Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gharonda (Episode 17)

Gharonda by Umme Umair

ارے نہیں اس طرح تو میری ہڈی پسلی ٹوٹ جائے گی تو پھر بےجی پھپھو کو کیا بتاؤں گی کہ کیسے ٹوٹی ہے؟؟ جھوٹ بولنے کی بھی عادت نہیں ہے مجھے ۔۔

نور معصومیت لیئے یحیی کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی کہ ۔یحیی نے گود سے اپنا لیپ ٹاپ اٹھا کر بیڈ پر رکھا اور تیزی سے نور بانو کے بازو کو پکڑ کر دروازے کی طرف کھینچا ۔۔۔

یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟؟ نور بانو ہکا بکا رہ گئی ۔۔ نور بانو نے دھیمے لہجے میں احتجاج کیا ۔۔۔

نکلو میرے کمرے سے فورا اور اب تمھاری شکل مجھے دوبارہ نظر نہ آئے اس کمرے میں ۔۔۔

نور بانو اس اچانک حملے کے لئے تیار نہ تھی بس بند دروازے کو حیران و پریشان گھورے جارہی تھی ۔۔۔ پھر سوچا غصہ تھوڑا کم پڑ جائے تو دوبارہ تھوڑی دیر بعد واپس آجائے گی ۔۔۔

بےجی پھپھو شاید اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے تھے ۔۔۔

کچن میں گئی تو شازمین رامین برتنوں کی دھلائی میں مصروف تھیں ۔۔۔ارے بھابھی آپ کیوں آگئی ہیں نیچے ؟ وہ وہ میں نے سوچا کہ آپ لوگ اکیلے کام کر رہے ہو ۔۔۔ ارے نہیں بھابھی بس سب ہو گیا ہے ۔۔۔

آپ اوپر جائیں اور آرام کریں ۔۔

ارے نہیں بھئی میں چلی جاوءں گی ان شاءاللہ ۔

آپ لوگ جاوء میں ان دھلے برتنوں کو خشک کر کے واپس کیبنٹس میں رکھ دیتی ہوں ۔۔

نہیں بھابھی آپ صبح سے جان ہلکان کر رہی ہیں ، تھکتی نہیں ہیں آپ ؟؟؟

نئی بھئی میں نہیں تھکی آپ لوگ جاوء میں بھی تھوڑی دیر بعد آ جاوءں گی ان شاءاللہ ۔۔

نور نے وقت گزاری کے لئے تمام برتن خشک کرکے انکو مخصوص مقامات پر رکھا ، ورک ٹاپس صاف کیں ، کچن کا فرش رگڑ ڈالا پھر سوچا ابھی کوشش کرتی ہوں شاید یحیی کا غصہ تھوڑا کم ہو گیا ہو تو دروازہ کھول ہی لیں ۔۔۔

دبے پاؤں اوپر آئی ، ہلکی سی دستک دی ۔ کوئی جواب موصول نہیں ہوا ۔۔

پانچ منٹ بعد دوسری اور پھر تیسری اور آخری دستک تھوڑے زور سے دی لیکن یہی خوف کھائے جا رہا تھا کہ اگر گھر کے کسی فرد نے دیکھ لیا تو کیا سوچیں گے ؟؟ پھپھو کتنی پریشان ہوں گی ۔۔

یا میرے مالک آسانی کر میرے لیئے !!!

یحیی کے دل کو نرم بنا میرے لیئے !!!!

آنسو آنکھوں سے زار و قطار گر رہے تھے ۔

15 منٹ کی اذیت کے بعد بوجھل قدموں کے ساتھ نیچے آگئی ۔۔۔

ایک دل چاہا کہ بےجی کے کمرے میں چلی جائے لیکن وہ بھی پریشان کن مرحلہ تھا ، شازمین رامین کے کمرے میں گئی تو وہ پھپھو کو نہ بتا دیں ۔۔۔

کوئی راہ فرار نہیں مل رہی تھی ۔۔۔

اگر خالی کمرے میں گئی تو پھپھو ادھر رات کو نوافل پڑھتی ہیں ۔۔۔

تھک ہار کر بیٹھنے والے کمرے میں صوفے پر اٹک گئی ، اب رات تو گزارنی تھی ۔۔۔۔

میں نے کتنا بدلا ہے اپنے آپ کو لیکن یحیی پھر بھی اتنے پتھر دل ہیں؟؟ !!!

پھپھو کے بتانے کے مطابق میں نے ہر حربہ آزمایا ہے ، پھپھو نے ہی بتایا تھا کہ یحیی کو پر اعتماد لڑکیاں پسند ہیں اسکو رونے دھونے والی لڑکیاں بالکل بھی پسند نہیں ہیں، اگر وہ دلچسپی نہیں لیتا تو تم خود اس کے اوپر اپنی محبت ظاہر کرو ، اسکو اپنی طرف مائل کرو ۔۔۔ لیکن یہاں تو سب الٹ ہو گیا ہے ۔۔۔

میرے مالک میں کیا کروں ؟ میرے لیئے آسانی کر !!

آنسو تواتر سے جاری و ساری تھے ۔۔۔

نیچے والے واش روم میں وضو کیا ، عشاء کی نماز ادا کی اور دعاؤں کا لامتنائی سلسلہ ۔۔۔

تھک ہار کر صوفے پر ہی نیم دراز ہوگئی ۔۔۔

رات کے نجانے کس پہر آنکھ کھلی تو اپنے اوپر کمبل محسوس ہوا ۔ گھبرا کر ایک دم اٹھ بیٹھی ۔۔

یا اللہ!!! پھپھو نے تو نہیں کہیں مجھے یہاں پر لیٹا دیکھ لیا ؟؟ اور میری نیند نہ خراب کرنے کی وجہ سے اٹھایا نہیں ہے ، بس کمبل اڑھا گئیں ۔۔۔

فجر کی اذان کے وقت آنکھ کھلی، وضو کیا ، پورے خشوع سے نماز ادا کی اور پھر قرآن کی تلاوت کے لئے دل مچلا لیکن قرآن تو اوپر کمرے میں پڑا ہوا تھا۔۔۔

کوئی نہیں خیر ہے جو زبانی یاد ہے اسکی ہی تلاوت کر لیتی ہوں ۔۔۔مسنون اذکآر کے بعد بجائے صوفے پر لیٹنے کے خاموشی سے عقبی لان کی طرف آگئی ۔۔۔

پرندوں کی چہچہاہٹ ، خوبصورت پر سکون ماحول لیکن نور کے اندر کا ماحول ابر آلود ہو چکا تھا۔۔۔ ادھر سے ادھر ٹہل کر بڑی مشکل سے 8 بجے ، بے جی کی چائے کا وقت ہو گیا ہے ۔۔

شکر ہے !!! اب تو وقت کم از کم جلدی گزرے گا ۔۔۔

پھپھو نے نیچے آتے ہی پوچھا نور بیٹی آج اتنی جلدی اٹھ گئی ہو؟؟ نور نے نظریں چرائیں ، جی چاہا پھپھو کے گلے لگ کر دھاڑیں مار کر روئے لیکن وہ انکو افسردہ نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔۔

جی پھپھو بس وہ سفر جو کرنا ہے تو میں نے سوچا تیاری میں آسانی ہو جائے گی ۔۔۔

لیکن کمبل والی بات نور سے ہضم نہیں ہو پا رہی تھی ۔ ہو سکتا ہے شاید پھپھو خود ہی بتا دیں لیکن وہ تو آرام سے چائے پینے میں مصروف تھیں، ساتھ ہی یحیی کو بلانے کی تنبیہ کی کہ جا کر بلا لاو ۔۔۔

ڈرتے ڈرتے دستک دی ۔۔

اندر آجاو!!

السلام علیکم !! وہ ناشتہ تیار ہے آکر کھا لیں ٹھنڈا ہو جائے گا ۔۔ نور نے دھیمے لہجے میں بولا اور جواب سنے بغیر ہی فورا باہر کی طرف پلٹی ۔۔۔

سنو !!

جی !!

میں نے کپڑے نکال کر رکھے ہیں انکو سوٹ کیس میں ڈال دو ۔۔۔

جی اچھا !!

اور ہاں اگر ناشتہ کر چکی ہو تو تیار ہو کر نیچے آجاو ہمیں جلدی نکلنا ہے ۔ راستے میں کچھ خریداری بھی کرنی ہے ۔۔۔

جی ٹھیک ہے ۔۔۔

نور نظریں جھکائے کام میں لگ گئی ۔۔

یحیی نے سفید کاٹن کے کرتے کے بٹن بند کئے پھر اپنا پسندیدہ پرفیوم چھڑکا اور ایک گہری نظر نور پر ڈال کر باہر نکل گیا ۔۔۔۔

بستر کو اچھی طرح جھاڑ کر سارا کمرہ صاف کیا ، سنگھار میز پر بکھری تمام چیزیں سیدھی کیں سوٹ کیس پیک کر کے ایک کونے میں رکھا ۔۔۔

وضو کیا اور برقعہ پہن کر نیچے آگئی ۔۔۔

یحیی سب کو اپنے نئے پلان کے بارے میں آگاہ کر چکا تھا ، نور کو زینے اترتے دیکھ کر فورا اوپر گیا اور سوٹ کیس نیچے لایا ۔۔۔

پھپھو بےجی دونوں بار بار دعائیں دے رہی تھیں ۔ شازمین رامین اداس ہو رہی تھیں ،بھابھی آپ بہت یاد آو گی!!

بھیا آپ نے اپنا کام ختم کر کے فورا بھابھی کو واپس لے کر آنا ہے ۔۔۔

تم چڑیلوں!! اپنی پڑھائی کی طرف توجہ دو اور کھیل کود کم کر دو !! سمجھی ہو دونوں ؟!

یحیی نے پیار سے دونوں کو اپنے ساتھ لگایا ۔۔۔

نور بھی سب سے باری باری بغل گیر ہو رہی تھی ۔۔، پھپھو کو گلے لگاتے ہی آنکھیں بھر آئیں لیکن انکی پریشانی کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے اوپر قابو پا لیا ۔۔۔

پھپھو نے بہت سارا پیار کیا اور یحیی کو خاص تنبیہ کی کہ نور کا خاص خیال رکھنا ۔۔۔

یحیی گاڑی میں بیٹھا انتظار کر رہا تھا کہ نور نے عقبی دروازے کے ہینڈل کو کھینچا تو پھپھو بولیں آگے بیٹھو یحیی کے ساتھ ۔۔

نہیں پھپھو سفر لمبا ہے تو اگر تھک گئی تو ادھر کمر سیدھی کرنے میں آسانی ہو گی ۔۔اچھا چلو جیسے چلو تمھاری مرضی ۔۔۔

نور یہ بات بخوبی سمجھ چکی تھی کہ یحیی اسکے ہر عمل سے نفرت کرتا ہے حتی کہ اس کی شکل سے بھی تو اب بہتری اسی میں ہے کہ خاموشی اختیار کر لی جائے اور اس سے فاصلہ رکھا جائے ۔۔۔

پھپھو کی تراکیب اس اڑیل گھوڑے پر کام نہیں کرنے والی ۔۔

اللہ ہی ہے اس بندے کا دل بدلے آمین یا رب العالمین ۔۔

دعا اور صرف دعا اب ۔۔۔

نور نے گھر سے نکلتے وقت سب کو بھرائی آنکھوں سے ہاتھ لہرایا ۔۔

سفر کی دعا اور ساتھ ہی قرآن کی تلاوت شروع کر دی ۔۔۔ اور پھر وہی دعاوں کا لامتنائی سلسلہ اس کی روح کو ترواہٹ پہنچا رہا تھا ۔۔۔

یحیی نے منشی چاچا کو فون کرکے اپنی آمد کا بتایا اور ساتھ ہی پلمبر کا بولا کہ سب پانی کے پائپ چیک کروائیں پانی کی موٹر کا نظام درست کر وائیں اور باقی بنیادی باتوں کا بتا کر فون بند کر دیا ۔۔۔

نور کا دل دھک دھک کر رہا تھا کہ اب یحیی نے غصہ کرنا ہے اور اسکو ڈانٹنا ہے ۔۔۔ لیکن اسکے برعکس گاڑی میں مکمل سناٹا تھا ۔۔

رتجگے نے ایک فائدہ یہ دیا کہ آدھے گھنٹے کے سفر کے بعد ہی نور پر غنودگی طاری ہو گئی ۔ سیٹ پر بیٹھے بیٹھے ہی نیند میں چلی گئی ۔۔۔

ادھر ادھر بڑے جھٹکے پر آنکھ کھل جاتی لیکن زیادہ وقت غنودگی میں ہی گزرا۔۔۔

یحیی نے بھی عافیت خاموش رہنے میں ہی جانی یا شاید رات کے رویے کی وجہ سے شرمندہ تھا جو مذید کچوکوں سے پرہیز کیا ۔۔۔

اٹھ جاوء لڑکی !!!

پورا رستہ سو کر آئی ہو ۔۔۔

نور ہڑبڑا کر اٹھی ۔۔ ہم پہنچ آئے ہیں سرگودھا ؟؟؟

جی پہنچ آئے ہیں اور ابھی گاڑی سے اترو کچھ سامان خریدنا ہے ۔۔

جی اچھا !!

گاڑی رکتے ہی نور نے دروازہ کھولا اور آرام سے نیچے اتری ۔۔یحیی اندر سے خوش ہو رہا تھا کہ۔کم از کم گاڑی کا دروازہ کھولنا تو سیکھ گئی ہے ۔۔

پکوائی سے لے کر صفائی ستھرائی تک، ضرورت کی ہر چیز خریدی ، آخر کو خالی گھر کو آباد کرنے جا رہے تھے ۔۔۔

یحیی دل۔ہی دل میں نور کی سلیقہ شعاری کی داد دیے رہا تھا لگتا ہے امی نے 10 دنوں میں اسکو سب کچھ سکھا دیا ہے ۔۔۔۔ لیکن وہ ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔

گھر پہنچتے ہی نور نے بسم اللہ بول کر اپنا دایاں قدم گھر کے اندر رکھا اور ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *