No Download Link
Rate this Novel
Episode 16
ملک سلطان کی سیکرٹری نے ملک سلطان کی اجازت کے بعد محتشم کو انکے آفس جانے دیا تھا۔
محتشم مستحکم چال چلتا ملک سلطان کے آفس میں داخل ہوا۔۔
ملک سلطان سگار منہ میں دبائے اپنی چئیر پر آگے پیچھے جھول رہے تھے جبکہ ان کا چمچہ احمد سیال بھی کچھ فاصلے پر موجود صوفے پر براجمان تھا۔
آئیں آئیں محتشم ابراہیم صاحب آپ نے کیسے اپنی مصروفیت میں سے ہم چھوٹے لوگوں کے لیے وقت نکال لیا۔۔۔۔وہ سگار کا کش لیتے طنزیہ بولے۔
آپ نے مان ہی لیا ملک صاحب کہ آپ کا شمار چھوٹے لوگوں میں ہوتا ہے۔۔۔۔محتشم نے ہاتھ سے چھوٹے ہونے کا اشارہ کیا۔
تم جو چاہے کہہ سکتے ہو۔۔۔۔محتشم ابراہیم میں تمہاری کسی بات کا برا نہیں مناؤں گا۔
اونہہ۔۔۔۔۔برا نہیں منائیں گے۔۔۔محتشم نے ایک خون آلود نگاہ ملک سلطان کے دھواں چھوڑتے چہرے پر ڈالی تھی۔
آپ۔۔۔۔۔۔۔ملک صاحب آپ ایک انتہائی گرے ہوئے انسان ہیں۔۔۔۔میں یہاں آپ کو دھمکی دینے نہیں آیا صرف اتنا بتانے آیا ہوں کہ اوپر والا آپ کو ڈھیل دے کر آپکی رسی دراز کر رہا ہے مگر یہ مت بھولئیے گا کہ جب وہ رسی کھینچتا ہے تو آپ جیسے درندے پر بھی نہیں ہلا سکتے اور میں اب منتظر رہوں گا کہ کب قدرت آپ سے ان سب معصوم لڑکیوں کی لوٹی گئی عصمتوں کا حساب لے گی جو اپنی مجبوریوں کے تحت آپکے پاس چند پیسے کمانے آتی تھیں اور آپ انکی مجبوریوں کا ناجائز فائدہ اٹھا کر انہی پیسوں کی عوض انہیں اپنی ہوس اپنی درندگی کا شکار بناتے تھے۔۔۔۔۔محتشم نے رک کر پھر سے نفرت زدہ نظروں سے ملک سلطان کو دیکھا جو آنکھیں سکیڑے اسے ہی دیکھ رہے تھے۔
اور یہی نہیں ملک صاحب آپ نےتو اپنے نفس کی گندگی میں دوستی جیسے عظیم رشتے کی بھی دھجیاں بکھیر دیں۔۔۔۔ہاشم عباسی کو اپنا جگری دوست کہتے تھے ناں آپ اور اسی جگری یار کے گھر کی خوشیوں کو بھی کھا گئے۔۔کسقدر گندی ذہنیت کے مالک ہیں آپ۔۔۔۔!!
آپ نے ہاشم عباسی کے آؤٹ آف کنڑی جانے کا فائدہ اٹھا کر سنبل عباسی کا ریپ کیا۔۔۔۔وہ دکھ سے بولا
اور صرف ریپ پر اکتفا نہیں کیا آپ نے اس معصوم عورت کو بےعصمت کرنے کی تصویریں بھی لیں اور انہی تصویروں سے آپ نے اس پر بدکرداری کا دھبہ لگایا صرف اس لیے کہ اس عورت نے آپکی آئندہ ہوس پوری نہ کرنے اور سبکو آپکی اصلیت بتانے کی دھمکی دی تھی۔۔۔آپ نے بازی اسی بیچاری عورت پر الٹ دی۔۔۔۔اسکی بےگناہ عورت کی خودکشی آپ کے سر ہے ملک صاحب ڈرئیے اس دن سے جب سب مل کر آپ کا گریبان دبوچیں گے تو کیا کریں تب آپ۔۔۔۔۔؟
آپ جیسا نیچ گندہ اور گھٹیا دل و دماغ کا انسان میں نے آج تک نہیں دیکھا جس نے دوست تو دوست اپنے بیٹے کی خوشیوں کو بھی ڈس لیا۔۔۔۔۔۔۔محتشم آج سارے حساب بےباک کر کے جانا چاہتا تھا وہ قانونی طور پر نہ سہی لیکن زبانی طور پر ملک سلطان کو انکے کیے گئے گناہوں اور جرموں کی فہرست یاد کروا کر ہی وہاں سے جانا چاہتا تھا۔
جو کھیل آپ نے سنبل عباسی کیساتھ کھیلا وہی کھیل آپ نے دس سال بعد اسکی بیٹی کیساتھ کھیلا اور اس کھیل میں آپ کا کانوں کا کچا اور آنکھوں کا اندھا بیٹا بھی انجانے میں ملوث ہے۔۔۔۔آپ کا خون تھا تو آپ کا اثر تو لینا ہی تھا اسنے بھی۔۔۔۔۔
آپ لوگوں نے نبیہہ کے پاک وجود کو میرے وجود سے نتھی کر کےجو کیچڑ اچھالا تھا میں نے اسی کا بدلہ لینے کے لیے پورے ایک سال کی محنت سے آپ کے خلاف اتنے ثبوت اکٹھے کیے تھے کہ اس ملک کہ سوئے قانون دانوں کو جگا کر آپکو ہتھ کڑی لگوا سکوں مگر افسوس اس بار بھی آپ جیت گئے۔۔
مگر یاد رہے قدرت کی لاٹھی بے آواز ہے اور مجھے یقین ہے یہ لاٹھی بہت جلد آپ پر برسے گی اور اسقدر برسے گی کہ پناہ کی کوئی صورت نہیں ہو گی آپ کے پاس۔۔۔نہ زندوں میں رہیں گے اور نہ ہی مردوں میں۔۔۔۔
اپنے کیے کا بھگتان بھگت کر ہی آپ اس دنیا سے جائیں گے۔۔۔
جتنی زندگیاں آپ برباد کر چکے انکا حساب اس دنیاوی عدالت میں نہ سہی آخروی عدالت میں ضرور پائیں گے۔
کیونکہ آپ انسانیت سمیت سب رشتوں پر ایک دھبہ ہیں ملک صاحب ایک بھیانک دھبہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !!!
وہ ایک ہی سانس میں ساری باتیں سنا کر راستے میں پڑی چئیر کو ٹھوکر مارتا انکے آفس سے نکل گیا۔
بڑی لمبی زبان ہے اس کی۔۔۔۔۔احمد سیال نے ملک سلطان کے چہرے کے تاثرات دیکھتے ہوئے کہا۔
ہوں۔۔۔۔انہوں نے مندے مندے لہجے میں ہوں کہہ کر سر ہلایا کہ پیچھے سے الحان آفس میں داخل ہوا۔
محتشم ابراہیم جو کہہ کر گیا ہے کیا وہ سچ ہے۔۔۔۔؟؟وہ ملک سلطان کے ٹیبل کے عین سامنے آ کھڑا ہوا جہاں سے ابھی محتشم گیا تھا۔
ملک صاحب بیٹے کی سرخ رنگت دیکھتے چئیر سے اٹھ کھڑے ہوئے
تم الحان بیٹا۔۔۔۔
مت کہیں مجھے بیٹا۔۔۔۔مجھے میرے سوال کا جواب چاہیے کیا محتشم ابراہیم نے جو کہا وہ سچ تھا۔۔۔۔؟؟
کیا واقعی آپ اتنے گرے ہوئے انسان ہیں۔۔۔۔۔۔؟؟
الحان۔۔۔۔۔۔ن۔۔۔۔
پلیز۔۔۔۔پلیز ملک صاحب اب مزید کوئی غلط بیانی نہیں آپ نے جو کرنا تھا کر چکے۔۔۔اپنے دوست سے اسکی محبوب بیوی چھین چکے۔۔۔۔مجھ سے میری محبت چھین لی۔۔۔اور ناجانے کتنی لڑکیوں کی زندگی برباد کر چکے ہیں آپ۔۔۔۔
آپ ملک صاحب آپ تو انسان کہلوانے کے بھی لائق نہیں۔۔۔محتشم نے ٹھیک کہا آپ انسانیت سمیت ہر رشتے پر بہت بھیانک دھبہ ہیں۔
میرا آپ سے کوئی تعلق نہیں۔۔۔۔سنا آپ نے۔۔۔میں الحان ملک ملک سلطان آپ سے اپنا ہر رشتہ ختم کرتا ہوں۔۔۔۔نہ میرا کوئی باپ ہے اور نہ ہی میں کسی کا بیٹا۔۔۔۔آج کے بعد مجھ سے کسی قسم کے رابطے کی کوشش مت کیجئیے گا سمجھے آپ۔۔۔۔۔غصے سے اسکے گلے کی نسیں پھول چکی تھیں ایک قہر آلود نظر ملک سلطان کے پتھریلے چہرے پے ڈالتا وہ آفس سے نکل گیا۔
پیچھے ملک سلطان ساکت وجود لیے کھڑے تھے وہ چاہ کر بھی اسے روک نہیں پائے تھے۔۔
………………………………………………………
الحان اسی دن ابیرہ کو لے کر ملک ہاؤس سے اپنے فلیٹ میں شفٹ ہو گیا تھا۔۔۔چند دن تنہائی میں اپنے اجڑنے کا اپنی زندگی کو اپنے ہاتھوں اجاڑنے کا سوگ منایا وہ نبیہہ سے مل کر اپنے کیے گئے گناہ کی معافی مانگنا چاہتا تھا وہ انجانے میں ایک پاکباز عورت پر تہمت لگا کر جو گناہ کر بیٹھا تھا وہ ناقابل معافی تھا جسکا کوئی کفارہ بھی ادانہیں ہو سکتا تھا۔۔۔سب کچھ وہ خود گنوا بیٹھا تھا شک نے اسکی آنکھوں پر ایسی پٹی باندھی تھی کہ وہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہوتا اپنی محبت کو خود ہی ٹھکرا چکا تھا۔۔۔
اس کا شک اسکے عزیز ترین رشتے کو چھین چکا تھا۔۔نبیہہ نے کتنی بار کہا تھا اس سے کہ الحان ملک وہ سب مت بولو کہ بعد میں تمہیں اپنے بولوں پر پچھتاوا ہو مگر تب وہ شک میں اندھا ہوتا جو منہ میں آئے بکتا اسے اپنی زندگی سے بےدخل کر گیا تھا۔۔۔
اور اب وہ اپنے کہے گئے الفاظ پر واقعی پچھتا رہا تھا۔۔۔۔بلکہ شاید اسے اب پچھتانا ہی تھا۔۔
کیونکہ وقت۔۔۔۔!!
وقت اب وہ نہیں رہا تھا بلکہ اسے شرمندگی اور پچھتاؤں کے اندھے کنویں میں دھکیلتا گزر چکا تھا۔۔۔۔۔ !
…………………………………………………………
چند دن سوگ منانے کے بعد الحان نے اپنے ننھیال سے ملی جائیداد کو استعمال میں لاتے ہوئے اپنا بزنس شروع کر لیا تھا۔۔ چونکہ اسکی ماں اکلوتی تھی اس لیے اسکے نانا اپنی جائیداد کا وسیع حصہ اپنی زندگی میں ہی اپنے نواسے کے نام کر چکے تھے۔
آہستہ آہستہ وہ اپنے بزنس میں ترقی پاتا گیا تھا۔۔۔وہ خود کو آفس اور بزنس میں اس حد تک مگن کر چکا تھاکہ ابیرہ اور گھر بلکل بیکورڈ میں کہیں چھپ گئے تھے۔۔۔اس دوران ملک سلطان نے کئی دفعہ اس سے ملنے کی کوشش کی مگر الحان نے انکی ہر کوشش کو ناکام بناتے ہوئے پورا ایک سال کا عرصہ ان سے ملے بغیر گزار دیا تھا۔۔۔
ایک سال کچھ ماہ بعد اسے ملک سلطان کے ایکسیڈینٹ کی خبر ملی۔۔۔جس ایکسیڈینٹ میں وہ اپنی دونوں ٹانگوں اور ایک بازو سے محروم ہو گئے تھے اور
اسکے ساتھ ہی ان پر فالج اٹیک بھی ہوا تھا یہ سب سن کر وہ ناچاہتے ہوئے بھی باپ سے ملنے چلا گیا تھا۔۔مگر یہ سلسلہ زیادہ نہیں بڑھا وہ چند دن بعد ایک آدھ گھنٹے کے لیے چلا جاتا۔۔۔۔
کئی ماہ ہوسپیٹل گزار کر ملک سلطان کے آدھ مرے وجود کو گھر شفٹ کر دیا گیا تھا۔۔
قدرت کی لاٹھی واقعی بےآواز ہے اور جب برستی ہے تو اچھے اچھوں کے چھکے چھوٹ جاتے ہیں۔۔۔ملک سلطان کو بھی اب اپنی بےبسی پر ان سب کی بےبسی یاد آتی تھی جنکو وہ بےدردی سے برباد کر چکے تھے۔۔۔۔وہ ان دنوں کو واپس لا کر سب سے معافی مانگنا چاہتے تھے مگر نہ وہ دن رہے تھے اور نہ ہی معاف کرنے والے۔۔۔۔
ملک سلطان کو اب اپنے کیے کی سزا بھگتنا تھی آخری سانس تک۔۔۔۔۔وہ نہ زندوں میں تھے اور نہ ہی مردوں میں بلکہ ان دونوں کیفیات کے بیچ لٹک رہے تھے۔۔۔اور یہ قدرت کا انتقام تھا اس شخص سے جو زمین پر اتنے فساد اتنے ظلم کر چکا تھا اور بے شک قدرت کا انتقام بہت منصفانہ ہوتا ہے۔۔۔۔!!!!
ملک سلطان اس قابل نہ تھے کہ اپنے بزنس کو سنبھال پاتے اس لیے انہوں نے الحان سے کہا تھا انکے آفس کو دیکھنے کو مگر الحان کی طرف سے ملے کورے جواب پر وہ افسردہ ہو گئے تھے۔۔۔۔چند ماہ بعد مکمل ٹریٹمنٹ سے انکا فالج ٹھیک ہوا تو انکے منہ کو لقوہ اٹیک ہو گیا جو باوجود ٹریٹمنٹ کہ اب تک بھی ٹھیک نہیں ہو پایا تھا۔۔۔۔۔
وہ گھنٹوں اپنی زبان سے متکبرانہ باتیں نکالنے والا اب ایک بات بھی اٹکے بنا کرنے کے قابل نہیں رہا تھا۔
مزید ایک سال کے عرصے میں انکا سارا بزنس ڈوب چکا تھا وہ بزنس جسے آگے بڑھانے کی خاطر انہوں نے ہر غلط کام کیا تھا۔۔
اور انکے بزنس کو تباہ کرنے میں زیادہ حصہ احمد سیال نے ہی لیا تھا جو ملک سلطان کا سگا چمچہ تھا۔۔۔۔مگر وہ صرف تب تک ان کا چمچہ تھا جب تک انکی حکومت تھی جیسے ہی ان پر مشکل آئی تو وہ بھی انکا ساتھ چھوڑ گیا۔
احمد سیال نے بزنس سے کڑورں روپے کا غبن کیا اور اپنی فیملی سمیت ملک سے باہر چلا گیا ہمیشہ کے لیے۔۔۔۔۔
احمد سیال کے علاوہ ملک سلطان کا باقی عملہ بھی سنسیئر نہیں نکلا تھا سب اپنی اپنی باری پر لوٹتے سمیٹتے سائیڈ پر ہوتے گئے۔۔۔۔
الحان ان کاروایوں سے آگاہ تھا مگر کچھ کرنا نہیں چاہتا تھا اسکے باپ نے یہ بزنس جیسے طریقے سے بڑھایا تھا اب ویسے ہی اسے ختم بھی تو ہونا تھا پھر پرواہ کسے تھی۔
سو ایک سال کے مختصر عرصے میں زمین کو اپنے پیروں تلے روند کر چلنے والا زمین کو اپنی جاگیر سمجھنے والا اسی زمین پر بنے چند کنال کے ملک ہاؤس کی چاردیواری تک محدود ہو کر رہ گیا تھا۔۔۔
اب وہ تھا اسکے گناہ تھے اس کا پچھتاوا تھا اور اذیت ناک ڈستی ہوئی تنہائی تھی۔۔۔۔
………………………………………………………
حال 👉👉
پوری رات ٹینشن میں گزارنے کی وجہ سے نبیہہ بےہوش ہو گئی تھی۔۔ڈاکٹرز نے ریلیکسیشن کا انجیکشن دے دیا تھا اب وہ آرام کر رہی تھی۔۔۔۔
محتشم کو بھی ہوش میں آنے پر روم میں شفٹ کر دیا گیا تھا۔
اسکی کنڈیشن آؤٹ آف ڈینجر تھی پر فلحال وہ بات کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔۔
نبیہہ بیدار ہوتی سیدھی محتشم کے روم میں آئی تھی۔۔اسے کمرے میں آتا دیکھ کر وہاں موجود محتشم کی فیملی باہر چلی گئی تھی اب کمرے میں محتشم تھااور وہ تھی۔
آنکھوں میں آئی نمی کو اندر دھکیلتی وہ بیڈ کے پاس آ کھڑی ہوئی۔
چند منٹ محتشم کے پٹیوں میں جکڑے چہرے کو دیکھ کر وہ آنسو پیتی بیڈ کی پائنتی پر بیٹھ گئی۔
کک۔۔۔۔کیسے ہیں محتشم۔۔۔۔مم۔۔۔۔میرا بھی نہیں سوچا کہ کیا گزری ہو گی مجھ پے۔۔۔۔۔آنسو پلکوں کی باڑ توڑتے گالوں کو بھگوتے جا رہے تھے۔
محتشم۔۔۔۔۔!!
محتشم کی مندی مندی آنکھوں کو دیکھتی وہ اسکے سینے پر سر رکھے سسک اٹھی۔
پلیز محتشم مجھے معاف کر دیں میں نے آپکے ساتھ بہت زیادتیاں کی ہیں اپنے ماضی میں کھو کر خود کو اور آپ کو اذیت دیتی رہی۔۔۔۔آپ تو مسیحا تھے میرے میری زندگی کے ساتھی۔۔۔۔میرے جسم و جاں کے مالک۔۔۔جسے میرے رب نے میرے مشکل وقت میں میرے لیے چنا تھا۔۔۔۔۔اور میں ناسمجھ اس پر شکرانہ بھی نہ ادا کر پائی۔۔۔الٹا اپنی قسمت کو اپنے نصیب کو کوستی رہی۔۔۔۔مجھے معاف کر دیں محتشم اب۔۔۔۔اب ایسا کچھ نہیں ہو گا۔۔۔میں ہوں گی آپ ہوں گے اور ہماری صرف ہماری زندگی ہو گی۔۔۔پلیز محتشم کچھ بولیں ناں میں۔۔۔میں آپ کی آواز سننا چاہتی ہوں یہ ایک دن اور ایک رات مجھ پر قیامت بن کر ٹوٹی تھی پلیز محتشم بولیں کہ آپ ٹھیک ہیں اور آپ نے مم۔۔۔مجھے معاف کر دیا ہے۔۔۔۔
محتشم میں وعدہ کرتی ہوں اب کبھی اپنے ماضی کو یاد نہیں کروں گی۔۔۔۔میں آپ سے محبت کرتی ہوں محتشم صرف آپ سے۔۔۔۔آپ ہی وہ شخص ہیں جس پر میں اپنی محبت آخری دم تک نچھاور کرنا چاہتی ہوں۔۔محتشم پلیز بولیں ناں کچھ۔۔۔۔۔۔۔
نبیہہ کی باتوں کو سن کر محتشم بمشکل ہلکی سی مسکراہٹ چہرے پر کھینچ لایا۔۔۔
مم۔۔۔میں۔۔۔ٹھیک۔۔۔ہوں۔۔۔۔میری جاں۔۔۔۔وہ اٹک اٹک کر کہتا نبیہہ کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔
نبیہہ نے جلدی سے اپنا ہاتھ محتشم کے ہاتھ میں تھمایا۔۔۔
محتشم نے اسکا ہاتھ تھاما اور کپکپاتے ہوئے اپنے ہونٹوں تک لے کر گیا۔۔۔
مم۔۔۔۔میں۔۔۔۔تم سے۔۔۔۔کبھی۔۔۔۔خف۔۔۔۔خفا۔۔۔۔نہیں ہو سکتا۔۔۔۔بی۔۔۔بیا۔۔۔تم۔۔۔تم تو میری زندگی ہو۔۔۔۔میرے جینے کی وجہ۔۔۔۔ پھر کیوں کر۔۔۔میں تم سے ناراض ہوں گا۔۔۔۔مجھے تمہارا کوئی بھی عمل۔۔۔کبھی بھی برا نہیں لگا۔۔۔۔میں نے تمہیں۔۔۔۔تمہارے ماضی سمیت۔۔۔قبول کیا تھا بیا کیوں کہ میں۔۔۔۔میں تم سے محبت کرتا تھا ، کرتا ہوں اور آخری دم تک کرتا رہوں گا۔۔۔۔
نبیہہ یہی سب تو سننا چاہتی تھی۔۔۔محتشم کے ہونٹوں سے نکلتے الفاظ نے اسکی ذات کو معتبر کر کے اس میں ایک نئی روح پھونک دی تھی۔۔۔اس نے محتشم کی زبان سے اظہارے محبت سنتے ہی اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر مزید بولنے سے منع کیا۔۔۔وہ بہت تکلیف سے اٹک اٹک کر بول رہا تھا۔
میں بھی آپ سے بہت محبت کرتی ہوں محتشم اور آخری دم تک کرتی رہوں گی۔۔۔۔۔۔۔اس نے مسکرا کر پہلی دفعہ کھلے الفاظ میں محتشم سے اپنی محبت کا اظہار کیا تھا۔
محتشم کے چہرے پر بھی ہلکی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔۔۔
نبیہہ نے محتشم کے ہونٹوں پر ابھرتی مسکان دیکھ کر اسکے ہونٹوں پر ہاتھ رکھا اور اپنے ہاتھ کی پشت کو آہستگی سے چھوا پھر ہاتھ اٹھا کر اسنے محتشم کی آنکھوں پر رکھا اور جھک کر ہاتھ کی پشت کو نرمی سے چھوا۔۔۔
گیٹ ویل سون مائی ڈئیر ہزبینڈ۔۔۔۔وہ آنکھوں میں آئے پانی کو رگڑتی سیدھی ہوئی۔
مم۔۔۔میں۔۔۔۔ٹھیک۔۔۔ہوں۔۔۔۔ما۔۔۔۔مائی۔۔۔۔
ڈئیر۔۔۔۔۔وائف۔۔۔۔۔
گڈ۔۔۔۔وہ اسکا ہاتھ تھام کر مسکرائی
آپ ریسٹ کریں میں کچھ دیر کے لیے گھر جا رہی ہوں آپ کے لیے سوپ بنانے۔۔۔۔کیونکہ میں جانتی ہوں میرے ہاتھ کا بنا سوپ پی کر آپ بہت جلد پہلے جیسے ہو جائیں گے۔۔۔۔۔وہ آنکھیں پٹپٹا کر کہتی محتشم کو بہت اچھی لگی تھی۔۔
اب آنکھیں بند کریں اور سو جائیں۔۔۔۔ اسنے محتشم کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر بند کیں اور اسکے ہاتھ کا بوسہ دیتی کمرے سے نکل آئی۔۔
……………………………………………………
انہیں پانچ دن ہو گئے تھے ہوسپٹل میں محتشم کے زخم کافی حد تک مندمل ہو گئے تھے مگر ڈاکٹرز نے مزید دو دن ہوسپٹل میں رہنے کا کہا تھا۔
ان پانچ دنوں میں نبیہہ نے محتشم کی بلکل ایک بچے کی طرح کئیر کی تھی۔وہ پہلے بھی محتشم کے ذرا سا زکام ہونے پر پریشان ہو جایا کرتی تھی مگر اس بار اسکی فکر اور پریشانی محتشم کو بہت بھلی لگ رہی تھی جو دنیا و مافیہا بھلائے بس اسی کی تیمارداری میں لگی ہوئی تھی۔۔
اب بھی نبیہہ محتشم کو سوپ پلا رہی تھی اور محتشم کی آنکھیں بہت غور اور محبت سے اس کے چہرے کا طواف کر رہی تھیں۔۔
محتشم۔۔۔۔۔!وہ محتشم کا منہ نیپکن سے تھپتھپاتی مصروف سا بولی
ہوں۔۔۔۔۔!
شہزاد بھائی اور رابیل کا کپل کتنا اچھا ہے ناں۔۔۔۔۔؟؟
ہمارے کپل سے زیادہ نہیں۔۔۔۔محتشم اسکی لٹ پیچھے کرتا بولا
«« شہزاد اور رابیل دونوں نہیں جانتے تھے کہ ایک ذرا سی ملاقات انہیں اتنا قریب لے آئے گی کہ جسکے بعد قدرت ان دونوں کو ہمیشہ کے لیے ایک کر دے گی۔۔۔شہزاد کے والدین حیات نہیں تھے ایک بڑی بہن اور ایک بڑا بھائی تھے جو اپنی اپنی فیملی لائف میں سیٹلڈ تھےجبکہ رابیل سکندر گاؤں سے شہر اپنی تعلیم مکمل کرنے آئی تھی۔۔دونوں کے فلیٹ ساتھ ساتھ تھے مگر دل دور دور۔۔۔۔پر ایک سرسری سی ملاقات دونوں کے دلوں کو قریب لے آئی تھی۔۔۔رابیل ایک اچھی لڑکی تھی اور شہزاد کو گھر بسانے کے لیے اچھی لڑکی ہی درکار تھی سو اس نے افئیر چلانے کی بجائے سیدھے سبھاؤ رابیل سے بات کرنے کے بعد اسکے گھر اپنا پرپوزل بھیج دیا۔۔۔رابیل کے گھر والوں کو اتنے اچھے پرپوزل پر انکار زیب نہیں دیتا تھا سو پرپوزل ایکسیپٹ ہوتے ہی منگنی اور رابیل کے ماسٹرز مکمل کرنے پر شادی طے پائی۔۔یوں وہ کچھ سال پہلے شادی جیسےخوبصورت بندھن میں بندھ کر ایک ہو چکے تھے۔»»
ہماری شادی کے پورے ایک سال بعد انکی شادی ہوئی تھی اور بلکل بھی نہیں لگتا کہ انکی شادی کو چار سال ہو گئے ہیں۔۔۔۔وہ مسکرائی
ہماری شادی کو بھی تو 5 سال ہو گئے ہیں تمہیں لگتا ہے کہ اتنا عرصہ گزر گیا۔۔۔۔۔۔؟؟
بہت جلدی گزر جاتے ہیں ناں اچھے دن۔۔۔۔۔۔وہ اداس ہوئی
ہوں۔۔۔۔مگر ہمارے ابھی اور اس سے بھی زیادہ اچھے دن باقی ہیں سویٹ ہارٹ۔۔۔
ان شاء اللہ۔۔۔۔وہ محتشم کے بال انگلیوں سے سنوارتی بولی۔
ان شاء اللہ۔۔۔۔محتشم نے اسکے ہاتھ کو تھام کر آہستگی سے چھوا۔
اچھا بس کریں اب یہ بیڈ ریسٹ میں تھک چکی ہوں آپ کو ایک ہی جگہ لیٹے دیکھ کر۔۔۔۔
تم دیکھ کر تھک چکی ہو مجھے دیکھو جو ایک ہی جگہ ریسٹ کر کر کے اکتا چکا ہے۔۔۔۔محتشم نے برا سا منہ بنایا
نبیہہ محتشم کے فیس ایکسپریشںنز دیکھ کر مسکرا دی۔
کچھ دن اور صبر کر لیں جناب۔۔۔۔اچھا یہ تو پی لیں پورا مجھے باتوں میں لگا کر ڈنڈی مار رہے ہیں۔۔۔نبیہہ نے سوپ کے باؤل کی طرف اشارہ کیا جو ابھی آدھا باقی تھا۔
میں یہ پھیکا ابلا سوپ پی پی کر بھی اکتا چکا ہوں بس کرو اب۔۔۔۔محتشم نے باؤل نبیہہ کے ہاتھ سے لے کر قریبی ٹیبل پر رکھا۔
کوئی نئیں بس جلدی سے فنش کریں یا پھر یوں کہیں میرے ہاتھ کا بنا سوپ آپ کو بدمزا لگ رہا ہے۔
تمہارے ہاتھ کا بدمزا سوپ تو کیا میں تمہارے ہاتھ سے زہر بھی کھانے کو تیار ہوں۔۔
آہہہم۔۔۔۔میں جانتی ہوں اس معاملے میں میں بہت لکی ہوں۔
نبیہہ کی بات پر وہ سرشار سا مسکرایا دیا۔
نبیہہ باؤل اٹھا کر پھر سے محتشم کو سوپ پلانے لگی۔۔وہ تیسرا چمچ اسکے منہ کی طرف لے گئی تھی کہ دروازہ ہلکا سا ناک ہوا۔
وہ پیچھے ہٹی اور یس کہنے کیساتھ ہی نیپکین سے محتشم کا منہ تھپتھپانے لگی۔۔
دروازہ ہلکے سے کھلا تھا چونکہ نبیہہ کی دروازہ کی جانب پشت تھی اس لیے وہ آنے والوں کو دیکھ نہیں پائی تھی مگر محتشم کی خوبصورت آنکھوں میں حیرت کا تاثر ابھرا تھا جسے دیکھ کر نبیہہ بھی پیچھے مڑی اور دروازے کے بیچوں بیچ کھڑے وجود کو دیکھ کر ساکت تھی۔
………………………………………………………
