Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

کہاں ہے تمہارا باپ۔۔۔۔۔؟؟؟وہ بھوکی شیرنی بنے الحان کا گریبان دبوچ چکی تھی۔
کول ڈاؤن نبیہہ۔۔۔اٹس آفس ناٹ ہوم۔۔۔تم میرے آفس میں جا کر بیٹھو میں آتا ہوں ابھی۔۔۔۔الحان نے اپنے گریبان پر موجود اسکے ہاتھ تھام کر آہستگی سے کہا
صد شکر کے وہ سب گورے اردو سے بے خبر تھے اسی لیے آنکھوں میں حیرت اور تجسس لیے بس ان دونوں کو دیکھ کر ہی انجوائے کر رہے تھے۔
مجھے تم سے نہیں تمہارے والد محترم سے ملنا ہے۔۔۔کہاں ہیں وہ۔۔۔۔؟؟وہ پھنکاری
ڈیڈ صبح ہی دبئی کے لیے فلائی کر گئے ہیں۔۔۔۔تم آفس میں چلو میں آ رہا ہوں۔۔۔پلیز نبیہہ ٹرائی ٹو انڈرسٹینڈ یار۔۔۔۔الحان نے ایک مسکراتی نظر ان سب پر ڈال کر نبیہہ کی منت کی
اوکے۔۔۔۔۔جلدی آنا میں صرف دس منٹ تک ویٹ کروں گی اس کے بعد۔۔۔۔وہ دھمکی ادھوری چھوڑتی وہاں موجود پانچ ، چھےگوروں کو مسکرا کر ہاتھ ہلاتی کانفرنس روم سے نکل گئی۔
الحان بلا کے ٹل جانے پر شکر ادا کرتا واپس پلٹا اور ان سب سے معذرت کرتا لیب ٹاپ پر جھک گیا اسے اپنے پوائنٹ کو دس منٹ میں وائنڈ اپ کر کے اپنے آفس جانا تھا۔
………………………………………………………
وہ جب آفس میں داخل ہوا تو نبیہہ میگزین گود میں رکھے صوفے پر براجمان تھی۔
الحان کو آتے دیکھ کر اس نے میگزین بند کیا اور کھڑی ہوئی۔
اپنے والد صاحب کو سمجھا دو میرے راستے میں مت آیا کریں۔۔۔۔
وہ کہتے ہیں میں تمہیں سمجھاؤں تم کہتی ہو میں انہیں سمجھاؤں پر میری سمجھ میں یہ نہیں آ رہا کہ میں کس کو کسطرح سمجھاؤں۔۔۔۔وہ بیچاری سی شکل بنا کر کہتا پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے اسکے سامنے آ کھڑا ہوا
انہوں نے مجھے جاب سے نکلوا دیا ہے اور یہ میری دوسری جاب ہے جہاں سے انہوں نے نکلوایا ہے مجھے۔۔۔۔۔وہ چیخی
تو مجھے بتاؤ میں کیا کر سکتا ہوں تمہارے لیے۔۔۔۔الحان سر خم کرتا جھکا
اونہہ۔۔۔۔میں بھی کس سے کہہ رہی ہوں جو۔۔۔۔
جو۔۔۔۔۔الحان نے اسے پوری بات کرنے پر اکسایا
جو تم جیسا فضول سا شخص ہے۔۔۔۔وہ ناک چڑھا کر بےزاری سے بولی
الحان اسکی بات پر مسکرا دیا۔۔۔
اب یہ فضول سا شخص ساری زندگی برداشت کرنا پڑے گا تمہیں۔۔۔وہ دل پر ہاتھ رکھتا فدویانہ گویا ہوا
بی سیرئیس۔۔۔۔مسڑ ملک میں یہاں تم سے رومینس کرنے نہیں آئی۔۔۔
ہاہاہا۔۔۔۔۔رومینس اور وہ بھی تم سے۔۔۔۔الحان قہقہہ لگاتا ٹیبل کی طرف بڑھ گیا
نبیہہ نے ناگواری سے اسے ہنستے دیکھا
ویسے سچ میں تم سے رومینس کرنا اس دنیا کا مشکل ترین کام ہو گا مگر میں پھر بھی اس مشکل کام کو کرنے کو تیار ہوں۔۔۔۔۔وہ مسکراہٹ دبا کر کہتا انٹرکام
پر چائے کا آڈر دینے لگا
اونہہ۔۔۔۔فلرٹی۔۔۔۔۔جیسے میں تو جانتی نہیں اسے۔۔۔۔وہ دانت رگڑے بڑبڑائی
ایسے کیوں گھور رہی ہو۔۔۔۔۔؟؟؟الحان نے اسے خود کو گھورتے پا کر پوچھا
میں دیکھ رہی ہوں کہ تم کس قدر کمینے انسان ہو۔۔۔۔شرم تو چھو کر بھی نہیں گزری تمہیں۔۔۔۔۔۔
ہاہاہا۔۔۔۔۔۔اسکی بات پر الحان کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔۔۔۔چند منٹ بعد وہ اپنی ہنسی روک کر اسکے لال بھبھوکا چہرے کو دیکھتا بولا۔۔
اس میں شرم کیسی بیویوں سے تو سب ہی رومینس کرتے ہیں کیا نہیں کرتے۔۔۔؟؟؟وہ معصومیت کے سارے ریکارڈ توڑتا پوچھ رہا تھا
کاش کہ تمہارے باپ کو پتہ چل جائے کہ ان کا بیٹا اتنا بھی سیدھا نہیں جتنا وہ سمجھتے ہیں۔۔۔۔وہ چبھتے ہوئے بولی
پر انہیں بتائے گا کون اور فرض کرو اگر تم ہی بتاتی ہو تو کیا وہ تمہارا یقین کر لیں گے۔۔۔۔؟؟وہ بھنویں اچکاتا شرارت سے پوچھ رہا تھا
نہیں کریں گے میرا یقین کیونکہ وہ تمہیں اللہ میاں کی گائے سمجھتے ہیں اور نہ ہی مجھے شوق ہے انہیں کچھ بتانے کا۔۔۔۔میں جانتی ہوں وہ تمہارے باپ ہیں اور تم سے بھی دو ہاتھ آگے ہیں۔۔۔۔
فلوقت میں جا رہی ہوں پر بتا دینا ملک صاحب کو میں ان کو بھی چین نہیں لینے دوں گی انہوں نے اچھا نہیں کیا میرے ساتھ اس بار بھی۔۔۔۔۔
پر میرے چین کا کیا جو تم لوٹ چکی ہو۔۔۔۔۔۔وہ آنکھ دباتا بولا
ذلیل انسان۔۔۔۔نبیہہ نے پاس پڑا گلاس پوری طاقت سے الحان کو مارا مگر اسکے بروقت نیچے بیٹھنے کے نتیجے میں وہ دیوار سے لگ کر کرچی کرچی ہو چکا تھا۔
دیکھ لوں گی میں تمہیں چیپ انسان۔۔۔۔وہ دھمکی دیتی اپنا تھیلا اٹھا کر آفس سے باہر نکل گئی۔
اونہہ کمینہ میں سیریس ہو کر بات کر رہی ہوں اور محترم ایویں فری ہوئے جا رہا تھا۔۔۔وہ بڑبڑاتی ہوئی لفٹ میں داخل ہو گئی۔
…………………………………………………………
حال 👉👉
سر۔۔۔۔سر۔۔۔۔صاعقہ کے بار بار بلانے پر وہ چونک کر سیدھا ہوا
ہوں۔۔۔۔کیا ہوا۔۔۔۔؟؟
سر دس بج چکے ہیں آپ کو گھر نہیں جانا کیا آپکے گھر سے دو بار کال آ چکی ہے۔۔۔
دس بج گئے۔۔۔۔وہ غائب دماغی سے بولا
جی سر۔۔۔سارا اسٹاف جا چکا ہے میں بھی ابھی جانے لگی ہوں۔۔۔
ہوں ٹھیک ہے تم جاؤ۔۔۔۔وہ لمبی سی سانس لیتا کھڑا ہوا
جی۔۔۔۔صاعقہ سر ہلاتی آفس سے نکل گئی
الحان نے چیئر کی بیک سے کوٹ اٹھا کر بازو پر ڈالا سیل اور گاڑی کی چابیاں اٹھا کر آفس سے نکل آیا
آج پھر ایک اور دن اس نے نبیہہ کی ذات اور اپنے ماضی میں گم ہو کر گزار دیا تھا۔
“تیری یادیں کمال کرتی ہیں
میرا جینا محال کرتی ہیں”
………………………………………………………
وہ جب لاؤنج میں داخل ہوا تو ابیرہ ٹہلتی اسی کا انتظار کر رہی تھی الحان کو اندر آتے دیکھ کر وہ جلدی سے اسکی طرف آئی۔
اتنی دیر کر دی آپ نے میں کب سے آپ کا انتظار کر رہی تھی سیل بھی آف تھا آپ کا۔۔۔۔۔وہ بےچینی سے اسے دیکھتی بولی
بزی تھا آفس میں۔۔۔۔تم بھی سو جایا کرو میرا انتظار مت کیا کرو۔۔۔۔۔وہ ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتا سیڑھیاں چڑھ رہا تھا۔
آپ جانتے ہیں جب تک آپ گھر نہیں آتے مجھے نیند نہیں آتی ہے۔۔۔۔وہ معصومیت سے بولی
ابیرہ کی بات پر الحان ٹائی کھینچتا اسکی طرف مڑا
کیوں نہیں آتی ہے تمہیں نیند۔۔۔۔۔؟؟
مجھے فکر رہتی ہے آپ کی۔۔۔۔وہ منمنائی
مت کیا کرو میری فکر۔۔۔۔اب سو جاؤ جا کر میں گھر آ چکا ہوں۔۔۔۔وہ اکھڑے لہجے میں کہتا کمرے کی بجائے اپنی اسٹڈی میں چلا گیا
ابیرہ نے افسردگی سے اسکی پشت کو دیکھا اور سر جھٹکتی کمرے کی طرف چلی گئی۔
یہ سب تو روز کی روٹین تھا جسے وہ پیچھلے پانچ سال سے انتہائی تحمل سے برداشت کرتی آ رہی تھی۔
……………………………………………………
چائے لاؤں۔۔۔۔۔؟؟؟نبیہہ نے محتشم سے پوچھا جو کنپٹی دباتے لیب ٹاپ کی سکرین کو غور سے دیکھ رہا تھا
ہوں۔۔۔۔۔تم سوئی نہیں ابھی۔۔۔۔وہ چونک کر بولا
نہیں۔۔۔۔
کیوں۔۔۔۔؟؟
نیند نہیں آ رہی تھی۔۔۔۔
نیند کیوں نہیں آ رہی تھی۔۔۔۔محتشم نے اسکا ہاتھ تھام کر اپنے ساتھ ہی صوفے پر بیٹھایا
پتہ نہیں۔۔۔۔۔
کسے پتہ ہے۔۔۔۔؟؟
پتہ نہیں۔۔۔۔وہ خفگی سے کہتی اسکی طرف مڑی
ڈھائی بج گئے ہیں۔۔۔۔۔
تو۔۔۔۔۔؟؟
سونا نہیں ہے کیا آپ کو۔۔۔۔؟؟؟
تم بھی تو جاگ رہی ہو۔۔۔۔
میں جاگ رہی ہوں پر آپ کی طرح دماغ نہیں لڑا رہی اس لیے بند کریں یہ اور چل کر آرام کریں صبح پھر انہی کاموں میں بزی ہو جائیں گے۔۔۔۔وہ فکر مندی سے بولی
ابھی تو چائے کا پوچھ رہی تھی تم اور اب جا کر سونے کا کہہ رہی ہو۔۔۔۔محتشم مسکرایا
اب چائے پئیں گے تو پھر بلکل بھی نیند نہیں آئے گی اس لیے اٹھیں اور چل کر سوئیں اب۔۔۔۔نبیہہ نے کہتے ہوئے اس کا لیپ ٹاپ شٹ ڈاؤن کیا اور کھڑی ہو گئی
تم چلو میں آ رہا ہوں۔۔۔۔وہ مسکرا کر کہتا لیب ٹاپ اٹھا کر الماری کیطرف بڑھ گیا
ہوں جلدی آئیے گا۔۔۔۔نبیہہ سر ہلاتی کمرے کیطرف چلی گئی
…………………………………………………………
الحان اس وقت آفس میں بزی تھا جب اس کا سیل وائبریٹ ہوا
ڈیڈ کالنگ لکھا دیکھ کر اس نے ناچاہتے ہوئے بھی کال اوکے کی۔
ال۔۔۔۔حان۔۔۔۔بیٹا۔۔۔۔۔کہاں۔۔۔۔ہو۔۔۔۔کیسے۔۔۔۔ ہو۔۔۔۔؟؟دوسری طرف ملک سلطان اٹک اٹک کر بمشکل بولے
کیوں فون کیا۔۔۔۔؟؟وہ اکھڑا سا بولا
ال۔۔۔۔۔۔حان۔۔۔۔۔بیٹا۔۔۔۔۔۔۔
پلیز ڈیڈ میں بزی ہوں جو بھی کہنا ہے جلدی کہیں۔۔۔۔
گھر۔۔۔۔گھر کب۔۔۔۔کب چکر۔۔۔۔۔لگاؤ گے۔۔۔۔۔ وہ آہستگی سے بولے
کونسے گھر۔۔۔۔؟؟؟
ال۔۔۔۔۔حان۔۔۔۔۔
ابھی کچھ دن تک نہیں آ سکتا بزی ہوں۔۔۔۔الحان نے تیزی سے کہہ کر کھٹاک سے کال بند کی اور سر چئیر کی بیک سے ٹکا کر آنکھیں موند لیں۔۔۔۔
کب ختم ہو گی یہ اذیت۔۔۔۔؟؟وہ دل گرفتگی سے آنکھیں بند کیے سوچ رہا تھا۔
“فاصلے تو تقدیر میں لکھے ہیں
ورنہ۔۔۔!
ہم تو مرنا بھی اسکی بانہوں میں چاہتے تھے”
……………………………………………………….
ماضی 👉👉
ہاشم عباسی جب گھر میں داخل ہوئے تو نبیہہ کو بے چینی سے ٹہلتے پایا
کیا ہوا تم سوئی نہیں اب تک۔۔۔۔؟؟وہ حیرانگی سے وال کلاک پر نظر ڈالتے اس سے مخاطب ہوئے
آپ کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔
کیا ہوا خیریت۔۔۔۔؟؟
مجھے دفتر سے ٹرمینیٹ کر دیا گیا ہے بابا اور یہ سب آپ کے بیسٹ فرینڈ ملک سلطان صاحب کا کیا دھرا ہے۔۔۔۔وہ خفگی سے بولی
میرا بیسٹ فرینڈ تمہارا بھی کچھ لگتا ہے۔۔۔۔
فلحال تو وہ مجھے اپنے سب سے بڑے دشمن ہی لگتے ہیں۔۔۔۔وہ منہ بگاڑ کر بولی
ہاشم اسکی شکل دیکھ کر مسکرا دیے
اچھا ہوا ملک نے یہ کر دیا ورنہ مجھے کرنا پڑتا یہ سب۔۔۔۔
بابا آخر آپ لوگوں کو مسلہ کیا ہے میری جاب سے۔۔۔۔وہ اکتائی
مسلہ جاب سے نہیں جاب میں جو فرائض تم انجام دے رہی ہو اس سے ہے۔۔۔۔
کیا میں غلط کر رہی ہوں۔۔۔۔؟؟؟
غلط نہیں تو ٹھیک بھی نہیں یہ سب۔۔۔۔ہاشم بیٹی کی اتری شکل دیکھ کر دھیمے پڑے
آپ جانتے ہیں ملک صاحب پر کروڑوں ، اربوں کے لحاظ سے ٹیکس عدم ادائیگی کے ثبوت ہیں میرے پاس۔۔۔۔اس کے علاوہ وہ بہت سی اللیگل لین دین میں بھی ملوث ہیں۔۔۔۔بلکہ عام الفاظ میں وہ ایک مکمل کرپٹ انسان ہیں۔۔۔۔۔وہ دانت رگڑ کر بڑبڑائی
بہتر ہے تم ان ثبتوں کو آگ لگا دو کیونکہ تم ان ثبتوں کے ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں کر سکتی ہو۔۔۔۔اس ملک میں ہر دوسرا بزنس مین یہی سب کر رہا ہے تم کس کس کو روکو گی۔۔۔۔؟؟
جس جس کو روک سکی روکوں گی۔۔۔۔؟؟وہ پرعزم تھی
تم دیکھ چکی ہو نبیہہ تم کچھ نہیں کر سکتی پیچھلے چھ ماہ میں وہ تمہیں دو جگہوں سے ٹرمینیٹ کروا چکا ہے۔۔۔اب تیسری دفعہ بھی ایسا ہی ہو گا بہتر ہے تم اس ملک کا لوٹا خزانہ لوٹانے کی بجائے اپنے فیوچر کا سوچو۔۔۔۔
میں چاہتا ہوں تمہاری شادی کر دوں۔۔۔نکاح تو ہو چکا ہے اب باقاعدہ طور پر تمہیں الحان کیساتھ رخصت کر کے اس فرض سے فارغ ہو جاؤں۔۔۔وہ سمجھانے کے انداز میں اسکا کندھا تھپک کر بولے
نبیہہ نے پرشکوہ نظروں سے باپ کو دیکھا۔
ایسے کیا دیکھ رہی ہو۔۔۔۔کچھ غلط کہہ رہا ہوں۔۔۔۔؟؟؟
آپ اور آپ کے دوست دو لوگ ہی تو ہیں اس پورے شہر میں جو صیح کہتے اور کرتے ہیں باقی تو سب فیک ہیں۔۔۔وہ خفگی سے کہہ کر پاؤں ٹپختی اپنے کمرے کی طرف چلی گئی
ہاشم نے بےبسی سے بیٹی کو دیکھا۔۔۔وہ چاہ کر بھی اس معاملے میں اسے سپورٹ نہیں کر سکتے تھے ۔
دونوں رشتے ہی عزیز تھے۔۔۔
ایک طرف بیٹی تھی تو دوسری طرف جگری یار تھا وہ کسے سپورٹ کرتے۔۔۔۔۔؟؟
………………………………………………………
نبیہہ اپنے کمرے میں ادھر سے أدھر چکر کاٹ رہی تھی۔
بابا نے ٹھیک کہا تھا وہ تیسری جگہ سے بھی مجھے یونہی نکلوا دیں گے۔۔۔۔پھر اب مجھے کیا کرنا چاہیے۔۔۔۔چھوڑوں گی تو نہیں میں آپ کو ملک صاحب اور نہ ہی آپ کے اس چمچے احمد سیال کو۔۔۔۔۔وہ غصے سے بڑبڑاتی ٹہلتی جا رہی تھی
مگر اس دفعہ مجھے جو بھی کرنا ہے خاموشی سے کرنا ہے۔۔۔۔۔ثبوت تو ہیں ہی میرے پاس بس کسی پاورفل بندے کی سپورٹ مل جائے مجھے۔۔۔۔۔
پر یہ پاورفل بندہ ملے گا کہاں سے۔۔۔۔وہ سوچتی ہوئی جلے پیر کی بلی بنی چکر پے چکر کاٹتی جا رہی تھی
کون۔۔۔کون۔۔۔۔کون۔۔۔۔؟؟
اوہ یس۔۔۔۔! وہ نعرہ لگاتی اچھل کر کاؤچ پر بیٹھی۔۔
اسکے چہرے پر امڈتی روشنی پتہ دے رہی تھی کہ اسے پاورفل بندہ مل چکا ہے۔
……………………………………………….……
ہارون لاؤنج میں بیٹھا راعنہ کے سیل پر
گیم کھیل رہا تھا جب نبیہہ لاؤنج میں آئی۔۔۔۔
کیا کر رہے ہو۔۔۔۔؟؟وہ نارمل انداز میں پوچھتی قریبی صوفے پر بیٹھی
گیم کھیل رہا ہوں آپ کو کم نظر آنے لگا ہے کیا۔۔۔۔۔؟؟وہ پٹاخ سے جواب دے کر پھر سے گیم کھیلنے لگا
اونہہ۔۔۔بدتمیز۔۔۔۔نبیہہ نے دل میں سوچا مگر ہارون کو صرف مسکرا کر ہی دیکھا
تمہارے لیے پاستا بناؤں۔۔۔؟؟
نیکی اور پوچھ پوچھ۔۔۔۔وہ جلدی سے سیدھا ہو بیٹھا
مطلب پرست لالچی انسان۔۔۔۔نبیہہ مسکرا کر سر ہلاتی اور دل میں بڑبڑاتی کیچن کیطرف چلی گئی۔
اسکا تیر ٹھیک نشانے پر لگا تھا۔۔۔۔اب بس آگے بھی ویسا ہی ہو جاتا جیسا اس نے سوچا تھا تو کیا ہی بات ہوتی۔۔۔۔!
…………………………………………………
کیا بات ہے یار آجکل تمہاری طرف سے کافی خاموشی سی ہو گئی ہے۔۔۔۔۔ہاشم عباسی نے مسکراتے ہوئے ملک سلطان کو چھیڑا جو کپ منہ سے لگائے چائے کا گھونٹ لے رہے تھے۔
خاموشی تو تمہاری طرف سے بھی ہے مگر مجھے یہ خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ لگ رہی ہے۔۔۔۔وہ مشکوک سے بولے
ہاہاہاہا۔۔۔۔۔نہیں ایسی کوئی بات نہیں وہ گھر پر ہی ہوتی ہے آجکل۔۔۔۔ہاشم عباسی اپنی مسکراہٹ ضبط کرتے بولے
حیرت ہے۔۔۔۔۔نبیہہ بی بی چین سے کیسے بیٹھیں ہیں۔۔۔۔مجھ سے بھی کوئی باز پرس کرنے نہیں آئی۔۔۔۔ملک صاحب نے کپ ٹیبل پر رکھتے حیرانگی ظاہر کی
میں نے کہا ہے اب اپنے فیوچر کا سوچے اور تم سے بھی یہی بات کرنے آیا ہوں ملک۔۔۔۔اب ہمیں باقاعدہ طور پر شادی کر دینی چاہیے دونوں کی۔۔۔۔
بلکل۔۔۔۔۔مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے بھئی جب تم کہو۔۔۔۔۔ملک سلطان کندھے اچکا کر بولے
تو پھر الحان سے بات کر کے کوئی ڈیٹ فائنل کر لیتے ہیں۔۔۔
اس سے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے وہ کونسا منع کرے گا۔۔۔تم بھابھی اور نبیہہ سے مشورہ کر کے کوئی سی بھی ڈیٹ فائنل کر کے بتا دینا۔۔۔۔ہم باپ بیٹا تیار ہیں۔۔۔۔وہ مسکرا کر کہتے سگار کا کش لینے لگے
ہوں تو پھر ٹھیک ہے میں راعنہ اور نبیہہ سے بات کرتا ہوں اگلے ماہ تک کی کوئی ڈیٹ فائنل کر لیتے ہیں۔۔۔۔ہاشم عباسی بھی ریلیکس ہوتے سگار کے کش لینے لگے۔
………………………………………………………
نبیہہ نے پاستا بنا کر وہیں کیچن میں کھڑے کھڑے ہی ہارون کو آواز لگائی۔
ہارون اسکی آواز پر راعنہ کا سیل ٹیبل پر رکھ کر کیچن کیطرف بھاگا۔
بیٹھو۔۔۔۔نبیہہ نے چئیر گھسیٹ کر ہارون کو بیٹھایا اور پاستے کا باؤل اسکے سامنے رکھا
کھا کر بتاؤ کیسا بنا ہے۔۔۔؟؟
آپ کے ہاتھ کا پاستا ہے اویئسلی لذیذ ہی ہو گا۔۔۔
ہوں۔۔۔۔تم انجوائے کرو میں ابھی آتی ہوں۔۔۔۔نبیہہ مسکرا کر کہتی کیچن سے باہر نکل آئی
اب وہ تیز قدموں سے لاؤنج کیطرف جا رہی تھی تاکہ راعنہ کے سیل تک رسائی حاصل کر سکے۔۔۔۔۔
…………………………………….…………………
حال 👉👉
محتشم آپ کتنے بجے تک آئیں گے آج۔۔۔۔؟؟نبیہہ نے آئینے کے سامنے اسے کوٹ پہننے میں مدد دیتے ہوئے پوچھا
کیوں آج کچھ خاص ہے کیا۔۔۔؟؟ محتشم نے کف لنکس بند کرتے مسکرا کر اسے دیکھا
نہیں کچھ خاص نہیں ہے بس ایسے ہی پوچھ رہی تھی۔۔۔۔
ہوں۔۔۔۔۔نبیہہ۔۔۔۔۔۔
جی۔۔۔۔۔وہ پرفیوم کی شیشی محتشم کو پکڑاتے بولی
آج میں جلدی آؤں گا ڈنر باہر کریں گے تمہاری کوئی اور پلانگ ہے تو بتا دو۔۔۔؟؟وہ پرفیوم اسپرے کرتا بولا
نہیں میری کوئی پلانگ نہیں ہے۔۔۔۔
فائن۔۔۔۔پھر ریڈی رہنا میں سات بجے تک آ جاؤں گا
جی۔۔۔۔نبیہہ نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا
میں چلتا ہوں اب ٹیک کئیر آف یور سیلف۔۔۔۔محتشم نے ہر روز کی طرح یہ فقرہ دہرایا اور اسے ساتھ لگا کر ماتھے پر بوسہ دیتا باہر نکل گیا۔
نبیہہ نے بند دروازے کو دیکھا جہاں سے ابھی محتشم نکل کر گیا تھا۔
اور اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو افسردگی سے دیکھتی بیڈ پر بیٹھ گئی۔
مجھے معاف کر دیں محتشم میں نے آپ کیساتھ بلکل بھی اچھا نہیں کیا میری ذات سے آپکو دکھوں کے سوا کچھ بھی نہیں ملا۔۔۔۔۔وہ بیڈ پر اوندھے منہ گر کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
“ہماری ذات ادھوری رہ گئی
کسی کا کھیل پورا ہو گیا”
………………………………………………………
جاری ہے