Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gharonda (Episode 18)

Gharonda by Umme Umair

گھر پہنچ کر نور نے بسم اللہ بول کر دایاں قدم اندر رکھا اور دل میں السلام علیکم بول کر نئی جگہ کی مسنون پڑھی ۔۔۔۔

أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق(صحیح مسلم:2708(6878 ) ))

“”میں اللہ تعالی کے کامل کلمات کے ساتھ اسکی مخلوق کے شر سے پناہ مانگتی ہوں “”

یحیی نے سارے گھر کے تالے کھول کر کھڑکیاں دروازے کھولے ، نور نے برقع چادر اتار کر واپس گاڑی میں جا کر رکھا کیونکہ سارا گھر گرد سے اٹا ہوا تھا ۔۔۔ دوپٹے کو سر سے لے کر سینے تک پھیلایا ۔ یحیی نے گاڑی سےسامان نکالنا شروع کر دیا ہے اور نور کو صفائی کا حکم نامہ مل چکا تھا ۔

سب سے پہلے کچن میں جالوں کا قلع قمع کیا پھر ایک ایک انچ کی رگڑائی شروع کر دی دیواروں سے لے کر فرش تک ہر چیز کو اپنی پوری توانائی بخشی، ایک گھنٹے کی تگ ودو کے بعد کچن قابل قبول صورت میں آگیا ۔۔

تیز تیز ہاتھ چلاتے ہوئے تمام اشیاء خورد و نوش کچن کے کیبنٹس میں رکھیں ۔۔۔

بھوک ستا رہی تھی لیکن ہمت نہ ہوئی کہ یحیی سے جا کر پوچھے کہ کیا پکانا ہے ۔۔۔

کافی سوچ بچار کے بعد ملکہ مسور اور مونگ کی دال کو اکھٹے پکانے کی ٹھانی ۔۔

یحیی گاڑی میں بیٹھا نجانے کیا کرنے میں مصروف تھا جو کہ نور بانو کے لئیے سود مند تھا ، کم ازکم کام تو سکون سے اپنی مرضی اور رفتار سے کر رہی تھی ۔۔۔

جلدی سے وضو کر کے قبلہ کے بارے میں اندازے سے ظہر کچن کے فرش پر ادا کی۔۔۔۔

دال چولہے پر چڑھا کر ساتھ ہی بیٹھنے والے کمرے کی صفائی ستھرائی شروع کر دی ۔۔

صوفوں پر پڑی چادروں کو ہٹایا اور ایک کونے میں رکھا، اچھی طرح جھاڑ پونچھ کے بعد جی چاہا کہ فرش کی دھلائی بھی ساتھ ہی کر لے لیکن چولہے پر پڑی دال کا سوچ کر ارادہ ترک کر دیا ۔۔ خالی اکتفا جھاڑو پوچے پر ہی کیا۔۔

ایک چولہے پر باسمتی چاولوں کو ابالا تو دوسری طرف دال کو بھگار دیا ۔۔۔۔۔

بگھار کی خوشبو گھر میں پھیل چکی تھی ۔۔۔

باہر نکلی تو یحیی کو اندر آتے دیکھا تو اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے محسوس ہو رہا تھا ۔ ہمت کی اور بولا ۔۔

سنیں!!

جی فرمائیں!!

وہ وہ کھانا تیار ہے آ کر کھا لیں ۔۔۔

نور نے گھبراہٹ کوچھپاتے ہوئے نرم لہجے میں بولا ۔۔

کیا پکا ہے ؟؟؟

وہ میں نے دال چاول بنائے ہیں ۔۔۔

اور جو مرغی گوشت خرید کر لائے تھے وہ کیوں نہیں بنایا ؟؟

نور کو پسینہ آنا شروع ہوگیا اب یحیی نے پھر بےعزتی شروع کر دینی ہے ۔۔

وہ وہ جی دال جلدی بن جاتی ہے تو میں نے بنا لی ہے ، کیونکہ میں ساتھ ساتھ صفائی بھی کر رہی

ہوں ۔۔۔ اگر آپ کہتے ہیں تو میں ابھی مرغی بنا لیتی ہوں ۔۔۔ نور نے تھوک نگلا اور خشک ہونٹوں پر زبان پھیری ۔۔۔

یحیی نے ایک تگڑی گھوری ڈالی ۔ تمھیں پتا نہیں ہے کہ میں دال نہیں پسند کرتا ۔۔۔ تو پھر کیوں بنائی ہے ؟؟؟

مجھے نہیں پتا تھا ، آئیندہ نہیں بناوں گی ۔۔ نور نے چہرے پہ آنے والے پسینے کو دوپٹے کے پلو سے صاف کیا۔۔۔ دل کیا کہیں بھاگ جائے ، اتنا جلالی طبعیت شخص پلے پڑا تھا ۔۔ بات کرتے اور پوچھتے ہوئے بھی نور کے چھکے چھوٹ رہے تھے ۔۔۔

کم از کم پوچھ تو سکتی تھی، میں کوئی کوہ ہمالیہ پر تو نہیں تھا ادھر ہی پاس تھا ۔۔۔

جی آئیندہ پوچھ لوں گی، ٹانگیں تھر تھر کانپ رہی تھیں کہ کہیں دوبارہ گھر سے ہی نہ نکال دے ، اب تو اور کوئی ٹھکانہ بھی نہیں ہے ۔۔۔۔

پتا نہیں کیا ابلا سبلا بنا لیا ہے تم نے؟؟

اچھا چلو لاو کھانا میں آرہا ہوں ہاتھ دھو کر ۔۔

جی اچھا !

نور نے فورا حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ایک پلیٹ میں دال اور دوسری میں چاول، جلدی میں سلاد بھی بنا لیا ۔۔۔ یحیی جس نے زندگی میں دال کو ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا، مجبور ہو کر پلیٹ کو دیکھ رہا تھا ۔کھانا میز پر رکھنے کے بعد نور فورا کچن کی طرف پلٹی ۔۔

سنو لڑکی! تم نے کھانا کھا لیا ہے ؟؟

نہیں جی!! وہ بلیچ زیادہ دیر لگے رہنے سے واش روم کی ٹائلیں خراب کردے گا ، میں صفائی کے بعد کھا لوں گی ۔۔۔

اب جاوءں جی ؟! نور بانو نے سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔۔

ہاں جاو ۔!

یحیی نے پہلا نوالہ منہ میں لیا تو بھگاری دال اور سادے ابلے چاول کسی 5 سٹار ہوٹل کے شیف کے پکوان سے بھی زیادہ لذیذ لگے ۔۔۔ساری پلیٹ چٹ کر گیا ۔۔۔

سنو لڑکی!

نور پانی کھول کر ٹائیلوں کی رگڑائی اور دھلائی میں مصروف تھی ، یحیی کی آواز نہ سن پائی ۔

پھر ایک۔دم گرج دار آواز گونجی تو فورا باہر نکلی ۔۔۔ گیلے پاوں ہونے کی وجہ سے پھسلی اور فرش پر ہی ڈھیر ہو گئی ۔۔۔ یحیی اپنے قہقے پر قابو نہ رکھ سکا ۔۔ یحیی کھل کر ہنس رہا تھا ۔۔۔

نور نے اس شخص کو آج پہلی بار ہنستے ہوئے دیکھا، یحیی کی خوبصورت کشادہ پیشانی اٹھتی ناک ، سرخ و سپید چہرہ ، گھنی سیاہ تراشی داڑھی سب نور کو پلک جھپکنے نہیں دے رہا تھا ۔۔۔ کتنا خوبصورت لگتا ہے ہنستے ہوئے الہم بارک علیہ ۔۔۔ نور دل ہی دل میں بلائیں لے رہی تھی ۔۔۔۔۔

دیوار کو پکڑ کر کھڑی ہوئی ، شرمندگی سے چہرہ لال ہو رہا تھا ۔۔۔ آپ نے مجھے بلایا ہے جی؟

یحیی مسلسل ہنسے جا رہا تھا ۔۔۔

پھر ہنستے ہوئے بولا مجھے چاول چاہیئے تھے ۔۔۔

اب ذرا دیکھ کر چلنا ورنہ پلیٹ بھی توڑو گی اور چاولوں کا بھی ضیاع ہوگا ۔۔۔

جی اچھا!

کانپتے ہاتھوں سے پلیٹ پکڑی اور دھیرے دھیرے چلتی کچن میں گئی ۔

کتنے چاول لاوں ؟؟ ، کچن سے منہ نکال کر پوچھا گیا ۔۔۔

3 سو سینکڑے لے آو !!!

جی میں سمجھی نہیں ہوں ۔۔

آدھی پلیٹ لے آو !!

لینن کا سادہ سا پھول دار سوٹ دار پہنے ، شلوار کو ٹخنوں سے اوپر چڑھائے ، ناگن جیسی چوٹی کو لہراتے دوبارہ واش روم میں گھس گئی ۔۔۔

پھر آواز آئی ۔۔ ادھر آو دال اور لا کر دو ۔۔۔

نور کی سمجھ سے باہر تھا کہ تھوڑی دیر پہلے کا فرمان تھا کہ دال پسند نہیں ہے اور اب اتنی پسندیدگی کہ آدھی ہانڈی خالی کر دی ہے ۔۔۔

خیر مجھے کیا ہے ؟؟!

میرا کام فرائض پورے کرنا ہے اور انکے آرام و سکون کا خیال رکھنا ہے ۔۔۔

انہوں نے تو ویسے بھی میرا خون ہی خشک کرنا ہے ۔۔۔۔۔

تیز تیز ہاتھ چلاتے ہوئے واش روم کو لشکایا اور پھر چھوٹی سیڑھی لے کر جو منشی چاچا چھوڑ گئے تھے ، اوپر چڑھ کر جالے اتارنے لگی ۔۔۔۔

اپنے کام میں اتنی مصروف تھی کہ دائیں بائیں کا کوئی ہوش نہیں تھا کہ کتنی دیر سے وہ کسی کی نظروں کا مرکز بنی ہوئی ہے ۔۔۔۔۔

سنو !!

اچانک آواز پر نور گرتے گرتے بچی ، فورا سیڑھی کو مضبوطی سے تھام لیا ۔۔۔ جی!!!

مجھے باہر جانا ہے ضروری کام سے ، شاید کچھ دیر ہوجائے ، تم اکیلی گھر میں ڈرو گی تو نہیں ؟؟

نہیں ڈروں گی ۔۔۔

میں باہر سے تمام کھڑکیاں اور دروازے بند کر کے جا رہا ہوں ، اور ہاں ابھی خود بھی کھانا کھا لو ۔۔

جب سے آئی ہو کام میں لگی ہوئی ہو ۔۔

نور بانو کو تو اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ 10 دن پہلے والا یحیی ہے یا پھر میں کوئی خواب دیکھ رہی ہوں؟!

اپنے ہی خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی کہ آواز دوبارہ آئی ۔۔

بس یہی نیچے والے دونوں کمرے صاف کرو اور اوپر والے رہنے دو ، کل دیکھتے ہیں کیا کرنا ہے ۔۔۔ جی اچھا !!!

یحیی تو نکل گیا لیکن نور بانو کو پیچھے حیرت کے سمندر میں غوطہ زن کر گیا ۔۔۔۔

صلاتہ العصر ادا کی دونوں کمروں کی صفائی کی اور بستروں کی چادریں تبدیل کیں ، شاور لیا ، کھانا کھایا پھر سوچا فرج میں رکھی مرغی بنا لے ۔۔

اب پتا نہیں حضرت کو شوربہ پسند ہے یا بھنا ؟؟

میرے خیال میں درمیانہ شوربہ ٹھیک رہے گا ۔۔ اور ساتھ میں انکی واپسی پر تازہ پھلکے ڈال لوں گی ان شاءاللہ ۔۔ ابھی سالن کا گیس بند ہی کیا تھا کہ بجلی بند ہو گئی ۔۔۔

ایک دم دماغ میں آیا کہ باقی سب خریداری کر لی ہے صرف موم بتیاں بھول گئی اب اگر یحیی کو پتا چلا تو وہ غصہ کریں گے ۔۔۔

باہر مغرب ڈھل رہی تھی ۔۔۔

میرے خیال میں مغرب کی ادائیگی کے بعد ہی آرام سے ایک ہی دفعہ بیٹھوں گی ۔۔۔۔

کچن کے فرش پر ہی مغرب ادا کی ، گھر کے اندر گھپ اندھیرا ہو رہا تھا ،ہاتھ ٹٹولتے ٹٹولتے صوفے تک پہنچی ،نڈھال ہو کر صوفہ پر بیٹھ گئی ، گھر کے اندر باہر مکمل سناٹا ، چونکہ یہ کوٹھی باقی آبادی سے ذرا ہٹ کر تھی تو اس لیئے کسی گاڑی یا انسان کی آواز نہیں تھی سوائے حشرات الارض یا مینڈکوں کی ٹر ٹر ۔۔۔

دل میں خوف سرائیت کرنے لگا ، نئی جگہ ، خالی مکان ، پتا نہیں کتنے عرصے سے بند پڑا ہے ، اوپر سے گھپ اندھیرا ، اللہ جانے کتنے جنات کا ٹھکانہ ہو گا اس گھر میں ۔۔۔

دماغ میں آنے والی منفی سوچوں کو جھٹکا ، جن انسان سے زیادہ طاقتور تھوڑی ہوتے ہیں ، انسان تو اشرف المخلوقات ہے ۔۔۔

ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ ادھر بیٹھے بیٹھے کوئی پیچھے سے گلا گھونپ دے گا ، عجیب سی سرسراہٹ محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔

تایا کا گھر ، اپنا سسرال سب بہت یاد آرہے تھے ، گھبراہٹ اپنے عروج پر تھی ۔۔

اپنی تمام توانائیوں کو جمع کر کے اونچی آواز میں تلاوت کلام پاک شروع کر دی، اگر جن ہیں بھی تو بھاگ جائیں گے ، خالی کوٹھی میں 18 سالہ نور بانو کی آواز گونج رہی تھی ، ساتھ ساتھ آنکھیں بھی اشکبار تھیں ۔۔۔

میرے مالک میرے لیئے آسانی پیدا فرما ، یحیی کو گھر جلدی واپس لے آ ۔۔۔آمین یا رب العالمین ۔۔۔۔

خوف سے حلق خشک ہو رہا تھا ، ایسے لگ رہا تھا کہ اوپر والے پورشن سے اتر کر کوئی نیچے آرہا ہے ۔۔۔

کچن کی کھڑکی سے ایک دم دھڑام کی آواز آئی جیسے کوئی اندر داخل ہوا ہو ۔۔

نور بانو کی آنکھیں خوف سے پھٹی جا رہی تھیں ۔۔ پھر دل میں اللہ کو پکارا ۔۔

میں تو مومن ہوں ، میں تو موحدہ ہوں ، میں کیوں اللہ کی مخلوق سے ڈروں ؟؟؟ مجھے تو صرف اللہ سے ڈرنا چاہیئے ۔۔۔

آواز کو مزید اونچا کر لیا ، رقت آمیز آواز میں سورہ بقرہ کی تلاوت شروع کر دی ۔ البقرہ چونکہ زبانی یاد تھی تو پوری قوت کے ساتھ پڑھے جا رہی تھی ۔۔۔

آس پاس کا کوئی ہوش نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے ؟!

یحیی کی گاڑی کب گھر میں داخل ہوئی ، کب وہ اندر داخل ہوا ؟؟؟ نور اس بات سے مکمل بے خبر رقت آمیز آواز میں سورة البقرة تلاوت کیئے جا رہی تھی ۔۔۔

یحیی نے اپنے موبائل کی ٹارچ نور کے چہرے کی طرف کی تو نور چیخ مار کر پیچھے ہٹی ۔۔۔

چھوڑ دو مجھے میں جنوں سے نہیں ڈرتی ، تم میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ،پرے ہو جاوء میرا قرآن تمھیں جلا کر خاکستر کر دے گا ۔۔۔

تم مجھے نقصان نہیں پہنچا سکتے ۔۔۔

ایک دم یحیی نے نور کو کندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑا ۔۔۔

یہ میں ہوں !! ہوش میں آو لڑکی !

ادھر دیکھو میں یحیی ہوں ۔ یحیی نے ٹارچ اپنے چہرے کی طرف کی تو نور بانو بےاختیار ہوگئی اور یحیی کے ساتھ لپٹ گئی ۔۔

الحمداللہ آپ آگئے ہیں ۔۔۔

یحیی کو خود سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اس کو کیا بولوں ؟! خود سے الگ کروں ، غصہ کروں یا تسلی دوں؟؟؟

جب خوب رو چکی تو خود ہی صوفے پر بیٹھ گئی۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *