No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
کیا ہوا ہے اتنی چپ چپ سی کیوں ہو۔۔۔؟؟محتشم نے نبیہہ کو خاموشی سے ونڈوپین سے باہر جھانکتے دیکھ کر پوچھا
وہ دونوں اس وقت ڈنر کرنے ریسٹورانٹ
آئے تھے۔
نہیں کچھ نہیں بس ایسے ہی۔۔۔۔۔وہ اداسی سے مسکرا دی
کیا اتنے سال کافی نہیں سب کچھ بھلانے میں۔۔۔۔؟؟
آپ بھول چکے ہیں کیا۔۔۔۔؟؟نبیہہ نے الٹا اس سے سوال پوچھا
بھولا نہیں تو یاد بھی نہیں کرتا تمہاری طرح۔۔۔۔۔
میں بھول چکی ہوں سب کچھ۔۔۔وہ آہستگی سے بولی
آر یو سیریس۔۔۔۔؟؟محتشم نے چبھتے ہوئے طنز کیا
آپ خفا ہو رہے ہیں۔۔۔۔۔
تو اور کیا کروں۔۔۔۔۔۔؟؟اس نے ابرو اچکائے
آئی ایم سوری۔۔۔۔۔نبیہہ آہستگی سے منمنائی
مجھے تمہارے excuses کی ضرورت نہیں ہے نبیہہ تم۔۔۔۔۔تم سمجھتی کیوں نہیں ہو آخر کہ مجھے تمہاری اور تمہیں میری ضرورت ہے۔
میں آپ کیساتھ ہوں۔۔۔وہ مسلسل ٹیبل پر انگلی سے لکیریں کھینچ رہی تھی
نہیں ہم دونوں ہی ایک دوسرے کے ساتھ ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے نہیں ہیں۔
اینڈ یو نو ڈیٹ ویری ویل۔۔۔۔وہ تھوڑا لاؤڈ ہوا جو اسکے مزاج کے برخلاف تھا
نبیہہ نے اردگرد دیکھتے ہوئے محتشم کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا
ہم پبلک پلیس پر ہیں محتشم۔۔۔
محتشم ایک خفا نظر اسکے اداس چہرے پر ڈال کر باہر دیکھنے لگا۔
آئی ایم سوری اینڈ آئی لو یو محتشم۔۔۔۔۔نبیہہ نے اسے سنجیدہ اور تکلیف دہ تاثرات سے باہر دیکھتے پا کر آہستگی سے کہا
اسکی بات پر محتشم نے گردن گھوما کر شکایتی نظروں سے اسے دیکھا یوں جیسے پوچھا رہا ہو
رئیلی یو لو می۔۔۔۔۔؟؟؟
نبیہہ نے اسکی آنکھوں میں نظر آتے سوال کو پڑھ کر نظریں چرا لیں۔
…………………………………………………………
الحان۔۔۔۔۔۔
الحان۔۔۔۔۔۔ابیرہ نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پکارا
ہوں۔۔۔۔کیا ہوا۔۔۔۔کچھ کہا تم نے۔۔۔۔وہ چونک کر سیدھا ہوا
آپ۔۔۔۔آپ اسطرح سے کیوں بیٹھے ہیں طبیعت ٹھیک ہے آپکی۔۔۔۔وہ فکرمندی سے پوچھتی الحان کے سامنے پڑی چئیر پر بیٹھی۔
کیا تھی وہ انسان یا کوئی اور مخلوق جس پر کوئی رویہ کوئی لہجہ اثر نہیں کرتا تھا۔۔۔۔الحان کی بے رخی کے باوجود وہ ہر گھڑی اسکے لیے فکرمند رہتی تھی۔۔۔۔وہ ابیرہ کو دیکھتے ہوئے سوچ رہا تھا
کیا ہوا ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں۔۔۔وہ کنفیوز ہوئی
کچھ نہیں۔۔۔۔الحان سر جھٹکتا سیدھا ہو بیٹھا
اذان کہاں ہے۔۔۔۔؟؟
ڈرائنگ روم میں۔۔۔۔اسکا ٹیوٹر آ گیا ہے۔۔۔
ہوں۔۔۔۔۔الحان نے اثبات میں سر ہلایا
چائے لاؤں آپکے لیے۔۔۔۔ابیرہ نے اسکے تھکے تھکے چہرے کو دیکھتے پوچھا
نہیں چائے نہیں ایک کپ کافی بھجوادو اسٹڈی میں۔۔۔۔۔وہ آہستگی سے کہتا اٹھ کر اندر کی جانب چلا گیا
ناجانے کب تک یہ سب سہنا ہے مجھے۔۔۔۔۔ابیرہ تلخی سے سوچتی اٹھ کر الحان کے لیے کافی بنانےکیچن کی طرف بڑھ گئی۔
………………………………………………………
ماضی 👉👉
نبیہہ نے لاؤنج میں داخل ہو کر ادھر أدھر دیکھا اور آہستگی سے ٹیبل پر پڑا راعنہ کا سیل اٹھایا۔
صد شکر کہ سیل ان لاکڈ تھا۔
اس نے جلدی جلدی کانٹیکٹ لسٹ اوپن کی اور اپنا مطلوبہ نمبر ڈھونڈنے لگی
نمبر ملتے ہی اس نے جلدی سے جینز کی پاکٹ سے اپنا سیل نکال کر ان لاک کیا اور ڈائلر میں راعنہ کے سیل کے پندرہویں نمبر پر لکھا سیل نمبر اپنے موبائل کی لسٹ میں فیڈ کر کے احتیاط سے سیل واپس ٹیبل پر رکھا اور آہستگی سے مڑتی ہوئی سیڑھیاں چڑھ گئی۔
اپنی پلانگ کیمطابق وہ اس پاورفل بندے کا نمبر حاصل کر چکی تھی۔
…………………………………………………….…
محتشم لیپ ٹاپ سامنے رکھے اسکی سکرین کو گھور رہا تھا جب اسکا سیل وائبریٹ ہوا۔
منہ میں آئی گالی کو منہ میں ہی دبا کر اس نے بےزاری سے سیل کو دیکھا جس پر کوئی unknown نمبر جگمگا رہا تھا
ایک نظر پھر سے سکرین کو دیکھ کر اس نے کال اوکے کی اور سیل کان کو لگایا
ہیلو۔۔۔۔متحشم ابراہیم اسپیکنگ۔۔۔۔ !
اسلام و علیکم۔۔!
انجانی نسوانی آواز میں سلام کو سن کر اسنے سیل کان سے ہٹا کر غور سے سیل دیکھا یوں جیسے سیل سے پوچھ رہا ہو کیا واقعی تم سے ہی نسوانی آواز ابھری ہے۔
ہیلو۔۔۔۔ہیلو۔۔۔۔دوسری طرف نبیہہ پریشانی سے ہیلو ہیلو بول رہی تھی کہ کہیں کال تو ڈراپ نہیں ہو گئی
جی فرمائیں میں آپکی کیا خدمت کر سکتا ہوں۔۔۔؟؟
اوہ۔۔۔۔کیا یہ مجھے پہچان گیا ہے۔۔۔؟؟مگر کیسے میں تو بس ایک ، دو دفعہ ہی اس سے ملی ہوں۔
محترمہ کیا آپ نے میری سانسوں کی آواز سننے اور اپنی سنانے کے لیے فون کیا تھا۔۔۔۔۔وہ دوسری طرف کی خاموشی پر چڑ کر بولا
نن۔۔۔نہیں۔۔۔۔آپ محتشم ابراہیم بات کر رہے ہیں۔۔۔؟؟؟
اسکی بات پر محتشم کا دل چاہا اپنا سر پیٹ لے کال کے شروع میں ہی تو وہ بتا چکا تھا اور وہ ابھی بھی پوچھ رہی تھی۔۔۔
جی بلکل میں محتشم ابراہیم ہی بات کر رہا ہوں آپ کو کوئی شک ہے کیا۔۔۔۔؟؟وہ دانت رگڑتا طنزیہ بولا
جی۔۔۔وہ۔۔۔وہ میں نبیہہ بات کر رہی ہوں۔۔۔۔وہ زبان تر کر کے بولی وہ کنفیوز ہو رہی تھی پر کیوں وہ اپنی حالت پر خود حیران تھی۔
کون نبیہہ۔۔۔۔۔؟؟؟دوسری طرف حیرانگی سے پوچھا گیا
نبیہہ عباسی۔۔۔۔ہاشم عباسی کی سگی اور راعنہ عباسی کی سوتیلی بیٹی۔۔۔۔وہ جلدی جلدی تعارف کروانے لگی
اوہ۔۔ہ۔۔ہ۔۔۔تو یوں کہیں کہ آپ میری سوتیلی بھانجی اور سگی بھتیجی بات کر رہیں ہیں۔۔۔۔۔محتشم اسکے تعارف پر مسکراہٹ دبا کر بولا
آپ میرے بابا کے کزن ہیں اور راعنہ آنٹی کے بھائی ہیں۔۔۔یہی رشتے کافی ہیں فلحال۔۔۔۔۔وہ جان گئی تھی وہ ڈفر اسکا مذاق اڑا رہا تھا
چلیں یوں ہی سہی پر کیا اب آپ بتانا پسند کریں گی کہ مجھے یعنی اپنے دور۔۔ر۔۔رر۔۔ کے رشتے دار کوکیوں یاد کیا۔۔۔۔۔۔محتشم شرارت سے بولا
مجھے آپ کو مبارکباد دینی تھی۔۔۔۔وہ فٹ سے بولی
مبارکباد۔۔۔مگر کس چیز کی۔۔۔۔؟؟؟وہ حیران سے زیادہ پریشان ہوا
آپ کے سول سروسز جوائن کرنے کی۔۔۔۔
اوہ۔۔ہ۔۔ہ۔۔محتشم نے لمبا سا اوہ کیا
اتنی جلدی کیسے یاد آ گیا کچھ سال اور رک جاتیں تاکہ ریٹائرمنٹ کا افسوس بھی ساتھ ہی ہو جاتا۔۔۔وہ اپنی گردن کو ورزش کے انداز میں ادھر أدھر کرتا بولا
اوف۔۔۔ف۔۔۔ف۔۔۔کسقدر ڈفر بندہ ہے یہ بلکل بھی سیریس نہیں۔۔۔۔
کیا ہوا نبیہہ عباسی آپ چپ کیوں ہو گئیں۔۔۔۔؟؟
اصل میں میری آپ سے ملاقات نہیں ہوئی ورنہ پہلے دے دیتی۔۔وہ وضاحت دینے لگی
اٹس اوکے کوئی بات نہیں مجھے بھی جوائنگ دئیے ابھی صرف ڈیڑھ سال ہی ہوا ہے بس۔۔۔۔۔۔وہ بمشکل اپنی ہنسی دبا رہا تھا
اونہہ۔۔۔ایڈیٹ۔۔۔اسٹوپڈ۔۔۔ڈفر۔۔۔۔نبیہہ اسے دل میں جی بھر کر کوس کر بولی
آئی ایم سوری فار لیٹ۔۔۔۔
محتشم سمجھ نہیں پا رہا تھا آخر اس نک چڑی نے فون کیوں کیا۔
اصل میں راعنہ کہ گھر والے نبیہہ کو نک چڑھی کہتے تھے ایک تو وہ ہر کسی سے گھلتی ملتی نہیں تھی اور اگر کوئی غلطی سے اسے مخاطب کر لیتا تو یوں جواب دیتی جیسے اگلے بندے پر احسان کر رہی ہو۔اسلیے وہ سب اسے نک چڑھی کہتے تھے۔
نو نیڈ یئور ایکسکیوز اٹس اوکے اینڈ ناؤ لیٹ می ٹیل وائے ڈو یو کال می دس ٹائم۔۔۔۔۔وہ وال کلاک پر بجتے بارہ کو دیکھتا بولا
واقعی یہ سول سروسز والے بہت چالاک ہوتے ہیں۔۔۔۔وہ سوچتی گلا کھنکار کر بولی
ایکچوئیلی مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے محتشم ابراہیم۔۔۔۔
جی کریں میں سن رہا ہوں۔۔۔۔
وہ اصل میں مجھے آپکی ہیلپ چاہیے۔۔۔
نبیہہ آپ جو بھی کہنا چاہتی ہیں کھل کر کہیں پلیز۔۔۔
آئی ہوپ کہ یہ بات ہم دونوں کے بیچ ہی رہے۔۔۔وہ پھر سے آدھی بات کر کے خاموش ہوئی
آپ کوئی بات کریں گی تو ہی میں آپ کو یقین دہانی کروا سکوں گا اس بارے میں۔۔۔۔۔اب کہ وہ بےزاری سے بولا
وہ مجھے آپ سے ملک سلطان کے بارے میں بات کرنی ہے۔۔۔نبیہہ نے آہستگی سے کہتے ہوئے اسے اے ٹو زی ساری بات بتا دی۔
ملک صاحب کی کرپشن سے لے کر اپنی جاب کی اور اپنے پاس موجود ثبوتوں کی بھی۔۔۔
مگر میں اس کرپشن کیس میں آپکی کیا مدد کر سکتا ہوں۔۔
آپ خود نہیں کر سکتے تو اپنے کسی کانٹیکٹس کے تھرو کروا تو سکتے ہیں۔۔
نبیہہ۔۔۔۔ائیکچولی۔۔۔۔۔وہ منع کرنے ہی والا تھا کہ نبیہہ بول پڑی
پلیز محتشم ابراہیم آئی نیڈ یئور ہیلپ۔۔۔۔۔وہ ملتجی ہوئی
ہوں۔۔۔ں۔۔۔ں۔۔۔اوکے میں کچھ کرتا ہوں۔۔۔۔چند منٹ کی خاموشی کے بعد محتشم نے رضامندی دی
تھینکس۔۔۔۔۔میرا نام بیچ میں مت آئے محتشم ابراہیم۔۔۔۔۔آئی تھنک سو نیکسٹ منتھ تک میری رخصتی متوقع ہے الحان ملک سے۔۔۔
ہوں۔۔۔۔ڈونٹ یو وری آپ کا نام کہیں بھی نہیں آئے گا بس آپ مجھے وہ ڈاکومینٹس میل کر دیں باقی میں خود ہینڈل کر لوں گا۔
تھینک یو سو مچ محتشم ابراہیم۔۔۔۔وہ مسکرا کر بولی
یو ویلکم نبیہہ عباسی۔۔۔۔وہ بھی مسکرایا
میں فون بند کرتی ہوں پھر بات ہو گی۔۔۔
جی ضرور۔۔۔۔وہ زور زور سے گردن ہلا کر بولا
خدا حافظ۔۔۔۔!
خدا حافظ۔۔۔۔محتشم نے آہستگی سے کہہ کر سیل کان سے ہٹایا اور مسکراتا ہوا واش روم کیطرف بڑھ گیا۔
…………………………………………………………
محتشم ابراہیم راعنہ ابراہیم جو اب راعنہ عباسی ہو چکی تھی کا تیسرے نمبر کا بھائی تھا۔
بڑے دو بھائی شادی شدہ تھے اور جوائنٹ بزنس کو سنبھالے ہوئے تھے۔۔۔
جبکہ محتشم نے اپنے مرحوم والد صفدر ابراہیم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سول سروسز جوائن کی تھی۔۔۔۔اپنے شوق کے پیش نظر اور اپنی محنت کے بل بوتے پر ہی وہ یہاں تک پہنچ پایا تھا کیونکہ صفدر ابراہیم تو اسکی اسٹڈی کے دوران ہی اس جہان فانی سے کوچ کر گئے تھے اس لیے کسی سفارش کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔۔وہ واقعی ایک قابل اور ہونہار اسٹوڈینٹ تھا اس نے اپنی تعلیمی کارکردگی سے ثابت کر
دکھایا تھا اور اب اپنی ذہانت کے بل بوتے پر ہی وہ سی ایس ایس کلیئر کر کے بیوروکریسی کے فیلڈ میں اپنی صلاحیتں دکھا کر اپنے ساتھی آفیسرز کو ایمپریس کر رہا تھا۔
محتشم اپنی جاب کی وجہ سے لاہور میں رہائش پذیر تھا جبکہ باقی فیملی اسلام آباد میں تھی یوں وہ ماہ ڈیڑھ ماہ بعد اسلام آباد کا چکر لگا لیتا تھا۔
سارے بہن بھائی شادی شدہ اور اپنی فیملی لائف میں سیٹلڈ تھے سوائے محتشم کے۔۔۔۔
جسے کوئی لڑکی ہی پسند نہیں آتی تھی۔۔۔۔جب کبھی وہ سب گھیر گھار کر اسے اسکی پسند پوچھتے تو وہ اپنی من پسند لڑکی میں وہ وہ خوبیاں گنواتا جو کم از کم آجکل کے زمانے میں چراغ اور دیوں کی مدد سے بھی نہیں ڈھونڈی جا سکتی تھی جس پر وہ سب چڑ کر اسے اسکے حال پر چھوڑ کر خاموش ہو جاتے اور محتشم اپنی جان بخشی پر دل سے شکر بجا لاتا بیچلرز لائف انجوائے کر رہا تھا۔۔
…..………………………….…………….…….…………
حال 👉👉
نبیہہ ابھی ابھی نہا کر نکلی تھی گیلے بال پشت پر بکھرے تھے وہ ٹاول اسٹینڈ پر لٹکا کر آئینے کے سامنے آئی اور برش اٹھا کر بال سلجھانے لگی جب آہستگی سے دروازہ کھول کر محتشم اندر آیا۔
وہ محتشم کو دیکھتی برش ٹیبل پر رکھتی پلٹ کر اس تک آئی
اسلام وعلیکم۔۔۔۔!!آج آپ جلدی آ گئے
ہوں۔۔۔محتشم نے سر ہلا کر سلام کا جواب دیا اور شرٹ کے اوپری دو بٹن کھول کر ٹائی ڈھیلی کی۔
کیوں میں جلدی نہیں آ سکتا کیا۔۔۔۔؟؟
آ سکتے ہیں میں نے تو ایسے ہی پوچھ لیا پیچھلے پورے ویک سے آپ لیٹ آ رہے ہیں۔۔۔۔وہ خفگی سے بولتی واپس آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوئی
محتشم اسکی خفگی پر مسکراتا ہوا روم فریج کی طرف بڑھا پانی کی بوتل نکال کر منہ کو لگائی اور پی کر بوتل واپس فریج میں رکھتا اسکے پیچھے آ کھڑا ہوا۔
محترمہ نبیہہ عباسی صاحبہ۔۔۔میری دور۔۔۔ر۔۔۔ر کی رشتے دار مجھ سے خفا ہو چکی ہیں کیا۔۔۔۔؟؟وہ بازو سینے پر باندھ کر مصنوعی سنجیدگی سے بولا
اسکی بات پر نبیہہ بےاختیار مسکرا دی۔
وہ اکثر نبیہہ کو دور کی رشتے دار کہہ کر چھیڑتا تھا۔
ہنستی رہا کرو اچھی لگتی ہو۔۔۔۔وہ آئینے میں نظر آتے نبیہہ کے عکس کو دیکھتے بولا
آپ بھی ہنس لیا کریں کوئی پابندی نہیں ہے آپ پر۔۔۔۔وہ مسکراہٹ روکتی بولی
میں مسکرا کر کیا کروں گا میری مسکراہٹ کونسا تمہیں اچھی لگتی ہے۔۔۔۔۔وہ صوفے کی طرف جاتا بولا
ہر بار کہنا ضروری تو نہیں ہوتا محتشم۔۔۔میں کئی بار تو آپ سے کہہ چکی ہوں مجھے آپ کی مسکراہٹ بہت اچھی لگتی ہے۔
لیکن میں چاہتا ہوں تم بار بار مجھ سے یہ سب کہتی رہا کرو۔۔۔۔
آپ کی مسکراہٹ مجھے بہت اچھی لگتی ہے محتشم ابراہیم پلیز مسکرا دیں۔۔۔۔۔وہ محتشم کے سامنے جا کر شرارت سے بولی
اسکی شرارت پر وہ کھل کر مسکرا دیا۔
اور تم جانتی ہو تم مجھ سے یہ سب کہتی ہوئی مجھے بہت اٹریکٹ کرتی ہو۔۔۔۔وہ مسکراہٹ دباتا اسکی طرف بڑھا
محتشم کو اپنی طرف بڑھتے دیکھ کر نبیہہ کھلکھکاتی ہوئی جلدی سے دروازے کی جانب بڑھ گئ۔
آپ چینج کر لیں میں چائے لاتی ہوں ابھی۔۔۔۔وہ مسکرا کر کہتی کمرے سے نکل گئی۔
متحشم چند منٹ اسکی کھلکھلاہٹ میں ڈوبا رہا نبیہہ بہت کم اسطرح کھلکھا کر ہنستی تھی اور جب ہنستی تھی تو محتشم کو لگتا تھا وہ واقعی دل سے زندہ ہے۔
…………………….……………………….….………..
الحان کل اذان کے سکول میں رزلٹ ڈے ہے آپ کل جائیں گے ناں ساتھ۔۔۔۔۔۔وہ آفس کے لیے تیار ہو رہا تھا جب ابیرہ نے پوچھا
میں بزی ہوں کل تم چلی جانا۔۔۔۔وہ اپنی چیزیں بریف کیس میں رکھتا مصروف سا بولا
اذان کا پہلا رزلٹ ہے الحان تھوڑا سا وقت نکال لیجئیے گا پلیز۔۔۔
وعدہ نہیں کرتا کوشش کروں گا تم ڈرائیور کیساتھ چلی جانا میں وہیں آنے کی کوشش کروں گا۔۔۔
جی ٹھیک ہے۔۔۔۔۔ابیرہ کے لیے اسکی رضامندی ہی کافی تھی۔
وہ سر ہلاتی ناشتہ لگوانے کمرے سے نکل گئی۔
الحان جب ڈائنگ ٹیبل پر آیا تو ابیرہ اذان کو دودھ پلانے کی کوشش کر رہی تھی مگر وہ اسکا ہاتھ جھٹک کر گلاس پیچھے کر دیتا۔
گڈ مارننگ ایوری ون۔۔۔۔الحان نے بیٹے کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا
گڈ مارننگ پاپا۔۔۔۔
کیا ہوا بھئی دودھ کیوں نہیں پی رہے۔۔۔؟؟
پاپا مجھے نہیں پینا یہ ماما روز ہی پلاتی ہیں مجھے اچھا نہیں لگتا۔۔وہ منہ بنا کر بولا
ایسے نہیں کہتے میری جان۔۔۔۔اٹس ویری ایمپورٹینٹ فار یئور ہیلتھ۔۔۔سو ماما کو تنگ مت کرو اور جلدی سے پورا گلاس فنش کرو
فائن۔۔۔ماما کو کہیں اسکے بعد وہ مجھے آئس کریم دیں گی
آج آئس کریم نہیں ملے گی اذان گلا خراب ہے آپ کا۔۔۔ابیرہ نے تنبیہہ کی
پا۔۔۔۔۔پا۔۔۔۔۔وہ بےسرا منہ بناتا الحان کو دیکھ رہا تھا
پہلے جلدی سے دودھ فنش کرو پھر آئس کریم ملے گی۔
اوکے۔۔۔۔وہ باپ کی بات پر خوشی سے سر ہلاتا ابیرہ کے ہاتھ سے گلاس لے کر پینے لگا۔
ابیرہ اسے دودھ پیتے دیکھ کر مطمعین سی الحان کے لیے چائے بنانے لگی۔
الحان ناشتہ کر کے اذان کے سر پر بوسہ دیتا اور ابیرہ کو اسے تھوڑی سی آئس کریم دینے کی سفارش کرتا آفس کے لیے نکل گیا۔
…………………………………………………………
ماضی 👉👉
نبیہہ محتشم سے بات کرنے کے بعد کافی ریلیکسڈ تھی وہ جانتی تھی کام بھی ہو جائے گا اور کسی کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہوگی۔
مگر وہ غلط تھی۔۔۔۔!!!!!!!!!!
اس وقت وہ اپنے کمرے میں بیڈ پر اوندھے منہ پڑی میگزین پڑھنے کیساتھ نصرت فتح علی خان کی آواز میں
“آفریں آفریں” انجوائے کر رہی تھی جب اس کے سیل کی ٹون نے بےہنگم شور برپا کر دیا۔
انتہائی فضول اور شور مچانے والی ٹون سیٹ کر رکھی تھی اس نے اپنے سیل پر یہی ٹون اگر کسی اور کے سیل پر لگی ہوتی تو وہ اس بندے کو سو باتیں سناتی مگر یہ تو اپنا سیل اور اپنی ٹون تھی سو ریلیکس اینڈ چیل۔۔۔۔!
اس نے سیل کی سکرین پر بلنک کرتے نام کو دیکھ کر کال کاٹ دی۔۔
ایک بار،دو بار،تین بار مگر وہ بندہ اس سے بھی زیادہ ڈھیٹ تھا وہ جانتی تھی اسلیے ریموٹ اٹھا کر میوزک کا والیم کم کیا اور کال اوکے کر کے سیل کان سے لگایا۔
کیا مسلہ ہے۔۔۔۔۔؟؟؟وہ بے زاری سے بولی
مسلہ میرے ساتھ نہیں تمہارے ساتھ ہے مس نبیہہ عباسی جو بار بار کال کاٹ رہی ہو۔۔۔۔دوسری طرف الحان ملک غصے سے بولا
مجھ پر روب مت ڈالا کرو کتنی دفعہ کہا ہے میں تمہاری رعایا نہیں ہوں سمجھے۔۔۔۔
رعایا نہیں ہو پر بیوی تو ہو ناں اور روب بیوی پر بھی ڈالا جا سکتا ہے مسز نبیہہ ملک۔۔۔
نبیہہ عباسی سمجھے نبیہہ عباسی کہو مجھے۔۔۔ وہ تیزی سے بات کاٹ کر چیخی
بھول گئی ہیں تو یاد کروا دیتا ہوں میڈم پورے چھ ماہ قبل آپ اپنے جملہ حقوق میرے نام منتقل کر چکی ہیں سو اس لیے اب آپ نبیہہ عباسی نہیں بلکہ مسز نبیہہ الحان ملک ہو چکی ہیں۔۔۔وہ شرارتی انداز میں بولا
فضول میں میرا وقت ضائع مت کرو جس بات کے لیے فون کیا ہے وہ بتاؤ۔۔۔۔۔
آئی لو یو سو مچ۔۔۔۔میں نے یہی کہنے کے لیے کال کی تھی۔۔۔۔وہ مسکراہٹ دبا کر بولا
تم۔۔۔۔تم الحان ملک کتنیوں کو بیوقوف بناؤ گے۔۔۔۔۔
ابھی تو ایک ہی نہیں بن پا رہی بیوقوف کتنیوں کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔۔۔۔وہ ہنسی ضبط کر کے بولا
ہاں تم جتنے شریف ہو میں اچھے سے جانتی ہوں۔۔۔۔۔وہ دانت پیس کر بولی
پھر شک کیوں کرتی ہو سویٹ ہارٹ۔۔۔۔!
مسٹر ملک اٹس انف ذرا سی بات کیا کر لو تم تو فری ہی ہو جاتے ہو۔۔۔۔
تم فری ہونے ہی کب دیتی ہو قسم سے میں ترس گیا ہوں تم سے رومینٹک باتیں کرنے کرو۔۔۔۔وہ مسکراہٹ دبا کر بےچارگی سے بولا
مرو تم اپنی رومینٹک باتوں سمیت دوبارہ مجھے فون کیا تو اچھا نہیں ہو گا سمجھے۔۔۔۔وہ غصے سے چیختی کال ڈراپ کر گئی۔
اچھا تو ہونے والا ہے سویٹ ہارٹ آپ عنقریب بنفس نفیس ہماری ملکیت میں آنے والی ہیں اس سے اچھا اور کیا ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔الحان نے مسکراتے ہوئے سیل کو ٹیبل پر رکھا اور گنگناتا ہوا واش روم چلا گیا اس کا موڈ فریش ہو چکا تھا نبیہہ کی پھٹکار سن کر۔۔۔۔۔۔
ملک سلطان نے کچھ دیر پہلے ہی الحان کو بتایا تھا کہ ہاشم عباسی جلد از جلد نبیہہ کی رخصتی کرنا چاہ رہے ہیں۔۔۔جب سے یہ خبر سنی تھی الحان کی تو مسکراہٹ ہی نہیں رک رہی تھی وہ نبیہہ عباسی کی محبت میں دل و جان سے ڈوبا ہوا تھا اسکے چہرے پر یہ تحریر واضح نظر آ رہی تھی۔
“آج تک نہیں دیکھا میں نے کہیں ایسا شباب،
تیرے ہونٹوں کی شبنم سے ہے شرمندہ گلاب”
………………………………………………………..
