Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gharonda (Episode 05)

Gharonda by Umme Umair

وہ کمینگی دکھاتے ہوئے اس کے بازو کو پکڑ چکا تھا ۔۔۔

نور خوف سے تھر تھر کانپ رہی تھی اور چہرہ سفید پڑ چکا تھا لیکن ہمت کرکے بولی میں تائی جی کو بلاتی ہوں چھوڑیں مجھے ۔۔۔۔

ماموں چھوڑیں مجھے!!!!

نہ نہ نہ نہ تائی جی کو نا بتانا تم بہت جلد میری ہو گی ۔۔۔۔وہ اپنی ہوس زدہ نظریں نور پہ گاڑھے مسلسل ہنس رہا تھا ۔۔۔ جبکہ نور اپنی بے بسی پہ تڑپ کر رہ گئی ۔۔۔۔

جا رہا ہوں لاڈو گھبراتی کیوں ہے ؟!

جھٹکے سے بازو چھوڑ کر وہ رسوئی سے نکل گیا جبکہ نور بانو آنکھوں کی برکھا کو روک نہ پائی اور نیچے زمین پر بیٹھ کر سر گھنٹوں میں دے کر اپنی ہچکیوں کو روکنے کی بھر پور کوشش کر رہی تھی ۔۔۔

ایک دم سے سالن کے جلنے کی بو آئی تو برق رفتاری سے چہرے کو رگڑ ڈالا اس سے پہلے کہ تائی دوبارہ چھترول شروع کرے نور بانو نے اپنے غموں کو قرآنی آیات کے ورد سے تھپکا ۔۔۔

“بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے”(البقرہ:153)

جب سے نور بانو نے ہوش سنبھالا تائی کے بھائی کی ہوس زدہ نظروں کا شکار تھی ۔۔۔۔

نور کی پوری کوشش ہوتی کہ اسکے سامنے نہ جائے لیکن تائی کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے چائے پانی اور کھانا اسکے سامنے پیش کرنا پڑتا ۔۔۔۔

18 سالہ نور حالات کی ستائی ہوئی جسے تائی خاص طور پر برتنوں کی منجائی والے کالے بییٹا صابن سے نہانے کی اجازت دیتی تاکہ اس کی جوانی کا حسن نکھر کر سامنے نہ آئے ۔۔تائی کی برداشت سے باہر تھا کہ نور کرن سے زیادہ حسین لگے ۔۔۔ گھر کے شیمپو اور صابن تائی کے زیر نگرانی تھے ۔۔۔کریم لوشن کو بھی نور کی دسترس سے دور رکھا جاتا ۔۔۔۔

لیکن ہزار بار مار اور طرح طرح کے جتن کرنے کے باوجود نور کا قدرتی حسن سے مالا مال معصوم چہرہ بلا کی چمک لئے ، مخاطب کو پلک جھپکنے نہ دیتا ۔۔۔۔

*******************************************

یحیی نے فون دیکھا تو 20 مس کالیں ۔۔ یونی سے نکلتے ہوئے فون کو دیکھا تو حیرت ہوئی فورا کال بیک کی لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا ۔۔۔گاڑی میں بیٹھتے ہی کسی انہونی کا خیال ستائے جا رہا تھا ۔۔۔ تیز رفتاری سے گاڑی کو دوڑانا شروع کر دیا جیسے ہی اپنے گھر کے قریب پہنچا تو منظر دل۔دہلا دینے کے لئے کافی تھا ۔۔۔

جوق در جوق لوگ اور گاڑیوں کا تانتا بندھا تھا ۔۔۔

یحیی کے بابا چوہدری سلطان دل۔کا دورہ پڑنے سے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ۔۔۔۔

بے جی کی حالت غیر ہو رہی تھی بار بار غشی کے دورے ، بیٹے کی موت نے انکو نڈھال کر دیا ۔۔ یحیی کو بھی اس اچانک حادثے نے ہلا کر رکھ دیا لیکن گھر کا واحد مرد ہونے کی حیثیت سے اس نے تحمل کا مظاہرہ کیا اپنی ماں اور بہنوں کی ڈھارس کے ساتھ ساتھ بےجی کی دلجوئی میں لگ گیا ۔۔

کہتے ہیں وقت بہت بڑا مرہم ہوتا ہے بڑے سے بڑے گھاو بھی مندمل ہو جاتے ہیں ۔۔۔لیکن چوہدری سلطان کی بے پناہ محبت اور کڑے وقتوں میں ساتھ منزہ بیگم کو رات کے سناٹے میں رلاتا ۔۔۔بے کلی بڑتی تو بےجی کو دیکھ کر ہمت کرتیں اور مصلی بچھا کر خالق حقیقی سے راز و نیاز کرتیں ۔۔۔

امی آپ کیوں پریشان ہوتی ہیں میں ہوں نا آپ سب کےلئے ادھر ۔۔امی آپ خود کو سنبھالیں شازمین رامین کو آپکی ضرورت ہے ۔۔۔

میرے بچے میرے چاند یہ بہت بڑا گھاو ہے جو سلنے میں وقت لے گا ۔۔۔

امی نے گود میں سر رکھے یحیی کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے بولا ۔۔۔

تمھارے بابا نے بہت کڑے وقتوں میں میرا ساتھ نبھایا ہے جب میرے اپنے مجھے اندھے کنویں میں دھکیل رہے تھے ۔۔۔

جب میرا بیاہ ایک چرسی افیمی سے ہوتے ہوتے رہ گیا ۔۔

میری بڑی بھابھی تمھاری مامی نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا لیکن اللہ بخشے میرے چھوٹے بھائی بھابھی کو جنھوں نے بروقت مصلحت سے کام لیتے ہوئے تمھارے بابا سے نکاح کروا دیا ۔۔۔

پتا نہیں اس معصوم کا کیا حال ہو گا ؟! رقم تو میں ہر مہینے معقول بھیجتی ہوں ۔۔۔

امی اپنے خیالوں میں کھوئی بولے جارہیں تھیں جبکہ یحیی کےلئے بہت حیران کن بات تھی کہ امی نے پہلے کبھی بھی نھنھیال کا ذکر نہیں کیا ۔۔اور آج اچانک کتنے رازوں سے پردہ اٹھا رہی ہیں ۔۔۔

سفیر وسیم ہر دوسرے دن یحیی کے گھر کے چکر کاٹ رہے تھے ۔۔۔

یحیی تو جیسے ایک مختلف شخصیت بن چکا تھا ۔۔۔

بات بات پر طنز و مزاح کرنے والا ایک سنجیدہ مزاج اور ذمہ دار مرد بن چکا تھا ۔۔۔۔۔

بہنوں کو زچ کرنے والا انکے تیار ہونے سے پہلے گاڑی میں انتظار کر نے لگا ۔۔۔مربعوں سے لے کر گھر کا انتظام چلانے میں پیش پیش ،معاملہ فہم باپ کا ہونہار بیٹا زندگی کے تلخ تجربات سے گزر رہا تھا ۔۔۔

ساری لا ابالیاں تو کہیں پیچھے رہ گئیں ۔۔۔

یونی میں بھی صرف پڑھائی اور ضرورت سے زیادہ بات چیت ترک کر دی ۔۔۔

سفیر نے کلاس سے باہر نکلتے ہوئے پوچھا کیا خیال ہے یحیی تھوڑی دیر گپ شپ نہ کر لیں ؟!

ہاں ہاں چلو تھوڑی دیر گاڑی میں ہی بیٹھتے ہیں ۔۔۔

کیا سوچا ہے تم نے پڑھائی کے بعد کیا کرو گے ؟!

یحیی اپنی سوچوں میں گم صرف ” ہوں ” بول پایا ۔۔

پھر سر جھٹک کر یار کرنا کیا ہے ؟!

باپ دادا کی زمیین اور جو کاروبار بابا کا تھا اسکو مذید آگے لے کر جاوں گا ۔۔۔۔

اور روحہ ؟؟؟ سفیر کہتے کہتے رک گیا ۔۔۔

روحہ سے شادی کروں گا بس امتحانات ختم ہوجائیں پھر اسکے فورا بعد امی اور بےجی کو اس کے گھر بھیجون گا رشتے کے لئے ۔۔۔

یار یحیی توں کتنی سنجیدگی سے یہ ساری باتیں کر رہا ہے ۔۔ تو تو وہ پرانے والا یحیی رہا ہی نہیں ہے ۔۔۔

بس یار زندگی کے اتار چڑھاؤ انسان کو وقت اور ضرورت کے مطابق تراشتے ہیں ۔۔۔

کچھ تو اس تراش خراش میں ہی دم توڑ جاتے ہیں اور کچھ جینے کا نیا عزم لے کر آگے بڑھتے ہیں ۔۔۔

اور توں کس قسم میں شامل ہے ؟؟؟

یار میرے اوپر دو چھوٹی بہنوں کی ذمہ داری ہے اور ساتھ بوڑھی دادی اور ماں بھی ہیں تو ظاہری بات ہے میں اب ایک عزم کو ہی آگے لے کر بڑھوں گا ۔۔۔۔۔۔

چل یار اللہ تجھے کامیابیوں سے نوازے آمین ۔۔۔۔

میرے لائق کوئی خدمت ہوتو ضرور بتانا ۔۔

ہاں ایک خدمت چاہیئے ۔ وہ کیا ؟؟! سفیر نے سنجیدگی سے پوچھا ۔۔۔

تو روز میرے سر کی مالش کیا کر !!!

سفیر کا فلک گیر قہقہہ بلند ہوا۔۔۔ اور بولا ۔۔

شکر ہے یار ہم سب تو تیرے ان چٹکلوں کے لئے ترس گئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔

*******************************************

کرن چلو آو “یسو پنجو” کھیلتے ہیں میں سارا کام ختم کر آئی ہوں ۔۔ تائی جی سونے کےلئے چلی گئیں ہیں ۔۔۔اورتایا جی کو کھانا بھی دے دیا ہے ۔۔۔

نور نے بہت احتیاط سے دروازہ بند کیا اور سرگوشی والے انداز میں کرن سے التجا کی ۔۔۔

نور بانو تو کیسی لڑکی ہے سارا دن گدھے کی طرح کام میں جتی رہتی ہے اوپر سے اماں کی مار اور طرح طرح کے طعنے اور شام کو تو پھر اتنی آسودہ حال کیسے ہوتی ہے؟؟؟!!!

کرن متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکی ۔۔۔

اور پھر رات کر پڑھائی بھی کرتی ہے ۔۔۔

تیرے چہرے کی چمک ایسی ہے کہ کسی ریاست کی شہزادی لگتی ہے میری بہن ماشااللہ تبارک اللہ ۔۔۔

نور بانو مسلسل مسکرا رہی تھی اور بولی میری پیاری کزن یہ آسودگی میرے رب کی رحمت سے ہے ۔ وہ رب جو مجھے سجدوں کے ساتھ جوڑتا ہے ،مجھے میری روح کی غذا میسر ہے ۔الحمداللہ ۔۔۔

اچھا اب وقت ضائع نہ کرو بلاو دونوں چھوٹیوں کو آدھا گھنٹہ کھیل لیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔

کرن کمرے سے باہر نکلی تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *