Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gharonda (Last Episode)

Gharonda by Umme Umair

تحریر: ام عمیر

اللہ سبحان و تعالی نے نور کو اس کے صبر کا بدلہ اسکی دعاوں سے بڑھ کر دیا ۔۔۔ ایک دم ہنستے ہنستے آنکھوں نے دغا دیا ، دوبارہ چھلکنے کو بےتاب ، خود کو یحیی کی نظروں میں اتنا معتبر پا کر دلی جذبات امڈ آئے ۔۔۔

تم پھر رو رہی ہو نور ؟!

بس ایسے ہی خوشی کے آنسو ہیں شاید ۔۔۔

آپ رکیں میں آپکو ایک اور چیز دکھاتی ہوں ۔۔ ایک دم جوش سے اٹھتے ہوئے اپنی ناگن جیسی چوٹی کو جھٹکا دے کر پیچھے کیا تو چوٹی سیدھی یحیی کے چہرے پر جا کر لگی ۔۔۔

اوہ نو نور یہ کیا کر دیا ہے ؟؟ تمھارے یہ بال سیدھے میری آنکھوں میں گئے ہیں ۔ نور گھبرا کر پلٹی ۔۔۔

معذرت چاہتی ہوں دلہا جی !!

اس کا بھی حل ہے میرے پاس آپکی آنکھیں منٹوں میں ٹھیک ہو جائیں گی ۔۔ نور نے چٹکی بجائی ۔۔۔ساری چبھن دور ہو جائے گی ۔۔ اچھا اب باتیں کم کرو اور جلدی سے کرو جو کرنا ہے ۔۔ یحیی کی آنکھ چبھن سے لال ہو رہی تھی اور کھولنے میں دشواری ہو رہی تھی ۔۔

نور نے اپنے کاٹن کے دوپٹے کا ایک کونہ لے کر 3 سے 4 تہوں میں لپیٹا اور یحیی کی آنکھ پر رکھ کر پھونکنا شروع کر دیا ۔۔

یہ کیا کر رہی ہو نیم حکیم ؟؟؟

آپ بس چپ کر کے بیٹھے رہیں اور نتائج کا انتظار کریں ۔۔ ایک منٹ کی مسلسل کوشش کے بعد نور کی پھونکیں رکیں اور بولی اب دیکھیں ، آنکھ کو کھولیں ۔

کیسا محسوس کر رہے ہیں ابھی ؟

بہت بہتر یحیی نے مسکراتے ہوئے نور کی چوٹی کھینچی اور پھر کھول دی ۔۔

اچھا یہ بتاو کونسی کھاد ڈالتی ہو اپنے بالوں میں جو بال اتنے لمبے اور گھنے ہیں ؟! کہیں میرے کینووں کی کھاد تو نہیں چرا لی ہے ؟!

نور کھکھلائی اور بولی کھاد تو نہیں خیر البتہ سرسوں کا تیل ہفتے میں 2 بار جب بھی بےجی کے سر میں مالش کرتی ہوں تو ساتھ ہی اپنے بالوں میں بھی ڈال لیتی ہوں یا پھر پھپھو میرے لیئے کرتی ہیں ۔۔۔

یحیی نے محبت پاش نظروں سے نور کے بالوں کو بکھیرا اور بولا اب تو صحیح چڑیل لگ رہی ہو ۔

جی نہیں !! مجھے پتا ہے آپ مذاق کر رہے ہیں ورنہ میں تو آپکو بہت اچھی لگتی ہوں ۔۔۔ نور لاڈ سے اترائی ۔۔۔

جی بہت اچھی لگتی ہو ۔۔ یحیی نے آگے بڑھ کر نور کی پرنور پیشانی پر اپنی محبت کی مہر رقم کی ۔۔

ابھی جاو اور لے کر آو کیا دکھانا تھا؟!

