Gharonda by Umme Umair NovelR50654 Gharonda (Episode 08,09)
Rate this Novel
Gharonda (Episode 08,09)
Gharonda by Umme Umair
تایا جی آپ نے بلایا تھا مجھے؟کچھ چاہیئے تھے؟میں ابھی لا دیتی ہوں ۔۔۔
ارے نہیں نہیں کچھ نہیں چاہئیے تھا۔۔
وہ تیری پھپھو کا فون آیا تھا وہ آنا چاہ رہی ہیں اور تجھے اپنے ساتھ لے جانا چاہتی ہیں ۔۔۔
نور گردن جھکائے خوف کے مارے صرف سر کو ہلا پائی ۔۔۔ ابھی زبان کھولنے کا سوچا ہی تھا کہ تائی نے آگ برسانا شروع کر دی ۔۔۔
یہ کہیں نہیں جائے گی !!!!!
18 سال سے ہم نے پالا پوسا اور اب پھپھی صاحبہ ملکیت جگا رہی ہیں ۔۔۔
ویسے بھی میں نے اس کا نکاح امجد کے ساتھ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔۔۔
نور کا تو دماغ گھوم کر رہ گیا ایسے لگ رہا تھا کہ کمرے کی چھت اس پر آن گری ہے ۔۔۔۔شدت غم سے کان سائیں سائیں کرنے لگے ۔۔۔۔
دیکھو بیگم پوری زندگی تم نے اپنی چلائی ہے لیکن اب جب تک میری زندگی ہے میں یہ کبھی نہیں ہونے دوں گا ۔۔۔۔ یہ میرا آخری فیصلہ ہے ۔۔۔۔
امجد ابھی دبئی سے جیل کاٹ کر آ رہا ہے اور میں ایسے مجرم کو اپنی پھول سی بھتیجی سونپ دوں ۔۔
تم نہیں جانتی اس کے کرتوت؟؟؟ کیا کیا گل کھلائے ہیں تمھارے چہتے بھائی نے دوبئی میں ؟؟
تائی کی شعلے برساتی آنکھیں نور کو جھلسانے کےلئے کافی تھیں ۔۔۔
تھر تھر کانپتی نور کبھی تایا کو تو کبھی تائی کو دیکھتی ۔۔۔۔۔۔
آئے ہائے آج یہ بھی دن دیکھنا تھا اس 2 ٹکے کی لڑکی کے پیچھے بیوی کی بات کوئی وقعت ہی نہیں رکھتی؟! بیوی تو صرف سر درد لینے کےلئے ہے سارا دن ہر ایک کی خدمت گزاریوں میں لگی رہے ۔ ہائے سر چٹا کر لیا ہے اس گھر گھرستی کی وجہ سے اور آج یہ دن بھی آنا تھا میرے مولا ۔۔۔
سکندر آپ نے تو مجھے بہت “ہولا” کر دیا ہے ۔۔۔
تائی کی ڈرامہ بازیاں عروج پر تھیں ۔۔۔۔
اب تو ہلکی ہلکی سینہ کوبی اور مگر مچھ کے آنسو بھی گرنا شروع ہو چکے تھے ۔۔۔
نور نے عافیت اسی میں جانی کے تائی کی نظروں سے جتنا دور رہا جائے اتنا ہی بہتر ہے ورنہ مذید کچوکوں کا ملنا لازمی تھا ۔۔۔
تایا بھی اپنی بات پوری کر کے باہر نکل چکے تھے ۔۔۔
نور نے گوری کو چارے سے پہلے نہلانے کا سوچ کر باڑے کا رخ کیا ۔۔۔ موٹر کے ساتھ لگے پائپ کو کھینچ کر پہلے سیدھا کیا اور پھر پانی کا پریشر دیکھ کر اپنی پسندیدہ بھینس گوری کو حوض کی طرف لے جا کر نہلایا ۔۔۔ پھر اسکو دوبارہ اسکی مخصوص جگہ پر باندھا اور کھرلی میں چارے کو دیکھا ۔۔۔
آدھے سے زیادہ تو گوری کھا چکی تھی ۔۔۔
سوچا مشین پر “برسن ” کی کترائی کر لی جائے اور گوری کو عیش کروائی جائے ۔۔۔
رات کو دودھ بھی تو دھونا تھا تو اچھا ہے پیٹ بھر کر کھا لے۔۔۔۔۔
*******************************************
اوئے امجد فون تو اٹھا لیا کر جلدی، ادھر میری جان پر بنی ہوئی ہے اور تو ادھر نیند کے مزے لوٹ رہا ہے ۔۔۔۔۔
ایک سانس میں تائی امجد کے لتے لے رہیں تھیں ۔۔۔
آپا تھوڑا سانس لیں!!! ہتھ ہولا رکھیں!!!
کیا ہو گیا ہے؟؟
کل تو بمع مولوی صبح 10 بجے میرے دروازے پر ہو ورنہ پوری عمر اپنی اس کھوٹھڑی میں سڑتے رہنا ۔۔۔۔۔
پھپھی صاحبہ اپنی بھتیجی کو لے اڑنے کا ارادہ باندھ کر آرہی ہیں ۔۔۔۔لڑکی بھی جائے گی اور جائیداد بھی ۔۔
اور تم۔ادھر بیٹھ کر سوٹے لگاتے رہنا ۔۔۔
امجد ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھ گیا ۔۔۔
آپا جب تک امجد زندہ ہے نور بانو کہیں نہیں جا سکتی ۔۔۔۔
آپا کہتی ہے تو ابھی آجاتا ہوں ۔۔۔
نہ نہ نہ زیادہ ہیرو نہ بن !!!
رات کو سکندر کے دماغ کو ٹھنڈا کرنا ہے ۔۔۔
مجھے سوچنے دے کچھ ۔۔۔
صبح 10 بجے تک تیری اور مولوی کی آمد تک حالات سازگار کر لوں گی ۔۔۔۔
اور ہاں اپنا حلیہ درست کر کے آنا ۔
آپا تو فکر ہی نہ کر !!!تیرا بھائی تجھے کبھی زیر نہیں ہونے دے گا ۔۔۔
ہاں ہاں جیسے پہلے بڑے تیر مار کر آیا ہے تو ۔۔
ہڈ حرام میں ہی ہوں جو تیرے عیبوں کو چھپائے پھرتی ہوں ورنہ تجھے تو کوئی منہ نہ لگائے ۔۔۔
کیوں ہلکان ہوتی ہے آپا؟؟؟
میں ہوں نا تیرا بھائی تیرا مان ادھر رکھنے کے لئے ۔۔۔
مسکے نہ لگا !!! میں ادھر اتنی گرمی میں باہر کھڑی تجھے فون کرنے آئی تھی ۔۔ جا رہی ہوں اندر اب ۔۔۔
مجھے تو مچھر نے کاٹ کھایا ہے ۔۔۔۔
اب جیسے بتایا ہے ویسے ہی کرنا ہے سمجھے تم !!!
چھن سے نور بانو کے اندر بہت کچھ ٹوٹ گیا ۔۔
تائی جی کی ساری گفت و شنید نور بانو واضح طور پر سن چکی تھی ۔۔۔
ایسے لگ رہا تھا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے ہی رہے گا۔۔۔ گلے میں کانٹے چبھ رہے تھے ۔۔
تائی جی رات کے اندھیرے اور اپنی بے دھیانی میں شاید بھول گئیں تھیں کہ یہ کھڑکی نور بانو کے کمرے کی ہے ۔۔۔
جس میں ایک بھان کی چارپائی اور گھسا پھٹا بستر اور اسکے چند جوڑوں کی گھٹھڑی ،جائے نماز، کتابیں اور قرآن جوکہ وہ تائی کے کیلولے کے وقت اور رات کے سکوت میں اپنے سینے میں اتارتی تھی ۔۔۔
نور کے لمبے سجدے اور لمبی دعائیں زور پکڑ چکی تھیں ۔۔
میرے مالک تو جانتا ہے وہ شخص میرے قابل نہیں ہے، میرے مالک مجھے اپنی رحمت سے نواز ،میری اس آزمائش کو آسان کر ،بے شک تو ہی مسبب الاسباب ہے !!!
رو رو کر نور کا برا حال ہوچکا تھا ۔۔
میرے مالک مجھے حوصلہ اور ہمت عطا کر اور آنے والی آزمائشوں کو آسان کر !!
میرے رب تجھے تیرے ناموں کا واسطہ میری دعاوں کو قبول فرما۔ کوئی نیکی جو میں نے خالص تیرے لئیے کی ہو اسی کے بدلے میں میری دعاوں کو قبول فرما۔۔۔۔۔۔ آمین یا رب العالمین
باقی گھر کے مکین اے-سی کی ٹھنڈک میں سوتے جبکہ نور بانو رسوئی کے ساتھ بنے سٹور میں اپنے نصیب کے لکھے کو کبھی آنسوؤں میں بہاتی تو کبھی لمبی لمبی دعاوں میں گڑگڑاتی ۔۔۔
دس سال پرانا پنکھا جس کی رفتار اگر بڑھا دی جائے تو 2 منٹ نہ لگائے نیچے گرنے میں ۔۔
وہ سست رفتار پنکھا “دستی” پنکھے کا کام سر انجام دے رہا تھا ۔۔۔۔
نور بانو کی یتیمی کا منہ بولتا ثبوت ، لیکن اللہ نے نور بانو کے سینے کو ایمان کے نور سے منور کیا ہوا تھا جو کبھی بھی اسکو ڈگمگانے نہ دیتا ۔۔۔
اسکی ہچکولے کھاتی زندگی کبھی کسی بھنور میں جا پھنستی تو کبھی کسی چٹان سے جا ٹکراتی،
لیکن اللہ سبحان و تعالی کے اوپر کامل ایمان کی چھاؤں اسے چلچلاتی دھوپ میں بھی سایہ دار درخت کی طرح اپنے سائے میں لے لیتی ۔۔۔۔
##############################
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ و برکتہ جی بھائی جان ہم گھر سے نکل چکے ہیں ۔ میں اور بےجی آرہے ہیں ڈرائیور کے ساتھ ۔۔۔
تین ساڑھے تین گھنٹوں میں پہنچ آئیں گے ان شاءاللہ ۔۔۔۔
بھائی جان آپ بالکل بے فکر ہو جائیں آپ جیسا مناسب سمجھتے ہیں ویسا ہی ہوگا ۔۔۔۔
خیریت ہے بہو ؟؟
منزہ بیگم نے لمبا سانس کھینچا اور پھر بولیں ،
بے جی مجھے امید ہے آپ مجھے مایوس نہیں کریں گی ۔۔
ارے کیا پہلیاں بھجوائے جا رہی ہو ؟؟ صاف صاف بولو ۔۔
بے جی آپ نے یحیی سے بات کرنی ہے اور اسے سمجھا بجھا کر ابھی بلانا ہے اور اسے بولنا ہے کہ ابھی گھر سے نکلے ورنہ بہت دیر ہوجائے گی ۔۔
میں جس ارادے سے گھر سے نکلی تھی وہ ارادہ بدلنا پڑ رہا ہے ۔۔۔
بھائی جان باہر فجر پڑھنے کے لئے نکلے تھے اور مجھے کل کے حالات سے آگاہ کیا ہے کہ گھر میں میری آمد پر بھابھی صاحبہ نے کیا کیا گل افشانیاں کی ہیں ۔۔۔
سکندر بھائی نے مجھے بھابھی کے نئے منصوبوں کے بارے میں بتا دیا ہے ۔۔۔
وہ میری اس بھتیجی کو اس نشئی کے ساتھ باندھ رہی ہے ۔۔۔
بےجی میں نے آپ لوگوں کے ساتھ ہر وعدے کا پاس رکھا ہے ۔۔ پوری عمر آپکے بیٹے کی فرمانبداری میں گزاری ہے ۔۔۔
لیکن اب میں یہ برداشت نہیں کر پاوں گی کہ میری یتیم بھتیجی اس طرح میری آنکھوں کے سامنے کسی ذلیل شخص کے ساتھ رخصت ہو ۔۔۔
بےجی آپ خاموش کیوں ہیں؟؟
کچھ تو بولیں اللہ کا واسطہ ہے میرا کلیجہ منہ کو آرہا ہے ۔۔۔
میں یہ برداشت نہیں کر پاوں گی ۔۔
آپ مجھے اجازت دیں میں اسے اپنے یحیی کے لئے لے آؤں آج اور اسی دن ۔۔۔۔ورنہ بہت دیر ہوجائے گی ۔۔۔
بےجی مجھے پوری امید ہے کہ آپ میرا بھرپور ساتھ دیں گی ۔۔۔۔
بےجی نے خاموشی کو توڑا اور پھر بولیں ۔۔
بہو بیگم تم تو ہتھیلی پہ سرسوں جمانے چل پڑیں!!
بےجی میرے پاس وقت نہیں ہے میں مجبور ہوں ۔۔۔
چلو ٹھیک ہے ملاو فون میں بات کرتی ہوں یحیی سے ۔۔۔
السلام و علیکم!! یحیی میرا پتر دوبارہ بستر میں چلا گیا ہے ؟!
جی بےجی ابھی اتنی جلدی اٹھ کر کیا کرنا ہے 2 گھنٹے کے بعد ورزش کےلئے نکلوں گا ۔۔۔
آپ نے فون کیوں کیا ابھی تو گھر سے نکلے ہیں آپ سب۔۔۔
پتر جیسے تمھاری ماں بولے تم نے اس کا کہنا ماننا ہے ۔۔
سب خیریت ہے بےجی؟؟؟
سب خیریت ہے پتر بس اپنی ماں کی نافرمانی نہ کرنا وہ ابھی ایک بڑی مشکل میں مبتلا ہے ۔۔۔
ڈرائیور ابھی تمہیں سارا اتا پتا بھیج دے گا تم نے فورا گھر سے نکلنا ہے تمھیں ہم سب اسی جگہ پر ملیں گے ۔۔
تمھاری ماں سب کچھ تفصیل سے بتا دے گی ۔۔۔
بےجی یہ سب کیا ہو رہا ہے؟! یحیی زچ ہو رہا تھا ۔۔
امی نے پہلے بھی میرے پوچھنے پر ٹال مٹول کر دیا تھا ۔۔۔
وقت بہت کم ہے پتر بس گھر سے تیار ہوکر فورا نکلو۔۔۔ گاڑی احتیاط سے چلانا پتر !!!
شازمین رامین کے پاس چوکیدار کی بیوی آجائے گی اور ہم نے کونسا ادھر رات گزارنی ہے ۔۔۔
بس نکاح اور رخصتی بھی ساتھ ہی ان شاءاللہ ۔۔
بےجی کس کا نکاح؟؟؟؟
تمھارا نکاح تمھاری ماموں زاد نور بانو سے پتر ۔۔۔۔۔۔۔
Episode 9
بس نکاح اور رخصتی بھی ساتھ ہی ان شاءاللہ ۔۔۔
بےجی کس کا نکاح؟؟؟
تمھارا نکاح تمھاری ماموں زاد نور بانو سے پتر ۔۔
یحیی کا تو دماغ گھوم کر رہ گیا لیکن تحمل کے ساتھ بولا بےجی فون امی جی کو دیں ۔۔۔
السلام و علیکم!!امی بےجی کیا بول رہی ہیں؟!
جو آپکی بےجی نے بولا ہے وہ۔آپ نے بالکل درست سنا ہے ۔۔۔
امی یہ کوئی مذاق ہے بھلا؟!
یا کوئی گڈی گڈے کا کھیل ہے ؟!
یوں اچانک نکاح ۔۔۔۔
ایسا ہوتا ہے کیا ؟!
یہ زندگی بھر کا ساتھ ہوتا ہے اور آپ نے بنا میرے پوچھے بنا بتائے اتنا بڑا فیصلہ اکیلے ہی کر لیا ہے ۔۔۔
امی جی مجھے اتنے کڑے امتحان میں نہ ڈالیں پلیز ۔۔۔
میں یہ نہیں کر پاوں گا ۔۔۔۔
منزہ بیگم خاموشی سے بیٹے کو سن رہی تھیں ۔۔۔۔۔
وہ چاہتیں تھیں کہ وہ بولے اور کھل کر بولے تاکہ وہ اپنی بات واضح کر دیں ۔۔۔۔۔
میں نے اس لڑکی کو نہ دیکھا اور نہ اتا پتا ہے کہ کس قسم کی لڑکی ہے وہ ؟!!!
