Gharonda by Umme Umair NovelR50654 Gharonda (Episode 25)
Rate this Novel
Gharonda (Episode 25)
Gharonda by Umme Umair
اب کوئی مذاق نہیں ہو گا اب سنجیدگی سے کچھ قواعد و ضوابط سیکھ لیتے ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر ہم باقی ماندہ زندگی میں احسن طریقے سے چل سکتے ہیں ۔۔۔
روحہ نے گھور کر دیکھا تو پھر بولی اب یہ نور نامہ نہ شروع کر لینا پلیز ۔۔۔
روحہ تمھاری سوئی ادھر ہی کیوں اٹکی ہوئی ہے؟؟
وہ میری زندگی میں شامل ہے میں کیسے اسے نظر انداز کر سکتا ہوں، وہ میری ذمہ داری ہے ۔۔ روحہ نور اس گھر کی بہو ہے ، اسکو بھی اتنا ہی حق ملے گا جتنے کی تم حقدار ہو ، پہننے اوڑھنے سے لے کر کھانے پینے تک ہر چیز ایک جیسی ملے گی ۔۔
ٹھیک ہے مجھے محبت تم سے ہے لیکن میرے دل میں نور کے لیئے بہت عزت و احترام ہے ۔۔۔
میں اپنی پوری کوشش کروں گا کہ میں اپنی زندگی کے اس نئے سفر کا آغاز خلوص سے کروں اور میری تم سے بھی گزارش ہے کہ تم بھی میرا بھرپور ساتھ دو گی ورنہ میرے لیئے بہت مشکل ہو جائے گا تم دونوں کو ایک ساتھ لے کر چلنا ۔۔
روحہ مجھے کبھی بھی مجبور نہ کرنا کہ میں کوئی ایسا فیصلہ کر بیٹھوں جس سے اس خون اور کشش کے رشتے میں دراڑ آ جائے ۔۔۔
میری خواہش ہے کہ تم مل جل کر نور کے ساتھ بھرپور تعاون کے ساتھ رہو ۔۔۔
مجھے چخ چخ بالکل بھی پسند ہے ، اب ہم یونیورسٹی میں پڑھنے والے لا پرواہ ، لاابالی سٹوڈنٹس نہیں رہے ، اب ہم عملی زندگی میں آگئے ہیں جہاں پر بہت ساری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ۔۔۔
روحہ کی آنکھوں سے آنسو چھلک جانے کو بےتاب تھے ، پہلے دن سے ہی بٹا ہوا شخص مقدر بنا پے ، کاش مجھے یحیی سے محبت نہ ہوتی ، کاش میں نکاح کے لئے حامی نہ بھرتی ۔۔۔ اب ساری عمر سوکن کی اذیت میرے سر پر منڈلاتی رپے گی ۔۔۔
کیا سوچ رہی ہو روحہ؟؟ میں نے کچھ غلط بولا ہے ؟؟؟
یحیی نے اپنی انگلیوں کی پوروں سے روحہ کے آنسو صاف کئے اور ٹھوڑی سے چہرہ اوپر کر کے اپنی محبت کی پہلی مہر ثبت کی ۔۔۔
*********************(((********************
نور اپنے معمول کے مطابق فجر کی ادائیگی کے بعد باہر عقبی لان کی طرف نکل گئی ۔۔پورا گھر سو رہا تھا لیکن نور کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور چلی گئی، ساری رات تڑپ تڑپ کر کاٹی اور پھر دعاوں کا لامتنائی سلسلہ اس کی رگ و پے میں سرایت کرتا رہا ۔۔۔
ارے جاو منزہ اٹھاو اپنے بیٹے بہو کو ، دن کے گیارہ بج رہے ہیں ، ابھی تک سوئے پڑے ہیں، ہمارے وقتوں میں تو صبح صادق کے وقت دلہنیں اٹھ جاتی تھیں اور سب گھر والوں کے ساتھ گھل مل کر ناشتہ کرتیں تھیں ۔۔۔۔۔
بےجی آپ کا زمانہ اور تھا اور اب زمانہ بدل گیا ہے ۔۔ ارے چل ہٹ مستی آگئی ہے لوگوں میں ، دنیا بگڑ گئی ہے ۔۔
منزہ بیگم مسکراتے ہوئے بےجی آپ پریشان نہ ہوں میں ابھی بلا کر لاتی ہوں ۔۔۔ امی روحہ بھابھی اور بھیا نیچے آ رہے ہیں، شازمین نے ڈرائنگ روم میں سے ہانک لگائی ۔۔۔
نور خاموشی سے کچن میں اپنے کام میں مصروف تھی ، تیز تیز ہاتھ چلاتے ہوئے شناسا خوشبو اپنے قریب آتی محسوس ہوئی تو پلٹ کر دیکھا ۔۔
