Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gharonda by Umme Umair

یحیی بچے آج یونی نہیں جانا کیا ؟؟ صبح سے دسواں چکر لگا چکی ہوں ۔۔
آٹھ بھی جاوء میر ے بچے ۔۔۔۔ بہنوں کو بھی چھوڑنا ہے ۔ جلدی کر میرا بچہ ۔۔ میں ناشتہ بنا رہی ہوں ۔۔۔
امی ایک تو صبح اتنی جلدی ہو جاتی ہے ابھی تو سویا تھا ۔۔۔
یحیی انگڑائیاں لیتا چار و نا چار بستر سے نکلا ۔۔۔اور غسل خانے میں گھس گیا ۔۔۔
ابھی 15 منٹ گزرے ہوں گے کہ دروازہ دھڑ دھڑ پیٹا جا رہا تھا ۔۔۔۔
او یار کیا مصیبت ہے سکون سے نہانے بھی نہیں دیتے یہ لوگ ؟!
شازمین بھیا بھیا کی صدائین بلند کر رہی تھی جبکہ یحیی مزے سے شاور کے نیچے کھڑا اسکو کوس رہا تھا ۔۔۔
اور مذید 10 منٹ لگا کر دروازہ کھولا ۔۔۔
اپنے مخصوص انداز میں کرتا شلوار اور واسکٹ پہنی اور اپنی پسندیدہ خوشبو چھڑکتا کمرے سے نکلا جبکہ ناشتے کی میز پر شازمین رامین منہ پھلائے بیٹھی تھیں ۔۔۔۔
صبح بخیر چڑیلوں کی جماعت !!!
تم دونوں کے منہ کیوں پھول کر کپا بنتے جا رہے ہیں؟!
لگتا ہے بھڑوں کے چھتے کے ساتھ رات گزاری ہے دونوں نے ۔۔۔۔
بری بات یحیی کیوں تنگ کرتے ہو بہنوں کو ؟!
ایک تو دیر سے اٹھتے ہو اور اوپر سے انکو زچ کرتے ہو ۔۔
میں انکو ڈرائیور کے ساتھ بھیج دیتی لیکن تمھارے ابوکو مربعوں پہ اچانک جانا پڑ گیا ۔۔۔
کیوں خیریت امی ؟
ہاں بس ٹھیکیدار کا فون آیا کہ کچھ ضروری کام ہے تو زمینوں پہ پہنچو ۔۔۔
انہوں نے بھی نہ آو دیکھا نہ تاؤ دیکھا ناشتہ کیے بغیر فجر کے بعد نکل گئے ۔۔
اچھا !!
یحیی نے سر ہلا کر چائے کی چسکی لی جبکہ شازمین رامین مسلسل پھولے چہروں کے ساتھ ساتھ تگڑی گھوریاں ڈالے جا رہی تھیں ۔۔۔
چڑیلوں کیوں گھور رہی ہو ؟؟؟
سکول ہی تو جانا بے کوئی سفارت تو نہیں سنبھالنی؟
میرا کام ہے سکول پہچانا تو پہنچا دوں گا ۔۔۔
جڑواں بہنیں میٹرک کی طالبات اس وقت سخت پریشانی کا شکار تھیں ۔۔۔
یحیی پوری طرح سےباخبر تھا لیکن انکو زچ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتا تھا ۔۔۔
کپ رکھتے ہی اٹھو ، چڑیلوں ورنہ رکشہ پہ جانا پڑے گا۔۔
فورا گاڑی میں بیٹھ جاوء ورنہ مجھے گلہ نہ کرنا ۔۔۔
امی دیکھا ہے آپ نے بھیا کتنا چیٹ کرتے ہیں!۔۔۔
یحیی باز کیوں نہیں آتے؟ امی نے دھائی دی ۔۔۔
جا جلدی سے بے جی کو سلام بول کر آ۔۔۔
امی میری طرف سے سلام بول دینا میں واپس آکر ان سے مل لوں گا ۔ ابھی بہت دیر ہو رہی ہے ۔۔۔
ہائے ایوری بوڈی آپ کا دوست یحیی آپ کی خدمت میں حاضر ہے ۔۔۔کیسا گزرا آپ سب کا ویک اینڈ؟؟؟!
اپنے مخصوص انداز سے گویا ہوا ۔۔
روحہ مسلسل اسکو نظر انداز کر رہی تھی ۔۔۔
یحیی نے اسکی آنکھوں کے سامنے ہاتھ لہرایا ۔۔
محترمہ روحہ جی آپکی طبعیت تو ٹھیک ہے؟؟
آج تو نو لفٹ کا بورڈ چسپاں ہے ۔۔۔
پورے گروپ کا قہقہہ بلند ہوا۔ تم تو اپنی چونچ بند ہی رکھو تو بہتر ہے ۔۔ روحہ نے لال بھبھوکا چہرے سے تگڑی گھوریاں ڈالیں ۔۔۔۔
شاباش!!! سفیر نے داد دے ڈالی ۔۔۔۔
سفیر تو پٹ جائے گا میرے سے ، دوست میرا ہے اور لقمے اسکو دے رہا ہے ۔۔۔۔
اللہ کی پناہ آج یہ دن بھی دیکھنا تھا ۔۔ جگری دوستوں کے بھی خون سفید ہوتے جا رہے ہیں ۔۔۔یحیی نے دہائی دی ۔۔۔
ہائے میرے نصیب میں تو لٹ پٹ گیا تم جیسوں کے ہاتھوں ۔۔۔ یحیی کی ایکٹنگ جاری و ساری تھی پھر اچانک لہجے میں مٹھاس لاتے ہوئے بولا ۔
جان من !!! من دو من آپ کیوں روٹھی ہوئی ہیں ؟؟ کوئی خاص وجہ ہے ؟؟؟
محترم یحیی صاحب آپ تو اتنے معصوم ہیں کہ آپ کا کوئی ثانی نہیں ہے آپ تو روٹی کو بھی گاگا بولتے ہیں ۔۔۔کنول کی برداشت بھی جواب دے گئی اپنی سہیلی کی محبت میں ۔۔۔۔
توبہ توبہ کیا زمانہ آگیا ہے ؟؟؟ یحیی نے دونوں کانوں کو ہاتھ لگایا ۔۔۔۔
کنول میں نے ایسا کیا کر دیا ہے ؟ شریف سا بندہ ہوں۔۔
جی آپ جیسے دو چار اور شریف پیدا ہو جائیں تو ساری یونی آپ کی برکت سے فیض یاب ہو گی ۔۔۔۔
ہائے بہن کیا کریں ہم نے تو اپنی طرف سے اس کو مکمل تحفظ دیا ہے لیکن یہ ہے ہی کرموں جلی ،نہ پڑھائی کر سکتی ہے مجبورا گھر بٹھانا پڑا روز استانیوں کی شکایتیں سبق یاد نہیں کرتی تو کبھی لکھنا نہیں آتا ۔۔ ہزار کوششوں کے باوجود کوری کی کوری ہی رہی ہے ۔۔۔ اب آگے اس کے ہاتھ بھی پیلے کرنے ہیں ۔ پتا نہیں کس کے نصیب پھوڑے گی ؟!
سکندر تو اپنے بھائی کی لاج رکھے ہوئے ہیں اور اسکو ہتھیلی کا چھالا بنا رکھا ہے ۔۔۔اور ساری ذمہ داریاں اٹھائے ہوئے ہیں ۔۔
اب دیکھو ہماری خود تین بیٹیاں ہیں کم آمدنی میں اپنا گزارا مشکل سے ہوتا ہے ۔۔۔
ہمسائی روبینہ بھی ہاں میں ہاں ملا رہی تھی ۔۔۔
تائی خوب مسکے لگا لگا کر اپنی شرافت کے قصے سناتی اور لوگوں کی آنکھوںمیں دھول جھونکتی ۔۔۔
نور بانو روزمرہ کے کچوکوں کی عادی ہو چکی تھی ۔
اٹھتے بیٹھتے تائی کے طعنے اور معمولی غلطی پر مار پیٹ روز کا معمول تھا ۔۔۔
تایا صبح کے نکلے رات 9 بجے گھر قدم رکھتے پورے دن کے حالات سے بے خبر ۔۔۔۔
صبح 5 بجے سے اٹھی نور سارا دن کم میں جت جاتی ، صفائی ستھرائی سے لے کر کھانا پکانا اور گڈی کو نہلالا دھلانا اس کا فرض عین تھا ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *