No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
ماضی👉👉
الحان سوچ بھی نہیں سکتا تھا نبیہہ اس سے جھوٹ بولے گی اسے چیٹ کرے گی اسے رہ رہ کر نبیہہ عباسی پر غصہ آ رہا تھا۔۔۔۔اس کا دل چاہ رہا تھا وہ اسے ختم کر ڈالے جو اسکی بیوی ہو کر اپنے ایکس بی ایف کے ساتھ رنگ رلیاں مناتی پھر رہی تھی۔
وہ نبیہہ اور محتشم کو ایک ساتھ دیکھ کر واپس اپنے آفس آ گیا تھا اور اب آفس کی چیزوں پر اپنا غصہ نکال کر خود کو کول کر رہا تھا۔
………………………………………………………
ملک صاحب آپ کے لیے ایک اچھی خبر اور ایک بری خبر لے کر آیا ہوں۔۔۔۔احمد سیال نے چئیر پر جھولتے ملک سلطان سے کہا۔
ملک سلطان پہلے ہی محتشم کے باعزت بری ہونے پر پریشان بیٹھے تھے دو دن پہلے ہی اس پر لگے تمام الزامات جھوٹے قرار دے کر اسے بری کر دیا گیا تھا۔اس لیے کوئی بھی جواب دیے بغیر جھولتے رہے۔۔۔۔
طبیعت ٹھیک ہے ملک صاحب۔۔۔۔سیال نے احتیاطا پوچھا
ہوں۔۔۔۔۔بولو کیا خبر لائے ہو۔۔۔۔۔ملک سلطان اسی طرح جھولتے بولے
اچھی خبر یہ ہے کہ آج الحان صاحب نے اپنی آنکھوں سے نبیہہ میڈم اور محتشم ابراہیم کو ہوٹل میں ایک ساتھ لنچ کرتے دیکھ لیا ہے اور بری خبر یہ ہے کہ وہ دونوں وہاں آپکے کیس کو ہی ڈسکس کرنے کے لیے ملے تھے۔۔۔۔اور ملک صاحب مجھے لگتا ہے ان کے ہاتھ اور بھی بہت کچھ لگ چکا ہے۔۔۔یہ محتشم الو کا پٹھا ہے پورا آرام سے نہیں بیٹھے گا۔۔۔۔میں نے بتایا تھا آپ کو وہ اپنے کسی شہزاد نامی دوست سے مدد لے رہا ہے اس کیس میں اور انٹیلی جینس والے تو پہلے ہی تیار بیٹھے ہوتے ہیں بات کی کھال اتارنے میں۔۔۔۔۔احمد سیال ملک سلطان کے موڈ کے پیش نظر جلدی جلدی بولا۔
مروا دو اسے۔۔۔۔۔
مروا دوں۔۔۔۔؟؟؟ احمد سیال نے ملک صاحب کی بات کو دہرایا۔
ہوں۔۔۔۔۔
وہ ایجنسی کا بندہ ہے ملک صاحب مروانا آسان نہیں اور پھر اس سے ہمارے لیے نئی مشکلات کھڑی ہو جائیں گی ملک صاحب۔۔۔۔میرے خیال سے ابھی آپ نبیہہ میڈم کو الحان صاحب کی زندگی سے باہر کریں پھر اس محتشم کے بچے کو اسکے دوست سمیت میں دیکھ لوں گا۔
ٹھیک ہے دو دن تک تصویریں بنواؤ بلکل ویسی ہی جیسی سنبل عباسی کی بنوائیں تھیں۔۔۔۔مگر خیال رہے کہ وہ اصلی تھیں اور یہ نقلی ہوں گی مگر پھر بھی یہ اصلی ہی دکھنی چاہیے۔۔۔۔
آپ فکر ہی نہ کریں ملک صاحب پہلے کبھی آپ کو شکایت کا موقع ملا ہے جو اب دوں گا آپ ریلکیس ہو جائیں دو دن تک بلکل اصلی تصویریں آپکے ٹیبل پر ہوں گی۔
گڈ۔۔۔۔ملک صاحب احمد سیال کی چلاکی و پھرتی پر مسکرا دیے۔
لوہا گرم ہے اس لیے اگلی چوٹ بھی جلدی پڑ جائے تو ٹھیک رہے گا۔۔۔۔میں اب مزید اس لڑکی کو اپنے گھر میں برداشت نہیں کر سکتا۔
جو حکم ملک صاحب۔۔۔۔۔احمد سیال دل پر ہاتھ رکھ کر جھکتا باہر نکل گیا۔
…………………………………………..…………
نبیہہ بہت مشکل سے خود کو سنبھالتی
ملک ہاؤس پہنچی تھی۔
دل میں عجیب سی وحشت تھی جو کم ہونے کی بجائے بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔۔
اسے رہ رہ کر محتشم کا سنبل عباسی اور ملک سلطان کے بارے میں پوچھا گیا سوال ڈسٹرب کر رہا تھا۔
وہ کئی بار سوچ چکی تھی کہ بابا سے اس بارے میں پوچھے مگر پھر خود کی سوچ کی نفی کرتی گھر واپس آ گئی تھی۔
محتشم ابراہیم اس کیس کو ضرور پایہ تکمیل تک پہنچائے گا نبیہہ کو یقین تھا۔۔
وہ شاور لے کر خود کو فریش کرتی باہر آئی تو الحان آفس سے آ چکا تھا۔
آج جلدی آ گئے۔۔۔۔نبیہہ نے بالوں کو ٹاول سے رگڑتے ہوئے مسکرا کر الحان سے پوچھا جو گردن جھکائے سیل پر کچھ ٹائپ کر رہا تھا۔
تو واپس چلا جاؤں کیا۔۔۔۔وہ اکھڑ لہجے میں کہتا سیل بیڈ پر اچھال کر ڈریسنگ روم میں گھس گیا۔
اسے کیا ہوا۔۔۔۔؟؟
اوہ لنچ ساتھ نہ کرنے پر خفا ہے۔۔۔۔وہ خود ہی الحان کی خفگی کا اندازہ لگا کر مسکراتی ہوئی بال برش کرنے لگی۔
کچھ دیر بعد الحان چینج کر کے باہر آیا اور بالوں کو برش کر کے اسٹڈی کے دروازے کی طرف بڑھا۔
مسٹر ملک۔۔۔۔۔نبیہہ کی پکار پر وہ پلٹے بغیر رکا۔
نبیہہ مسکراتی ہوئی اسکے سامنے آ کھڑی ہوئی۔
خفا ہو مسٹر ملک۔۔۔۔۔وہ مسکراہٹ دبا کر بولی
نہیں۔۔۔۔۔لٹھ مار جواب آیا
پھر کیا ہوا ہے۔۔۔۔؟؟
کچھ نہیں۔۔۔۔
کچھ تو ہوا ہے الحان میں نوٹ کر رہی ہوں تم مجھے اوائیڈ کرنے لگے ہو پوچھ سکتی ہوں کیوں۔۔۔۔؟؟
اور تم مجھے دھوکہ دے رہی ہو پوچھ سکتا ہوں کیوں۔۔۔۔؟؟وہ زبان سے نہیں دل سے ہمکلام ہوا۔
کیا بات ہے الحان۔۔۔۔۔نبیہہ اسکی خاموشی پاکر پھر سے بولی۔
کہا تو ہے کچھ نہیں ہے تمہارا وہم ہے۔۔۔ہٹو سامنے سے مجھے اسٹڈی میں کچھ کام ہے۔
ابھی آفس سے کام کر کے ہی آئے ہو کچھ دیر میرے ساتھ بھی بیٹھ جاؤ اور تمہیں یاد ہے ہمیں کتنے دن ہو گئے ہیں ایک ساتھ بیٹھ کر باتیں کیے ہوئے۔۔۔
کیوں اپنے بوائے فرینڈ سے باتیں کر کے دل نہیں بھرا جو مجھ سے بھی کرنے کی خواہش ہو رہی ہے۔۔۔۔اونہہ شاطر عورت۔۔۔۔۔وہ دل ہی دل میں بڑبڑایا۔
الحان۔۔۔۔نبیہہ اسکی خاموشی پا کر پھر سے پکارتی اسکے قریب ہوئی۔
واٹس رونگ۔۔۔۔وہ الحان کے سینے پر ہاتھ رکھتی پریشانی سے بولی
الحان کا رویہ اسکے لیے حیران کن تھا۔
نتھنگ رونگ فلحال میرا موڈ باتیں کرنے کا نہیں ہے تم میوزک سن کر انجوائے کرو۔۔۔۔وہ اپنے سینے پر دھرے نبیہہ کے ہاتھ ہٹاتا سائیڈ سے ہو کر اسٹڈی میں چلا گیا۔۔۔
پیچھے نبیہہ اپنی جگہ پر ساکت سی کھڑی تھی۔
کیا محبت کرنے والے اتنی جلدی بدل جاتے ہیں۔۔۔۔۔وہ کھڑی افسردگی سے سوچ رہی تھی۔
“عادتیں جو ڈال کہ توجہ کی٬
لوگ جو یوں بدل جاتے ہیں؛
ستم ڈھاتے ہیں۔۔۔۔!”
………………………………………….…………
ٹھیک دو دن بعد احمد سیال تصویروں کا پیکٹ لیے ملک سلطان کے آفس آیا تھا۔
ملک سلطان نے پیکٹ اٹھا کر کھولا اور اس میں موجود پانچ سے چھ تصویروں کو باہر نکالا۔
ہر تصویر کو دیکھتے ہوئے ان کے تاثرات ڈھیلے اور پرسکون ہوتے جا رہے تھے۔۔۔۔ساری تصویریں دیکھنے کے بعد انہوں نے سر کے اشارے سے سیال کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
احمد سیال اشارہ پاتے ہی کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا۔
جی ملک صاحب۔۔۔۔؟؟؟
یہ محتشم ابراہیم پر پرسنل اٹیک ہے سیال اسکے بعد ہم اسکی بیڈ بک میں شامل ہو جائیں گے اور وہ یقینا ان تصویروں کے بیک تک جانے کی کوشش کرے گا۔۔
آپ نے بجا فرمایا کہ ہم اسکی نظروں میں اسکی بیڈ بک میں آ جائیں گے مگر یہ تصویریں صرف الحان صاحب تک جانی چاہئیں اس سے آگے نہیں۔۔۔پھر ہی ہم خود کو کور کر سکتے ہیں۔۔کیونکہ پہلے جو تصویریں تھیں وہ بلکل سچ تھیں جنہیں محتشم ابراہیم خود بھی نہیں جھٹلا سکتا تھا اور اسکینڈل افیئر کے معاملے سے وہ کوسوں دور ہے جو اسکی ایک اچھی خوبی ہے۔۔۔۔ اپنی عزت سبھی کو پیاری ہوتی ہے ملک صاحب وہ کچھ نہیں کر پائے گا ہمارے خلاف کیونکہ اسکے پاس کوئی ثبوت نہیں ہو گا اس سب کے پیچھے ہم ہیں۔۔۔۔کیونکہ الحان صاحب اگر نبیہہ عباسی کو اپنی زندگی سے نکالیں گے تو شک کی بنا پر وہ شک جو انہیں نبیہہ میڈم کے کریکٹر پر ہے اور یہ شک جس بندے کیساتھ ہے وہ ہے محتشم ابراہیم۔۔۔۔۔محتشم ابراہیم تک اگر گئی بھی تو زبانی کلامی بات پہنچے گی کہ الحان ملک نے نبیہہ عباسی کو طلاق دے دی کیوں دی یہ بھی شاید وہ جان جائے اور اگر وہ ہمارے پاس ثبوت مانگنے آیا تو ہم اسے وہ تصویریں دکھائیں گے جو سچ تھیں۔ اور چار دن پہلے کی ریسٹورانٹ میں ملاقات کہ تو الحان صاحب خود گواہ ہیں اور تیسرا نبیہہ میڈم یہ سب کسی کے بھی علم میں لائے بغیر کر رہی ہیں سو ہم پر کسی شک یا الزام کی تک ہی نہیں بنتی۔۔۔۔۔سیال پرسکون سا بولا
ہوں۔۔۔۔پر ہاشم۔۔۔۔۔وہ جواب طلبی نہیں کرے مجھ سے۔۔۔ الحان سے۔۔۔۔؟؟؟
کرے گا مگر ہمیں الحان صاحب کو اس حد تک ہائپر کر دینا ہے کہ کسی کی بات ان پر کوئی اثر ہی نہ کرے اور نہ ہی وہ کوئی بات سننے کو تیار ہوں۔۔۔۔۔باقی ہاشم صاحب کو آپ نرمی سے ہینڈل کر لیجئے گا۔۔۔۔ہمارا کام تو ہو ہی چکا ہو گا۔۔۔۔وہ مکروہ مسکرایا
مگر ضروری تو نہیں کہ الحان فٹ سے اس لڑکی کو ڈائیورس دے دے۔۔۔۔۔
ملک صاحب الحان صاحب کو کس طرح اس حد تک لیجانا ہے کہ وہ نبیہہ عباسی کو چھوڑ دیں یہ تو آپ ہی بہتر جان سکتے ہیں۔۔۔۔وہ مؤدب سا بولا
ہوں ٹھیک ہے سوچتا ہوں کچھ۔۔۔۔ملک سلطان نے کنپٹتی مسلتے ہوئے کہا
مجھے پہلے ہی اس فساد کی جڑ لڑکی کو اپنے بیٹے کی زندگی میں شامل نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔۔۔۔وہ ماتھے پر انگلی رگڑتے سوچ رہے تھے۔
ملک صاحب۔۔۔۔چند منٹ کی خاموشی کے بعد احمد سیال نے پکارا۔
ہوں۔۔۔۔۔وہ چونک کر اسکی طرف متوجہ ہوئے۔
ملک صاحب اب کی بار یہ تصویریں جھوٹی ہیں مگر ان تصویروں کی بیس پر ہی الحان صاحب نبیہہ میڈم کے خلاف کوئی ڈسیزن لیں گے اور ہمیں یہ تصویریں الحان صاحب کو دیکھا کر سپوئل کر دینی ہیں ملک صاحب۔۔۔۔۔احمد سیال نے شاطر انداز میں یاددہانی کروائی۔
ہوں۔۔۔۔۔تم فکر مت کرو۔۔۔ملک سلطان نے پرسوچ انداز میں ہنکارا بھرا۔
جی احمد سیال ریلیکس ہوتا ملک صاحب سے اجازت لے کر آفس سے چلا گیا۔۔۔
…………………………………………………………
