Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

ماضی 👉👉
نبیہہ نے خود کے پاس موجود ساری ڈاکومینٹس محتشم ابراہیم کو میل کر دی تھیں۔۔۔۔مگر آج پورے بیس دن ہو چکے تھے اور محتشم نے اسے کچھ بھی نہیں بتایا تھا کہ وہ ان ڈاکومینٹس کو دیکھ چکا ہے کہ نہیں یا پھر کیا سوچا ہے اس نے؟؟ وہ کیا کرے گا اس معاملے میں۔۔۔۔۔۔۔؟؟
شادی کے دن قریب آتے جا رہے تھے اور نبیہہ کی بےچینی بڑھتی جا رہی تھی۔ وہ جانتی تھی وہ ملک ہاؤس جا کر محتشم سے رابطہ نہیں کر پائے گی اس لیے یہیں سے اس کام کو کسے کنارے لگا کر ہی وہاں جانا چاہتی تھی۔
خوب سوچ بچار کے بعد نبیہہ نے سیل اٹھایا اور کنٹیکٹ لسٹ میں جا کر محتشم ابراہیم کے سیو کیے نمبر پر کال ملائی۔
محتشم ڈرائیونگ کر رہا تھا جب ڈیش بورڈ پر پڑا اسکا سیل وائبریٹ ہوا۔
ایک ہاتھ اسٹئیرنگ پر جما کر دوسرے ہاتھ سے سیل اٹھایا اور سکرین پر “نک چڑی” کے الفاظ جگمگاتے دیکھ کر اس نے مسکراتے ہوئے کال اوکے کی
اسلام علیکم۔۔۔۔!!محتشم ابراہیم اسپیکنگ۔۔۔۔۔۔ اسنے مسکراہٹ دبا کر سنجیدگی سے اپنے مخصوص لہجے میں کہا۔
وعلیکم سلام۔۔۔۔میں نبیہہ عباسی بات کر رہی ہوں۔۔۔
جی مس نبیہہ کہیے کیسی ہیں آپ اور مجھے یعنی کہ اپنے دور۔۔۔رر۔۔۔۔ر۔۔۔۔کہ رشتے دار کو کیسے یاد کیا۔۔۔۔؟
کیا ہم سنجیدگی سے بات کر سکتے ہیں۔۔۔۔۔نبیہہ نے اسکی غیر سنجیدگی پر غصہ دباتے ہوئے تحمل سے کہا
بلکل۔۔۔۔۔لیکن۔۔۔۔۔
لیکن کیا۔۔۔؟؟؟
لیکن کچھ نہیں۔۔۔۔آپ کہیں میں سن رہا ہوں۔۔۔۔۔وہ چہرے پر سنجیدگی طاری کرتا سنجیدگی سے بولا
میں نے آپ کو کچھ ڈاکومینٹس سینڈ کیے تھے۔۔۔۔
جی۔۔۔۔۔
آپ نے دیکھے وہ۔۔۔۔؟؟؟
دیکھ چکا ہوں۔۔۔۔پھر سے محتصر جواب آیا
تو اب آگے کیا کرنے کا سوچا ہے آپ نے۔۔۔۔۔۔؟؟
مس نبیہہ آپ نے جو ڈاکومینٹس بھیجے تھے میں انہیں اچھی طرح سے دیکھ چکا ہوں اور۔۔۔۔
اور۔۔۔۔۔؟؟؟ وہ بےچینی سے بولی
اور یہ کہ وہ ڈاکومینٹس وہ ثبوت کسی بھی پاورفل انڈسٹریلسٹ یا بزنس مین پر ہاتھ ڈالنے کے لیے ناکافی ہیں۔۔۔۔ان ثبتوں کی مدد سے آپ اخبار میں تو چند لائنیں لکھ سکتی ہیں لیکن کسی بھی سورس کو یوز کرتے ہوئے ملک سلطان پر کوئی کیس نہیں چلا سکتی کیونکہ ان ثبتوں کو چٹکیوں میں اڑا دیا جائے گا۔
میں نے وہ ثبوت بہت مشکل سے اکٹھے کیے تھے محتشم ابراہیم۔۔۔۔وہ روہانسی ہوئی
میں جانتا ہوں۔۔۔۔!میں یہ نہیں کہہ رہا کہ وہ بے کار ہیں وہ ہیلپ فل ہیں مگر اس طرح سے نہیں کہ انکی بیس پر ہم کسی مجرم کو اسکے کیے کی سزا دلوا سکیں۔
تو پھر اب۔۔۔۔۔محتشم کی بات سن کر وہ افسردگی سے بولی
پھر اب کچھ نہیں۔۔۔۔وہ کندھے اچکا کر بولا
آپ بھی کچھ نہیں کر سکتے اس معاملے میں۔۔۔۔وہ آہستگی سے بڑبڑائی
آپ کی کوئی ذاتی دشمنی ہے ملک سلطان سے۔۔۔؟؟؟جہاں تک میرے سننے میں آیا ہے دس پندرہ دن تک وہ آپ کے آفیشئل فادر ان لاء ڈکلئیر ہونے والے ہیں۔
وہ ایک مجرم ہیں۔۔۔۔۔وہ دانت پیس کر بولی
مجرم تو اور بھی بہت سے ہیں ہمارے اردگرد کیا آپ سب کو سزا دلوانا چاہتی ہیں۔۔۔۔؟؟
ہونگے لیکن میرا پہلا ٹارگٹ ملک سلطان ہی تھا کیونکہ وہ میرے سامنے بارہا اپنے جرموں کی تردید کی بجائے تصدیق کر چکے ہیں۔
میری مانیں تو چھوڑیں یہ سب اور اپنی آنے والی لائف پر توجہ دیں۔۔۔۔یہ ہیر پھیرایاں یہ بے ضبطگیاں۔۔۔غیر قانونی دھندے اٹس آل کرپشن اور ہمارے ملک میں ہر دوسرا بندہ کرپٹ ہے چاہے وہ کوئی چھوٹا بزنسمین ہو یا بڑا۔۔۔
یہ سب جرم ہمارے ہاں سرعام کیے جاتے ہیں کیونکہ ان کو کرنے والے کوئی چھوٹے موٹے دکان دار نہیں ہوتے جنہیں میں اور آپ دو ، چار دن میں سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیں۔۔۔۔ایسے مجرموں کو پکڑوانے کے لیے ٹیم ورک اور مکمل فوکس کی ضرورت ہوتی ہے پھر کہیں جا کر کئی مہینوں اور سالوں کی محنت کے بعد ہم اس قابل ہو پاتے ہیں کہ ایسے لوگوں کو سزا دلوانے کے لیے ان کے گریبان تک جا سکیں۔۔۔۔محتشم کی اس لمبی سی تقریر نے نبیہہ کو مزید مایوس کر دیا۔
ٹھیک ہے میں فون رکھتی ہوں۔۔۔۔۔وہ بے دلی سے بولی
آپ خفا ہو گئی ہیں۔۔۔۔۔؟؟
نہیں۔۔۔۔۔
نبیہہ میں پرامس نہیں کرتا لیکن جو مجھے سے ہو سکا میں ضرور کروں گا۔ اس معاملے میں مجھے بہت سے لوگوں کی مدد درکار ہو گی اور ان سب لوگوں سے ملاقات کے لیے وقت چاہیے جو فلحال میرے پاس بلکل بھی نہیں۔
ائیکچوئیلی مجھے کچھ پروجکٹس کے unexpected آڈرز آ چکے ہیں اور میں ان آڈرز کی بھاگ دوڑ میں لگا ہوں جیسے ہی فرصت ملتی ہے میں اس کیس کو لے کر مزید ثبوت اکھٹے کرنے کی کوشش کروں گا۔
جی۔۔۔۔وہ آہستگی سے بولی
مجھے اپنی شادی کا انویٹیشن نہیں دیں گی کیا۔۔۔۔۔؟؟ وہ پھر سے غیر سنجیدہ ہوا
جی آپ ضرور آئے گا مجھے خوشی ہو گی آپ کے آنے سے۔۔۔۔وہ مسکرا کر بولی
اگر میرے آنے سے آپ کو واقعی خوشی ہو گی تو پھر میں ضرور آؤں گا۔۔۔
جی بلکل آپ ضرور آئیے گا۔۔۔میں فون رکھتی ہوں پھر بات ہو گی۔۔۔۔۔وہ آہستگی سے کہتی کال ڈراپ کر گئی۔
لگتا ہے اب تو جانا ہی پڑے گا آخر کو نک چڑی نے بذات خود انویٹیشن دیا ہے۔۔۔وہ مسکرا کر کہتا گاڑی کو اسٹارٹ کرنے لگا جو وہ بات کے دوران سائیڈ پر پارک کر چکا تھا۔
…………………………………………….……………
نبیہہ آج تمہارا برائیڈل ڈریس لینے جانا ہے الحان سے بات ہوئی تھی میری تم اسکے ساتھ جا کر اپنی اور اسکی پسند سے لے آنا۔۔۔۔۔راعنہ نے نبیہہ کو کہا جو بکس ریکس کے سامنے کھڑی کتابیں آگے پیچھے کر رہی تھی۔
میری اور اسکی چوائس کبھی بھی ایک نہیں رہی ہے اس لیے آپ خود ہی لے آئیں جا کر۔۔۔۔
نبیہہ شادی تمہاری ہو رہی ہے اور تم ہو کہ بلکل بھی انٹرسٹ شو نہیں کر رہی لڑکیاں تو اپنی شادی کو لے کر اتنی ایکسائیٹڈ ہوتی ہیں۔۔۔۔
مجھے اس قسم کی شاپنگ سے سخت الرجی ہے آپ جانتی تو ہیں۔ جہاں ساری شاپنگ آپ نے کی ہے تو یہ بھی خود ہی کر لیں۔۔۔وہ بے زاری سے بولی
شادی زندگی میں ایک ہی بار ہوتی ہے نبیہہ۔۔۔۔راعنہ نے سمجھانا چاہا
ضروری تو نہیں۔۔۔۔۔کچھ لوگوں کی دو بار بھی تو ہو جاتی ہے۔۔۔۔وہ عام سے انداز میں بولی
کاش کہ نبیہہ کو اندازہ ہوتا کہ اسکی عام انداز میں کہی گئی بات اسکے ہی سامنے آنے والی ہے تو وہ کبھی بھی ایسی بات نہ کہتی۔مگر انسان کو معلوم ہی کب ہوتا ہے قبولیت کی گھڑی کا۔۔۔۔۔!
نبیہہ کی بات پر راعنہ نے ایک ملامتی نظر اس پر ڈالی اور سر جھٹکتی اسکے کمرے سے باہر نکل آئی۔
وہ جانتی تھی نبیہہ منع کر چکی ہے تو اب کم از کم کوئی بھی انسانی طاقت اسے برائیڈل ڈریس لانے کے لیے ساتھ نہیں لے جا سکتی تھی۔
………………………………………………..….…..
پلک جھپکتے ہی دن گزر گئے تھے اور آج مہندی اور مایوں کا فنکشن تھا۔
ساری ارینجمنٹ عباسی ہاؤس کے لان میں کی گئی تھی جہاں الحان ملک کی فیملی نے مہندی لے کر آنا تھا اور پھر سارا فنکشن یہیں کیا جانا تھا۔
نبیہہ اپنے کمرے میں ہی تھی جب ہاشم عباسی اسکے پاس آئے تھے۔
میری بیٹی کل رخصت ہو رہی ہے میں نے سوچا کچھ دیر ہم باپ بیٹی مل کر باتیں ہی کر لیں۔۔۔۔وہ افسردگی سے کہتے بیڈ پر نبیہہ کے سامنے ہی بیٹھے
باپ کی بات پر نبیہہ انہیں دیکھتی اداسی سے مسکرا دی۔
بابا میں آپ کو بہت مس کروں گی۔۔۔۔!
بابا کی جان بابا سے زیادہ دور نہیں ہو گی اس لیے جب دل چاہے تو وہ ملنے آ جایا کرے گی۔۔۔۔ہاشم عباسی نے مسکراتے ہوئے نبیہہ کے ہاتھ تھامے۔
باپ کے لمس پر وہ روتے ہوئے ان کے سینے سے لگ گئی۔
چند منٹ بعد ہاشم عباسی نے اسکی پشت سہلاتے ہوئے اسے خود سے الگ کیا اور محبت سے اسکے آنسو پونچھ ڈالے۔
بابا آئی ویل رئیلی مسڈ یو اٹس مچ ڈیفیکلٹ فار می۔۔۔۔۔
نو اٹس ناٹ ڈیفیکلٹ مائی ڈول۔۔۔۔۔چند دن ٹف لگے گا پھر سب سیٹ ہو جائے گا الحان بہت اچھا لڑکا ہے اور مجھے پورا یقین ہے وہ میری بیٹی کو بہت خوش رکھنے والا ہے اور ملک کی تم ٹینشن ہی مت لو وہ اوپری تم پر غصہ کرتا ہے ورنہ تم اسے بھی بہت عزیز ہو۔۔۔۔وہ تسلی دیتے مسکرائے
اور میں اپنی بیٹی کو تو جانتا ہی ہوں کہ میری بیٹی بہت سمجھدار ہے جو مجھے کسی بھی شکایت کا موقع نہیں دے گی۔۔۔جو بھی جھگڑے ہیں جو بھی شکائیتیں ہیں وہ سب تم یہیں چھوڑ کر جاؤ گی اور وہاں ایک اچھی بیوی اور اچھی بہو ثابت ہو گی۔۔۔۔ہوں۔۔۔۔۔وہ پیار سے سمجھاتے بلکل ایک ماں ہی لگ رہے تھے۔
جی۔۔۔۔نبیہہ نے آہستگی سے اثبات میں سر ہلایا
اور ایک بات۔۔۔۔۔
کونسی۔۔۔۔۔؟؟ نبیہہ نے سوالیہ نظروں سے باپ کے مسکراتے چہرے کو دیکھا میری بیٹی کو مجھ سے شادی کا کونسا گفٹ چاہیے۔۔۔؟؟
آپکی دعائیں۔۔۔۔وہ فورا سے بولی
وہ تو ہر لمحہ تمہارے ساتھ ہوں گی۔۔۔۔
بس پھر مجھے بھی ہر لمحہ آپکی دعاؤں کے علاوہ اور کچھ نہیں چاہیے۔۔۔وہ محبت سے کہتی انکے کندھے سے لگ گئی۔
میری بیٹی اتنی صابر کب ہوئی مجھے تو پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔۔وہ شرارت سے بولے
با۔۔۔۔با۔۔۔۔وہ خفگی سے انکے بازو پر ہاتھ مار کر بولی
ہمیشہ خوش رہو میری جان۔۔۔۔ہاشم عباسی نے مسکراتے ہوئے اسکے گرد بازو پھیلا کر سر پر بوسہ دیا۔
……………………………………….…..…..…….
نبیہہ مغرب کی نماز کیساتھ نوافل پڑھ کر فارغ ہوئی تھی جب ناک کر کے راعنہ عباسی اسکے کمرے میں داخل ہوئیں۔۔
نبیہہ یہ تمہارا آج کا ڈریس ہے جلدی سے پہن کر ریڈی ہو جاؤ بیوٹیشن آ رہی ہے کچھ دیر میں۔۔۔
جی نبیہہ نے سر ہلاتے ہوئے شاپنگ بیگ سے ڈریس نکالا پیلے رنگ کا خوبصورت سا ڈریس تھا جس پر گولڈن کلر کا نفیس کام ہوا تھا۔۔۔۔
میں یہ پہنوں گی۔۔۔۔۔؟؟وہ شرٹ ہاتھ میں پکڑے سوالیہ نظروں سے راعنہ کو دیکھتی بولی۔
ہاں یہ تمہارا مہندی کا ڈریس ہے تم یہ پہنو گی از دئیر اینی ایشو۔۔۔۔؟؟
پر میں تو ایسے ڈریسز نہیں پہنتی ہوں آپ جانتی تو ہیں۔
نبیہہ جو تم اب تک پہنتی آئی ہو وہ تمہاری بیچلرز ڈریسنگ تھی جینز اور کرتا اب تمہاری شادی ہو رہی ہے لہذا تمہیں اب ایسی ہی ڈریسنگ کرنی ہے اس لیے اس بات پر مزید بحث نہیں ہو گی۔۔۔۔یہ اٹھاؤ جلدی سے اور چینج کرو میں تب تک باقی کے انتظامات دیکھ لوں۔۔
ہوں۔۔۔۔نبیہہ نے ناک پھلا کر ہوں کہا اور کپڑے اٹھا کر ڈریسنگ روم چلی گئی۔
پتہ نہیں کب لڑکیوں والے شوق پیدا ہوں گے اس میں۔۔۔۔راعنہ اسکے ناک پھلانے پر مسکراتی ہوئی باہر نکل گئی۔
نبیہہ چینج کر کے واپس کمرے میں آئی اور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی ہو کر خود کو خالص لڑکیوں کی ڈریسنگ میں دیکھنے لگی۔
ہوں لگ تو اچھی رہی ہوں ویسے۔۔۔۔وہ مسکرا کر دوپٹے کو سر پر سیٹ کر رہی تھی جب ناک کر کے ایک الٹرا ماڈ گرل روم میں اینٹر ہوئی۔
ہائے نبیہہ۔۔۔آئی ایم نازنین۔۔۔
اوہ۔۔۔ہ۔۔۔آئیں پلیز نبیہہ نے مسکرا کر اسے خوش آمدید کہا
آپ ریڈی ہیں تو پھر میں میک اپ اسٹارٹ کرتی ہوں۔
جی۔۔۔۔۔نبیہہ سر ہلا کر خاموشی سے آئینے کے سامنے پڑی چئیر پر بیٹھ گئی۔
نازنین نے اپنی مہارت کو استعمال کرتے ہوئے چند ہی منٹوں میں اسے خوبصورت سی مہندی کی برائیڈ بنا کر دوپٹہ سیٹ کیا اور چند لفظوں میں نبیہہ کی تعریف کر کے اپنا سامان سمیٹتی کمرے سے باہر نکل گئی۔
اسکے جانے کے بعد نبیہہ نے خود کو آئینے میں دیکھا اتنی ہلکی پھلکی تیاری سے بھی وہ اس قدر بدل چکی تھی نبیہہ کو خود ہی یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ واقعی خود ہی ہے۔۔۔
وہ خود کو دیکھتی مبہوت سی کھڑی تھی جب راعنہ اندر آئی۔
واؤ لوکنگ سو پریٹی۔۔۔۔۔راعنہ کی تعریف پر نبیہہ نے شرما کر سر جھکا دیا
سو سویٹ نبیہہ۔۔۔۔وہ نبیہہ کی شرمیلی مسکان پر کھل کر مسکرائی نبیہہ کا شرمانا راعنہ کے لیے یقینا نیا تجربہ ہی تھا۔
اللہ تعالی تمہیں بہت سی خوشیوں سے نوازے سدا خوش رہو۔۔۔۔اس نے نبیہہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر دعا دی۔
تھینکس۔۔۔۔
اوں ہوں۔۔۔رونا نہیں بلکل بھی۔۔۔راعنہ نے اسکی آنکھوں میں جھلملاتے پانی کو دیکھ کر کہا۔
نبیہہ نے آنسو اندر ہی اندر پیتے ہوئے سر جھکا دیا۔
بہت پیاری لگ رہی ہو خدا نظر بد سے بچائے۔۔۔۔ابھی تم کمرے میں ہی رہو کچھ دیر تک الحان کی فیملی آ جائے گی تو پھر تمہیں باہر لے کر جائیں گے۔۔۔تب تک تم کچھ کھا پی لو میں کھانا بھجواتی ہوں۔۔۔
نہیں آنٹی مجھے بھوک نہیں ہے ابھی۔۔۔
شیور۔۔۔۔؟؟
ہوں۔۔۔۔۔نبیہہ نے مسکرا کر سر ہلایا
چلو پھر میں چلتی ہوں۔۔۔۔تم ریلکیس ہو جاؤ۔۔۔۔وہ نبیہہ کے کندھے کو پیار سے تھپکتی باہر چلی گئی۔
نبیہہ نے ٹشو سے آنکھوں میں آئی نمی کو رگڑا اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی بیڈ پر آ کر بیٹھ گئی۔
اسکی زندگی اسے ناجانے کس رخ لے جانے والی تھی وہ بیٹھ کر اس بارے میں سوچنے لگی۔
………………………………………………………….
نبیہہ کو کمرے میں بیٹھے ایک گھنٹہ ہونے والا تھا مگر اسے باہر لیجانے کو کوئی بھی نہیں آیا تھا۔
وہ اکتا کر اٹھتی ونڈو پین کے سامنے آ کھڑی ہوئی جہاں سے لان کا مکمل نظارہ اسکے سامنے تھا۔
الحان کی فیملی آ چکی تھی شاید ابھی ابھی آئی تھی اسی لیے سب ابھی مل ملا ہی رہے تھے۔
مہندی کے گانے کے بول نبیہہ کے کانوں میں بھی سنائی دے رہے تھے۔۔
وہ افسردگی سے کھڑی وہاں موجود لڑکے لڑکیوں کو دیکھ رہی تھی جو سفید کپڑوں کیساتھ گلے میں پیلے پٹے ڈالے کسی گانے پر ڈانس کرنے کو تیار کھڑے تھے۔۔۔
وہ پلٹ کر واپس بیڈ تک آئی دل میں عجیب سی سنسانی چھائی ہوئی تھی۔ آج وہ یہاں ہے اپنے گھر۔۔۔کل وہ وہاں ہو گی الحان ملک کے گھر۔۔۔۔
کتنا عجیب ہوتا ہے ناں ہم لڑکیوں کیساتھ کہ جن کا کوئی اپنا گھر نہیں ہوتا۔۔۔پہلے گھر ماں باپ کا ہوتا ہے اور پھر شوہر کا گھر۔۔۔۔۔
اپنا گھر۔۔۔۔۔؟؟؟اپنا گھر۔۔۔۔؟؟؟وہ ہتھیلی پر انگلی سے یہی الفاظ درج کیے جا رہی تھی۔۔۔۔۔جب بے چینی اور گھٹن بڑھ گئی تو وہ اٹھ کر پانی پینے کے لیے روم فریج کیطرف بڑھی مگر فریج میں پڑی بوتل خالی تھی۔۔۔وہ بوتل واپس رکھتی خود ہی کیچن سے پانی لینے کمرے سے باہر نکل آئی۔ آنکھوں میں آئی نمی بار بار راستے میں نظر آتی چیزوں کو دھندلا رہی تھی۔۔۔
سیڑھیوں کے پاس جا کر اس نے ہتھیلی سے آنکھوں کو زور سے رگڑ ڈالا اور جھکے سر سے زینے پر پہلا قدم ہی رکھا تھا کے پاؤں لڑکھڑا گیا اس پہلے کہ وہ گرتی دو مضبوط ہاتھوں نے اسے واپس اوپر کی جانب کھینچ لیا۔۔۔
نبیہہ اس ساری سچوئیشن میں خوفزدہ اور ساکت سی تھامنے والے کی شرٹ کو مضبوطی سے پکڑے اسکے سینے سے لگی اپنی دھڑکنوں کو اعتدال پر لا رہی تھی اور کچھ فاصلے پر پیلر کی اوٹ میں کھڑے احمد سیال نے یہ سین باخوبی اپنے سیل فون میں کیپچر کر لیا تھا۔۔
چند منٹ بعد نبیہہ خود کو کمپوز کرتی پیچھے ہوئی اور نظریں اٹھا کر اس مسیحا کو دیکھا جس نے اسے اتنے برے طریقے سے گرنے سے بچایا تھا۔۔۔
وہ بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا مبہوت سا، بنا پلک جھپکائے ، ایک ٹرانس کی کیفیت میں۔۔۔۔ایسی کیفیت جو جکڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور شاید وہ اسی کیفیت میں جکڑا اردگرد سے بیگانہ نبیہہ کے گلابی چہرے، سرخ ناک اور آنکھوں میں خوف اور نمی کو دیکھے جا رہا تھا۔۔۔۔
آپ۔۔۔۔۔۔۔۔!! نبیہہ کی سرگوشی پر محتشم ہوش میں آتا چونکا۔
ہوں۔۔۔ہاں۔۔۔جی۔۔۔۔وہ بوکھلاتا جلدی سے نظریں جھکا گیا
آپ کب آئے کیسے ہیں آپ۔۔۔۔؟؟نبیہہ خود کو مکمل طور پر کمپوز کر چکی تھی۔دل کی دھک دھک اور گرنے کا خوف بھی کافی حد تک زائل ہو چکا تھا۔
راعنہ آنٹی بتا رہی تھیں شاید آپ نہ آ پائیں شادی میں آپ اپنے پروجیکٹس میں بہت مصروف ہیں اس لیے۔۔۔۔
کاش کہ میں واقعی نہ آ پاتا۔۔۔وہ سر جھکائے نبیہہ کے پیروں کو تکے جا رہا تھا جو گولڈن اور وائٹ کمبینشن کے سینڈلز میں بہت اچھے اور بھلے لگ رہے تھے۔۔۔
کیا ہوا۔۔۔۔؟؟نبیہہ نے محتشم کی خاموشی پر اسکی جھکی نظروں کو دیکھ کر پوچھا
کچھ نہیں۔۔۔۔ایم فائن۔۔۔۔جی آنا تو مشکل ہی تھا پر مجھے اسلام آباد میں ایک دو کام تھے اس لیے چکر لگ گیا تو سوچا آپ کو بھی شادی کی مبارکباد دیتا جاؤں۔۔۔۔۔وہ ابھی بھی نظریں جھکائے ہی بات کر رہا تھا۔۔۔دل میں خوف تھا کہ ایک بار اگر نظر اٹھ گئی تو قیدی بننے میں دیر نہیں لگے گی اور وہ قیدی ہی تو نہیں بننا چاہتا تھا۔
تھینکس۔۔۔۔نبیہہ نے ہلکی سی مسکراہٹ کیساتھ مبارکباد پر شکریہ ادا کیا
میں چلتا ہوں اب۔۔۔۔بیسٹ آف لک فار یئور فیوچر۔۔۔۔۔وہ جلدی سے کہہ کر بنا نبیہہ کا جواب سنے جلدی سے سیڑھیاں پھلانگ گیا۔۔۔
نبیہہ نے پلٹ کر اسکی پشت کو دیکھا کیا یہ واقعی وہی محتشم ابراہیم تھا جو کال پر شرارت سے اسکی باتوں کو مذاق بناتا تھا۔
کیا ہوا اسے عجیب سا کیوں ری ایکٹ کر رہا تھا اور باتیں بھی ساری نظریں جھکا کر کیں۔۔۔۔حیرت ہے اتنے کانفیڈینٹ بندے کا یہ ری ایکشن۔۔۔۔وہ وہیں کھڑی سوچوں کے گھوڑے دوڑا رہی تھی جب الحان کی بہنیں اسکے پاس آ کھڑی ہوئیں۔
اسطرح سے اسٹیچو بنے کیوں کھڑی ہو الحان تو باہر ہے لان میں اور تم یہاں اسکی سوچوں میں مگن کھڑی ہو۔۔۔۔ثمن نے شرارت سے چھیڑا
ایسی کوئی بات نہیں آپا میں تو بس پانی لینے نکلی تھی۔۔۔۔
مان لیا بھئی ویسے بہت پیاری لگ رہی ہو الحان تو پہلے ہی تمہارا دیوانہ ہے کہیں تمہیں دیکھ کر آج ہی رخصتی کا نہ کہہ دے کیوں ثمر۔۔۔؟؟
بلکل آپا۔۔۔۔۔ثمر نے مسکرا کر بڑی بہن کی ہاں میں ہاں ملائی۔
آپ لوگ یہیں کھڑی ہیں ابھی چلیں نبیہہ کو لان میں لے کر سب انتظار کر رہے ہیں۔۔۔
جی آ رہیں ہیں۔۔۔۔راعنہ کی نیچے سے آئی پکار پر ثمن بلند آواز میں کہتی نبیہہ کو تھام کر سیڑھیاں اترنے لگی۔۔۔۔
نبیہہ پیاس سے گلے میں اگتے کانٹوں کو نظر انداز کرتی سر جھکا کر اپنی دونوں نندوں کیساتھ آگے بڑھتی چلی گئی۔
………………………………………..…………………
سنسان سی سڑک پر گاڑی سائیڈ پر پارک کیے وہ سر اسٹئیرنگ پر گرائے بیٹھا تھا۔
یہ کیا ہوا تھا اسکے ساتھ اچانک۔۔۔۔۔وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا خود کو اتنے محتاط طریقے سے لے کر چلنے پر بھی وہ یوں اسطرح ایک چھوٹے سے لمحے کی قید میں آ جائے گا۔۔۔۔
وہ۔۔۔۔وہ تو اس نک چڑی کو پہلے بھی کئی بار دیکھ چکا تھا پھر اب کی بار ایسا کیا خاص تھا اس میں جو وہ۔۔۔۔۔۔
نہیں۔۔۔۔!!مجھے خود کو اس لمحے کا قیدی نہیں بننے دینا۔
وہ کسی اور کی ہونے جا رہی ہے محتشم ابراہیم سنبھالو خود کو۔۔۔۔وہ عجب بے چینی سے سینے پر ہاتھ پھیرتا خود کو دلاسا دے رہا تھا۔
مگر دل تھا کہ قابو میں ہی نہیں آ رہا تھا چند منٹ بعد خود کو ڈھیلا چھوڑتے ہوئے محتشم نے لمبے لمبے سانس لیے یوں جیسے آکسیجن کی کمی محسوس ہو رہی ہو۔۔۔۔پھر اسٹئیرنگ سے سر اٹھا کر گاڑی کا دروازہ کھولا اور باہر سڑک پر آ گیا۔
کچھ دیر غائب دماغی سے ادھر أدھر دیکھنے کے بعد وہ مڑا اور گاڑی سے پانی کی بوتل نکال لایا۔۔۔پانی کے چند قطرے ہتھیلی پر گرا کر منہ پر مارے اور چند گھونٹ پانی اندر انڈیلنے پر اسے کچھ سکون کا احساس ہوا۔
چھوٹے چھوٹے گھونٹ بھر کر اسنے پانی سے بھری پوری بوتل خالی کی اور بوتل سائیڈ پر اچھال دی۔
خود ربوٹ کے سے انداز میں فٹ پاتھ پر بیٹھ کر سر ہاتھوں میں گرا لیا۔۔۔۔ناجانے کتنی دیر تک وہ اسی زاویے سے بیٹھا رہا۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر اٹھ کر اس نے گردن کو ورزش کے انداز میں دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں گھمایا گاڑی میں بیٹھا اور زن سے گاڑی بھگا لے گیا۔
اسکے چہرے کے تاثرات پتہ دے رہے تھے کہ وہ خود کو کمپوز کر چکا تھا۔
“میں جو یوں مر مٹا تم پے
اس لیے نہیں کہ۔۔!
تم حسن کی مورت ہو
اس لیے کہ۔۔!
تم سادگی میں قیامت ہو۔۔”
………………….……….………..………………