دیکھتے ہی مبہوت ہو گئی ۔۔ یحیی اپنی بھوری آنکھیں گاڑھے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔ نور نے فورا سنبھل کر اپنا دوپٹہ ٹھیک کیا اور ابھی پوچھنے کے لئے ہونٹوں کو جنبش ہی دی تھی کہ یحیی بول پڑا ۔ ناشتہ مل جائے گا نور ؟؟
جی جی ضرور ! کیا بناوں؟ روحہ سے بھی پوچھ لیں میں ابھی بنا دیتی ہوں ۔۔۔
وہی بناو جو تم نے سرگودھا سے واپسی والے دن بنایا تھا۔۔۔
اوہ اچھا میں ابھی بنا دیتی ہوں آپ اندر جا کر آرام سے بیٹھیں ۔۔
نور نے ٹوکری سے پیاز نکال کر چھیلنا شروع کر دیئے ۔ جبکہ یحیی ہنوز کھڑا تھا ۔۔
نور دل میں سوچ رہی تھی کہ ابھی کیوں کھڑے ہیں پاس ؟!
نور !!
جی !!
تم ٹھیک تو ہو نا ؟!
جی میں بالکل ٹھیک ہوں ۔۔ میرے ساتھ ناراض تو نہیں ہو نا ؟! میرا مطلب ہے روحہ کی وجہ سے ؟!
نہیں میں بالکل بھی ناراض نہیں ہوں ، روحہ کا اپنا نصیب ہے اور میرا اپنا ، اسے جو مل رہا ہے اس میں بھی میرے رب کی بہت سی حکمتیں پوشیدہ ہیں اور جو میری دسترس میں نہیں ہے اس میں بھی نجانے کتنی خیر پنہاں ہے ۔۔۔
آپ پریشان نہ ہوں میں کبھی بھی آپکو شکایت کا موقع نہیں دوں گی ان شاءاللہ ۔۔۔
مجھے پتا ہے نور کہ تم بہت اچھی ہو !!
نور نے حیرت سے یحیی کو دیکھا کہ جیسے کہہ رہی ہو آپکی طبیعت تو ٹھیک ہے نا آج؟!
نور نے فورا سارا ناشتہ دوبارہ سے منٹوں میں تیار کیا اور کھانے کی میز پر سجا دیا ۔۔۔ روحہ جوکہ کھلے بالوں میں ہلکا میک اپ کئیے بہت پیاری لگ رہی تھی ، بیٹھی یحیی کی کسی بات پر مسکرائی ۔۔
نور نے ادب سے سلام کیا اور ناشتہ دے کر کچن میں دوبارہ پلٹنےہی لگی کہ یحیی بولا وہ امی میں سوچ رہا تھا کہ موسم بھی گرم ہے تو سارے شمالی علاقہ جات کی طرف چلتے ہیں ۔۔۔
ارے نہیں بیٹا تم لوگ جاوء یہی دن ہیں گھومنے پھرنے کے ،، پھر بعد میں مصروفیات بڑھ جاتی ہیں ۔۔
بلکہ ایسا کرو نور اور روحہ دونوں کو ساتھ اکھٹے لے کر جاو ۔۔ روحہ کے ہاتھ سے نوالہ گرتے گرتے بچا ۔۔
کیا خیال ہے نور بیٹی آپکا؟ منزہ نے کمرے سے نکلتی نور سے پوچھا ۔۔
جی پھپھو بہت اچھی بات ہے لیکن میں تو نہیں جانا چاہتی ابھی ہی تو سرگودھا سے واپسی ہوئی ہے،
روحہ کو اکیلے ہی جانے دیں ، مجھے ویسے بھی گھر میں رہنا زیادہ پسند ہے ۔۔۔
یحیی نے سکھ کا سانس لیا اور سوچا یہ لڑکی کتنی سمجھدار ہے ۔۔۔
اچھا چلو جیسے تمھاری مرضی نور بیٹی ۔۔۔
دونوں نکاح تو سادگی سے ہو گئے ہیں ابھی ایک چھوٹا سا ولیمہ بھی کر لیتے ہیں ۔۔
جی امی واپس آکر سوچتے ہیں کہ کیا کرنا ہے ۔۔
شمالی علاقہ جات سے واپس آکر یحیی کے کندھوں پر کاروباری ذمہ داریاں اور پھر دو بیویوں کی ذمہ داریاں الگ سے ۔۔۔۔
یحیی اپنی طرف سے بھرپور کوشش کرتا کے کوئی نوک جھونک نہ ہو ان دونوں کے درمیان جبکہ اسکو اچھی طرح سے اندازہ تھا کہ نور معاملہ فہم طبعیت رکھتی ہے، اپنے آپ کو ہر رنگ میں ڈھالنے کی صلاحیت ہے اس میں ۔۔۔
نور اپنی روٹین کے مطابق یحیی کے کپڑے جوتے خود تیار کرتی جبکہ روحہ صرف الماری سے نکال کر یحیی کے ہاتھ میں پکڑاتی ۔۔۔
سہ پہر کی چائے کے بعد نور روحہ اکیلی ہی لان میں بیٹھی تھیں پھپھو کسی کا فون سننے میں مصروف تھیں، بےجی اپنے کمرے میں کمر سیدھی کر رہی تھیں، اور شازمین رامین اکیڈمی میں تھیں ۔۔
روحہ نے موقع غنیمت پاکر نور کو گھورا اور پوچھا ،
تم جلتی ہو مجھ سے ؟؟
نہیں میں کیوں جلوں گی بھلا !!
معصومیت کا لبادہ اوڑھ کر دوسروں کو اچھا بیوقوف بنا لیتی ہو ۔۔ نور نے خاموشی سے سنا اور پھر روحہ کو دیکھتے ہوئے بولی ، مجھے لبادہ اوڑھنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی ، میری شکل ہے ہی ایسی اور رہا سوال جلن کا تو میں ایسی خرافات پر دھیان ہی نہیں دیتی۔۔ میں کیوں اپنے اعمال صالحہ فضول جلن میں جلا دوں ۔۔
روحہ آپ میری طرف سے بےفکر رہیں، مجھے یحیی سے جڑی ہر چیز سے لگاو ہے وہ چاہے میری سوکن ہی کیوں نہ ہو ۔۔ اور ویسے بھی میرا آپ کے ساتھ دہرا رشتہ ہے ، پہلے سگی پھپھو کی بیٹی اور پھر آپ میری پیاری سی سوکن ہیں ۔۔۔
آپ پریشان نہ ہوں آپکی چھوٹی سی بہن آپکے نصیب کا کبھی بھی نہیں چھینے گی ۔۔۔
میرے پاس دین ہو نے کا کیا فائدہ ؟ اگر میرا اس پر عمل نہیں ہے ، میں جو سیکھتی ہوں اس پر عمل پیرا ہونے کی پوری کوشش کرتی ہوں ۔۔۔
روحہ حیرت سے اپنے سے 5 سال چھوٹی سوکن کزن کو دیکھے جا رہی تھی ۔۔ اس نے تو میرے جواب دینے کے لئے کچھ بھی نہیں چھوڑا ۔۔۔
میرے اور آپکے درمیان فرق صرف اتنا ہے کہ میرے پاس دین ہے اور آپکے پاس دنیا ہے ۔۔
دین دنیا و آخرت کے لئے بھلائی ہے جبکہ دنیا صرف سانس کی ڈور تک محدود ہے ، ادھر سانس کی ڈور ٹوٹی تو ساتھ ہی آخری منزل کی جھلک انسان کو دکھا دی جاتی ہے ۔۔۔
اور میں اتنا مہنگا سودا برداشت نہیں کر سکتی، یحیی کی محبت اگر اس دنیا میں نہیں مل سکی تو اس کا اجر مجھے آخرت میں ضرور ملے گا ۔۔ان شاءاللہ
مجھے میری دعاوں کے ذخیرے کبھی تنہا نہیں رہنے دیتے ۔۔۔ آپ مجھ سے بڑی ہیں میرا اور آپکا رشتہ احترام کا ہونا چاہیئے ۔۔ خوامخواہ کی چپقلش سے بہتر ہے ہم دوستی کر لیں ، دل میں جڑ پکڑنے والے حسد کو اکھاڑ باہر پھینکیں ۔۔۔
روحہ مجسمہ بنی بیٹھی تھی کہ نور نے مصافحہ کے لئے ہاتھ آگے بڑھایا جسکو روحہ نے مجبورا تھام لیا ۔۔۔۔ ۔۔۔
دن ہفتے میں اور ہفتے مہینوں میں گزرنا شروع ہو گئے ۔۔ روحہ اچھی طرح جان چکی تھی کہ نور ایک بےلوث ، اعلی اخلاق کی لڑکی ہے اور سب کے ساتھ بےحد مخلص ہے۔۔۔ اور ویسے بھی مجھے کونسا نقصان پہنچا رہی ہے ، ایک کونے میں پڑی رہتی ہے ،یحیی کے ساتھ اس کا نام ہی جڑا ہے صرف ۔۔۔۔
روحہ کا ضمیر کبھی کبھی ملامت کرتا کہ میں اس کی حق تلفی کروانے میں ہر وقت کوشاں ہوتی ہوں یحیی کو اس کے ساتھ اکیلے میں بات کرنے کا موقع بھی نہیں دیتی ہوں ۔۔۔
نور میں ایسی کوئی خاص بات تھی جو روحہ کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر رہی تھی ، اس میں سب سے زیادہ ہاتھ نور کے تقوی اور اخلاق کا تھا جو کڑے سے کڑے وقت میں ہر چیز صبر سے سہہ جاتی اور کبھی بھی کسی کی دل آزاری نہ کرتی ۔۔۔
نور خود ہی کوشش کرتی کہ یحیی کا سامنا نہ ہو وہ نہیں چاہتی تھی کہ اسکی وجہ سے روحہ اور یحیی کے تعلقات خراب ہوں ، یحیی کی گھر موجودگی کے وقت زیادہ تر کچن میں یا شازمین رامین کے ساتھ ہوتی ۔۔۔ لیکن پھر بھی اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھاہ رہی تھی ۔۔۔
نور کے ساتھ دن کا کھانا بناتے ہوئے اچانک روحہ کو متلی ہوئی تو واش روم میں بھاگی ۔ نور بھی پیچھے ہی گئی ، روحہ تم ٹھیک تو ہو نا ؟؟ جوس لا دوں ؟؟
ارے نہیں ویسے ہی جی متلا رہا ہے چلو باہر باغیچے میں چلتے ہیں ۔۔۔ طبیعت ٹھیک ہو جائے گی ۔۔
روحہ میرے پاس ایک حل ہے اس کا بھی ، تمھاری طبیعت ایک دم ٹھیک ہو جائے گی ۔۔
وہ کیسے ؟!
شازمین رامین کو بلاو چھوٹی سیڑھی لاتے ہیں اور آم کے درخت سے کیریاں اتارتے ہیں ۔۔۔
بہت مزا آئے گا میرے منہ میں تو ابھی سے پانی آرہا ہے ۔۔ ہم تایا جی کے باغ سے کچی کیریاں اتار کر اور پھر لال مرچ نمک ڈال کر کھاتے تھے ۔۔
نور نے چٹخارے لیئے ۔۔
نور تم کیسے چڑھو گی اوپر ؟! روحہ پریشان ہو رہی تھی ۔۔ دیکھو درخت کتنا بڑا ہے ، کہیں گر ہی نہ جانا ۔۔
چوہدری سلطان ہاوس 3 کنال پر محیط خوبصورت بنگلہ جس کے عقبی لان میں پھلوں کے درخت ، آم ، امرود، لیموں ، سنگترے کے ساتھ ساتھ لوکاٹ بھی تھا۔۔۔
روحہ کو بےچینی ہو رہی تھی ۔۔ ارے یہ تو میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے تم لوگ نیچے انتظار کرو میں ابھی توڑ کر لاتی ہوں ۔۔
تینوں نیچے سے کیریوں کے بارے میں معلومات فراہم کر رہیں تھیں، اس بڑی والی شاخ پر جاو وہاں پر زیادہ کیریاں نظر آ رہی ہیں ۔۔۔ دھیان سے کہیں گر نہ جانا پلیز ۔۔۔
نور اگر یحیی کو پتا چل گیا تو وہ شاید غصہ کریں گے ۔۔
روحہ تمھیں تو پتا ہے جب وہ بزنس ٹرپ پر جاتے ہیں ایک ہفتے سے پہلے واپسی نہیں ہوتی ۔ بس تم لوگ میرے پلے سے عیاشی کرو ۔۔۔
تینوں گردنیں آم کے درخت پر جمائے ارد گرد سے بےخبر کیریاں تڑوانے میں غلطاں تھیں کہ اچانک آواز آئی ۔۔ یہ کیا ہو رہا ہے ؟؟؟
اور درخت کے اوپر کون ہے ؟؟
وہ بھابھی نور ہیں بھیا ۔۔۔
نور فورا سے پہلے نیچے اترو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
