Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

ابیرہ جبران۔۔۔۔۔۔۔!!
ابیرہ جبران نے الحان ملک کو پہلی دفعہ اپنے بھائی کی شادی میں دیکھا تھا۔۔۔۔اسکے بھائی شہروز کی شادی ملک سلطان کی چھوٹی بیٹی ثمر سلطان سے طے ہوئی تھی جن دنوں رشتہ طے ہوا تھا ان دنوں الحان ملک اپنی اسٹڈی کے سلسلے میں ابروڈ تھا مگر بہن کی شادی کے فنکشن میں وہ ضرور شریک ہوا تھا اور انہی فنکشنز میں ابیرہ جبران پہلی نظر کی محبت کا شکار ہو کر الحان ملک پر دل ہار بیٹھی تھی۔۔۔۔۔۔
پہلی پہلی محبت کے نشے میں چور وہ الحان کی سنگت میں دیکھے گئے خوابوں میں بہت آگے سے آگے بڑھتی گئی تھی۔۔۔۔اسکی سوچ ،اسکے دن رات اسکی زندگی کا محور اب الحان ملک کی ذات بن چکی تھی جسکو حاصل کرنے کی دعا اسکے لبوں پر ہمہ وقت کسی ورد کیطرح جاری رہتی۔۔۔۔۔۔
لیکن کاش کہ وہ اسے حاصل کرنے کی بجائے پانے کی دعا کرتی تو شاید آج پچھتا نہ رہی ہوتی کیونکہ حاصل کرنے اور پانے میں کیا فرق ہوتا ہے۔۔۔۔اسی فرق سے اب ابیرہ جبران ابیرہ الحان بن کر باخوبی آگاہ ہو چکی تھی۔۔۔
ابیرہ کے دل سمیت اسکے خواب اس وقت چکنا چور ہوئے جب ثمر کی زبانی اسے الحان ملک کے نکاح سیرمنی کا پتہ چلا۔۔۔۔۔اتنا اچانک یہ سب ہو جائے گا وہ سوچ بھی نہی سکتی تھی۔۔۔وہ پیچھلے دو سال سے مسلسل اس شخص کو اپنے دل میں چھپائے پوجتی آئی تھی اور اب ایکدم سے وہ کسی اور کا کیسے ہو سکتا تھا۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اس خبر کو سن کر وہ پاگل سی ہو گئی تھی اور اسی پاگل پن میں ابیرہ نے بہت سی دعائیں مانگیں تھیں اس لڑکی کے مرنے کی جو الحان ملک کی زندگی کا حصہ بننے جا رہی تھی۔۔۔۔۔مگر اسکی ساری دعائیں رائیگاں گئی تھیں اور نبیہہ عباسی باخیروخیریت الحان ملک کی زندگی کا حصہ بن گئی تھی۔۔۔۔
نکاح کے ٹھیک چھ ماہ بعد ان کی شادی کا فنکشن ارینج کیا گیا تھا اور ان چھے ماہ میں ابیرہ جبران خود کو بہت حد تک سنبھال چکی تھی اور اسی لیے وہ نبیہہ اور الحان کے ریسیپشن کے فنکشن میں شامل ہوئی تھی اور وہیں اسنے اسٹیج سے کچھ فاصلے پر کھڑے ہو کر آنکھوں میں حسد اور نفرت لیے اس خوبصورت سے آئیڈیل کپل کو کبھی نہ خوش رہنے کی بددعا دی تھی ان دونوں کو ہمیشہ کی جدائی کی بددعا دی تھی۔۔۔ اور شاید یہی قبولیت کی گھڑی تھی جب ابیرہ جبران کے ٹوٹے دل سے نکلی آہ عرش الہی پر سنی گئی تھی۔۔۔۔۔۔
جس کے نتائج محض چندہ ماہ بعد ہی اس آئیڈیل کپل کی خوشیوں کو کھا کر انہیں ہمیشہ کی جدائی دے گئے تھے۔۔۔
کیا خوب کہاوت ہے کہ شک رشتوں کو اور حسد خوشیوں کو اسطرح سے کھا جاتا ہے جسطرح سے دیمک لکڑی کو۔۔۔۔اور یہی ہوا تھا ابیرہ کا حسد اور الحان کا شک مل کر نبیہہ عباسی کی خوشیوں کو کھا گیا تھا۔۔۔۔
اور دوسروں کی خوشیوں کو کھا کر انہیں دکھوں کے بھنور میں اکیلے کر دینے والے کیسے خوش رہ سکتے ہیں۔۔۔۔یہ دنیا مکافات عمل ہے جہاں ہر انسان اپنے کیے کا بدلہ ضرور پا لیتا ہے جیسے الحان ملک اور ابیرہ الحان ملک اپنے اپنے اعمال کے پچھتاوں میں جکڑے گئے تھے۔۔۔۔
…………………………………………….………
محتشم پاڑتی سے جانے سے پہلے ابصار علی سے مل کر جانا چاہتا تھا اور اسی لیے وہ کھڑا ادھر أدھر دیکھتا انہیں ڈھونڈ رہا تھا جب نبیہہ کی نظر اس پر پڑی۔۔۔۔۔
محتشم ابراہیم۔۔۔۔۔اسکے ہونٹ آہستگی سے پھڑپھڑائے
نبیہہ نے مڑ کر الحان کو دیکھا جو اپنے دوستوں کے چنگل میں گھرا کھڑا تھا۔۔اس نے پھر سے محتشم کو دیکھا اور چھوٹے چھوٹے محتاط قدم اٹھاتی اسکی طرف بڑھنے لگی۔۔۔۔ملک سلطان دبئی میں تھے اس لیے وہ اس پارٹی کا حصہ نہ تھے اور نبیہہ اسی لیے محتشم کے پاس جا رہی تھی تاکہ پوچھ سکے کہ اسنے اس کیس میں کچھ کیا ہے یا نہیں۔۔۔۔۔
محتشم کی نظر ابصار علی تک پہنچ چکی تھی مگر دوسری طرف وہ یہ بھی جان گیا تھا کہ نبیہہ عباسی اسکی طرف بڑھ رہی ہے لہذا ابصار علی سے خدا حافظ کہنے کی بجائے وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا ایگزٹ کی جانب بڑھ گیا۔۔۔
یہ۔۔۔یہ مجھے دیکھ کر واپس کیوں جا رہا ہے۔۔۔۔نبیہہ نے بڑبڑاتے ہوئے اپنی سپیڈ تیز کی۔
محتشم۔۔۔۔محتشم ابراہیم۔۔۔۔۔وہ پارکنگ میں اپنی گاڑی کا لاک کھولتے محتشم کو دیکھ کر چلائی۔
محتشم جو سوچ چکا تھا کہ وہ اسکی آواز پر بھی کبھی نہیں رکے گا بے بس سا ہو کر کھڑا رہ گیا تھا۔۔۔۔
محتشم ابراہیم آپ مجھے دیکھ کر بھاگ رہے تھے۔۔۔۔۔وہ پھولے سانسوں سے پاس آ کر بولی
نہیں۔۔۔۔محتشم اسکے پاس آنے پر اسکی طرف پلٹ چکا تھا مگر نظریں نبیہہ کی بجائے وہاں کھڑی گاڑیوں پر تھیں۔
تو پھر کہاں جا رہے تھے پارٹی چھوڑ کر۔۔۔۔۔؟؟؟
مجھے ضروری کال آ گئی تھی اسی لیے جانا پڑ گیا۔۔۔۔آپ سنائیں کیسی ہیں۔۔۔۔؟؟؟
کیسی لگ رہی ہوں۔۔۔۔نبیہہ کے الٹا اسی سے پوچھنے پر محتشم کی نظریں بے اختیار اسکے جگمگاتے گلابی چہرے پر پڑ کر جھک گئیں۔
بہت اچھی اور بہت خوش۔۔۔۔وہ آہستگی سے کہتا بوٹ سے زمین پر پڑا پتھر کچلنے لگا۔
ایگزیٹلی۔۔۔۔۔اچھی تو میں پہلے ہی تھی مگر خوش شادی کے بعد سے رہنے لگی ہوں۔۔۔۔وہ مسکرا کر ساڑھی کا پلو سیدھا کرتی بولی
ڈیٹس گریٹ۔۔۔۔۔محتشم بھی مسکرایا
تھینکس۔۔۔۔مجھے پوچھنا تھا کہ ملک سلطان کے کیس پر آپ نے مزید کچھ کیا۔۔۔۔؟؟؟
ملک سلطان کی بات کرتے ہوئے نبیہہ بھول گئی تھی کہ وہ خود تو دبئی میں ہیں مگر اپنے چمچے کو وہ وہیں چھوڑ کر گئے تھے۔۔۔۔ان سے کچھ فاصلے پر بلیک سوک کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے احمد سیال نے ان دونوں کے ایک ساتھ اس سنسان پارکنگ میں رات کے وقت کھڑے ہونے کے منظر کو باخوبی اپنے بیش قیمت سیل کے کیمرے میں چبکے سے محفوظ کر لیا تھا اور سیل کی سکرین پر ابھرتی تصویر دیکھ کر اسکے چہرے اور آنکھوں میں شیطانیت ٹپک رہی تھی۔۔۔۔۔وہ شیطانیت جو عنقریب کسی کی خوشیوں کو آگ میں جھونکنے
والی تھی۔۔۔۔!!
پہلے خود پر چلتے کیسز سے تو بری ہو جاؤں مسز ملک پھر کسی اور کہ کیس پر بھی کچھ کروا سکوں گا۔۔۔۔وہ تلخی سے کہتا استہزائیہ ہوا
آپ پر کیس۔۔۔۔؟؟؟کیسا کیس۔۔۔۔؟؟وہ چونکی
کرپشن کیسں۔۔۔۔محتشم آہستگی سے کہتا سر جھٹک کر بوٹ سے نیچے لکیریں کھینچنے لگا۔
واٹ کرپشن کیس۔۔۔۔۔؟؟؟آپ پر۔۔۔۔ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔؟؟
اس ملک میں کچھ بھی ہو سکتا ہے مسز ملک جب ایک مجرم جرم کر کے بھی بے قصور ثابت ہو سکتا ہے تو کسی بےقصور کو بنا جرم کے مجرم ثابت کرنا کونسا مشکل ہے۔۔۔۔اینی وے یہ سب تو چلتا رہتا ہے زندگی کیساتھ جہاں بہت سی آسانیاں ہوتی ہیں وہیں کچھ آزمائشیں بھی سہنا پڑتی ہیں۔۔۔۔
میں اس کیس کو بھولا نہیں ہوں اور نہ ہی بھولوں گا سو یو ڈونٹ وری۔۔۔میں ذرا اپنے مسائل سے نکل آؤں پھر انشا اللہ اس کو بھی دیکھ لوں گا۔۔۔۔
جی تھینکس۔۔۔۔لیکن آپ کے ساتھ کس نے کیا یہ سب کچھ پتہ چلا آپ کو۔۔۔۔
میں جس فیلڈ میں ہوں وہاں جتنے دوست ہوتےہیں اتنے ہی دشمن اور وہ دشمن انہی دوستوں میں چھپے ہوتے ہیں اس لیے فلحال تو کچھ کہہ نہیں سکتا۔۔۔۔وہ کندھے اچکا کر گھڑی دیکھتا بولا
آئی ایم گیٹنگ لیٹ سو کین آئی گو۔۔۔۔؟؟
یاہ۔۔۔یو کین گو۔۔۔وہ دو قدم پیچھے ہوئی
تھینکس۔۔۔۔محتشم نے مسکرا کر گاگلز چڑھائے اور پلٹ کر گاڑی کا دروازہ کھولا
بیسٹ آف لک محتشم ابراہیم۔۔۔۔۔نبیہہ نے مسکراتے ہوئے کہا
مچ تھینکس مسز ملک۔۔۔۔وہ مسکرا کر ہاتھ ہلاتا ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔
اسکے ہاتھ ہلانے کے جواب میں نبیہہ نے بھی ہاتھ ہلا کر خدا حافظ کہا اور واپس اینٹرنس کی طرف پلٹ گئی۔۔۔۔
احمد سیال نے مسکراتے ہوئے سیل کی گیلکری اوپن کی اور اپنے ہاتھ سے کھینچھی گئی تصویریں دیکھنے لگا۔
…………………………………………………………
حال👉👉
نبیہہ ٹیرس پر موجود کین چئیر کی پشت سے سر ٹکائے آنکھیں موندے بیٹھی تھی۔۔۔۔۔
برستا ابر کرم اسے مکمل طور پر بھگو کر اسکے سارے دکھوں، سارے غموں کو دھوتا جا رہا تھا۔۔۔۔۔وہ پھر سے آج پانچ سال پہلے والی بارش میں بھیگتی کھکھلاتی ہوئی نبیہہ عباسی بن جانا چاہتی تھی جسکی زندگی میں خوشیاں تھیں،مسرتیں تھیں ، راحتیں تھیں۔۔۔سکون تھا۔۔۔اسے تو بہت پہلے ہی اپنے خودساختہ خول سے باہر نکل آنا چاہیے تھا۔۔۔۔۔خدا نے اس سے اگر کچھ لیا تھا تو اس سے کئی گنا بڑھ کر اچھا عطا بھی تو کیا تھا۔۔۔پھر کیوں وہ اتنے عرصے ناشکری کرتے ہوئے خود کو اور اپنے مسیحا کو سزا دیتی رہی تھی۔۔۔۔
اسکی آنکھوں سے نکلتے پچھتاوے اور توبہ کے آنسو بارش کے پانی کیساتھ ہی بہتے چلے جا رہے تھے۔۔۔۔
“جو بیت چکا اسے رونا کیا۔۔؟
جو حاصل ہے اسے شکر منا
یہ دکھ تو آتے جاتے ہیں
یہ زندگی کے ساتھی ہیں
اس زندگی پے رونا کیا۔۔؟
جو گزر گیا جو بیت چکا
یہ دکھ تو آنے جانے ہیں
پھر غم منا کر پانا کیا۔۔؟
جو پایا ہے وہ کافی ہے
اس پر ہی رب کا شکر منا۔۔۔۔!”
وہ اپنے رب سے بیتے کل کی معافی مانگتی ہوئی آنے والے کل کو شکر کیساتھ منانے کا عہد کر رہی تھی۔۔۔۔
وہ الحان ملک کے دیے گئے زخم سے اپنے ساتھ ساتھ اپنے مسیحا محتشم ابراہیم کو بھی بہت سے دکھ دے چکی تھی مگر اب نہیں۔۔۔۔اب اور نہیں۔۔۔۔وہ اس زخم کو اسکے کھڑنڈ سمیت کھرچنے کا عہد کر چکی تھی۔ وہ خود کو ہر غم سے آزاد کرتے ہوئے محتشم ابراہیم کیساتھ ایک بھرپور خوشیوں سے بھری زندگی گزارنے کا عہد کر چکی تھی۔۔۔۔۔
وہ پانچ سال پہلے والی نبیہہ عباسی بن گئی تھی مگر اب وہ خود کو نبیہہ عباسی نہیں بلکہ نبیہہ محتشم کہلوانا چاہتی تھی۔
مسز نبیہہ محتشم۔۔۔۔۔۔نبیہہ نے آہستگی سے آنکھیں کھولیں اور منہ پر پڑتے بارش کے چھینٹوں کو چندھیاتی آنکھوں سے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔
چند منٹ بعد وہ منہ پر ہاتھ پھیرتی اٹھی اور کمرے کی جانب بڑھ گئی۔۔۔۔
………………………………….……….…………….
ابیرہ ابھی اذان کو ڈانٹ ڈپٹ کے بعد چینج کروا کر کمرے میں آئی تھی جو بارش میں کھیلتا بھیگ چکا تھا۔۔۔۔بدلتے موسم کی پہلی بارش تھی اور اسے ڈر تھا کہیں اذان بیمار نہ پڑ جائے۔۔۔
اب وہ بالکونی میں کھڑی برستی بارش کو دیکھتے ہوئے اپنی پیچھلی پانچ سالہ زندگی کا حساب کتاب لگا رہی تھی۔۔۔ان پانچ سالوں میں اس نے اذان کے علاوہ اور کچھ نہیں پایا تھا۔۔۔۔وہ پانچ سال پہلے ابیرہ جبران ہو کر بھی خالی ہاتھ تھی اور آج پانچ سال بعد ابیرہ الحان بن کر بھی خالی ہاتھ تھی۔۔۔۔
اس نے اپنے حسد سے اپنی دعاؤں ، بددعاؤں سے الحان ملک کو حاصل تو کر لیا تھا مگر پا نہیں سکی تھی وہ صرف ظاہری اور جسمانی طور پر اسے مل سکا تھا ورنہ اندرونی اور دلی طور پر تو وہ آج بھی اسی کا تھا۔۔۔۔جسکی الحان ملک سے جدائی کی دعا کی تھی اس نے۔۔۔
ابیرہ کی وہ دعا یا بددعا قبول تو ہو گئی تھی مگر اس کے ہاتھ پھر بھی کچھ نہ آیا تھا۔۔۔۔اور یہ زیادہ تکلیف دہ تھا اس تکلیف سے جو نبیہہ اور الحان کے ایک ہونے کی خبر سے اسے ہوئی تھی۔۔۔۔
مگر اب وقت گزر چکا تھا۔۔۔!!
…………………………………………………………
ماضی 👉👉
الحان آفس میں لیپ ٹاپ کھولے بیٹھا تھا جب انٹرکام سے اسکی سیکرٹری نے ملک سلطان کے بلاوے کا میسج دیا۔۔۔۔
وہ لیپ ٹاپ بند کیے اٹھا اور سیل کی سکرین پر “آئی مس یو سویٹ ہارٹ” کے الفاظ ٹائپ کر کے اپنی عزیز از جان ہستی کے نمبر پر سینڈ کرتا مسکراتے ہوئے ملک سلطان کے آفس میں داخل ہوا۔۔۔۔۔
جی ڈیڈ آپ نے بلوایا۔۔۔۔۔؟؟؟ اس نے سوالیہ نظروں سے سگار پیتے ملک صاحب سے پوچھا
ہوں۔۔۔۔۔بیٹھو۔۔۔۔وہ سیدھے ہو کر بولے
الحان انکے سامنے پڑی چئیر گھسیٹتا بیٹھ گیا۔۔۔۔جی۔۔۔۔؟؟؟
محتشم ابراہیم کو جانتے ہو۔۔۔۔؟؟ملک صاحب نے کش لینے کے بعد منہ سے دھواں چھوڑتے ہوئے نارمل انداز میں پوچھا۔
محتشم ابراہیم۔۔۔۔الحان نے سوچ کر نفی میں سر ہلایا
نبیہہ عباسی کو جانتے ہو۔۔۔۔؟؟ اب کی بار وہ ٹھنڈے ٹھار لہجے میں بولے۔
الحان نے حیران سی سوالیہ نظریں اٹھائیں۔۔۔۔یہ ڈیڈ کو کیا ہو گیا ہے۔۔۔۔؟؟
جی جانتا ہوں۔۔۔۔
کون ہے وہ۔۔۔۔؟؟
شی از مائی لو مائی وائف اینڈ آلسو مائی لائف۔۔۔۔وہ پراعتمادی سے بولا
اسکی بات پر ملک سلطان مسکرا دیے۔۔۔
ہوں۔۔۔۔۔تو تمہیں اپنے لو اپنی وائف اور اپنی لائف پر کتنے پرسینٹ اعتماد ہے کہ وہ تمہارے ساتھ سنسئیر ہے۔۔۔۔۔۔
اس بات کا مطلب۔۔۔۔وہ خفگی سے باپ کو دیکھتا بولا
ایسے ہی پوچھ رہا ہوں۔۔۔جسٹ فار انفارمیشن۔۔۔۔انہوں نے کندھے اچکا کر مذاقیہ کہا
ہنڈرڈ پرسینٹ۔۔۔۔۔وہ یقین سے بولا
آر یو شیئور۔۔۔۔؟؟
یس آف کورس۔۔۔۔مگر آپکی ان عجیب سی باتوں کو میں سمجھ نہیں پا رہا ہوں۔۔۔۔کین یو پلیز ٹیل می دا ریزن۔۔۔۔الحان نے پوچھتے ہوئے سیل کی روشن سکرین پر دیکھا جہاں
“مس یو ٹو” کے الفاظ کیساتھ ایک دل والا ایموجی جگمگا رہا تھا۔۔۔۔اسنے نبیہہ کے نمبر سے آیا رپلائی میسج پڑھنے کے بعد بٹن دبا کر سکرین کی روشنی گل کی اور سوالیہ نظروں سے باپ کو دیکھا جو بہت غور سے اسے ہی دیکھ رہے تھے۔۔۔
اگر میں کہوں کہ تمہارا اعتماد غلط ہے تو۔۔۔۔؟؟
تو میں یہ کہوں گا کہ آپکی رائے غلط ہے۔۔۔۔وہ آرام سے بولا
ہوں۔۔۔۔۔یعنی کہ میری رائے اگر سچ بھی ہوئی تو تم اسے غلط ہی قرار دو گے۔
ڈیڈ واٹس دا پرابلم۔۔۔۔میں جانتا ہوں نبیہہ آپکو پسند نہیں ہے اور جس وجہ سے وہ آپکو ناپسند تھی اب تو وہ وجہ بھی نہیں رہی پھر ان سب باتوں کا مقصد۔۔۔۔۔؟؟؟
کچھ نہیں۔۔۔ملک سلطان نے سر جھٹک کر سگار سائیڈ پر رکھا۔
میں صرف یہ کہنا چاہ رہا تھا کہ عورت کیساتھ چاہے دل کا رشتہ ہو یا کوئی اور حد درجہ اعتماد اچھا نہیں ہوتا۔
وہ جس ماں کی بیٹی ہے اس بات سے تم اچھے سے آگاہ ہو اس لیے میں چاہتا ہوں آنکھیں بند کر کے کسی بھی رلیشن شیپ کو لے کر چلنے سے بہتر ہے آنکھیں کھول کر چلا جائے۔۔۔۔باقی تم سمجھدار ہو۔۔۔۔انجوائے یور لائف ود یور وائف مائی سن۔۔۔۔انہوں نے مسکرا کر آخر میں بات کو مذاق کا رنگ دے کر ماحول کی سنگینیت کو کم کیا۔
الحان انکی بات پر پھیکا سا مسکرا دیا۔
ملک سلطان ہلکے پھلکے ہو کر چائے کا آڈر دینے لگے وہ جو چاہتے تھے وہ ہو چکا تھا۔۔۔۔
الحان کے چہرے کے اتار چڑھاؤ سے وہ جان چکے تھے کہ انکی طرف سے پھینکا گیا شک کا پہلا پتھر تھوڑا بہت نشانے پر لگ چکا ہے۔
….……….……….….….………..………………
ڈیڈ ایسا ری ایکٹ کر رہے تھے جیسے وہ کچھ جانتے ہوں مگر مجھے بتانا نہیں چاہ رہے ہوں۔۔۔۔اور سنبل عباسی۔۔۔۔
آج اتنے عرصے بعد ڈیڈ سنبل عباسی کی بات کیوں کر رہے تھے۔۔۔انہوں نے ایسا کیوں کہا کہ نبیہہ کس ماں کی بیٹی ہے۔۔۔۔اوہ گاڈ واٹس رونگ دئیر۔۔۔وہ گھر واپسی پر ڈرائیونگ کے دوران پریشان سا سوچے جا رہا تھا۔
آفس میں بھی باقی کا وقت وہ ٹھیک سے کام پر فوکس نہیں کر پایا تھا دماغ بار بار باپ کی باتوں میں الجھ رہا تھا۔۔
نبیہہ کی مدر جو بھی تھی جیسی بھی تھی مگر نبیہہ ویسی نہیں ہے ڈیڈ ایم شیئور آباؤٹ ہر۔۔۔۔۔شی از سو نائس اینڈ انوسینٹ۔۔۔۔۔وہ سنبل عباسی کے علاوہ ہاشم عباسی کی بھی تو بیٹی ہے ڈیڈ اینڈ ہی از یور چائلڈش فرینڈ پھر کیوں آپ نے نبیہہ کے بارے میں ایسا کہا۔۔۔۔؟؟؟کیا ہوا ہے ایسا۔۔۔۔؟؟ وہ اسٹئیرنگ پر ہاتھ مارتا بڑبڑایا۔
آج سے پہلے نبیہہ آپ کو صرف بری لگتی تھی وہ بھی اس لیے کہ وہ آپ کے خلاف آواز اٹھا رہی تھی لیکن اسکے باوجود میری خواہش پر آپ نے ہاشم انکل سے رشتہ مانگا اور پھر نکاح بھی تو آپکی مرضی سے ہی ہوا تھا اگر نبیہہ میں کوئی فالٹ ہوتا تو آپ مجھے تب بتاتے جب میں نے اپنی خواہش آپکے سامنے رکھی تھی۔۔۔۔۔اب تو۔۔۔۔۔اب تو وہ بیوی بن چکی ہے میری اور میں کسی بھی دوسرے کی بات میں آ کر اپنا ریلیشن شیپ ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتا۔۔۔۔اٹس ڈن۔۔۔۔۔الحان نے گئیر بدلا اور باپ کی بات سے انکاری ہو کر گاڑی کی سپیڈ بڑھا دی۔۔۔۔
وہ مسلسل اپنی سوچوں میں ملک سلطان کی باتوں کو جھٹلائے جا رہا تھا مگر دل میں کہیں چھوٹا سا شک کا بیج بھی پنپتا دکھائی دے رہا تھا مگر فلحال وہ خود اس بیج سے انجان تھا۔
………………………………………….………….…
نبیہہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی اپنے ہاتھوں پر کیوٹکس لگا رہی تھی اور الحان بیڈ پر ترچھا سا لیٹا سیل پر بزی تھا۔۔۔گاہے بگاہے نظر سیل سے ہٹا کر نبیہہ کے آئینے میں نظر آتے عکس پر بھی ڈال لیتا۔۔۔۔چند منٹ بعد الحان نے سیل سائیڈ پر رکھا اور سیدھا ہو بیٹھا
نبیہہ۔۔۔۔۔۔
ہوں۔۔۔۔۔الحان کی پکار پر نبیہہ نے اسے دیکھے بنا مصروف سا ہوں کہا
تم۔۔۔۔۔تم کسی محتشم ابراہیم کو جانتی ہو۔۔۔۔۔؟؟؟
الحان کے سوال پر نبیہہ کا کیوٹکس لگاتا ہاتھ ایک لمحے کو ساکت ہوا مگر جلد ہی وہ خود کو کمپوز کرتی پیچھے مڑی۔
کون محتشم ابراہیم۔۔۔۔۔؟؟؟
آئی ڈونٹ نو بس نام سنا تھا اس لیے پوچھ لیا تم سے۔۔۔۔
ہوں۔۔۔۔وہ واپس آئینے کی طرف مڑ گئی
جس سے نام سنا تھا اسی سے پوچھ لیتے۔۔۔۔وہ اطمینان سے بولی
مجھے لگا کہ شاید تم جانتی ہو محتشم ابراہیم کو آئی تھنک انکل ہاشم کا کوئی جاننے والا ہو۔۔۔۔الحان نے کنپٹی رگڑتے ہوئے اندازہ لگایا۔
اوہ۔۔۔ہ۔۔۔ہ۔۔۔۔یاد آیا محتشم ابراہیم بابا کا کزن ہے اور راعنہ آنٹی کا سب سے چھوٹا بھائی۔۔۔۔۔نبیہہ وہیں بیٹھے بیٹھے ظاہری ایکسائیٹڈ ہو کر بولی یوں جیسے ابھی ابھی یاد آیا ہو۔
اوہ۔۔۔۔نبیہہ کی بات سن کر الحان چونک کر بے چینی سے اٹھ بیٹھا۔
تم پرسنلی جانتی ہو اسے۔۔۔۔؟؟؟
پرسنلی۔۔۔۔اب کے نبیہہ نے پھر سے مشکوک ہو کر الحان کو دیکھا جو سوالیہ نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
نہیں۔۔۔۔اس نے نفی میں سر ہلا کر دل کی دھک دھک پر قابو پایا۔
) کیا تھا اگر وہ کہہ دیتی کہ اسکی محتشم ابراہیم سے اچھی سلام دعا ہے مگر وہ جانتی کب تھی کہ کس کس کے پاس کیا کیا ثبوت تھے کہ وہ پرسنلی محتشم ابراہیم کو جانتی ہے۔۔۔۔)
ویسے تو راعنہ آنٹی کی فیملی کم کم ہی عباسی ہاؤس آتی ہے ناں۔۔۔۔؟؟ الحان نے نظریں سیل پر جما کر سرسری سا پوچھا۔
ہاں وہ لوگ کبھی کبھار کسی خاص موقع پر ہی آتے تھے میری بھی کوئی خاص سلام دعا نہیں ہے ان سب سے۔۔۔ بس یونہی کسی پارٹی، فنکشن یا فیملی گیٹ ٹو گیدر میں ملاقات ہو جاتی تھی۔۔۔۔۔
تم نے کس سے سنا تھا محتشم ابراہیم کا نام۔۔۔۔۔؟؟وہ بظاہر تو نارمل ہی تھی مگر اندر سے گھبرا رہی تھی کہ کہیں الحان کو پتہ تو نہیں چل گیا میں ملک سلطان کے کیس میں محتشم ابراہیم کو انوالو کر چکی ہوں پرسنلی۔۔۔۔۔۔۔
کہیں نہیں اس دن ارحم کی پارٹی میں سنا تھا کسی سے۔۔۔۔۔الحان نے جان چھڑوانے کو تکا لگایا مگر تکا ٹھیک نشانے پر ہی لگا تھا۔۔۔اس پارٹی میں واقعی محتشم ابراہیم آیا تھا مگر الحان تو یہ بات نہیں جانتا تھا لیکن نبیہہ جانتی تھی وہ وہاں آیا تھا اس لیے سر ہلاتی پھر سے اپنے کام میں مصروف ہو گئی۔۔۔
الحان نے ایک نظر اسکی پشت کو دیکھا اور اٹھ کر باہر ٹیرس پر نکل گیا۔۔۔۔
نبیہہ جانتی ہے محتشم ابراہیم کو۔۔۔۔مگر اس طرح سے نہیں جس طرح سے ڈیڈ کا مطلب تھا۔۔۔۔وہ ریلیٹوز ہیں تو ملاقات تو ہوتی ہی ہو گی اور اگر نبیہہ اسے پرسنلی جانتی تو وہ پہلے کیوں کہتی کہ وہ کسی محتشم ابراہیم کو نہیں جانتی ہے۔۔۔۔۔۔وہ گرل پر ہاتھ ٹکائے دور خلا میں دیکھتے ہوئے ہمکلام تھا۔۔
آج ملک سلطان سے ہوئی اس دن کی بات کے پورے بیس دن بعد الحان نے نبیہہ سے پوچھا تھا مطلب اس نے باپ کی بات پر یقین نہیں کیا تھا تو جھٹلایا بھی نہیں تھا۔
شک کا بیج تھوڑا اور بڑا ہو کر اپنی جڑیں پھیلا رہا تھا مگر الحان بظاہر نفی کرتا ہوا اندر سے جکڑتا جا رہا تھا۔
……………………………………………….………
اگلی قسط کل۔