Gharonda by Umme Umair NovelR50654 Gharonda (Episode 23)
Rate this Novel
Gharonda (Episode 23)
Gharonda by Umme Umair
مسلسل بیل جا رہی تھی لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا، ایک دم پریشانی نے گھیر لیا، دوسری پھر تیسری مرتبہ کال ملانے سے بھی کوئی رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا ۔۔ پتا نہیں کدھر گئی ہے ؟ فون کیوں نہیں اٹھا رہی ؟ کیا پتا ناراض ہو گئی ہو ؟!
لیکن وہ تو ایسی نہیں ہے جو ایک دم ناراض ہو جائے ۔۔۔
طرح طرح کے خیالات اور وسوسے یحیی کے دماغ کو جکڑے ہوئے تھے ۔۔۔ اس سے بہتر تھا ساتھ ہی لے آتا ، کم ازکم یہ اضافی پریشانی نہ دیکھنے کو ملتی ۔۔۔
10 منٹ بعد دوبارہ کال ملائی ، تیسری بیل پر ہانپتی کانپتی نور کی سپیکر میں آواز ابھری ۔۔
سلام کے بعد فورا معذرت کی وہ دراصل میں واش روم میں تھی بس ابھی ہی نکلی ہوں ۔ نور یحیی کے پوچھنے سے پہلے ہی اسکو تسلیاں دیے جا رہی تھی ۔۔۔
نہیں کچھ خاص بات نہیں تھی بس تمھاری خیریت معلوم کرنے کے لئے فون کیا تھا ۔۔۔
کیا امی نے کال کی تھی تمھیں ؟؟؟
جی جی میری ہو گئی ہے بات پھپھو سے الحمداللہ ۔۔
تم نے ان سے روحہ کے متعلق تو نہیں کوئی بات کی ؟؟
نہیں بالکل بھی نہیں، میں نے کوئی بات نہیں کی ہے ۔۔
اچھا چلو میں تو ابھی ساہیوال کے قریب ہی ہوں لیکن میرے خیال میں واپسی رات دیر سے ہو گی اور اگر بجلی بند ہوگئی تو یو-پی-ایس کا استعمال تو آتا ہے نا ؟ اور ہاں موم بتیاں بھی پڑی ہیں وہ اپنے قریب ہی رکھ لینا ۔۔
جی اچھا !!!
اور ہاں واپسی کی بھی تیاری شروع کر لو ہمیں دو دنوں میں واپس اسلام آباد جانا ہے ۔۔۔
جی اچھا!!
نور کے دل میں ایک ٹھیس اٹھی کیوں کہ وہ جانتی تھی کہ یحیی نے روحہ کو رخصت کروا کر گھر لانا ہے ۔۔۔ آنسو بے اختیار گالوں پر لڑھک آئے ، آج کا دن اس کی زندگی کا اذیت ناک دن تھا ۔۔
میرے مالک میرے لیئے اس آزمائش کو آسان بنا ، میرے دل۔میں سکون پیدا کر اور اس تشنگی کو نکال پھینک میرے رب العالمین ۔۔۔
سارا دن اسی تگ ودو میں گزر گیا کہ کیسے اس نئے آنے والے امتحان سے گزرنا ہے ۔۔۔
پتا نہیں میں اس امتحان کو پاس کر پاوں گی بھی یا نہیں ۔۔ جی چاہا کرن کو فون کر لوں اور اپنا حال دل اسکو بتاوں پھر کچھ سوچ کر اس خیال کو بھی جھٹک دیا ۔۔
کرن پہلے ہی تائی جی کی وجہ سے پریشان ہے میں کس لیئے اسکو مذید تنگ کروں ، یہ میری آزمائش ہے اسکا مجھے ہی سامنا کرنا ہو گا ۔۔
مغرب ادا کی ، میرے خیال میں یحیی آنے والے ہی ہونگے پورا دن گزر گیا ہے ۔۔
میرا خیال ہے فون کرکے کھانے کا پوچھ لوں یا پھر رہنے ہی دیتی ہوں غصہ کریں گے میں فضول میں تنگ کرتی ہوں ۔۔۔ بہتر ہے انتظار کر لیا جائے ۔۔۔
ہاتھ میں پکڑے سیل کی لائیٹ جگمگائی ” محرم” نام سے محفوظ نام سکرین پر نمودار ہوا ۔۔
میٹھی مسکراہٹ پورے چہرے کو کھلکھلا گئی ، اپنی بےکلی کو چھپاتے ہو ئے سلام دعا کا تبادلہ ہوا ،
نور تم کھانا کھا کر سو جانا ، میں نے ادھر سے ہی کھانا کھا لیا ہے ، مجھے گھر پہنچنے میں مزید 2 گھنٹے لگ جائیں گے ۔۔۔
جی اچھا !!!
بھوک نام کی تو کوئی چیز نہ تھی موجودہ حالات کی طرح میدہ بھی روٹھ گیا تھا ۔۔
صلاتہ العشاء ادا کی اور بستر پر لیٹ گئی گہری سوچوں میں ڈوبی ، نیند کی رحمدل وادیوں میں چلی گئی ۔۔
رات ایک بجے آنکھ کھلی تو یحیی کی فکر نے ستایا ، پتا نہیں واپس آگئے ہیں یا نہیں، چابیاں تو ساتھ لے کر گئے تھے ۔۔
فورا پاوں میں چپل اڑس کر دوسرے کمرے میں جھانکا ، خالی کمرہ منہ چڑا رہا تھا ۔۔۔
ہر طرف دیکھ لیا لیکن یحیی کا کوئی نام و نشان نہیں تھا ۔۔
پھر دھڑکتے دل کے ساتھ فون ملایا ، یحیی نے پہلی بیل۔پر ہی اٹھا لیا ۔۔ السلام علیکم وہ آپ ٹھیک تو ہیں ابھی تک واپس نہیں آئے مجھے گھبراہٹ ہو رہی ہے سب خیریت ہے نا ؟؟
ہاں بس گاڑی کا ٹائر پنکچر ہو گیا تھا تو ڈیڈھ گھنٹہ اسی میں چلا گیا ۔۔
تم بےفکر ہو کر سو جاوء مجھے مذید ایک گھنٹے کا سفر طے کرنا ہے ابھی ۔۔
جی اچھا !! فی امان اللہ ۔۔۔
فجر کے وقت آنکھ کھلی تو اٹھتے ساتھ ہی دوسرے کمرے میں جھانکا ، جہاں پہ یحیی گہری نیند سو رہا تھا ۔۔
دل ہی دل میں اسکی بلائیں لے ڈالیں ۔۔۔ جی چاہا قریب ہو کر چہرہ دیکھ لے لیکن ارادہ ملتوی کرتے ہوئے واش روم کا رخ کیا ۔۔۔
دن 12 بجے یحیی کی آنکھ کھلی ، شاور لیا اور پھر کلف لگا کرتا شلوار جو کے پہلے سے لٹکا دیا گیاتھا ،پہنتے ہی اپنی پسندیدہ پرفیوم کا چھڑکاؤ کرتے ہی نور کو آواز دی ۔۔
جلدی سے ناشتہ بناو !! نور جو کے کچن میں کھڑی پیاز کاٹنے میں مصروف تھی فورا چھوڑ کر باہر لپکی ۔۔
ناشتے میں کیا بناوں ؟! کچھ بھی بنا لو بہت سخت بھوک لگی ہے ۔۔۔۔
اور ہاں سنو ! نور واپس پلٹی ۔۔ جی آپ نے کچھ کہنا ہے ؟!
ابھی میں کھانا کھا لوں پھر ہمیں نکلنا ہے ۔۔ جلدی سے ساری چیزیں سمیٹو اور کچن کا سارا سامان ہم منشی چاچا کے گھر دے کر جائیں گے ۔۔
جی اچھا!!
20 منٹ میں دیسی گھی کے دو کرکرے بلوں والے پراٹھے ، کڑک چائے اور انڈوں گنڈوں(پیاز) کا آملیٹ بنایا اور ساتھ کچھ اچار کی کاشیں بھی الگ پلیٹ میں رکھ لیں ۔۔ سب چیزیں ٹرے میں سجا کر یحیی کو پیش کیں ۔۔۔
نور نے تیزی سے سارا کچن سمیٹا پھر تمام کپڑے سوٹ کیس میں ڈالے اور ان دھلے کپڑوں کو الگ بیگ میں ڈالا ۔۔ باقی گھر کی صفائی تو وہ صبح سویرے کر چکی تھی ۔۔۔
سنیں سب تیاری مکمل ہے ۔۔ اچھا ادھر بیٹھو ۔۔
جی !! نور شدید گھبراہٹ کا شکار تھی کے پتا نہیں اب کیا یحیی نے کہنا ہے ؟!
میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم دونوں روحہ کو ساتھ لے کر ایک ہی دفعہ گھر جائیں گے ۔۔
سنتے ہی نور کے جسم میں عجیب قسم کا لرزہ تاری ہو گیا ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے زبان تالو کے ساتھ ہی چپک گئی ہے ۔۔۔
نور تمھیں تمھاری ضرورت کی ہر چیز مہیا کروں گا، میری بات سمجھ رہی ہو نا ؟!
ججججی ۔ نور کا جی چاہا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر کہیں بھاگ جائے لیکن تقدیر میں لکھے اس فیصلے میں چھپی حکمتوں کو سمجھتے ہوئے اپنے اوپر صبر کا لبادہ اوڑھ لیا ۔۔۔۔
زخمی دل۔کی کرچیاں ہر نئے دن بڑھتی ہی چلی جا رہیں تھیں ۔۔
نور جب اس گھر سے نکلنے لگی تو سب کچھ دماغ میں تازہ ہو رہا تھا ، یحیی کا اس کے لئے فکر مند ہونا اور اسکو اٹھا کر واش روم لے کر جانا ، شدید بخار میں اسکے ماتھے کی پٹیاں کرنا ، اب یہ سب تو نور کو خواب لگ رہا تھا ، یحیی تو گیا اب روحہ کے دل کی رونق بننے ۔۔۔
12 دن کے قیام میں کتنی یادیں وابستہ ہو گئی ہیں میری اس گھر کے ساتھ ۔۔
آنکھیں نا چاہتے ہوئے بھی چھلک پڑیں ۔۔ ہمیشہ کی طرح پیچھے بیٹھنے کو ترجیح دی ۔۔۔
یہ سفر نور کی زندگی کا طویل ترین سفر بن گیا ، سینے میں شدید جکڑن محسوس ہو رہی تھی ۔۔
جسمانی تھکاوٹ سے زیادہ ذہنی تھکاوٹ نے نور کے اعصاب کو شل کر کے رکھ دیا ۔۔۔۔
پورا رستہ خاموشی میں کٹا ۔۔۔
یحیی کی آواز نے خاموشی کو توڑا ، میرے خیال میں تم گھر ہی رہو ، میں امی اور بےجی کو ساتھ لے کر جاوں گا ۔۔۔
سن رہی ہو نا ؟ جی ٹھیک ہے ۔۔۔
گاڑی اندر داخل ہوتے ہی لان میں موجود گھر کے افراد اس اچانک آمد پر حیران اور خوش ہو رہے تھے ۔۔
شازمین رامین تو اچھل اچھل کر پاگل ہو رہیں تھیں ۔۔ بھیا بھابھی شکر ہے آپ لوگ واپس آگئے ہو ہم تو بھابھی کے لئے ترس ہی گئے تھے ۔۔
پھپھو نے نور کو چوم ڈالا اور بلائیں لیں ۔ بےجی بھی پوتے کو اتنی خوبصورت بیوی کے ساتھ چلتا دیکھ کر نہال ہو رہیں تھیں ۔۔۔
ماشااللہ اللہ جوڑی سلامت رکھے پھلو پھولو میرے بچو !!!
نور بھی اتنی اپنائیت پاکر وقتی طور پر اپنا غم بلا بیٹھی کہ اچانک یحیی نے بات شروع کی ۔۔
امی اور بےجی ابھی آپکو میرے ساتھ اپنی دوسری بہو کو بھی لینے جانا ہے ۔۔
کیا مذاق کرتا رہتا ہے ہر وقت یحیی ، سنجیدہ ہو جا ابھی بیوی والا ہو گیا اور جلد ہی بال بچے دار ہو جائے گا ۔۔ بےجی نے دہائی دی ۔۔
بےجی میں مذاق نہیں کر رہا ہوں ۔۔۔۔
امی جی آپکو اپنی بھتیجی کتنی عزیز ہے ایسے ہی مجھے امید ہے آپکو اپنی بھانجی بھی عزیز ہو گی ۔۔۔
آپکی چھوٹی بہن جمیلہ جس کو مامی رخشندہ نے اپنے بڑے بھائی کے ساتھ مل کر بیچ ڈالا تھا اور پورے گاوں میں مشہور کر دیا تھا کہ وہ کسی آشنا کے ساتھ بھاگ گئی ہے ۔۔۔ اور پھر ان پیسوں سے اپنے بھائی کو دبئی بھیجا تھا ۔۔۔
منزہ بیگم کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ، آنکھیں بلا روک ٹوک برس رہی تھیں ۔۔ زبان گنگ ہو کر رہ گئی ۔۔
نور خود بےہوش ہونے والی تھی کہ روحہ اسکی دوسری پھپھو کی بیٹی ہے ۔۔۔
سارے گھر کو سانپ سونگھ گیا ۔۔
امی آپکی بہن کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے جسکی وجہ سے انکل مرتضی جن سے میری ملاقات پہلے بھی رہ چکی ہے انہوں نے مجھے نکاح کے لئے ہاں بول دی ہے ۔۔۔
آپکی بہن میرے اور نور کے نکاح کے بارے میں باخبر ہیں وہ تو صرف اپنے بچھڑوں سے ملنے کے لئے بےتاب ہیں ۔۔۔
مجھے جب روحہ نے اپنے گھر کا اتا پتا دیا تو میں نے سوچا آپکو لے کر جانے سے پہلے میں اس کے والدین سے مل لیتا ہوں ۔۔ تو یہ سب معلومات میری ملاقات پر کھلیں جب انہوں نے مجھے دیکھا اور آپ کا نام پوچھنے پر رو پڑیں کہ میرے چہرے میں انکی بہن کی شبیہہ جاتی ہے ۔۔۔
مجھے آپ نے موقع ہی نہ دیا یہ سب بتانے کا اور لے گئیں جہلم ۔۔۔
جیسے آپکو بابا نے میکوں کے ساتھ تعلقات رکھنے سے روکا تھا ویسے ہی انکل نے خالہ کو بھی مجبور کر دیا تھا کہ جو کچھ مامی نے کیا تھا وہ نہیں چاہتے تھے انکی اولاد پر اس مکار عورت کا سایہ بھی پڑے ۔۔۔
امی مجھے پتا ہے میں نے بہت بڑا قدم اٹھایا ہے آپ دونوں کی اجازت کے بغیر لیکن میں پوری کوشش کروں گا کے کسی کو بھی شکایت کا موقع نہ ملے ۔۔۔۔۔
بےجی امی پلیز مجھے معاف کر دیں اور اب میری بیوی روحہ کو عزت کے ساتھ اس گھر میں لے آئیں ۔۔۔
نور بالکل خاموش ایک کونے میں بیٹھی تھی، پھپھو بار بار غم سے چور اس کے چہرے کو دیکھتیں جہاں پر سوائے خاموشی کے اور کچھ نہ تھا ۔۔۔
آخر بےجی بولیں چل منزہ چلیں پھر دیکھتے ہیں کیا چاند چڑھا کر آیا ہے میرا پوتا ۔۔۔
یحیی میرا دل کر رہا ہے میں تیری چمڑی ادھیڑ دوں، تو کتنا نالائق انسان ہے کہ جس کا کوئی حساب نہیں ہے ۔۔ کچھ تو ہوش کرتا ابھی تیری نور کو آئے مہینہ بھی نہیں گزرا اور تو آسکے اوپر سوکن لے آیا ہے ۔۔۔ بےجی اب معاف بھی کر دیں جو ہو گیا ہے وہ واپس تو نہیں آئے گا ۔۔
جبکہ منزہ بیگم کو چپ لگ گئی تھی ۔۔۔
ایک طرف عزیز ترین بھتیجی اور دوسری طرف بچھڑی بہن کی بیٹی ۔ عجیب کیفیت سے دوچار تھیں ۔۔۔ بہن کے ملنے پر خوشی تھی لیکن یحیی کے اس جذباتی فیصلے نے ہلا کر رکھ دیا تھا ۔۔۔۔
کافی سوچ بچار کے بعد بولیں چلو چلتے ہیں لیکن تم پہلے ان لوگوں کو اطلاع کر دو ۔۔
منزہ بیگم نے فورا نور بانو کو اپنے سینے میں بھر لیا ، تو میری جان ہے نور ، تو میری لاڈلی ہے ، میری بچی جب تک میں زندہ ہوں تجھ پر آنچ نہیں آنے دوں گی ۔۔۔
یحیی کو اچھی طرح سے پتا تھا کہ امی کتنا پیار کرتی ہیں نور بانو سے۔۔۔ لیکن وہ بھی اپنے دل کے ہاتھوں مجبور تھا ۔۔۔ محبت کے سامنے گھٹنے ٹیک گیا ۔۔۔
پیچھے نور بانو پیر جلی بلی کی طرح اوپر نیچے کے چکر کاٹ رہی تھی کافی سوچ بچار کے بعد اپنا سارا سامان نکال کر نیچے بے جی کے کمرے میں لے آئی ۔ ۔۔
روحہ کو ضرورت ہے یحیی کے کمرے کی وہ یحیی کے دل۔کی رانی جو ہے ، میں تو ایک فالتو پیس ہوں ۔۔۔ ۔۔۔ میں تو یحیی کے اوپر مسلط کر دی گئی ہوں۔۔۔۔۔
شازمین رامین یہ سب ہوتا دیکھ رہیں تھیں آخر مجبور ہو کر بول پڑیں، بھابھی آپ کیا بےجی کے ساتھ سویا کریں گی ؟
نور نے مسکرا کر کہا فی الحال تو یہی ارادہ ہے کہ بزرگوں کی خدمت کرکے ثواب کمایا جائے ۔ پر بھابھی بےجی تو رات کو بہت کم سوتی ہیں، تو میں کونسا سوتی ہوں؟ نور نے دکھتے دل کے ساتھ سوچا ۔۔۔۔۔۔
آخر وہ گھڑی بھی آن پہنچی جس سے نور کی جان نکلی جا رہی تھی ۔۔
کچن میں مصروف نور نے 2 گاڑیاں اندر آتی شیشے کی کھڑکی سے باہر دیکھیں ۔۔۔
دل کی دھڑکن تیز ہو چکی تھی ایسے لگ رہا تھا کہ دل باہر آجائے گا ۔۔۔
گاڑی رکتے ہی یحیی کا خوشی سے تمتماتا چہرہ نمودار ہوا اور پھر فورا دوڑ کر دوسری سائیڈ والا دروازہ بہت گرمجوشی سے کھولا ۔۔۔ نور کی سانسیں اٹک رہیں تھیں ۔۔۔
نہایت خوبصورت پتلی سی لڑکی اپنے کھلے سلکی بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے ایک ادا سے باہر نکلی ۔۔ اس سے آگے دیکھنا نور کی برداشت سے باہر ہو گیا تھا ، فورا کچن کے فرش پر بیٹھ گئی اور اپنی سانس کو بحال کرنے لگی ۔۔۔
آنسوؤں کے ریلے کو مضبوط بند باندھنے کے باوجود بھی نمکین پانی دغا بازی پہ اتر آیا ۔۔ میرے اللہ میری مدد فرما ، مجھے مضبوط کر ، میں نہیں چاہتی میری پھپھو مجھے ایسے روتا ہوا دیکھیں ۔
5 منٹ کی بھرپور کوشش کے بعد نور نے اپنے اوپر قابو پا لیا اور 3 چولہوں کے اوپر دھرے 3 قسم کی ہانڈیوں میں چمچہ ہلانے لگی ۔۔۔
تائی جی کے بعد اب ۔۔۔
