No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
ماضی 👉👉
آپ کا کہنا سچ تھا ملک صاحب وہ لڑکی جاب سے نکالے جانے پر واقعی پرسکون ہو کر نہیں بیٹھی ہے۔۔۔۔
مطلب۔۔۔۔؟؟ملک سلطان نے بھنویں اچکاتے ہوئے سوالیہ نظروں سے ٹیبل کی دوسری جانب کھڑے احمد سیال کو دیکھا۔
مطلب وہ اس بار بہت لمبی اڑان بھرنے کی سوچ رہی ہے۔۔۔
کیا بکواس کر رہے ہو سیال صاف اور سیدھی بات کرو۔۔۔۔ملک صاحب احمد سیال کی پہیلیوں سے تنگ آ کر ناگواری سے بولے
محتشم ابراہیم کو جانتے ہیں ناں آپ۔۔۔۔؟؟
محتشم ابراہیم۔۔۔۔۔وہ پرسوچ انداز میں بولے
جی محتشم ابراہیم۔۔۔۔۔۔
وہ جو ہاشم عباسی کا کزن اور سالا ہے وہ۔۔۔۔؟؟؟ ملک سلطان یاد آنے پر استفہامیہ بولے
جی بلکل مگر وہ ہاشم عباسی کے کزن اور سالے کے علاوہ سابق کمیشنر مرحوم صفدر ابراہیم کا بیٹا ہے جو باپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ڈیڑھ سال سے سول سروسز میں جوائنگ دے چکا ہے۔۔۔
ہاں تو۔۔۔۔؟؟؟
تو یہ کہ نبیہہ عباسی اسی سول سرونٹ محتشم ابراہیم سے کانٹیکٹ میں ہے اور۔۔۔۔!!
تمہیں کیسے پتہ چلا۔۔۔۔۔؟؟ملک صاحب نے اسکی بات کاٹ کر پوچھا
ملک صاحب آپ مجھے جتنی سیلری دیتے ہیں اسکے بدلے میں اپنی جان بھی دے سکتا ہوں آپ کے لیے یہ تو بہت معمولی سا کام تھا۔۔۔۔وہ فخریہ بولا
ہوں۔۔۔۔۔گڈ۔۔۔۔۔کس قسم کے کانٹیکٹ میں ہے۔۔؟؟
وہ آپ کے سلسلے میں محتشم ابراہیم کی مدد لے رہی ہے۔۔۔۔یعنی کہ سانپ بھی مارنا چاہتی ہے اور لاٹھی بھی سلامت رکھنا چاہتی ہے۔۔۔۔۔
لیکن وہ کیا کر سکے گا اس کیس میں۔۔۔۔؟؟؟
وہ خود کوئی ایکشن نہیں لے سکتا مگر اپنے کانٹکٹس تو یوز کر سکتا ہے ناں۔۔۔۔احمد سیال نے پتے کی بات کی
لیکن کیسے کر رہی ہے وہ یہ سب میں نے فاروق کو عباسی ہاؤس کے گھر کے آس پاس رہنے کو اور نبیہہ کے گھر سے نکلنے پر اسے مکمل فالو کونے کو کہا ہے مگر فاروق نے مجھے ایسی کسی ملاقات کی انفارمیشن نہیں دی ہے۔۔۔
جی ملک صاحب ایسی کوئی ملاقات ہو ہی نہیں پائی کہ فاروق آپ کو خبر دیتا۔
تو پھر۔۔۔۔۔؟؟؟ وہ حیران ہوئے
پھر یہ کہ محترمہ ٹیلی فونک رابطے میں ہیں۔۔۔
تم نے ٹریکر لگوایا ہے کیا اسکے سیل پر۔۔۔۔۔؟؟؟
نہیں ملک صاحب سیل پر ٹریکر نہیں لگوایا بلکہ اسکا ای میل اکاؤنٹ ہیک کر رکھا ہے۔۔۔۔۔ابھی دو دن پہلے اس نے اپنے ای میل آئی ڈی سے کچھ ڈاکومینٹس محتشم ابراہیم کی آئی ڈی پر سینڈ کیے ہیں چونکہ وہ ڈاکومینس لاکڈ تھے اس لیے میں دو دن کی کوشش سے بھی اوپن نہیں کر پایا لیکن اتنا جانتا ہوں وہ ڈاکومینٹس یقینا وہی ثبوت ہی ہیں جن کو وہ بڑے دھڑلے سے آپ کے خلاف استعمال کرنے کی دھمکی دیتی تھی۔۔
تو تمہارا اسکے اکاؤنٹ کو ہیک کرنے کا کیا فائدہ ہوا وہ ڈاکومینٹس تو محتشم ابراہیم کو مل بھی چکے ہونگے اب تک۔۔۔۔۔ملک صاحب سخت بےچین نظر آ رہے تھے۔
وہ چھٹانک بھر کی لڑکی اس قدر شارپ مائنڈڈ ہے وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کیونکہ اب تک وہ سب پورے دھڑلے سے سامنے کرتی آئی تھی اور اب ایک دم سے پیٹھ پیچھے وار کو سن کر ملک صاحب واقعی پریشان ہو چکے تھے۔
آپ پریشان مت ہوں ملک صاحب میں محتشم ابراہیم کے اکاؤنٹ کو بھی ہیک کرنے کی کوشش کر رہا ہوں
جیسے ہی میں اس میں successful ہوا فورا ساری ڈاکومینٹس ڈلیٹ کر دوں گا۔
کتنے۔۔۔۔کتنے دن میں کرو گے یہ سب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ بےقراری سے بولے
کچھ دن لگ جائیں گے ملک صاحب وہ جس فیلڈ میں ہے اس فیلڈ میں بندہ اگر ایک ایماندار آفیسر ہو تو وہ کسی گھاکی شکاری کتے سے کم ثابت نہیں ہوتا
ہے اسلیئے مجھے ہیکینگ میں کافی محنت کرنا پڑ رہی ہے۔۔۔
جب تک تم اس کے اکاؤنٹ پر رسائی حاصل کرو گے تب تک وہ ان ڈاکومینٹس کو دیکھ ، پڑھ اور ان پر ایکشن لینے والوں تک پہنچا بھی چکا ہو گا۔
آپ کے تعلقات کس دن کام آئیں گے ملک صاحب اس ساری سچوئیشن کا بہترین حل یہی ہے کہ آپ اس محتشم ابراہیم کا کی بازی اسی پر الٹ دیں۔۔۔۔۔
مطلب۔۔۔۔۔۔؟؟؟
مطلب ملک صاحب پیسہ لگے گا پر کچھ عرصہ وہ اپنے ہی کیس میں مصروف رہے گا۔
کہنا کیا چاہ رہو سیال سیدھے سے کہو۔۔۔۔
ملک صاحب آپ اپنے کانٹیکٹس یوز کر کے محتشم ابراہیم پر کرپشن کا جھوٹا کیس بنوا دیں زیادہ سے زیادہ بھی دو تین ماہ تو مصروف رہے گا پھر کی پھر دیکھی جائے گی۔
ہوں آئیڈیا برا نہیں ہے۔۔۔۔اس آئیڈیے پر میرا بہت سا پیسہ برباد ہو گا جو اس لڑکی کی وجہ سے پہلے بھی بہت ہو چکا ہے مگر میں یہ سب سود سمیت وصول بھی کروں گا تم سے نبیہہ عباسی۔۔۔وہ آہستگی سے بڑبڑائے
ہاشم عباسی کی بیٹی ہونے کی وجہ سے اب تک کی چھوٹ کافی تھی مگر اب نہیں۔۔۔۔اب اور نہیں۔۔۔ں۔۔۔!!!ملک سلطان نے دل میں نبیہہ عباسی سے ہمکلامی کرتے ہوئے بہت گہری پلانگ کا منصوبہ بنانے کا سوچا تھا انکے سپاٹ چہرے پر بہت خطرناک اعزائم نظر آ رہے تھے۔
………………………………………….…………….
نبیہہ اپنی کبڈ میں گھسی کھڑی تھی جب نورین (ملازمہ) نے اسے ہاشم عباسی کے بلاوے کی خبر دی۔۔۔
وہ اپنی چیزیں سمیٹ کر دس پندرہ منٹ بعد ہاشم عباسی کی بات سننے انکے کمرے میں چلی آئی۔
راعنہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی اپنے ہاتھوں پر لوشن کا مساج کر رہی تھی اور ہاشم عباسی گلاسز لگائے بیڈ پر ٹیک لگا کر بیٹھے کوئی کتاب پڑھنے میں مگن تھے۔۔۔
بابا آپ نے بلایا۔۔۔۔۔؟؟؟ وہ پاس آ کر بولی
ہوں بیٹھو۔۔۔۔ہاشم عباسی نے کتاب بند کر کے سائیڈ پر رکھی اور گلاسز اتارتے ہوئے نبیہہ کو اپنے سامنے بیٹھنے کو کہا
جی۔۔۔۔۔وہ بیٹھ کر سوالیہ نظروں سے باپ کو دیکھنے لگی
نبیہہ بیٹا میں چاہتا ہوں جلد از جلد تمہاری رخصتی کر دوں اس سلسلے میں ملک سے بھی میری بات ہو چکی ہے اسے اور الحان کو کوئی اعتراض نہیں وہ لوگ خود بھی یہی چاہتے ہیں۔
اس لیے میں اگلے ماہ تک سوچ رہا تھا مگر راعنہ سے بات کی تو یہ کہہ رہی ہیں کہ نیکسٹ منتھ سے ہارون اور موسی کے ایگزیمز اسٹارٹ ہو رہے ہیں اس لیے اگر اسی ماہ کے اینڈ کی کوئی ڈیٹ فائنل کر لی جائے تو مناسب رہے گا۔۔۔۔تمہارا کیا خیال ہے۔۔۔۔۔؟؟؟
بابا اتنی جلدی کیا ہے۔۔۔۔وہ خفگی سے باپ کو دیکھتی بولی
جلدی نہیں ہے یہ بیٹا۔۔۔۔۔چھ ماہ پہلے تمہارا نکاح ہو چکا ہے اور کسی بھی ریلیشن کی انڈراسٹیڈنگ کے لیے اتنا عرصہ کافی ہوتا ہے۔۔
میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ میں خیریت سے جلد از جلد اپنے فرض سے سبکدوش ہو جاؤں۔ بیٹی ایک ہو یا زیادہ ماں باپ کی یہی خواہش ہوتی ہے وہ اپنی زندگی میں اسے محفوظ ہاتھوں میں سونپ جائیں اور جب سے مجھے یہ ہارٹ پرابلم ہوا ہے میں تمہاری طرف سے فکر مند ہو گیا ہوں ہارون اور موسی تو لڑکے ہیں وہ خود کو ہر طرح کے حالات میں ایڈجسٹ کر لیں گے مگر تم۔۔۔۔۔
بابا پلیز آپ اسطرح سے مت کہیں۔۔۔۔وہ روہانسی ہوئی
یہ تو قانون قدرت ہے میری جان ہم سب کو لوٹ کر جانا ہے ایک نہ ایک دن۔۔۔۔ہاشم عباسی نے بیٹی کے افسردہ چہرے کو دیکھ کر اسکا ہاتھ تھاما۔
تم جانتی ہو میں نے کسی بھی معاملے میں تم پر اپنی مرضی مسلط نہیں کی اب بھی نہیں کرنا چاہتا۔۔۔میری بیٹی کی خوشی اور مرضی میرے لیے زیادہ ایمپورٹینٹ ہے تم جو چاہو گی وہی ہو گا۔۔۔۔۔۔
مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے بابا جیسے آپکی مرضی۔۔۔۔۔نبیہہ نے خود کو آہستگی سے کہتے سنا
ڈیٹس گریٹ مائی لٹل ڈول۔۔۔۔ہاشم عباسی نے مسکراتے ہوئے بیٹی کو ساتھ لگا کر سر پر بوسہ دیا
نبیہہ نے بھی خود کو ڈھیلا چھوڑتے ہوئے باپ کے ہاتھ چومے اور اٹھ کر کمرے سے نکل گئی۔
آج کافی عرصے بعد باپ بیٹی میں یہ محبت دیکھنے کو ملی تھی ورنہ سنبل عباسی کے بعد نبیہہ کافی ریزروڈ ہو گئی تھی۔
…………………………………………………………
نبیہہ کی رضامندی کے بعد اسی مہینے کی پچیس تاریخ رکھی گئی تھی رخصتی کی چونکہ نکاح پہلے ہو چکا تھا اس لیے کمبائن فنکشن میں ہی مہندی اور اگلے دن رخصتی اور ولیمہ ایک ساتھ ارینج کیا گیا تھا۔
ملک ہاؤس میں ملک سلطان کی دونوں بیٹیاں اپنے بچوں سمیت آ چکیں تھیں اور خوب ہلے گلے میں ملک ہاؤس کے اکلوتے فرزند کی شادی کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔۔
دوسری طرف نبیہہ کی عدم دلچسپی کو دیکھتے ہوئے ہاشم عباسی کے کہنے پر راعنہ نے شادی کی ساری تیاری کا ذمہ اپنے سر لے لیا تھا۔
یوں دونوں گھرانوں میں شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں۔
اس سارے پروسیس میں الحان ملک کی بتیسی تھی کہ اندر نہیں جا رہی تھی جبکہ دوسری طرف نبیہہ عباسی ہسنے والی بات پر بھی ہنس نہیں پا رہی تھی۔۔۔۔
ایک عجیب سی بے چینی اور کنفیوزن اسے گھیرے میں لیے ہوئی تھی۔
حالانکہ وہ کنفیوز ہونے والوں میں سے نہیں بلکہ کنفیوز کرنے والوں میں سے تھی پھر بھی پریشان سی تھی۔شادی کے دن قریب سے قریب آتے جا رہے تھے اور وہ اپنی اس پریشانی کو کوئی نام بھی نہیں دے پا رہی تھی۔۔۔
“میری بے چین دھڑکنیں
میری سمجھ سے بالا ہیں”
…………………………………………………………..
ملک صاحب آپ سب جانتے ہوئے بھی یہ شادی ہونے دے رہے ہیں۔۔۔۔۔احمد سیال نے سگار کے کش لگاتے ہوئے ملک سلطان کے سپاٹ چہرے کو دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔وہ دونوں اس وقت ملک انڈسٹریز میں ملک سلطان کے آفس میں موجود تھے۔
نکاح ہو چکا ہے سیال۔۔۔۔وہ آہستگی سے بولے
نکاح ختم بھی ہو سکتا ہے ملک صاحب۔۔۔!!
شادی بھی تو ختم ہو سکتی ہے احمد سیال۔۔۔۔۔انہوں نے منہ سے دھواں نکالتے ہوئے پراسرار انداز میں مسکراتے ہوئے کہا۔
جب سب ختم ہی کرنا ہے تو پھر اس کھڑاک کا مقصد۔۔۔۔؟؟ احمد سیال خفگی سے بولا
مقصد ہے سیال۔۔۔۔۔بہت خاص مقصد ہے۔۔۔۔۔۔!احمد سیال کی سوالیہ نظروں پر وہ جوس کا گھونٹ بھر کر ہلکا سا ہنس دیے۔
تم جانتے ہو میں سب کچھ بہترین پلانگ کے تھرو کرتا ہوں جس سے کم ازکم میرے اپنوں کو کوئی تکلیف نہ ہو۔۔۔!
جی۔۔۔۔۔احمد سیال نے اثبات میں سر ہلایا
وہ لڑکی میرے اکلوتے بیٹے کی خوشی ہے سیال اور میں چاہتا ہوں وہ اپنی خوشی کو اچھے سے سیلیبریٹ کر لے اس کے بعد ہی میں کچھ کروں گا۔۔۔۔
آپ جانتے ہیں ملک صاحب الحان صاحب نبیہہ عباسی کو صرف پسند نہیں کرتے بلکہ محبت کرتے ہیں اور اسی محبت کی طاقت سے انہوں نے آپ سے اس لڑکی سے نکاح کی ضد منوا لی جسے آپ سخت ناپسند کرتے تھے۔۔۔۔پھر جب انکی محبت منکوحہ سے بیوی بن جائے گی تو وہ کیونکر اسے چھوڑیں گے۔۔۔۔۔وہ ابھی بھی انجان و پریشان تھا۔
یہ پیار ، محبت، عشق یہ سب افسانوی باتیں ہیں سیال اصل زندگی میں ان سب خرافات کے لیے کسی کے پاس وقت نہیں ہوتا۔۔۔۔دور کے ڈھول سبھی کو سہانے معلوم ہوتے ہیں سیال۔۔۔۔وہ ہنسے
ابھی وہ لڑکی صرف منکوحہ ہے اس لیے اٹریکٹو ہے جب بیوی بن جائے گی تو ساری اٹریکشن چند راتوں کے نشے میں اتر جائے گی سمجھا کرو۔۔۔۔۔وہ آنکھ دبا کر بولے
اوہ۔۔۔ہ۔۔۔ہ۔۔۔ملک سلطان کی بات کی گہرائی کو سمجھتے ہوئے احمد سیال نے پرسکون سانس خارج کی۔
اور پھر میں وہ کروں گا جو میں چاہتا ہوں۔۔۔۔وہ فخر و غرور سے بولے تھے
مجھے کوئی شک نہیں ملک صاحب آپ کی قابلیت پر۔۔۔۔۔ملک سلطان کے چہرے پر مکروہ مسکراہٹ دیکھ کر احمد سیال خود بھی مکروہ ہنسی ہنس دیا۔
……………………………………………………………
حال 👉👉
الحان آفس سے تھکا ہارا گھر آیا تھا اور لاؤنج میں وہیل چئیر پر بیٹھے ملک سلطان پر نظر پڑتے ہی اسکی تھکن کئی گنا بڑھ چکی تھی۔۔۔
وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا ان تک آیا اور آہستگی سے سلام کیا۔۔۔جسے ملک سلطان بمشکل سن پائے
کیسے۔۔۔۔۔۔ہو۔۔۔۔۔۔؟؟؟سلام کا جواب دے کر انہوں نے بیٹے کے تھکے چہرے کو دیکھتے ہوئے اٹک کر پوچھا۔
انکے اٹکنے کی وجہ لقوہ تھا جو انکے منہ کا زاویہ بگاڑ چکا تھا جسکی وجہ سے وہ اٹک اٹک کر بمشکل بات مکمل کر پاتے تھے۔
کیسا ہو سکتا ہوں۔۔۔۔؟؟وہ شکستگی سے کہتا الٹا انہی سے سوال پوچھتا صوفے پر بیٹھ گیا۔
میں چائے لاتی ہوں۔۔۔۔۔۔ابیرہ جانتی تھی اب وہ باپ بیٹا بیٹھ کر ماضی کی غلطیوں کو یاد کریں گے اسی لیے وہ وہاں سے اٹھ آئی تھی کیونکہ اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ وہاں بیٹھ کر اپنے محبوب شوہر کو کسی اور عورت کے لیے پچھتاتے اور تڑپتے دیکھے۔۔۔۔وہ عورت جو اسکے شوہر کی پہلی اور شاید آخری محبت تھی۔۔۔۔۔وہ عورت جو اسکی منکوحہ اور منکوحہ سے بیوی بنی اور وہ عورت جسے وہ اپنے ہاتھوں ہی گنوا بیٹھا تھا۔
……………………………………….….…..…..………
“وہ ہمسفر تھا مگر اس سے ہم نوائی نہ تھی۔۔۔
کہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا جدائی نہ تھی۔۔۔
عداوتیں تھیں ، تغافل تھا رنجشیں تھیں بہت۔۔۔
بچھڑنے والے میں سب کچھ تھا بے وفائی نہ تھی۔۔۔
وہ ہمسفر تھا مگر اس سے ہم نوائی نہ تھی۔۔۔
بچھڑتے وقت ان آنکھوں میں تھی ہماری غزل۔۔۔
غزل بھی وہ جو کسی کو ابھی سنائی نہ تھی۔۔۔
وہ ہمسفر تھا مگر اس سے ہم نوائی نہ تھی۔۔۔
کہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا جدائی نہ تھی۔۔۔”
وہ راکنگ چئیر پر جھولتی ناجانے کن سوچوں میں ڈوبی یہ گیت سن رہی تھی جب کسی نے کلک کی آواز سے گانا بند کیا۔
ہر طرف خاموشی چھا جانے پر نبیہہ ہوش میں آتی سیدھی ہوئی اور کچھ فاصلے پر کھڑے محتشم کو اپنی طرف دیکھتے پایا۔۔۔
شرٹ کے اوپری دو بٹن کھول کر ٹائی کو ڈھیلا کیا گیا تھا اور شرٹ کے بازوؤں کو
کہنیوں تک فولڈ کر رکھا تھا۔۔۔پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے وہ تھکا سا کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
نبیہہ اسکی آنکھوں میں نظر آتی خفگی کو نظر انداز کرتی اس تک آئی۔
اسلام و علیکم۔۔۔۔!! کیسے ہیں آپ۔۔۔؟؟ خود کو نارمل کرتی وہ مسکرا کر روٹینی لہجے میں بولی۔
محتشم اسکی بات کا جواب دیے بغیر دائیں جانب لگے صوفے پر بیٹھ کر شوز اتارنے لگا۔
گھر میں سب کیسے تھے۔۔۔۔؟؟؟ چائے لاؤں آپ کے لیے۔۔۔۔؟؟؟ وہ پھر سے پاس آ کر بولی۔
محتشم نے خاموشی سے شوز اور جرابیں اتارنے کے بعد دونوں چیزیں اٹھائیں اور ڈریسنگ روم چلا گیا۔
پیچھے نبیہہ اسکی پشت کو دیکھتی خود کو کوس رہی تھی جب جی بھر کر خود کو ملامت کر لی تو محتشم کے لیے چائے لینے کمرے سے نکل گئی۔
محتشم نہا کر باہر نکلا تو نبیہہ کمرے میں نہیں تھی وہ بالوں کو ٹاول سے رگڑتا بیڈ کی اس سائیڈ کیطرف آیا جس طرف نبیہہ سوتی تھی۔۔۔
اس نے جھک کر سائیڈ ٹیبل پر اوندھی پڑی ڈائری اٹھائی اور کھلے صفحے پر نبیہہ کی ہینڈ رائٹینگ میں لکھی گئی تحریر پڑھنے لگا۔
“یہ جو زندگی کی کتاب ہے
یہ کتاب بھی کیا کتاب ہے
کہیں اک حسین خواب ہے
کہیں رتجگوں کے عذاب ہے
کبھی پا لیا کبھی کھو لیا
کبھی گا لیا کبھی رو لیا
کہیں رحمتوں کی ہیں بارشیں
کہیں تشنگی بے حساب ہے
کہیں چھاؤں ہے کہیں دھوپ ہے
کہیں اور ہی کوئی روپ ہے
کہیں چھین لیتی ہے ہر خوشی
کہیں مہرباں بے حساب ہے
یہ جو زندگی کی کتاب ہے
یہ کتاب بھی کیا کتاب ہے”
نبیہہ جب چائے لیے واپس کمرے میں داخل ہوئی تو محتشم کو بیڈ کے پاس اپنی پرسنل ڈائری کو ہاتھ میں لیے پڑھتے پایا۔اسے نہ تو حیرت ہوئی اور نہ ہی غصہ آیا وہ جانتی تھی اس شخص کے سامنے اس کا کچھ بھی پرسنل نہیں تھا وہ ایک کھلی کتاب کی مانند تھی جسکے ہر صفحے کو وہ پڑھ چکا تھا۔
اس نے ٹرے ٹیبل پر رکھ کر آہستگی سے محتشم کو پکارا
محتشم آپ کی چائے۔۔۔۔۔۔!
ہوں۔۔۔۔محتشم اسکی آواز پر چونکتا ڈائری واپس رکھ کر پلٹا اور آئینے کے سامنے جا کر بال بنانے لگا۔
چائے ٹھنڈی ہو رہی ہے۔۔۔۔نبیہہ نے وہیں کھڑے کھڑے محتشم کے آئینے میں نظر آتے عکس کو دیکھ کر بلند آواز سے کہا جو پیچھلے تین منٹ سے ایک ہی جگہ برش کیے جا رہا تھا۔
میں نے کہیں پڑھا تھا کہ۔۔!”مرد خوشی کا کوئی نہ کوئی جواز ڈھونڈ ہی لیتا ہے یہ عورت ہی ہوتی ہے جو ایک ہی مرد کے پیچھے رو رو کر ساری زندگی گزار دیتی ہے۔۔۔”
محتشم کی سنجیدگی سے کہی گئی بات نبیہہ کو بلکل بھی بری نہیں لگی تھی بلکہ وہ مسکراتی ہوئی اس تک آئی۔۔۔
اور میں نے کہیں پڑھا تھا کہ۔۔!”مرد چھوڑنے میں جلدی کرتا ہے اور ساری زندگی پچھتاتا ہے پر عورت نہیں چھوڑتی لیکن جب چھوڑ دیتی ہے تو کبھی پچھتاتی نہیں ہے۔۔۔”
محتشم اسکی بات پر ایک اچٹتی نظر اسکے مسکراتے چہرے پر ڈال کر صوفے کی طرف بڑھ گیا۔
گھر میں سب کیسے تھے۔۔۔۔؟؟؟ وہ مسکراہٹ ضبط کرتی صوفے پر بیٹھے محتشم کے سامنے آ کر ٹیبل پر بیٹھی۔
محتشم نے کوئی بھی جواب دیے بنا کپ اٹھا کر منہ کو لگایا اور چائے کے چھوٹے چھوٹے سپ لینے لگا۔
نبیہہ مسکراہٹ دبائے مسلسل اسے تکے جا رہی تھی۔
چار ، پانچ سپ لینے کے بعد محتشم نے کپ واپس ٹرے میں رکھا اور نبیہہ کے مسکراہٹ چھپاتے گلابی چہرے کو دیکھا۔
کسے نظر لگانا چاہتی ہو مجھے یا چائے کے کپ کو۔۔۔۔۔۔وہ سنجیدگی سے بولا
اسکی بات پر نبیہہ کی ضبط کی گئی مسکراہٹ کھل کر چہرے پر بکھر گئی۔
چائے مجھے پسند نہیں اس لیے نظر لگنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور آپ۔۔۔۔۔۔۔وہ شرارتی انداز میں رکی اور محتشم کے سنجیدہ چہرے کو دیکھا
اور آپ مجھے پسند ہیں مگر نظر پھر بھی نہیں لگے گی۔۔۔۔۔
کیوں۔۔۔۔۔؟؟؟سنجیدگی سے پوچھا گیا
کیونکہ محبت سے دیکھنے والی نظر کبھی نہیں لگتی۔۔۔۔۔
اور اگر لگ جائے تو۔۔۔۔۔؟؟؟
نہیں لگتی ناں محتشم۔۔۔۔۔وہ معصومیت آمیز بےزاری سے بولی
لیکن میری تو لگ گئی تھی۔۔۔۔؟؟ وہ آہستگی سے بڑبڑایا
کسے۔۔۔۔؟؟؟
تمہیں۔۔۔۔۔
نہیں لگتی ناں اور نہ ہی لگی تھی۔۔۔۔!!
لگ گئی تھی بیا۔۔۔۔وہ ٹرانس میں بولا یوں جیسے ہوش میں نہ ہو۔
کہیں بھنگ تو نہیں پی کر آئے آج۔۔۔۔نبیہہ نے آنکھوں کو سکیڑ کر مشکوک انداز سے گھورا۔
اسکے گھورنے پر محتشم کی سنجیدگی مسکراہٹ میں ڈھل گئی۔
تمہارے ہوتے ہوئے مجھے بھنگ کی کیا ضرورت تم تو بنا بھنگ کے ہی مجھے مدہو۔۔۔۔
سینسر۔۔۔۔۔۔۔نبیہہ نے بآواز بلند کہہ کر محتشم کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھا اور باقی کی بات اس کے منہ میں ہی روک دی۔
اسکی حرکت پر محتشم نے مسکراتے ہوئے اپنے ہونٹوں پر موجود اس کا ہاتھ تھاما اور آہستگی سے آئی لو یو کہتے ہوئے لب اسکی ہتھیلی پر رکھ دیے۔۔۔۔۔
آئی لو یو ٹو۔۔۔۔۔نبیہہ نے بھی محبت کا جواب محبت سے دے کر اپنا سر محتشم کے جھکے سر سے ٹکا دیا۔
“تم چلو تو سہی دو قدم ہاتھ میرا تھام کہ۔۔۔!
محتصر سفر کو منزل نہ بنا دوں تو کہنا”
………………………………………………………
