Gharonda by Umme Umair NovelR50654 Gharonda (Episode 03)
Rate this Novel
Gharonda (Episode 03)
Gharonda by Umme Umair
ارے بانو جا باہر دیکھ کون آیا ہے دروازہ کب سے پیٹا جا رہا ہے ۔۔ لینن کے دوپٹے کو اپنے چاروں اطراف لپٹتی آدھے سے زیادہ چہرے کو ڈھکے چلچلاتی دھوپ میں بند دروازے کی طرف بھاگی ۔۔کون ہے؟؟؟
دروازہ کھولو میں امجد ہوں ۔۔۔
کون امجد؟؟؟
آپا رخشندہ کا بھائی امجد ۔۔۔
نام سنتے ہی نور کے ہاتھوں کے طوطے ہی اڑ گئے ۔۔جھٹ سے دروازہ کھولا ۔۔
السلام و علیکم ماموں!!
وعلیکم السلام ۔۔ کون ہو تم ؟؟ کرن یا بھا جی کی بھتیجی ۔۔
جی میں نوربانو ہوں ۔۔
کتنی بڑی ہوگئی ہے بانو ۔۔ 5 سال پہلے تو بہت چھوٹی تھی ۔ کیسا قد نکالا ہے؟!
ماموں امجد نے للچائی نظروں سے سر سے پاوں تک نور کا معائنہ کیا اور بولا ۔ ارے یہ نقاب تو ہٹا چہرے سے شکل تو دیکھو چھوری کی ۔۔۔۔
بانو کدھر ہے نامراد؟؟ گیٹ کے ساتھ ہی دفن ہو گئی ہے کیا؟!
نہیں تائی جی میں ابھی آئی ۔ نور نے سکھ کا سانس لیا اور تیزی سے کمرے کی طرف بھاگی ماموں امجد آئے ہیں تائی جی ۔۔۔
اسکو ادھر بلا دھوپ میں جلا رہی ہے میرے بھائی کو ۔۔
میرا بھائی آیا ہے ۔تائی کے چہرے سے خوشی نمایاں ہو رہی تھی ۔۔ صدقے واری جا رہی تھیں ۔۔
میرے ویر میرے لعل کب آیا ہے دبئی سے؟؟؟
بس آپا کل ہی آیا ہوں اور آج تیرے قدموں میں ہوں ۔۔
چل بتا کیسے گزرے اتنے سال اپنی بہن کے بغیر؟؟
توں گیا تو پھر واپس پلٹ کر نہیں دیکھا ۔۔
بس آپا کچھ پیچیدگیاں ہو گئیں تھیں بعد میں بتاوں گا ۔۔
بانو جلدی سے ٹھنڈی سکنجین لا میرے بھائی کے لئے ۔۔۔ کھلی برف ڈالیو ۔۔۔جی تائی جی ۔۔ نور نے برآمدے سے ہی جواب دیا اور رسوئی میں گھس گئی۔۔۔۔ محنت کر کر کے میرا بھائی ہلکان ہوتا رہا ہے سارا رنگ جل گیا ہے ۔۔۔
******************************************
یار کیا مصیبت ہے دو دن گزر گئے ہیں ابھی بھی مزاج نہیں مل رہے محترمہ کے ۔۔۔یحیی نے دہائی دی ۔۔
بھول گئے آپ گھونسلے جیسی زلفیں، باندر جیسی باچھیں اور نجانے کیا کیا بولا تھا آپ نے میری اس خوبرو سہیلی کو ۔۔۔۔۔کنول بھی سہیلی کی محبت میں تڑپ اٹھی ۔۔۔
اوووہ اچھا اب سمجھ آئی ہے ۔۔
یحیی نے ہونٹ سکیڑےاور روحہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مخاطب کیا ۔۔۔
جان یحیی ان ظالم سماجوں کو میری اور اپنی محبت کے قصے سنا کر کیوں جگ ہنسائی کرواتی ہو؟؟؟
اور پھر اونچی آواز میں گویا ہوا۔۔۔
میرے لیے تو تم سورج گرہن کی طرح ہوجو بہت کم پایا جاتا ہے اور جو سورج کی تمام روشنی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے ۔۔۔
دیکھا دیکھا آپ لوگوں نے ۔۔۔یہ پھر فضول باتیں کر رہا ہے جبکہ باقی ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہے تھے ۔۔
باز آ جا یار سفیر نے ہاتھ سے اشارہ کیا ۔۔۔
لیکن یحیی بھی ڈھیٹوں کا سردار اس کے کان پہ جوں بھی نہ رینگی ۔۔۔۔
جان من اگر باچھوں اور زلفوں کی وجہ سے غمگین ہو تو میں انھیں کسی اور چیز سے تشبیہ دے دیتا ہوں ۔۔ مثلا ۔
تمھاری زلفیں تو کالی گھٹاؤں جیسی ہیں وہ گھٹائیں جو رخ تو کراچی کا کرتی ہیں لیکن برستی ہیں پشاور میں جا کر ۔۔۔
روحہ اپنا جوتا اتار چکی تھی اور اس کا نشانہ یحیی کی کمر تھی ۔۔۔
روحہ شدید غصے میں رو دینے کو تھی ۔۔۔
روحہ تمھیں پتا تو ہے مذاق کرتا ہے پھر کیوں دل جلاتی ہو ۔۔ اس کے بغیر بھی تمھارا گزارا نہیں ہوتا ۔۔۔ کنول سفیر موجودہ صورتحال کو ٹھنڈا کرنے کی تگ ودو میں تھے۔۔۔
اب غصہ تھوکو اور چلو کلاس میں چلتے ہیں صرف 5 منٹ باقی ہیں کلاس شروع ہونے میں ۔۔
یحیی بھرپور مسکراہٹ چہرے پہ سجائے پہلی صف کی پہلی کرسی پہ براجمان اپنے نوٹس کو کھنگال رہا تھا جیسے شرافت کے ایوارڈ جیت کر آیا ہو ۔۔۔
روحہ دانت پیس کر کنول کے ساتھ عقبی رو میں بیٹھ گئی ۔۔۔یحیی اندر ہی اندر مسکرا رہا تھا ۔۔
پروفیسر متین کلاس میں تشریف لا چکے تھے اور موضوع کی طرف آنے سے پہلے اسائنمنٹ کی تصدیق چاہی ۔۔۔جو کہ ذہین یحیی کے لئے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا ۔۔
پوری کلاس کا ذہین سٹوڈنٹ ۔۔۔
۔******************************************
کلاس کے فورا بعد ہی سفیر نے کینٹین چلنے کی دہائی دی چلو یار اگلی کلاس سے پہلے کچھ کھا پی لیں ۔۔
نہیں یار تم جاوء میں بس ابھی آیا کچھ پوائنٹس ہیں جو نوٹ کرنے ہیں وہ تیزی سے پین چلا رہا تھا ۔۔۔
کنول روحہ تو سر کے نکلتے ہی کلاس سے جا چکی تھیں ۔۔۔
. باقی سب لوگ بھی نکل چکے تھے سوائے یحیی کے ۔۔۔
یحیی سر جکائے لکھنے میں مصروف تھا کہ اس کے ناک کے نتھنوں سے زنانہ خوشبو بہت قریب سے آتی محسوس ہوئی ۔۔
فورا سر اٹھا کر دیکھا تو سامنے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
