطع تعلق کرلے پیٹرک اور سبل نے ایمان کو بری طرح مجبور کیا تھا۔ ڈرا کر، دھمکا کر جذباتی طور پر بلیک میل کر کے مگر وہ اپنی بات پر اڑا رہا پیٹرک کو اب احساس ہوا کہ اس نے انھیں اس طرح اچانک گھر کا تحفہ کیوں دیا تھا یقینا وہ یہی چاہتا تھا کہ جب وہ انھیں اپنے اسلام قبول کرنے کے بارے میں بتائے تو وہ کوئی اعتراض نہ کریں مگر یہ بات ان کے لیے جب ان دونوں کے بہت سمجھانے پر بھی وہ اپنی بات پر جما رہا تو پھر انھوں نے اس سے کہا کہ وہ اسلام چھوڑ دے یا پھر ہمیشہ کے لیے انھیں چھوڑ دے۔ ایمان علی نے انھیں اپنی بات سمجھانے کی بہت کوشش کی مگر وہ دونوں بھی اس کی طرح اپنی بات پر جھے ہوئے تھے۔ اسے اپنی فیملی کا رد عمل دیکھ کر اپنے ماں باپ سے اس بات کی توقع تھی ۔ اپنے ماں باپ کے لیے گھر خریدتے ہوئے بھی وہ جانتا تھا کہ یہ تحفہ اس کی طرف سے اس کے قابل قبول نہیں تھی۔
والدین کے لیے آخری تحفہ ہو سکتا ہے۔ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اس کے لیے والدین سے الگ ہونا بہت تکلیف دہ تھا اور صرف اس کے لیے ہی نہیں اس کے والدین کے لیے بھی اکلوتی اولاد سے اس عمر میں اس طرح مکمل طور پر الگ ہو جانا بہت مشکل تھا مگر اس کے پاس دوسرا کوئی راستہ نہیں تھا وہ خود کو پہلے سے اس کام کے لیے ذہنی طور پر آمادہ کر چکا تھا۔ مگر اس کے باوجود جرمنی سے امریکہ جاتے ہوئے اسے بہت زیادہ ڈپریشن تھا۔ امریکہ میں اس نے ان کمپنیز میں انٹرویوز دیے جہاں وہ پچھلے کچھ عرصے سے اپلائی کر رہا تھا، چند دن انٹرویوز میں مصروف رہنے کے بعد ایک شام وہ پیدل قریبی مار کے لیے نکلا اسے یہ اندازہ نہیں ہو پایا کہ اس کا تعاقب کیا جارہا ہے، چند سیاہ فاموں نے یک دم اسے رستے میں روک لیا۔ گن کی تمام جیسے سر کے پچھلے حصے میں لگائی گئی ضربوں نے اسے ہوش و حواس پاس ایسی کوئی چیز نہیں تھی جس سے اس کی شناخت ہو سکتی اس رحمت کی کوشش کی تو ان لوگوں نے اسے بری طرح پیا، ریوالور سے ہفتہ کے بعد اسے جب ہوش آیا تو وہ ہاسپٹل میں تھا۔ اس کے hos میں آنے کا انتظار کر رہے تھے مگر ہوش میں آنے کے بعد بھی وہ کئی دنوں تک رابطے کے لیے نمبر نہیں بتا سکا تھا۔ آہستہ آہستہ وہ thk ہوا اور تب اس نے سوچا کہ امید کو اس حادثے کی اطلاع دینا بے کار وہ خوامخواہ پریشان ہو گی ہاسپٹل سے ڈسچارج ہونے کے! نے پاکستان فون کیا مگر اسے پتا چلا کہ امید راولپنڈی جا چکی ہے اس نے کچھ دن اور امریکہ میں گزارے اور اسی دوران دکمپنیز سے اسے جاب کی آفر ہوگئی ، وہ مطمئن ہو کر واپس پاکستان آ گیا۔ راولپنڈی میں امید کے رویے نے اسے حیران کیا اور آہستہ آہستہ یہ حیرانی پریشانی میں تبدیل ہونے لگی تھی۔ وہ اندازہ کر سکتا تھا کہ اس کے باہر جا کر رابطہ ختم کر دینے پر وہ پریشان اور ناراض ہوگی مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ اس طرح کے رویے کا مظاہرہ کرے گی ۔ وہ اسے بتانا چاہ رہا تھا کہ
اس کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ مگر وہ کچھ سننے پر تیار ہی نہیں تھی۔
لاہور آنے کے بعد بھی اس کا رویہ تبدیل نہیں ہوا وہ لاہور پہنچ کر اپنے کچھ کام نپٹانے گھر سے باہر چلا گیا۔ جب وہ واپس آیا تو گیٹ پر بہت بار ہارن دینے کے باوجود بھی گیٹ نہیں کھلا ، وہ کچھ پریشان ہو گیا۔ اس سے پہلے کہ وہ خود اتر gate کھولنے کے لیے اسے آنا پڑا گھر کے اندر جانے پر اس نے ملازم کو بھی وہاں نہیں پایا۔ امید نے اس سے کہا کہ وہ اسے بھیج چکی ہے۔ اسے امید کی حرکات کچھ عجیب لگی تھیں مگر اس نے زیادہ غور نہیں کیا۔ اندر بیڈ روم میں آکر اس نے اپنے سارے گلٹس کمرے کے کارپٹ پر پھیلے ہوئے دیکھے اس کی رنجیدگی میں کچھ اور
اضافہ ہو گیا۔ اس نے کارپٹ پر سے تمام چیزیں اٹھائیں اور پھر انھیں ڈریسنگ روم میں رکھ دیا۔ وہ روز رات کو ریوالور چیک کر کے رکھا کرتا تھا اس رات بھی۔ اس نے اپنے معمول کے مطابق دراز میں سے ریوالور نکالنا چاہا مگر ریوالور وہاں نہیں تھا۔ باری باری اس نے اپنی تینوں دراز دیکھے مگر ریوالور کہیں بھی نہیں تھا۔ اسے خیال آیا کہ ہو سکتا ہے امید نے ریوالور کہیں اور رکھا ہو مگر امید سے پوچھنے پر اس نے صاف انکار کر دیا۔ وہ اس کے انکار پر ہکا بکا رہ گیا۔ اگر ریوالور امید نے نہیں اٹھایا تھا تو پھر ریوالور کہاں جاسکتا تھا۔ اس کی تشویش میں ایکا ایک اضافہ ہو گیا پھر اس نے یہ سوچ کر ہر جگہ ریوالور ڈھونڈ نا شروع کیا کہ شاید وہ کہیں اور رکھ کر بھول گئی ہے۔ مگر تمام الماریاں دیکھنے کے بعد بھی اسے ریوالور نہیں ملا۔ اس کی پریشانی میں یہ سوچ کر اضافہ ہو رہا تھا کہ امید یہاں اس کی عدم موجودگی میں اکیلی تھی۔ اگر کچھ ہو جاتا اور
اسے ریوالور کی ضرورت پڑتی تو پھر کیا ہوتا مگر امید اسے بالکل پریشان نظر نہیں آرہی تھی وہ بالکل بے فکر تھی۔ اس نے اسے اس کی لاپروائی کا احساس دلانے کی کوشش کی جھوٹا، فراڈ اور گناہگار کہ kh rhithi ۔ وہ جھگڑنے لگی۔ وہ اس کی باتیں سن کر حیران رہ گیا۔ وہ پاکستان آیا تھا اس کے ماضی کے حوالے سے طنز کر رہی تھی ۔ اساس کی باتوں کے رد عمل میں وہ بھی ، اس میں ذہنی طور پر کسی تکلیف سے گزرنا اس کے لیے اچھا نہیں ہوگا، نہ چاہتے ہوئے بھی اس نے امید کو وضاحت پیش کی تھی ۔ اس کی چھٹی حس یک دم اسے کسی خطرے سے آگاہ کرنے لگی تھی۔ ریوالور کا غائب ہونا، چوکیدار کا چلے جانا اور ملازم کا بھی وہاں نہ ہوتا ۔ یہ سب کچھ کوئی با قاعدہ پلانگ بھی تو ہو سکتی تھی۔ اس نے فون کر کے ایک سیکیورٹی ایجنسی سے گارڈ منگوایا اورپھر انٹر کا پر ملازم کو بلا کر اس سے ریوالور کے بارے میں پوچھا۔ ملازم ریوالور میں بے خبر تھا۔ ایمان کی پریشانی میں کچھ اور اضافہ ہو گیا اس نے ملازم کو واپس بھیج دیا۔ گارڈ کے
آنے کے بعد اس نے اندرونی دروازہ بند کرنے سے پہلے پورے گھر کو اچھی طرح چیک کیا کہیں بھی کوئی غیر معمولی چیز نہیں تھی۔
اچھی طرح دروازے لاک کرنے کے بعد اس نے کچن میں جا کر کچھ کھایا اور پھر اسٹڈی میں چلا گیا۔ کچھ دیر وہ پریشانی کے عالم میں وہاں بیٹھا ر ہا امید کا رویہ اس کے لیے بہت حوصلہ شکن تھا ، اس نے اپنے دینی انتشار پر قابو پانے کے لیے قرآن پاک کا انگلش ترجمہ نکال کر پڑھنا شروع کر دیا۔ پندرہ میں منٹ وہ اس کام میں مصروف رہا پھر وہ قرآن پاک واپس رکھنے کے لیے شیلف کی طرف آیا۔ قرآن پاک واپس رکھتے ہوئے اسے کونے میں پڑی ہوئی وہ کتا بیں نظر آئیں جو باہر جانے سے کچھ دن پہلے ڈاکٹر خورشید نے اسے دی تھیں ۔ اس نے ابھی تک ان کتابوں کو نہیں پڑھا تھا۔
قرآن پاک رکھنے کے بعد اس نے ان میں سے ایک کتاب نکال لی اور کتاب نکالتے ہی اسے جیسے کرنٹ لگا، کتاب کے پیچھے شیلف پر ریوالور نظر آ رہا تھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ ریوالور کمرے سے اسٹڈی میں کتاب واپس رکھ کر اس نے ریوالور نکالا اور اس کا چیمبر چیک کیا۔ چیمبر میں پوری گولیاں تھیں جبکہ ریوالور کا سیفٹی کیچ ہٹا ہوا تھا۔ وہ ریوالور لے کر اسٹڈی ٹیبل کی طرف آ گیا۔ کرسی پر بیٹھ کر اس نے ریوالور اسٹڈی میں کچھ وقت گزار نے آئی ہو اور اس وقت میں سے ساری گولیاں نکال لیں وہ ریوالور بھی ساتھ لے آئی ہو۔ کیوں؟ اس کا ذہن ایک بار پھر الجھ گیا۔ اسے اٹھا کر وہاں رکھ دیا یا پھر ملازم نے اٹھا کر مگر
ریوالور کی گولیاں نکال کر اس نے دراز میں رکھ دیں جبکہ ریوالور میز پر رکھ دیا۔ اس کا خیال تھا کہ نماز پڑھنے کے بعد وہ دوبارہ ریوالور کولوڈ کر کے اپنی دراز میں رکھ دے گا۔
پھر وہ نماز پڑھنے میں مصروف ہو گیا، نماز پڑھنے کے دوران ہی اسے احساس ہوا کہ کمرے میں کوئی داخل ہوا۔ اسے حیرت ہوئی ، اس کا خیال تھا امید اب تک سوچکی ہوگی ۔ سلام پھیرنے کے بعد اس نے اس سے وہاں آنے کے بارے میں پوچھا ، وہ اس سے کوئی بات کرنا چاہتی تھی اس کی
سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ اب اس سے کون سی بات کرنا چاہتی تھی مگر اس نے امید سے انتظار کرنے کے لیے کہا۔
نماز پڑھنے کے بعد وہ کھڑا ہو کر پلٹا اور ساکت ہو گیا، اسٹڈی ٹیبل پر موجودر یوالو اب امید کے ہاتھوں میں تھا اور وہ اس کا نشانہ لیے کھڑی تھی۔ پھر اس نے اسے ٹریگر دباتے ہوئے دیکھا اور سب کچھ ایک جھماکے کے ساتھ اس کی سمجھ میں آگیا تھار یو اور وہاں کیوں آیا تھا کس لیے چھپایا
گیا، چوکیدار کی عدم موجودگی ، ملازم کو بھیجا جاتا۔
میرے خدایا کیا یہ عورت جو میری بیوی اور میرے بچے کی ماں بننے والی ہے مجھے قتل کرنا چاہتی ہے۔ یہ عورت جس کے لیے میں سب کچھ چھوڑ آیا ہوں۔“
اس نے تکلیف سے سوچا۔ وہ جانتا تھا ،ریوالور خالی تھا مگر اس کا دل چاہا کہ کاش وہ ریوالور خالی نہ کرتا وہ اسے وہیں رہنے دیتا۔ سب کچھ آگ کی لپٹوں میں آ گیا تھا۔ رشتہ ، اعتبار، اعتماد اسے یاد آیا ڈاکٹر خورشید نے کہا تھا۔
تم صحیح پر قدم بڑھا چکے ہو۔ مسلمان ہو چکے ہو۔ اب تم آزمائشوں کے لیے تیار رہو، پچھلے ایک ماہ سے وہ ایسی ہی آزمائشوں سے گزر رہا تھا اور ہر باردہ نظر سے سوچتا تھا کہ آزمائش نے اسے سرنگوں نہیں کیا مگر اب اسے اندازہ ہورہاتھا کہ آزمائشوں کے بھی درجے ہوتے ہیں وہ
جن آزمائشوں سے گزرا تھا وہ ابتدائی نوعیت کی تھیں مگر اب اس کے سامنے جو آزمائشیں آن کھڑی ہوئی تھیں، وہ اس کے لیے بہت سخت ثابت ہوں گی۔
اس نے امید کی آنکھوںمیں پہلے کبھی اپنے لیے اتنی نفرت نہیں دیکھی اس نے اس کی زبان پر اپنے لیے اتنا ہر پہلے بھی نہیں دیکھا تھا۔ اس نے اسے خود پر ریوالور پھینکتے دیکھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ یہ عورت مجھے اتنی تکلیف دے سکتی ہے جسے میں نے کبھی سخت ہاتھ بھی نہیں لگایا اس نے اس پر التزامات کی بارش کر دی تھی۔ وہ چلا رہی تھی وہ سنتار با شاید وہ اسی طرح سنختار بتا اگر وہ اسے ایمان علی کے بجائے ڈینیل ایڈ گر نہ کہتی ، اسے اس وقت امید کی زبان سے اپنا پرانا نام ایک گالی کی طرح لگا ، وہ برداشت نہیں کر سکا ، صرف اس ایک نام کے لیے وہ پچھلے ایک ماہ سے کیا کیا برداشت کر رہا تھا اس نے اپنے ماں باپ چھوڑے۔ اس نے اپنا شاندار کیریئر چھوڑ دیا۔ ایک اچھا مسلمان، ایسی چیزوں پر استقامت اور ثابت قدمی دکھاتا ہے میں بھی یہی دکھاؤں گا، پیدائشی مسلمان نہ سہی مگر میں مسلمان ہوں اور مجھے بھی تکلیف اور آزمائش میں صبر سے کام لینا چاہیے وہ سوچتا رہا اور اب ایک بار
پھر اسے اس کے پرانے نام سے پکارا جارہا تھا اس کے ایمان پر شک کیا جارہا تھا۔ وہ اسے دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ کیا صرف ایک شخص کسی کی پوری شخصیت کو اس طرح مسخ کر سکتا ہے اس طرح توڑ پھوڑ سکتا ہے کہ وہ شخص
دوبارہ زندگی میں کوئی رشتہ قائم کر کے بھی بے اعتمادی اور بے یقینی کا اس طرح شکار رہے کہ ہر لمحے اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کے پیروں کے نیچے بھی زمین کھینچتا رہے اس نے سوچا تھا اگر اس کی زندگی میں جہاں زیب نہ آیا ہوتا تو کیا یہ پھر بھی ایسی ہوتی ۔ وہ اس سے محبت کرتا تھا۔ وہ اس کا یقین چاہتا تھا مگر اس دن اسے احساس ہو رہا تھا کہ شاید ہی مکن ہی نہیں ہے وہ ساری عمر اسے اسی طرح ایمان کی کسوٹی پر پرکھتی رہے گی۔ وہ اب کم از کم یہ نہیں چاہتا تھا کہ اسے بار بار اس کے سامنے اپنے مسلمان ہونے کا ثبوت دینا پڑے۔ یہ بہت تکلیف دو کام تھا اس وقت اس کے سامنے کھڑے ہو کر اس کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے socha۔ اگر کسی شخص کو ابھی بھی اس بات پر یقین نہیں ہے کہ میں مسلمان ہوں یا نہیں تو مجھے کیا کرنا چاہیے۔ کیا اس کے ساتھ بار بار اذیت سے دو چار ہونے کے لیے رہنا چاہیے یا پھر ایک بار اذیت سے گزرتے ہوئے اس سے علیحدگی اختیار کر لینی چاہیے۔”
ہاں شاید مجھے اس سے الگ ہی ہو جانا چاہیے ورنہ کبھی نہ کبھی اس کی بے یقینی میرے ایمان کو ختم کر دے گی۔ میری استقامت اور ثابت وچا، وہ عورت اسے ایمان تک لائی تھی۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی وجہ سے وہ ایمان کھو دیتا اسے قدمی کو ہلا دے گی۔ پھر میں کیاایک بار پھر فیصلہ کرنے میں چند منٹ لگے تھے۔ اس نے امید کو اختیار دے دیا تھا کہ اس بار وہ انتخاب کرلے۔ وہ اسٹڈی سے نکل کر کچن میں آگیا ، اس کے وجود پر اترتی تھکن اسے مضمحل کر رہی تھی ۔ وہ ڈائننگ ٹیبل پر آنکھیں بند کر کے بیٹھ گیا کچھ وقت گزرا تھا پھر اس نے کچن میں اپنے قریب ایک آہٹ سنی اور ..
