No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
اسرار عشق ہے دل مضطر لیے ہوئے۔۔۔۔
قطرہ ہے بےقرار سمندر لیے ہوئے۔۔۔۔۔!
آشوب دہر و فتنہ محشر لیے ہوئے۔۔۔۔
پہلو میں یعنی ہو دل مضطر لیے ہوئے۔۔۔۔!
موج ء نشیمن صبح کہ قربان جائے۔۔۔۔
آئے ہائے بوئے زلف پیچاں لیے ہوئے۔۔۔۔۔!
____________
ایک چھٹانک بھر کی لڑکی نہیں سنبھالی جا رہی تم سے تف ہے تم پر الحان ملک۔۔۔۔
ملکوں کے نام پر دھبہ ثابت ہو رہے ہو تم۔۔۔۔۔ملک سلطان نے کف اڑاتے ہوئے قریب کھڑے الحان ملک کو جھاڑ پلائی
وہ چھٹانک بھر کی لڑکی فلحال میری ملکیت میں نہیں ہے جب آئے گی تو سنبھال لوں گا لہذا اب آپ کو جو بھی شکایت ہے ہاشم انکل سے کریں انکی ہی بیٹی ہے وہ۔۔۔۔۔الحان نے بمشکل تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے باپ کو جواب دیا
بیوی ہے تمہاری نکاح ہو چکا ہے جب چاہے اٹھا کر لا سکتے ہو اپنی ملکیت میں مگر تم میں مردوں والی کوئی بات ہو تو کر سکو کچھ۔۔۔
الحان باپ کے طعنے پر سلگ اٹھا۔۔۔
ملک صاحب میں آپ کا اپنا بیٹا ہوں۔۔۔۔وہ دانت پیس کر بولا
بیٹے ہو اسی لیے زمین کے اوپر ہو ورنہ اب تک زمین کے اندر ہو چکے ہوتے۔۔۔انہوں نے مطمعین انداز میں دھمکی دی
میں کیا کر سکتا ہوں اس سارے معاملے میں آپ ہاشم انکل سے کیوں نہیں کہتے سنبھالیں اپنی لاڈلی کو۔۔۔۔وہ زچ ہو کر بولا
وہ تو خود تنگ آ چکا ہے اس سے۔۔۔۔ایک دفعہ تم بات کر کے سمجھاؤ مان گئی تو ٹھیک ورنہ پھر میں اپنے طریقے سے سمجھاؤں گا اسے۔۔۔۔ہاشم سے بات ہو چکی ہے میری اس سلسلے میں۔۔۔۔۔
کر لو گے بات اس سے۔۔۔۔۔ملک صاحب نے ملامتی انداز میں پوچھا جیسے انہیں امید نہ ہو کہ ان کا بیٹا کوئی بات کر سکے گا۔۔۔
عجیب متضاد طبیعت کے مالک تھے دونوں باپ بیٹا باپ جتنا غصیلہ اور بے مروت تھا بیٹا اتنا ہی دھیما اور لحاظ کرنے والا تھا
جی کر لوں گا۔۔۔۔!
کل تک کر لینا۔۔۔۔ملک صاحب ایک اچٹتی نظر بیٹے پر ڈال کر سگار منہ میں دبائے اسٹڈی سے نکل گئے۔
پیچھے الحان ملک بیٹھا سوچ رہا تھا وہ اس چھٹانک بھر کی لڑکی سے کیسے بات کرے گا۔۔۔۔!
………………………………………………………
وہ بار بار گھڑی کو دیکھتی ہوئی سڑک کنارے کھڑی تھی۔
جب چڑ۔۔۔ڑ۔۔۔ڑ کی آواز سے بلیک ہونڈا اسکے عین سامنے آ کر رکی۔۔۔
نبیہہ نے ایک نظر گاڑی میں موجود شخص کو دیکھا اور نظریں پھر سے گھڑی اور گھڑی سے سڑک پر چلتی پھرتی گاڑیوں پر ٹکا دیں۔
اسلام علیکم۔۔۔۔۔! الحان نے پاس آ کر آہستگی سے سلام کیا
ہوں۔۔۔۔نبیہہ نے زبان کی بجائے سر استعمال کرتے ہوئے سلام کا جواب دیا
کیسی ہو۔۔۔۔؟؟؟
یہ پوچھنے کے لیے گاڑی روکی ہے۔۔۔۔؟؟ وہ بھنویں اچکا کر اپنے مخصوص اکھڑ لہجے میں بولی
نہیں وہ تم یہاں کیوں کھڑی ہو گاڑی کہاں ہے تمہاری۔۔۔۔؟؟
یہ سڑک ملک سلطان کی نہیں ہے جو تم مجھ سے پوچھنے آئے ہو کے میں یہاں کیوں کھڑی ہوں۔۔۔اور جہاں تک گاڑی کی بات ہے تو میری مرضی میں گاڑی سے جاؤں یا پبلک ٹرانسپورٹ سے۔۔۔۔وہ کندھے اچکا کر کہتی اپنے تھیلے نما بیگ سے موبائل تلاشنے لگی جس پر بجتی رنگ ٹون نے حشر برپا کر رکھا تھا۔
دو چار دفعہ ہاتھ مارنے کے بعد وہ بالآخر اپنے تھیلے سے سیل دریافت کرتی سیدھی ہوئی
ہیلو۔۔۔۔جی مرزا صاحب۔۔۔۔۔اسلام علیکم۔۔۔وہ تھوڑا پیچھے ہٹ کر دوسری طرف موجود شخص سے بات کرنے میں مصروف ہو چکی تھی جبکہ الحان وہیں کھڑا اسے دیکھنے میں مصروف ہو چکا تھا۔
بالوں کو پونی ٹیل میں باندھے۔۔۔۔بلیو جینز کیساتھ کھلا ڈولا بلیک کرتا پہنے۔۔۔۔ڈوپٹے کو مفلر کے انداز میں گلے کے گرد لپیٹے۔۔۔کندھے پر تھیلے نما بیگ ڈالے۔۔۔سیل کان سے لگائے قینچی کی طرح تیز چلتی زبان سے فر فر بات کرتے ہوئے وہ واقعی جرنلسٹ ہی لگ رہی تھی۔
نبیہہ نے اسے اپنی طرف مسلسل تکتے پا کر محتصر بات کر کے کال بند کی اور الحان کی طرف بڑھی۔
پبلک پلیس پر کھڑے ہو کر اس طرح سے گھور رہے ہو تمہیں شرم نہیں آتی۔۔۔۔؟؟
الحان ہلکا سا مسکرا دیا۔۔۔
مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے کیا ہم کسی پرسکون جگہ پر بیٹھ کر بات کر سکتے ہیں۔۔۔وہ اسکی بات کو نظرانداز کرتا بولا
نہیں۔۔۔۔لٹھ مار جواب آیا
کیوں۔۔۔۔؟؟؟
کیونکہ میں تم سے کوئی بھی بات نہیں کرنا چاہتی۔۔۔۔۔
تو مت کرنا مجھے کرنی ہے میں کر لوں گا تم چپ چاپ سن لینا بس۔۔۔۔۔
نبیہہ نے اسکی بات پر سوالیہ نظریں اسکے چہرے پر ٹکائیں یوں جیسے پوچھ رہی ہو۔۔۔کیا تمہیں لگتا ہے میں چپ چاپ رہ کر بات سن سکتی ہوں۔۔۔۔؟؟
پلیز صرف چند منٹ۔۔۔میں جانتا ہوں اس شہر کی بہت مصروف جرنلسٹ ہو تم لیکن بس چند منٹ۔۔۔۔وہ ملتجی ہوا
کہو میں سن رہی ہوں۔۔۔ وہ احسان کرتی بولی
یہاں۔۔۔۔۔الحان نے حیرانگی سے اردگرد چلتی پھرتی گاڑیوں کو اور گزرتے لوگوں کو مشکوک نظروں سے خود کو گھورتے دیکھ کر کہا
ہاں۔۔۔میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ پہلے تمہارے ساتھ کسی پرسکون جگہ پر جاؤں اور پھر خود بھی پرسکون ہو کر تمہاری بات سنوں اس لیے جو بھی کہنا ہے جلدی کہو مجھے دیر ہو رہی ہے۔۔۔نبیہہ نے پھر سے گھڑی پر نظر ڈالتے ہوئے تیزی سے کہا
الحان نے ایک نظر اسکے بے زار چہرے کو دیکھا اور لمبی سی سانس لیتا گاگلز پہن کر واپس گاڑی کیطرف پلٹ گیا۔
نبیہہ نے حیرت سے اسے واپس گاڑی میں بیٹھتے اور گاڑی کو نظروں سے دور ہوتے دیکھا۔
الحان ملک میں بھی اتنی اکڑ ہو سکتی ہے وہ حیران تھی۔۔
………………………………………………………
نبیہہ بی بی آپ کو صاحب جی ڈرائنگ روم میں بلا رہے ہیں۔۔۔۔وہ بیڈ پر چوکڑی مارے گود میں لیب ٹاپ رکھے بزی تھی جب سلمی نے آ کر پیغام دیا
ہوں۔۔۔۔کوئی آیا ہے کیا۔۔۔۔؟؟
جی۔۔۔۔۔
کون۔۔۔۔۔اب کہ اس نے لیب ٹاپ سے سر اٹھا کر سلمی کو دیکھا
وہ ملک صاحب اور الحان صاحب آئے ہیں۔
ہوں۔۔۔۔ٹھیک ہے تم جاؤ میں آتی ہوں۔۔۔
جی۔۔۔۔۔سلمی سر ہلاتی کمرے سے چلی گئی
نبیہہ جانتی تھی وہ لوگ کیوں آئے ہیں اس لیے بے فکری سے بیڈ پر اوندھے منہ لیٹتی نصرت فتح علی خان کی آواز میں
“وہ ہٹا رہے ہیں پردہ
سربام چپکے چپکے۔۔۔۔۔
میں نظارہ کر رہا ہوں
سرشام چپکے چپکے۔۔۔۔”
سننے لگی۔۔۔
وہ خود کو کول ڈاؤن کر کے ڈرائنگ روم میں جانا چاہتی تھی اور کول ڈاؤن ہونے کے لیے اسے نصرت فتح علی خان کی آواز میں کوئی بھی قوالی گیت یا غزل سننا بہت ضروری تھا۔
….…………….…………….…..……………….
اسلام علیکم۔۔۔۔!! اس نے تینوں نفوس پر طائرانہ نظر ڈالتے ہوئے سلام کیا
سروں کی جنبش سے سلام کا جواب ملنے پر وہ ملک سلطان کے سامنے پڑے سنگل صوفے پر آ بیٹھی۔
آپ نے بلایا تھا بابا۔۔۔؟؟سوالیہ نظروں سے ہاشم عباسی کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہے تھے
ہاں۔۔۔۔ملک تم سے بات کرنا چاہتا ہے اس لیے زبان بند کر کے اور کان کھول کر پوری بات سنو۔۔۔۔ہاشم عباسی نے تیز نظروں سے بیٹی کو گھورتے ہوئے خاموش رہنے کی تنبیہہ کی
جی ملک صاحب بولیے میں سن رہی ہوں۔۔۔۔نبیہہ کے ملک سلطان کو انکل کی بجائے سیدھا ملک صاحب کہنے پر جہاں ہاشم نے بیٹی کو ناگواری سے دیکھا وہیں ملک صاحب نے تیز نظروں سے کچھ فاصلے پر بیٹھے بیٹے کو گھورا جو وہاں لاتعلق سا یوں بیٹھا تھا جیسے وہاں موجود ہی نہ ہو۔۔۔
تم کرو جو بھی بات کرنی ہے اس کے دماغ کا فیوز اڑ چکا ہے اس لیے اس قدر بدتمیز اور خود سر ہوتی جا رہی ہے۔۔۔ہاشم عباسی نے ملک سلطان کے چہرے کے تنے تاثرات دیکھ کر رسان سے کہا
جبکہ نبیہہ باپ کی طرف سے کی گئی اپنی تعریف ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکالتی ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر سیدھی ہوئی۔۔
تم یہ جاب کب چھوڑ رہی ہو۔۔۔۔؟؟ملک صاحب نے بمشکل خود کو پرسکون کرتے ہوئے تحمل سے اس چھٹانک بھر کی لڑکی کو گھورتے ہوئے پوچھا
میری جاب سے آپ کو کیا پرابلم ہے۔۔۔۔ڈئیر ملک صاحب۔۔۔۔نبیہہ نے لٹ انگلی پر لپیٹتے ہوئے مسکراہٹ دبا کر پوچھا وہ جانتی تھی ملک صاحب کو کیسے ہائپر کرنا ہے اور وہ کر بھی چکی تھی اور ایسا کرنے میں اسے بڑا مزا آتا تھا پر کیوں۔۔۔۔؟؟؟یہ تو وہی جانتی تھی کہ کیوں۔۔۔۔؟؟
دیکھ رہے ہو اپنی بیٹی کو کس قدر بدتمیز ہو گئی ہے نہ بڑوں کا لحاظ ہے اور نہ ہی رشتوں کا پاس۔۔۔۔۔ملک صاحب نے خشمگیں نظروں سے سگار کے کش لیتے ہاشم عباسی سے کہا
تمہارے سامنے بیٹھی ہے کہہ لو جو بھی کہنا ہے میں خود تنگ آ چکا ہوں اس سے۔۔۔۔۔۔ہاشم عباسی کندھے اچکا کر بولے
بہتر ہو گا تم خود یہ جاب چھوڑ دو ورنہ جاب چھڑوانا میرے لیے ہر گز مشکل نہیں۔۔۔۔۔ملک سلطان بمشکل ضبط سے نبیہہ کو دیکھتے بولے۔
میری جاب کے پیچھے کیوں پڑے ہیں آپ ملک صاحب۔۔۔اپنا قبلہ درست کر لیں گے تو مجھے آپ سے اور آپ کو مجھ سے کوئی پرابلم نہیں رہے گا۔۔۔وہ لاپرواہی سے بولی
تمہیں کیچڑ اچھالنے کو میں ہی ملا ہوں اس پورے شہر میں۔۔۔۔
نہیں اور بھی بہت سے لوگ ہیں میری نظر میں۔۔مگر میں نیک کام کی شروعات گھر سے کرنا چاہ رہی تھی اسی لیے پہلی نظر آپ پر رکھی۔۔۔۔وہ مزے سے پاؤں جھلاتی بولی
اپنے گھر کی عزت کو سر عام نیلام کرتی پھر رہی ہو چند پیسوں کے عوض۔۔۔۔۔
یہ میری جاب ہے محترم اور میں اپنے کام کے عوض پیسے لیتی ہوں۔۔۔۔
تمہیں جتنے پیسوں کی ضرورت ہے مجھ سے لے سکتی ہو مگر اس جاب سے نکل آؤ باہر۔۔۔۔۔ملک صاحب بہت مشکل سے تحمل کا مظاہرہ کر رہے تھے
میں نبیہہ عباسی ہوں ملک صاحب اور نبیہہ عباسی آپ کے ان ٹکوں سے بکنے والی نہیں لہذا ایسی آفرز ان کو دیں جو آپ کے پیسے پر نظر رکھے ہوئے ہوں میرے پاس جتنا ہے اتنا کافی ہے میری اپنی ذات کے لیے۔۔۔۔۔۔
ہوں۔۔۔مطلب تم نہیں مانوں گی بات۔۔
نہیں۔۔۔۔میں یہ جاب کروں گی اور وہ سب لکھوں گی جو لکھ رہی ہوں۔۔۔۔۔ویسے بھی آپ جتنے پیسے مجھے دیں گے بہتر ہے ان سے وہ واجبات ادا کر دیں جنہیں لے کر آپ مجھے پر غصہ ہو رہے ہیں۔۔۔۔۔وہ تیزی سے بات مکمل کر کے ڈرائنگ روم سے نکل گئی
میں مان چکا ہوں وہ تمہاری ہی بیٹی ہے ضدی اور خود سر۔۔۔۔۔اور ایک میرا لاڈلا ہے جس کے منہ میں زبان ہی نہیں بیٹا کم اور اللہ میاں کی گائے زیادہ معلوم ہوتا ہے مجھے۔۔۔۔۔ملک صاحب الحان کو دیکھتے چڑ کر بولے
ہاہاہا۔۔۔۔۔ہاشم عباسی نے ان کی بات پر کھل کر قہقہہ لگایا
شکر کرو اللہ میاں کی گائے ہے ورنہ میری بیٹی کیطرح دن میں تارے دکھا دیتا۔۔۔۔وہ ہنسی روک کر بولے
ان صاحبہ کا غصہ مجھ پر کیوں نکال رہے ہیں آپ دونوں۔۔۔۔؟؟ بلآخر الحان ملک کی چپ ٹوٹ ہی گئی اپنی بےعزتی پر۔۔۔۔
میں کہاں یہ تمہارا باپ ہی ہے جو ہر وقت تمہاری عزت افزائی کرتا رہتا ہے۔۔۔ہاشم عباسی نے شرارت سے اسے دیکھ کر کہا
میں چلتا ہوں آپ لوگ کھل کر اپنی اپنی اولاد کی برائیاں کر لیں۔۔۔۔وہ خفگی سے کہتا کیز اٹھا کر ڈرائنگ روم سے نکل گیا
ہاشم عباسی نے ہنستے ہوئے ایک نظر الحان کی پشت پر ڈالی اور پلٹ کر ملک سلطان کو دیکھنے لگے جو ابھی بھی غصے سے بھرے بیٹھے تھے۔۔
…………………………………………………..
ملک سلطان اور ہاشم عباسی بچپن کے گہرے دوست تھے۔۔۔۔۔یہ دوستی ان کے والدین سے ان میں منتقل ہوئی تھی۔۔۔۔والدین تو اب سلامت نہ تھے پر وہ دونوں دوست اس دوستی کو زندہ رکھے ہوئے تھے۔۔۔
ملک سلطان اسلام آباد کے بہت بڑے انڈسٹریلسٹ تھے۔۔۔جو اپنے بزنس کو بڑھانے اور اونچائی تک لیجانے میں اکثر تھوڑے بہت غیرقانونی کام کر لیتے تھے جن میں ٹیکس کی عدم ادائیگی اور اپنی industrial products کی بیرون ملک غیر قانونی ترسیل تھی۔۔۔ایسی چھوٹی موٹی ہیراپھیریاں جنہیں کرپشن کہا جاتا ہے اب نبیہہ عباسی کی نظروں میں آ چکی تھیں اور وہ اپنے جرنلسٹ ہونے کا پورا پورا حق ادا کرتے ہوئے آئے روز اپنے میگزین اور اخبار میں چند لائنیں ان قانونی بے ضبطگیوں پر لکھ لیتی تھی کہ شاید کسی حکمران یا قانون دان کی آنکھیں کھل سکیں جو سال ہا سال سے میچی ہوئی تھیں۔۔
ملک سلطان کا ایک ہی بیٹا الحان ملک تھا جبکہ دو بیٹیاں بھی تھیں جن کی وہ شادیاں کر چکے تھے۔۔۔۔۔کلثوم سلطان کچھ عرصہ قبل ہی ان کا ساتھ چھوڑ گئی تھیں لہذا اب ملک ہاؤس میں وہ خود اور الحان ملک کے علاوہ ملازموں کی ایک فوج رہتی تھی۔
دوسری طرف ہاشم عباسی کا شمار شہر کے نامور ہارٹ سرجنز میں ہوتا تھا اور وہ بہت کامیابی سے اپنا قائم کردہ کلینک چلا رہے تھے۔۔۔۔
انہوں نے دو شادیاں کی تھیں۔۔۔پہلی شادی نبیہہ کی مدر سنبل عباسی سے کی مگر سنبل انہیں اور نبیہہ کو کئی سال پہلے داغ مفارقت دے کر جا چکی تھیں۔
اس وقت نبیہہ اولیولز کی اسٹوڈینٹ تھی۔۔۔۔سنبل عباسی کی موت کے تین سال بعد ہاشم عباسی نے دوسری شادی اپنی کزن راعنہ عباسی سے کی جو ان سے عمر میں دس، پندرہ سال چھوٹی تھی۔۔۔۔۔
نبیہہ کو اس شادی پر نہ تو خوشی تھی اور نہ ہی غم وہ ماں کے بعد خود کو خود تک محدود کر چکی تھی اس لیے باپ دوسری شادی کس سے اور کیوں کرتا اسے کوئی سروکار نہ تھا۔۔
راعنہ کو وہ باپ سے شادی سے پہلے بھی آنٹی کہہ کر پکارتی تھی اور اب بھی وہ اسے آنٹی ہی کہتی جس پر کسی کو کوئی اعتراض نہ تھا۔۔
راعنہ اور نبیہہ دونوں کا انداز ایک دوسرے سے لیا دیا ہی تھا دونوں کے بیچ کچھ خاص understanding بھی نہ تھی اور نہ ہی ان دونوں میں سے کسی کو ایسی کوئی خاص انڈراسٹیڈنگ ڈویلپ کرنے کی خواہش تھی۔۔۔۔
راعنہ عباسی اور ہاشم عباسی کے دو بیٹے تھے لہذا وہ ہاشم عباسی اور اپنے دونوں بیٹوں ہارون اور موسی عباسی کی ذات کے علاوہ اپنے سوشل ورک میں مصروف رہتی تھیں۔۔۔
نبیہہ کی تعلیمی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے ہاشم کی خواہش تھی کہ نبیہہ بھی انکی طرح ڈاکٹری کے فیلڈ میں آئے مگر نبیہہ کو اس فیلڈ سے کوئی اٹیچمنٹ نہ تھی اس لیے اس نے اپنی مرضی کے مطابق جرنلزم میں ماسٹرز کیا اور اب اپنی مرضی ہی سے اسلام آباد کے مشہور میگزین اور اخبار کے آفس میں بطور جرنلسٹ اور کالم نگار کے طور پر اپنی ڈیوٹی انجام دے رہی تھی۔۔۔
جبکہ الحان ملک نے
Business Administration کی ڈگری لی تھی اور اب باپ کیساتھ بزنس میں بزی تھا۔
چند ماہ پہلے ہی اس کا نبیہہ عباسی سے نکاح ہوا تھا جو کہ کافی unexpected سا واقع معلوم ہوتا تھا۔
………………………………………..….…………….
نبیہہ روٹین کیمطابق اپنے رف سے حلیے میں ریڈی ہو کر دفتر پہنچی تھی۔ابھی وہ اپنی سیٹ پر بیٹھی ہی تھی جب ذیشان اس کے پاس آ کھڑا ہوا
مرزا صاحب نے بلایا ہے تمہیں۔۔۔
مجھے۔۔۔۔۔نبیہہ نے سوالیہ نظروں سے دیکھا
ہاں تمہیں۔۔۔
اتنی صبح صبح کیا ہوا کوئی خاص بات۔۔۔۔۔؟..
لگ تو رہی ہے اب بات کیا ہے یہ تم خود جا کر پوچھ لو۔۔۔۔وہ پیغام دیتا واپس اپنے ٹیبل کی طرف بڑھ گیا
ہوں جاتی ہوں۔۔۔۔۔نبیہہ نے سر ہلا کر جلدی سے ٹیبل پر پڑے کاغذات پن کیے اور اٹھ کر مرزا صاحب کے آفس کیطرف بڑھ گئی جو وہاں کے اونر تھے۔
وہ دروازہ ناک کر کے اندر داخل ہوئی مرزا صاحب کاغذات کا ڈھیر لگائے بیٹھے تھے۔۔
آپ نے بلایا۔۔۔۔؟؟؟سلام کے بعد نبیہہ نے بلانے کی وجہ پوچھی
ہوں۔۔۔۔بیٹھو۔۔۔۔وہ عینک اتار کر آنکھیں رگڑتے سیدھے ہوئے
یہ تمہارا ٹرمینیشن لیٹر۔۔۔انہوں نے بنا کسی تمہید کے خاکی لفافہ اسکی طرف بڑھایا جو منہ کھولے حیران سی بیٹھی تھی۔
ٹرمینیشن لیٹر ۔۔۔۔؟؟ پر کیوں۔۔۔؟؟
مجھ سے بہتر تم خود جانتی ہو گی۔۔۔۔مرزا صاحب نے لفافہ اسکے سامنے رکھا۔
لیکن یہ تو کوئی بات نہ ہوئی مرزا صاحب کوئی بھی کچھ بھی کہے گا تو آپ مان لیں گے۔۔۔۔
نبیہہ جانتی تھی یہ کس کی حرکت ہے۔
میں تمہیں پہلے بھی بہت دفعہ باز کر چکا تھا تم نے میری بات نہیں مانی اب میں یہ ہی کر سکتا ہوں کیونکہ تمہاری وجہ سے بیٹھے بیٹھائے میں اپنا کاروبار بند نہیں کروانا چاہتا۔۔
آپ اپنے کاروبار کی وجہ سے سچ کو چھپا کر جھوٹ کو بالا رکھنا چاہتے ہیں مرزا صاحب۔۔۔۔۔
میں ایسا کچھ نہیں چاہتا نبیہہ۔۔۔وہ تحمل سے بولے
تو پھر مجھے کیوں نکال رہے ہیں۔۔۔
میری مجبوری ہے۔۔۔وہ بڑبڑائے
اونہہ۔۔۔مجبوری۔۔۔یوں کہیں بک چکے ہیں آپ۔۔۔۔۔
ایسا نہیں ہے۔۔۔
ایسا ہی ہے اور مجھے ایسے لوگوں سے سخت نفرت ہے مرزا صاحب آپ جانتے ہیں۔۔۔۔وہ ٹیبل پر ہاتھ مارتی کھڑی ہوئی
So Good baye fr forever
وہ لیٹر اٹھا کر مرزا صاحب کی آواز کو ان سنی کرتی باہر نکل آئی۔
اب وہ اپنی چیزیں سمیٹتی ملک انڈسٹریز جانے کا سوچ رہی تھی۔
……………………………………….……………
میڈم آپ اندر نہیں جا سکتی سر میٹنگ میں بزی ہیں۔۔۔فارن ڈیلیگیشنز آئے ہیں پلیز آپ رک جائیں تھوڑی دیر۔۔۔۔وہاں کی سیکرٹری نبیہہ کو کانفرنس روم میں جانے سے روک رہی تھی مگر وہ نبیہہ ہی کیا جو کسی کی سن کر مان بھی لے۔۔۔
ہٹو میرے راستے سے۔۔۔۔نبیہہ نے گھورتے ہوئے اسے کہا جو اسکا راستہ روکے کھڑی تھی۔
میڈم پلیز۔۔۔۔وہ منمنائی
ہٹ جاؤ ورنہ ابھی کہ ابھی جاب سے جاؤ گی سمجھی تم مجھے جانتی نہیں ہو میں بروں کیساتھ بہت بری طرح سے پیش آتی ہوں اس لیے اپنی سلامتی چاہتی ہو تو ہٹو سامنے سے۔۔۔
میڈم سر نے سختی سے منع کیا تھا آپ تھوڑی دیر ویٹ کر لیں پلیز میں سر کو انفارم کر دیتی ہوں۔۔۔۔
تو تم نہیں ہٹو گی سامنے سے۔۔۔۔نبیہہ نے گھوری دی
میڈم میری ڈیوٹی ہے یہ اور میں اپنے کام سے۔۔۔۔
بھاڑ میں گئی تم اور تمہاری ڈیوٹی ہٹو۔۔و۔۔۔و۔۔۔نبیہہ نے پوری طاقت سے اسکا بازو پکڑ کر سائیڈ پر کیا اور خود تیزی سے دروازہ کھولتی اندر داخل ہوئی
کانفرنس روم میں موجود تمام نفوس اتنی افتاد سے دروازہ کھلنے پر اس طرف متوجہ ہو چکے تھے۔
الحان جو کسی پوائنٹ کو ڈسکس کر رہا تھا رک کر دروازے کی جانب مڑا اور دروازے میں کھڑی شیرنی بنی نبیہہ کو دیکھتے وہ سمجھ چکا تھا کچھ نہ کچھ غلط ہونے والا ہے آج۔۔۔۔۔۔۔۔!!
……………………………………………………
جاری ہے۔۔
