Gharonda by Umme Umair NovelR50654 Gharonda (Episode 24)
Rate this Novel
Gharonda (Episode 24)
Gharonda by Umme Umair
تائی جی کے بعد اب روحہ ننگی تلوار کی طرح اپنے سر پر لٹکتی محسوس ہوئی ۔۔ نور کو دو منٹ میں ہی ملی جلی آوازیں اپنے قریب سے آتی سنائی دیں
منزہ بیگم نور کو ڈھونڈتی کچن میں آئیں اور آتے ساتھ ہی نور کو گلے لگا کر ماتھے پر پیار کیا ۔۔
نور آو میں تمھیں تمھاری چھوٹی پھپھو سے ملواو ۔۔
جی پھپھو چلیں ۔۔
کمرے میں آتے ہی نظر سامنے بیٹھے ظالم جان یحیی پہ گئی جس کا چہرہ بے تحاشا خوشی سے دمک رہا تھا ، گاہے بگاہے وہ روحہ کو اپنی محبت بھری نگاہوں سے نواز رہا تھا ۔۔۔
جمیلہ بیگم نور کو دیکھتے ہی اس سے لپٹ گئی ۔۔۔ ماں صدقے نور بانو میری بھتیجی مجھ سے ناراض مت ہونا ، میں ان خون کے رشتوں سے ترس چکی ہوں ۔۔۔۔ میں کبھی بھی تمھاری حق تلفی نہیں ہونے دوں گی ۔۔۔ تم مجھے روحہ کی طرح ہی عزیز ہو ۔۔ پھپھو نے نور کے معصوم گالوں پر کتنے ہی بوسے دے ڈالے۔۔۔۔۔
نور معصوم بھولی بھالی بغیر میک اپ کئیے قدرتی حسن سے مالا مال دوشیزہ ۔۔۔
روحہ نے نور کو دیکھ کر اپنے آپ کو اس سے کمتر محسوس کیا ، یہ تو مجھ سے زیادہ حسین ہے ، کاش یہ یحیی کی زندگی میں نہ آتی تو کتنا اچھا تھا ۔۔ روحہ کو طرح طرح کے خیالات ستا رہے تھے ۔۔
یحیی نے حالات کو ساز گار بنانے کے لئے نور کو پکارا ۔ ادھر آو نور ادھر روحہ سے ملو۔۔۔
نور نے فرمانبداری سے گردن ہلاتے ہوئے روحہ کو سلام بولا اور مصافحہ کے لئے ہاتھ آگے بڑھایا ، روحہ نے مجبورا بناوٹی مسکرا سجا کر اس کے ہاتھ کے ساتھ اپنی چند انگلیاں ملائیں ۔۔۔
کیسی ہیں آپ روحہ ؟؟ میں ٹھیک ہوں تم سناو کیسی ہو ؟؟ جی الحمداللہ میں بھی ٹھیک ہوں ۔۔ نور جتنی دیر ادھر کھڑی رہی وہ مسلسل یحیی کی نظروں کے حصار میں تھی ۔۔۔نور کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اس کا معائینہ کیوں کیا جا رہا ہے ؟؟!
شاید یحیی یہ کھوجنے کی کوشش کر رہا تھا کہ نور بانو کیسے محسوس کر رہی ہے ؟!
بارہا کوشش کے باوجود نور کے بے تاثر چہرے نے یحیی کی کھوجتی آنکھوں کو ناکام لوٹا دیا ۔۔
چھوٹی بڑی پھپھو نے پاس بٹھا کر خوب تسلی دی ، بےجی الگ سے واری صدقے جارہی تھیں ۔۔پھر بولیں پہلی بہو تم ہو اور پھر روحہ ہے ۔۔۔
لیکن نور یہ بات بخوبی جانتی تھی کہ بات پہلی یا دوسری کی نہیں ہے ، بات تو دل میں جگہ بنانے کی ہے جو شاید میں کبھی بھی نہ بنا پاوں گی ۔۔
ایک دم سے ضمیر نے سرزنش کی ، کیوں مایوسی کی باتیں کرتی ہو ؟! بس صبر ، دعا اور خالص نیت سے اپنے فرائض نبھاو ۔۔
نور نے اٹھتے ہی بولا آپ لوگ بیٹھیں میں کھانا تیار کر رہی ہوں ۔۔۔
ارے نہیں نہیں میں نے لڑکیوں کو بھیجا ہے وہ کچن میں بنا رہی ہیں کھانا تم آرام سے پھپھو جمیلہ کے پاس بیٹھو ۔۔۔۔
نور پھپھو کی آپ بیتی سن کر اپنا غم ہلکا محسوس کر رہی تھی ۔۔
تائی رخشندہ کی تاریخ سن کر نور کے رونگٹے کھڑے ہو رہے تھے ۔۔
کالج کی پڑھائی اور ہوسٹل داخلے کے بہانے مجھے بھائی جان سکندر کے ساتھ بھیجا ۔ رخشندہ کا بڑا بھائی اشرف منصوبے کے تحت پہلے سے بسوں کے اڈے پر موجود تھا ، ہم دونوں کو آتا دیکھ کر ، اس نے سکندر بھائی کو باتوں میں لگا کر ایک کونے میں لے گیا اور مجھے کسی نے منہ پر رمال رکھ کر وہاں سے اٹھا لیا ۔۔۔ ہوش آیا تو خود کو زنجیروں میں جکڑے پایا ، کمرہ مکمل طور پر تاریک تھا ۔۔۔ بعد میں پتا چلا کہ یہ گروہ جواں سال لڑکیاں دبئی بجواتے ہیں اور انہیں جسم فروشی پر مجبور کرتے ہیں ۔۔ اللہ نے مرتضی کو رحمت بنا کر بھیجا انہوں نے بر وقت اپنی پوری ٹیم کے ساتھ اس جگہ پر چھاپہ مار کر سب لڑکیاں بازیاب کروا لیں ۔۔۔اور ان خبیثوں کو گرفتار کر لیا ۔۔ تفتیش شروع ہوئی تو میں شدید صدمے سے دوچار تھی ادھر ہی بےہوش ہوگئی ، کتنے دنوں بعد ہوش آیا تو مرتضی کی امی کو اپنے پاس پایا ، میں مسلسل انکو گھورے جا رہی تھی کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے ۔۔
تھوڑی طبعیت سنبھلی تو وہ مجھے اپنے چھوٹے سے گھر لے آئیں ، ایک ہفتہ مذید گزر گیا لیکن واپسی کے تمام راستے میرے لیئے بند ہوچکے تھے ۔۔میرا نام تو بدنام ہو ہی چکا تھا ۔۔
بزرگ تجربہ کار عورت تھیں ، موقع مناسب پاتے ہی انہوں نے میرا نکاح روحہ کے والد مرتضی سے کروا دیا ۔۔ مرتضی چونکہ تمام حالات سے باخبر تھے ، انہوں نے مجھ سے وعدہ لیا کہ میں کبھی بھی پیچھے پلٹ کر نہ دیکھوں ۔۔
جمیلہ بیگم کی آنکھوں سے آنسو زاروقطار جاری تھے ۔۔
روحہ نے آگے بڑھ کر ماں کو تسلی دی کہ آپکی طبیعت دوبارہ سے خراب ہو جائے گی ، پہلے ہی ہر وقت روتی رہتی ہیں، اب تو آپکو خون کا رشتہ میسر ہے امی ۔۔ پلیز نہ روئیں ۔۔
نور مجھے معاف کردو میں نے اپنا رشتہ بحال کرنے کےلئے تمھیں حصوں میں بانٹ دیا ہے ۔۔
خاموش نور نے چہرہ اٹھا کر تسلی دی کہ آپ بالکل بھی پریشان نہ ہوں ۔۔ آپکو میری طرف سے کسی بھی قسم کی شکایت کا موقع نہیں ملے گا ۔۔
یحیی نے سکھ کا سانس لیا اور آنکھوں ہی آنکھوں میں نور کو شاباش دی ۔۔
سب نے مل کر پر تکلف کھانا کھایا ، پھر یحیی خالہ کو گھر واپس چھوڑنے کے لئے نکل گیا ۔۔
منزہ بیگم نے سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے روحہ ، نور کو کمروں میں جانے کا عندیہ سنایا ،
وہ پھپھو میں اپنا سامان نیچے بےجی کے کمرے میں لے آئی ہوں ، روحہ یحیی والے کمرے میں چلی جائے اور میں بےجی کے ساتھ سو جاوءں گی ان شاءاللہ ۔۔
پگلی نہ ہو تو !! تم بےجی کے کمرے میں کیوں سونے لگی بھلا ، تم اپنے الگ کمرے میں سو گی ، تم دونوں یحیی کی بیویاں ہو اور تم دونوں کے کچھ حقوق و واجبات ہیں ۔۔۔
نور تم ایسا کرو وہ خالی والا کمرہ تیار کرو اور روحہ تم نور کے ساتھ یحیی کے کمرے کا رخ کرو ۔۔
جی ٹھیک ہے خالہ ۔۔
میں اور بچیاں کچن سمیٹ لیں گے ، تم دونوں اوپر کمروں میں جاو۔۔۔
نور نے پھپھو کی ہدایات کے مطابق روحہ کو کمرہ دکھایا اور خود دوسرے کمرے میں آکر خوب دل کی بھڑاس نکالی ۔۔ روتے روتے ہچکی بندھ گئی
“لوٹا دیں رونقیں تجھے تیرے معیار کی
کہرام مچا کر اپنے دل کی بستی میں “
یحیی کی غصیلی آنکھیں، اس کا غصہ ، اس کی نرمی ، اس کا بے پناہ خیال رکھنا، ہر چھوٹی موٹی ضرورت کا پورا کرنا ، ہر نئی چیز کے استعمال کا طریقہ سکھانا سب کچھ نور کے دل و دماغ کو گھائل کیئے جا رہا تھا ۔۔۔![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
##############################
یحیی نے بڑے چاو اور ارمانوں سے اپنے کمرے کا دروازہ کھولا ۔۔۔ جیسے ہی اندر داخل ہوا ، ایک دم باووو کی آواز سے اچھل کر پیچھے ہٹا اور گرتے گرتے بچا ۔۔۔ دروازے کے پیچھے کھڑی روحہ بتیسی نکالے ہنسے جا رہی تھی ۔۔۔
روحہ کچھ تو شرم کرو پہلے دن کی دلہن ہو اور اپنے دلہے کا استقبال باووو سے کر رہی ہو ۔۔
افسوس صد افسوس !!!
یحیی نے مصنوعی غم کا اظہار کیا !!
تمھیں تو 2 گز کا گھونگھٹ نکال کر بیٹھنا چاہئے تھا ۔۔۔
ہاں تم تو جیسے بڑے روایتی انداز میں بیاہ کر لائے ہو ۔۔۔ یہ باووو تو کچھ بھی نہیں ہے میں نے تو کچھ اور ہی سوچا ہوا تھا بس تمھاری بچت ہو گئی ہے ۔۔
روحہ نے ادا سے کہا ۔۔۔ خیر چھوڑو سب باتیں یہ بتاو میری منہ دکھائی کدھر ہے ؟؟؟
یحیی نے جیبین ٹٹولنا شروع کر دیں ۔۔
اوہ نو !!! پتا نہیں جو نسوار کی شیشوں والی ڈبیہ خریدی تھی ،وہ کدھر رہ گئی ہے؟!
کوئی حال نہیں تمھارا یحیی؟! کون دیتا ہے نسوار منہ دکھائی میں؟!
بھئی اب جیسے شادی انجام پائی ہے ویسے اس کے شایان شان نسوار ہی تو بنتی ہے ۔۔۔
تم نہیں بدلو گے یحیی !!!
مذاق کرنے کی کوئی تک بنتی ہے بھلا ؟!
تو پھر جان من باہر لان میں جا کر بنٹے کھیل لیتے ہیں ۔۔۔ جاو میں نہیں بولتی تم سے ! روحہ منہ پھلا کر بیٹھ گئی ۔۔۔
اچھا چلو اب ناراض نہیں ہو کل میں تمھیں 3 رنگوں والا پراندا لے دوں گا ۔۔۔
وہ تم لے کر دو اپنی پینڈو بیوی کو ۔۔
اسکو تو پراندے کی ضرورت ہی نہیں اسکے بال ہی اتنے لمبے ہیں ۔۔۔
کیا کیا کیا بولا ہے تم نے ؟!
بھئی میں نے حقیقت بتائی ہے !!
ایک دم سے یحیی کے کانوں میں خطرے کی گھنٹیاں بجنا شروع ہو گئیں پر اب جو زبان سے نکل چکا تھا اسکا خمیازہ تو بھگتنا تھا ۔۔۔
اچھا چلو اپنا ہاتھ دو اور آنکھیں بند کر لو !!
روحہ نے شرماتے ہوئے اپنا مرمری ہاتھ آگے بڑھایا ۔۔
ابھی کھول لو ۔۔
روحہ نے جیسے ہی آنکھیں کھول کر دیکھا تو فلک شگاف چیخ نکلی جسکو یحیی نے بروقت منہ پہ ہاتھ رکھ کر دبا دیا ۔۔۔
یحیی تو ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہا تھا ۔۔
کچھ سوچ کر باہر لان سے آتے ہوئے مردہ لال بیگ اٹھا لایا ۔۔۔
یحیی میں نے تمھیں نہیں چھوڑنا !!
میں ابھی خالہ کو بلاتی ہوں ، تم سلاو اپنی نور کو اپنے پاس !!
میں جا رہی ہوں ۔۔
روحہ جیسے ہی دروازہ کے طرف لپکی یحیی نے بستر سے چھلانگ لگا کر پکڑ لیا ۔۔ کدھر جا رہی ہو جان یحیی؟!
بھلا ایسے کرتے ہیں پہلے دن کی دلہن کے ساتھ، ؟! روحہ رو دینے کو تھی ۔۔۔
ارے میں تو اپنی شادی کی رات کو یادگار بنا رہا ہوں ، باقی تمام لوگوں سے ۔۔۔
اب اس طرح کے مزاق منشی چاچا کے ساتھ تو کرنے سے رہا ۔۔۔
یحیی نے دونوں کان پکڑ لیئے ، معاف کردو پلیز !!! جان یحیی روحہ ۔۔۔
“روٹھے جو تو دل مٹھی میں ہوتا ہے میرا
مسکرائے جو تو گویا بحال ہوئی سانسیں “
یحیی نے جذب میں آکر شاعری سنا ڈالی ۔۔ روحہ خاموشی سے منہ پھلائے دروازے کی طرف رخ کئے کھڑی تھی ۔۔
یحیی نے پیچھے سے پکڑ کر اٹھایا اور بستر پر بٹھا دیا ۔۔
اب کوئی مذاق نہیں ہو گا اب سنجیدگی سے کچھ قواعد و ضوابط سیکھ لیتے ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر
