Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gharonda (Episode 19)

Gharonda by Umme Umair

جب خوب رو چکی تو خود ہی صوفے پر بیٹھ گئی ۔۔ یحیی نے لمبی سانس کھینچی اور کچن سے پانی لے کر آیا ۔۔ یہ لو پیو !!

میں ابھی یو-پی-ایس کو کنیکٹ کرتا ہوں ۔۔ منشی چاچا شاید بھول گئے تھے ۔۔

نور نے گلاس پکڑتے ہی منہ سے لگا لیا ،ایسے لگ رہا تھا کہ تھر کے صحرا میں بیٹھی ہوئی ہے ۔۔ خشک گلے میں کانٹے چبھ رہے تھے ۔۔ ابھی اس نے پانی بھی ختم نہ کیا ہوگا کہ یحیی نے یو-پی-ایس کا کنیکشن بحال کر کے کمروں کو روشن کر دیا اور پھر معنی خیز مسکراہٹ چہرے پر سجا کر بولا کہ تم تو کہتی تھی کہ نہیں ڈروں گی ۔۔۔ پھر یہ سب کیا تھا ؟؟

میں ڈر تو نہیں رہی تھی میں تو مقابلہ کر رہی تھی جنوں سے ۔۔

اچھا !!

کافی صحت مند دھمکیاں دی ہیں تم نے جنوں کو ،اب تو انکا باپ دادا بھی ادھر کا رخ نہیں کرے گا ۔۔

آنکھیں دیکھو کیسے رو رو کر سجھا لیں ہیں ۔۔ نور اداس ، خاموش صوفے پر پاوں اوپر کیئے یک ٹک فرش کو گھورے جا رہی تھی ۔۔

ابھی تو تم کچھ بھی نہیں بول رہی ، 2 دن پہلے تو بڑے بڑے دعوے کر رہی تھی ، بے لوث اور بے تحاشا محبت اور پتا نہیں کیا کیا ۔۔ یحیی نے قریب ہو کر نور کے کان میں سرگوشی کی ۔۔۔

نور نے پلکوں کی جھالر کر جنبش دیتے ہوئے یحیی کو دیکھا اور بولی ۔۔

وہ تو ابھی بھی ہے اور مرتے دم تک رہے گی ۔۔

اچھا جی !! اگر میں کہوں کہ مجھے نہیں ہے تو ؟؟؟

یہ تو پھر آپکی مرضی ہے ، میں زبردستی آپ سے محبت نہیں کروا سکتی ۔ ۔۔۔

اچھا خیر مجھے ابھی کھانا چاہیے 10 بج چکے ہیں ۔۔ وہی دن والی دال ہے ؟؟؟ جی وہ بھی ہے اور ساتھ رسلی مرغی بھی بنا لی ہے ، میں ابھی پھلکے ڈال کر لاتی ہوں ۔۔

اپنے ہاتھ دھو لیں ۔۔

یحیی نے گہری نظروں سے نور کو دیکھا تو وہ بوکھلا گئی ، گرتے گرتے بچی ۔۔۔

ایک تو تم گرتی بہت ہو ۔۔

معافی چاہتی ہوں جی !!

کتنے پھلکے کھائیں گے ؟؟

ابھی تو 2 بنا لاو پھر بعد میں دیکھتے ہیں ۔۔فریج میں سے گندھا آٹا نکالا ساتھ ہی دونوں سالن گرم ہونے کے لئے رکھ دئیے اور گول مٹول خوبصورت گرما گرم پھلکے چنگیر میں نکالے، سالن ڈال کر ٹرے میں سجا کر باہر لے آئی ۔۔۔

آپ کھائیں میں پانی لے آؤں ۔۔ تم نہیں کھاو گی ؟؟ میں نے تھوڑی دیر پہلے کھایا تھا تو اس لیئے ابھی بھوک نہیں ہے ۔۔

ادھر آو میرے پاس بیٹھو ۔۔ جی !!

نور چونک گئی ۔

منہ کھولو ، نور تو بےہوش ہو کر گرنے والی تھی ، اتنا خیال اور وہ بھی میرا ؟!

حیرت سے یحیی کو دیکھے جارہی تھی ۔

منہ کھولو گی تو نوالہ منہ میں جائے گا یا پھر کرین منگوا لوں جو تمھارے منہ میں نوالے ڈالے گا ۔۔

نن نہیں آپ پہلے کھا لیں ۔۔

نہیں یہ تمھارا انعام ہے جنوں کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ بازی کرنے کا ۔

نور نے ہاتھ آگے بڑھا کر نوالہ پکڑنا چاہا لیکن یحیی نے کہا میرے ہاتھ سے نوالہ نور بانو کے منہ میں جائے گا ۔۔۔

اپنا نام یحیی کی زبان سے سن کر آنکھیں بھرا گئیں ۔۔ پچھلے 10 دنوں میں یحیی نے کبھی بھی اسکو اسکا نام لے کر نہیں پکارا ۔۔ ہمیشہ لڑکی کہہ کر مخاطب کیا ۔۔۔۔

ابھی نوالہ چبا بھی نہیں پائی ہو گی کہ آنسو ٹوٹ ٹوٹ کر آنکھوں سے گر رہے تھے ۔۔

ارے پگلی روتی کیوں ہو ؟؟ میں کوئی زہر تو نہیں کھلا رہا تمھیں ؟!

یہ بات نہیں ہے ۔۔ تو پھر کونسی بات ہے ؟

آپ نے آج پہلی بار مجھے میرے نام سے پکارا ہے تو اس لیئے رونا آگیا ہے ۔۔۔

اب تم میرے ساتھ باندھ دی گئی جو ہو تو مجبورا نام پکارنا ہی پڑے گا ۔۔۔

نور کی ساری خوش فہمیاں جھاگ بن گئیں ۔۔ دل میں شدید چوٹ لگی ۔۔۔

“”کاش کے تو انسیت کا ڈاکا ڈالے اک دن

میری محبت کا تقاضا ہے دل آس پاس رکھنا “”

اور لو گی ؟! نہیں آپ کھائیں میں پانی لائی ۔ کچن میں آکر خوب آنسو گرائے اور دل۔کی گہرائیوں سے دعا مانگی ۔

اے میرے مالک یحیی کے دل میں میرے لیئے محبت پیدا کر ، انکے دل میں میرے لیئے وسعتیں پیدا فرما ، مجھے انکی نظروں میں خوبصورت بنا آمین یا رب العالمین ۔۔۔

نور ایک پھلکا اور لے آو ۔۔

جی اچھا ابھی لائی ۔۔

کھانے سے فارغ ہو کر یحیی نے اپنا لیپ ٹاپ کھول لیا ۔ نور برتنوں کی دھلائی کے بعد باقی صفائی کر رہی تھی کہ کان میں اچانک یحیی کی آواز پڑی ۔ ارے واہ زہے نصیب! آج کیسے یاد کر لیا اس نا چیز کو ؟ پچھلے 10 دن سے بلا ناغہ فون اور میسیجز بھیج رہا ہوں لیکن تمھاری باتیں سمجھ سے باہر ہیں ۔۔

خیر کوئی نہیں دیر آئے درست آئے ۔۔۔

میں ابھی سرگودھا میں ہی ہوں اسے بھی ساتھ ہی لایا ہوں ، بےجی امی کو جانتی تو ہو نا ۔۔

کیوں فکر کرتی ہو ؟ آ

یحیی بات کرتے کرتے دوسرے کمرے میں چلا گیا ۔۔

نور دل۔مسوس کر رہ گئی ، یقینا روحہ ہو گی ، یحیی کی محبت ۔۔۔۔۔میری زندگی کی کڑی آزمائش ۔۔

نور نے ساتھ والے کمرے میں عشاء کی نماز ادا کی اور پھر بستر پر دراز ہوگئی، صبح سے سفر اور پھر پورا دن کام کی تھکاوٹ اور اوپر سے جنوں کی سوچ ، اسے ہلکان کئے جا رہا تھا ۔۔

مسنون اذکآر کے بعد دائیں کروٹ لیٹی تو نیند کی گہری وادیوں میں چلی گئی ۔۔۔۔

آنکھ صبح 4 بجے کھلی تو ایک دم یحیی کا خیال دل میں آیا، پتا نہیں کدھر چلے گئے ہیں یا اس کمرے میں آئے ہی نہیں ہیں؟!

وہ کیوں آئیں گے؟؟

میں اچھی تھوڑی لگتی ہوں انکو؟ روحہ جو ہے انکے دل کی رانی ۔۔۔

خیر میں کیوں اپنا خون جلاوں ؟!

وضو کیا ، فجر ادا کی ، مسنون اذکآر اور کلام پاک کی تلاوت کے بعد رخ اوپر والے پورشن کا کیا ۔۔

7 بج رہے تھے، سورج اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا ۔۔ 4 گھنٹوں میں جالوں سمیت کونا کونا صاف کیا ۔۔۔

صفائی کے بعد سوچا دیکھوں یحیی شاید اٹھے ہوں ۔۔۔

نیچے آکر دیکھا تو یحیی گہری نیند سو رہا تھا ۔۔

اٹھاوں یا نہ اٹھاوں؟؟ رہنے دو خود ہی اٹھ جائیگے ۔۔ اگر میں نے اٹھایا تو خوامخواہ غصہ کریں گے ۔۔۔

بہتر ہے پہلے خود شاور لے کر اپنے کپڑے بدل لوں ، ابھی تو بھوک بھی سخت لگی ہے ۔۔۔

اپنے شاور کے بعد یحیی کا کلف لگا کرتا شلوار استری کر کے اس کے کمرے کی الماری میں خاموشی سے لٹکا آئی ۔۔۔

باہر لان میں آکر پودوں کو پانی دیا ۔۔

یحیی کی گاڑی مٹی سے اٹی ہوئی تھی جی چاہا اسکو بھی گوری کی طرح نہلا دے ۔۔۔

لیکن یحیی کے خوف سے اس خیال کو ترک کر دیا ۔۔۔

کچن میں جاتے ہی پیچھے سے یحیی کی آواز آئی جلدی سے مجھے چائے بنا دو مجھے نکلنا ہے ابھی ، پہلے ہی بہت دیر ہو گئی ہے ۔۔

جی اچھا ابھی لائی ۔۔۔

چائے کا کپ رکھتے ساتھ ہی یحیی اٹھ کھڑا ہوا اور بولا آج شام سے پہلے آ جاوءں گا ڈرنا نہیں ہے ۔۔۔

جی اچھا ٹھیک ہے ۔۔۔

چابی موبائل اٹھاتا یحیی یہ جا اور وہ جا ۔۔۔

سارا دن ایک کمرے سے دوسرے میں گزارا ، آخر تنگ آ کر اپنی تنہائی کی ساتھی کرن کی دی ہوئی کتابیں سوٹ کیس سے نکالیں ۔۔۔

پھر وقت گزرنے کا پتا بھی نہ چلا ۔۔۔

یحیی کی واپسی مغرب سے پہلے ہو گئی ،

دن کا حال احوال پوچھ کر کھانے کی دھائی دی ۔۔

نور نے کھانا دے کر مغرب ادا کی ۔۔

یحیی نے سیر ہو کر کھانا کھایا، دل ہی دل میں تعریف کئے بنا نہ رہ سکا اس لڑکی کے ہاتھوں میں کمال کی لذت ہے ، سادے سے سادہ کھانا بھی لذت سے بھر پور ہوتا ہے ۔۔۔۔

کھانا ابھی ختم ہی کیا تو زور دار چیخ سنائی دی ،فورا کمرے کی طرف لپکا تو نور بانو اپنی ایک ٹانگ پکڑ کر کھڑی تھی ، آنکھوں سے آنسو جاری تھے ۔۔

کیا ہوا ہے نور ؟؟!

وہ وہ دیکھیں بچھو جا رہا ہے ، اس نے مجھے ابھی ڈس لیا ہے ۔۔۔

یحیی نے فورا اپنی پشاوری چپل اتار کر بچھو کو موت کے گھاٹ اتارا ۔۔

نور شدت سے تڑپ رہی تھی ، ایسے لگ رہا تھا جیسے آگ کے دہکتے انگارے پر پاوں رکھ دیا ہو ۔۔

یحیی نے فورا نور کو پکڑ کر بستر پر بٹھا کر اس کا پاوں دیکھا تو پاوں کے نیچے بچھو کا ڈنگ نظر آیا ۔۔۔

چلو میں تمھیں ابھی ڈاکٹر کے پاس لے کر چلتا ہوں لیکن ایک گھنٹہ لگ جائے گا پہنچنے میں ۔۔۔

ڈاکٹر رہنے دیں مجھے آپ کچن سے لہسن کوٹ کر لا دیں ۔۔۔

میں ابھی ساتھ ساتھ سورہ الفاتحہ کا دم کرتی ہوں ۔۔۔

آنسو مسلسل بہہ رہےتھے لیکن زبان سے ایک کلمہ بھی ناشکری کا ادا نہ ہوا ۔۔۔

یحیی نے کچن کا رخ کیا تو پتا نہیں چل رہا تھا کہ لہسن کونسا ہے ؟ پیاز، ادرک اور لہسن سب اٹھا لایا ۔۔ ان میں سے کونسا ہے ؟؟ کبھی کچن میں گیا ہوتو پتا ہوتا ۔۔۔

نور نے لہسن کے 2 جوے دیئے کہ سل بٹا میں کوٹ کر لے آئیں ۔۔۔

خود پاوں پر ہاتھ رکھے سورہ فاتحہ کا دم کئے جا رہی تھی ،ایسے لگ رہا تھا کہ بچھو کا زہر پورے جسم میں سرائیت کرتا جا رہا ہے ۔

یحیی سل ہی اٹھا لایا ، اب کیا کروں؟؟

آپ اسکو میرے پاوں کے نیچے رکھ کر اوپر کوئی کپڑا باندھ دیں ، نور نے کراہتی آواز میں بولا ۔۔

وہ الماری میں سے میرا کوئی ململ کا دوپٹا پھاڑ لیں ۔۔۔

نور مسلسل دم کئے جا رہی تھی ۔

نور خالی دم سے آرام نہیں آئے گا یحیی بولا ، نہیں صحابہ کرام رضوان اللہ عليهم أجمعين نے سانپ کے کاٹے کا علاج بھی صرف سورہ فاتحہ سے کیا تھا، کیونکہ انکا تقوی اور ایمان اللہ کے کلام پر بہت مضبوط تھا ۔۔۔

مجھے بھی ان شاءاللہ آرام آجائے گا ۔۔۔

آدھے گھنٹے کی مسلسل مشقت کے بعد کچھ بہتر محسوس کیا تو یحیی نے ڈاکٹر کے پاس لے جانے کا کہا لیکن نور نے بولا میں اب پہلے سے ٹھیک ہوں رہنے دیں ڈاکٹر کو ۔۔۔

نور میں کھانا لاتا ہوں تم نے نہیں کھایا تھا ابھی تھوڑا سا کھا لو ۔۔۔ نہیں مجھے بھوک نہیں ہے آپ صرف پانی لا دیں ۔۔۔

پانی پینے کے بعد نور نے سر تکئے کے اوپر رکھ کر آنکھیں موند لیں ۔۔۔ یحیی اس کو ٹکٹکی باندھے دیکھے جا رہا تھا ، نور گہری نیند میں چلی گئی تو اسکو سیدھا کر کے اوپر چادر اڑا دی اور خود ساتھ ہی پائنتی پر بیٹھ گیا ۔۔۔

تھوڑی دیر بعد نور کے ماتھے کو چھوا تو تھوڑا گرم محسوس ہوا، سوچا شاید تکلیف کی وجہ سے ہو رہا ہے ۔۔۔ پھر کچھ سوچ کر ساتھ والے تکئے پر لیٹ گیا ۔۔۔

آنکھ ایک دم ایک کراہ پر کھلی ۔۔ نور بخار سے آگ کی بھٹی میں جل رہی تھی ۔۔

آف اللہ اسکو تو بہت تیز بخار ہو گیا ہے، نور کچھ بڑبڑائی، یحیی غور سے سننے کی کو شش میں اسکے مذید قریب ہوا۔۔۔۔ تائی جی مجھے نہ ماریں، میں نے کچھ نہیں کیا ، تائی جی مجھے نہ ماریں ۔۔۔

بخار کی شدت سے نور ہوش سے بےگانہ بولے جا رہی تھی ۔۔۔

یحیی نے بھاگ کر فریزر سے برف نکال کر اور بڑے پلاسٹک کے ڈونگے میں پانی ڈالا اور نور کا دوپٹا لے کر ڈبو ڈبو کر اسکے سر پر ٹھنڈی پٹیاں رکھنی شروع کر دیں ۔۔۔

نور کا نورانی چہرہ بخار کی شدت سے لال ہو رہا تھا ۔۔ خوبصورت گلابی ہونٹ خشک ہورہے تھے ۔۔۔

گھنٹے کی تگ و دو کے بعد نور کا بخار کچھ کم ہوا۔۔۔یحیی نے سکھ کا سانس لیا ۔۔

ہوش میں آتے ہی نور کے ہونٹ ہلنے شروع ہو گئے ، یحیی اسکی ہر حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھا ۔۔۔

اتنی تکلیف میں بھی یہ لڑکی حرف شکایت زبان پر نہیں لائی اور ابھی استغفار کر رہی ہے ۔۔

“استغفر الله واتوب اليه “(صحیح بخاری:6307؛صحیح مسلم:6702)

“”میں اللہ سے بخشش کی طلب کرتی ہوں اور اسی کی طرف توبہ کرتی ہوں ۔۔۔”””

دور گاؤں میں اذان سنائی دی ، نور نے آنکھوں کو جنبش دی اور مشکل سے آنکھیں کھولیں پھر بھاری سر اٹھانے کی کوشش کی ۔۔۔

نور کیا کر رہی ہو ؟؟ لیٹی رہو ۔۔۔

مجھے وضو کرنا ہے میری عشاء کی نماز بھی فوت ہو گئی ہے اور ابھی شاید فجر کی اذان ہو رہی ہے ۔۔۔

تمھاری طبعیت بہت خراب ہے بعد میں پڑھ لینا ۔۔

نہیں مجھے لے چلیں میرے دل کو سکون نہیں ملےگا ۔۔ نور نقاہت بھری آواز میں بولی ۔۔۔

اچھا چلو اگر ضد کرتی ہو تو میں تمھیں ۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *