Gharonda by Umme Umair NovelR50654 Gharonda (Episode 27)
Rate this Novel
Gharonda (Episode 27)
Gharonda by Umme Umair
یحیی نے بستر سے اترتے جیسے ہی چپل میں پاوں ڈالے فون نے چنگاڑنا شروع کر دیا ۔۔ اوہ یار کون ہے اس وقت رات گیارہ بجے ؟! اوہ میرا مولوی شہزادہ بات کر رہا ہے ؟ میرے بھائی کس لیئے ٹینشن لیتا ہے سب معاملات میں نے پکے کروائے ہیں اب تو جانے اور تیرے نصیب پیارے ۔۔۔۔
یار میرا جانا بہت مشکل ہے لڑکی تو نے دیکھنی ہے یا میں نے ؟! اگر اتنا خوفزدہ ہے تو سفیر کو لے جا ساتھ ۔۔۔ اگر وہ نہیں بھی جا سکتا تو تم تو کم ازکم اپنے نام کی لج رکھ لو جلال الدین صاحب ۔۔
یار انہوں نے کونسا تجھے زمینوں میں ہل جوتنے کا بولنا ہے ؟! ( زمین کو بیلوں کے ساتھ لمبی بھاری لکڑی باندھ کر ہموار کرنا )۔۔۔۔۔ امی بےجی تو ویسے بھی تمھارے گھر والوں کے ساتھ جا رہی ہیں تو وہ سب سنبھال لیں گی ۔۔ اب سکون کی نیند لے پیارے ، میں تو چلا اپنی بیگم کو خوش خبری سنانے، رب را کھا السلام علیکم!
یحیی نے سیل بند کر کے جیب میں ڈالا اور شکر ادا کیا کہ بات شروع کرنے کا ایک سبب نکل آیا ہے ۔۔۔یحیی کس لیئے کھڑے ہو اب جاو بھی ۔۔ کتنا ڈر ہے تمھیں نور کا ! نہیں ڈر تو نہیں ہے بس اسکی شخصیت ہی اتنی سحر انگیز ہے جو کہ تم بھی مانتی ہو ۔۔
ہاں ہاں پتا ہے اب بس جاو!
نور نے سلام پھیرا اور ہاتھ دعا کے لئے بلند کیئے ہی تھے کہ دروازے پر ہلکی سی دستک سنائی دی، پہلے تو اپنا وہم سمجھ کر نظر انداز کیا پھر دوسری دستک پر دروازہ کھولا اور سامنے یحیی کو دیکھ کر حیران و پریشان ہو گئی ۔۔
سب خیریت ہے نا ؟! بےجی پھپھو اور روحہ سب ٹھیک ہیں نا ؟؟
سب بالکل ٹھیک ہیں تم ذرا اپنی سانس بحال کرو ، پتا نہیں ہر وقت تمھیں دوسروں کی فکریں کیوں ہلکان کیئے رکھتی ہیں ۔۔
اندر نہیں آنے دو گی ؟!
جی ضرور !
تمھارے لیے ایک خوش خبری لایا ہوں ۔۔
وہ بات اگر تمھاری ذات سے منسلک ہوتی تو اتنا خوش نہ ہوتی جتنا ابھی سن کر خوش ہو گی ۔
ارے ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے، نور نے میٹھے لہجے میں تردید کی ۔۔۔
یحیی نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بولا کل وسیم جلال الدین تمھاری اور میری کزن بلکہ ہماری کزن کو دیکھنے جا رہا ہے ، اب دعا کرو بات بن جائے ۔۔
واقعی سچی؟! میں تو بہت خوش ہوں میں نے تو بہت دعائیں مانگی ہیں کرن کےلئے ۔۔۔
اپنے لئے بھی مانگتی ہو دعائیں ؟؟
جی میں مانگتی ہوں اور اپنے ساتھ منسلک لوگوں کے لئے بھی ۔۔۔
تمھیں حیرت نہیں ہو رہی آج میں تم سے بات کرنے تمھارے کمرے میں آیا ہوں؟ ۔۔۔
نور کچھ دیر خاموش رہی پھر بولی “صبح کا بھولا اگر شام کو گھر واپس آجائے تو اسے بھولا نہیں کہتے “۔۔۔
تم ذہین شروع سے ہو یا نکاح کے بعد ہوئی ہو ؟!
اگر آپکی خوشی میں اضافہ ہوتا ہے تو میں ذہین نکاح کے بعد ہی ہوئی ہوں ۔۔۔
یحیی نے مسکرا کر گردن ہلائی ۔۔
نور مجھے تم سے اپنے پچھلے گناہوں اور کو تاہیوں کی معافی مانگنی ہے ۔۔۔۔۔
یہ کام شاید مجھے بہت پہلے کرنا چاہئیے تھا لیکن شاید میری انا اسکی اجازت نہیں دے رہی تھی ۔۔۔
کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ ؟ نور نے نیچے فرش پر بیٹھتے ہوئے بولا ۔۔ آپ نے کچھ غلط نہیں کیا بلکہ مجھے زبردستی آپکے سر پر مسلط کر دیا گیا تھا ۔۔۔ آپکی بھی خواہشات، امنگیں تھیں لیکن پھر بھی آپ نے اس رشتے کو احسن طریقے سے نبھایا ہے ۔۔۔
وہ کیسے نور بانو ؟؟
مجھے سمجھ نہیں آتی تم کس مٹی کی بنی ہو؟!
آپکو جواب اسلام آباد والا یا سرگودھا والا دوں؟
میرے خیال میں دونوں پرانے جواب ہیں رہنے دو ، اب کوئی نیا جواب دو کیوں کہ تمھارے ہر نئے جواب میں ایک نیا رنگ، ایک نئی کشش ہوتی ہے ۔۔۔
اب ایسی بھی کوئی خاص بات نہیں ہے، نور شرم سے مسکرائی ۔۔۔
نور تمھیں مجھ سے کوئی شکایت نہیں ہے ؟
نہیں بالکل بھی نہیں ہے ۔۔
میں اسکی وجہ جاننا چاہتا ہوں کہ تمھیں مجھ سے شکایت کیوں نہیں ہے ؟! جبکہ مجھے علم ہے میں نے بہت سارے معاملات میں تمھارے ساتھ زیادتی کی ہے ۔۔
مجھے آپکی کوہتایاں بھی بہت اپنی اپنی سی لگتی ہیں!
یہ کیا بات ہوئی بھلا ؟! کیا تم انسان نہیں ہو ؟ کیا تمھارے احساسات جذبات نہیں ہے کیا ؟
سب کچھ ہے صاحب !
یہ کیا تم دلہا جی سے صاحب پر آگئی ہو ؟!
میں نے سوچا کہ شاید برا لگتا ہو میرا آپکو دلہا کہہ کر پکارنا تو اس لیئے آپکو اس سے اوپر والا درجہ دے دیا ہے ۔۔۔
بس تم مجھے اسی نام سے پکارا کرو !
چلیں جیسے آپ کی خوشی ہے ۔۔
ہر وقت دوسروں کی خوشیوں کا خیال رکھتی ہو کبھی اپنی خوشی کا بھی رکھ لیا کرو!!
دوسروں کی خوشیوں کا خیال رکھنے والے کبھی خالی ہاتھ نہیں ہوتے ، انکی جھولی میں خوشیاں 3 گنا زیادہ بڑھ کر واپس آتی ہیں، محبتیں بانٹنے سے بڑھتی ہیں اور نفرتیں پالنے والے صرف اپنے آپ کو آلودہ کرتے ہیں، کبھی کسی کی آہ سے تو کبھی کسی کی حق تلفی پہ تو کبھی کسی کا دل دکھا کر ۔۔
نور کی جان جائے لیکن نور کبھی بھی ایسے شر کو اپنے اندر پلنے نہیں دے گی ۔۔۔۔
یحیی پورے انہماک سے نور کو دیکھے اور سنے جا رہا تھا جسکا پاکیزہ چہرہ ہلکے پیلے رنگ کے دوپٹے میں لپٹا ہوا ہمیشہ کی طرح بہت نکھرا نکھرا لگ رہا تھا ۔۔
نور پلیز مجھے بتاو مجھے اچھا لگے گا تمھارا شکوہ کرنا ۔۔
دلہا جی میں نے بتایا ہے کہ میرے پاس شکوہ شکایت کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے ۔۔۔
آپ تو میرے لیئے باعث رحمت ثابت ہوئے ہیں ۔۔۔
اگر آپ میرے ساتھ نکاح نہ کرتے تو میں آج دبئی کے کسی جسم فروشی کے اڈے پر ہوتی اوروہاں ہر روز میرے جسم کو نوچا جاتا ۔ تائی جی میرا نکاح اپنے چھوٹے بھائی امجد سے کروانے پر تلی ہوئیں تھیں اگر آپ بروقت نہ پہنچتے تو میں اس نشئی کے ساتھ باندھ دی جاتی جو بعد میں مجھے پیسہ بنانے والی مشین بنا کر دبئی لے جاتا اور میری بولی لگواتا ۔۔۔
آپ نے مجھے سائبان دیا ، مجھے اپنے نام کے ساتھ جوڑ کر عزت بخشی ، مجھے دنیا کے گرم سرد سے بچایا ، اپنے گھر کی چاردیواری میں میری ہر ضرورت کو پورا کیا بغیر میرے مانگے اور پوچھے۔۔۔آپ نے روحہ اور میرے لیئے ہر چیز یکساں میسر کی ۔۔۔
میرا نام صرف آپکے نام کے ساتھ جڑنے سے ماں جیسی پھپھی کی محبت، دادی جیسا پیار بےجی کی صورت میں ملا ، 2 چھوٹی بہنوں کا مجھے عزت و احترام دینا ، مجھے بھابھی کہہ کر پکارنا اور پھر میری پھپھی زاد سوکن کا پیار بھی تواس سب میں شامل ہے ۔۔۔
اور میرے بارے میں کیا رائے ہے ؟ یحیی نے بھنویں اچکائیں ۔۔۔
آپکو اگر مجھ سے محبت نہیں ہے لیکن آپ نے مجھے بہت عزت و احترام دیا اور میرے لیئے آپکی نظروں میں عزت پانا دنیا کی سب سے عظیم نعمت ہے ۔۔ میں جتنا بھی شکر ادا کروں وہ کم ہے ۔۔
نور میرا تمھارے لیے محبت کا لفظ شاید چھوٹا پڑ جائے ، مجھے تم سے محبت نہیں ہے ۔۔
مجھے تو تم سے عشق ہے !!!۔۔۔
جی !!
ہاں مجھے تم سے عشق ہے!!!
بلا روک رکاوٹ نور کی آنکھوں سے موتی ٹوٹ کر گرنا شروع ہو گئے ۔۔۔
زبان گنگ ہو کر رہ گئی، نور حیرت کا مجسمہ بنی بیٹھی تھی، سیاہ گھنی پلکوں کی بھاڑ توڑنے والے موتی اسکے دل کا حال سنا رہے تھے ۔۔۔
کیا اچھا نہیں لگا سن کر ؟!
بہت اچھا لگا ہے سن کر ، نور نا چاہتے ہوئے بھی بلک پڑی ۔۔۔ میں اس قابل تو نہ تھی ۔۔۔
نور یہ سب کچھ بہت پہلے کا ہو چکا ہے جب بچھو نے تمھیں ڈھسا، تم بخار کی شدت میں مدہوش پڑی تھی تمہاری زبان ذکر الہی سے تر تھی ۔۔
میرے اس عشق کا آغاز اس معصوم چہرے سے ہوا جو اتنی اذیت میں بھی اپنے رب کی تعریف میں مگن تھا ۔۔۔
نور یہ تمھاری دعاوں کی شدت ہے جس نے مجھ جیسے انسان کو ہلا کر رکھ دیا حتی کہ تمھاری سوکن کا دل تمھارے لیئے اتنا نرم کر دیا ہے ۔۔۔
نور تو حیرت کے سمندر میں غوطہ زن تھی ۔۔
میں کبھی بھی تم سے بےخبر نہیں رہا ، تم ہمیشہ میری نظروں کے حصار میں رہی ہو ، ہاں یہ الگ بات ہے کہ میری انا نے مجھے روکے رکھا ۔۔۔
لیکن اب وہ وقت آ گیا ہے کہ اس راز کو اسکے حق دار تک پہنچنا چاہیئے ۔۔۔
اور روحہ ؟!
روحہ میری پہلی محبت ہے اور رہے گی لیکن تمھارا مقام اس سے اوپر کا ہے ۔۔
اس میں میرا کوئی عمل دخل نہیں یہ سب تمھاری قربانیوں کا ثمر ہے ۔۔۔۔
ادھر آو میرے پاس بیٹھو!!
جی !!
نور نے آنسو صاف کرتے ہوئے حکم کی تعمیل کی ۔۔
کتنی عمر ہے تمھاری ؟؟
ارے بتائی تو تھی !
ابھی دوبارہ سے بتاو مجھے بہت کیوٹ لگا تھا تمھارا ایک ایک دن کا حساب بتانا ۔۔۔
ابھی میری عمر 18 سال 5 مہینے اور 10 دن ہے ۔۔
تم نے تو ابھی بھی پورا حساب رکھا ہوا یحیی نے قہقہہ لگایا ۔۔۔
بس جی نکاح کے بعد ذہین جو ہوگئی ہوں ۔۔
اور شرارتی بھی بہت ! یحیی نے نور کے سر کے اوپر دوپٹے سمیت ہلکے سے بال کھینچے ۔۔
کل پھر ہو جائے عقبی لان میں کیکلی اور چھپن چھپائی مقابلہ ؟!
نور ہنسی کو روک نہیں پا رہی تھی ۔
ارے آپ کو کیسے پتا چلا یہ سب ؟!
محترمہ سرگودھا واپسی پر تمھارے یہ عظیم کارنامے اپنے کمرے کی کھڑکی سے ملاحظہ کئے تھے ۔۔ بلکہ آوازیں بھی ریکارڈ ہیں ۔۔
سچی ؟!
جی مچی ! یحیی نے لقمہ دیا ۔۔
اچھا سنائیں !
ریکارڈنگ سن کر نور کی آنکھیں چھلکنے کو دوبارہ سے بیقرار ، اسکا شورشرابہ مقابلے بازی سبھی کچھ واضح سنائی دے رہا تھا ۔۔۔
خود پر قابو پا کر اچھا چلیں میں آپکے لیئے کچھ پینے کو لاتی ہوں ۔۔ چائے یا جوس پیئں گے ؟!
کچھ بھی نہیں تم صرف ادھر بیٹھو اور باتیں کرو ۔
اچانک اٹھ کر کھڑے ہونے سے نور کا دوپٹا سر سے نیچے ڈھلک گیا ۔۔ یحیی کی نظر اچانک اسکی گردن پر گئی تو حیران ہو گیا۔۔
ادھر آو !! یہ کیسے نشان ہیں ؟؟
میرے خیال میں اب وقت آگیا ہے کہ آپکو بتا ہی دوں ۔۔ نور نے دوپٹا اتار کر گردن کے پیچھے پرانے زخموں کے نشانوں کو دکھایا ۔۔
نور !! نور بانو !!! یہ کیا ہے ؟؟ یحیی ہکا بکا دیکھے جا رہا تھا ۔۔۔۔۔
یہ وہ گھاو ہیں جو تائی جی پورے 8 سال سے لگاتی رہیں ہیں ،کبھی گرم چمٹے کے ساتھ تو کبھی شہتوت کی چھڑی تو کبھی کوئی تگڑا ڈنڈا ۔۔
نور تم نے یہ باتیں مجھے کیوں نہیں بتائیں؟
اور کیا امی اس سب سے با خبر ہیں ؟؟
میں نے انکو منع کیا تھا کہ کسی کو نہ بتائیں ،بلکہ آپکو بھی نہیں ۔۔ میں نہیں چاہتی تھی کہ آپ مجھ پر ترس کھائیں ۔۔۔۔
میں چاہتی تھی کہ آپ میری شخصیت کو اپنائیں، میرے کردار کو پرکھیں ۔۔۔
میں چاہتی تھی میرا کردار میری آواز سے اونچا بولے ۔۔۔۔
نور تم جیت گئی اور میں ہار گیا ۔۔
تم میرے گھر میں کتنے مہینوں سے ہو اور میں ان تمام باتوں سے بےخبر رہا ہوں ۔۔
نور تم نے مجھ جیسے مرد کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ میرے لیئے یہ سب دیکھنا کتنا اذیت ناک اور تم یہ سب اپنے نازک جسم ہر سہتی رہی ہو ۔۔
اوہ میرے مالک مجھے معاف فرما ، میرے کبیرہ صغیرہ گناہوں کو دھو ڈال ۔۔
یحیی دونوں ہاتھوں سے سر پکڑ کر بیٹھ گیا ۔۔۔
نور پلیز مجھے معاف کر دو ، میں نے انجانے میں تمھارے ساتھ کتنے ظلم ڈھائے ہیں ، کتنا غلط بول کر تمھاری روح کو چھلنی کیا ہے ۔۔۔
یحیی کی آنکھیں شدت غم سے لال انگارا ہو رہی تھیں ۔۔۔
آپ کیوں غم کرتے ہیں آپ نے کوئی ظلم نہیں کیا ۔۔۔
نور نے آگے بڑھ کر یحیی کے ہاتھوں کو تھام کر یقین دہانی کرائی ۔۔۔
نور تم کس مٹی کی بنی ہو ؟؟
میرے خیال میں ملتانی مٹی کے ساتھ ساتھ سرگودھا کی مٹی کو بھی شامل کر لیتے ہیں ۔۔۔نا چاہتے ہوئے بھی یحیی کی ہنسی چھوٹ گئی اور نور بھی کھلکھلا کر ہنس دی ۔۔۔۔۔۔۔
اللہ سبحان و تعالی نے نور کو اسکے صبر کا بدلہ اسکی دعاوں سے بڑھ کر دیا ۔
