Gharonda by Umme Umair NovelR50654 Gharonda (Episode 14)
Rate this Novel
Gharonda (Episode 14)
Gharonda by Umme Umair
نہیں بالکل بھی نہیں، پہلے میں بھابھی کو انکا کمرہ دکھاؤں گی پھر کی پھر دیکھی جائےگی ۔۔
چلیں بھابھی! نور نے گھبراہٹ کو چھپاتے ہوئے ایک دم دونوں بہنوں کو دیکھا اور ایک نظر یحیی کی طرف دوڑائی اورفورا ہی جھکا لی ۔۔۔
ایک نظر ہی کافی تھی مطلب سمجھانے کے لیے، خبردار جو میرے کمرے کا رخ کیا تو !!!
وہ وہ مجھے آپ لوگ پہلے کپڑے دے دو تاکہ میں وضو کر کے نماز پڑھ لوں ۔۔۔
نور نے دھیمے اور التجایئہ لہجے میں کہا ۔۔۔
یحیی نور پر ایک تگڑی گھوری ڈال کر اپنے کمرے میں واپس جا چکا تھا اور کمرہ یقینا اندر سے لاک کر لیا تھا ۔۔۔
چلیں بھابھی آپ نے جو پہننا ہے ہم آپکو دکھاتے ہیں ۔۔۔ بھابھی ایک اور بات ہم نے آتے ساتھ آپکی عمر کا پوچھا تھا کہیں آپکو برا تو نہیں لگا ؟؟؟
نور نے مسکرا کر دونوں کی طرف دیکھا ۔۔
وہ دراصل بھابھی آپ ہم دونوں کے جتنی دکھتی ہیں ایسے لگا جیسے آپ بھی میٹرک کی طالبہ ہیں ۔۔۔
ارے بھئی یہ تو اور ہی اچھا ہے ہم تینوں کے لئے خوب ہلا گلا رہے گا پھر ۔۔۔نور نے محبت پاش نظروں سے دونوں کو اپنے ساتھ لگایا ۔۔۔
شازمین نے الگ ہوتے ہوا بولا بھابھی اتاریں یہ برقعہ اور وضو کے بجائے جلدی سے شاور لے لیں ، سفر کی تھکن بھی تھوڑی کم ہو جائے گی ۔۔۔
جیسے آپ دونوں کی مرضی خادمہ حاضر ہے !! نور نے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوا بولا ۔۔۔
اور پھر تینوں کھلکھلا کر ہنس دیں ۔۔۔
بھابھی مجھے لگتا ہے آپکے ساتھ رہ کر بڑا مزہ آنے والا ہے ۔۔۔ ہم تینوں مل کر بھیا کو ہرایا کریں گے ۔۔۔
وہ ہمیشہ ہم دونوں کو زچ کرتے رہتے ہیں خیر ابھی بابا کی وفات کے بعد کچھ سنجیدہ ہو گئے ہیں ورنہ اللہ کی پناہ انکو بستر سے باہر نکالنا ایسے تھا جیسے ہاتھی کو رکشے میں بٹھانا ۔۔۔
توبہ اللہ کی پناہ ۔۔۔۔
نور اپنے کرب ناک سفر کو بھول کر ان دونوں کی باتوں سے محفوظ ہورہی تھی ۔۔ کھکھلا کر ہنس دی ۔۔
ویسے بھابھی آپ ہو بہت خوبصورت آپس کی بات آپس میں رکھنا ۔۔۔ رامین نے محبت سے چور لہجے میں کہا ۔۔۔
اچھا جی جیسے آپکی مرضی میں کسی کو نہیں بتاوں گی ۔۔۔ نور ہنسی۔۔۔۔
تینوں سر جوڑے الماری کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے دل کو چٹکلوں سے ہلکا پھلکا کر رہی تھیں ۔۔۔
بھابھی سوٹ پسند کریں جو اچھا لگے نکال لیں ، پرسوں ہی درزی گھر پہنچا کر گیا ہے ۔۔۔
میرے خیال میں یہ فیروزی کنٹراسٹ کالے اور سفید کے ساتھ جچے گا اور پیچھے خوبصورت بٹن بھی ہیں ۔ اگر تنگ ہوا تو پہننے اور اتارنے میں آسانی رہے گا ۔۔۔۔
اچھا چلو یہی ٹھیک ہے ۔۔۔ اور ہاں ہم نیچے جا رہے ہیں آپ کا انتظار کریں گے ذیادہ دیر نہ لگانا ۔۔۔
ارے جانے سے پہلے مجھے ہر چیز کو استعمال کرنا تو بتاتی جاوء ورنہ میں ادھر ہی سڑتی رہوں گی ۔۔۔
چلیں بھابھی ہم آپکو ابھی بتاتے ہیں ۔۔۔
اچھا قبلہ رخ بھی بتاتی جاوء ۔۔۔
بھابھی ادھر کونے میں کھڑے ہوکر کھڑکی کی طرف چہرہ کرنا ہے ۔۔۔
چلو سمجھ آگئی ہے ۔۔۔
واش روم میں جدید طرز کا گلاس شاور ایک کونے میں اور دوسری طرف باتھ ٹب اس کے ساتھ واش بیسن ، سب کچھ بہت صاف ستھرا، ایسے لگ رہا تھا کہ کبھی کسی کے زیر استعمال رہا ہی نہیں ہے ۔۔۔
نور نے شاور لیا اور بہت احتیاط کے ساتھ ماربل فرش پر چلتی سنگھار میز تک آئی اور اپنے لمبے گھنے بالوں کا جوڑا کھول کر تولیئے سے خشک کیا ۔۔۔
بالوں میں کنگھی کرنے کا سوچ ہی رہی تھی کہ یحیی آندھی طوفان کی طرح کمرے میں داخل ہوا ۔۔
رامین میں نے کہا میرا چارجر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آدھے الفاظ منہ میں ہی تھے کہ نور جوکہ لون کے فیروزی جدید فیشن کے سلے کیپری ٹراوزز اورخوبصورت فٹنگ والی قمیض میں اپنے لمبے گیلے کھلے بالوں میں بہت اجلی لگ رہی تھی ۔۔۔ وہ یحیی کو سہم کر دیکھے جا رہی تھی ۔۔۔اور پھر فورا دوڑ کر اپنا دوپٹا جو کے بیڈ پر پڑا تھا سینے اور سر پر پھیلایا ۔۔۔
تھوڑی دیر تک یحیی اپنی نظر کو چھپکنا بھول ہی گیا ۔۔۔
پھر اپنے اوپر سنجیدگی کا خول چڑھا کر بولا ۔۔۔ زیادہ خوش فہمیاں پالنے کی ضرورت نہیں ہے، ابھی تو میں جا رہا ہوں اور میرے پیچھے سے تمھیں میرے کمرے میں جانے کی بالکل بھی اجازت نہیں ہے ۔۔۔
مجھے پتا ہے امی اور بےجی نے ایڑی چوٹی کا زور لگانا ہے لیکن تم نے بہانا بنا کر شازمین رامین کے ساتھ انکے کمرے میں سونے کو ترجیح دینی ہے ۔۔۔
سمجھ گئی ہو نا ؟؟!
جی میں سمجھ گئی ہوں ۔۔۔
لیکن ۔۔ کیا مطلب لیکن سے ہے تمھارا ؟!
یحیی دھاڑا ۔۔۔
نور نے خشک زبان کو ہونٹوں پر پھیر کر ہمت کر کے بولا ۔۔ میں پھپھو کی نافرمانی نہیں کر سکتی ۔۔ بڑوں کی فرمانبداری اور ادب و احترام میری گھٹی میں شامل ہے ۔۔
مجھے جیسے پھپھو بولیں گی میں ویسا ہی کروں گی ۔۔۔ میں انکی حکم عدولی نہیں کر سکتی ۔۔۔
تمھارا نکاح میرے ساتھ ہوا ہے ناکہ پھپھو کے ساتھ۔۔۔میرا حکم ماننا تم پر واجب ہے ناکہ پھپھو کا حکم ۔۔۔ یحیی نے غصے سے لال ہوتی آنکھیں نور پر گھاڑ کر جھاڑ دینے والا انداز اپنایا ۔۔۔
نور نے ہمت جمع کر کے سر سے اترتے دوپٹے کو واپس سر پر جماتے ہوئے بولا ۔ حکم اگر غیر شرعی ہو گا تو اس کا نا ماننا مجھ پر واجب ہے ۔۔
یہ نیک کام آپ خود ہی کر دیں اور انکو بتا دیں تو زیادہ اچھا ہوگا ۔۔۔۔
کتنی لمبی زبان ہے تمھاری ۔۔
تعریف کرنے کا بہت شکریہ ۔۔۔
تمھیں تو میں واپس آکر دیکھ لوں گا ۔۔۔
میری خوش نصیبی ہو گی دلہا جی ۔۔۔
اور ہاں جو میں نے تمھیں گاڑی میں بولا ہے اس کا فیصلہ مجھے میری واپسی تک ملنا چاہئیے۔۔
یحیی نفرت بھری نگاہ ڈال کر پھنکارتا ہوا دروازہ پٹخ کر نکل گیا ۔۔۔
نور بانو بخوبی سمجھ چکی تھی اس اڑیل گھوڑے کے ساتھ نبھاہ کرنا کسی چیلنج سے کم نہ ہوگا لہذا رونا دھونا چھوڑ کر حکمت کے ساتھ گزارا کرنا ہو گا ۔۔۔ پہلے تو جسم کو چھلنی کیا جاتا رہا ہے لیکن اب روح چھلنی ہونے کے چانسز زیادہ لگ رہے ہیں ۔۔۔۔
یحیی نے فورا اپنے کمرے میں آکر اپنے سفری بیگ میں 4 جوڑے اور ضرورت کی تمام اشیاء ٹھونسی اور برق رفتاری سے یہ جا وہ جا ۔۔۔
بھیا کدھر جارہے ہیں رامین پیچھے بھاگی؟؟؟ امی بےجی پہنچنے والے ہیں وہ تو انکی گاڑی کا ٹائر پنکچر ہوگیا تھا جس کی وجہ سے دیر ہو رہی ہے ۔۔۔
آپ ایسے نہ جائیں بھابھی کیا سوچیں گی؟!
منہ چھوٹا اور بات بڑی نہ کیا کرو رامین ۔۔
جیسے آپ کی مرضی بھیا میرا کام تھا آپکو بتانا اور اب آپ جانیں اور بےجی امی ۔۔۔
سارا گھر مجھے ہی مشورے دیتا ہے میں تو جیسے گھاس چرتآ ہوں ۔۔۔۔
یحیی بڑبڑاتا نکل آیا اور گاڑی سٹارٹ کرنے سے پہلے سفری بیگ کو ساتھ والی نشست پر پھینکنے لگا تو نظر ٹوٹی ہوئی رنگ برنگی چوڑیوں کے ٹکڑوں پر گئی ۔۔۔سر جھٹک کر بیگ پھینکا اور گاڑی خارجی دروازے کی طرف دوڑائی ۔۔۔
کوشش یہ تھی کہ امی بےجی کے آنے سے پہلے گھر سے نکل جائے ورنہ اور مصیبت گلے پڑ جائے گی ۔۔۔۔۔
• گھر سے نکل کر گاڑی گھر کے عقبی میدان میں کھڑی کی اور روحہ کو فون ملایا ۔۔5 مرتبہ کال ملائی لیکن کوئی جواب موصول نہ ہوا ، صرف رنگ جا رہی تھی ۔۔۔
• پھر کچھ سوچ کر میسج ٹائپ کیا ۔۔۔
• “”روحہ پلیز میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو یہ نکاح میری مرضی سے نہیں ہوا ، یہ نکاح مجھے مجبور کر کے کروایا گیا ہے ۔۔ مجھے اس لڑکی میں کوئی دلچسپی نہیں ہے میں اسے گھر چھوڑ کر سرگودھا جا رہا ہوں ۔۔۔ پلیز میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو میں اسے جلد ہی اپنی زندگی سے نکال دوں گا ۔۔۔””””
• میسج سینڈ کرکے گاڑی پیٹرول سٹیشن کی طرف ڈال دی اور مزید 4 گھنٹے کے سفر کا سوچ کر نور بانو پر شدید غصہ آرہا تھا ۔۔۔
نور بانو نے پورے خشوع کے ساتھ ظہر ادا کی اور پھر ہاتھ اللہ کی بارگاہ میں اٹھا لیئے ۔۔
اپنے نئے نویلے دلہا کی خیر و عافیت سے واپسی کے لئے ،،،۔۔۔ اپنے صبر وتحمل اور ثابت قدمی کی دعائیں گڑگڑا کر مانگیں ۔۔۔۔
نیچے کا رخ کیا اسکو پورا یقین تھا کہ یحیی گھر سے نکل چکا ہے اور جس انداز سے وہ نور کو الوداع کر کے نکلا تھا نور کو سوچ کر ہی جھرجھری آرہی تھی ۔۔۔
بھابھی آپکو یہ کپڑے بہت جچ رہے ہیں ایسے لگ رہا ہے کہ جیسے آپکے لیے ہی سلوائے گئے ہوں ۔۔۔
ویسے بھابھی آپ اتنی خوبصورت کیوں ہیں ؟ اس حسن کی کوئی خاص وجہ ؟؟؟ نور دونوں کے سوالوں پر ہنس پڑی اور بولی کیوں کہ آپکی دیکھنے والی آنکھیں جو خوبصورت ہیں ۔۔۔
حسن تو دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتا ہے ۔۔۔
واہ کمال بھابھی جی !!!!
یہ بات بول کر آپ نے تو محفل لوٹ لی ہے ۔۔۔
تینوں ایک دوسرے کے ساتھ ایسے گھل مل گئیں تھیں جیسے سالوں کا ساتھ ہو ۔۔۔
##############################
بےجی امی کی واپسی ہو چکی تھی دونوں یحیی کی اس حرکت پر افسردہ تھیں اور منزہ بیگم کے فون کرنے پر بھی یحیی فون نہیں اٹھا رہا تھا ۔۔ اب جو کچھ ہو چکا تھا اس کا ازالہ تو ناممکن تھا ۔۔
منزہ بیگم نے نور کو سینے سے لگا کر ڈھیر سارا پیار کیا ۔۔۔
شام کے کھانے سے فارغ ہو کر بےجی کو انکی ادویات کھلائیں ، دونوں لڑکیوں کو انکے کمرے میں بھیج کر نور کو یحیی کے کمرے میں لے آئیں ۔۔ نور اندر سے کافی خوفزدہ تھی جب یحیی کو پتا چلا تو اس نے کچا چبا جانا ہے ۔۔۔۔
کمرہ موتیے اور تازہ گلاب کی خوشبو سے مہک رہا تھا ۔۔ لیکن اتنی پیار کرنے والی ماں جیسی پھپھو کو انکار کرنے کی جرات بھی نہیں ہو پا رہی تھی ۔۔۔
نور آج سے یہ آپکا کمرہ ہے اس میں موجود ہر چیز کی مالک تم ہو ،باقی تمھاری ضرورت کی ساری چیزیں کل ہم بازا سے لے آئیں گے ۔۔
اتنی محبت پاکر نور کی آنکھیں نم ہونے لگیں ۔۔ابھی بالکل بھی نہیں رونا تمھاری پھپھو زندہ ہے کسی چیز کی کمی نہیں آنے دے گی ۔۔
جلد بازی میں کمرے سے نکلنے کی وجہ سے تولیہ کمرے کے فرش پر پڑا تھا اور باقی چیزیں بے ترتیب ہو رہی تھیں ۔منزہ بیگم نے نور کو بستر پر بٹھا کر چیزیں سمیٹنے شروع کر دیں ، نور نے فورا بڑھ کر پھپھو کے ہاتھ سے سب چیزیں لیں اور سمیٹ کر پاس پڑی کپڑوں کی ٹو کری میں ڈال دیں اور بولی پھپھو مجھے کرنے دیں سب ۔۔
میرے ہوتے ہوئے آپ کسی کام کو ہاتھ نہیں لگائیں گی ۔۔۔۔
نور میں تم سے بہت شرمندہ ہوں جو اتنے سال میں نے تم سے کوئی رابطہ نہیں کیا میرے ہاتھ بندھے ہوئے تھے مجھے وعدے کا پابند کر دیا گیا تھا ۔۔۔
جیسے ہی بھائی جان نے مجھے تفصیلات دیں اور موجودہ حالات سے آگاہ کیا میں نے پل دیر نہیں کی اور اپنی پھول سی بھتیجی کو اپنے آنگن کی رونق بنا لیا ۔۔۔
نور تو سالوں سے مامتا کی ترسی ہوئی تھی اتنا پرخلوص لہجہ پاکر اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکی ۔۔۔
پھپھو نے نور کا سر اپنی گود میں رکھ کر اسکے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے اسے تسلی دی اور یحیی کی ادھر غیر موجودگی کی معذرت کی ۔
اسکو تھوڑا وقت لگے گا نور تمھیں تھوڑا صبر کرنا ہوگا وہ دل کا برا نہیں ہے بس یہ سب بہت جلدی ہوا ہے اور وہ اس کو ایڈجسٹ نہیں کر پا رہا ہے ۔۔
اگر وہ کبھی غصہ خفکی کر بھی جائے تو اسکو دل پر نہ لینا ۔، اسکا غصہ وقتی ہوتا ہے بہت جلد اتر بھی جاتا ہے ۔۔
بہت زندہ دل ہے ہنسی مذاق کرنے والا ہے ، گھر میں صبح شام اسکی چھیڑ چھاڑ سے رونق لگی رہتی ہے ۔۔۔
بس تمھارے پھپھا کی وفات کے بعد اسکی طبعیت میں خاطر خواہ تبدیلی ضرور آئی ہے لیکن پھر بھی وہ اتنا خشک مزاج کبھی بھی نہ تھا ۔۔۔
نور اسکی آج کی اس حرکت کو معاف کر دینا ، تھوڑا وقت لگے گا خود ہی آہستہ آہستہ ٹھیک ہو جائے گا ان شاءاللہ ۔۔۔
پھپھو میں آپکو کبھی بھی شکایت کا موقع نہیں دوںگی ان شاءاللہ ۔۔۔
دونوں پھپھی بھتیجی رات گئے راز و نیاز کر رہیں تھیں کہ ایک دم منزہ بیگم کی نظر نور کی گردن کے نیچے نشانوں پر گئی ۔۔۔ منزہ بیگم تو تڑپ گئیں ۔۔
یہ کیا ہے نور ؟؟ یہ نشان کیسے ہیں ؟؟
منزہ بیگم نے 2 سے 3 بٹن کھول کر نور کی کمر کو دیکھا تو غم سے سکتے میں آگئیں ۔۔۔
او میرے خدایا یہ کیا ہے سب ؟؟
پھپھو 3 دن پہلے تائی جی نے شہتوت کی چھڑی سے بہت مارا تھا اور میں بے ہوش ہوگئی تھی وہ تو بس کرن جلدی گھر آگئی تو اس نے چھڑایا تھا ورنہ آج شاید میں یہاں نہ ہوتی ۔۔۔۔۔
میری نھنھی جان اتنے ظلم سہتی رہی ہے میری پھول سی بھتیجی ،ماں صدقے کرے ۔۔
پھپھو نے اپنے سینے میں بینچ لیا ۔۔۔ اور ماتھے پر خوب پیار کیا ۔۔۔ اب میں تجھے ایک کانٹا بھی چبھنے نہیں دوں گی ان شاءاللہ ۔۔۔ بھائی سکندر کدھر ہوتے تھے جو وہ سفاک عورت تم پر اتنا ظلم ڈھاتی رہی ہے ۔۔۔۔۔
پھپھو تائی جی اس وقت مارتی تھیں جب تایا جی گھر نہیں ہوتے تھے اور لڑکیاں ساری سکول کالج ہوتی تھیں ۔۔۔
او میرے مالک مجھے معاف کر دے میں نے تم تک رسائی میں اتنی دیر کر دی ۔۔۔
پھر اللہ کا شکر ادا کیا کہ چہرہ ہاتھ پاؤں محفوظ ہیں ۔۔۔
اس ظالم عورت نے اپنی انا کی خاطر تمھیں ظلم کی بھٹی میں جلایا ہے ، اللہ اسکو پوچھے گا ۔ اب میں تمھیں کبھی بھی اس عورت کا سامنا نہیں کرنے دوں گی ۔۔۔۔ پھپھو نے چھوٹے بچے کی طرح نور کو اپنی آغوش میں لے لیا ۔۔
پھپھو آپ میرے ساتھ ہونے والے مظالم اور میری گزشتہ زندگی کے بارے میں یحیی کو کچھ نہیں بتائیں گی ، میں نہیں چاہتی وہ میرے اوپر ترس کھائیں ، میں چاہتی ہوں وہ میری شخصیت اور میرے کردار کو اپنائیں ۔۔۔ پھپھو آپ سمجھ رہی نا میری بات ؟!
پھپھو کی بے تحاشا محبت نے نور کو ہمت دی کہ وہ کھل کر اپنے دل کی بات کر سکے ۔۔۔
اتنے لمبے سفر کی تھکن کو خلوص اور محبت نے دھو ڈالا ۔۔۔
