Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gharonda (Episode 26)

Gharonda by Umme Umair

تینوں گردنیں آم کے درخت پر جمائے ارد گرد سے بےخبر کیریاں تڑوانے میں غلطاں تھیں کہ اچانک آواز آئی ۔۔۔ یہ کیا ہو رہا ہے؟؟ اور درخت کے اوپر کون ہے؟؟

وہ بھابھی نور ہیں بھیا !

نور فورا سے پہلے نیچے اترو!!!

یحیی نے شاخ پر بیٹھی نور کو جان دار دھمکی سے نوازا ۔۔ نور جو کہ بڑی شاخ کے اوپر بیٹھ کر چھوٹی شاخ کو تھامے ہوئے تھی ایک دم دھڑام سے نیچے آئی جس کو بروقت یحیی نے آگے بڑھ کر تھام کر گرنے سے بچا لیا ۔۔۔

نور کی آنکھوں کے سامنے تارے ٹمٹانے لگے ایک دم کیا سے کیا ہوگا ۔۔۔

یحیی نے نور کو نیچے اتارتے ہوئے باقی تینوں کو اندر جانے کا بولا، روحہ نے بھی یحیی کے تیوروں کو دیکھتے ہوئے عافیت خاموشی میں ہی جانی اور بلا چوں چرا گھر کے اندر کا رخ کیا ۔۔

نور کو اندازہ ہو چکا تھا کہ اب پکے رنگوں میں چھترول ہونی ہے ۔۔۔۔

یحیی کے پوچھنے سے پہلے ہی وہ میں کیریاں توڑنے اوپر گئی تھی ۔۔

جی مجھے پتا ہے یہ درخت آموں کا ہے اور ادھر سے پھل کا ہی حصول ممکن ہے ۔۔۔۔۔

ہم تایا جی کے گھر ایسے ہی توڑ کر کھایا کرتے تھے ، نور گردن جھکائے بولے جا رہی تھی ۔۔۔

وہ اس بات سے بےخبر تھی کہ یحیی کتنی مشکل سے اپنی ہنسی کو روک کر سنجیدگی کا خول چڑھائے کھڑا تھا ۔۔۔

فرض کرو اگر تمھاری ہڈی پسلی ٹوٹ جاتی تو کون ذمہ دار ہوتا ؟! اگر کھانے کو اتنا ہی دل تھا تو مالی چاچا کو بولنا تھا وہ اوپر چڑھ کر اتار دیتے ۔۔۔۔۔

وہ میرے خیال میں مالی چاچا کی ہڈی اس عمر میں ٹوٹ جاتی تو جڑنا زیادہ مشکل تھا بنسبت میری ہڈی کے ۔۔ آپکو تو پتا ہے بڑھاپے میں ہڈیاں کمزور ہو جاتی ہیں ۔۔۔

کیوں آپ ہڈیوں کی ڈاکٹر رہ چکی ہیں؟

نہیں !!

کافی سنہرے خیالات رکھتی ہو ، میرے خیال میں تمھیں کوہ پیمائی کی مشقوں کے لئے بھیجنا چاہیئے ۔۔

نور ہنوز خاموش کھڑی سن رہی تھی ۔۔

اور ویسے یہ پچھلے کتنے ہفتوں سے غائب ہو ، کوئی کاروبار تو نہیں شروع کر لیا تم نے جس میں اتنی مصروف ہو گئی ہو ؟ کتنے دنوں سے تمھاری شکل ہی نہیں دیکھائی دی ۔۔۔۔

نور کو تو کرنٹ لگا فورا چہرہ اوپر اٹھا کر دیکھا ۔

میں گھر پر ہی تھی ، معذرت خواہ ہوں اگر آپ کو برا لگا ہے میرا آپکے سامنے نہ آنے پر ۔۔

مجھے آج منیر وسیم جلال الدین نے ایک حدیث سنائی ہے اور میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ

تمھیں وہ والی حدیث پتا ہے ۔۔

کونسی حدیث؟ نور نے پوچھا ۔۔

“”اگر کسی شخص کی 2 بیویاں ہوں اور وہ انکے درمیان عدل و انصاف نہ کرتا ہو تو قیامت کے دن اسکے بدن کا آدھا حصہ مفلوج ہو گا “”(ترمزی، جلدنمبر1۔ النکاح حدیث 1014)

جی مجھے پتا ہے اس حدیث کے بارے میں تو مجھے کیوں نہیں بتایا پھر ؟!

وہ میں نے سوچا آپکو غصہ آئے گا یا پھر برا نہ لگ جائے اور ویسے بھی آپ نے مجھے واضح طور پر بتا دیا تھا کہ میں آپکی منکوحہ کے طور پر رہوں گی ۔۔

تو میں نے آپکا یہ فیصلہ من و عن قبول کیا ہے اور اس پر شاکر ہوں ۔۔۔

اچھا تو تم چاہتی ہو کہ میرے جسم کا ایک حصہ مفلوج رہے ؟!

نہیں قطعا میں ایسا نہیں چاہتی !!

یحیی جان بوجھ کر نور کو زچ کیئے جا رہا تھا ۔۔

ابھی میں اندر جاوءں ؟

نہیں تم اندر نہیں جا سکتی ، بلکہ تم آج رات اس آم کے درخت پر گزارو گی ۔۔۔

جی !!

نور تو بےہوش ہونے کو تھی ، کیونکہ شادی کے پہلے دن بھی یحیی نے آدھا گھنٹہ گاڑی میں بند کر دیا تھا ۔۔ یحیی سے کوئی بعید نہیں وہ آج بھی کچھ ایسا ہی کر دیں ۔۔۔

نور کو پریشان دیکھ کر یحیی کو اور شرارت سوجھی ، ویسے تم بڑے بڑے دعوے کرتی تھی لیکن آج تو صابن کے جھاگ کی طرح بیٹھتی جا رہی ہو ۔۔۔

آپ سمجھتے ہیں میرے وہ دعوے جھوٹے تھے ؟؟

مجھے شک نہیں بلکہ یقین ہے نور بانو صاحبہ !!!

یحیی نے ہاتھ سینے پر باندھ کر لمبی سانس کھینچی ۔۔

میں آج بھی اپنے دعوے پر قائم ہوں، مجھے تو آپکی قمیض سے ٹوٹ کر گرنے والے بٹن سے بھی محبت ہے ۔۔

اچھا !!! یحیی نے اچھا کو لمبا کھینچا ۔۔۔

اور بدلے میں تمھیں کیا مل رہا ہے ؟

مجھے بدلے میں اپنے رب کی رحمت مل رہی ہے ۔۔ کیوں کہ میری محبت خالص اور حلال ہے، میں اپنے محرم سے محبت کرتی ہوں ، اپنے رب کو راضی کرنے کے لئے اور جو بھی کام رب کی رضا کے لئے کیا جائے وہ برکت سے خالی نہیں ہوتا ۔۔۔

میرا کسی سے کوئی مطالبہ نہیں ہے ۔ میری طلب تو عرش والے سے جڑی ہے جو کبھی بھی مومن کو مایوس نہیں ہونے دیتا ۔۔

وعسى أن تكرهوا شيئا وهو خير لكم وعسى أن تحبوا شيئا وهو شر لكم. (سورة البقرة:216)

“”ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو برا جانو اور دراصل وہی تمھارے لیے بھلی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو اچھی سمجھو، حالانکہ وہ تمھارے لیے بری ہو ۔””

اور میرا اس بات پر پختہ اور کامل ایمان ہے فلحمدللہ ۔۔۔

بہت خوب نور بانو !! ماشااللہ بولنا چاہئے آپکے حافظے اور حسن تکلم پر ۔۔۔

بارک اللہ فیک !!!

میں اندر جاوءں ابھی ؟؟

ہاں جاو !!

یحیی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا کہ پتا نہیں مجھے کس نیکی کا صلہ مل رہا ہے؟! اتنی صابر اور پاکباز عورت میرے نصیب میں آئی ہے ۔۔۔اکیلے ہی مسکراتا نور کے پیچھے ہی ہو لیا۔۔۔۔۔۔

اوئے چڑیلوں تم لوگوں نے اکیڈمی نہیں جانا ابھی تک گھر میں ہی براجمان ہو ؟؟

نہیں بھیا اب ہمیں اکیڈمی جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔۔

کیوں جانے کی ضرورت نہیں رہی اب ؟ میٹرک کے ریاضی میں فیل ہونا ہے کیا ؟؟؟!

بھیا ہمیں اکیڈمی سے سو درجے بہتر ٹیچر گھر میں جو میسر ہے ۔۔۔ اور ہماری اس ٹیچر کی جیومیٹری اور الجبرا میں ایسی مہارت ہے کہ کیا کہنے ؟!

اور سوالات سمجھانے کا انداز ایسا ہے کہ پوچھوں ہی کچھ نا !!

میری آدھے ہفتے کی غیر موجودگی میں کونسی ایسی ٹیچر آسمان سے اتر آئی ہے جو آپ لوگ اس کے لیے اتنے نہال ہوئے جا رہے ہو ۔۔

خیر ہم تو اس ٹیچر سے آپ کی گھر موجودگی میں بھی مستفید ہوتے رہے ہیں یہ الگ بات ہے آپ کا زیادہ تر دھیان بزنس میں ہوتا ہے ۔۔۔

اچھا اب بتا بھی دو چڑیلوں!! یحیی نے ٹانگیں دوسرے صوفے پر دراز کیں اور ہاتھ سے ماتھے پر بکھرے بال پیچھے کئے ۔۔۔

وہ ٹیچر آپکی بہت قریبی ہیں بس فرق یہ ہے کہ آپ کو وہ نظر نہی آتیں ۔۔۔

نور جو کہ یحیی کے عقب میں کھڑی بکھری کتابوں کو سمیٹ رہی تھی، مسلسل شازمین رامین کو آنکھیں نکال رہی تھی کہ نہ بتاو ۔۔۔

لیکن دونوں لڑکیاں جوش خطابت میں آج سب کچھ اگل دینے کے لئے بیقرار تھیں ۔۔۔۔

بھیا ہماری نور بھابھی پڑھی تو 12 جماعتیں ہیں اور وہ بھی بغیر امتحان دیئے لیکن ان میں صلاحیت، آپکی 16جماعتوں سے کئی گنا زیادہ ہے ماشااللہ تبارک اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یحیی نے گردن گھما کر پیچھے کھڑی نور کو فخر سے دیکھا جوشرم سے لال ہو رہی تھی ۔۔۔

اور کون کون سے جوہر چھپائے ہوئے ہیں آپکی بھابھی نور نے ؟!

آج ہمیں بھی تو پتا چلے !!

بھیا بھابھی کا سب سے عظیم کارنامہ یہ ہے کہ پورے گھر کو نمازی بنا دیا ہے بشمول روحہ بھابھی اور اب ہم سب کو سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر چلانے کی تگ و دو میں رہتی ہیں ۔۔۔

ہم سارے مل کر سہ پہر کی چائے کے بعد قرآن کا ترجمہ و تفسیر سیکھتے ہیں اور قرآن مجید کی تجوید بھی تاکہ صحیح تلفظ سے مخارج کی ادائیگی ہو اور کلام اللہ کے معنی نہ بدلیں ۔۔۔

اس موقع پر آپ کچھ کہنا چاہیں گی نور بھابھی ؟! یحیی نے گردن گھما کر بولا۔۔

سب کے قہقہے بلند ہوئے ۔۔۔

میری نہیں آپ لوگوں کی بھابھی !!

نہیں میرا اس میں کوئی کمال نہیں ہے یہ تو سب اللہ کی رحمت اور برکت سے ہو رہا ہے ۔۔

نور نے سائیڈ والے صوفے پر ٹکتے ہو ئے بولا ۔۔۔ میں تو کچھ بھی نہیں ہوں ۔۔۔

بھیا نور بھابھی جھوٹ بول رہی ہیں ۔۔ نور نے گھبرا کر رامین کو دیکھا ۔۔

تو پھر سچ کیا ہے مجھے بھی تو پتا چلے ؟! یحیی نے دلچسپی ظاہر کی ۔۔۔

بھیا سچ یہ ہے کہ بھابھی ہم سب کےلئے گڑگڑا کر دعائیں مانگتی ہیں اور اب تو بےجی کے ساتھ تہجد بھی پڑھتی ہیں ۔۔۔

بےجی تو بھابھی کی پکی فین ہیں ، کھانا چائے صرف نور بھابھی کے ہاتھ کا ، بےجی کو روز رات سونے سے پہلے دبانا بھابھی کا روز کا معمول ہے اور پھر ہفتے میں 2 دفعہ سر میں تیل ڈال کر مالش کرنا ، اب تو امی کو بھی نور بھابھی کی خدمت گزاریوں کی عادت ہوتی جا رہی ہے ۔۔۔ بےجی اور امی بھابھی کو دعائیں دیتے نہیں تھکتیں ۔۔۔

یحیی بے تاثر چہرے سے سب کچھ آنکھیں بند کئے سن رہا تھا لیکن دل میں نور کے مقام کا گراف دن بدن بڑھتا جا رہا تھا ۔۔۔

ایک اور مزے کی بات بھیا !!! اب تو روحہ بھابھی بھی انکے نقش قدم پر چلنا شروع کر چکی ہیں ۔۔

شازمین نے سرگوشی والا انداز اپنایا تو یحیی نا چاہتے ہوئے بھی ہنس دیا ۔۔

تم دونوں تو پوری رپوٹر ہو ! کتنی خبریں ہیں تم دونوں کے پاس ۔۔۔۔۔

بس بھیا ہمارے ساتھ تو عیش ہی عیش ہے !!!

نور کتنے دنوں بعد کھکھلائی ۔۔۔۔۔

روحہ جو کہ اوپر اپنے کمرے میں تھی نیچے آتے ہی مسکراتی سب کے ساتھ شامل ہو گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

##############################

یحیی ! ہاں بولو!

وہ اس دن نور نے تمھیں کیا بولا تھا؟ میرا مطلب ہے جب وہ درخت سے نیچے گری تھی اور تم نے اس کو بروقت بچا لیا تھا ۔۔۔

کچھ خاص نہیں بس یہی بتا رہی تھی کہ ہم تایا جی کے گھر ایسے ہی کیریاں توڑ کر کھایا کرتے تھے ۔۔

اچھا تو اس نے یہ نہیں بتایا کہ وہ میرے لیئے کیریاں توڑنے گئی تھی ۔۔۔

نہیں ! یہ تو نہیں بتایا اس نے !! کیوں خیریت ہے؟؟؟

وہ دراصل میرا جی متلا رہا تھا تو بولی آو میرے پاس اس کا ایک حل ہے ۔۔ کیسی عجیب لڑکی ہے، ہر چیز اپنے سر لے لیتی ہے ۔۔۔ اور میرے منع کرنے کے باوجود کیریاں توڑنے اوپر چڑھ گئی، یحیی کبھی کبھی تو مجھے لگتا ہے میری وجہ سے اس کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے ۔۔ وہ کیسے ؟؟

تم سمجھا کرو یحیی !!

نہیں مجھے نہیں سمجھ تم ہی سمجھا دو۔۔

اب زیادہ کاکے نہ بنو !

میں بھلا کاکا کیوں بننے لگا ؟ اچھا بھلا شیر جوان ہوں ، مجھے کیا پڑی ہے کاکا بننے کی ؟ اور ویسے بھی تمھیں نور سے اتنی ہمدردی کیوں جاگ رہی ہے ؟

یحیی پتا نہیں نور کی شخصیت میں ایسا کیا ہے جو مخاطب کو اپنی طرف کھینچتا ہے ، میں چاہتے ہوئے بھی اس سے نفرت کو قائم نہیں رکھ سکتی ۔۔۔

میری ہر منفی سوچ اور عمل پر وہ اتنا مثبت ردعمل ظاہر کرتی ہے کہ میری تو بولتی بند ہو جاتی ہے ۔۔ ۔۔

اچھا چلو لائیٹ بند کرو اور سو جاو مجھے بہت نیند آرہی ہے، یحیی نے جمائی روکتے ہوئے بولا ۔۔

یحیی !! اب کیا ہے مسئلہ ہے روحہ؟؟

وہ میں چاہ رہی تھی آپ نور کو کچھ دنوں کےلئے شمالی علاقہ جات کی طرف گھما لائیں ۔۔۔

یحیی کو 500 وولٹ کا جھٹکا لگا ، یہ تم بول رہی ہو روحہ ؟؟

لگتا ہے تم شدید بدہضمی کا شکار ہو ۔۔۔

یحیی ہر وقت کا مذاق نہیں اچھا ہوتا ،روحہ منہ بناتے ہوئے بولی ۔۔

یحیی میں نے اپنی جہالت میں نور کے ساتھ بہت زیادتی کروائی ہے ،میرا ضمیر مجھے ملامت کرتا ہے ،مجھے سکون نہیں ملتا ، پلیز میری بات مان جائیں ۔۔۔

روحہ صرف تم نے نہیں بلکہ میری اپنی بہت ساری کوہتایاں اور زیادتیاں بھی شامل ہیں جن کا ازالہ بہت ضروری ہے ، میں اس سے معافی مانگو گا بس مجھے مناسب وقت کا انتظار ہے ۔۔۔

یحیی نیکی اور پوچھ پوچھ! ابھی جاو پلیز !!

تمھارا دماغ تو نہیں چل گیا لڑکی ؟!

مجھے نہیں پتا تم ابھی اور اسی وقت جاو گے اور اس سے معافی مانگو گے ۔۔۔

روحہ 2 مہینوں میں ہی تم تو اسکی اسیر ہو کر رہ گئی ہو ۔۔ پتا نہیں کتنی شدت ہے اسکی دعاوں میں جو تم جیسی لڑکی بےتاب ہوئے جا رہی ہے ۔۔ جا رہے ہو یا نہیں ؟؟

جا رہا ہوں جا رہا ہوں !!

کیا خوش نصیبی ہے میری ! بڑی سوکن چھوٹی سوکن کےلئے مری جا رہی ہے ۔۔۔

اللہ جب دیتا ہے تو چھپڑ پھاڑ کر دیتا ہے!!

میرے رب تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے!

یحیی نے بستر سے اترتے جیسے ہی چپل میں پاوں ڈالے فون نے چنگاڑنا شروع کر دیا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *