Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode

Dil-E-Muzter
دل مضطر از ماہ وش چوھدری
Last episode Last part

کہتے ہیں انسان اپنا پہلا پیار کبھی نہیں بھولتا پھر بھی اکثر بدقسمت لوگ اپنے والدین کو بھول جاتے ہیں ارحم ابصار بھی انہی بدقسمت لوگوں میں شامل تھا۔جس نے باپ کی زندگی میں تو قدر نہ کی تھی اور اب جبکہ باپ نہیں رہا تھا تو اسکی قدر آ گئی تھی۔
مجھے معاف کر دیں بابا۔۔۔مجھے معاف کر دیں میں بہت بڑا گنہگار ہوں میں نے آپکی نافرمانی کی ہے بابا۔۔۔پلیز مجھے معاف کر دیں۔۔۔بس ایک بار صرف ایک بار مجھے میرے نام سے پکار کر کہہ دیں کہ آپ نے مجھے معاف کیا پھر۔۔۔۔
پھر۔۔۔دوبارہ کبھی بھی آپ سے کوئی بدتمیزی نہیں کروں گا بس ایک بار پکار لیں۔۔۔ارحم ابصار اپنے باپ ابصار علی کی قبر پر سر رکھے زاروقطار رو کر معافی کی فریاد کر رہا تھا وہ روزانہ یہاں آتا تھا بلاناغہ۔۔۔اپنی مصروفیت سے وقت نکال کر جو پہلے نہیں تھا پر اب مصروفیت میں بھی فرصت ہی فرصت تھی۔۔۔!!
مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی اتنی دیر کہ معاف کرنے والا منوں مٹی تلے جا سویا تھا ہر فکر سے آزاد ہو کر کبھی واپس نہ آنے کے لیے اور ارحم ابصار کے لیے صرف پچھتاوا رہ گیا تھا۔
تکلیف دہ پچھتاوا ، اذیت ناک پچھتاوا ، ڈستا ہوا پچھتاوا۔۔۔!!!
…………………………………………………
ابصار انکل بہت اچھے انسان تھے مجھے بہت دکھ ہوا انکے جانے کا محتشم۔۔۔نبیہہ نے اسکے کندھے پر سر رکھے افسردگی سے کہا۔
ہوں۔۔۔وہ بہت اچھے تھے بہت قابل احترام ہستی تھے میرے لیے۔۔۔محتشم نے بوجھل لہجے میں کہہ کر جھکا سر مزید جھکا دیا۔
نبیہہ نے محتشم کو دیکھا جو کافی تھکا اور افسردہ لگ رہا تھا۔
ہم سب کو ایک نہ ایک دن جانا ہے محتشم۔۔۔آپ پلیز اسطرح سے افسردہ نہ ہوں۔
ہوں۔۔۔ہم سب کو اپنا اپنا وقت پورا کر کے جانا ہے۔۔۔وہ منہ پر ہاتھ پھیرتا ہلکا سا مسکرایا۔
تم نے پیکنگ کمپلیٹ کر لی۔۔؟؟
میری ہو چکی ہے آپکی رہتی ہے۔۔۔نبیہہ اسکے کندھے سے سر اٹھاتی جھٹ سے بولی۔
میری کیوں رہتی ہے۔۔؟؟وہ مصنوعی غصے سے گھور کر بولا۔
محتشم کے گھورنے پر وہ مسکرا دی۔
مجھے کیا پتہ آپ ساتھ کیا کیا لے کر جانا چاہتے ہیں اس لیے سوچا کہ آپکی موجودگی میں آپ سے پوچھ کر کر دوں گی پیکنگ۔۔
ہوں فائن۔۔پہلے ایک کپ چائے پلا دو اپنے خوبصورت ہاتھوں کی پھر کر لینا میری پیکنگ۔۔محتشم نے اسکے ہاتھوں کی نرماہٹ کو چھوتے ہوئے کہا۔
ابھی لاتی ہوں۔۔۔نبیہہ ہاتھ چھڑوا کر مسکراتی ہوئی کمرے سے نکل گئی۔
وہ اور محتشم ہر سال کی طرح اس سال بھی عمرے کے لیے جا رہے تھے۔
………………………………………………….
“اسے اتنا بتا دینا
میں اس سے دور ہو کر بھی،
بہت مجبور ہو کر بھی،
دکھوں سے چور ہو کر بھی،
اسی کو یاد کرتا ہوں”

میں نبیہہ کو کبھی بھول نہیں سکتا چاہ کر بھی نہیں یہ ناممکن سا ہے میرے لیے کہ میرے مضطر دل کو کبھی چین نصیب ہو۔۔۔الحان ہنکارا بھر کر ضبط سے بولاتھا۔
سوچا تھا جب کبھی وہ روبرو ہوئی تو اس سے اپنے کیے کی سزا طلب کروں گا شاید اسکی دی ہوئی سزا سے ہی میری بےچینی میں کچھ کمی واقع ہو مگر اس نے تو معاف کر کے بات ہی ختم کر ڈالی۔۔۔وہ کیا تھی۔۔۔اور میں کیا سمجھ بیٹھا تھا اسے۔۔۔
اسکی دی ہوئی معافی سے میرے ضمیر کا بوجھ کم ہونے کی بجائے مزید بڑھ چکا ہے ابیرہ۔۔
کیونکہ میں یہ بھول گیا تھا کہ کسی پاکباز عورت پر تہمت لگانے کی سزا کبھی کم نہیں ہوتی یہ گلٹ یہ پچھتاوا تاعمر ساتھ رہتا ہے۔۔
لیکن اب۔۔۔اب نبیہہ سے مل کر جان چکا ہوں میں کہ میرے دل مضطر کو کبھی سکون نہیں مل سکتا کبھی نہیں۔۔۔الحان نے نفی میں سر ہلایا۔
اسکی دی ہوئی معافی سے بھی نہیں۔۔۔!
وہ جانتی تھی یہ سب اسی لیے تو اپنے مجرم کو بنا سزا کے ہی معاف کر دیا۔۔
تمہیں پتہ ہے ابیرہ۔۔
اس نے کہا کہ وہ میرے لیے آسانیوں کی دعا کرے گی۔
کیا میں اس قابل ہوں کہ وہ مجھے اپنی دعا میں شامل کرے۔۔۔اس نے تو۔۔۔
اس نے تو مجھے اپنی بدعا کے قابل بھی نہیں جانا تھا۔۔۔وہ تڑپ کے بولا تھا۔
وہ میری تھی اب نہیں ہے اور نہ ہی کبھی ہو سکتی ہے۔۔وہ محتشم ابراہیم کی ہے اورہمیشہ رہے گی۔۔۔
وہ۔۔۔وہ اسکے ساتھ خوش رہے مجھے اور کیا چاہیے۔۔۔وہ سر گھٹنوں میں گرا کر بیٹھ گیا۔
ابیرہ لب کاٹتی ہوئی اسکے سامنے زمین پر بیٹھی اسے سن رہی تھی اسکی بھیگتی آنکھوں اور گرتے اشکوں کو دیکھ رہی تھی۔
مرد جب کسی عورت کے لیے روتا ہے تو وہ اس عورت کے علاوہ کسی سے محبت نہیں کر سکتا۔
ابیرہ یہ بات پہلے سے جانتی تھی کہ نبیہہ الحان کی زندگی میں کیا ہے اور اس وقت الحان کی حالت دیکھتے ہوئے اسے نبیہہ سے حسد کی بجائے رشک آ رہا تھا۔بہت کم عورتوں کو سچی محبت کرنے والے مرد نصیب ہوتے ہیں اور نبیہہ ان خوش قسمت عورتوں میں شامل تھی۔کیا ہوا جو الحان نے اسے اپنی زندگی سے نکال دیا مگر وہ آج بھی اسکے دل میں موجود ہے۔۔۔وہ۔۔۔وہ ہر لحاظ سے ایک لکی عورت تھی اور ہے جسے دوسرا مرد بھی محبت کرنے والا ملا جبکہ میں۔۔۔!
میں نے تو صرف ایک مرد کی چاہ کی تھی بس۔۔۔اور اس چاہ کے نتیجے میں مجھے کیا ملا ایک آدھا ادھورا خالی مرد۔۔۔جو مجھ سے سمجھوتا تو کر سکتا ہے پر محبت نہیں۔۔۔کبھی بھی نہیں۔۔۔نبیہہ تم الحان کی زندگی سے جا کر بھی نہیں گئی ہو۔۔۔اور میں۔۔۔مجھے دیکھو جو اپنی محبت پا کر بھی نہیں پا سکی۔۔اور تم کھو کر بھی نہیں کھو پائی وہ آج بھی تمہارا ہے اور شاید آگے بھی تمہارا ہی رہے گا۔۔۔
الحان ملک تم یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ جیسی محبت تم نبیہہ سے کرتے ہو میں ویسی ہی محبت تم سے کرتی ہوں اسی لیے تو اب تک تمہیں چاہ کر بھی چھوڑ نہیں پائی۔۔میری بدقسمتی دیکھو کہ تمہاری بھیک میں ملی توجہ کے چند سکے ہی اپنے کشکول میں ڈال کر اپنی متاع حیات جان کر جیتی جا رہی ہوں۔۔۔اس امید کیساتھ کہ شاید کبھی تمہیں میری محبت کا خیال آ جائے۔۔۔آنسو پلکوں کی باڑ توڑ کر ابیرہ کی گالوں پر پھسلے تھے۔
میں تو۔۔۔میں تو تمہاری بھیک میں ملی محبت بھی قبولنے کو تیار بیٹھی ہوں الحان ملک کبھی نظر اٹھا کر تو دیکھو مجھے۔۔وہ الحان کے جھکے سر کو دیکھتی سوچتی جا رہی تھی جب الحان کے وجود نے ہولے سے حرکت کی۔
ابیرہ نے گالوں پر آئے آنسو فورا سے صاف کیے اور نظریں جھکا دیں۔
الحان نے گھٹنوں سے سر اٹھا کر ابیرہ کو دیکھا۔
چند منٹ بعد اس نے اپنی سرخ سوجی آنکھوں کو بےدردی سے رگڑ ڈالا اور گلے میں ابھرتی گلٹیوں کو دباتا آہستگی سے بولا۔
اس نے کہا ہے میں اپنے سے وابستہ لوگوں کے لیے تکلیف کا باعث نہ بنوں۔۔وہ رکا اور لمبی سی سانس لی۔
میں یہ نہیں کہتا کہ میرے دل سے نبیہہ کی محبت نکل چکی ہے مگر یہ کوشش ضرور کروں گا کہ اسکی محبت میرے دل میں جہاں بھی موجود ہے مجھ پر حاوی نہ ہونے پائے۔۔
اب تک جو بھی وقت گزر گیا میں اسے واپس نہیں لا سکتا مگر آنے والے وقت کو بہتر بنانے کا وعدہ کر سکتا ہوں۔۔
کیا تم پیچھلا سب کچھ بھلا کر میرے ساتھ اپنی زندگی آگے بڑھانے کو تیار ہو ابیرہ۔۔۔؟؟الحان نے ابیرہ کا ہاتھ تھامتے ہوئے آہستگی سے پوچھا تھا۔
ابیرہ نے حیرت سے الحان کو دیکھا اور اسکی آنکھوں میں نظر آتے سچ کو دیکھ کر آنکھوں میں نمی لیے مسکرا دی۔
نبیہہ تمہاری بدولت ہی سہی شاید وہ وقت آ ہی گیا ہے جسکی میں پیچھلے پانچ سال سے منتظر تھی۔۔۔مجھے تمہاری بھیک میں ملی محبت اور توجہ بھی قبول ہے الحان ملک۔۔۔ابیرہ نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے آستین سے آنکھیں رگڑیں اور الحان کا ہاتھ تھاما۔
میں۔۔۔میں ہمیشہ سے آپکے ساتھ تھی الحان اور آگے بھی آپکے ساتھ ہی اپنی زندگی کو آگے بڑھانا چاہتی ہوں۔۔!!
ابیرہ کی گالوں پر بکھرتے شکر کے آنسوؤں کو الحان نے اپنی پوروں پر چنا اور اسکے نازک وجود کے گرد بازوں کا حصار باندھ کر آہستگی سے اسے اپنے ساتھ لگایا اور اسکے مومی چہرہ پے جھک گیا۔
کھڑکی کے اس پار چودھویں کے چاند نے یہ خوبصورت منظر دیکھا اور شرما کر بادلوں کی اوٹ میں چھپ گیا۔

جو ادھورا رہ جائے وہ کبھی مکمل نہیں ہو پاتا خواہ وہ کہانی ہو،خواب ہوں،زندگی ہو یا پھر انسان۔۔۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اس سمجھوتے سے کس کے دل مضطر کو چین نصیب ہو پائے اور کون اپنے ادھورے پن کو مکمل کر پائے الحان ملک یا پھر ابیرہ الحان۔۔۔!
………………………………………………………
وہ دونوں اس وقت خانہ کعبہ کے خارجی دروازے کے پاس موجود سیڑھیوں پر بیٹھے تھے۔۔کل ہی انہوں نے عمرہ ادا کیا تھا ساری رات وہیں عبادت میں گزار کر اب وہ واپس ہوٹل جا رہے تھے۔
نبیہہ زینے پر بیٹھی اپنے سینڈل پہن رہی تھی جبکہ محتشم نے اپنے شوز کے تسمے کس کر اسے دیکھا۔
کیا دعا مانگی تم نے۔۔؟؟رازداری سے پوچھا گیا۔
اٹس سیکرٹ۔۔۔میرا اور اللہ جی کا۔۔۔نبیہہ نے گھوری دے کر کہا۔
تو مجھے بھی شامل کر لو اپنے سیکرٹ میں۔۔۔
اوہ۔۔ہ۔۔ہ۔۔تو آپ اپنی دعا بتا کر مجھے اپنے سیکرٹ میں شامل کر لیں۔۔۔وہ محتشم کی نقل اتارتی بولی۔
فائن۔۔۔محتشم کندھے اچکا کر اسکی طرف کھسکا اور رازداری سے اسکے کان کے قریب جھکا
میں نے اللہ میاں سے پیاری پیاری ڈھیر ساری بیٹیاں مانگی ہیں۔
اوف۔۔۔پیاری اور وہ بھی ڈھیر ساری۔۔۔نبیہہ نے ہلکا سا بلش کرتے ہوئے محتشم کی دعا دہرائی۔
کیوں۔۔تمہیں کوئی اعتراض ہے۔۔؟محتشم نے بھنویں اچکائیں۔
نہیں اعتراض تو نہیں مگر لفظ ڈھیر ساری۔۔۔وہ جھرجھری لے کر رکی۔
اسکی جھرجھری لے کر سر ہلانے پر محتشم مسکرا دیا۔
چلو جتنی اوپر والا دے گا اتنی ہی سہی۔۔۔اب خوش۔۔؟؟
ہوں۔۔۔
اب اپنا سیکرٹ بتاؤ۔۔۔
آپ نے صرف یہی ایک دعا مانگی ساری رات۔۔؟؟نبیہہ نے اسکے سوال کو نظرانداز کر کے پوچھا
میں اپنا ایک سیکرٹ بتا چکا اب تمہاری باری ہے۔
اوہ۔۔ہ۔۔ہ۔۔اوکے۔۔نبیہہ نے غوروفکر کے بعد سیکرٹ بتانے کی رضامندی دی۔
میں نے۔۔۔میں نے۔۔۔محتشم۔۔۔میں نہیں بتا رہی۔۔۔وہ ضدی بچوں کیطرح پاؤں زمین پر مارتی بڑبڑائی۔
اٹس ان فئیر نبیہہ۔۔۔۔
ضروری ہے کیا۔۔؟
بلکل۔۔۔۔
میں نے۔۔۔میں نے اللہ جی سے کہا کہ وہ مجھے بیٹا دے جو بلکل آپ کے جیسا ہو۔۔۔وہ اپنا سیکرٹ بتاتی چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا گئی۔
اسکی دعا اور انداز پر محتشم کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔
رئیلی۔۔۔؟؟ وہ بمشکل اپنی ہنسی ضبط کرتا بولا
آپ میرا مذاق اڑا رہے ہیں۔۔۔وہ محتشم کی ہنسی دباتی سرخ رنگت پر خفا ہوتی کھڑی ہوئی۔
ارے یار اٹس رئیلی رئیلی امیزنگ سیکرٹ فار می۔۔۔اسنے آنکھ دباتے ہوئے نبیہہ کے دونوں ہاتھ تھامے۔
آپ بلکل اس قابل نہیں تھے کہ میں آپ سے اپنی مانگی گئی دعا شئیر کرتی اب چھوڑیں میرے ہاتھ میں جا رہی ہوں۔۔۔وہ جھٹکے سے ہاتھ چھڑواتی خارجی راستے سے ہو کر باہر کی جانب بڑھی۔
ارے رکو۔۔۔تو میرا اگلا سیکرٹ تو سن لو۔۔۔محتشم اسکی تیز ہوتی رفتار پر بلند آواز سے کہہ کر اسکے پیچھے لپکا۔
نبیہہ۔۔۔۔
نبیہہ۔۔۔۔
بیا رکو تو۔۔۔اسنے سامنے آ کر راستہ روکا۔
وہ باہر روڈ پر آ چکے تھے صبح صادق کا وقت ہونے کی وجہ سے گنے چنے لوگ ہی اردگرد موجود تھے۔
ارے یار خفا ہو کر جا رہی ہو۔۔۔
محتشم پلیز۔۔مجھے تنگ مت کریں میں آلریڈی بھوک کی وجہ سے تنگ ہوں کل دوپہر سے پانی اور جوس کے سوا کچھ نہیں کھایا اور آپ۔۔۔آپ کو ایک بار بھی خیال نہیں آیا کہ میں بھوکی ہوں۔۔۔وہ روہانسی شکل بنا کر بولی۔
محترمہ اگر آپ بھول چکی ہیں تو یاد کروا دیتا ہوں میں نے کل دوپہر سے اب تک جتنی بار بھی آپ سے کھانے کا پوچھا تو آپ نے ہر بار یہ کہہ کر منع کیا کہ محتشم پلیز مجھے ڈسٹرب مت کریں میں یہاں کھانے پینے نہیں بلکہ اپنے رب سے ملاقات کرنے آئی ہوں لہذا خاموش رہیں۔
ہاں تو وہ۔۔۔اچھا چھوڑیں اب چلیں اس سے پہلے کہ میں بھوک سے بے ہوش ہو جاؤں۔۔
چلو۔۔۔محتشم نے اسکی رونی شکل دیکھ کر اسکا ہاتھ تھاما اور ہوٹل کی جانب چل دیا جہاں وہ لوگ ٹہرے تھے۔
…………………………………………………
نبیہہ نے مغرب کی نماز پڑھی اور کمرے میں موجود ونڈو کی طرف آئی جہاں سے خانہ کعبہ کا خوبصورت روح افزا منظر نظروں کے سامنے تھا۔
میرے مالک تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ تو نے مجھے اتنا اچھا ہمسفر عطا کیا جو ہر سال یہاں تیرے گھر تیری بارگاہ میں لانے کی میری خواہش نہیں بھولتا۔
وہ ہر سال اسی مہینے اسی ہفتے اسی ہوٹل کے اس ہی کمرے میں لے کر آتا ہے مجھے۔۔۔
ایک بار صرف ایک بار میں نے کہا تھا
محتشم میری ہمیشہ سے خواہش تھی کہ میں اپنے محرم کیساتھ ہر سال عمرے پر ضرور جایا کروں اور پتہ ہے کمرہ بھی وہ ہائیر کروں جہاں سے خانہ کعبہ کا منظر بلکل قریب اور نظروں کے سامنے ہو۔
میری خواہش پر وہ مسکرا دیا تھا اور اب۔۔۔اب ہر سال انہی دنوں میں وہ مجھے یہاں لے آتا ہے تیرے گھر تیری بارگاہ میں۔۔۔نبیہہ نے دائیں ہاتھ سے گالوں پر پھسلتے آنسو رگڑے۔
میرے مالک۔۔۔یہ۔۔۔یہ شخص تیرا مجھ ناچیز پر بہت بڑا احسان ہے اس پر جتنا بھی شکر ادا کرتی رہوں کم ہے۔
میں۔۔۔میں اپنا ہر سانس اسکی سانسوں کیساتھ اپنا ہر قدم اسکے قدموں کیساتھ ملا کر چلنا چاہتی ہوں۔۔۔اسکا ساتھ ہمیشہ میرے ساتھ رکھنا میرے مالک۔۔۔
میں۔۔۔میں اسکے ساتھ۔۔!!وہ رکی
i want to grow old with him my Lord…!!
میں اسکے ساتھ بوڑھی ہونا چاہتی ہوں میرے مالک۔۔۔وہ آنسو پونچھتی ہلکا سا مسکرائی۔
ارے میری دور کی رشتہ دار اکیلی کھڑی اتنے قیمتی آنسوؤں کیساتھ اپنی خوبصورت مسکراہٹ کیوں لٹا رہی ہیں۔۔محتشم نے آہستگی سے مسکراتے ہوئے نبیہہ کے کندھے پر ٹھوڑی ٹکا کر پوچھا۔
آپ۔۔۔کب آئے۔۔۔؟
جب آپ نے دیکھ لیا۔۔۔اس نے مسکراتے ہوئے نبیہہ کو کندھوں سے تھام کر سامنے کیا۔
واٹ ہیپنڈ مائی لائف۔۔؟؟محبت سے پوچھا گیا
محتشم۔۔۔محتشم۔۔۔آپ بہت اچھے ہیں میں آپ سے آپ سے بہت محبت کرتی ہوں بہت زیادہ۔۔۔وہ روتی ہوئی محتشم کے سینے سے لگ گئی۔۔نبیہہ کے اظہار اور انداز پر محتشم دھیما سا مسکرا دیا۔
میں بہت بری ہوں ناں محتشم۔۔۔چند منٹ بعد وہ محتشم سے الگ ہوتی معصومیت سے بولی۔
تم کیا ہو مجھ سے میرے دل سے پوچھو میری جاں۔۔۔محتشم نے اسکے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں لے کر انگوٹھوں سے اسکے آنسو پونچھے۔
اچھا بتاؤ رو کیوں رہی تھی۔
میں اللہ میاں سے دعا مانگ رہی تھی۔
کیا۔۔؟محتشم نے بھنویں اچکائی
نبیہہ اسکے ایکسپریشنز پر مسکرائی۔۔
یہی کہ میں اپنے ڈئیریسٹ ہزبینڈ کیساتھ سفید بالوں والی بوڑھی بی بی بننا چاہتی ہوں۔
ہاہاہا۔۔۔نبیہہ کے دعا بتانے کے انداز پر محتشم نے بھرپور قہقہہ لگایا۔
تمہیں یاد ہے۔۔؟؟
بھول سکتی ہوں کیا۔۔؟؟
میں تو یہی سمجھا تھا کہ تم بھول چکی ہو گی یاد ہے شادی کی پہلی رات یہ کہا تھا میں نے۔۔
جب آپ میری کوئی بات کوئی خواہش نہیں بھولتے تو میں کیوں بھول جاتی۔۔۔نبیہہ اسکے گریبان کے بٹن بند کرتی کھولتی خفا سی بولی۔
ڈیٹس گریٹ۔۔۔سویٹ ہارٹ۔۔۔!محتشم نے پیار سے اسکی سرخ ناک کھینچی۔
چلو پھر آج اکھٹے ایک ساتھ مل کر یہی دعا مانگتے ہیں۔
محتشم نے کہتے ہوئے نبیہہ کا رخ پھر سے ونڈو کی طرف کیا جہاں سے وہی روح افزا منظر آنکھوں کے سامنے تھا۔
نبیہہ کو حصار میں لیتے ہوئے محتشم نے اپنے ہاتھوں میں اسکے ہاتھ لے کر دعا کے انداز میں بلند کیے۔
i want to grow old with my dearest wife My Lord…!!
&…
i want to grow old with my dearest husband My Lord..!!
دونوں باآواز بلند اپنی اپنی خواہش اپنی اپنی دعا اپنی اپنی محبت اپنے مالک تک پہنچا کر ایک دوسرے کو دیکھتے سرشار سا مسکرا دیے۔۔۔!
بےشک آنے والے دنوں میں ایک خوبصورت ، مکمل اور خوشگوار زندگی انکی منتظر تھی۔

“سنو! اے ہمسفر میری
مجھے تم سے یہ کہنا ہے
مجھے تم سے محبت تھی
مجھے تم سے محبت ہے
میرے دن رات میں تم ہو
میری ہر بات میں تم ہو
خوشی کے جتنے موسم بھی
تمہارے ساتھ دیکھے ہیں
میرے جیون کا حاصل ہیں
تمہارے نام کے جگنو
تمہارے لمس کی خوشبو
تمہارے پیار کا جادو
میری رگ رگ میں شامل ہے
تمہارا ساتھ پیارا ہے
میرے ہر پل میں رہتی ہو
جو میرا دل ہے پاگل سا
اسی پاگل میں رہتی ہو
سنو!تم سے یہ کہنا ہے
کہ میری زندگانی کہ
سبھی رستے جو سچ پوچھو
تمہاری سمت آتے ہیں
میں تم سے دور رہ پاؤں
یہ اب ممکن نہیں جاناں
سنو! عہد محبت کی
مجھے تجدید کرنی ہے
پرانی بات ہے لیکن
مجھے پھر بھی یہ کہنی ہے
مجھے تم سے محبت تھی
مجھے تم سے محبت ہے
سنو! اے ہمسفر میری۔۔۔”

_ …. دی اینڈ