No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
الحان ملک اپنے کمرے میں بیٹھا لیپ ٹاپ پر بزی تھا۔۔۔جبکہ نبیہہ کچھ فاصلے پر عصر کی نماز پڑھی رہی تھی چونکہ آج سنڈے تھا اس لیے وہ گھر پر ہی تھا۔
تھوڑی تھوڑی دیر بعد وہ ایک خونخوار نظر نبیہہ کی پشت پر بھی ڈال لیتا۔
اونہہ۔۔۔۔جھوٹی عورت نمازیں سجدے یوں ادا کر رہی جیسے بہت نیک پروین ہو۔۔۔۔۔مجھے اس معاملے کو لے کر کوئی فیصلہ کر لینا چاہیے میں بلکل بھی اب اس چیٹر عورت کے ساتھ نہیں رہ سکتا ہوں۔۔۔۔۔۔
پر تم تو اس عورت سے محبت کا دعوا کرتے تھے ناں۔۔۔۔۔؟؟؟ اسکے اندر سے سرگوشی ابھری تھی۔
میری محبت کو ہی تو یہ رسوا کرتی پھر رہی ہے اور میں اتنا بے غیرت نہیں کہ۔۔۔۔اسکے سیل کی بجتی ٹون نے اسکی سوچوں پر بندھ باندھا۔
اسنے سر جھٹک کر سیل اٹھایا۔
ڈیڈ کالنگ لکھا دیکھ کر کال اوکے کی
جی ڈیڈ۔۔۔۔
کہاں ہو۔۔۔۔۔؟؟؟
کمرے میں۔۔۔۔
فورا میری اسٹڈی میں آؤ۔۔
خیریت۔۔۔؟؟؟
بلکل نہیں۔۔۔۔جلدی آؤ پھر بات ہوتی ہے۔۔۔۔ملک سلطان نے عجلت میں کہہ کر کال کاٹ دی۔
الحان فکر مند سا لیپ ٹاپ بند کر کے کمرے سے نکل کر ڈیڈ کے اسٹڈی کی طرف چل پڑا۔
جی ڈیڈ کیا ہوا۔۔۔۔۔وہ پریشان سا کھڑا پوچھ رہا تھا۔
میں نے تم سے پہلے بھی کہا تھا اس لڑکی پر نظر رکھو ۔کیا تمہاری غیرت بلکل مر چکی ہے جو تمہاری بیوی غیرمردوں کیساتھ رنگ رلیاں مناتی پھر رہی ہے۔۔میں مانتا ہوں ہم لبرل سوسائٹی سے بیلانگ کرتے ہیں مگر تم اتنے لبرل کب سے ہو گئے کہ بیوی بھی شئیر کرنے لگے۔۔۔
واٹ دا ہیل ڈیڈ۔۔۔کیا کہہ رہے ہیں آپ یہ۔۔۔۔وہ ملک سلطان کی بات پر پوری طاقت سے چلایا۔
ٹھیک کہہ رہا ہوں مں۔۔۔۔تم شاید بے غیرت ہو چکے ہو مگر میں نہیں ہوا اسلیئے اس شاطر لڑکی پر نظر رکھے ہوئے ہوں۔۔۔وہ دیکھو اپنی لاڈلی بیوی کا کارنامہ۔۔۔مں تمہیں اسکی ماں کے بارے میں باور کروا چکا تھا۔اور دیکھو اس نے ثابت کر ہی دیا کہ وہ بدکردار ماں کی بدکردار بیٹی ہے۔۔
باپ کی بات پر وہ چیل کی تیزی سے ٹیبل پر پڑے خاکی لفافے کی طرف جھپٹا۔
الحان نے کانپتے ہاتھوں سے لفافہ کھولا اور اس میں سے نکلتی تصویروں کو دیکھ کر اسکی آنکھیں چندھیا گئیں تھیں۔
شک کے بیج کی جڑیں پھیل کر ایک تناور درخت بن چکیں تھیں جنہوں نے اسکے دل ،دماغ اور آنکھوں کو مکمل طور پر اپنے قابو میں کر لیا تھا۔
یہ۔۔۔۔۔وہ کپکپاتی آواز سے بولا
یہ جھوٹ نہیں ہے الحان۔۔۔۔ملک سلطان جلدی سے اسکی بات کاٹ کر اس تک آئے
میں جانتا ہوں تم اس سے بہت محبت کرتے ہو تمہاری زندگی میں آنے والی وہ پہلی لڑکی ہے پر اس کا مطلب یہ نہیں کے ہم اس کے اعمال پر آنکھیں بند کر لیں۔۔۔وہ ایک کریکٹر لیس لڑکی ہے الحان کیا تم ایسی عورت کیساتھ مزید گزارا کر سکتے ہو۔۔۔۔ملک سلطان مدھم انداز سے شہد میں ڈبو کر زہر اگل رہے تھے۔
الحان نے باپ کو دیکھا۔۔۔
نہیں۔۔۔۔اسکے بھینچے ہونٹوں سے ہلکی سرگوشی ابھری۔
ہوں۔۔۔۔پر جو بھی فیصلہ کرنا سوچ سمجھ کرنا۔
میں فیصلہ کر چکا ہوں ڈیڈ میں اس عورت کو چھوڑوں گا نہیں اس نے مجھے دھوکہ دیا میری محبت کا مذاق بنایا ہے اس نے میں نہیں چھوڑوں گا اسے۔۔۔۔وہ آستین سے گالوں پر بکھرے آنسو پونچھتا تصویریں اٹھا کر دروازے کی جانب بڑھا۔
الحان۔۔۔بیٹا رکو۔۔۔یہ تصویریں کہاں لے جا رہے ہو۔۔۔ملک سلطان جلدی سے اسکے سامنے آئے۔
اس گندی عورت کے سامنے اسکی اصلیت دکھانے۔۔
جو بھی ہے پر فلحال وہ ہماری عزت ہے۔۔۔۔ملک سلطان مدبرانہ انداز سے بولے
اب نہیں رہے گی وہ ہماری عزت میں ابھی اسے اس گھر سمیت اپنی زندگی سے بےدخل کر دوں گا۔۔۔
یہی الفاظ تو ملک صاحب سننا چاہتے تھے۔۔۔۔وہ بظاہر پریشان اور اندر سے مطمعین ہوتے سائیڈ پر ہو گئے۔
میں تمہارے ساتھ ہوں۔۔۔۔انہوں نے الحان کے کندھے پر تھپکی دے کر حوصلہ دیا۔
الحان ایک نظر ان پر ڈال کر اسٹڈی سے نکل گیا۔
ملک سلطان نے اسٹڈی کے بند دروازے پر نظر ڈالی اور بلند آواز سے مکروہ قہقہہ لگایا۔
کس قدر گندی سوچ اور ذہنیت کے مالک تھے وہ۔۔۔ان کی آنکھوں میں شکاریوں سی فتح نظر آ رہی تھی اس وقت وہ انسان نہیں بلکہ وہ سانپ لگ رہے تھے جو اپنی اولاد کو اپنے ہی زہر سے ڈس لیتا ہے اور وہ ڈس چکے تھے بہت بھیانک انداز سے۔۔۔۔۔۔۔!!
……………………………………………………….
الحان وہ تصویریں ہاتھ میں لیے بہت جارحانہ انداز سے کمرے میں داخل ہوا تھا۔اس افتاد پر نبیہہ نے مڑ کر دیکھا اور الحان کو سرخ آنکھوں سمیت خود کو دیکھتے پا کر وہ حیران ہوئی۔
الحان ایک ہی جست میں اسکے سامنے تھا۔
تم محتشم ابراہیم کو پرسنلی نہیں جانتی ہو ناں۔۔۔۔۔
نبیہہ اسکے بھیانک تاثرات دیکھ کر ناچاہتے ہوئے بھی ہاں میں سر ہلا گئی۔
تم اس سے کبھی کبھار ہی ملتی تھی ناں کس فنکشن یا فیملی گیڈرنگ میں۔۔۔۔؟؟؟
ہاں۔۔۔۔نبیہہ نے پھر سے ہاں میں سر ہلایا۔
آخری بار کس فنکشن یا گیڈرنگ میں تم اس سے ملی تھی۔۔۔۔؟؟؟
ہوا کیا ہے۔۔۔۔۔؟؟؟وہ حیران ہوئی اس تفتیش سے۔۔۔
جو پوچھا ہے اس کا جواب دو۔۔۔۔
نبیہہ کے اردگرد خطرے کے الارم بج چکے تھے کہیں کچھ غلط ہے پر کیا یہ وہ نہیں جانتی تھی۔۔۔
کب ملی تھی میں۔۔۔۔وہ دل میں بڑبڑائی
اسکا دل اسے سچ بولنے پر اکسا رہا تھا جبکہ دماغ خطرہ بھانپتے ہوئے بھی اسے جھوٹ بولنے کا کہہ رہا تھا۔
الحان خاموشی سے اپنی لال انگارہ آنکھیں اسکے چہرے پر فوکس کیے اسکے تاثرات جانچ رہا تھا۔
نبیہہ کہ اندر لگی دل اور دماغ کی جنگ میں دماغ کی فتح ہوئی اور وہ ہونٹوں کو تر کرتی بولی۔
کچھ ماہ پہلے اپنی شادی میں۔۔۔۔۔!
چٹاخ۔۔۔خ۔۔۔خ۔۔۔۔خ۔۔۔۔الحان کے بھاری ہاتھ کا تھپڑ اسکے چودہ طبق روشن کر چکا تھا۔وہ گال پر ہاتھ رکھے بےیقینی سے الحان کی سرخ آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔
الحان ملک اسے تھپڑ بھی مار سکتا ہے وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔۔۔۔آنسو ایک تسلسل میں اسکے گالوں پر بکھر رہے تھے۔
کیا تم چار دن پہلے اس محتشم ابراہیم کیساتھ لنچ کر کے نہیں آئی ہو۔۔۔؟؟؟وہ دانت رگڑتا طنزیہ بولا
الحان کی بات پر اب کے دوسرا جھٹکا نبیہہ کو پڑا۔۔
ہاں۔۔۔۔اسنے فورا اثبات میں سر ہلایا۔
تو پھر مجھ سے جھوٹ کیوں بولا تم نے کہ تم لنچ اپنی کسی کولیگ کیساتھ کرو گی۔۔۔۔
الحان میں تمہیں۔۔۔۔
چپ رہو تم۔۔۔۔بلکل چپ۔۔۔الحان نے اسکے منہ کو اپنے ہاتھ میں بہت بری طرح سے جکڑا۔۔۔میں تمہیں بتاتا ہوں تمہاری اصلیت کیا ہے۔۔
تمہارا افئیر تھا اسکے ساتھ شادی سے پہلے بھی اور شادی کے بعد اب بھی۔۔۔
نن۔۔۔نہیں یہ۔۔۔یہ جھوٹ ہے۔۔۔نبیہہ اپنے دونوں ہاتھوں کی مدد سے الحان کے شکنجے سے آزاد ہو کر چیخی۔
یہ سچ ہے نبیہہ عباسی کہ تمہارا نہ صرف افئیر ہے بلکہ اس کے علاوہ تم۔۔۔وہ رکا
نبیہہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے الحان کو دیکھ اور سن رہی تھی۔
تمہارے اور اسکے ناجائز تعلقات بھی ہیں ناجانے کب سے اور میں الو کا پٹھا ایک یوز لیس ،چیٹڑ اور کریکٹر لیس لڑکی کیساتھ پیچھلے چھ ماہ سے رہ رہا ہوں۔
الحان کی بات پر نبیہہ بلکل ساکت ہو چکی تھی۔۔۔۔اس سمیت اسکی آنکھوں سے نکلتا آنسؤں کا ریلا بھی ساکت ہو چکا تھا۔۔۔وہ منہ کھولے الحان کو اسکی سوچ سمیت سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔
چند منٹ بعد اسکے ساکت وجود میں حرکت ہوئی اور اس نے آستین سے آنکھیں رگڑیں۔
تم مجھ پر شک کر رہے ہو۔۔۔۔وہ بمشکل بڑبڑائی۔
نہیں شک نہںیں مجھے یقین ہے تم پر کہ تم ایسا کر سکتی ہو۔۔۔وہ ٹھوس لہجے میں بولا
کیا پروف ہے تمہارے پاس۔۔۔۔؟
اونہہ۔۔چوری اور سینہ زوری۔۔۔وہ استہزائیہ ہنسا اور ہاتھ میں پکڑا پیکٹ پوری طاقت سے اسکے منہ پر دے مارا۔
یہ ہے پروف تمہاری بدکرداری کا۔۔۔۔!
پیکٹ نبیہہ کے منہ سے ٹکرا کر زمین بوس ہو چکا تھا جس سے تصویریں نکل کر ادھر أدھر پھیل چکیں تھیں۔
نبیہہ نے جھک کر ان دو ایک تصویروں کو دیکھا اور آنکھیں سختی سے میچ لیں۔۔کیا انسانیت اتنا بھی گر سکتی ہے۔۔۔۔وہ بند آنکھوں سے سوچ رہی تھی۔
کیا ہوا۔۔۔۔بہت زور سے دھچکا لگا خود کی اصلیت بے نقاب ہونے پر غلیظ عورت۔۔۔۔
میں غلیظ نہیں ہوں۔۔۔۔وہ تڑپ کر الحان کے سامنے آئی۔
بلکل تم تو ستی ساوتری ہو جو روز دودھ سے نہاتی ہے ہیے ناں۔۔۔۔وہ استہزایہ ہنسا
یہ سب جھوٹ ہے الحان۔۔۔۔وہ تحمل سے بولی۔
یہ سب سچ ہے مگر میری سوچ سے بھی بڑا۔۔۔۔
میں تمہیں اتنا گرا ہوا نہیں سمجھتا تھا نبیہہ۔۔۔۔میں نے تم سے محبت کی تھی اور تم نے مجھے ، میری محبت کو چیٹ کیا دھوکہ دیا مجھے کیا کمی ہے مجھ میں اور کیا اچھائی ہے اس میں جسکی خاطر تم اس حد تک گر گئی۔۔۔۔صرف شکلوں کا ڈیفرینس ہے باقی سب تو میرے پاس بھی وہی تھا۔۔۔۔۔
نبیہہ اسکی بات کی گہرائی کو سمجھتی دو قدم پیچھے ہٹی تھی۔۔۔۔انسانیت واقعی گر سکتی ہے اسے یقین آ چکا تھا۔
الحان وہ سب اپنی زبان سے مت نکالو کہ بعد میں تمہیں اپنے لفظوں پر پچھتاوا ہو۔
پچھتاوا تو ہو رہا ہے مجھے تم جیسی گری ہوئی لڑکی سے محبت کرنے کا۔۔۔۔ اسے باعزت طریقے سے اپنی زندگی میں شامل کرنے کا۔۔۔۔اگر میں پہلے جان جاتا کہ تم یوں بنا کسی جائز رشتے کہ یہ سب کر سکتی ہو تو میں تم سے شادی کا کھڑاک ہی نہ ڈالتا۔۔۔وہ زمین پر تھوک کر بولا تھا۔
تم مجھ سے محبت کرتے تھے الحان اور سچی اور معتبر محبت جسم سے نہیں روح سے کی جاتی ہے۔۔۔۔وہ دکھ سے بولی۔
مجھے تم سے محبت تھی جو میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی مگر اب مجھے تم سے محبت نہیں ہے کیونکہ اب میری زندگی میں تمہاری کوئی جگہ نہیں رہی۔۔۔۔وہ نفرت سے بولا
یوں کہو کہ جی بھر گیا ہے مجھ سے اسلیے زندگی سے نکالنا چاہتے ہو۔۔نکال دو میں تم سے بھیک نہیں مانگوں گی مگر میں تمہیں اس بات کی اجازت بھی نہیں دوں گی کہ تم اتنے رکیک الزامات لگا کر مجھے اپنی زندگی سے بے دخل کرو۔۔۔۔
یہ رکیک الزامات سچ ہیں۔۔۔۔یو نو واٹ میں ہی عقل کا اندھا تھا جو آنکھیں بند کیے تم پر ٹرسٹ کرتا رہا ورنہ ڈیڈ نے ٹھیک ہی کہا تھا تم جس ماں کی بیٹی ہو تم سے ایسی ہی امید کی جا سکتی تھی۔
میری ماں کو بیچ میں مت لاؤ الحان۔۔۔۔۔کیونکہ یہ سب جھوٹ ہے کوئی مجھ پر الزام لگا رہا ہے میں محتشم ابراہیم سے کانٹیکٹ میں ہوں مگر اس طرح کا نہیں جسطرح کا ان تصویروں میں دکھایا گیا ہے۔
میں نے جتنا بیوقوف بننا تھا بن لیا اور تم نے جتنا گرنا تھا گر لیا اب نہ تو مجھے تم پر یقین رہا ہے اور نہ ہی میں تم پر کبھی یقین کر سکوں گا۔
اعتبار اور عزت اگر ایک بار اڑ جائے تو کبھی واپس نہیں آتے نبیہہ عباسی اور تم۔۔۔۔تم اپنا اعتبار کھونے کیساتھ اپنی عزت بھی۔۔۔۔۔اس نے رک کر نبیہہ کے اجڑے چہرے پر نفرت زدہ نظر ڈالی۔
اونہہ۔۔ایک بدکردار ماں کی بیٹی بدکردار ہی ہو سکتی ہے میں مان چکا ہوں۔۔۔لہذا میں الحان ملک تمہیں طلاق دیتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔!
الحان پچھتاوے کا ناگ جب ڈستا ہے تو بہت تکلیف ہوتی ہے اور میں نہیں چاہتی تم اس تکلیف سے گزرو۔۔۔۔وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتی بولی تھی لہجے میں نہ التجا تھی اور نہ حکم بس سرسری سا لہجہ تھا کہنے کا۔۔۔
میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔۔۔۔۔!
الحان میں ملک سلطان کے کیس سے متعلق محتشم ابراہیم سے ملی تھی۔۔۔۔وہ پھر سے عام سے لہجے میں بولی۔
میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔۔۔۔۔!
اگر تم میں مزید ذرا سی بھی شرم و حیا باقی ہے تو اپنی جھوٹی صفائیاں دینے کی بجائے یہاں سے چلی جاؤ۔۔۔۔۔۔۔الحان تین دفع طلاق جیسا منحوس لفظ اپنے منہ سے نکال کر چیخا تھا۔
صفائیاں وہاں دی جاتیں ہیں جہاں رشتے میں محبت اور عزت ہو الحان ملک۔۔۔
جبکہ تم اپنی زبان سے کہہ چکے ہو تم نے میری ذات سے نہیں میرے جسم سے محبت کی تھی جو محبت نہیں ہوس تھی اور عزت۔۔۔۔۔۔۔وہ رکی
اور مجھ پر پڑی عزت کی چادر بھی بہت بھیانک طریقے سے کھینچی ہے تم نے۔۔۔۔وہ سپاٹ انداز سے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ رہی تھی۔
ہمارا رشتہ ختم ہو چکا مسٹر ملک پھر کیسی صفائی اور کیسی وضاحت۔۔۔۔؟؟؟؟؟ وہ استہزائیہ انداز سے ہنسی۔
میں جا رہی ہوں کبھی واپس نہ آنے کے لیے۔۔۔۔میں نہ تو تمہیں برا بھلا کہوں گی اور نہ ہی تمہیں کوئی بد دعا دوں گی الحان ملک کیونکہ میں جانتی ہوں جب تم اپنی اس جھوٹی اور متکبر غیرت کے خول سے باہر نکلو گے تو تب تمہارے پاس پچھتاوے ہوں گے صرف پچھتاوے۔۔۔۔۔۔۔۔!!
تب تمہیں کردار اور بدکرداری کی سمجھ آ جائے گی۔۔۔۔اور پھر تمہارے پچھتاوے ہوں گے اور قدرت کا انتقام ہو گا۔۔۔وہ سردوسپاٹ لہجے میں کہہ کر اپنا موبائل اٹھا کر کسی طرف بھی دیکھے بنا کمرے سے نکل گئی۔۔
ایک موبائل کے علاوہ وہ ملک ہاؤس سے کچھ بھی نہیں لے کر گئی تھی کیونکہ اب اسے کسی چیز کی ضرورت نہیں رہی تھی۔۔
اسکی جگہ کوئی اور عورت ہوتی تو وہ روتی گڑگڑاتی اپنے رشتے کو بچانے کے لیے اپنی پاکی کی قسمیں کھاتی۔۔۔۔
مگر وہ نبیہہ عباسی تھی وہ نبیہہ عباسی جس نے اپنے رب کے سوا کسی کے آگے جھکنا اور گڑگڑانا نہیں سیکھا تھا۔۔۔۔۔۔۔اور جھکتی بھی کیوں نہ تو وہ غلط تھی اور نہ ہی بدکردار ہاں البتہ اس نے جھوٹ ضرور بولا تھا مگر صرف اپنے ، الحان کے اور ملک سلطان کے رشتے کی خاطر۔۔۔۔۔۔۔مگر وہ جھوٹ اتنا بھی بڑا نہیں تھا کہ اسکی اتنی بھیانک سزا ملتی اسے۔۔۔۔۔۔پر مقدر اور قسمت کے فیصلے کے سامنے کون ڈٹ سکتا ہے۔۔۔اس لیے وہ بھی اسے اپنی قسمت کا فیصلہ اور اپنے نصیب میں لکھی آزمائش سمجھ کر ملک ہاؤس سے ہمیشہ کے لیے جا چکی تھی۔۔
الحان ملک کی سنگت میں شروع ہوا یہ خوشگوار سفر اپنی محتصر سی مدت پوری کر کے بہت تکلیف دہ موڑ پر اختتام پذیر ہو چکا تھا۔۔!!
…………………………………………………………
