Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gharonda (Episode 11)

Gharonda by Umme Umair

یحیی جا کر گاڑی کا اے-سی آن کرو ہم دلہن کو لے کر ابھی آرہے ہیں ۔۔۔۔

امی جی کی بات سنتے ہی یحیی کا جی چاہا گاڑی چلا کر اکیلا ہی نکل پڑے لیکن ماں کی فرنبداری بھی تو لازم تھی ۔۔۔ چار و نا چار گاڑی سٹارٹ کر کے بیٹھ گیا ۔۔۔دل میں نکاح کی خوشی کے بجائے بیزارگی اور غم و غصہ لے چکا تھا ۔۔غصے کو کم کرنے کے لئے بار بار مٹھیاں بینچ رہا تھا، جب برداشت جواب دینے لگی تو سٹیرنگ ویل پہ سر ٹکا دیا ،جی چاہا دھاڑیں مار مار کر روئے ، مضبوط مرد کا لقب پانے والا نوجوان اپنے غصے کو پی رہا تھا لیکن آنکھیں چغلی کھا رہی تھیں ۔۔۔۔۔شدت غم سے لال ہورہی تھیں ۔۔۔۔۔

نور بانو نام سے ہی نفرت ہوگئی تھی وہ اسکے ارمانوں کی قاتل تھی جسکی وجہ سے آج وہ اپنی محبت سے دور ہو گیا تھا، ،، کتنے ارمان کتنی امنگیں ،کتنے خواب تھے سب مٹی میں مل گیا ۔۔۔۔

پتا نہیں یہ پینڈو کتنا وبال جان بنے گی؟؟؟

طرح طرح کی سوچیں اسکے دماغ کو جکڑے ہوئے تھیں ۔۔۔۔

*******************************************

بھائی جان اب بس اجازت دیں ہمیں اب نکلنا ہو گا ، کرن بیٹی نور کو تیار کر کے خارجی دروازے کے پاس آ جاو ، جی پھپھو بس ابھی لائی ۔۔۔

نور ابھی رخصتی کا وقت آن پہنچا ہے ۔۔ نور جو گھٹنوں پر ٹھوڑی ٹکائے گہری سوچوں میں غلطاں تھی ایک دم سے سیدھی ہو کر بیٹھ گئی ۔۔۔۔۔

کرن مجھے بہت خوف محسوس ہو رہا ہے ایسے لگتا ہے کہ بس ابھی دم نکل جائے گا ۔۔۔

میری ٹانگوں میں بالکل بھی سکت نہیں ہے کہ میں 2 قدم بھی چل سکوں ۔۔۔۔۔

بغیر کسی میک اپ کے قدرتی حسن سے مالا مال نور چہرے پہ چمک لئے سوگواری میں بھی جھل تھل آنکھوں کے ساتھ پر کشش لگ رہی تھی ۔۔۔ گلابی ہلکے پھلکے کام والا یہ کاٹن کا جوڑا اسے چارچاند لگا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔

ارے پگلی لڑکیاں تو خوشی سے جھوم اٹھتی ہیں اور تم ہو کہ غمگین بیٹھی ہو ۔۔۔۔ دیکھو پھپھو کتنی پیار کرنے والے ہیں تجھے سینے سے لگا کر رکھیں گی ۔۔۔اور دلہا بھائی بھی تو کم نہیں ہیں، راج کرے گی تو راج !!!

ویسے بھی انکی نظریں تم سے ہٹیں گی تو وہ کچھ اورسوچیں گے ۔۔۔ تیرے چہرے کی چمک انکی آنکھوں کو ہی نہ چندیا دے ؟!

بس کر دو کرن اب ، نور جھل تھل آنکھوں سے ہلکا سا مسکرائی ۔۔۔۔یہ ہوئی نہ بات دلہنوں والی ۔۔

چل میں ابھی برقعہ اور چادر لاتی ہوں تم جلدی سے اوڑھ لو ۔۔۔۔

کرن تم کیا پہنو گی جب کالج جاوء گی تو؟؟؟

ارے میرے پاس ددوسرا ہے میں وہ لے لوں گی ان شاءاللہ ۔۔۔ اب تمھیں ایسے ہی تو نہیں رخصت کرنا ۔۔۔۔۔

نہ چاہتے ہوئے بھی نور پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔۔۔ ارے پھر رونا !!! نور تم تو بہت بہادر ہو ۔۔۔۔

کرن مجھے تم سب بہت یاد آو گے ۔۔۔

اچھا جی ہم یاد آئیں گے اور جو ادھر دلہا بھائی بیٹھے باہر گرمی میں جھلس رہے ہیں تو پھر انکا کیا بنے گا ۔۔۔۔

نور تمھارا کونسا ادھر اچھا وقت گزرا ہے شکر کرو مار اور طعنوں سے بچو گی پگلی ۔۔۔

نہیں کرن میری آپ لوگوں کے ساتھ بہت سی یادیں وابستہ ہیں، خاص کر تم تو بہت یاد آو گی ۔۔۔۔میرے غم و الم کی ساتھی ،میری غم گسار۔۔۔

“یسو پنجو ” کیکلی ،چھپن چھپائی، میری پڑھائی اور تمھارا تائی جی سے چوری پڑھانا ۔۔۔۔ دیکھو کتنا کچھ وابستہ ہے ان در و دیوار سے۔۔۔۔۔

گڈی شانی اور پھر گوری بھی تو ہے نا ۔۔۔۔۔ کرن سب کا بہت خیال رکھنا ۔۔۔۔۔

اگر مار کھائی ہے تو خیر بھی تو ادھر سے ہی ملی ہے نا ۔۔۔ پھر میں کیوں شکر نہ کروں؟؟؟ ۔۔۔۔اچھا چلو اب بس بہت ہوگیا ہے سب انتظار کر رہے ہیں ۔۔۔

میری پر خلوص دعائیں تمھارے ساتھ رہیں گی کبھی بھی مایوس نہ ہونا ، وقت چاہے کتنا ہی کٹھن کیوں نہ ہوا ، اللہ سبحان و تعالی کی رحمت بہت وسیع ہے ۔۔۔۔۔ میں نے اپنے سیل کا نمبر اور ابا کا بھی تمھاری کتابوں میں لکھ کر ڈال دیا ہے ۔۔۔۔

جب فرصت ملے تو رابطہ کر لیا کرنا لیکن بات یقینا رات کو ہی ہوا کرے گی ان شاءاللہ ۔۔۔

کرن میں تائی جی کو سلام بول لوں ؟؟؟ ۔۔۔

نہیں بالکل بھی نہیں وہ تمھارا حشر بگاڑ دیں گی بس اب جلدی سے نکلو ۔۔۔۔ پیچھے میں سب کچھ سنبھال لوں گی ان شاءاللہ ۔۔۔۔

*******************************************

گاڑی میں بیٹھے 10 منٹ گزر چکے تھے لیکن امی جی کی بہو کا کوئی نام و نشان نظر نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔

وقت گزاری کے لئے جیب سے فون نکالا تو سینکڑوں وٹس ایپ میسیجز اور کتنی ہی مس کالز تھیں ۔۔۔

نا چاہتے ہوئے بھی روحہ کے میسیجز کھول کر پڑھنا شروع کر دئیے ۔۔۔

کتنی کالز کی ہیں اور کتنے میسجز کئے ہیں تم کدھر غائب ہو ؟ میری امی سے بات ہوگئی ہے تم اپنی امی اور بےجی کو ہمارے گھر لا سکتے ہو لیکن پہلے اپنی امی کی میری امی سے فون پر بات کروا دینا ۔۔ ذرا آسانی ہو جائے گی ۔۔۔۔

میسجز پڑھنے کے بعد فون بے دلی سے ڈیش بورڈ پر رکھ دیا اور ایک غصیلی نگاہ ماموں کے گھر کے اطراف دوڑائی ۔۔۔۔

دو بڑی حویلیاں ایک طرف رہائش اور دوسری طرف باغیچہ جس میں پھل دار درخت اور مال مویشیوں کا انتظام تھا ، اس سے ملحقہ زمین میں ٹیوب ویل جس سے زمینوں کو سیراب کیا جاتا تھا ۔۔۔

یہ سب معلومات ماموں نے اسکی آمد کے بعد اور نکاح سے پہلے مولوی کے انتظار میں اسکے گوش گزار کیں ۔۔۔

بیشتر زمینوں میں مٹی کے بڑے بڑے ڈھیلے نظر آئے جبکہ کچھ زمینوں میں باجرا اور جوار کی فصل موجود تھی ۔۔۔۔

سورج کی تپش سے بچنے کے لئے یحیی نے گاڑی ماموں کے گھر کے قریب بر گد کے درخت کے نیچے پارک کی تھی ۔۔۔ چونکہ ماموں کا گھر باقی گاوں سے تھوڑا ہٹ کر تھا ۔۔۔۔۔۔

منظر کشی کے بعد ایک دم دھیان گاڑی کی ونڈ سکرین پر گیا تو ہاتھوں کے طوطے ہی اڑ گئے ۔۔۔ درخت کے اوپر بیٹھا پرندہ اپنی حاجت پوری کر گیا اور یحیی کی گاڑی اس فطری حادثے سے دوچار ہو چکی تھی ۔۔۔غصے کا گراف تھوڑا اور اوپر چلا گیا ،،، سوچا رومال سے صاف کر لوں لیکن فطری حادثے کا حجم پھیل چکا تھا ،، مجبورا گھر کا رخ کیا تاکہ اندر سے پانی لے کر اس کو دھویا جائے ۔۔۔

دروازے پر پہنچتے ہی ماموں سکندر نکلے اور بولے بیٹا صرف 5 منٹ اور دو ۔۔۔

وہ ماموں مجھے کچھ پانی چاہیئے تھا پرندے نے میری گاڑی گندی کر دی ہے ،وہ دھونی پڑے گی

میں بس ابھی لایا بیٹا ۔۔۔

کچھ ہی دیر میں ماموں پانی کی بالٹی اور لوٹا لے آئے ۔۔۔

یحیی نے یہ سب ابھی ہاتھ میں پکڑا ہی تھا کہ پیچھے سے امی کی آواز آئی ۔۔

یحیی نور کو گاڑی میں بٹھاو میں ذرا کچھ سامان اپنی گاڑی میں رکھوا لوں ۔۔۔

بیزار لہجے کو سنجیدہ ظاہر کیا اور پلٹ کر دیکھا تو ماموں سکندر نور بانو کو اپنے ساتھ لگائے اشک بار تھے پھر اسکا ہاتھ پکڑ کر گاڑی تک لائے ۔۔۔

یحیی اسی سوچ بچار میں تھا کہ گاڑی کا دروازہ کھولے یا دھلائی کی طرف جائے ۔۔۔

نتیجہ اخذ کرتے ہی دھلائی کو ترجیح دی ۔۔۔۔

ماموں نے عقبی سیٹ کے بجائے اگلی سیٹ کا دروازہ کھولا اور نور بانو کو اندر بٹھا دیا ۔۔۔

یحیی کے لیے امتحان کی گھڑی شروع ہو چکی تھی دلہن میں دلچسپی کے بجائے غصہ اور نفرت دل میں پنہاں تھی ۔۔۔

تیز تیز ہاتھ چلاتے ہوئے پانی بہایا اس سے پہلے کہ کوئی دوسرا پرندہ رفع حاجت کے لئے اسکی گاڑی کا انتخاب کرے ۔۔۔۔

ماموں بس سب صاف ہو گیا ہے آپکو زحمت دی ہے ، آپکا بہت شکریہ ۔۔۔۔

سکندر نے بغل گیر ہوتے ہوئے گلوگیر لہجے میں کہا بیٹا میری نور کا خیال رکھنا ۔۔۔۔۔جی ماموں آپ پریشان نہ ہوں ۔۔۔۔

مجبورا بولنا پڑ گیا جی تو چاہ رہا تھا کہ اسے اٹھا کر گاڑی سے باہر پھینک دے ۔۔۔۔

یحیی نے گاڑی سٹارٹ کی اور کچی سڑک پر موڑ لی ۔۔۔

منزہ بیگم نے اپنی گاڑی سے اتر کر یحیی کو رکنے کا اشارہ کیا ۔۔ فورا گاڑی کے قریب آئیں اور یحیی کو احتیاطی تدابیر پر عمل اور گاڑی کی رفتار آہستہ رکھنے کی وعظ و نصیحت کی ، یحیی صرف جی بول پایا پھر نور کی طرف متوجہ ہوئیں جوکہ سمٹ کر بیٹھی تھی ۔۔۔

نور میری جان جو کچھ بھی چاہیئے ہوا یحیی کو بتا دینا رستے میں سب کچھ میسر ہے، کھانے پینے سے لے اور باقی سب ضرورت کی چیزیں ۔۔۔۔

میں چلتی ہوں، گھر ملتے ہیں ان شاءاللہ ۔۔۔

یحیی ہنوز خاموش جبکہ نور نے پھپھی کی بات پر اثبات میں گردن ہلائی ۔۔۔۔۔۔۔

ہوش سنبھالنے کے بعد آج پہلی دفعہ گاڑی میں بیٹھنے کا اتفاق ہوا کچی سڑک پر گاڑی ہچکولے کھا رہی تھی نور نے دونوں ہاتھوں سے گاڑی کی سیٹ کو نیچے کی طرف سے مضبوطی سے تھاما ہوا تھا کہ جیسے ابھی گر جائے گی۔۔۔۔۔

یحیی نے کچھ دیر صبر کیا پھر غصے کو دباتے ہوئے بولا ۔۔۔

محترمہ یہ گدھا گاڑی نہیں ہے یہ موٹر کار ہے ۔ سیدھی طرح سے پیچھے ہو کر بیٹھیں اور بیلٹ پہنیں ۔۔۔۔ آگے جی ٹی روڈ پر گاڑی تیز رفتاری سے چلے گی اور اگر اچانک بریک لگانا پڑ گیا تو آپ اس سامنے والے شیشے سے باہر ہونگی ۔۔۔۔لہذا ابھی سے حفاظتی تدابیر کر لیں ۔۔۔۔

نور کو ایک نئی پریشانی نے آن گھیرا ۔۔بیلٹ کا نہ نام سنا نہ کبھی دیکھا سوائے رسیوں اور رسوں کے ۔۔۔۔

ٹھنڈے پسینے آنا شروع ہو گئے ، سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا بولے ، ہلکا سا گردن کو دائیں بائیں گھمایا لیکن کچھ بھی نظر نہ آیا تو دوبارہ سے سیٹ کو مضبوطی سے پکڑ کر بیٹھ گئی ۔۔۔۔

جبکہ یحیی کا خون کھول رہا تھا ۔۔۔

تم گونگی ہو لڑکی ؟؟؟

فورا گردن کو نفی میں جھٹکا دیا ۔۔۔

تو پھر بولتی کیوں نہیں ہو ؟؟؟

بارہا کوشش کے باوجود آواز گلے میں رندھ گئ ۔۔۔

میں نے کچھ پوچھا ہے تم سے، تم کتنی ضدی لڑکی ہو ،کتنی اکڑ ہے تمھارے اندر ، نہ میری بات کا کوئی جواب دیتی ہو اور نہ کسی بات پر عمل کر رہی ہو ۔۔۔ عجیب خلائی مخلوق ہو تم ۔۔۔

یحیی نے اپنا سارا غصہ چند جملوں میں نکالا بغیر سوچے کے سامعی نور کے دل پر کیا بیت رہی ہے ؟!

ججججی ہکلاتے ہوئے مشکل سے آواز گلے سے نکلی ۔۔۔

مجھے بیلٹ کا نہیں پتا اور مجھے نہیں پہننا آتا ہے ۔۔۔

ادھر دیکھو میری طرف !!!

یہ بیلٹ جو میں نے پہنی ہے ایسے ہی ایک تمھاری طرف ہے اس کو اوپر سے کھینچو اور ادھر اسکے اندر کلک کر دو ۔۔۔۔۔

بڑی مشکل سے نور نے بیلٹ ڈھونڈی اور کھینچی لیکن ہاتھوں میں شدید لرزش سے کلک نہیں ہو پا رہا تھا ۔۔۔بار بار کوشش کے باوجود نور ناکام ہو رہی تھی ۔۔۔

یحیی کی برداشت جواب دے گئی ۔۔

یا اللہ کس پینڈو اور گنوار سے میری قسمت پھوٹی !!!

ناچاہتے ہوئے بھی بول گیا اور سر ہاتھوں میں تھام لیا ۔۔گاڑی کو سائیڈ پر پارک کیا ۔۔۔

نور مسلسل کوشش کر رہی تھی لیکن ہر بار ناکام ۔۔۔۔

میں نے کہا چھوڑ دو اسے ۔۔۔یحیی شدید غصے سے دھاڑا ۔۔۔نور نے سہم کر بیلٹ کو چھوڑ دیا۔۔۔لاو اسے مجھے دو میں تمھیں بتاوں کے کیسے پہنتے ہیں بیلٹ ؟!

نور نے فورا اثبات میں گردن ہلائی ۔۔۔

یحیی نے اپنی سیٹ سے تھوڑا آگے ہو کر اس کے بیلٹ کو پکڑ کر 2 سیکنڈ میں بند کیا اور گاڑی کی سپیڈ بڑھا دی ۔۔۔

گاڑی جی ٹی روڈ پر 50 سے اوپر کی رفتار سے بڑھ رہی تھی نور کو ایسے لگ رہا تھا کہ گاڑی ابھی کسی چیز سے ٹکرا جائے گی ۔۔۔ دل سوکھے پتے کی طرح لرز رہا تھا ۔۔۔

دل۔ہی دل میں سفر کی دعا پڑھی ۔

“”الله أكبر ،الله أكبر، الله أكبر، سبحان الذى سخرلنا هذا وما كنا له مقرنين وانا إلى ربنا لمنقلبون،””(صحیح مسلم1342(3275) )۔۔۔۔

(اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے،اللہ سب سے بڑا ہے، پاک ہے وہ ذات جس نے اسے ہمارے لیے مسخر کیا ورنہ ہم اس پر قابو پانے والے نہ تھے ۔ اور بے شک ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں ۔)

نور کی آنکھیں ٹپ ٹپ برس رہی تھیں ، شکر ہے کہ چہرے پہ نقاب تھا ورنہ یحیی نے اس کا اور برا حال کرنا تھا ۔۔۔ نور دل ہی دل میں شدید خوف زدہ تھی ۔۔۔۔

نوباہتا جوڑا اپنے سفر کی طرف رواں دواں تھا۔ گاڑی میں مکمل خاموشی تھی ۔۔۔ ایک طرف خوف و ہراس اور دوسری طرف غم و غصے کی شدت ۔۔۔۔

نا چاہتے ہوئے بھی نور کا جسم کانپ رہا تھا ۔۔۔

ہاتھوں کی لرزش کا اندازہ یحیی پہلے بھی کر چکا تھا لیکن ابھی صورتحال اور سنگین ہو رہی تھی ۔۔۔

کیوں کانپ رہی ہو ؟ کھردرا لہجے سے دریافت کیا ۔۔۔

ووووہ مجھے سردی لگ رہی ہے ۔۔ سردی اور اگست کے مہینے میں؟؟؟ یحیی سے یہ بات ہضم نہیں ہو رہی تھی ۔۔۔

تم مجھے بتاو ہر بات ہکلا کر کیوں کرتی ہو ؟؟؟

وووہ وووہ مجھے آپ سے ڈر لگ رہا ہے نور گردن جھکائے دھیمے لہجے میں بولی ۔۔۔

کیوں میرے سینگ نکلے ہوئے ہیں یا دانت لمبے خونخوا درندوں جیسے ہیں ؟؟؟

نہیں ایسی بات نہیں ہے ۔۔۔

تو پھر ؟؟؟

وہ بس ویسے ہی ، نور مسلسل لرزتے ہوئے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو مروڑ رہی تھی ۔۔۔۔

یحیی گاہے بگاہے اس پر ایک اچٹتی نگاہ ڈالتا جبکہ نور باہر کے نظاروں کو ترجیح دے رہی تھی ۔۔۔

اگر کمر سیٹ کی پشت کے ساتھ جوڑتی تو کمر رکھتی اگر آگے ہو کر بیٹھنے کا سوچتی تو یحیی کے غصے سے خوف آتا ۔۔۔۔

عجیب بےکلی اور بےچینی تھی ۔آنسو بنا روک ٹوک موتیوں کی طرح ٹوٹ کر اسکے نقاب کے اندر جذب ہو رہے تھے ۔۔۔

دل۔کی بےکلی کو قرآن کے حوالے کر دیا اور تلاوت کلام پاک شروع کر دی لیکن دل ہی دل میں ۔۔۔۔

سفر کرتے ہوئے ایک گھنٹہ گزر چکا تھا تو یحیی نے پوچھا واش روم جانا ہے ؟؟ میرا مطلب ہے بیت الخلاء جانا ہے تو گاڑی روک لیتا ہوں کسی ہوریسٹورنٹ کے پاس ۔۔۔۔

جی نہیں مجھے نہیں جانا صرف پانی درکار ہوگا ظہر کے وضو کے لئے ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *