Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gharonda (Episode 12)

Gharonda by Umme Umair

واش روم جانا ہے ؟ میرا مطلب بیت الخلاء ہے ۔ گاڑی روک لیتا ہوں کسی ریسٹورنٹ کے پاس ۔۔۔

جی نہیں مجھے نہیں جانا ہے صرف پانی درکار ہوگا ظہر کے وضو کے لئے وہ آپ مجھے بوتل میں لا دینا میں گاڑی کے پاس ہی وضو کر لوں گی ۔۔۔۔

گاڑی تیز رفتاری سے فراٹے بھر رہی تھی ۔۔۔ یحیی کا فون بار بار “بز بز بز بز بز ” کر رہا تھا ۔۔۔ جہلم سے نکلنے سے پہلے سائیلنٹ سے اتار کر وائبریش پر لگا دیا ۔۔۔۔۔۔

ڈرنک ہولڈر سے اٹھا کر دیکھا تو روحہ کالنگ، پھر کچھ سوچ کر سپیکر آن کیا اور بڑی گرمجوشی سے بولا ، جی روحہ جی کیسی ہیں آپ؟

یحیی ڈھیٹ انسان کتنے میسجز اور فون کئے ہیں تم کیوں نہیں جواب دیتے ، حد ہوتی ہے لاپرواہی کی بھی ۔۔۔

نور کی سمجھ سے باہر تھا کہ آخر لڑکی کون ہے جو اتنی بے باکی سے بات چیت کر رہی ہے ۔۔۔۔

میں جہلم گیا ہوا تھا ابھی واپسی اسلام آباد ہورہی ہے، راستے میں ہی ہوں ابھی ۔۔۔۔

جہلم اچانک کیا لینے گئے تھے ؟؟؟

پینڈو دلہن امی کی بھتیجی ۔۔۔۔

یحیی مجھے اس طرح کے بیہودہ مذاق بالکل بھی پسند نہیں ہیں، لہذا دوبارہ ایسی کوئی اوچھی حرکت نہ کرنا پلیز ۔۔۔۔۔

روحہ یہ بات مذاق کرنے والی ہے بھلا ؟!

میرے برابر والی سیٹ پر ہی بیٹھی ہے نور بانو ۔۔۔ یحیی نے خوب چبا کر اس کا نام پکارا ۔۔یحیی تم کتنے گھٹیا انسان ہو کیوں تنگ کرتے ہو مجھے؟!

اچھا اگر تمھیں یقین نہیں ہے تو آواز سن لو ۔۔۔

سناو آواز لڑکی!!! بولو !!!

نور کو اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا ، ایسا لگ رہا تھا ابھی کے ابھی سانس نکل جائے گی ۔۔۔۔

میں نے کہا ہے کہ بولو ۔۔۔

ججججججی السلام و علیکم !!!

اپنی پھنسی ہوئی آواز نور کو دور کہیں کھائ سے آتی محسوس ہوئی ۔۔

بس چپ کر جاوء ۔۔ اتنا ہی کافی ہے ۔۔۔

سن لی ہے تم نے آواز روحہ؟؟؟؟

یحیی میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ تم اتنا بھی گر سکتے ہو اور اس حد تک جاوء گے ۔۔۔دھوکے باز انسان ۔۔۔۔

روحہ نے پھسر پھسر رونا شروع کر دیا اور فون بند کر دیا ۔۔۔

یحیی نے منہ کھولا ہی تھا لیکن بات منہ میں ہی رہ گئی ۔۔۔

یہ سب تمھاری وجہ سے ہوا ہے میں اس لڑکی سے شادی کرنے والا تھا کہ بیچ میں تم آگئ امی کی بھتیجی ۔۔۔جاہل گنوار عورت ۔۔۔

یحیی کے منہ میں جو اول فول آیا بول دیا ۔۔اور ہاں اگر تم نے یہ بات کسی اور سے کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔۔۔خاص کر امی جی سے کہ تمھاری بات روحہ سے ہوئی ہے ۔۔۔سن رہی ہو ؟؟

جی جی سہما دبا سا لہجہ ، مجبوریوں اور بےبسیوں سے چور ۔۔اور ہاں یہ بات یاد رکھنا میں محبت کرتا ہوں اس لڑکی سے بے تحاشا ،بے حساب کبھی بھی تم اسکی جگہ نہیں لے پاو گی اور نہ کبھی کوشش کرنا ۔۔۔

مجھے شدید نفرت ہے تم سے !!!، یہ سب تمھاری وجہ سے ہوا ہے ورنہ میری شادی آرام سے روحہ سے ہو جاتی ۔۔۔ تم صرف میری منکوحہ رہو گی جب تک میری امی حیات ہیں کیونکہ تم انکی بھتیجی ہو اور انہوں نے اپنی اس بھتیجی کی خاطر اپنا بیٹا وار دیا ہے ۔۔۔

بیوی بننے کا حق تم کبھی بھی حاصل نہیں کر پاو گی اور نہ کبھی کوشش کرنا ۔۔۔۔کان کھول کر یہ بات اپنے پلے باندھ لو ۔۔۔۔۔۔۔

میری رفاقتوں کی بھی ہے عجب سی کہانی

چھلنی ہوا جسم اب باری میری روح کی ہے

*******************************************

گاڑی اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی کہ یحیی نے بنا کچھ بولے بتائے اچانک گاڑی اپنے بائیں ہاتھ کی طرف موڑی ۔۔۔

نور خاموشی سے یہ سب کچھ دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ یحیی نے قطار میں کھڑی گاڑیوں کے برابر میں اپنی گاڑی بھی کھڑی کر دی ۔۔۔۔بریک لگاتے ہی بولا نیچے اترو ۔۔۔

ووووہ دروازہ کیسے کھلے گا جی ؟؟؟؟

مجھے نہیں آتا کھولنا ۔

پھر ایسے کرو گاڑی میں ہی بیٹھی رہو جب کھولنا سیکھ جاو گی تو اندر آجانا ۔۔۔۔میں جا رہا ہوں ۔۔۔

یحیی نے اپنا موبائل اور گاڑی کی چابی اٹھائی اور تیز تیز ڈگ بھرتا ریسٹورنٹ کے اندر گھس گیا ۔۔

نور اپنی بے بسی پہ سوائے رونے کے اور کچھ نہیں کر سکتی تھی ۔۔ باہر چلچلاتی دھوپ اور گاڑی کے شیشے بھی بند تھے ۔

نہ شیشے نیچے کرنے کا پتا اور نہ دروازہ کھولنا آتا تھا ۔۔۔ بے یار و مدد گار اپنے رب کو پکارے جا رہی تھی ۔۔۔

یحیی کو اندر گئے تقریبا آدھا گھنٹہ گزر چکا تھا ۔

نور کو اپنی سانس بند ہوتی محسوس ہوئی ۔۔

آٹومیٹک گاڑی اور اس سے منسلک بٹنوں کو دبایا کھینچا لیکن بے سود ۔۔

جدید گاڑی میں سنٹرل لاک تھا اگر ہینڈل ہوتا تو پھر بھی شیشہ نیچے کرنا شاید ممکن ہو پاتا ۔

سوائے اپنے رب کو پکارنے کے کوئی چارہ نہ تھا ۔۔

“”يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث أصلح لي شأني كله ولا تكلني إلى نفسي طرفة عين “”(الحاکم1/545؛ المقدسی:2330 ، النسائی 540 سند حسن)

“”اے زندہ رہنے والے ، اے (کائنات کو ) قائم رکھنے والے ! میں تیری رحمت سے مدد کی طلب گار ہوں کہ میرے تمام کام درست فرما دے اور پلک جھپکنے کے برابر بھی مجھے میرے نفس کے سپرد نہ کر ۔۔””

نور پیاس اور حبس سے نڈھال ہوچکی تھی ایسے لگ رہا تھا کہ موت قریب آرہی ہے ۔۔ بار بار ہمت اور کوشش کرتی لیکن ناکام ۔۔۔

اب تو سر اٹھانے کی ہمت بھی ختم ہو رہی تھی ۔۔ چہرے سے نقاب ہٹا کر پسینہ صاف کرتے کرتے سیٹ سے لڑھک گئی ۔۔۔

یحیی کھانے پینے سے فارغ ہو کر جیسے ہی گاڑی کے اندر بیٹھا تو دوسری طرف نہ چاہتے ہوئے بھی دیکھا تو نور کو بے سود پڑی پایا ۔۔۔

آواز دی لڑکی اٹھو!! پانی لایا ہوں !! یہ لے لو !!

3 سے 4 مرتبہ آواز دی لیکن وہ ہوش کی دنیا میں ہوتی تو جواب دیتی ۔۔۔۔

ایک دم یحیی نے دوسری طرف جا کر نور والا دروازہ کھولا اور اس کے جسم کو کھینچ کر سیٹ کے اوپر کیا اور چہرہ سیدھا کیا ۔۔

چہرے پر نظر پڑتے ہی آنکھیں خیرہ ہوگئیں ۔۔۔

جیسا نام ویسا ہی پرنور چہرہ اور بلا کی معصومیت لئے ہوئے ہوش سے بے گانہ چہرہ ،

چھوٹی سی لڑکی اسکے ستم کا شکار ہو رہی تھی ۔ دل و دماغ کی جنگ چھڑ گئی ، ضمیر نے جھنجھوڑنا شروع کر دیا ۔۔۔

یحیی تم تو کبھی بھی ایسے ظالم نہ تھے ، کیوں کر رہے ہو ایسا، اس بےگناہ کو کس چیز کی سزا دے رہے ہو ؟؟؟ تمھاری تو اپنی ماں تمھاری محبت سے بے خبر تھی وہ تو تم نے نکاح سے تھوڑی دیر پہلے ماں کو بھی سرسری سا بتایا تھا ۔۔۔۔ تمھاری محبت کی شدت اس معصوم کی جان بھی لے سکتی تھی ۔ کیا منہ دکھاو گے اپنی ماں کو ؟! مار ڈالا تم نے اس کی بھتیجی کو ۔۔۔۔

ٹھنڈے پانی کی بوتل سے پانی نکال کر چھینٹے مارے ، چہرے کو تھپتھپایا، کندھوں سے پکڑ کر ہلایا لیکن نور پھر بھی بے ہوش ۔۔۔۔۔

4 سے 5 منٹ کی بھرپور کوشش کے بعد نور کو ہوش آگیا اور اس نے بہت دقت کے ساتھ آنکھیں کھولیں ۔۔۔یحیی نے سکھ کا سانس لیا وگرنہ اسکو کچھ ہو جاتا تو امی اور بے جی نے یحیی کو گھر سے نکال دینا تھا ۔۔۔۔

یہ پانی پیو !! نور ہوش میں آنے کے بعد کتنی دیر یحیی کو حیرت سے دیکھتی رہی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کو رہا ہے ۔۔۔

یحیی نے پانی کی بوتل منہ کے ساتھ لگا کر اسکی گردن کے پیچھے ہاتھ رکھ کر تھوڑا اونچا کیا تاکہ پانی آسانی سے پی سکے ۔۔۔

پانی پینے کے بعد کمزور آواز میں بولی شکر ہے آپ آگئے ہیں ۔۔۔

میں نے بہت کوشش کی تھی لیکن دروازہ نہیں کھلا اور گاڑی کا شیشہ بھی نہیں کھل رہا تھا ۔۔۔

میں آپ سے معافی چاہتی ہوں ۔۔۔

۔یحیی کو اپنا آپ بہت چھوٹا محسوس ہو رہا تھا کہ اتنا پڑھا لکھا مرد ہونے کے باوجود بھی وہ اس لڑکی کو ذہنی اذیت دے رہا ہے ۔۔۔۔

یحیی کو خاموش کھڑے دیکھ کر نور نے کہا آپ فکر نہ کریں میں ابھی ٹھیک ہوں ۔ یہ دیکھیں خود سے بوتل پکڑ کر پانی پی رہی ہوں ۔۔۔

نور یحیی کے خوف سے اسکو اپنی طرف سے تسلی دینے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔

اچھی بات ہے اگر تم ٹھیک ہو تو ، کچھ کھاو گی میں اندر سے لے آتا ہوں یا پھر میرے ساتھ اندر چلو گی ادھر ہی بیٹھ کر کھا لینا ۔۔۔

نہیں نہیں میں کھانا نہیں کھاوں گی مجھے بھوک نہیں ہے ۔۔ مجھے صرف پانی چاہیئے تھا وہ مل گیا ہے کچھ پی لیا اور باقی سے کیا میں وضو کر لوں ؟؟؟؟

نور نے ڈرتے ہوئے پوچھا ۔۔۔

ہاں کر لو ۔۔ بلکہ اندر چلو ادھر سے زیادہ آسانی ہو گی ۔۔۔۔

نور نے گھبرا کر بولا پتا نہیں مجھے وہاں کی چیزیں استعمال کر نی بھی آئیں گی یا نہیں ، کیا پتا وہاں کی چیزیں تایا جی کے گھر سے مختلف ہوں ؟!!!!

یحیی نے اپنی مسکراہٹ کو دبایا اور سنجیدگی سے بولا میں تمھیں بتا دوں گا کیسے استعمال کرنی ہیں ۔۔

جی اچھا بول کر نور نے فورا اپنے چہرے کو ڈھانپا اور بڑی احتیاط کے ساتھ چھوٹے بچوں کی طرح سیٹ سے اتری ۔۔

یحیی نے گاڑی کا اے-سی آف کیا اور گاڑی کو سنٹرل لاک لگایا ۔۔۔

صرف دو قدم چل۔کر ہی لڑکھڑا گئی ۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا اور مسلسل چکر آرہے تھے ۔ شدید کمزوری اور نقاہت محسوس ہو رہی تھی ۔ نہ چاہتے ہوئے بھی تپتی زمین پر بیٹھ گئی ۔۔۔

یحیی نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو فورا دوڑ کر اسکے پاس آیا ۔تم ٹھیک تو ہو نا ؟؟؟

نور نے نفی میں گردن ہلائی ۔

یحیی نے فورا آگے بڑھ کر اسکو اپنی باہوں میں بھر لیا اور واپس گاڑی میں ڈالا ، یہ پانی پیو ۔۔

یحیی نے نقاب ہٹا کر پانی کی بوتل منہ سے لگائی ۔۔

تم ادھر ہی بیٹھو میں اندر سے تمھارے لیے کچھ کھانے اور پینے کے لئے جوس لے کر آتا ہوں ۔ میں دیر نہیں لگاوں گا ۔۔۔ سمجھ رہی ہونا میری بات ؟!

ابھی ادھر کوئی قریب اسپتال بھی نہیں ہے کہ تمھیں لے جاوءں ۔

تمھیں گرمی لگ گئی اور پانی کی کمی ہو رہی ہے ۔ یہ ساری بوتل آہستہ آہستہ ختم کرو ۔۔۔

میں بس 5 منٹ میں آیا ۔۔۔

نور نے ہلکے سے گردن کو جھٹکا اور بوتل سے پانی کا سپ لیا ۔۔

یحیی نے تیزی سے ریسٹورنٹ کا رخ کیا ٹھیک 10 منٹ بعد واپسی ہوئی ۔۔۔

ہاتھ میں مختلف قسم کے ٹھنڈے جوس اور چکن پیسٹیز ابلے چاول ، دال اور بونلس چکن کا سالن پیک کروا کر لے آیا ۔۔۔

نور اسکے اس بدلے رویے پہ حیران ہو رہی تھی کہ کتنے روپ ہیں اس شخص کے بھی ، پل میں تولہ ہوتا ہے اور پل میں ماشا ۔۔۔

آتے ساتھ ہی بولا یہ پہلے کھانا کھاو تمھیں بہت کمزوری ہو رہی ہے ۔۔۔

مجھے بھوک نہیں ہے اگر کھایا تو شاید الٹی ہو جائے گی ۔۔ نور نے آہستہ آواز میں ڈر کر بولا ۔۔

اچھا چلو پھر یہ جوس پیو ۔۔

جوس کا ڈبہ خود کھول کر اسکے ہاتھ میں پکڑایا ۔۔۔ ابھی اسکو سپ سپ کر کے پیو ،سارا ایک دم نہیں پینا ۔۔۔۔

جی اچھا نور نے ادب سے جواب دیا ۔۔۔

لاو بیلٹ کھینچو اور مجھے ادھر دو ۔ بلکہ رہنے دو میں خود کر لیتا ہوں ۔ اپنی سیٹ سے اتر کر دوبارہ نور کی طرف آکر اسکے بیلٹ کو باندھا ۔۔۔

یحیی نے گاڑی مطلوبہ منزل کی طرف موڑی اور سپیڈ بڑھا دی ۔۔۔

نظر سامنے سڑک پر مرکوز رکھتے ہوئے پوچھا پڑھی لکھی ہو یا ان پڑھ ہو ؟؟؟

میں نے 12 جماعتیں پڑھی ہیں بغیر امتحان کے ۔۔

کیا مطلب ہے ؟؟؟

میری کزن مجھے گھر میں پڑھاتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *