Dil E Muzter By Mehwish Chaudhary readelle50053

Dil E Muzter By Mehwish Chaudhary readelle50053 Last updated: 9 July 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil E Muzter By

Mehwish Chaudhary

اسرار عشق ہے دل مضطر لیے ہوئے۔۔۔۔ قطرہ ہے بےقرار سمندر لیے ہوئے۔۔۔۔۔! آشوب دہر و فتنہ محشر لیے ہوئے۔۔۔۔ پہلو میں یعنی ہو دل مضطر لیے ہوئے۔۔۔۔! موج ء نشیمن صبح کہ قربان جائے۔۔۔۔ آئے ہائے بوئے زلف پیچاں لیے ہوئے۔۔۔۔۔! ________ ایک چھٹانک بھر کی لڑکی نہیں سنبھالی جا رہی تم سے تف ہے تم پر الحان ملک۔۔۔۔ ملکوں کے نام پر دھبہ ثابت ہو رہے ہو تم۔۔۔۔۔ملک سلطان نے کف اڑاتے ہوئے قریب کھڑے الحان ملک کو جھاڑ پلائی وہ چھٹانک بھر کی لڑکی فلحال میری ملکیت میں نہیں ہے جب آئے گی تو سنبھال لوں گا لہذا اب آپ کو جو بھی شکایت ہے ہاشم انکل سے کریں انکی ہی بیٹی ہے وہ۔۔۔۔۔الحان نے بمشکل تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے باپ کو جواب دیا بیوی ہے تمہاری نکاح ہو چکا ہے جب چاہے اٹھا کر لا سکتے ہو اپنی ملکیت میں مگر تم میں مردوں والی کوئی بات ہو تو کر سکو کچھ۔۔۔ الحان باپ کے طعنے پر سلگ اٹھا۔۔۔ ملک صاحب میں آپ کا اپنا بیٹا ہوں۔۔۔۔وہ دانت پیس کر بولا بیٹے ہو اسی لیے زمین کے اوپر ہو ورنہ اب تک زمین کے اندر ہو چکے ہوتے۔۔۔انہوں نے مطمعین انداز میں دھمکی دی میں کیا کر سکتا ہوں اس سارے معاملے میں آپ ہاشم انکل سے کیوں نہیں کہتے سنبھالیں اپنی لاڈلی کو۔۔۔۔وہ زچ ہو کر بولا وہ تو خود تنگ آ چکا ہے اس سے۔۔۔۔ایک دفعہ تم بات کر کے سمجھاؤ مان گئی تو ٹھیک ورنہ پھر میں اپنے طریقے سے سمجھاؤں گا اسے۔۔۔۔ہاشم سے بات ہو چکی ہے میری اس سلسلے میں۔۔۔۔۔ کر لو گے بات اس سے۔۔۔۔۔ملک صاحب نے ملامتی انداز میں پوچھا جیسے انہیں امید نہ ہو کہ ان کا بیٹا کوئی بات کر سکے گا۔۔۔ عجیب متضاد طبیعت کے مالک تھے دونوں باپ بیٹا باپ جتنا غصیلہ اور بے مروت تھا بیٹا اتنا ہی دھیما اور لحاظ کرنے والا تھا جی کر لوں گا۔۔۔۔! کل تک کر لینا۔۔۔۔ملک صاحب ایک اچٹتی نظر بیٹے پر ڈال کر سگار منہ میں دبائے اسٹڈی سے نکل گئے۔ پیچھے الحان ملک بیٹھا سوچ رہا تھا وہ اس چھٹانک بھر کی لڑکی سے کیسے بات کرے گا۔۔۔۔! ……………………………………………………… وہ بار بار گھڑی کو دیکھتی ہوئی سڑک کنارے کھڑی تھی۔ جب چڑ۔۔۔ڑ۔۔۔ڑ کی آواز سے بلیک ہونڈا اسکے عین سامنے آ کر رکی۔۔۔ نبیہہ نے ایک نظر گاڑی میں موجود شخص کو دیکھا اور نظریں پھر سے گھڑی اور گھڑی سے سڑک پر چلتی پھرتی گاڑیوں پر ٹکا دیں۔ اسلام علیکم۔۔۔۔۔! الحان نے پاس آ کر آہستگی سے سلام کیا ہوں۔۔۔۔نبیہہ نے زبان کی بجائے سر استعمال کرتے ہوئے سلام کا جواب دیا کیسی ہو۔۔۔۔؟؟؟ یہ پوچھنے کے لیے گاڑی روکی ہے۔۔۔۔؟؟ وہ بھنویں اچکا کر اپنے مخصوص اکھڑ لہجے میں بولی نہیں وہ تم یہاں کیوں کھڑی ہو گاڑی کہاں ہے تمہاری۔۔۔۔؟؟

نہیں۔۔۔۔