Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gharonda (Episode 04)

Gharonda by Umme Umair

فورا سر اٹھا کر دیکھا تو سامنے نوشی اپنی مسکراتی لبھاتی ادائیں دکھا رہی تھی ۔۔۔یحیی نے بیزار نگاہ ڈالی اور اپنے کام میں مصروف ہوگیا۔۔ جبکہ نوشی نے ڈھیٹ پنےکے سارے ریکارڈ اپنے نام کروائے ہوئے تھے۔۔۔۔۔

یحیی نوشی نے پکارا ۔۔۔

ہوں ۔۔۔

مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے ۔۔۔

ہاں بولو سن رہا ہوں یحیی نے گردن جھکائے جواب دیا ۔۔

۔یحیی تم مجھ سےدوستی کر لو پلیز ۔ تم مجھے بہت اچھے لگتے ہو ۔۔۔

ایک ناگوار نظر ڈال کر لمبا سانس کھینچا اور دانت پیس کر بولا نوشی میں تمھیں ہزار دفعہ بول چکا ہوں میرا پیچھا چھوڑ دو۔۔۔

تمھیں سمجھ کیوں نہیں آتی؟!کیوں کرتی ہو ایسا ؟؟؟

میں اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہوں یحیی ۔۔۔

نوشی کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں ۔۔۔

اپنے دل۔کو ہتھیلی پر لے کر نہ ہی پھرو تو بہتر ہے ورنہ بہت پچھتاو گی لڑکی ۔۔۔

نوشی نے نیچے بیٹھ کر اسکے ہاتھ کو پکڑنا چاہا تو یحیی نے ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچا ۔۔۔

نوشی خبردار اگر آئیندہ مجھے ہاتھ لگانے کی کوشش کی یا میرے پیچھے آئی!!!!!

میں چاہے زبانی کلامی جتنا مرضی مزاح کروں لیکن میری نظر میں عورت کی تکریم برقرار ہے اور مجھے کسی بھی غیر عورت کو چھونا ہر گز پسند نہیں ہے ۔۔۔لہذا آئیندہ یہ جرآت نہ کرنا ۔۔۔

وہ غصے سے پیرپٹختا باہر نکل گیا ۔۔۔۔

وہ ہے ایسے تھا کہ لڑکیاں دورسےہی آہیں بھرتی تھیں ۔۔۔ لیکن وہ تو اپنا دل روحہ پہ ہار بیٹھا تھا ۔۔

لمبی پتلی روشن آنکھوں والی پہلے دن سے ہی اسکے دل۔میں جاگزیں ہو گئی ۔۔۔

6 فٹ 3انچ قد ،چوڑا سینہ ،کشادہ پیشانی اور اٹھتی ہوئی ناک ، مردانہ وجاہت سے بھرپور ۔۔۔

پڑھائی سے لے کر کھیلوں کے میدان میں بھی آگے آگے۔۔۔۔

کینٹین پہنچتے ہی یحیی نے ہانک لگائی کیا سازشیں ہو رہی ہیں میرے خلاف ؟؟؟

اوہ میرا مولوی یار کدھر غائب رہا پچھلا پورا ہفتہ ؟!

یار تیرے اقوال زریں بہت مس کئے ۔۔

یحیی نے منیر وسیم جلال الدین سے بغل گیر ہوتے ہوئے پوری گرم جوشی دکھائی ۔۔۔۔

کرسی کھینچتے ہوئے پوچھا یار مجھے سمجھ نہیں آتی نادرا والے تیرا نام کیسےفٹ کرتے کارڈ پر؟!!!

بھلا اتنا لمبا نام رکھنے کی کیا تک بنتی ہے ؟!

لالے تجھے 70 دفعہ بتائی ہے وجہ لیکن تیری کھوپڑی میں بھوسی بھری ہوئی ہے ۔۔۔

آج آخری دفعہ بتا رہا ہوں اسکے بعد توں نے پوچھا تو سر پھاڑنا ہے میں نے ۔۔۔۔

منیر نام ابا جی نے چاچا کی محبت میں رکھا کیونکہ انکا انتقال ہوگیا تھا میری پیدائش سے 6 مہینے پہلے ۔۔

وسیم نام والدہ جی کی پسند پہ رکھا گیا جبکہ جلال الدین دادا جان کی خواہش پر رکھا گیا کہ پوتا رعب دبدبے والا مرد بنے گا ۔۔۔

سفیر اور یحیی کے فلک گیر قہقہے ۔۔۔

رعب تو تلاش کرنے سے بھی رتی برابر نہیں ملے گا ۔ سفیر نے بولا ۔۔

ہر وقت تو تیری نظریں زمین پہ گڑھی رہتی ہیں اور لڑکی کو دیکھ کر تو ایسے لگتا ہے تجھے حیضہ ہو جائے گا۔۔۔۔

اڑا لو مذاق لیکن اگر تمہیں مقصد حیات کی سمجھ آجائے تو ایسی حرکتیں کبھی نہ کرو !!!!

منیر وسیم کا مولوی نامہ شروع ہو چکا ہے ۔۔ یحیی نے دھائی دی ۔۔۔۔

اللہ سبحان و تعالی نے انسان کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے ۔۔۔ اس کے احکامات کو ماننا بھی عبادت ہے ۔۔۔

اور ویسے بھی جوانی کی عبادت کا ہی اجر عظیم ہے ۔۔۔

یحیی سفیر نے بھنویں اچکائیں ۔۔۔

یار منیر وسیم جوانی ایک ہی دفعہ آتی ہے لطف اندوز ہونے دے ۔۔۔۔

زندگی بھی ایک ہی دفعہ ملتی ہے پیارو!!!

ایک بار روح پرواز ہوگئ تو سمجھو بس دوبارہ کوئی یو ٹرن نہیں ملنے والا ۔۔۔

منیر وسیم نہایت شریف النفس نماز کا پابند صحیح العقیدہ نوجوان تھا ۔۔۔ مخلوط تعلیم کے سخت خلاف لیکن باپ اور دادا کے سامنے بے بس تھا۔۔۔ حتی الامکان کوشش ہوتی کہ اپنے آپ کو بے حیائی اور عورتوں کے ساتھ اختلاط سے خود کو محفوظ رکھے ۔۔۔

اللہ سبحان و تعالی کا خاص کرم کے اس کو ہر طرح کی گندگی سے محفوظ رکھا ۔۔۔

چہرے پہ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجائے پر کشش روشن چہرے والا سوبر نوجوان اپنے دونوں دوستوں کو ہر وقت خیر کی طرف بلاتا ۔۔۔۔

تینوں سکول کے زمانے کے پرانے دوست ۔۔۔

*******************************************

تو بھی کوئی کام دھندا کر لے کب تک آوارہ گردی کرے گا ۔۔ نکما نہ ہو تو ۔۔

رشتہ کسی نے نہیں دینا تجھے یاد رکھیو امجد ۔۔۔

آپا آپ بھی مایوسی والی باتیں کرتی ہیں ۔۔۔۔

اگر آپ چاہو تو نور بانو کو میری دلہن بنا دو ۔۔۔۔

شکل دیکھ جا کر چلا ہے بانو سےشادی رچانے ۔۔۔

بانو کا تایا مانے گا تیرے لئیے؟!!

اسی لیے بولا ہے جاکر کوئی کام دھندا کر تاکہ میں کوئی ہاتھ پاؤں مار سکوں ۔۔۔

آپا تیرے لئیے یہ کام کونسا مشکل ہے ہر چیز تو تیرے اختیار میں ہے اور بھا جی تو پکے رن مرید ہیں ۔۔۔۔

امجد نے آنکھ دباتے ہوئے کہا ۔۔۔

ارے چل ہٹ زیادہ مسکے نہ لگا مجھے ۔۔

ویسے آپا بانو ہے کدھر ؟؟

تجھے کاہے کو فکر ہو رہی ہے اسکی ؟ باولا نہ ہو تو ۔۔

نہیں میں تو ویسے ہی پوچھ رہا تھا ۔۔

امجد نے سر کھجاتے ہوئے بولا ۔۔۔

بس بس !!! میں جانتی ہوں تجھے خوامخواہ رال ٹپکائے جا رہا ہے ۔۔۔

چل ہٹ میں گھر والا فون دیکھو کب سے بج رہا ہے ۔۔۔

امجد نے موقع غنیمت پاکر فورا رسوئی کا رخ کیا ۔۔

نور بانو اپنے مخصوص انداز میں اپنے خیالوں میں گم ہنڈیا میں ڈوئی چلا رہی تھی۔۔۔

امجد کے سلام کے ساتھ ایک دم چونکی اور منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی چیخ کو روکا ۔۔۔

آ آ آ آ آ پ ماموں امجد کچھ چاہیئے تھا اس نے دوپٹے کو مذید پھیلایا ۔۔۔

امجد کمینگی دکھاتے ہوئے للچائی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔اور بولا ۔۔ماموں نہ بولا کرو مجھے لڑکی ۔۔۔

میں تمھارا ماموں نہیں ہوں ۔۔۔

نور بانو نے اس بات کو نظر انداز کرتے ہوئے ادب سے بولا آپ تائی جی کے پاس بیٹھیں میں آپ کے لئے شربت لاتی ہوں ۔۔۔۔

نہیں چاہیئے مجھے شربت وربت مجھے تو تم چاہیئے ہو ۔۔۔ میری لاڈو!!!!

وہ کمینگی دکھاتے ہوئے اس کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *