Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gharonda (Episode 21,22)

Gharonda by Umme Umair

سنو نور !

جی ! یحیی نے ناشتہ کرتے ہوئے نور کو مخاطب کیا ، اگر میں تمھیں فون لے کر دوں تو استعمال کر سکو گی ۔۔ جبکہ یحیی کو بخوبی اندازہ ہو چکا تھا کہ نور کا دماغ کتنی تیزی سے ہر بات کو لیتا ہے ۔

میں نے کیا کرنا ہے فون کو ؟!

مجھے جب ضرورت پڑتی ہے تو آپکے فون سے بات کر لیتی ہوں، مجھے تو کوئی ایسی خاص ضرورت نہیں ہے فون لینے کی ۔۔۔۔

نہیں ضرورت ہے ابھی ، مجھے کل گھر آنے میں بہت دیر بھی ہو سکتی ہے تو رابطے کے لیے بہت ضروری ہے ۔۔۔

چلیں جیسے آپ بہتر سمجھتے ہیں مجھے صرف ایک دفعہ اس کے استعمال کا طریقہ بتا دینا ، پھر مجھے پتا چل جائے گا ان شاءاللہ ۔۔۔

چلو ابھی تیار ہو جاوء تمھیں بازار لے کر جانا ہے ۔ کچن کے سامان کی لیسٹ بنا لو جو بھی چیزیں ختم ہیں وہ بھی لیتے آئیں گے اور تمھارا نیا فون بھی ۔۔

جی اچھا نور نے فورا حکم کی تعمیل کی اور برقعہ چادر اوڑھے سامنے آ بیٹھی ۔۔ سنیں میں تیار ہوں ۔۔

وہ تو نظر آرہا ہے مجھے ،چلو نکلو پھر اور ہاں سب کھڑکیاں دروازے چیک کرو کوئی کھلا نہ رہ جائے آجکل چرسی افیمیوں کے ہاتھ کوئی بھی چیز لگ جائے تو چرا لیتے ہیں ۔۔۔

نور کی سلیقہ شعاری کے تو کیا کہنے ؟! امور خانہ داری میں ماہر نور یحیی کو یہ بات تسلیم کرنے پر مجبور کر چکی تھی ، لیکن یحیی نور کو یہ بات کبھی بھی بتانا نہیں چاہتا تھا کہ وہ اسکی سلیقہ شعاری سے متاثر ہو چکا ہے ۔۔۔۔

گھر لوٹتے ہی نور نے تمام اشیاء خورد و نوش کو انکی اپنی مخصوص جگہوں پر ترتیب سے رکھا پھر یحیی کو ٹھنڈا روح افزا پیش کیا ۔۔۔

پھر یحیی کے حکم کے مطابق فون کے طریقہ استعمال کو ازبر کیا ۔۔۔

ارے واہ!! تم تو بہت جلدی سیکھ گئی ہو اور تمھاری انگلیاں تو ایسے چل۔رہی ہیں کی بورڈ پر جیسے کتنے سالوں سے ٹائیپ کرتی آرہی ہو ۔۔۔

جی جو چیز ایک دفعہ میری نظر سے گزر جائے تو وہ میرے دماغ میں محفوظ ہوجاتی ہے ۔۔۔

اور کیا کیا محفوظ کیا ہوا ہے اپنے دماغ میں ؟؟

میرا مطلب ہے تایا جی کی گوری صاحبہ کے علاوہ بھی کچھ ہے دماغ میں محفوظ؟؟!

نور میٹھا مسکرائی اور بولی ابھی تو صرف آپ ہی محفوظ ہیں، باقی دماغ کے سب خانے مقفل کر دیئے ہیں ۔۔۔

میرے خیال میں ان خانوں کو بھی کھولو تاکہ تازہ ہوا کے جھونکے اندر باہر ہوں ورنہ یہ خانے بھی باسی ہو جائیں گے تمھاری دال کی طرح ۔۔۔۔

نور کھکھلا کر ہنس دی لیکن پھر دل کے کسی کونے میں ایک کسک سی اٹھی اور نہ چاہتے ہوئے بھی دھیان روحہ کی طرف چلا گیا ۔۔۔کتنی خوش ننصیب لڑکی ہے کہ جسکو یحیی جیسا مرد بےپناہ چاہتا ہے ۔۔

کاش ! یحیی مجھے بھی اتنا ہی چاہیں ۔۔۔

میں بھی کتنی ناشکری ہوگئی ہوں ، یااللہ مجھے معاف فرما ۔۔۔

وہ دن وہ لمحات بھول گئی ہو نور جب تائی سے مار اور صبح شام طعنے ملتے تھے اور اب دیکھو اس شخص کی رفاقت میں ہر چیز میسر ہے بلا کسی قسم کی روک ٹوک کے ۔۔۔

کیا ہوا اگر یہ شخص تم سے محبت نہیں کرتا یہ تمھارے آرام و سکون کا تو خیال کرتا ہے ، ہر ضرورت کی چیز بنا پوچھے لا کر دیتا ہے ۔۔

اور سب سے بڑی نعمت تم اسکے نام کے ساتھ جڑی ہو بہت عزت و وقار کے ساتھ ۔۔۔

اور ویسے بھی محبت تو دل کا کھیل ہے جس میں جیت صرف اور صرف خواہشوں کے محاذ پر ڈٹ جانے والوں کی ہوتی ہے اور میں اس محاذ پر ڈٹ کر مقابلہ کروں گی ان شاءاللہ ۔ میرا ہتھیار میری دعائیں ہوں گی ، اس دنیا کا سب سے قیمتی اسلحہ، جسکی قیمت ” توکل” اور “امید” ہے ۔۔۔

نور کے دل ودماغ میں سوال و جواب کا خود ساختہ سلسلہ اپنے پورے زور پر تھا جب یحیی نے اسکے چہرے کے سامنے ہاتھ لہرائے ۔۔۔

کدھر گم ہو نور بانو ؟!

آج کھانا پکانے کا بھی ارادہ ہے یا صرف خیالی پلاؤ ہی پکاو گی ؟؟

نہیں نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے میں تو بس ویسے ہی ۔۔۔۔

آپ بتائیں کیا پکاوں آج ؟

آج وہی دال بنا لو جو اس دن بنائی تھی ۔۔

دال !! نور کا منہ حیرت سے کھل گیا، آپ دال کھائیں گے ؟؟

پہلے تو نہیں کھاتا تھا لیکن اب کھانے لگا ہوں ۔۔ کیوں کوئی اعتراض ہے کیا؟

ارے نہیں بالکل بھی نہیں ہے اعتراض، میں تو بس ویسے ہی ، نور نے گھبراہٹ میں اپنی انگلیوں کو مروڑا۔۔۔

کھانے کے بعد نور نے اجازت طلب نظروں سے یحیی کی طرف دیکھا اور پوچھا وہ وہ میں کرن کو فون کر لوں ؟؟

آپکو یاد ہو گا کل پھپھو جان نے بتایا تھا کہ تائی جی کافی بیمار ہیں تو میں بس اسی سلسلے میں فون کرنا چاہتی ہوں ۔۔۔

فون میں نے خوبصورتی میں اضافے کے لئے نہیں لے کر دیا ، اسکو اپنے استعمال میں لاو ۔۔

جی اچھا بہت شکریہ!

کبھی کبھی تو اتنی نعمتوں کا سوچ کر نور کے آنسو چھلک پڑتے ۔۔۔

اور ہاں سنو ! میری بات ہوئی تھی منیر وسیم جلال الدین سے اسکو تو کوئی اعتراض نہیں ہے اب جب اسلام آباد واپسی ہوتی ہے تو اسکو بھی کنارے لگاتے ہیں ۔۔۔

جی ضرور ان شاءاللہ نور نے مسکرا کر دل کی خوشی کو ظاہر کیا ۔۔۔

رات اچانک نور کی آنکھ کھلی تو سامنے نظر دیوار پر لگے بڑے گھڑیال پر گئی تو رات کے 2 بج رہے تھے، کمرے میں مکمل سناٹا جبکہ دوسرے کمرے سے سرگوشیاں کی آواز اور لگاوٹ سے بھر پور ہنسی کی آوازیں آرہی تھیں ۔۔۔

ایک ٹھیس اٹھی ، کاش یحیی اس نامحرم لڑکی سے بات نہ کیا کریں ، کتنے گناہگار ہوتے ہیں خوامخواہ کے اس شیطانی کھیل میں ۔۔

اے میرے مالک مجھے ہمت دے کہ میں یحیی سے بات کر سکوں ۔۔

اب آنکھ کھل ہی گئی ہے تو بہتر ہے کہ نوافل ہی ادا کر لوں ، رات کے آخری پہر میں دعائیں ویسے بھی قبول ہوتی ہیں ۔۔۔

نور نے آرام سے واش روم کا دروازہ کھولا اور بہت خاموشی کے ساتھ وضو کر کے نوافل شروع کر لیئے ۔۔۔

نور کی رقت آمیز دعاوں کا سلسلہ اسکے خوبصورت گورے گالوں کو تر کیے جا رہا تھا ۔۔

پھر فجر کے بعد صلاتہ الاستخارہ ادا کی اور فیصلہ کر لیا کہ آج یحیی سے اس موضوع پر ضرور بات کروں گی ان شاءاللہ ۔۔۔

ناشتے کے بعد نور بےچین ، بے کل ہو رہی تھی ، سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یہ بات کرنے سے یحیی کتنا بھڑک اٹھیں گے ، یہ نہ ہو پہلے جیسا رویہ دوبارہ اپنا لیں ۔۔ نور اسی شش و پنج میں مبتلا تھی پھر فیصلہ کر ہی لیا ۔۔

میرے مالک مجھے ہمت دے میں احسن طریقے سے اپنے دل کی بات انکو سمجھا سکوں آمین یا رب العالمین ۔۔۔

وہ وہ مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی تھی اگر آپ اجازت دیں تو کروں ؟؟

نور کے تو خوف کے مارے پسینے چھوٹ رہے تھے ، ہاتھ بھی ہلکے ہلکے کانپ رہے تھے ۔۔

یحیی نے کچھ دیر انتظار کے بعد بولا کیا بات کرنی ہے؟؟ بولو ۔۔

جی وہ آپ سے درخواست ہے کہ میری پوری بات سنیں گے اور غصہ نہیں ہوں گے ۔

آپ صرف میری بات سن لیں اور عمل اپنی مرضی سے ہی کریں ۔۔ یہ مت سمجھئے گا کہ میں اپنی مرضی چلانا چاہتی ہوں میں تو بس اک التجا کر رہی ہوں ۔۔ مجھے بس سن لینا ۔۔

یحیی نے لمبی تمہید سے زچ ہو کر نور کو دیکھا اور کہا بولو کیا پہلیاں بجھوا رہی ہو ۔۔

وہ آپ کا کسی غیر محرم میرا مطلب ہے نامحرم لڑکی سے بات کرنا جائز نہیں ہے ، یہ گناہ کا کام ہے آپ ایسا نہ کیا کریں مجھے تکلیف ہوتی ہے کہ آپ گناہ کے مرتکب ہو رہے ہیں ۔۔

نور نے ساری بات ایک ہی سانس میں بول دی لیکن اب یحیی کے چہرے کے بدلتے تاثرات اس کا خون خشک کرنے کے لیئے کافی تھے ۔۔۔

سننے کا حوصلہ ہے تم میں نور بانو تو سنو !!

یحیی کھڑا ہو گیا اس نے نور بانو پر زور دے کر اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مزید قریب ہو کر بولا ۔۔۔

وہ لڑکی میری غیر محرم یا نامحرم نہیں ہے ۔بیوی ہے وہ میری ، میں نے اس سے شرعی طریقے سے نکاح کیا ہے ۔۔۔

روحہ بنت مرتضی اب زوجہ یحیی سلطان بن چکی ہے ۔۔ ۔۔

نور بانو کو تو ایسے لگ رہا تھا کہ زمین چاروں طرف سے گھوم رہی ہے اور وہ ابھی کے ابھی گر جائے گی ۔۔

چہرے کا رنگ سفید لٹھے جیسا ہو گیا ، ایسے لگ رہا تھا کہ سارے جسم کا خون نچوڑ لیا گیا ہو ، زبان گنگ ہو کر رہ گئی ۔۔

نور بانو پاس پڑے صوفے کے اوپر گرنے والے انداز میں ڈھ سی گئی ، آگے کچھ بھی بولنے کا حوصلہ نہ تھا بس پھٹی پھٹی آ نکھوں سے یحیی کو دیکھے جارہی تھی ۔۔۔

نور تم کیا سمجھتی تھی کہ میں اتنا بدکردا ہوں کہ میں تم سے رات کو چھپ چھپ کر کسی غیر لڑکی سے دل۔لگی کرتا رہوں گا ۔۔

اور منیر وسیم جلال الدین جیسا بندہ میرے ساتھ تعلقات رکھتا ؟! میں اتنا بھی گرا انسان نہیں ہوں کہ کسی کی بہن بیٹی کو اپنی باتوں کے جال میں پھنسا کر اپنے شیطانی خیالات کو تقویت پہنچاوں جبکہ میری اپنی دو بہنیں میرے گھر میں موجود ہیں ، میں چاہے دین اسلام پر مکمل طور پر عمل پیرا نہیں ہوں لیکن میں اپنے دین کو سمجھتا ہوں اور اس بات کو سمجھانے میں منیر وسیم کا بہت بڑا ہاتھ ہے ۔۔

ہاں یونیورسٹی میں ہنسی مذاق بہت کرتا تھا لیکن میری ایک حد مقرر تھی ۔۔۔

روحہ میری پہلی نظر کی محبت ہے جس کے بارے میں پہلے دن سے تمھیں آگاہ کر چکا ہوں ۔۔

نور خاموش مجسمہ بنی بیٹھی تھی کہ اگر اٹھی تو گر کر زمین بوس ہو جائے گی ۔۔۔

اب تمھارے دماغ میں بہت سارے سوال گردش کر رہے ہونگے کہ یہ سب کب کیسے ہوا ؟!

تو نور صاحبہ جس دن آپ میری شریک سفر بنی تھی اس کے دوسرے دن ہی میں نے روحہ سے نکاح کر لیا تھا ۔۔۔

نور گردن جھکائے اپنے ناخنوں کو کھرچ رہی تھی ۔

“میں بھی کیسی الفت رکھتی ہوں؟!

روز ٹوٹتی ، روز جڑتی ہوں

اک بیگانہ سا تعلق ہے اس سے

روز ملتی، روز بچھڑی ہوں

چاہے جانے لگتی ہوں لیکن

اک عہد پہ جیتی مرتی ہوں ۔”

نور تم بول نہیں رہی ابھی ؟ کیوں کیا میرا یہ حلال رشتہ ہضم نہیں ہو پا رہا ؟؟ یا پھر حسد کی آگ میں جل رہی ہو ؟

نور نے گردن نفی میں ہلائی اور گویا ہوئی ۔۔

میں حسد کر کے اپنی نیکیوں کو کیوں بھسم کروں گی ؟!

میرے نصیب، میرے مقدر کا مجھے مل کر رہے گا اور روحہ کو اسکے نصیب کا ملے گا ۔۔۔

میں کبھی بھی آپکی پسند کی بےحرمتی نہیں ہونے دوں گی ان شاءاللہ ۔ دل والے ہی دل کے معاملات کو نبھاتے آئے ہیں ۔۔۔۔

صرف مجھ سے 3 باتوں کا وعدہ کریں کہ آخری دم تک انکو نبھائیں گے ۔۔

پہلی بات کبھی بھی میرا نام آپکے نام سے الگ نہیں ہو گا ، میں چاہتی ہوں میرے محرم میرے محبوب کا نام میری آخری سانسوں تک جڑا رہے ، آپ چاہے مجھ سے محبت نہ کریں میں کوئی گلہ نہیں کروں گی لیکن میری عزت پہ حرف نہ آنے دینا ، میں نہیں چاہتی میری وجہ سے میری محسن میری پھپھو کو کوئی تکلیف پہنچے ، آپ سب کے سامنے مجھے عزت دیں گے اور تنہائی میں چاہے تو مار بھی لیں اف تک بھی نہیں بولوں گی ان شاءاللہ ۔۔

اور تیسری بات میری کرن میری بہن کو منیر وسیم جلال الدین سے بیاہ دیں میں آپکی یہ نیکی پوری زندگی نہیں بھولوں گی ۔۔۔

میں چاہتی ہوں کہ میری محسنہ ، میری سہیلی کو اسکی پارسائی اور پاکیزگی کا بہترین صلہ ملے۔

نور نے آنسوؤں سے تر چہرے کو اوپر اٹھایا اور یحیی کو دیکھا جو ۔۔

Episode 22

نور نے آنسوؤں سے تر چہرے کو اوپر اٹھایا اور یحیی کو دیکھا جو اس بہادر شاکرہ لڑکی کی باتیں سن کر حیرانی کے سمندر میں غوطہ زن تھا ۔۔

نور تم کس مٹی کی بنی ہو؟؟ نا چاہتے ہوئے بھی یحیی پوچھ بیٹھا ۔۔۔

آپکو جواب اسلام آباد والا چاہیئے یا سرگودھا والا نیا جواب دوں ؟؟ نور نے اپنے آنسوؤں کو صاف کرتے ہوئے زخمی مسکراہٹ سے پوچھا ۔۔۔

اسلام آباد والا جواب تو میرے دماغ میں ہے ۔ اب میں سرگودھا والے جواب کے لئے ہمہ تن گوش ہوں ۔۔ یحیی نے اصرار کیا ۔۔۔

سرگودھا کے حالات و واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے میرا جواب کچھ اس طرح سے ہے ۔۔۔

“”امید کے دیئے جلائے رکھنا

رفاقتوں کے اس نئے سفر میں

جو نہ لوٹے تیرے پاس نیا پن اس کا

اسے اپنی پلکوں پر بٹھائے رکھنا

امید کے دیئے جلائے رکھنا

بے وفائی اس کی پر نہ جا ساتھی

تر تکئے اس کے لئے لگائے رکھنا

کچھ عجب ہے اس کے تازہ گھاو میں

حرف معتبر سے اسکو چھپائے رکھنا

امید کے دیئے جلائے رکھنا

جو نہ پائے تو معیار محبت اس کا

بات ہونٹوں میں دبائے رکھنا

سہہ جانا کانٹوں کی چبھن کو

قدر کی للکار پر لبیک سنائے جانا

امید کے دیئے جلائے رکھنا

امید کے دیئے جلائے رکھنا “”

ارے واہ تم تو شاعرہ بن گئی ہو ۔۔۔

جی مجھے شروع سے ہی اردو ادب سے لگاو رہا ہے۔۔ بس ابھی یہ نظم دماغ میں آگئی اچانک سے ۔۔۔

خیر آپ روحہ کو کب گھر لا رہے ہیں اور کیا پھپھو بےجی اس بات سے باخبر ہیں ؟؟

نہیں وہ اس بات سے مکمل طور پر بےخبر ہیں ۔ میں انکو واپس جا کر بتاوں گا ۔۔۔

اللہ سبحان و تعالی آپکے اس نئے بندھن میں برکت ڈالے الہم آمین ۔۔۔ آپ میری دعاوں میں ہمیشہ رہیں گے ان شاءاللہ ۔۔۔ نور نے اسکے بعد خاموشی اختیار کر لی ۔۔۔

یحیی کی نظریں بار بار نور کے چہرے کا طواف کر رہیں تھیں کہ جیسے وہ کچھ کھوج رہا ہو ، کچھ ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا ہو ۔ لیکن نور کا خاموش بے تاثر چہرہ یحیی کو کسی بھی نتیجے پر نہ پہنچا سکا تو مجبورا پوچھ بیٹھا ۔۔

کیا سوچتی رہتی ہو نور ؟؟!

میں اکثر تمھیں خاموش کسی گہری سوچ میں گم پاتا ہوں ۔۔ مجھے تم بتا سکتی ہو اپنا مسئلہ ، میں اگر حل نہ کر پایا لیکن مفید مشورہ تو ضرور دوں گا ۔۔نور نے جھکی گردن اٹھا کر پھیکی مسکراہٹ سے یحیی کی طرف دیکھا ۔۔۔

دھیمے لہجے میں بولی میری الجھی ہوئی خاموشیاں آپکی سلجھی ہوئی یادوں میں رہتی ہیں ۔۔ کوئی مشورہ ہے اس بارے میں آپکے پاس ؟ نور کی سوالیہ نظریں یحیی کے چہرے پر گڑھی تھیں ۔۔

نور تم مجھ سے ناراض ہو ؟ نہیں بالکل بھی ناراض نہیں ہوں ۔ میں کیوں آپ سے ناراض ہونگی بھلا ؟! جنتی عورتوں کی صفات نہیں ہیں خاوند کے ساتھ مقابلہ بازی کرنا اور نہ ہی ناشکری کرنا انکا شیوہ ہوتا ہے ۔۔۔

یحیی نے نظریں چراتے ہوئے پہلو بدلا ۔۔

نور میں تمھاری ضرورت کی ہر چیز مہیا کروں گا ، تم میرے گھر میں رہو گی ، میرے دل۔میں تمھارے لیے بہت عزت و احترام ہے ۔۔

اور تم نے یہ عزت خود کمائی ہے میرا اس میں کوئی کمال نہیں ہے ۔۔ میں تو تمھیں پہلے دن سے ہی دھتکار چکا تھا ۔ تم میری ماں کی پسند ہو اور اب میری عزت ہو ۔۔۔۔

نور خاموشی سے زمین پر نظریں گاڑھے یحیی کی صاف گوئی کو اپنے اندر اتار رہی تھی پھر بولی بہت اچھی لگی ہے آپکی صاف گوئی مجھے ۔۔ اللہ سبحان و تعالی آپکے درجات کو بلند کرے آمین یا رب العالمین۔۔۔۔

یحیی نے صوفے سے اٹھتے ہوئے بولا میرے خیال میں مجھے ابھی نکلنا چاہیے اور ہاں اپنا سیل آن رکھنا اور اپنا دھیان رکھنا ۔۔۔ جی اچھا ۔۔ اللہ آپکو اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین ۔ السلام علیکم !!

یحیی بغیر پلٹے تیزی سے باہر نکل گیا، اسکے گھر سے نکلتے ہی نور ٹوٹ کر بکھر گئی ، اپنے اوپر قابض ضبط کے سارے بندھن ریزہ ریزہ ہو گئے ، نور نے اپنے زخمی دل۔کو ایمان کے پھاہوں کے حوالے کر دیا ۔۔۔

##############################

روحہ روحہ بات کو سمجھنے کی کوشش کرو پلیز ۔ میرے لیئے مزید مشکلات پیدا نہ کرو ، وہ بیوی ہے میری ۔۔ میں اسے کسی قیمت پر نہیں چھوڑ سکتا، یہ بات میں نے تمھیں ہمارے نکاح سے پہلے بھی بتائی تھی ۔۔ میری ماں کبھی بھی مجھے معاف نہیں کرے گی روحہ ۔۔

اسکا میرے علاوہ اور کوئی بھی نہیں ہے ، تایا تائی نے پالا ہے ، اس نے 18 سالہ زندگی یتیمی میں گزاری ہے ۔۔ تمھارے کہنے پر میں نے اسے خلع کا مطالبہ کرنے کے لئے بھی اکسایا تھا وہ کبھی بھی یہ قدم نہیں اٹھائے گی ۔۔

روحہ میری امی اس غم سے نڈھال ہوجائیں گی انکو اپنی بھتیجی بہت عزیز ہے ۔۔ سن رہی ہوں نا ؟!

روحہ زاروقطار رو رہی تھی ۔۔روحہ تمھاری خواہش کے مطابق ابھی تک میں نے اسکو بیوی والا درجہ بھی نہیں دیا ۔کیا یہ کم ظلم ہے ؟! وہ ابھی تک صرف میری منکوحہ کا درجہ رکھتی ہے ۔

مجھے مذید گناہ گار مت کرو روحہ، وہ بےضرر سی لڑکی ہے ، تمھیں اس سے کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی ۔۔ میں نے اسکو اپنے کمرے سے نکال باہر کیا تھا اور اس نے پوری رات نیچے صوفے ہر گزاری تھی ، گھر میں کسی کو بھی کانوں کان خبر نہیں ہونے دی وہ میری عزت کی پاسدار ہے ۔۔۔

یحیی نے گھر سے نکلتے ہی روحہ کو کال کی لیکن وہ اپنے جذبات کی رو میں بہے جا رہی تھی ۔۔۔۔

یحیی اگر امی کی حالت نازک نہ ہوتی تو میں کبھی بھی تم جیسے 2 عورتوں میں بٹے ہو ئے شخص کے ساتھ نکاح نہ کرتی ۔۔۔ تم اسے طلاق دو یا پھر مجھے دے دو ۔۔

لا تشترط المرأة طلاق أختها (صحيح بخاري)

کوئی عورت اپنی (سوکن) بہن کی طلاق کی شرط نہ لگائے ۔۔۔

لا يحل لامرأة تسأل طلاق أختها لتستفرغ صحفتها، فإنما لها ما قدر لها ( صحيح بخاري: 5152)

“”کسی عورت کے لئے حلال نہیں کہ اپنی کسی (سوکن ) بہن کی طلاق کا مطالبہ اس لیئے کرے تاکہ اس کے حصہ کا پیالہ بھی خود انڈیل لے ، کیوں کہ اسے بہرحال وہی ملے گا ، جو اس کے مقدر میں ہوگا “”

یحیی تم نے کہا تھا کہ مجھے صرف ایک ہفتہ دو اور ابھی 20 دن گزر گئے ہیں ۔۔

روحہ پاگلوں والی باتیں نہ کرو ۔ میں یہ نہیں کر سکتا ۔۔۔

ٹھس ہو گئی نا تمھاری ! آگئے نا تم اس پینڈو کی چالاکیوں میں ۔۔

پتا نہیں کتنی شاطر لڑکی ہے ، کیا کیا وظیفے اور جادو ٹونے کرتی ہے جو ابھی تمھارے مزاج ہی بدل گئے ہیں؟!

روحہ وہ ایسی لڑکی نہیں ہے وہ ان شرکیہ کاموں سے پاک ہے وہ صحیح العقیدہ لڑکی ہے ، تم کیوں خوامخواہ اس پر الزام لگا رہی ہو ۔۔۔

یحیی تمھارا ابھی یہ حال ہے تو مزید کچھ اور دن گزرنے سے تم تو آسکے مرید بن کر رہ جاو گے ۔۔۔

روحہ مریدی والی بات سچی نہیں ہے اور نہ وہ اس طرح کی ذہنیت رکھتی ہے ، وہ بالکل منیر وسیم جلال الدین جیسی ہے ۔۔۔

اچھا !!! تو پھر اور اچھا ہے تم طلاق دو اسے اور کروا دو نکاح منیر وسیم جلال الدین سے ۔۔ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے ۔۔۔

جسٹ شٹ اپ روحہ کتنا فضول بولے جا رہی ہو ، مجھے غصہ نہ ہی دلاو تو زیادہ بہتر ہے ورنہ ٹھیک نہیں ہو گا تمھارے لیے ۔۔۔

میرے آج بتانے پر اس نے ہمارے نکاح میں برکت کے لئے دعائیں دی ہیں ، کون عورت ہے جو سوکن کے لئے دعائیں مانگے گی ؟! بتاو تم دو گی دعائیں اسے ؟

نہیں نا ؟!

میں تو اسکی شکل بھی دیکھنا گوارا نہ کروں ۔۔۔

وہ تو ہر چیز گوارا کر رہی ہے بلا کسی چوں چرا کے ۔۔۔ اس کا نکاح تم سے پہلے ہوا تھا اور آج دن تک اس نے مجھے اف تک نہیں بولا ، ہر بات پر لبیک بولتی ہے ۔۔۔

واہ یحیی سلطان بڑے راگ الاپ رہے ہو اپنی نئی نویلی منکوحہ کے ۔۔۔

میں تمھیں حقیقت بتا رہا ہوں لہذا اپنی ضد چھوڑو اور

رخصتی کی تیاری کرو ۔۔۔

میری سرگودھا سے واپسی پر تیار رہنا ۔۔۔

یحیی نے فون بند کر کے گود میں ہی رکھ دیا ۔۔ گہری سوچ میں ڈوب گیا ایک طرف محبت کا نکاح تو دوسری طرف مجبوری کا نکاح ۔۔

لیکن پھر بھی پرانی محبت مجبوری پر غالب آ رہی تھی ۔۔۔۔ کچھ سر پھرے کہتے ہیں کہ محبت انسان کو اندھا کر دیتی ہے ۔۔۔۔۔

گود میں پڑے سیل نے پھر چنگاڑنا شروع کردیا ۔۔

السلام علیکم امی جی!! ہم دونوں خیریت سے ہیں، بس چند دنوں تک واپس آجائیں گے ۔۔ جی نور

بالکل ٹھیک ہے میں اسکا خیال رکھتا ہوں ۔ جو نمبر بھیجا تھا اس پر کال کر لیں آج گھر میں اکیلی ہی ہے ، مجھے ضروری کام سے ساہیوال جانا پڑ رہا ہے ، میں اسکو ساتھ نہیں لے جا سکتا تھا ، ایک تو 3 سے 4 گھنٹے کا سفر ، پھر گاڑی میں بیٹھ کر مزید تھکتی ۔ الوداعی سلام دعا کے بعد یحیی نے فون ڈیش بورڈ پر رکھ دیا ۔۔۔

بار بار نور کی باتیں اس کے کانوں سے ٹکراتی ، روحہ کی ضد کے سامنے یحیی تو مجبور ہو کر رہ گیا تھا ۔ منتشر سوچوں کے ساتھ 70 کی رفتار سے گاڑی اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی ۔۔

پھر کچھ سوچ کر فون اٹھا کر نور کو ملایا اور سپیکر پر لگا دیا ، مسلسل بیل جا رہی تھی لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا ، ایک دم پریشانی نے گھیر لیا ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *