No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
حال 👉👉
گھڑی رات کے ایک بجنے کا اعلان کر رہی تھی۔۔محتشم ابھی تک گھر نہیں آیا تھا۔
نبیہہ نے سجدے سے سر اٹھا کر وال کلاک کی طرف دیکھا اور اسکی ایک پر جاتی سوئیاں دیکھتی وہ پھر سے سجدے میں گر کر ہچکیوں سے رونے لگی۔
یا میرے مالک وہ جہاں کہیں بھی ہو خیریت سے ہو۔۔۔۔۔وہ شخص میرا سب کچھ ہے میرے مولا۔۔۔۔۔مجھے بہت عزیز ہے وہ۔۔۔۔اپنے محبوب محمد کے صدقے اس شخص کو سلامت رکھنا۔۔۔میں جانتی ہوں میرے مالک میں پیچھلے پانچ سال سے تیری ناشکری کرتی آ رہی ہوں۔۔۔۔میری ناشکری اور نافرمانیوں کو معاف فرما دے مجھے مزید کسی آزمائش میں مت ڈال میرے مالک میرے پاس محتشم کے علاوہ کوئی نہیں ہے مجھ سے وہ شخص مت چھیننا۔۔۔۔مجھے معاف فرما دے میری غلطیوں کو درگزر فرما میرے مالک۔۔۔۔۔تو نے مجھے اس دنیا کے بہترین انسان سے نوازا تھا اور میں ماضی کے غم کو سینے سے لگائے خود سمیت اس شخص کی دل آزاری کرتی رہی۔۔۔۔اسکی بیوی ہو کر بھی خود کو ماضی کے بھنور میں پھنسائے زندگی کے اتنے قیمتی سال ضائع کر دیے۔۔۔۔۔اگر مجھ سے کچھ لیا گیا تھا تو بدلے میں بہتر سے بہترین دیا بھی تو گیا تھا میں کیوں ناں سمجھ گئی پہلے۔۔۔۔اب اگر سمجھ گئی ہوں تو میرے مولا مجھ سے وہ شخص مت چھیننا جو میری زندگی کا سبب ہے۔۔۔۔میں اس سے محبت کرتی ہوں میرے مالک وہ میرا محرم ہے میرا ہمراز میرا شوہر۔۔۔میرا سب کچھ ہے وہ شخص پلیز اللہ جی وہ جہاں کہیں بھی ہو جلد سے جلد۔۔۔۔۔
اس پرسوز سی خاموشی میں فون کی بجتی گھنٹی نے نبیہہ کی دعا کے بیچ میں خلل ڈالا تھا۔۔
وہ سجدے سے اٹھ کر دوپٹے سے آنکھیں پونچھتی جلدی سے ٹیلی فون سیٹ کی طرف بڑھی تھی۔
ہیلو۔۔۔۔۔رسیور کان سے لگا کر کپکپاتی آواز میں ہیلو کہا۔
نبیہہ۔۔۔۔۔
دوسری طرف سے جانی پہچانی آواز سن کر نبیہہ کی جان میں جان آئی۔
جی۔۔۔جی معیز بھائی میں نبیہہ۔۔۔۔۔
نبیہہ میں نے ڈرائیور بھیجا ہے تم جلدی سے ہوسپٹل پہنچو۔۔۔
ہوسپٹل۔۔۔۔۔؟؟؟؟وہ ناسمجھی اور خوف سے بڑبڑائی۔
لفظ ہوسپٹل نے اسکی روح سمیت آدھی جان کھینچ لی تھی۔
ہاں ہوسپٹل۔۔۔۔۔
کک۔۔۔کون ہے وہاں۔۔۔۔۔؟؟
نبیہہ کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی دوسری طرف سے کال بند کر دی گئی تھی۔
نہیں۔۔۔۔۔محتشم۔۔۔۔۔وہ رسیور رکھتی وہیں زمین پر بیٹھتی گئی۔
محتشم آپ مجھے کبھی بھی نہیں چھوڑیں گے آپ نے وعدہ کیا تھا مجھ سے۔۔۔۔پھر کیوں۔۔۔۔نہیں محتشم میں نہیں رہ سکتی میں نہیں رہ سکتی آپ کے بغیر۔۔۔۔آپ کو خدا کا واسطہ ہے محتشم مجھے پھر سے ان ظالم لوگوں میں اکیلا مت چھوڑیے گا پلیز محتشم مجھے آپ کی ضرورت ہے میں نہیں رہ سکتی آپ کے بغیر۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔وہ نفی میں سر ہلاتی زمین پر ہی سجدے کی حالت میں جھکتی چلی گئی اور پھر سے اس دوجہاں کے والی اس مالک کائنات سے گڑگڑا کر اپنے لیے معافی اور محتشم کا تاعمر ساتھ مانگنے لگی۔
…………………………….….….…………………
الحان نے جب فٹ پاتھ کیساتھ گرے وجود کو سیدھا کیا تو وہ محتشم ابراہیم کے خون میں لت پت چہرے کو دیکھ کر شاکڈ تھا۔۔۔۔پھر جیسے ہی اسکے حواس ٹھکانے آئے تو وہ فورا محتشم کے زخمی وجود کو لیے ہوسپٹل پہنچا۔۔
اسکے پاس نبیہہ کا پانچ سال پرانا سیل نمبر تھا جسے اس نے ٹرائی کیا مگر وہ نمبر بند تھا ۔
شاید وہ نمبر بدل چکی ہے۔۔۔۔الحان نے بڑبڑاتے ہوئے عباسی ہاؤس کا نمبر ملایا۔
تیسری بیل پر کسی ملازمہ نے فون اٹھایا اور الحان کے پوچھنے پر پتہ چلا کہ راعنہ عباسی کچھ دن پہلے ہی اپنے بیٹوں سے ملنے امریکہ گئی ہے جو وہاں زیرتعلیم تھے۔۔۔۔سوچ کے گھوڑے دوڑاتے ہوئے الحان نے ملازمہ سے ہی ابراہیم ولا کا نمبر لیا اور کال ملا کر وہاں کے مکینوں کو محتشم کے ایکسیڈینٹ کا بتایا۔۔۔۔۔
محتشم ابراہیم کے گھر والوں کو مطلع کرنے کے بعد وہ وہاں سے چلے جانا چاہتا تھا۔۔۔اس طوفانی رات میں کوئی نہیں جان پایا تھا کہ یہ ایکسیڈینٹ کیسے ہوا مگر اس کا دل اسکے وہاں سے جانے پر راضی نہ تھا۔۔۔
کہیں نہ کہیں دل کے اندر بہت اندر گہرائی میں “اسے” ایک نظر دیکھنے کی خواہش موجود تھی۔
وہ جو کبھی جسم و جاں کا حصہ رہ چکی تھی۔۔۔۔جسے وہ اپنی زندگی میں آنے والی پہلی اور آخری لڑکی کہتا تھا۔۔۔۔
مگر وہ غلط تھا۔۔۔۔۔
جب ان کی خوشگوار زندگی میں گرم ہوا کے ٹھپیڑے چلے تو وہ اپنی زندگی میں آنے والی اس پہلی لڑکی کو اس گرم لو میں اکیلا کر گیا تھا۔۔۔وہ اسکی زندگی میں آنے والی پہلی لڑکی تو تھی مگر آخری نہیں۔۔۔۔۔خود ہی محبت کا دعوا کر کے خود ہی بےوفائی کر گیا تھا۔۔۔۔۔
کس قدر ظلم کیا تھا اس نے اس معصوم و بے گناہ لڑکی پر جسکی پوری زندگی برباد کر کے رکھ دی تھی اور آج اتنے سال بعد پھر سے الحان ملک نبیہہ عباسی کی زندگی برباد کرنے والا تھا کیا۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
یہ خوفناک سا سوال اپنے پھن پھلائے کھڑا تھا۔
…………………………………………………………
ماضی 👉👉
نبیہہ پہلے صرف ریزروڈ تھی مگر اب آدم بے زار ہوتی جا رہی تھی۔۔۔۔
اپنے کمرے میں سارا سارا دن بند ناجانے کیا کرتی کیا سوچتی رہتی تھی۔
راعنہ نے اسے اس فیز سے نکالنے کے لیے وہ سب کیا تھا جو وہ کر سکتی تھی مگر نبیہہ کی چپ نہیں ٹوٹی تھی۔۔۔۔
جب ہاشم عباسی کی میت کو گھر لایا گیا تھا تو وہ پتھر کی ہو چکی تھی اور اب پانچ ماہ گزر جانے کے بعد بھی وہ پتھر موم نہیں ہوا تھا۔۔۔
جہاں کہیں دو لوگ اسکے پاس آ کے بیٹھتے تو وہ فورا وہاں سے اٹھ کر چلی جاتی یوں جیسے وہ لوگ اچھوت ہوں یا پھر وہ خود۔۔۔۔
راعنہ بہت سے سائیکیٹریسٹ سے نبیہہ کے کیس کو ڈسکس کر چکی تھی مگر پراپر ٹریمینٹ کے لیے وہ اسے کسی بھی سائکاٹریسٹ کے پاس نہیں لے جا پائی تھی۔۔۔مگر ایک دو کو وہ گھر بلا چکی تھی پر ان سیٹنگز کا کوئی خاطر خواہ اثر نہیں پڑا تھا نبیہہ کی کنڈیشن پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جہاں اکثر ڈاکٹرز نے اسکی خاموشی کو اسکے لیے نقصان دہ قرار دیا تھا۔۔۔وہیں کچھ سائیکیٹرسٹس نے راعنہ کو نبیہہ کی دوسری شادی کا مشورہ دیا تھا۔۔۔۔
راعنہ خود کو کسی کٹہرے میں لٹکا ہوا محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔جہاں ماضی میں نبیہہ سے اسکی کوئی جزباتی وابستگی نہیں رہی تھی وہیں اب وہ اسے عزیز سی ہو گئی تھی۔۔۔۔
وہ بارہا نبیہہ کی دوبارہ شادی کرنے کے بارے میں سوچ چکی تھی مگر وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ وہ ایسا شخص کہاں سے ڈھونڈے جو قابل بھروسہ ہو جسکے حوالے وہ نبیہہ کے ٹوٹے بکھرے وجود کو کر سکے جو اپنا مان اور محبت دے کر اسے پرانی نبیہہ بنا دے۔۔۔جو بولتی تھی تو اپنے سامنے کھڑے بندے کی بولتی بند کروا دیا کرتی تھی۔۔۔۔اور اب اگر کوئی اسے دیکھتا تو کبھی یقین نہ کرتا کہ وہ اتنا بولتی بھی ہو گی کبھی۔۔۔۔۔
راعنہ ایک دو لوگوں سے کہہ چکی تھی مگر فلوقت کوئی ریسپانس نہیں ملا تھا اس سلسلے میں۔۔۔۔
آج ناجانے کتنے دن بعد وہ اپنے کمرے سے نکل کر ٹیرس پر آئی تھی۔
راعنہ لان میں تھی جب اس نے ٹیرس پر نبیہہ کو کھڑے پایا۔۔وہ فورا وہاں سے اٹھتی نبیہہ کے پاس چلی آئی۔۔۔
ہیلو پریٹی گرل کیسی ہو۔۔۔راعنہ نے چہرے پر مسکراہٹ سجاتے ہوئے خوشگواری سے پوچھا۔
نبیہہ بنا جواب دیے ناک کی سیدھ میں ناجانے کیا ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھی۔
راعنہ نے ایک نظر اسکے پتھریلے چہرے پر ڈالی اور پلٹ کر وہاں موجود کرسی پر بیٹھ گئی۔۔۔۔
وہ اکثر نبیہہ کے پاس بیٹھ کر بہت سی باتیں کرتی تھی مگر نبیہہ کی طرف سے کوئی بھی جواب نہ پا کر وہ دل برداشتہ نہیں ہوتی تھی بلکہ جب بھی وقت ملتا وہ تحمل سے یہ سب جاری رکھتی۔۔۔۔ اب بھی وہ ادھر أدھر کی باتیں کرتی نبیہہ کو بولنے پر اکسا رہی تھی مگر نبیہہ اسی طرح گرل کیساتھ لگی راعنہ کیطرف پشت کیے کھڑی دور خلا میں دیکھتی جا رہی تھی۔
چند ایک باتوں کے بعد راعنہ خاموش ہوئی تھی جب اسکا سیل بجا۔۔۔
کال اوکے کر کے چند منٹ بات کرنے کے بعد اس نے کال بند کر دی۔
نبیہہ ابھی بھی اسکی طرف پیٹھ کیے کھڑی تھی۔۔۔
محتشم کا فون تھا۔۔۔کہہ رہا تھا آج وہ ڈنر ہمارے ساتھ کرے گا کل لاہور سے آیا تھا۔۔۔
محتشم کے ذکر پر نبیہہ کے ساکت اور پتھریلے تاثرات میں ذرا سی دڑاڑ پڑی تھی۔
تمہیں پتہ ہے نبیہہ آج اسکی سالگرہ ہے اور آج وہ پورے اکتیس سال کا ہو گیا ہے ہم سب بارہا اسے شادی کا کہہ چکے ہیں پر محترم کو کوئی زمینی لڑکی پسند نہیں آتی پتہ نہیں کس آسمانی حور کے انتظار میں بڈھا ہو رہا ہے۔۔۔۔راعنہ نے بڑی بہنوں کے انداز میں غصے اور فکر کے ملے جلے تاثرات سے کہا۔
گرل پر نبیہہ کے ہاتھ کی گرفت ڈھیلی سے ڈھیلی پڑتی جا رہی تھی۔
آج پھر بات کر کے دیکھتی ہوں اس سے شاید مان جائے پر امید نہیں ہے مجھے اس سے کسی اچھے جواب کی۔۔۔
اچھا تم بیٹھ جاؤ کھڑے کھڑے تھک جاؤ گی میں ذرا کک کو محتشم کی پسندیدہ ڈشزز بنانے کا کہہ دوں۔۔۔۔۔نبیہہ کی مکمل خاموشی پر وہ مایوس سی اٹھ کر وہاں سے چلی آئی۔۔۔
محتشم۔۔۔۔محتشم ابراہیم۔۔۔۔۔!نبیہہ کے ساکت لبوں نے آج ناجانے کتنے دنوں بعد ہلکی سی جنبش کی تھی۔۔
تمہارے محتشم ابراہیم کیساتھ ناجائز تعقات تھے۔۔۔۔
تم ایک بدکردار لڑکی ہو۔۔۔۔
تم نے مجھے اور میری محبت کو دھوکا دیا۔۔۔۔
تم ایک بدکردار ماں کی بدکردار بیٹی ہو نبیہہ۔۔۔۔
تم بدکردار ہو۔۔۔۔۔
اسکے کانوں میں الحان ملک کے فقرات پورے قہر کیساتھ گونج رہے تھے جسکے جواب میں وہ پورا زور لگا کر بآواز بلند چلائی تھی۔
ہاں۔۔۔۔ں۔۔۔۔۔ں۔۔۔۔۔میں ہوں بدکردار۔۔۔۔۔۔۔
میں بدکردار ہوں الحان ملک۔۔۔۔۔تم نے صیح پہچانا مجھے میں بدکردار ہوں۔۔۔۔۔وہ بلند آواز سے چیختی ہوئی اپنے کمرے کی طرف بڑھتی جا رہی تھی۔
راعنہ سمیت تمام ملازمین نبیہہ کی آواز سن کر اوپر بھاگے تھے مگر ان سب کے نبیہہ تک پہنچنے سے پہلے ہی وہ اپنے کمرے کا دروازہ لاک کر چکی تھی۔۔
نبیہہ۔۔۔۔نبیہہ دروازہ کھولو کیا ہوا ہے نبیہہ دروازہ کھولو بیٹا۔۔۔۔راعنہ مسلسل دستک دیتی اسے پکار رہی تھی مگر نبیہہ عباسی نے دروازہ نہیں کھولنا تھا سو نہیں کھولا۔۔۔
چند منٹ بعد وہ تھک ہار کر واپس مڑ گئی۔
………………………………………….…….………
ڈائنگ ٹیبل پر محتشم ابراہیم کی پسند کی تمام ڈشزز موجود تھیں جنہیں دیکھ کر اسکی خوشی اور بھوک دونوں چمک اٹھی تھی۔
بہن ہو تو آپ سی ورنہ بے شک نہ ہی ہو۔۔۔۔۔وہ راعنہ کے ہاتھ کا بوسہ لیتا مکھن لگا رہا تھا۔
یوں تو خوب مکھن لگا لیتے ہو بہن کو مگر بات نہیں مانتے کوئی بھی۔۔۔۔
یہ الزام غلط ہے ساری باتیں تو مانتا ہوں آپکی۔۔۔۔وہ خفگی سے کہتا کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا۔
وہ والی بھی مان لو جو نہیں مان رہے اب تک۔۔۔۔۔راعنہ مان سے کہتی اسکے ساتھ والی چئیر پر بیٹھی۔
مان لوں گا وہ بھی وقت آنے پر۔۔۔فلحال
آج کے دن میرا موڈ خراب مت کریں۔
کیوں اتنا الرجک رہتے ہو لڑکیوں سے محتشم تمہاری ایج میں معیز بھائی اور معاذ ایک ایک بچوں کے باپ بن چکے تھے۔۔
آپکو فکر کس چیز کی ہے میری شادی نہ ہونے کی یا پھر ابھی تک باپ نہ بننے
کی۔۔۔۔وہ سلاد کی پلیٹ سے کھیرے کا کتلا منہ میں رکھ کر بدمزا سا بولا۔
شادی کرو گے تو ہی باپ بنو گے۔۔۔۔۔راعنہ چڑ کر بولی۔
آجکل سب کچھ ممکن ہے ڈئیر سس۔۔۔وہ آنکھ دبا کر کہتا راعنہ کو تپا گیا۔
انتہائی فضول انسان ہو۔۔تم سے بات کرنا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے۔۔۔
ایگزیٹلی۔۔۔۔اور آپ کا وقت بہت قیمتی ہے میں جانتا ہوں اس لیے چھوڑیں اس ٹاپک کو اور اچھے میزبانوں کی طرح کھانا سرو کریں۔۔۔۔
آپکی بچہ پارٹی کدھر ہے۔۔۔۔؟
بڑی جلدی خیال آ گیا میری بچہ پارٹی کا۔۔۔راعنہ نے دانت پیس کر اسے بریانی کی ڈش پاس کی۔
آ تو گیا مگر آپکے بے مروت بچوں کو خیال نہیں آیا کہ ان کا کوئی رشتےدار آیا بیٹھا ہے۔۔۔۔
موسی اور ہارون اپنے کالج ٹرپ کیساتھ مری گئے ہیں بہت مشکلوں سے راضی کر کے بھیجا ہے دونوں کو۔۔۔ہاشم کے بعد بہت ریزروڈ ہو گئے ہیں دونوں۔۔۔راعنہ اداس سی بولی۔
آپ فکر مت کریں وقت کیساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا جب امی گئی تھیں تو ہم سب تو موسی اور ہارون سے بھی زیادہ چھوٹے تھے اور پھر ابو بھی بیچ راہ میں چھوڑ گئے تھے ہمیں۔۔۔صبر آ ہی گیا تھا وقت کیساتھ ان دونوں کو بھی آ جائے گا۔۔۔۔۔وہ یاسیت سے کہتا پلیٹ میں چمچ گھما رہا تھا۔
راعنہ نے ایک نظر محتشم کے اداس چہرے کو دیکھا اور فورا سے اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجا کر اسے باتوں میں لگا کر کھانا سرو کرنے لگی وہ آج کے اہم دن اپنے لاڈلے بھائی کو ہر گز اداس کرنا نہیں چاہتی تھی۔
…………………………………….….….…………
نبیہہ سے علیحدگی کے بعد ملک سلطان نے زور زبردستی کر کے الحان ملک کو لندن بھیجا تھا ثمر کے پاس تاکہ وہ اس تکلیف دہ فیز سے باہر آ جائے جو تکلیف نبیہہ کے جانے کے بعد الحان ملک کے چہرے کا مستقل حصہ بن چکی تھی۔۔۔
ایک ہی دن میں نبیہہ عباسی پر دو قیامتیں ٹوٹی تھیں ایک الحان ملک نے اسے طلاق یافتہ کر دیا تھا اور دوسرا قدرت نے اسے یتیم۔۔۔۔۔وہ سوچ سوچ کر پاگل ہوتا جا رہا تھا وہ پچھتا ہر گز نہیں رہا تھا مگر نبیہہ کے لیے ہمدردی اور افسوس ضرور محسوس کر رہا تھا۔۔۔
انہی حالات کو دیکھتے ہوئے ملک صاحب نے اس لندن بھیجوا دیا تھا۔۔۔
ثمر کی نند ابیرہ جبران کو جب الحان کی سیپریشن اوراسکے ثمر کے پاس جانے کا پتہ چلا تھا تو وہ بھی فورا لندن پہنچ گئی تھی اپنے بھائی اور بھابھی کے گھر۔۔۔۔۔
جہاں وہ بہت خوش تھی الحان کی سیپریشن سے وہیں الحان کی اجڑی حالت دیکھ کر دل مسوس کر رہ گئی تھی۔
مگر وہ دل میں عہد کر چکی تھی الحان ملک کو واپس زندگی کی طرف لانے کی اور پھر اسکی زندگی میں شامل ہونے کی۔۔۔۔اس مقصد کی شروعات اس نے الحان ملک کو کمپنی دینے سے شروع کی تھی اور پھر ثمر کے تھرو وہ الحان کی پسند ناپسند سے آگاہ ہوتی بہت آگے بڑھتی گئی تھی۔۔۔جہاں الحان ابیرہ جبران کی طرف سے ان التفات پر حیران و پریشان تھا وہیں ثمر ابیرہ کا الحان میں انٹرسٹ دیکھ کر بہت کچھ سمجھ چکی تھی نہ صرف سمجھی تھی بلکہ اس پر عملدرآمد کا بھی سوچ چکی تھی مگر ابھی نہیں کچھ وقت گزر جانے کے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !!
………………………………………………………
ڈنر کے بعد راعنہ اور محتشم لاؤنج میں بیٹھے کافی پی رہے تھے جب راعنہ نے اس سے ملک سلطان سے ہوئی ملاقات کے بارے میں پوچھا۔۔
میں نے منع کیا تھا محتشم تم ان لوگوں سے کسی بھی سلسلے میں نہیں ملو گے تو پھر کل کیوں گئے تم انکی طرف۔۔۔۔
تم جانتے تو ہو وہ لوگ کس قدر چیپ ثابت ہوئے ہیں پھر بھی تم۔۔۔۔
میرے بہت سے حساب نکلتے ہیں انکی طرف اسی سے آگاہ کرنے گیا تھا انہیں۔۔۔۔۔محتشم لاپرواہی سے کہتا کافی کا سپ لینے لگا۔
کونسے حساب۔۔۔۔۔؟؟؟راعنہ نے سوالیہ بھنویں اٹھائیں۔
ابھی نہیں پہلے ان حسابوں کو بےباک کر لوں اسکے بعد بتاؤں گا۔۔۔۔۔
پلیز محتشم وہ کرپٹ لوگ ہیں ان کیساتھ نبیہہ والے معاملے میں مت الجھنا جو ہو چکا وہ غلط تھا مگر اب انکی طرف سے اس سب کا کچھ مداوا نہیں ہو سکتا۔
مداوا ادا نہیں ہو سکتا تو کیا ہوا کفارہ تو ادا ہو سکتا ہے ناں۔۔۔۔۔
کیا مطلب۔۔۔۔؟؟
مطلب پھر کبھی سمجھاؤں گا فلوقت مجھے اجازت دیں کافی ٹائم ہو گیا ہے۔۔۔وہ گھڑی دیکھتا اٹھ کھڑا ہوا۔
آج رک جاؤ یہیں۔۔۔
مجھے کچھ ضروری میلز کرنی ہیں اور لیپ ٹاپ گھر ہے اس لیے رکنے کے لیے معذرت۔۔۔۔وہ ہاتھ اٹھا کر کہتا راعنہ کی طرف آیا۔
میں چلتا ہوں آپ اپنا خیال رکھیئے گا۔۔۔۔اس نے پیار سے بہن کو ساتھ لگا کر کہا اور جھک کر اسکے ہاتھوں کا بوسہ لیا۔
اسے اپنی بہن بہت عزیز تھی جو اسکی بہن کے علاوہ ماں بھی تھی جس نے ماں کے جانے کے بعد اپنے چھوٹے بھائیوں معاذ اور محتشم کا بلکل ایک ماں کی طرح خیال رکھا تھا حالانکہ وہ خود کچھ خاص بڑی نہیں تھی ان سے پر پھر بھی وہ انکی ماں جیسی تھی۔۔کہتے ہیں بڑی بہن ماں سی ہوتی ہے اسی لحاظ سے محتشم اپنی ماں سی بہن سے بہت محبت کرتا تھا۔
خوش رہو ہمیشہ۔۔۔۔راعنہ نے مسکراتے ہوئے اسکے بال بکھیر کر دعا دی ۔
خوش رکھنے والی آئے گی تو خوش رہوں گا ناں۔۔۔۔وہ شرارت سے بولا
تو منع کون کر رہا ہے لانے کو لے آؤ خوش رکھنے والی کو ہم تو منتظر ہیں۔۔۔راعنہ فٹ سے بولی
منتظر ہی رہئیے گا فلحال میرا کوئی ارادہ نہیں ہے کسی کی بہن بیٹی بھگانے کا۔۔۔
بہت بدتمیز ہو تم۔۔۔۔محتشم کی بات پر راعنہ نے مسکراتے ہوئے اسکے کندھے پر مکا جڑا۔
بیگم صاحبہ ہارون بابا کا فون ہے وہ آپ سے بات کرنے کا کہہ رہے ہیں۔۔۔ملازمہ نے آ کر اطلاع دی۔
ہاں میں کرتی ہوں اسے فون۔۔۔
آپ جا کر بات کریں میں چلتا ہوں میری طرف سے پیار دیجئیے گا دونوں کو۔۔۔
ہوں۔۔۔۔راعنہ نے مسکرا کر سر ہلایا
محتشم خدا حافظ کہتا ایک بےقرار سی نظر سیڑھیوں کے آخری زینے کو دیکھتا باہر دروازے کیطرف بڑھ گیا۔
وہ زینہ جہاں وہ پری زاد اسے اپنا قیدی بنا گئی تھی۔۔۔
راعنہ محتشم کے اوجھل ہوتے ہی فون اسٹینڈ کیطرف بڑھ گئی۔
…………………………………………..….….….…
محتشم ابراہیم۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
وہ گاڑی کا لاک کھول رہا تھا جب اپنے نام کی پکار پر وہ اپنے ہاتھ سمیت خود بھی ساکت ہو گیا تھا۔
آج اتنے عرصے بعد اسے یہ آواز سنائی دی تھی جس آواز پر وہ نہ رکنا چاہتا تھا اور نہ پلٹنا مگر پھر بھی وہ اس پکار پر ہر بار رکتا بھی تھا اور پلٹتا بھی تھا۔۔۔۔
محتشم ٹرانس کی کیفیت میں آواز کی سمت پلٹا تھا اور اپنے سامنے اسی پری زاد کو اجڑی ،الجھی حالت میں دیکھ کر
اندر تک ہرٹ ہوا تھا۔
مانا کہ وہ کبھی بھی بہت بن سنور کر نہیں رہتی تھی مگر کبھی اسطرح بکھری بھی تو نہیں تھی۔۔۔۔
وہ بنا کچھ بولے اپنی دید کی پیاس بجھا رہا تھا جب نبیہہ دو قدم مزید آگے ہوئی۔
میں۔۔۔۔میں نبیہہ عباسی۔۔۔۔۔۔نبیہہ نے اٹکتے ہوئے محتشم کی نظروں میں حیرانی دیکھ کر اپنا تعارف کروایا۔
محتشم نے خود کو سنبھالتے ہوئے جلدی سے ہاں میں سر ہلایا
کیسی ہیں آپ۔۔۔۔۔؟؟؟
پتہ نہیں۔۔۔۔
اسکے جواب میں چھپی تکلیف محتشم کو اپنے دل میں اترتی محسوس ہوئی تھی۔
مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے محتشم ابراہیم۔۔۔۔۔وہ اپنے مخصوص انداز میں محتشم کو محتشم ابراہیم کہہ کر بولی تھی مگر لہجے میں اب پہلے سی کھنک اور روب مفقود تھا۔
جی کریں میں سن رہا ہوں۔۔۔۔
مجھ سے شادی کریں گے۔۔۔۔۔۔۔؟؟
نبیہہ نے بنا کوئی تمہید باندھے سیدھے سے بات کہہ دی تھی۔
محتشم کی جھکی نظریں ایک دم سے اٹھی تھیں۔
محتشم کی نظروں میں حیرت دیکھ کر وہ دو قدم مزید پاس آئی تھی۔
میں آپ کی “ہاں” یا “ناں” کی منتظر رہوں گی۔۔۔۔وہ بےخوفی سے کہتی واپس اندرونی دروازے کیطرف بڑھ گئی۔
محتشم بت بنا اسکے فقرے کے حصار میں ڈوبا کھڑا تھا جب اسکے سیل کی بجتی ٹون نے اسے ہوش میں لا ٹپخا۔
ناسمجھی سے کال ڈسکنیکٹ کر کے وہ گاڑی میں بیٹھا اور عباسی ہاؤس سے نکلتا چلا گیا تھا۔
………………………………………..………………
وہ نبیہہ عباسی تھی سنبل عباسی نہیں جو خود پر لگے بدکرداری کے دھبے کو جھوٹا ثابت نہیں کر پائی تھی اور موت کو گلے لگا کر اس الزام کو سچ ثابت کر گئی تھی۔
وہ نبیہہ عباسی تھی سنبل عباسی کی بیٹی جسے اپنی ماں کی طرح خود پر لگے بدکرداری کے جھوٹے الزام کو جھوٹ ثابت نہیں کرنا تھا بلکہ اس الزام کو سچ ثابت کرنا تھا مگر اس کے لیے اس نے سنبل عباسی کی طرح موت کو گلے نہیں لگانا تھا بلکہ زندہ رہ کر اسی شخص سے شادی کر کے سچ ثابت کرنا تھا جسکے ساتھ اسکے پاک وجود کو نتھی کیا گیا تھا۔۔۔
کچھ فیصلے مشکل ضرور ہوتے ہیں لیکن کرنے پڑتے ہیں اپنے آپکو ایک دفعہ توڑ کر جوڑ لیں پھر پل پل مرنا نہیں پڑتا سکون سا اندر بس جاتا ہے یہ سوچ کر کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔
وہ بھی سوچ کر بہت سوچ کر فیصلہ کر چکی تھی اور یہی اس کا انتقام تھا الحان ملک سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
……………………………………………………….
