Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

حال👉👉
“نئیں لگنڈا وقت وچھوڑیاں دا
بن یار گزارا کون کرے،
دنیا توں کنارا ہو سکدا
یاراں توں کنارا کون کرے،
اک دن ہوے تے لنگ جاوے
ساری عمر گزارا کون کرے، “
وہ سر ٹیبل پر گرائے مردہ سا بیٹھا تھا۔۔۔۔۔باہر بارش زوروشور سے جاری تھی۔
نبیہہ کو بارش بہت پسند تھی۔۔۔ہر بار جب بھی بارش ہوتی تو وہ اپنے ساتھ الحان کو بھی بارش میں بھیگاتی تھی۔
یہ واحد لڑکیوں والا شوق تھا جو نبیہہ میں بچپن سے تھا ورنہ اسکی ڈریسنگ اور بات کرنے کے لٹھ مار انداز سے وہ لڑکی کم اور ماہی منڈا زیادہ لگتی تھی۔۔۔۔۔۔۔الحان اکثر اسے ماہی منڈا کہہ کر تنگ کرتا تھا جس کے جواب میں وہ اسکے بالوں کو مٹھی میں جکڑ کر پوری طاقت سے کھینچتی اور چھوڑتی تب تھی جب الحان کان پکڑ کر دس بار اٹھک بیٹھک کرنے پر مان جاتا تھا۔۔۔
الحان نے بے چینی سے سر ٹیبل سے اٹھایا اور ونڈوپین کے سامنے جا کھڑا ہوا۔۔وہ وہیں کھڑا انہماک سے باہر برستی بارش کو دیکھنے لگا۔
نبیہہ بھی اس بارش کو انجوائے کر رہی ہو گی۔۔۔۔۔۔اس نے ہمکلامی کرتے ہوئے ونڈوپین پرے دھکیلا اور ہاتھ بڑھا کر چند قطروں کو ہتھیلی پر لیا یوں جیسے بارش کے ان قطروں میں نبیہہ کا لمس چھپا ہو۔۔۔
چند منٹ اپنی ہتھیلی پر پڑے پانی کو غور سے دیکھ کر اس نے ہاتھ واپس باہر نکالا اور پانی باہر اچھال دیا۔
کیوں اذیت دیتی ہو مجھے۔۔۔۔۔اذیت تو زندوں کو دی جاتی ہے نبیہہ میں تو مر چکا ہوں تمہارے بغیر۔۔۔۔۔مر چکا ہوں میں تم سے جدا ہو کر۔۔۔۔۔الحان نے سر شیشے سے ٹکا دیا۔
مت آیا کرو مجھے یاد۔۔۔۔بھول کیوں نہیں جاتی ہو۔۔۔۔کیوں کر رہی ہو میرے ساتھ ایسا۔۔۔۔معاف کیوں نہیں کر دیتی ہو۔۔۔۔میری سزا کو کب ختم کرو گی نبیہہ۔۔۔۔تمہیں خدا کا واسطہ ہے مت آیا کرو اتنا یاد۔۔۔۔تمہاری یاد میرے زخموں پر آئے کھڑنڈ کو اکھیڑ دیتی ہے۔۔۔۔اور ان تکلیف دہ زخموں سے پھر خون رسنے لگتا ہے نبیہہ۔۔۔۔میں کیا کروں۔۔۔۔۔مجھے بھول کیوں نہیں جاتی ہو تم۔۔۔۔۔وہ شیشے سے سر ٹکراتا بلند آواز سے نبیہہ کو پکارتا بلکل بھی ہوش میں نہیں لگ رہا تھا۔۔۔۔
“بارشوں کے موسم میں
تم کو یاد کرنے کی
عادتیں پرانی ہیں؛
اب کی بار سوچا ہے
عادتیں بدل ڈالیں
پھر خیال آیا کہ۔۔!
عادتیں بدلنے سے
بارشیں نہیں رکتی٬
زندگی نہیں کٹتی۔۔”
…………………………………………………………
نبیہہ نے ایک نظر باہر برستی بارش کو دیکھا اور آہستگی سے چلتی ہوئی بیڈ سائیڈ ٹیبل پر پڑے اپنے سیل کو اٹھا لیا
نمبر ملانے کے بعد وہ سیل کان سے لگا کر دوسری طرف بجتی گھنٹی کو بے چینی سے سننے لگی مگر مسلسل گھنٹی بجنے پر بھی کسی نے کال ریسو نہیں کی تھک کر اس نے سیل واپس رکھا اور پھر سے کھڑکی کے پاس آ کر برستی بارش کو دیکھنے لگی۔۔۔۔
کتنی پسند تھی ناں مجھے یہ بارش اور اس برستی بارش میں بھیگنا۔۔۔اس نے افسردگی سے سوچا۔
میری ساری خوشیوں ساری خواہشوں کو تم نے برباد کر دیا الحان ملک تم تڑپو گے ساری زندگی اور شاید تڑپ بھی رہے ہو گے اس اذیت میں جو تم نے میرے پاک وجود پر کیچڑ اچھال کر دی تھی۔۔
گالوں پر پھسلتے آنسوؤں کو اس نے بےدردی سے رگڑ ڈالا۔
کتنا عجیب ہوتا ہے ناں ہمارے معاشرے میں مرد ایک غسل سے پاک ہو جاتا ہے اور عورت۔۔۔۔۔وہ تلخی سے ہنسی
اور عورت اپنی پاکی ثابت کرنے کے لیے ساری زندگی لٹا دیتی ہے۔۔۔۔۔
مگر میرے ساتھ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا الحان ملک مجھے اپنی پاکی ثابت کرنے کے لیے ساری زندگی نہیں لٹانی پڑی۔۔۔۔کیونکہ جس شخص کی ذات سے نتھی کر کے تم نے مجھ پر کیچڑ اچھالا تھا ناں اسی شخص نے مجھے وہ عزت دی وہ مقام لوٹایا جو تم نے چھین لیا تھا مجھ سے۔۔۔۔۔۔کتنی بےیقینی سے کہا تھا ناں تم نے کہ نبیہہ تم محتشم ابراہیم سے شادی کر کے خود پر لگے تمام الزامات سچ ثابت کر رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔تو الحان ملک تم اور تمہاری گندی سوچ نے ہی مجھے ان الزامات کو سچ ثابت کرنے پر اکسایا تھا۔
تم جانتے ہو۔۔؟میں۔۔۔۔میں خود گئی تھی محتشم ابراہیم کے پاس کہ وہ مجھ سے شادی کر لے۔۔۔۔۔۔اور دیکھو اس نے مجھ جیسی بدکردار عورت سے شادی کر لی۔
اس لیے نہیں کہ وہ مجھ سے شادی کر کے تم سے یا تمہارے باپ سے بدلہ لینا چاہتا تھا بلکہ اس لیے کہ وہ مجھ سے محبت کرتا تھا۔۔۔اسے اس بات سے فرق نہیں پڑتا تھا کہ میں کسی مرد کے ساتھ اسکی بیوی بن کر پورے چھ ماہ گزار چکی ہوں۔۔۔۔اسے اس بات سے بھی فرق نہیں پڑتا تھا کہ میں طلاق یافتہ ہوں جس پر اسکے شوہر نے بدکرداری کا دھبہ لگا کر طلاق دی ہے۔
کیونکہ وہ مجھ سے محبت کرتا تھا الحان ملک محتشم ابراہیم مجھ سے نبیہہ عباسی سے ایک بد کردار لڑکی سے محبت کرتا تھا۔۔۔۔وہ سر ونڈوپین سے ٹکائے دل میں ہمکلام باہر دیکھ رہی تھی۔
ویسی محبت نہیں جو تم نے کی تھی مجھ سے۔۔۔۔لفظی محبت۔۔۔۔اونہہ۔۔۔وہ استہزائیہ ہنسی
لفظی محبت بھی کوئی محبت ہوتی ہے کیا الحان ملک نہیں وہ محبت نہیں تھی دل لگی تھی جو تم نے مجھ سے کی۔۔۔
محبت تو وہ ہے جو محتشم ابراہیم مجھ سے کرتا ہے بنا کسی طلب کے بے ریا خالص اور مخلص محبت۔۔۔۔۔۔۔
اور سچ کہوں تو محبت تو میں نے بھی تم سے کبھی نہیں کی۔۔۔۔کبھی نہیں۔۔۔۔نبیہہ نے نفی میں سر ہلایا
تم اس قابل تھے ہی نہیں کہ نبیہہ عباسی اپنی محبت تم پر ضائع کرتی۔۔۔۔۔
نبیہہ عباسی بہت خاص ہے اور اپنی محبت بھی خاص لوگوں پر ہی نچھاور کرتی ہے اور وہ خاص شخص مجھے مل چکا ہے الحان ملک۔۔۔۔۔مجھے وہ خاص شخص مل چکا ہے۔۔۔۔۔
اب میں اپنی ہر خوشی ،ہر خواہش جس کو تم نے آگ میں جھونک کر راکھ کر دیا تھا پھر سے چنگاری بناؤں گی اور دیکھتی ہوں اس بار کس میں اتنی طاقت ہے کہ وہ مجھ سے کچھ بھی چھین کر اسے آگ لگا پائے۔۔۔۔۔۔نبیہہ نے دوپٹے سے آنکھیں رگڑیں اور گھٹنوں پر زور دے کر زمین سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
میں پھر سے وہی نبیہہ عباسی بنوں گی جسے تم مار چکے تھے۔۔۔۔۔میں زندہ تھی۔۔۔زندہ ہوں اور زندہ رہنا چاہتی ہوں۔۔۔محتشم ابراہیم کیساتھ ہاں مجھے اپنی باقی زندگی محتشم ابراہیم کی سنگت میں گزارنی ہے کیونکہ محتشم ابراہیم ہی وہ خاص شخص ہے جس پر نبیہہ عباسی بے دھڑک اپنی محبت لٹائے گی۔۔۔۔۔اس نے ہمکلامی کرتے ہوئے سیل اٹھایا اور
I m waiting anxiously mohtaisham
کے الفاظ ٹائپ کر کے محتشم کے نمبر پر سینڈ کیے اور باہر ٹیرس پر آ گئی پرانی نبیہہ عباسی بن کر بارش میں بھیگنے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
پورے پانچ سال بعد اسے احساس ہو ہی گیا تھا کہ وہ یادوں کے سراب کے پیچھے اپنی موجودہ زندگی ضائع کر رہی ہے۔۔۔؛
غلطی زندگی کا ایک ورق ہے اور رشتہ ، دوستی یا تعلق ایک کتاب ہے۔۔صرف ایک ورق کی وجہ سے کتاب ضائع نہیں کرنی چاہیے۔۔۔۔۔
میری غلطی تم تھے الحان ملک اور میری کتاب محتشم ابراہیم ہے۔۔۔تمہاری وجہ سے میں اپنی جیتی جاگتی زندگی کی کتاب ضائع نہیں کروں گی اس لیے آج میں اپنی غلطی کا وہ ورق اپنی زندگی کی کتاب سے ہمیشہ کے لیے پھاڑ رہی ہوں۔۔۔۔الحان ملک میں نبیہہ عباسی تمہیں ہمیشہ کے لیے اپنے دل اپنے دماغ اور اپنی یادوں سے آزاد کر رہی ہوں۔۔۔۔میں تمہیں آزاد کرتی ہوں الحان ملک۔۔۔۔نبیہہ نے ٹیرس کے بیچوں بیچ کھڑے ہو کر منہ آسمان کی طرف اٹھا کر آنکھیں بند کر لیں۔۔۔۔بارش کے قطرے اسے بھگو رہے تھے اور وہ بھیگتی جا رہی تھی۔۔۔۔۔
سب کچھ بھلا کر۔۔۔۔۔۔۔۔ساری تلخیاں ، ساری رنجشیں ، ساری اذئیتیں ، سارے دکھ ، سارے غم بھلا کر۔۔۔۔۔۔!!!
…………………………………………………………
ماضی 👉👉
ڈیپ ریڈ کلر کے لہنگے میں اپنے تمام تر حسن و خوبصورتی سمیت دلہن بن کر وہ الحان ملک کے بیڈ روم میں اسکی سیج سجائے بیٹھی تھی۔
ایک ہی زاویے پر بیٹھنے کی وجہ سے تھک کر نبیہہ نے پشت بیڈ کی بیک سے ٹکا دی۔چند منٹ ہی گزرے تھے جب کمرے کا دروازہ کھلنے اور لاک کرنے کی آواز اس پرفسوں ماحول میں گونجی۔
نبیہہ نے گردن موڑ کر دروازے کی جانب دیکھا اور الحان کو اپنی طرف بڑھتے دیکھ کر سیدھی ہو بیٹھی۔۔۔۔
الحان بیڈ کے پاس آ کر رکا اور گلا کھنکار کر سلام کیا۔
نبیہہ نے جواب میں سر ہلانے پر اکتفا کیا
ویلکم ٹو مائی لائف مسزنبیہہ ملک۔۔۔۔وہ پھولوں کی پتیاں ہاتھ سے سائیڈ پر کرتا بیڈ پر نبیہہ کے عین سامنے بیٹھا۔
اب تو مسز ملک کہہ سکتا ہوں ناں میں۔۔۔۔الحان نے شرارت سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا
کہہ سکتے ہو مگر نبیہہ عباسی کہو گے تو مجھے زیادہ اچھا لگے گا۔
ایک بات اور میں اب بھی ہر جگہ اپنا نام نبیہہ عباسی ہی لکھوں گی حتی کہ آئی کارڈ پر بھی میرا نام نبیہہ عباسی ہی رہے گا البتہ والد یا شوہر کے نام کی جگہ اب ہاشم عباسی کی بجائے الحان ملک لکھنے میں مجھے کوئی اعتراض نہیں۔۔۔۔۔نبیہہ نے اسے دیکھتے ہوئے اگلی پلانگ بھی بتا دی۔
میں نے تو سنا تھا شادی کی رات بولڈ سے بولڈ لڑکی بھی تھوڑا ہچکچاتی ہے شرماتی ہے مگر تمہارے کیس میں مجھے بلکل بھی نہیں لگ رہا کہ میں تمہاری ایسی کوئی ادا دیکھ پاؤں گا۔۔۔۔وہ بےچارگی سے بولا
اسکی بات پر نبیہہ نے بلش کرتے ہوئے اسکے بازو پر زور سے مکا مارا۔
تھینک گاڈ تم لڑکی ہو۔۔۔۔۔الحان نے ہنستے ہوئے اسکے بلش کرتے سرخ گالوں پر چوٹ کی۔
اچھا بس اب زیادہ پھیلو مت۔۔۔۔
آج پھیلنا تو میرا حق بنتا ہے میڈم اور آج میں جی بھر کے پھیل کر تم سے رومینٹک چٹ چیٹ کرنے والا ہوں۔۔۔۔۔۔الحان نے ایک آنکھ دبا کر دوسری آنکھ اسے ماری
ذلیل انسان۔۔۔۔نبیہہ نے دانت رگڑتے ہوئے پشت سے تکیہ اٹھا کر اسے دے مارا جو نبیہہ کی سرخ رنگت دیکھ کر مسلسل ہنسے جا رہا تھا۔
مجھے مجبور مت کرو مسٹر ملک کہ میں اس کمرے سے چلی جاؤں۔۔۔۔
تمہیں اس کمرے سے جانے کون دے گا مسز ملک اس لیے دھیرج کہ۔۔۔۔۔الحان نے نبیہہ کے دھمکی آمیز تاثرات دیکھ کر بمشکل اپنی ہنسی روکی۔
اوکے آئی ایم سیرئیس ناؤ۔۔۔۔اس نے منہ پر ہاتھ پھیرا اور چہرے پر مکمل سنجیدگی طاری کی۔
اب اگر اجازت ہے تو آگے کچھ بول سکتا ہوں۔۔۔۔۔۔وہ عاجزانہ گویا ہوا
ہوں بولو۔۔۔۔نبیہہ نے سر ہلا کر رضامندی دی۔
“آئی لو یو سو مچ”۔۔۔۔۔تم میری زندگی میں آنے والی پہلی لڑکی ہو نبیہہ۔۔۔۔۔
اور آخری کون ہو گی۔۔۔۔؟؟ نبیہہ نے آنکھیں سکیڑ کر مشکوک انداز سے پوچھا
آخری بھی تم ہی ہو گی دیفینیٹلی۔۔۔۔
تو پھر تمہیں اسطرح سے کہنا چاہیے تھا کہ تم میری زندگی میں آنے والی پہلی اور آخری لڑکی ہو نبیہہ۔۔۔۔
غلطی سے اسطرح سے کہہ دیا اب کیا شوٹ کرو گی اس بات پر۔۔۔۔۔۔۔وہ چڑ کر بولا
اسکے چڑنے پر نبیہہ مسکرا دی۔
اچھا آگے بولو۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کی ناں دل خوش کرنے والی بات اب تم چپ رہ کر صرف مجھے سننا۔۔۔۔۔
ہوں۔۔۔۔۔نبیہہ نے سر ہلایا
گڈ تم بہت اچھی بیوی ثابت ہونے والی ہو بس میری ہر بات پر یونہی ہاں میں سر ہلاتی رہنا۔۔۔۔وہ مسکراہٹ دبا کر بولا
اب کے نبیہہ نے خاموشی سے گھوری دی۔
اسکی گھوری پر ہنستے ہوئے الحان نے اسے قید میں لے کر لیمپ آف کر دیا۔۔
“میرے سپنوں کو سدا یونہی مہکتے رکھنا
میں نے تھاما ہے تیرا ہاتھ بڑے مان کیساتھ”
……………………………………………..…….………
زندگی واقعی اتنی حسین تھی کہ نبیہہ کو ہی لگ رہی تھی۔۔۔۔وہ الحان ملک کی سنگت میں ہر گزرتے دن کیساتھ پہلے سے زیادہ حسین اور خوبصورت ہوتی جا رہی تھی۔ یہ سب الحان کیطرف سے ملنے والی توجہ اور محبت کا نتیجہ تھا۔۔۔الحان نبیہہ کی سوچ سے بھی زیادہ اچھا اور خیال رکھنے والا شوہر ثابت ہوا تھا۔۔۔۔وہ خود کو اس دنیا کی خوش قسمت ترین لڑکی سمجھنے لگی تھی جسے الحان ملک جیسا شوہر ملا تھا جو اسکی ہر بات پر بنا اعتراض کیے لب بیک کہتا تھا ہر خواہش، ہر فرمائش چٹکی بجاتے ہی پوری کر دیتا تھا۔ غرض ہر معاملے میں وہ بہت لونگ اور کئیرنگ ثابت ہوا تھا۔۔۔
دو مہینے الحان کی سنگت میں یوں پر لگا کر گزرے تھے کہ نبیہہ کو بھی حیرت ہوتی تھی کہ اتنی جلدی اتنے زیادہ دن گزر گئے۔۔۔۔
وہ دونوں اپنے ہنی مون سے واپس آ چکے تھے۔۔۔۔روٹین لائف شروع کرتے ہوئے الحان نے آفس جانا شروع کر دیا تھا اور نبیہہ ایک اچھی بیوی کے طور پر اسکے آفس جانے کے بعد بن سنور کر بے چینی سے اسکی واپسی کی منتظر رہتی۔۔۔۔
شادی کے بعد وہ خود کو بہت زیادہ بدل چکی تھی۔۔۔۔۔اپنی تمام تر توجہ الحان سمیت اسکے گھر کو دے چکی تھی جس گھر کو وہ اپنا گھر سمجھ بیٹھی تھی اس بات سے بےخبر کہ عورت کا شاید کوئی گھر “اپنا گھر” نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔۔!!
………………………………………………………
کتنی دیر لگے گی مزید۔۔۔۔۔الحان نے ریسٹ واچ دیکھتے ہوئے بےزاری سے یہ فقرہ تیسری بار دہرایا۔
کیا ہے۔۔۔۔نظر تو آ رہا ہے تیار ہو رہی ہوں پھر بار بار ڈسٹرب کرنا ضروری ہے کیا۔۔۔۔؟؟؟نبیہہ نے ائیررنگ پہنتے ہوئے مصروف سا کہا
پہلے تو تم تیار ہوتی نہیں تھی اور اب تم تیاری کی جان چھوڑتی نہیں ہو۔۔۔۔الحان بےزار سا بولا
تو تمہیں کیا مسلہ ہے میرے تیار ہونے سے۔۔۔۔؟؟
مجھے مسلہ تمہارے تیار ہونے سے نہیں بلکہ تیاری میں اتنی دیر لگانے سے ہے۔۔۔۔۔وہ خفگی آمیز بےزاری سا بولا
ہو تو رہی ہوں تیار اب اور کتنی جلدی کروں ہر تین منٹ بعد تم اپنا الارم بجانا شروع کر دیتے ہو۔۔۔۔۔
ہم لیٹ ہو رہے ہیں نبیہہ۔۔۔۔۔الحان نے پھر سے گھڑی پر نظر ڈال کر کہا
میں نہیں جا رہی تم اکیلے ہی چلے جاؤ۔۔۔۔وہ منہ پھلا کر خفگی سے کہتی بریسلٹ واپس رکھ کر قریبی چئیر پر جا بیٹھی۔
کم آن نبیہہ۔۔۔اٹھو یار پہلے ہی لیٹ ہو گئے ہیں اور تم جانتی ہو یہ پارٹی ہمارے ہی اعزاز میں ارینج کی گئی ہے اگر ہم ہی مہمانوں کی طرح جائیں گے تو ارحم کیا سوچے گا۔۔۔۔
میری طرف سے معذرت کر لیجئیے گا میں نہیں جا رہی۔۔۔۔
حد کرتی ہو یار چلو اٹھو شاباش۔۔۔ہری اپ جلدی کرو جو رہ گیا ہے اسے مکمل کرو ویسے مجھے تو کوئی کمی نہیں لگ رہی۔۔۔۔۔الحان نے پاس آتے ہوئے سج سنور کر بیٹھی نبیہہ کو گہری نظروں کے حصار میں لے کر کہا۔
میں نہیں۔۔۔۔
کم آن یار اٹھو۔۔۔۔الحان نے اسکا بازو پکڑ کر اٹھایا اور آئینے کے سامنے کھڑا کر دیا۔
جلدی سے ریڈی ہو کر آ جاؤ میں گاڑی میں انتظار کر رہا ہوں۔۔۔۔۔۔وہ کہہ کر اپنی گال نبیہہ کی گال سے رگڑتا کیز اٹھا کر کمرے سے نکل گیا۔
نبیہہ نے سر جھٹک کر باقی کی رہتی تیاری مکمل کی اور اپنا سیل اور پاؤچ اٹھاتی باہر نکل آئی۔۔۔
…………………………………….…..………………..
ارحم ابصار نے یہ پارٹی اپنے بیسٹ فرینڈ الحان ملک کی شادی کی خوشی میں ارینج کی تھی۔۔۔۔
پارٹی میں ارحم ابصار نے اپنے دوستوں کو انکی فیملیز سمیت انوائیٹ کیا تھا۔ اسکے علاوہ ارحم کے فادر ابصار علی نے بھی اپنے بہت سے جان پہچان کے لوگوں کو انوائیٹ کیا تھا جن میں محتشم ابراہیم بھی شامل تھا۔۔۔محتشم نہیں جانتا تھا کہ یہ پاڑتی کس کپل کی شادی کی خوشی میں ارینج کی گئی تھی۔۔۔۔وہ دو دن پہلے ہی لاہور سے اسلام آباد آیا تھا اور کل ہی ابصار علی نے اسے فون کر کے اس پاڑتی میں انوائیٹ کیا تھا کہ سب گولیگز کی گیٹ ٹو گیڈر ہو جائے گی۔
ابصار علی سینئر بیوروکریٹ تھے اور صفدر ابراہیم کے دوست اور کولیگ بھی تھے۔۔محتشم کے سول سروسز جوائن کرنے میں ابصار علی نے اسے کافی گائیڈ کیا تھا اور محتشم انکی اپنے فادر کے دوست اور اپنے سینئر آفیسر کے طور پر بہت عزت کرتا تھا اس لیے انکے فون پر منع نہیں کر پایا تھا اور اب وہ اپنے جاننے والے گیسٹس کیساتھ کھڑا گپ شپ لگا رہا تھا جب سامنے سے وہ پری زاد آتی دیکھائی دی۔۔۔۔۔
بلیک ساڑھی میں بالوں کو ڈھیلے سے جوڑے میں قید کیے بلیک تھری پیس سوٹ میں ملبوس اپنے شوہر الحان ملک کے قدم سے قدم ملا کر چلتی وہ قریب سے قریب تر آتی جا رہی تھی۔۔۔۔
انہیں آتے دیکھ کر محتشم جان چکا تھا کہ یہ پاڑتی کس کپل کے لیے ارینج کی گئی ہے اس لیے وہ چپ چاپ وہاں سے نکل جانا چاہتا تھا۔۔۔۔
اس نے ایک نظر اس پری وش کو دیکھنے کے بعد دوسری نظر نہیں ڈالی تھی اس ڈر کیساتھ کہ کہیں اس خوبصورت اور آئیڈیل کپل کو اسکی نظر نہ لگ جائے۔۔۔۔۔
پر وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ نظر تو لگ چکی ہے اس آئیڈیل کپل کو مگر اسکی نہیں بلکہ ابیرہ جبران کی۔۔۔۔۔۔۔!!
…………………………………….…..……….……