یحیی تمھیں دیکھنے کا پورا حق ہے ۔۔ نکاح سے پہلے میں خود تمھیں دکھاؤں گی لڑکی ۔۔۔
اور اگر مجھے نہ پسند آ ئ تو ؟؟
تو بھی تمھارا نکاح اسی سے ہو گا ۔۔۔
امی آپ میری بات کو کیوں نہیں سمجھ رہیں ہیں؟؟
یحیی کا جی چاہا دیوار کو ٹکر مار لے یہاں تو کچھ بن نہیں پا رہا ہے لیکن پھر بھی ادب کے دائرے میں رہ کر ۔۔ دیکھیں امی اگر آپ اس لڑکی کو گھر لانا چاہتی ہیں تو بے شک لے آئیں ۔۔۔
میرے کتنے جاننے والے دوست احباب ہیں ۔۔ میں کسی اچھے شخص سے آپکی بھتیجی کا رشتہ کروا دوں گا ۔۔۔
لیکن خدارا مجھے معاف کریں امی جی ۔۔۔
یحیی میں اب دوبارہ اپنی یتیم بھتیجی کو کسی ایرے غیرے کے حوالے نہیں کروں گی ۔۔۔
میں چاہتی ہوں وہ میرے گھر میری آنکھوں کے سامنے رہے بس ۔۔۔۔
اور اسکا صرف ایک حل ہے کہ اس کا نکاح تمھارے ساتھ ہو ۔۔۔۔
امی میں کسی اور سے شادی کرنا چاہتا ہوں میں آپ سے بات کرنے کا سوچ رہا تھا لیکن آپ نے موقع ہی نہیں دیا اور آپ اب یہ سب مجھے بتا رہی ہیں ۔۔۔
میں مزید کوئی سوال جواب نہیں سننا چاہتی تم ابھی تیار ہو کر مطلوبہ پتے پر پہنچو ورنہ ہم۔واپس آرہے ہیں تمھیں گھر سے لینے کےلئے ۔۔۔۔
امی پلیز ایسا نہ کریں ۔۔۔۔
دیکھو یحیی میں نے زندگی میں پہلی بار تم سے کچھ مانگا ہے مجھے خالی ہاتھ نہ لوٹاو ۔۔۔۔۔۔
مجھے مایوس نہ کرنا یحیی ۔۔۔اسے میرا حکم سمجھو اور فورا گھر سے نکلو ۔۔۔۔
اور گھر سے نکلنے کے فورا بعد مجھ سے رابطہ کرو ۔۔۔
منزہ بیگم نے بات ختم کر کے سیل واپس پرس میں ڈال دیا ۔۔۔۔
یحیی شدید غصے میں سیل کو بیڈ پر پٹخ کر خود نیچے فرش پر اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا ۔۔۔
ایک طرف روحہ کی روشن آنکھیں اور معصوم چہرہ تو دوسری طرف ماں اور دادی ، عجیب کشمکش نے اسکے دل و دماغ کو بے چین و بے سکون کر کے رکھ دیا ۔۔۔
اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ زندگی میں ایسا موڑ بھی آئےگا جو اسکو بیڑیوں کی طرح جکڑ لے گا ۔۔۔۔ جتنا سوچ رہا تھا اتنا ہی اس کا دماغ ماوف ہو رہا تھا ۔۔۔
جی چاہا کمرے کی ہر چیز تہس نہس کر دے ۔۔۔بھوری آنکھیں غصے سے لال ہو رہی تھیں ۔۔۔غصہ کم کرنے کےلئے کمرے میں پڑے جگ سے پانی انڈیلنے کے بجائے جگ کو ہی منہ سے لگا لیا ۔۔۔۔
غٹا غٹ آدھا جگ خالی کر دیا ۔۔۔۔۔۔
پھر کچھ دیر سوچ کر الماری سے کپڑے نکالے اور شاور میں گھس گیا ۔۔۔۔
ابھی شاور لے کر نکلا ہی تھا کے فون نے پھر چنگاڑنا شروع کر دیا ۔۔۔۔
پھر امی ۔۔۔ یااللہ کس جرم کی سزا مل رہی ہے ۔۔۔۔
سیل کان سے لگایا ۔۔ جی امی ۔۔۔
تم ابھی نکلے نہیں ہو گھر سے ؟؟؟
نہیں میں شاور میں تھا ۔۔۔
جہلم کا پتا ہے نا تمھیں ؟!
جی ایک دو بار گیا ہوں وہاں پہ ۔۔۔
چلو شاباش جلدی کرو اور اللہ کو یاد کر کے گھر سے نکلو ۔۔۔
یحیی نے جواب دئے بغیر فون بند کر دیا ۔۔۔۔
*******************************************
بانو اے بانو لسی تیار ہوئی ہے ؟؟!
نہیں تائی جی کچھ دیر ہے ابھی برف ڈال کر مکھن نکالتی ہوں ۔۔۔ اچھا چل لسی کے بعد باقی کاموں کی تو فکر نہ کر میں سنبھال لوں گی تو ذرا نہا دھو لے ۔۔۔۔۔۔
نور تو تائی کے اتنے شیریں انداز بیان پر حیران ہو کر رہ گئی ۔۔۔۔نور کے اندر خطرے کی گھنٹیاں بجنا شروع ہو گئیں ۔۔۔
کرن ادھر آ ذرا ۔۔۔ جی اماں !
وہ تیرا گلابی والا سوٹ ہے نا جو میں نے تجھے عید پر دلایا تھا ۔۔وہ جلدی سے بانو کو استری کر کے دے ۔۔۔۔
اور اسکے ہاتھ پاؤں پر بیسن ہلدی کا لیپ لگا اور اسکو ہلکا ہلکا مل ۔
اور خوشبو دار صابن شیمپو دے اسے بلکہ وہ گلابی والا “لکس” یا “ریکسونا ” میری پیٹی میں پڑا ہے وہ لا کر دے ۔۔۔۔
کیوں اماں سب خیریت ہے؟؟
ہاں ہاں سب خیر ہے آج اسکا نکاح ہے تیرے ماموں امجد کے ساتھ، تائی کے چہرے سے خوشی نمایاں ہو رہی تھی ۔۔۔
کرن نے خارجی دروازے سے داخل ہوتے ابا کو دیکھا جنھوں نے آنکھ سے اشارہ کیا ۔۔۔
جیسے اماں کہہ رہی ہے ویسے ہی کرو۔۔۔۔
کرن نے نا سمجھی والے انداز میں سر کو جھٹکا اور صندوق سے کپڑے نکالنے چلی گئی ۔۔۔۔۔۔۔
تائی جی “ستو” پئین گی یا “ادھ رڑکا”(لسی مکھن سمیت )۔۔
نور نے آنکھوں میں آنے والی نمی کو حلق میں اتارتے ہوئے پوچھا ۔۔۔
ارے چل۔ہٹ تجھے بولا ہے جا جا کر نہا دھو تیار ہو ۔۔۔
تیری شادی ہے آج ، میں سب کر لوں گی خود ہی ۔۔۔
جی اچھا بول کر نور صندوقوں والے کمرے میں کرن کی پیروی میں چلی گئی ۔۔۔کمرے میں داخل ہوتے ہی فرش پر بیٹھ کر دبی آواز میں رونا شروع کر دیا ۔۔۔
ارے پگلی پریشان کیوں ہوتی ہے؟؟؟
ایک ایک بات کی خبر دی ہے ابا کو میں نے ۔۔
اللہ نے چاہا تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ان شاءاللہ ۔۔۔
ابا چاہے اماں سے ڈرتے ہیں لیکن وہ کبھی بھی تجھے ماموں امجد کے ساتھ رخصت نہیں کریں گے ۔۔۔
ہاں وہ تو میں نے کل خود سنا تھا تایا جی کو کہتے ہوئے ۔۔ نور نے ڈبڈائی آواز میں بولا اور بھیگی آنکھوں کو دوپٹے کے پلو سے رگڑ ڈالا ۔۔۔۔
تو تو مجھے ہمت دلاتی تھی نور اور آج یوں خود اتنی کمزور پڑتی جا رہی ہے ۔۔۔
حوصلہ کر میری بہن !!!
میرے دل۔میں بہت گھٹن ہو رہی ہے ایسے لگ رہا ہے کہ ابھی الٹی نکل جائے گی ۔۔۔۔۔۔۔
اور پیٹ میں بھی مروڑ اٹھ رہے ہیں ۔۔۔
یہ سب پریشانی کی وجہ سے ہو رہا ہے ، ابھی کچھ ٹھنڈا پی بلکہ تازہ لسی سینے کی گرمائش کو دور کر دے گی ایک دم ۔۔۔
میں ابھی کٹورے میں لاتی ہوں ۔۔۔۔
آٹھ شاباش ! ہمت کر میری شہزادی !
تم نے دیکھا نہیں ہے جب ابا نے مجھے اشارہ کیا تھا تو اسکا مطلب ہے یقینا کچھ اچھی خبر ہی ہو گی ان شاءاللہ ۔۔۔
میں ابھی لسی لاتی ہوں ۔۔
نہیں کرن رہنے دو میرا ابھی جی نہیں چاہ رہا بعد میں پی لوں گی ۔۔
اچھا چلو پھر ہلدی بیسن کا لیپ لگاوں ویسے تمھیں ضرورت تو نہیں ہے اسکی، لیکن اماں نے بولا ہے تو کرنا تو پڑے گا۔۔۔۔
ادھر آ جاو “کھرے ” کی طرف چلتے ہیں (وہ جگہ جہاں پر پانی کا نلکا ہوتا ہے اور یہ جگہ سیمنٹ سے پکی بنائی جاتی ہے)۔۔۔۔۔۔
بے کل بےچین دل کے ساتھ کرن نور کو لیپ لگانے میں مصروف ہو گئی لیکن اندر سے کرن کو بھی شدید خطرے کی بو آرہی تھی ۔۔۔۔
دونوں باتوں میں اتنی مشغول تھیں کہ وقت کا پتا ہی نہ چلا ۔۔۔
گڈی شانی دوڑتی ہوئی آئیں ۔۔۔ باجی باجی ہمارے گھر کے باہر اتنی بڑی گاڑی آئی ہے اور ابا ان سے مل رہے ہیں ۔۔۔
کرن کے چلتے ہاتھ رک گئے اور منہ حیرت سے کھل گیا وہی حال نور بانو کا بھی تھا ۔۔۔۔
تم دونوں کو پتا ہے کون آیا ہے ؟؟؟ نہیں!!!
تو پھر دونوں جاوء اور پتا کر کے آو ۔۔۔
نہیں باجی ابا نے بولا ہے کہ اندر جاو ادھر نہیں آنا ہے ۔۔۔
ابا مہمانوں کو بیٹھک میں بٹھا رہے ہیں ۔۔۔
کون ہو سکتا ہے پھر ؟! کرن اور نور اپنی قیاس آرائیاں کر رہیں تھیں ۔۔ آخر میں کرن بولی
لگتا ہے پھپھی جان آگئیں ہیں ۔۔۔
نور تو فورا غسل خانے میں جا میں تجھے موٹر والا پائپ پکڑاتی ہوں تاکہ تیری یہ ناگن جیسی چوٹی جلدی دھل جائے ۔۔۔۔
خوب اچھی طرح سے شیمپو لگا کر کھلے پانی سے آج دن کی روشنی میں نہا پیاری !!!
شانی تم نے موٹر کا بٹن آف کرنا ہے جیسے ہی نور بال دھو لے ۔۔
میں جلدی سے اسکے کپڑے استری کر کے لاتی ہوں ۔۔۔۔۔
نور جلدی کر میری بہن ۔۔۔لگتا ہے آج پھپھی جان تجھے اپنے ساتھ لے کر ہی جائیں گی ان شاءاللہ ۔۔۔
کرن نے نور کو گلے لگاتے ہوئے اس کو پیار سے دیکھا ۔۔۔۔۔۔
میں جلدی سے تیری چیزیں بھی پیک کرتی ہوں اور ہاں میں اور کتابیں بھی لے آئی تھی وہ بھی ساتھ ہی رکھ دیتی ہوں ۔۔۔۔
اچھا چلو ٹھیک ہے کرن ۔۔۔
جلدی کر نہ پگلی 9 بج چکے ہیں ۔۔۔۔۔
ادھر تائی پیچ و تاب کھا رہی تھی ۔۔۔
فون پہ فون کیئے جا رہیں تھیں ۔۔
امجد کدھر رہ گیا ہے ؟؟
آپا میں ذرا مارکیٹ آیا تھا فیشل اور بال کٹوانے ۔۔۔
آپا فکر نہ کرو میں ابھی آتا ہوں مولوی صاحب کو ساتھ لے کر اور ساتھ گواہ بھی ۔۔۔
وہ اسلام آباد والی تیرے سے پہلے آکر بیٹھ گئی ہے ۔۔۔
میرا تو اسکی شکل دیکھنے کو بھی جی نہیں چاہ رہا ہے ۔۔۔ سکندر اکیلا ہی بچھ بچھ جا رہا ہے ۔۔۔
آپا لگتا ہے اسلام آباد والی بازی جیت گئی ہے پھر ۔۔۔
آپا پھر آؤں یا نہ آؤں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
