Gharonda by Umme Umair NovelR50654 Gharonda (Episode 06)
Rate this Novel
Gharonda (Episode 06)
Gharonda by Umme Umair
کرن کمرے سےباہر نکلی تو اماں کو برآمدے میں کھڑے دیکھ کر چہرے کی ہوایاں اڑگئیں ۔۔۔
فورا کمرے کا دروازہ بند کیا اور پوچھا ۔۔
کچھ چاہیئے تھا اماں؟؟؟
کدھر ہے وہ بانو؟؟؟
کیوں خیریت اماں ؟؟؟
سب خیریت ہے میں ذرا غسل خانے تک گئی تو سٹور کا دروازہ کھلا دیکھا ، اندر جھانکا تو بانو غائب ۔۔۔
آ آ آ آ آ آ اچھا اماں بانو سے کچھ کام تھا تو میں نے آواز دی تھی اسے ۔۔۔ کرن نے تھوک نگلتے ہوئے مشکل سے اپنی گھبراہٹ پر قابو پایا۔۔۔
کیا کام تھا تجھے رات گیارہ بجے ؟؟؟!
کچھ خاص نہیں بس ایسے ہی اماں!!!
اسکو زیادہ سر پر نہ چڑھا کرن کل کو تیرے سر چڑھ کر ناچے گی جیسے اسکے ماں باپ نے میری خواہشات کا قلع قمع کیا تھا ۔۔۔۔
انھیں کا ہی خون ہے یہ بھی منحوس ۔۔۔۔
اماں آہستہ بولیں ابا سن لیں گے ۔۔
ہائے باولی ہوئی ہے لڑکی میری بلا سے !!!
اماں وہ ابا کے بھائی تھے ایسا نہ بولیں ۔۔
چل چل یہ درس کسی اور کو دینا ۔۔ بڑی آئی ہمدرد ۔۔۔
بھیج اس کلموئی کو اسکے کمرے میں ادھر تیرے کمرے میں اے سی کی ٹھنڈک میں مزے لوٹ رہی ہے ۔۔۔
صبح باڑے میں بھی بتیرا کام ہے ۔۔۔ چاچا قوبا شہر گیا ہے لہذا زمینوں سے چارا بھی اس نے لانا ہے ۔۔۔۔
اماں آپ آرام سے سو جائیں میں اسکو ابھی بھیج دیتی ہوں ۔۔۔
اگر کوئی کام ہے تو بتائیں ۔۔۔
نہیں ہے کوئی کام۔۔۔ اب جا اندر اور اسکو بھیج ورنہ کھا لے گی ایک جھانپڑ سونے سے پہلے میرے سے ۔۔۔
اچھا اماں آپ سکون سے سو جائیں میں ابھی بھیجتی ہوں ۔۔۔۔
جا رہی ہوں ۔۔۔
کرن نے سکھ کا سانس لیا جب اماں نےاپنے کمرے میں داخل ہو کر اندر سے کنڈی چڑھائی ۔۔۔
نور بانو پردے کے پیچھے چھپی بیٹھی تھی ۔۔۔
کرن نے واپس کمرے میں آکر لمبی سانس خارج کی۔۔
او شکر ہے میرے مالک تو نے بچا لیا ۔۔۔۔۔
نور چھوڑو “یسو پنجو ” کو شکر کرو مار سے بچ گئی ہو پیاری ۔۔۔
اب خاموشی سے اپنے کمرے میں چلی جاو ۔۔۔
اچھا جا رہی ہوں ۔۔یہ تو بتا دو کتاب لائی ہو ؟؟
کون سی کتاب مجھے تو بھول گیا ۔۔
ارے یار وہی “تلبیس ابلیس “علامہ ابن جوزی کی کتاب مکتبہ رحمانیہ کی پبلش شدہ۔۔
میرے ہاتھوں کی طرف دیکھ نور کیوں جان کی دشمن بنی ہے ۔۔۔۔اگر لے آتی نا کتاب تو نے نیند کا ضیاع کر کے کتاب کی ساری سیاہی چاٹ لینی تھی ۔۔۔لہذا جا کر آرام کرو اور نیند پوری کرو پیاری ۔۔۔۔ سرگوشیاں کر کر کے اب تو گلا بھی خشک ہو گیا ہے ۔۔۔
کرن کتابیں ہی تو میری زندگی کا کل سرمایہ ہیں ،مجھے جینے کا ہنر سکھاتی ہیں ۔۔۔
کرن کبھی کبھی تو ایسے لگتا ہے کہ بس دم گھٹ جائے گا ۔۔ لیکن پھر ایک نئی امنگ مجھے زندگی کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ نیا عزم لے کر آگے بڑھنے کے لئے قوت بخشتی ہے ۔۔۔
اور پتا پے یہ سب کیوں ہے ؟؟صرف اور صرف ان کتابوں کی وجہ سے جن کو پڑھ کر میرا اپنے رب پہ ایمان پختہ ہوتا ہے ۔۔۔ میرے صبر کا پیمانہ بڑھتا ہے ۔۔۔۔
نور بانو نے آنکھوں میں آنے والی نمی کو دوپٹے کے پلو سے پونچھا ۔۔۔۔
کرن میری بہن ہو گئی ہو نا اداس !!!
کیوں پریشان ہوتی ہو” یہ دنیا تو مومن کےلئے قید خانہ ہے “”۔۔
سستے لوگ مہنگی آزمائشوں سے نکھر جاتے ہیں ۔۔۔
میں تو اللہ سبحان و تعالی کی بہت شکر گزار ہوں کہ ہاتھ پاؤں آنکھیں سلامت ہیں ۔ صحت مند ہوں الحمداللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔
اب کچھ بولو بھی کرن منہ میں گنگیاں ڈال لی ہیں ۔۔۔۔۔
آ آ آ آ آ آ آ ہاں میں سن رہی ہوں ۔ میں بس تمھاری باتوں پر غور کر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
اچھا بتاو ” غایتہ المرید ” کا کیا ہوا ؟؟
اس کا تو متن بھی میں نے یاد کر لیا ہے ۔۔۔
مجھے پہلے ہی پتا تھا تو نے چاٹ لینا ہے کتاب کو اگر میں اور نئی کتاب لے آئی ۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھا چھوڑ سب کچھ جا کر نہا لے آج میں کالج واپسی پہ شیمپو کے دو ساشے لائی ہوں ۔۔۔
اگر اماں کو پتا چل گیا کہ تو نے شیمپو استعمال کیا ہے تو کچومر نکال دیں گیں تیرا سمجھی !!!
ساشے کھول کر میرے خشک بالوں میں ہی لگا دوں ورنہ اگر جلدی میں ساشے غسل خانے میں ہی بھول گئی تو تائی جی کو پتا چل جانا ہے میں نے شیمپو سے بال دھوئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*******************************************
شکر ہے یار امتحانات کی ٹینشن تو ختم ہوئی ہے ۔۔۔
ارے تو کس لیئے پریشان ہوتا ہے تو نے ویسے بھی بہترین نتائج وصول کرنے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
پرپیشانی تو ہم جیسوں کو ہونی چاہیے جو رگڑے کھا کھا کر اگلی جماعت میں جاتے ہیں ۔۔۔۔۔
منیر وسیم نے اداس شکل بناتے ہوئے دہائی دی ۔۔۔۔
چل یار آج گھر جا کر لمبی تان اور خواب خرگوش کے مزے لوٹ۔۔۔۔یحیی نےتسلی دی ۔۔۔۔۔
اور تو کونسا سمندر کی تہہ میں جا رہا ہے؟؟؟ سفیر نے بھی لقمہ دیا ۔۔۔۔
نہیں یار سمندر کی تہہ تو نہیں البتہ زمیین کا سینہ ضرور چیرنا ہے ۔۔۔۔
اوئے ہوئے ہاتھ ہولا رکھ لالے ۔۔۔
ابھی جاتے ہی ٹریکٹر ٹرالی او تیرا گنڈاسے کو لہرانا اور لمبی لمبی بڑھکیں ۔۔۔وسیم اور یحیی ناچاہتے ہوئے قہقہے لگانے لگے ۔۔۔
سفیر تیری منظر کشی بالکل درست ہے اسی خوشی میں تجھے بوتل پلواتا ہوں انعام کے طور پر۔۔۔
وسیم تو بھی چل کیا یاد کرو گے دونوں کس سخی سے پالا پڑا ہے؟!!!!
نہیں یار اپنی سخاوت کو تھوڑا سنبھالو میں ذرا لائبریری میں کچھ کتابیں واپس لوٹا آوں ۔۔۔۔
چل سفیر پھر کینٹین اپنا انعام وصول کر !!
وسیم تو واپس کینٹین ہی آجانا یحیی نے ہانک لگائی ۔۔۔
ٹھیک ہے تم لوگ جاوء میں آتا ہوں ان شاءاللہ ۔۔۔۔
کینٹین داخل ہوتے ہی یحیی کی پہلی نظر کونے میں بیٹھی روحہ پہ پڑی جو بڑے انہماک سے کسی بات پر کھلکھلا کر ہنس رہی تھی ۔۔۔
سفیر یار تو جاکر ٹھنڈا خرید میں ابھی آتا ہوں ۔۔۔
نہ نہ نہ نہ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تو ادھر سے ایک انچ بھی نہیں ہل۔سکتا ۔۔۔ پچھلی دفعہ بھی تو نے ایسا ہی کہا تھا اور پیسے پھر میری جیب سے گئے تھے ۔۔۔
“تیرے لارے رہے سارے کنوارے “
میں نے تو تجھے ہلنے بھی نہیں دینا جب تک ادائیگی نہیں ہوتی ۔۔۔
یہ لے میرے چول دوست! یحیی نے ہزار کا نوٹ لہرایا ۔۔۔۔اب میری جان چھوڑ!!!!
جبکہ یحیی کا مسلسل دھیان کونے میں بیٹھی روحہ کی طرف تھا ۔۔۔
سفیر نے بغور دیکھ کر اچھااااااا کو لمبا کھینچا ۔۔میں بھی کہوں آج اتنی فراغ دلی کیوں دکھائی جا رہی ہے ۔۔۔۔
جا لاڈلے موجیں کر کیا یاد کرے گا کس دوست سے پالا پڑا ہے ۔۔۔ یحیی نے تگڑی گھوری ڈال کر سفیر سے جان چھڑائی اور روحہ کی طرف پلٹا ۔۔۔۔
السلام علیکم!!! عورتوں کی جماعت کیا ہو رہا ہے؟؟
وعلیکم السلام !! پہلے یہ فرمائیں کے عورتیں کس کو بولا ہے؟!
آپ دونوں کو ۔۔۔
توبہ توبہ یحیی آپ نے اپنے آپ کو دیکھا ہے کبھی لوہاروں والا حلیہ ہے ۔۔۔۔
کنول تلملا اٹھی ۔۔۔
روحہ کے قہقہے پھر سے شروع ۔۔
اب اگر آپ دونوں اپنی بتیسیاں اندر کر لیں تو میں کچھ سنجیدہ بات کر لوں ۔۔۔۔۔۔
اوووووہ آپ اور سنجیدہ !!!
روحہ چٹکی کاٹو مجھے ۔۔ میں کہیں خواب تو نہیں دیکھ رہی ۔۔۔
ادھر سے نو دو گیارہ ہو جاو اور چٹکی کی فرمائش کسی اور سے کرو جا کر ۔۔۔۔
یحیی نے کرسی کھینچتے ہوئے بولا اور آرام سے بیٹھ گیا ۔۔۔۔
محترم بن بلائے مہمان کام کی بات کریں اور چلتے بنیں ۔۔۔ ورنہ ہم دونوں جا رہی ہیں ۔۔۔
کنول تم کیوں کباب میں ہڈی بن رہی ہو ۔۔
2 منٹ دو تاکہ میں روحہ سے کچھ بات کر لوں ۔۔۔
میں آپکو 2 سیکنڈ بھی نہیں دے سکتی جو بات کرنی ہے میرے سامنے کریں ۔۔۔
یحیی نے عافیت اسی میں جانی کے لمبی بحث سے بچا جائے اور اپنا مدعا بیان کیا ۔۔۔۔
روحہ مجھے آپکے گھر کا پتہ اور آپکے والدین کا فون نمبر درکار ہے ۔۔۔
روحہ کا چہرہ شرم سے لال ٹماٹر ہو رہا تھا ۔۔۔
اسکے جواب سے پہلے کنول کی انکواریاں شروع ۔۔
آپ نے کیا کرنا ہے گھر کا پتہ لے کر ؟؟؟
ڈکیتی کا ارادہ تو نہیں رکھتے ہمارے یحیی بھائی ؟! کنول نے گھورا ۔۔۔
تم اپنی چونچ بند نہیں رکھ سکتی کنول ۔۔۔ یحیی زچ ہوا ۔۔۔۔
جی روحہ !!! یحیی نے روحہ کی آنکھوں میں جھانکا ۔۔۔
روحہ شرم سے لال چہرہ جھکا کر اپنی بھیگی ہتھیلیوں کو مسلنے لگی ۔۔۔ ۔۔۔
میں امی سے بات کر کے آپکو مطلع کر دوں گی ۔۔۔
ٹھیک ہے مجھے انتظار رہے گا آپکے ٹیکسٹ کا ۔۔۔
یحیی نے محبت پاش نظروں سے روحہ کو دیکھا اور بولا میں چلتا ہوں ۔۔۔
اپنا خیال رکھنا ۔۔۔۔۔۔۔
کنول روحہ ساکت و جامد ایک دوسرے کو دیکھتی رہ گئیں ۔۔۔
انوکھا لاڈلا تو اپنے من کا پکا نکلا میری بنو !!!!
کنول عادت سے مجبور پھر روحہ کے سر ہو گئی ۔۔۔
منیر وسیم نے کینٹین میں داخل ہوتے ہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