ابھی لائی ۔۔

نور پرجوش ہو کر الماری سے ایک چھوٹی سی ڈبیہ نکالی اور یحیی کے پاس بیٹھ کر کھولنے لگی ۔۔

یحیی دیکھ کر حیران تھا ۔ پگلی یہ تو ٹوٹے ہوئے بٹن ہیں۔۔۔

جی مجھے پتا ہے اور یہ کس کے بٹن ہیں ؟

مردانہ بٹن ہی لگ رہے ہیں ۔۔۔

جی ہاں آپکا جواب بالکل درست ہے اور یہ بٹن ہمارے مرد واحد کی قمیضوں کے ہیں جن کو میں دھلائی اور استری کرتے ہوئے ٹوٹ کر گرنے پر اپنے پاس محفوظ کر لیتی تھی اور پھر ٹوٹے بٹن کی جگہ نیا بٹن ٹانک دیتی تھی ۔۔۔

تو تمھیں ان بٹنوں سے کیا فائدہ ملا ہے پگلی نہ ہو تو ؟!

میں روز رات کو انکو کھول کر دیکھتی ہوں اور ان میں آپکی خوشبو محسوس کرتی ہوں ۔۔۔

ادھر لاو اپنے ہاتھ ! نور نے فورا دونوں ہاتھ پھیلا دیئے ۔۔ یحیی نے دونوں ہاتھ پکڑ کر اپنی آنکھوں کے ساتھ لگا لیئے اور نور کو اپنے مضبوط حصار میں لے کر اسکے مرمری ہاتھوں پر اپنے لب رکھ دیئے ۔۔۔

دلہا جی میرے خیال میں 2 رکعات نفل ادا کر لئے جائیں ۔۔اور میں چاہتی ہوں کہ میں آپکی امامت میں یہ سنت پوری کروں ۔۔۔

ہاں چلو میں وضو کر کے ابھی آیا ۔۔۔۔ یحیی نے مسکرا کر واش روم کا رخ کیا ۔۔۔۔۔

##############################

روحہ نور جلدی کرو بھئی تم لوگوں نے تو ٹھیکہ ہی لے لیا ہے ، کیا آدھے محلے کو بھی ساتھ تیار کر رہی ہو ؟؟ یحیی نے کمرے میں جھانکتے ہوئے ہانک لگائی ۔۔ ہمیں 12 بجے جہلم پہنچنا ہے امی لوگ تو آدھا راستہ بھی طے کر چکے ہیں ۔۔۔۔۔

نور نے ہیئر سٹیٹنر سے روحہ کے بالوں کو سیدھا کرتے ہو ئے بولا بس 5 منٹ اور دے دیں ۔۔۔

یحیی سنو میں تو امی لوگوں کے ساتھ آوں گی کیونکہ ادھر گئے بھی کتنے دن بیت گئے ہیں اسی بہانے کچھ وقت انکے ساتھ گزار لوں گی ۔۔۔تم نور کو ساتھ لے جاو یہ تو بالکل تیار ہے اور مجھے مذید آدھا گھنٹہ درکار ہے تیار ہونے میں ۔۔

مجھے نہیں پتا تم دونوں آپس میں فیصلہ کر لو جو کرنا ہے میں نیچے گاڑی میں بیٹھا انتظار کر رہا ہوں ۔۔۔

نور جلدی سے اپنا برقعہ چادر لو میں نے امی کو فون کیا ہوا ہے وہ مجھے پک کر لیں گے ۔۔۔

اچھا چلو جیسے آپکی مرضی ۔۔

نور جیسے ہی اپنے کمرے میں برقعہ لینے آئی باہر کوریڈور میں یحیی کو فون پر کسی کے ساتھ مصروف پایا ۔۔ جلدی سے دروازے کی طرف بڑھی تو یحیی نے ہاتھ تھام لیا اور فون جیب میں ڈالتے ہوئے بولا ۔۔

یہ آج ہماری پینڈو سی بیوی اتنی خوبصورت کیوں لگ رہی ہے ؟ یا پھر میرے دماغ کا فتور ہے ۔۔

جناب آپ اپنی آنکھیں چیک کروائیں اور میں چلی اپنا برقعہ لینے ۔۔

لمبی گولڈ اور سلور ہلکے کام سے مزین فراک اور چوڑی دار پاجامے کے ساتھ میچنگ کھسہ اور لمبے بالوں کو کیچر میں ڈال کر قید کیئے ، آنکھوں میں کاجل کی دھار کے ساتھ نیچرل کلر کا لپ گلاس نور کے حسن کو اور ہی حسین بنا رہا تھا ۔۔

یہ پینڈو آپکے ساتھ جارہی ہے اور اب برائے مہربانی پیچھے ہٹیں مجھے دیر ہو رہی ہے۔۔

ہائے ظالم حسینہ کیسا گھاو دیا ہے کہ سنبھلنے بھی نہیں دیتی ہو ۔اب زیادہ پھیلنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔ 3 گھنٹے آپکا دماغ ہی چاٹوں گی ان شاءاللہ ۔۔۔

نور نے جلدی سے ہاتھ چلا کر اپنے اوپر شرعی لباس اوڑھا اور دو منٹ میں تیار ۔۔

ابھی چلیں ۔۔۔ ہائے اب چلنے کی کس ظالم میں سکت ہے ؟! کوئی نہیں گھبرائیں نہیں راستے میں ڈرپ لگوا لیں گے ۔۔۔

یحیی نے جاندار قہقہہ لگایا ۔۔ نور نے دروازہ کھول کر روحہ کو اپنے گھر سے نکلنے کی اطلاع دی اور سلام و دعا کا تبادلہ کیا ۔۔

گاڑی میں بیھٹتے ہی نور نے سفر کے مسنون اذکآر کئے اور ساتھ یحیی کو بھی تلقین کی ۔۔

گاڑی اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی کہ آدھے رستے میں یحیی نے گاڑی بائیں طرف موڑی ۔۔ جہاں پر وہ 6 مہینے پہلے نور کو شدید گرمی اور حبس میں تڑپنے کےلئے سنٹرل لاک لگا کر بند کر گیا تھا ۔۔

نور کچھ یاد آیا ہے ؟! جی بہت کچھ یاد ہے ۔۔ ابھی بند کرکے چھوڑ جاوءں تو ؟

اگر ابھی بند کیا تو آپکو 6 مہینے پہلے والے نتائج نہیں ملیں گے ۔۔۔ایک تو گرمی نہیں ہے اور دوسرا میرے پرس میں اس گاڑی کی دوسری چابی بھی موجود ہے ۔۔

یہ نہ ہو آپکو جہلم کسی ٹرک ڈرائیور کے ساتھ لٹک کر آنا پڑے اور میں گاڑی بھگا کر لے جاوءں ۔۔۔ ویسے بھی آپ جانتے ہیں میرا دماغ صرف ایک دفعہ کسی چیز کو دیکھ کر اسے محفوظ کر لینے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔۔

اور کتنے مہینوں سے آپکے ساتھ بیٹھ کر آپکی ڈرائیونگ کو دیکھ رہی ہوں اگر کوشش کروں تو سب کچھ ازبر ہو گا ان شاءاللہ ۔۔۔

اچھا اب زیادہ اترانے کی ضرورت نہیں ہے گاڑی سے نکلو ادھر سے ناشتہ کرتے ہیں جہاں پر 6 مہینے پہلے میں نے اکیلے چکن شاشلک اور ابلے چاول کھائے تھے۔۔۔۔

جی چلیں کنیز حاضر ہے ۔!!! آج نئی تاریخ مرتب کرتے ہیں ۔۔۔ نور یحیی نے ہنستے مسکراتے ناشتے سے فارغ ہو کر گاڑی میں آتے ہیں پرانی یادوں کو کھنگالنا شروع کر دیا ۔۔ جس پر دونوں کے قہقہے بلند ہو رہے تھے ۔۔۔

اتنا لمبا سفر باتوں باتوں میں بہت تیزی سے طے کر لیا جیسے ہی گاڑی کچے رستے کی طرف بڑھی تو نور کو پرانی یادوں نے آ لیا لیکن پھر منفی سوچوں کی تردید کرتے ہوئے خود کو سرزنش کی اور اللہ سبحان و تعالی کا شکر ادا کیا ۔۔۔

نور آج تو گاڑی درخت کے پاس پارک نہیں کرنی ہے ،پچھلی دفعہ بھی پرندے نے میری گاڑی کا حشر نشر کر دیا تھا ۔۔ویسے کتنے تخریب کار ہیں تمھارے گاوں کے پرندے؟!

تخریب کار نہیں ہیں میرے خیال میں ملنسار ہیں ۔۔ انہوں نے آپکے ساتھ گزرے وقت کو یادگار بنانے کی کوشش کی تھی ۔۔ نور کی ہنسی چھوٹی اگر پرندہ وہ سب کچھ نہ کرتا تو آج آپ اسکو یاد نہ کر رہے ہوتے ۔۔

ہاں یہ تو ہے یحیی نے بھی ہاں میں ہاں ملائی اور مسکرا دیا ۔۔۔

امی لوگ تو پہنچے ہوئے ہیں ، میں اپنی گاڑی انکی گاڑی کے پاس ہی لے جاتا ہوں۔۔۔

گھر کے اندر داخل ہوتے ہی تایا نے نور اور یحیی کا پرتپاک استقبال کیا، پھر یحیی نے بیٹھک کا رخ کیا اور نور برآمدے کی طرف بڑھ گئی ۔۔

سب لڑکیوں نے نور کو اپنی باہوں میں بینچ لیا اور بہت روئیں ۔۔

پھپھو نے اشارہ کیا کہ جا کر تائی سے بھی مل لو اندر کمرے میں ہے ۔۔ جی پھپھو میں بس ابھی جاتی ہوں ۔۔

کرن کے ہمراہ نور کمرے میں داخل ہوئی تو تائی کو دیکھ کر حیران رہ گئی، تائی کا چہرہ مکمل طور پر ٹیڑھا ہو چکا تھا ، نور کو دیکھتے ہی تائی نے ہاتھ جوڑ لیئے اور بولنے کی پر زور کوشش کی لیکن سوائے آ آ آ آ آ آ کے زبان سے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا ۔۔

نور اماں تم سے معافی مانگ رہی ہیں، انکو معاف کر دو ۔۔ تائی جی میں نے آپکو اللہ سبحان و تعالی کے لئے معاف کیا ، میرا رب آپکو شفا دے آمین ۔۔

تائی کے آنسو زار و قطار جاری تھے ، نور کا دل پسیج گیا اور سچے دل کے ساتھ دعا کی ۔۔۔

ماموں امجد کی ٹانگ انفیکشن کی وجہ سے کٹ گئی اور اب وہ کسی خیراتی ادارے میں رہائش پذیر تھا ۔۔۔۔۔

دونوں بد نیت بہن بھائی کو اللہ سبحان و تعالی نے انکے شر کی سزا دنیا میں ہی دی اور بے گناہ نور کو اسکے صبر کا بدلہ اسکی دعاوں سے بڑھ کر ملا ۔۔

“بیشک صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے “

کرن اور منیر وسیم جلال الدین کا نکاح سادگی سے انجام پایا ۔۔ سب خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے ۔۔ یحیی اور سفیر منیر وسیم جلال الدین کے لتے لے رہے تھے ۔

یار کوئی خطبہ وغیرہ تیار کیا ہے حالات حاضرہ پر، ملکی معیشت اور مہنگائی پر ؟! سفیر کی کھی کھی جاری تھی ۔۔ یحیی اس کو کوئی رمال دو تاکہ منہ پر رکھ لے ۔۔۔مجھے تو لگتا ہے اس نے دلہن کو تحفے میں یحیی کے ترشاوہ پھلوں پر لکھی گئی کتاب دینی ہے ۔۔۔جس میں بغیر بیچ کے کینو میں جوس کی مقدار اور باقی فوائد کے بارے میں تفصیلات ہونگی ۔۔۔ ۔۔تینوں دوستوں کے قہقہے بلند ہوئے ۔۔

سفیر میں آج دلہا ہوں ورنہ تیری تو میں درگت بنا دیتا ۔۔۔ سفیر تیری شادی پر اس سے بھی نایاب سپیروں پر کتاب لا کر دوں گا ان شاءاللہ ۔۔۔

منیر وسیم جلال الدین کی بات پر دونوں دوست محفوظ ہو رہے تھے ۔۔۔۔

##############################

5 سال بعد !!!!

یحیی سلطان کے آنگن میں موحد ،مومنہ اور صلاح الدین کی قلقاریاں اور شرارتیں عروج پر تھیں ۔۔ چھوٹی امی دیکھیں صلاح الدین نے میری کار کا ٹائر اتار دیا ہے ، موحد رو دینے کو تھا ۔۔۔ ۔۔۔

صلاح الدین بہت بری بات بیٹا آپ نے اپنے بھائی کے گاڑی کیوں توڑی ہے ؟ اگر وہ آپکی گاڑی توڑے تو آپکو اچھا نہیں لگے گا ۔۔

موحد میں آپکے بابا کو بولوں گی کہ آپکے لیئے نئی گاڑی لے آئیں ۔۔۔ نور نے چٹاخ چٹاخ موحد کے پھولے گالوں کے بوسے لے ڈالے۔۔۔

نور تمھارے اس بےجا لاڈ نے اس کو بگاڑ دینا ہے ۔ نہیں روحہ یہ نہیں بگڑے گا ان شاءاللہ ،ہر بات تو مانتا ہے فورا ۔۔ یہ تو چھوٹی امی کا لاڈلا ہے ۔۔۔ ۔۔

ابھی نئی سورہ کے حفظ پر چھوٹی امی ایک خوبصورت سا تحفہ لے کر دے گی ان شاءاللہ ۔

چھوٹی امی یییییییے ! موحد نے گلے میں باہیں ڈالتے ہوئے نور کا چہرہ چوم لیا ۔۔۔

صلاح الدین اور مومنہ بھی روحہ کی طرف بھاگے ۔

بڑی امی آپ ہمیں کیا لے کر دیں گی ؟؟

روحہ کا بیٹا موحد اور نور کے جڑواں صلاح الدین اور مومنہ ، ان سب کے نام نور نے اپنی پسند سے تجویز کئے تھے ۔۔۔

سب کو ایک جیسی چیزیں ملیں گی ۔۔۔

ابھی دونوں پھپھووں کی شادی خیر و عافیت سے ہو جائے پھر ان شاءاللہ ۔۔

نور کل جو میں گوٹا لائی ہوں تم ذرا شازمین رامین کے دوپٹوں پر ٹانک دینا ۔۔ اور باقی چیزوں کی لسٹ بھی بنا لینا تاکہ پھر کل جاکر دونوں لے آئیں گی ۔۔ جی ٹھیک ہے میں رات کو ان دونوں کو سلا کر سارا کر لوں گی ۔۔

ابھی یہ مقدمہ زیر بحث تھا کہ یحیی کی گاڑی آکر پورچ میں رکی ، تینوں بچوں نے دوڑ یں لگا دیں اور یحیی کی ٹانگوں کے ساتھ چپک گئے ۔۔۔

بابا بابا بابا کی آوازیں بلند ہوئیں ۔۔۔

اوہ یار ٹانگیں تو چھوڑو کم از کم چلنے کے قابل تو ہو جاوءں ۔۔

بابا صلاح الدین نے میری گاڑی توڑی ہے ۔ نہیں بابا موحد نے میرے ہاتھ سے کھنیچی ہے تو ٹوٹی ہے ۔۔

اچھا اچھا مجھے سب پتا چل چکا ہے ۔ ابھی ادھر آجاو سارے ، یحیی نے گھاس پر ہی چوکڑی مار لی اور تینوں کو گود میں بٹھا کر بوسے لیئے ۔۔۔۔۔۔۔

اب تینوں مجھے اجازت دو تاکہ میں اندر جاکر بےجی امی سے مل لوں ۔۔۔

نہیں بابا آپ نہیں جاسکتے!! کوئی کندھوں پر چڑھ رہا تھا تو دوسرا گود میں اچھل کود کر رہا تھا ۔۔ اوہ یار !!!!

نور اور روحہ یحیی کی اس حالت زار کو دیکھ کر مسکرائیں اور آگے بڑھ کر بچوں کو علیحدہ کیا ۔۔۔

بابا ابھی تھکے ہوئے ہیں انکو فریش ہونے دو پھر بعد میں آپکے ساتھ کھیلیں گے ۔۔ ۔۔

یحیی سلطان نے مسکرا کر اپنے اس گل و گلزار کو دیکھا جسکو سنوارنے میں نور بانو کا بہت بڑا ہاتھ تھا ۔۔۔۔

*******************************************

نور بانو کے صبر اور حکمت نے 3 گھروں کو قریب کیا ۔۔ دونوں پھپھیاں اور تایا کے آپس میں تعلقات بحال ہوگئے ، صلہ رحمی نے خون کے بچھڑوں کو آپس میں ملا دیا ۔۔۔۔

بے شک ایک دین دار عورت ہی گھر کو جنت بناتی ہے اور آنے والی نسلوں کو بہترین تربیت دے کر ملک و قوم کے لئے سپوت پروان چڑھاتی ہے ۔

نور بانو نے پورے اخلاص کے ساتھ یحیی کے ساتھ اپنی زندگی کا سفر شروع کیا اور ہر مشکل موڑ پر اس کا ساتھ دیا ، اسکی عزت کی پاسداری سے لے کر اسکے ہر اذیت ناک رویے کو برداشت کیا ۔۔ ۔۔

قرآن وسنت پہ عمل کرتے ہوئے اپنے رب کو اپنے دل کا حال سنایا اور گریہ زاری کی ۔۔ اپنے نفس کا جہاد کیا ، اپنی خواہشات کو دبا کر دوسروں کے لئے راہیں ہموار کیں ۔۔۔

بیشک جو لوگ دوسروں کی بھلائی چاہتے ہیں اللہ سبحان و تعالی انکو کبھی بھی خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا ۔۔۔

دنیا میں کسی بھی چیز کا حصول بنا قربانی دیے ممکن نہیں ہے ۔۔۔ جس شخص نے اپنے نفس پر قابو پاکر اپنے رب کی فرمانبداری کی اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر چلا بے شک وہی دنیا اور آخرت میں کامیاب ترین ہے ۔۔۔۔۔۔

“من ألايمان أن يحب لأخيه ما يحب لنفسه “

ایمان کی علامت ہے اپنے بھائی کے لئے وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے ۔۔۔

“لا يؤمن أحدكم حتى يحب لأخيه ما يحب لنفسه “(رواه البخاري:13 )

تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی کے لئے وہی نہ چاہے جو اپنے لیے چاہتا ہے ۔۔

یہ آہ و زاری کی برکھا یہ میرے اخلاص کی مٹھاس ہے

گھروندا ہے یہ میرا ! میرے سارے خوابوں کی بنیاد ہے

ختم شد ۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *