Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

“وہ رستے ترک کرتی ہوں
وہ منزل چھوڑ دیتی ہوں
جہاں عزت نہیں ملتی
وہ محفل چھوڑ دیتی ہوں؛
کناروں سے اگر میری
خودی کو ٹھیس پہنچے تو
بھنور میں ڈوب جاتی ہوں
وہ ساحل چھوڑ دیتی ہوں؛
مجھے مانگے ہوئے سائے
ہمیشہ دھوپ لگتے ہیں
میں سورج کے گلے پڑتی ہوں
بادل چھوڑ دیتی ہوں؛
تعلق یوں نہیں رکھتی
کبھی رکھا کبھی چھوڑا
جسے میں چھوڑتی ہوں
پھر مسلسل چھوڑ دیتی ہوں؛”
عباسی ہاؤس کے سامنے ٹیکسی رکی تھی۔۔۔۔۔گارڈ ٹیکسی رکتی دیکھ کر اس طرف متوجہ ہوا۔
پیسنجر سیٹ کا دروازہ کھولتی نبیہہ باہر نکل کر گیٹ کی طرف بڑھی تھی۔
رحیم چاچا ٹیکسی کا کرایہ دے دیں۔۔۔۔وہ گارڈ کے پاس آ کر بولی۔
جی بیٹا۔۔۔۔۔رحیم چاچا سر ہلاتے ڈرائیور کو کرایہ دینے بڑھ گئے اور نبیہہ گیٹ وا کرتی اندر داخل ہوئی۔
وہ بہت متوازن چال چلتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی۔۔۔۔اسکی چال اور چہرے پر موجود تاثرات بلکل بھی کسی انہونی کو ظاہر نہیں کر رہے تھے۔
وہ دروازہ کھول کر لاؤنج میں داخل ہوئی لاؤنج خالی تھا مگر ڈرائنگ روم سے راعنہ کے بولنے کی آوازیں آ رہی تھیں شاید کوئی گیسٹ آیا ہو۔۔۔
وہ اندازہ لگاتی اپنے کمرے میں جانے کی بجائے ہاشم عباسی کی اسٹڈی کیطرف بڑھ گئی۔۔
یقینا بابا اس وقت وہیں ہونگے۔۔۔۔۔وہ آہستگی سے چلتی ہوئی اسٹڈی تک آئی اور بنا ناک کیے دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گئی۔
اسکے کہنے کے مطابق واقعی ہاشم عباسی راکنگ چئیر پر جھولتے کسی کتاب کے مطالعے میں مصروف تھے۔
نبیہہ اسٹڈی کا دوازہ بند کیے بغیر ہی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی ان کے سامنے آئی۔۔
ہاشم صاحب نے گلاسز کے شیشے کے اوپر سے سامنے کھڑی نبیہہ کو دیکھا اور مسکرا کر کتاب بند کر کے گلاسز اتارے۔
واٹ آ پلیزنٹ سرپرائز سویٹ گرل۔۔۔۔وہ مسکرا کر کھڑے ہوئے اور نبیہہ کے ماتھے پر بوسہ دیا۔
کیسی ہے میری بیٹی۔۔۔۔۔؟؟
بابا مجھے آپ سے کچھ پوچھنا ہے۔۔۔۔انکی بات کے جواب میں وہ سپاٹ سا بولی۔
اسکے انداز پر ہاشم عباسی حیران ہوئے اور ہاں میں سر ہلا کر بات پوچھنے کی اجازت دی۔
آپ بیٹھ جائیں۔۔۔نبیہہ نے انکے دونوں بازو تھام کر واپس چئیر پر بیٹھایا اور خود کشن سامنے رکھ کر بیٹھ گئی۔
بابا آپکی اور ممی کی لو میرج تھی۔۔۔؟؟اس کا لہجہ بلکل سپاٹ تھا۔
ہاں۔۔۔۔ہاشم عباسی نے ناسمجھتے ہوئے بھی ہاں میں سر ہلایا۔
آپ ممی سے بہت محبت کرتے تھے ناں۔۔۔؟؟
ہوں۔۔۔۔۔
آپ کو لگتا ہے ممی بدکردار تھیں۔۔۔۔؟؟وہ ٹرانس میں بولی
نبیہہ۔۔۔ہ۔۔۔ہ۔۔۔ہ۔۔۔انہوں نے اونچی آواز میں تنبیہہ کی۔
بابا پلیز جو میں پوچھ رہی ہوں اس کا جواب دیں پلیز۔۔۔۔وہ انکا ہاتھ تھام کر ملتجی ہوئی
نہیں۔۔۔۔وہ سپاٹ سے بولے
آپ کو یقین تھا اپنی محبت پر۔۔۔۔؟؟
بات کیا ہے نبیہہ۔۔۔۔ہاشم عباسی پریشان ہو چکے تھے۔
آپ کو اپنی محبت پر یقین تھا ناں کہ وہ اتنا گر نہیں سکتی ہے۔۔۔۔
ہاں۔۔۔۔۔
پھر ممی نے سوسائیڈ کیوں کی بابا۔۔۔۔؟جب آپ کو ان پر یقین تھا آپ انکے ساتھ تھے پھر انہوں نے سوسائیڈ کر کے یہ ثابت کیوں کیا کہ ان پر لگے الزامات سچ تھے۔۔۔۔۔؟
نبیہہ ان سب باتوں کا مقصد۔۔؟ یہ سب باتیں تو تم نے تب بھی نہیں پوچھیں تھیں جب تم پوچھ سکتی تھیں پھر آج اتنے سالوں بعد کیوں۔۔۔۔۔؟؟وہ حیرانگی سے بڑبڑائے۔
کیوں کہ آج اتنے سالوں بعد پھر سے ایک اور لڑکی سنبل عباسی بن چکی ہے بابا پر مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہا میں خود پر لگے الزام کو سچ ثابت کرنے کے لیے کیا کروں۔۔۔۔۔کیونکہ میرے اصل سچ پر تو کوئی یقین نہیں کرے گا۔۔۔۔۔
کیسا الزام۔۔۔۔؟؟؟ ہاشم عباسی سینے پر ہاتھ پھیرتے بےچینی سے بولے۔
بدکرداری کا الزام۔۔۔۔۔نبیہہ نے پیر کا ناخن رگڑتے ہوئے دھماکہ کیا۔
اس دھماکے کی آواز نہ صرف ہاشم عباسی نے سنی بلکہ اسٹڈی کے دروازے میں کھڑے محتشم ابراہیم اور راعنہ عباسی نے بھی سنی تھی۔۔۔
محتشم کل رات ہی لاہور سے واپس آیا تھا دو دن ہی ہوئے تھے اسے اسلام آباد سے لاہور گئے کہ کل رات معیز ابراہیم بڑے بھائی کی طبیعت اچانک خراب ہونے کی وجہ سے انہیں ہوسپٹل لیجانا پڑا تھا اور محتشم یہ خبر سنتے ہی پہلی فلائیٹ سے واپس آ گیا تھا مگر صد شکر کہ کوئی سیریس مسلہ نہیں ہوا ڈاکٹرز نے اینجوگرافی کے بعد چند میڈیسن دے کر انہیں ڈسچارج کر دیا تھا۔۔۔اور اب وہ راعنہ سے ملنے ہی آیا ہوا تھا۔۔جانے سے پہلے ہاشم عباسی سے ملنے راعنہ کیساتھ اسٹڈی آیا تھا کہ یہاں نئی قیامت ٹوٹی ہوئی تھی۔۔۔
کس۔۔۔کس نے لگایا یہ الزام۔۔۔۔۔ہاشم مسلسل سینہ رگڑ رہے تھے۔
الحان ملک نے۔۔۔۔۔وہ آرام سے بولی جیسے اس پر نہیں بلکہ کسی اور پر لگے الزام کی بات کر رہی ہو۔۔۔۔
کیا۔۔۔۔کہا۔۔۔۔اس نے۔۔۔۔۔؟؟ وہ اٹک اٹک کر بولے
اس نے کہا کہ میں بھی اپنی ماں کی طرح بدکردار ہوں اور میرے بھی انکی طرح ناجائز تعلقات ہیں۔۔۔۔
اور پتہ ہے بابا اس نے جس شخص کیساتھ مجھ پر الزام لگایا ہے میں اس شخص کی بہت عزت کرتی ہوں میرے لیے وہ بہت ریسپیکٹیبل پرسن ہے۔۔۔۔اس شخص نے۔۔۔۔!
کون ہے وہ۔۔۔۔؟؟؟ اسکی بات کاٹ کر اب کے ہاشم صاحب نے سینے سے ہاتھ ہٹا کر بیٹی کے سپاٹ چہرے کو دیکھا جس پر طوفان گزر جانے کے بعد کی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔۔۔۔۔انہوں نے تو اپنی محبت اپنی بیوی پر لگے الزامات کو نہیں مانا تھا یہ تو پھر انکی بیٹی تھی انکے وجود کا حصہ وہ کیونکر یقین کرتے۔۔۔
محتشم ابراہیم۔۔۔۔۔۔!!
نبیہہ کے منہ سے نکلے اس دوسرے دھماکے نے سب کو ساکت کر دیا تھا اور سب سے بری حالت محتشم کی تھی جس نے اپنا نام سن کر فورا سے قریبی دیوار کا سہارا لیا تھا۔۔۔اپنی تیس سالہ زندگی کو اتنی احتیاط سے گزارنے پر بھی اسکی ذات کو ایک عورت سے نتھی کر دیا گیا تھا۔ عورت بھی وہ جو شادی شدہ تھی جسکی اسکے دل میں اتنی عزت تھی کہ اسنے کبھی اسے نظر بھر کر دیکھنے کی جسارت بھی نہیں کی تھی کہ کہیں اسکے دل کا چور نظروں سے آشکار نہ ہو جائے۔۔۔۔۔
پھر بھی۔۔۔۔۔پھر بھی۔۔۔یہ سب ہو گیا تھا۔
راعنہ نے اپنے ساکت وجود کو حرکت دی اور ہاتھ محتشم کے کندھے پر رکھ کر دباؤ ڈالا۔
محتشم نے گردن موڑ کر بہن کی آنکھوں میں دیکھا اور ان میں نظر آتے یقین کو دیکھ کر اسے ڈھارس ہوئی۔
میں بات کرتا ہوں الحان سے اسکی ہمت کیسے ہوئی میری بیٹی پر یہ الزام لگانے کی وہ بھی محتشم کیساتھ جس سے تم کبھی اکیلے میں ملی تک نہیں۔۔۔۔۔
نہیں بابا میں محتشم سے مل چکی ہوں اکیلے میں۔۔۔۔وہ باپ کی بات رد کرتی بولی۔
ہاشم عباسی نے سوالیہ نظروں سے بیٹی کو دیکھا۔
بابا میں محتشم سے ملک سلطان کے کیس کے سلسلے میں دو ، ایک بار مل چکی ہوں۔۔۔۔پر میں نہیں جانتی تھی کہ کسی کی اصلیت دنیا کے سامنے لانے کی یا پھر کسی کو مجرم ثابت کرنے کی سزا اتنی بھیانک ہو گی۔۔
مجھے اپنی بیٹی پر پورا یقین ہے۔۔۔۔۔تم فکر مت کرو میں ابھی ملک سے بات کرتا ہوں وہ لوگ اتنا گر گئے ہیں میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔۔۔۔ہاشم عباسی دلاسہ دیتے بولے۔
بابا وہ آپکی سوچ سے زیادہ گر چکے ہیں اس لیے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔۔۔الحان مجھے ڈائیورس دے چکا ہے آج ہی۔۔۔۔۔کچھ دیر پہلے۔۔۔۔تین دفعہ۔۔۔۔وہ انگلیاں مڑورتی ایک ہی وقت میں تیسرا دھماکہ کر چکی تھی۔۔
طلاق۔۔۔۔۔۔۔!!ہاشم عباسی بیٹھے سے کھڑے ہوئے۔
محتشم انکے اٹھنے سے پہلے ہی آندھی طوفان بنا وہاں سے نکل چکا تھا۔
راعنہ اسکے پیچھے ہی باہر آئی تھی۔ محتشم بات سنو۔۔۔رکو بات تو سنو۔۔۔۔وہ پکارتی ہوئی اسکے پیچھے ہی گیراج تک آئی۔
کہاں جا رہے ہو۔۔۔۔گاڑی کے پاس وہ محتشم کا بازو پکڑ کر بولی
میں اس الحان ملک کے پاس جا رہا ہوں یہ پوچھنے کہ ایسا کیا ملا اسے جسکی بنا پر اس نے اپنی پاکباز بیوی پر اتنا گھٹیا الزام لگایا۔
اس نے یہ الزام نبیہہ سمیت تم پر بھی لگایا ہے محتشم لیکن اسکا مطلب یہ نہیں کہ تم ابھی اسکے پاس چلے جاؤ کچھ دیر ٹہرو میں ہاشم سے بات کر لوں پھر چلے جانا۔۔۔۔
نہیں نناں۔۔۔۔۔وہ راعنہ کو نناں کہتا تھا۔
میں ابھی جاؤں گا آپ ہاشم بھائی کو دیکھیں جا کر۔۔۔۔وہ بہن کے بازو ہٹاتا گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی ریورس کرتا عباسی ہاؤس سے نکل گیا تھا۔
راعنہ اسکی گاڑی کے باہر نکل جانے پر واپس اندر کی جانب بڑھی تھی مگر لاؤنج میں نبیہہ ہاشم کا بازو تھامتی انہیں روک رہی تھی جبکہ وہ خود کو چھڑواتے باہر جانے کی کوشش کر رہے تھے۔
کیا ہوا۔۔۔۔راعنہ جلدی سے قریب آ کر بولی
آنٹی بابا کو روکیں پلیز یہ میری بات نہیں سن رہے۔
چھوڑ دو نبیہہ میں اس کمینے کو نہیں چھوڑوں گا جس نے میری بیٹی کی زندگی برباد کر دی۔۔۔۔ہاشم عباسی اپنا بازو نبیہہ کی گرفت سے چھڑواتے چیخے تھے۔
فار گاڈ سیک بابا وہ مجھے طلاق دے چکا ہے اب آپ وہاں جا کر کیا کریں گے۔۔۔۔۔۔
میں ملک سے حساب لوں گا وہ اس لیے میری بیٹی کو بہو بنا کر لے گیا تھا کہ اسکا بیٹا اتنے گندے الزامات لگائے اس پر۔۔۔۔۔۔
ہاشم کول ڈاؤن پلیز آپ بیٹھیں ذرا۔۔۔راعنہ کی پچکار پر انہوں نے غصے سے اسے دیکھا تھا۔
تم چپ رہو راعنہ اور سنبھالو اسے بھی انہوں نے نبیہہ کے ہاتھ جھٹکے اور تیر کی تیزی سے لاؤنج سے نکل گئے۔
ہاشم۔۔۔ہاشم پلیز خود ڈرائیو مت کیجئیے گا ڈرائیور کیساتھ جائیں ہاشم۔۔۔۔ہاشم۔۔۔۔وہ پکارتی جب تک ان تک پہنچی وہ گاڑی میں بیٹھ کر اسے زن سے گیٹ سے نکال چکے تھے۔
……………………………………………………….
نبیہہ کے جانے کے بعد الحان بھی گھر سے نکل آیا تھا اور اپنی گاڑی میں بیٹھ کر کہاں گیا کسی کو پتہ نہیں تھا البتہ ملک سلطان نے اپنی اسٹدی کی ونڈو سے پہلے نبیہہ کو اور پھر چند منٹ کے وقفے سے الحان کو جاتے دیکھا تھا مگر وہ پرسکون تھے کیونکہ الحان اور نبیہہ کے درمیان کمرے میں ہوئی گفتگو وہ سن چکے تھے ان کے کمرے میں موجود انٹرکام کی مدد سے۔۔۔۔
الحان کو اسٹڈی میں بلانے کے بعد انہوں نے اپنے بھروسے کی ملازمہ غفوراں کو بلوایا تھا اور کہا تھا کہ وہ الحان کے کمرے سے نکل آنے پر اسکے کمرے میں نبیہہ سے چائے کا پوچھنے جائے اور انٹرکام کا رسیور سیدھا کر آئے۔۔۔۔۔اور غفوراں نے اپنے صاحب کے حکم کے مطابق ایسا ہی کیا تھا اور ملک صاحب نے کیچن میں موجود دوسرے انٹرکام سے ان دونوں کی گفتگو باخوبی سنی تھی۔۔۔اور اب وہ ریلکیس سے سگار پی رہے تھے جب احمد سیال اجازت لے کر اسٹڈی میں داخل ہوا۔
بیٹھو سیال۔۔۔۔۔
احمد سیال شکریہ ادا کرتا قریبی کرسی پر بیٹھ گیا۔
اسٹڈی کے دروازے کیجانب دونوں کی پشت تھی۔۔۔۔
کیسا رہا پلان۔۔۔۔۔؟؟؟ وہ بے چینی سے بولا
ایک دم فٹ۔۔۔۔ملک صاحب پرسکون سا مسکرائے۔
مبارک ہو پھر تو۔۔۔۔۔۔
خیرمبارک۔۔۔۔۔تم۔۔۔۔۔۔
دروازے پر ہوتی دستک نے انکی بات بیچ میں ہی روک دی۔
یس۔۔۔۔۔وہ بلند آواز سے بولے
صاحب جی باہر کوئی محتشم ابراہیم آئے ہیں الحان صاحب کا پوچھ رہے ہیں۔
محتشم۔۔۔۔؟؟ملک صاحب کے کان کھڑے ہوئے
جی یہی نام بتایا انہوں نے۔۔۔۔چوکیدار مؤدب سا بولا
ہوں تم نے کیا کہا۔۔۔۔؟؟
میں نے کہا کہ الحان صاحب گھر پر نہیں ہیں تو وہ بولے کہ میں ملک سلطان سے مل لیتا ہوں۔
ہوں۔۔۔۔۔۔اس سے کہو ملک سلطان تم سے نہیں ملنا چاہتے اور اسے گیٹ سے اندر نہیں آنے دینا اب تم جاؤ۔
جی۔۔۔۔۔۔۔ملازم سر ہلاتا واپس مڑ گیا مگر جاتے ہوئے وہ دروازہ آدھے سے زیادہ کھلا چھوڑ گیا تھا چونکہ ملک سلطان اور احمد سیال کی اس طرف پیٹھ تھی اس لیے دونوں ہی کھلے دروازے کو دیکھ نہیں پائے تھے۔
بڑی فاسٹ سروس ہے بھئی اس لڑکی کی ابھی گھر تک بے شک پہنچی نہ ہو اپنے چیلے کو اطلاع بھی کر دی۔
کہیں سچ میں دونوں کا کوئی چکر تو نہیں۔۔۔۔۔۔ملک سلطان مکروہ مسکراہٹ چہرے پر سجا کر بولے۔
ارے نہیں ملک صاحب۔۔۔محتشم ابراہیم اس معاملے میں بہت شریف ثابت ہوا ہے میں نے اسکی پوری ہسٹری چیک کی ہے بلکل صاف شفاف بندہ ہے عورت ذات کے معاملے میں۔۔۔۔۔
ہوں گڈ۔۔۔۔پر اب اس صاف شفاف بندے پر چھینٹا پڑ چکا ہے۔۔
ہاہاہاہا۔۔۔۔۔ملک صاحب کی بات پر دونوں نے یک آواز ہو کر قہقہہ لگایا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔
تمہارے صاحب کدھر ہیں۔۔۔۔۔ہاشم عباسی نے لاؤنج میں داخل ہو کر غفوراں سے پوچھا جو ڈسٹنگ کر رہی تھی۔
اسلام علیکم صاحب جی۔۔۔۔۔وہ ہاشم عباسی کو دیکھ کر جھاڑن رکھتی انکی طرف آئی۔
و علیکم سلام۔۔۔۔الحان اور ملک کدھر ہیں۔؟؟
وہ جی الحان صاحب تو کچھ دیر پہلے باہر گئے ہیں اور ملک صاحب اسٹڈی میں ہیں۔
ہوں۔۔۔۔ہاشم عباسی اسکی بات سن کر سر ہلاتے سیڑھیاں چڑھ گئے کیونکہ ملک سلطان کی اسٹڈی سیکنڈ فلور پر تھی۔
وہ اسٹڈی کے پاس پہنچے کہ دروازہ آدھے سے زیادہ کھلا ہوا تھا وہ اندر داخل ہونے ہی لگے تھے کہ اندر سے آتے قہقہوں کے بعد اپنا نام سن کر رک گئے۔
ہاشم صاحب پر تو بہت بڑی قیامت ٹوٹی ہے دوسری بار بہت صدمے میں ہوں گے پہلے بیوی اور اب بیٹی۔۔۔۔احمد سیال ظاہری افسردگی سے بولا۔
اوں ہوں۔۔۔۔۔وہ اس فیز سے پہلے بھی گزر چکا ہے اس لیے تجربہ ہے اسے سہنے کا۔۔۔۔ملک سلطان سگار کا کش لے کر استہزائیہ بولے۔
یہ تو ہے پر اس بار بیٹی ہے جس پر آپکے بیٹے نے الزام لگایا ہے بازپرس تو کرنے آئیں گے ہی۔۔۔۔
تو آ جائے میں خود کو اس قصے سے لاتعلق ظاہر کر دوں گا اور الحان کی لندن کی ٹکٹ کروا دو ایک دو دن میں اسے وہاں ثمر کے پاس بھیج رہا ہوں وہ سنبھال لے گی اسے۔۔۔۔۔یہاں یہ لوگ اسے سکون سے رہنے ہی کب دیں گے۔۔۔ملک صاحب تنفر سے بولے تھے۔
بجا فرمایا۔۔۔۔۔
ملک صاحب وہ تصویریں۔۔۔۔۔۔؟؟
وہ میں نے الحان کے گھر سے جاتے ہی اسکے بیڈ روم سے اٹھوا کر ضائع کر دی ہیں اب ان تصویروں کا کوئی نام و نشان نہیں ہے ہاشم پوچھے گا تو میں اسے وہ تصویریں دکھاؤں گا جو تم نے مہندی کی رات اور ارحم کی پارٹی میں لیں تھیں نبیہہ اور محتشم کی وہ تصویریں سچ تھیں جسے نہ تو محتشم جھٹلا سکے گا اور نہ ہی نبیہہ۔۔۔وہ مسکرائے
سنبل عباسی کی ہسٹری پھر سے رپیٹ ہو رہی ہے ملک صاحب۔۔۔۔احمد سیال آنکھ دباتا بولا۔
سنبل کے نام پر ہاشم عباسی سرک کر مزید آگے ہوئے ان کا چہرہ لٹھے کی مانند سفید پڑ چکا تھا جو بلکل بھی اچھا تاثر نہیں دے رہا تھا وہ ایک ہاتھ سینے پر رکھے ہوئے درد برداشت کرنے کیساتھ اپنے جگری یار کی زہر آلود باتیں بھی سن رہے تھے۔
زندگی کیساتھ ساتھ دوستی بھی انکے ہاتھوں سے آہستگی سے سرکتی جا رہی تھی۔۔۔
ہوں۔۔۔۔۔سنبل عباسی۔۔۔۔۔انہوں نے ہنکارا بھرا۔
کیا عورت تھی یار۔۔۔۔اسکے جلدی چلے جانے کا دکھ مجھے آج تک ہے۔۔۔۔۔ملک صاحب افسردگی سے بولے تھے۔
پر تھی پوری شیرنی مجھے تو کبھی کبھی نبیہہ عباسی میں بھی انکی جھلک دکھتی تھی۔۔۔۔۔۔۔احمد سیال ماضی کو یاد کرتا بڑبڑایا۔
ہوں ماں کا کچھ اثر تو ہونا ہی تھا بیٹی پر۔۔۔۔پر مجھے اس شیرنی سے خودکشی جیسی بزدلی کی امید نہیں تھی۔۔۔۔میں نے تو ابھی اور بہت سا وقت اسکے ساتھ رنگین کرنا تھا اتنے لمبے صبر کے بعد صرف ایک رات کافی نہیں تھی میرے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کے لیے۔۔۔۔وہ کمینگی اور گندگی کی انتہا پر جا کر بولے تھے۔
جی ملک صاحب پر وہ جس طرح سے پھنس چکی تھی اسکے بعد باعزت زندگی جینا اسکے لیے مشکل تھا تبھی تو وہ یہ سب کر گئی۔۔
بہرحال جو بھی تھا وہ ایک رات جو میں نے اسکی سنگت میں گزاری تھی میری باقی سب راتوں پر بھاری اور دلکش تھی۔۔۔۔ملک سلطان آنکھوں میں شیطانیت لیے ماضی کی کوئی رات یاد کر کے مسکرائے۔
ہاشم عباسی کے لیے مزید وہاں رکنا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔
ملک صاحب وہ محتشم ابراہیم کا دوست جو اینٹیلی جینس میں ہے جسے اس نے آپ کا کیس دیا تھا ثبوت اکھٹے کرنے کے لیے۔۔۔
ہاں۔۔۔۔۔
وہ آپکے پرانے کھاتے کھلواتا پھر رہا ہے اور میرے خیال سے اسے وہ ریپ کیسز پر کچھ مواد مل چکا ہے۔
واٹ۔۔۔۔۔ملک سلطان بیٹھے سے کھڑے ہوئے
یہ تو پندرہ ، سولہ سال پرانے کیس ہیں۔۔۔
ملک صاحب صرف پندرہ ، سولہ سال پرانا ریکارڈ ہے کھلوانے والے پچاس سالہ پرانا ریکارڈ بھی کھلوا لیتے ہیں۔۔
تو تمہیں کس کام کے پیسے دیتا ہوں میں۔۔۔۔جیسے بھی کرو بس جلد سے جلد ان ریکارڈز کو ضائع کروا دو ۔۔پیسے کی فکر مت کرنا جتنا بھی لگ گیا اس معاملے میں لگا دینا۔۔۔۔
جی ملک صاحب تھوڑا وقت لگے گا پر کام ہو جائے گا۔
ہوں گڈ مجھے تم سے یہی امید تھی۔۔۔ملک صاحب ریلیکس ہوتے مسکرا دیے۔
ہاشم عباسی اپنی دوستی کی دھجیاں بکھرتے دیکھ اور سن رہے تھے۔۔۔۔سینے سے اٹتھی ٹیسوں کو برداشت کرتے وہ اندر جانے کی بجائے واپس مڑ گئے۔
وہ جلد سے جلد گھر پہنچ کر محتشم سے رابطہ کرنا چاہتے تھے۔۔۔
گاڑی میں بیٹھ کر انہوں نے گاڑی ملک ہاؤس سے باہر نکالی اور سینے کو سہلاتے ہوئے گاڑی فل اسپیڈ پر چھوڑ دی۔۔۔وہ جلدبازی میں اپنا سیل آتے ہوئے اپنی اسٹڈی میں ہی چھوڑ آئے تھے ورنہ اتنا رش ڈرائیو نہ کرتے۔۔۔۔
سینے میں اٹھتی تکلیف ناقابل برادشت ہو چکی تھی وہ گاڑی روکنا چاہتے تھے مگر انکے ہاتھ پاؤں بےجان ہو چکے تھے وہ چاہنے کے باوجود بھی بریک پر پاؤں کا دباؤ نہیں ڈال سکے اور سینے پر ہاتھ رکھتے جھکتے چلے گئے تھے۔۔۔
گاڑی بےقابو ہوتی بائیں جانب لڑکھتی ہوئی درخت سے زوردار طریقے سے ٹکرائی تھی۔۔۔۔۔ایک زور دار دھماکا ہوا تھا اور اسکے ساتھ ہی ہاشم عباسی کے جسم کے ساتھ ان کا دماغ بھی بےجان ہوتا تاریکی میں ڈوب گیا تھا۔
…………………………………………….…….…
محتشم ابراہیم ملک ہاؤس سے واپس ابراہیم ولا آ گیا تھا۔
اپنے کمرے میں ادھر سے أدھر ٹہلتے ہوئے اسکا سرخ چہرہ اسکے اندر کی بےچینی اور غصے کا پتہ دے رہا تھا۔۔۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ الحان ملک کو شوٹ کر دے۔۔۔۔جس کی گندی ذہنیت نے بنا کسی ٹھوس ثبوت کے اپنی بیوی کو اپنی زندگی سے ہمیشہ کے لیے بےدخل کر دیا تھا۔۔۔۔۔
تم سے زیادہ بد نصیب اور گنہگار انسان کون ہو گا الحان ملک جس نے اپنی پاکباز بیوی پر اتنا رکیک الزام لگا دیا۔
اس عورت کو میں نے ہمیشہ عزت کی نگاہ سے دیکھا اور تم نے میرے ہی ساتھ جوڑ کر اسکی عزت کی دھجیاں بکھیر دیں۔۔۔
تف ہے تم پر الحان ملک تف۔۔۔۔۔تم انسان کہلوانے کے بھی لائق نہیں رہے۔۔۔۔مگر ایک بات یاد رکھنا تم نے اس عورت کو میری ذات سے نتھی کر کے الزام لگایا ہے جو مجھے بہت عزیز ہے اور میں محتشم ابراہیم تمہیں ہر گز اسکے لیے معاف نہیں کروں گا۔۔۔۔نہیں چھوڑوں گا میں تمہیں۔۔۔۔۔۔ہر گز نہیں۔۔۔۔محتشم نے غصے سے چلاتے ہوئے ہاتھ میں پکڑا موبائل پوری طاقت سے دیوار پر دے مارا۔
…………………………………………………………
آج جب دن چڑھا تھا تو سب کچھ نارمل تھا روزانہ کیطرح۔۔۔۔۔۔
نبیہہ عباسی نے بھی اپنے دن کا آغاز معمول کیمطاںق ہی کیا تھا مگر اختتام بلکل بھی معمول کے مطابق نہ ہوا تھا۔
صبح جب وہ اٹھی تھی تو اسکے دو اہم رشتے اس کے پاس تھے اور اب جب وہ سونے لگی تھی تو وہ دو رشتے اس سے بچھڑ چکے تھے۔۔۔۔۔چھن چکے تھے۔۔
کسی بھی لڑکی کی زندگی میں باپ اور شوہر دو اہم رشتے دو اہم ستون ہوتے ہیں جنکے گرد ایک لڑکی کی زندگی گھومتی ہے۔۔۔۔پہلے وہ باپ کی لاڈلی ہوتی ہے اور پھر شوہر کی بن جانتی ہے۔۔۔۔۔۔۔
نبیہہ بھی شادی سے پہلے ہاشم عباسی کی اور شادی کے بعد الحان ملک کی لاڈلی تھی۔۔۔۔پھر اچانک یہ کیسی ہوا چلی تھی کہ جو سب کچھ بہا لے گئی تھی۔۔۔۔اب وہ خالی دامن خالی ہاتھ لیے رات کی تاریکی میں اکیلی بیٹھی تھی۔ جسکے پاس نہ شوہر رہا تھا اور نہ ہی باپ۔۔۔۔
شوہر شک کی انتہا پر پہنچ کر چھوڑ گیا تھا۔
اور باپ۔۔۔۔!
باپ دکھ کی انتہا پر پہنچ کر چھوڑ گیا تھا۔
خاموشی سی خاموشی تھی اور اس خاموشی میں ہی نبیہہ عباسی نے اپنے سارے دکھ سارے درد اور سارے غم چھپا لیے تھے۔۔۔۔۔۔۔
……………………………………………………
گاڑی کے ایکسیڈینٹ کے ساتھ ہی ہاشم عباسی کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا اور وہ وہیں جان کی بازی ہار گئے تھے۔۔۔۔اردگرد موجود لوگوں نے انہیں ہوسپٹل پہنچایا تھا مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔۔۔۔۔چونکہ وہ شہر کے مشہور ہارٹ اسپیلسٹ تھے اس لیے ہسپتال کا عملہ انہیں جانتا تھا یوں تھوڑی تگ ودو کے بعد انکی ڈیڈ باڈی عباسی ہاؤس پہنچا دی گئی تھی۔۔۔۔
برسوں بعد آج پھر سے عباسی ہاؤس کی درودیوار پر غم کے سائے چھا گئے تھے۔۔۔۔۔
نبیہہ نے باپ کی میت کو دیکھ کر بھی کوئی آنسو نہیں بہایا تھا۔۔۔اسکے آنسو تو تبھی منجمند ہو چکے تھے جب الحان ملک نے اس پر ہاتھ اٹھایا تھا اسںکے وجود پر بدکرداری کا لیبل چپکایا تھا۔۔۔تب سے اب تک پانی کا ایک قطرہ بھی اسکی خشک آنکھوں کو گیلا نہیں کر سکا تھا۔۔۔۔وہ پتھر کی نہیں تھی پر اب پتھر کی ہو چکی تھی۔
وہ پتھر جو اپنے غم ، دکھ ،درد اور خوشیاں اپنے اندر ہی سمو لیتا ہے کسی کو بھی خبر دیے بغیر۔۔۔۔۔۔۔۔!
سنو۔۔۔۔!!
میں اب پتھر کی ہو چکی
اور مجھے پتھر بنانے میں
تمہارا کمال ہے”؛
……………………………………………………