No Download Link
Rate this Novel
Episode 14
“مجھ سے شادی کریں گے” آج پورا ایک ہفتہ ہو چکا تھا محتشم کی نبیہہ سے ہوئی بات کو پر اس نے ابھی تک نبیہہ کو ہاں یا ناں میں کوئی جواب نہیں دیا تھا مگر نبیہہ کا کہا گیا فقرہ اسے حصار میں لیے مسلسل ڈسٹرب کر رہا تھا۔
وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا نبیہہ نے ایسا کیوں کہا اتنے ماہ بعد اسکی چپ ٹوٹی بھی تو کس بات پر۔۔۔۔۔!
وہ کیوں ایسا چاہتی ہے اس سب کے پیچھے کیا مقصد ہو سکتا ہے اسکا۔
اگر وہ شادی کرنا چاہتی ہے تو کسی سے بھی تو کر سکتی تھی میں ہی کیوں جسکی ذات کیساتھ جوڑ کر اسے بدکردار کہا گیا تھا اور وہ اسی سے شادی کر کے اس الزام کو سچ ثابت کر رہی تھی۔۔۔۔۔وہ اسی کشمکش میں تھا جب اسے نبیہہ کا میسج موصول ہوا۔۔۔
اس میسج میں اس نے محتشم ابراہیم سے جواب مانگا تھا اور یہ بھی لکھا تھا کہ اگر جواب ہاں کی بجائے ناں میں ہوا تو بھی اسے کوئی افسوس نہیں ہو گا کہ افسوس کرنے کو اسکے پاس اب کچھ نہیں بچا۔۔۔۔۔
نبیہہ کے اس میسج نے محتشم ابراہیم کو فیصلہ لینے میں مدد دی تھی اور وہ ہاں میں جواب دے کر راعنہ سے اس سلسلے میں بات کر چکا تھا۔
راعنہ محتشم کی خواہش پر ناصرف حیران ہوئی تھی بلکہ پریشان بھی تھی۔۔۔۔۔۔وہ محتشم کی بھی شادی کرنا چاہتی تھی اور نبیہہ کی بھی مگر دونوں کی آپس میں شادی کر کے وہ الحان ملک کے جھوٹ کو سچ بنانا نہیں چاہتی تھی اس لیے وہ محتشم کو انکار کر چکی تھی۔۔۔۔۔
مگر وہ بھی محتشم تھا اپنی بات پر ڈٹا رہا اور چند ہی دنوں میں وہ راعنہ سمیت اپنے دونوں بڑے بھائیوں کو بھی اس شادی پر راضی کر چکا تھا۔۔۔۔
راعنہ نے نبیہہ سے اس پرپوزل کی بات کی تھی پر وہ کوئی بھی جواب دیے بنا خاموش رہی تھی۔۔۔۔جس پر راعنہ ایک بار پھر سے محتشم کو سمجھانے بیٹھ گئی تھی کہ نبیہہ کی بکھری ذات کی کرچیوں کو سمیٹنا آسان نہیں ہے اس لیے وہ پھر سے اچھی طرح سوچ لے اس بارے میں۔۔۔۔۔
بہن کی فکرمندی کو دیکھتے ہوئے مجبورا محتشم کو اپنے دل کی حالت اسے بتانی پڑی تھی جسے سن کے راعنہ شاکڈ تھی۔
غصے ، حیرانگی اور پیار سے اس نے سخت سست سنائی تھیں محتشم گھنے کو۔۔۔۔مگر بے فکر ضرور ہو گئی تھی محتشم کا اقرارمحبت سن کر۔۔۔وہ ایسا ساتھی ہی تو ڈھونڈنا چاہتی تھی نبیہہ کے لیے جو اپنی محبت اور مان سے اسکے ٹوٹے بکھرے وجود کو پھر سے جوڑ دے اب چونکہ اسے ایسا شخص مل چکا تھا لہذا وہ مطمعین ہو گئی تھی دونوں کی طرف سے۔۔۔۔۔۔
………………………………………………
جہاں نبیہہ کی خاموشی صرف محتشم کی ذات تک ٹوٹی تھی وہیں محتشم نے بھی نبیہہ کے لیے پرپوزل اپنی طرف سے ہی دیا تھا۔۔۔۔۔
وہ ہر طرح سے نبیہہ کے لیے چھٹنار ثابت ہوا تھا اس کے راز کا ہمراز بن کر۔۔۔۔۔۔۔۔
اور یہ بات نبیہہ اچھے سے جان گئی تھی کہ محتشم اسکے لیے کڑی دھوپ سے چھاؤں ثابت ہونے والا ہے۔۔۔۔
کیونکہ وہ محتشم ابراہیم تھا الحان ملک نہیں۔۔۔۔۔!
………………………………………………………
ہر طرف سے رضامندی کے بعد محتشم اور نبیہہ کے نکاح اور ریسیپشن کا دن ڈیسائیڈ کر لیا گیا تھا۔۔۔
راعنہ کی بہت خواہش تھی کہ وہ محتشم کی شادی خوب دھوم دھام سے کرے مگر محتشم کی سادگی کی ضد کے آگے وہ ہتھیار ڈالتی خاموش ہو گئی تھی پر پھر بھی اپنے ارمان ہر طرح سے پورے کر رہی تھی۔۔۔۔
نبیہہ لاؤنج میں ٹی وی کی بند سکرین پر فوکس کیے بیٹھی تھی جب راعنہ اسکے پاس آئی۔
یہ دیکھو نبیہہ تمہاری اور محتشم کی شادی کے کارڈز آ گئے ہیں دیکھ کر بتاؤ کیسے ہیں۔۔۔راعنہ جانتی تھی وہ کچھ بھی نہیں بولے گی مگر پھر بھی اسکی رائے لینا چاہی۔
نبیہہ نے خاموشی سے کارڈ راعنہ کے ہاتھ سے تھام لیا۔۔۔
سلور اور بلیک کلر کی تھیم سے سجا وہ کارڈ بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔
اسے کھول کر دیکھو۔۔۔۔۔نبیہہ کو کارڈ ہاتھ میں پکڑے دیکھ کر راعنہ نے کہا
نبیہہ نے چپ چاپ حکم مانا اور کارڈ کھول کر دیکھنے لگی۔۔۔۔
کیسا ہے۔۔۔۔۔؟؟؟پرامید لہجے میں پوچھا گیا۔
نبیہہ نے کارڈ سے نظریں اٹھا کر راعنہ کو دیکھا جسکی آنکھوں میں اس کے لیے فکر تھی پریشانی تھی۔۔۔۔
زندگی میں طوفان کا آنا بھی ضروری ہوتا ہے تاکہ انسان کو پتہ چل سکے کہ کون اس کا اپنا ہے اور کون پرایا۔۔۔نبیہہ کی زندگی میں آئے طوفان نے بھی اسے انسانوں کی پہچان کروا دی تھی وہ جنہیں اپنا نہ سمجھ کر ایک فاصلہ رکھتی آئی تھی وہی اسکے اپنے نکلے تھے اور جنہیں وہ فاصلے مٹا کر اپنا سمجھتی رہی وہی اسکے پرائے بلکہ پرائیوں سے بھی بدتر ثابت ہوئے تھے۔۔۔۔
کیا ہوا اچھا نہیں لگا۔۔۔۔۔۔؟؟؟نبیہہ کو اپنی طرف خاموشی سے تکتے پا کر راعنہ آہستگی سے بولی۔
بہت اچھا ہے۔۔۔۔۔بلآخر نبیہہ بھی خاموشی توڑتی بول اٹھی۔
کک۔۔۔۔کیا کہا۔۔۔پھر سے کہو۔۔۔۔نبیہہ کی آواز سن کر راعنہ بے اختیار سی اسکی طرف بڑھی۔
بہت اچھا ہے۔۔۔۔۔نبیہہ کی آنکھوں میں تیزی سے نمی جمع ہونا شروع ہوئی تھی۔
وہ نمی جو چھ ماہ پہلے برف بن چکی تھی۔
تم۔۔۔۔تم ٹھیک ہو نبیہہ۔۔۔۔راعنہ سمجھ نہیں پا رہی تھی نبیہہ کی چپ ٹوٹنے پر خوشی کا اظہار کیسے کرے۔
میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔نمی پلکوں کی باڑ توڑ کر گالوں پر پھسلی تھی۔
نبیہہ کی آنکھوں سے گرتے آنسو دیکھ کر راعنہ کے اندر سکون اترتا جا رہا تھا ۔
نبیہہ نارمل ہو رہی تھی وہ اسے نارمل کرنے کی ہی کوششوں میں لگی ہوئی تھی اب جب کہ وہ نبیہہ کو نارمل حالت میں دیکھ رہی تھی تو پرسکون فیل کر رہی تھی۔۔۔۔
چند منٹ بعد اس نے اپنی انگلی کی پروں سے نبیہہ کے آنسو پونچھے۔
مت روؤ نبیہہ یہ آنسو ہاشم کو تکلیف دیں گے تم جانتی ہو وہ تم سے بہت محبت کرتے تھے اتنی کہ کہتے تھے راعنہ سنبل کے جانے کے بعد میں نے کبھی نبیہہ کو روتے ہوئے نہیں دیکھا ہے میں جانتا ہوں وہ بہت بہادر ہے مگر اتنی نہیں کہ میرے جانے کے بعد سروائیو کر سکے۔۔۔۔اس لیے اگر میں چلا جاؤں تو اسے رونے مت دینا میں نہیں چاہتا کہ میری بیٹی رو کر اپنی بزدلی کسی پر ثابت کرے اس لیے اسکی بہادری کو میرے جانے کے بعد بھی ٹوٹنے مت دینا۔۔۔۔۔
راعنہ کی بات مکمل ہونے پر نبیہہ ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
بابا نے ٹھیک ہی کہا تھا میں انکے جانے کے بعد سروائیو نہیں کر سکتی آپ میرا آخری سگہ رشتہ تھے بابا۔۔۔۔۔میں واقعی اکیلی ہو گئی ہوں آپ کے بغیر۔۔۔۔۔وہ روتی ہوئی دل میں باپ سے ہمکلام تھی۔
یہ لو پانی پیو۔۔۔۔۔کچھ دیر روتے رہنے دینے کے بعد راعنہ نے پانی کا گلاس نبیہہ کی طرف بڑھایا۔
چند گھونٹ لے کر نبیہہ نے گلاس قریبی ٹیبل پر رکھا اور اٹھ کھڑی ہوئی
میں ایک کارڈ لے جاؤں۔۔۔۔؟؟؟
نبیہہ کے پوچھنے پر راعنہ نے ہاں میں سر ہلایا۔
تھینکس۔۔۔۔وہ مسکرا کر کہتی ایک کارڈ اٹھا کر سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی۔
………………………………………………………
الحان ملک اپنے آفس میں بیٹھا کچھ دیر بعد ہونے والی میٹنگ کے پوائنٹس چیک کر رہا تھا جب اسکے آفس کا دروازہ ناک ہوا۔۔
یس۔۔۔۔۔۔۔!
یس کی آواز پر اسکی سیکرٹری اندر داخل ہوئی۔
سر یہ آپ کے لیے کارڈ آیا ہے۔۔۔۔اس نے کارڈ الحان کے سامنے ٹیبل پر رکھا
کیسا کارڈ۔۔۔۔؟؟؟
سر دیکھنے سے تو شادی کا کارڈ لگ رہا ہے اب اندر پتہ نہیں کسی پارٹی انویٹیشن کا ہے یا شادی کا۔۔۔۔
ہوں۔۔۔۔۔الحان نے سر ہلا کر کارڈ اٹھایا۔
کون دے کر گیا۔۔۔۔۔؟؟؟وہ کارڈ کو کھولتا بولا
پتہ نہیں سر گیٹ کیپر ہی دے کر گیا ہے۔
اوکے۔۔۔۔آپ جائیں۔۔۔۔
جی سر۔۔۔۔۔وہ سر ہلاتی واپس مڑ گئی۔
الحان نے کارڈ کو کھول کر جیسے ہی اسکے اندر موجود کارڈ کو نکال کر دیکھا تو اس پر لکھے دو ناموں کو دیکھ کر وہ بت بن چکا تھا ۔
سلور کلر کے کارڈ پر
Mohtaisham Ibrahim
❤ Weds ❤
Nabeeha Abaasi
کے بلیک کلر سے لکھے گئے الفاظ پوری آب وتاب سے جگمگا رہے تھے۔۔
اور ان الفاظ کی جگمگاہٹ الحان ملک کو اپنی آنکھیں بند کرنے پر مجبور کر گئی تھی۔
اس نے بے جان سا ہوکر آنکھیں میچتے ہوئے سر کرسی کی بیک سے ٹکا دیا۔۔
…………………………………………………………….
نبیہہ اور محتشم کے نکاح میں چند دن رہ گئے تھے راعنہ شادی کے لیے شاپنگ کرنے گئی تھی وہ نبیہہ کو بھی ساتھ لے جانا چاہتی تھی پر نبیہہ نے جانے سے یہ کہہ منع کر دیا کہ وہ اپنی پسند سے ہی اسکے لیے بھی شاپنگ کر آئے اس لیے وہ پہلے کی طرح اس بار بھی نبیہہ کی شاپنگ کرنے خود ہی چلی گئی تھی۔
نبیہہ اکیلی لان میں بیٹھی دور آسمان کی وسعتوں میں ڈوبی ناجانے کیا ڈھونڈ رہی تھی جب اسے خود پر کسی کی نظروں کی تپش کا احساس ہوا۔۔۔۔اس نے گردن اٹھا کر سامنے دیکھا اور وہاں کھڑے وجود کو دیکھ کر وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔۔
تم۔۔۔۔۔تم اندر کیسے آئے۔۔۔۔۔۔؟؟؟وہ غصیلی نظروں سے گھورتی بولی
اپنی ٹانگوں پر اور اس گیٹ سے۔۔۔۔الحان نے چبھتے ہوئے کہا
کس لیے۔۔۔۔۔؟؟
تمہیں شادی کی مبارکباد دینے۔۔۔۔۔
اوہ۔۔۔ہ۔۔۔تو تمہیں کارڈ مل چکا۔۔۔۔؟؟نبیہہ مزا لے کے بولی۔
بلکل مل چکا اور میں یہ دیکھنے ہی آیا تھا کہ تم۔۔۔نبیہہ عباسی تم واقعی اتنا گر چکی ہو۔
تمہیں ابھی تک یقین نہیں آیا کہ میں واقعی گر چکی ہوں۔۔۔۔؟؟وہ چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ سجائے بولی۔
آ چکا ہے بلکہ اب تو پکا آ چکا ہے۔۔۔۔
تم محتشم ابراہیم سے شادی کر کے خود تصدیق کر رہی ہو خود پر لگے الزامات کی۔۔۔۔وہ اندرونی اکھاڑ پچھاڑ کو دبا کر بولا تھا۔
مجھے تردید کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی الحان ملک اس لیے سوچا تردید سے کیا فائدہ جب بیٹھے بیٹھائے اتنا شاندار انسان مل رہا ہے تو ناشکری کیوں کروں۔۔۔۔
تو پہلے کر لیتی اس شاندار انسان سے شادی میری زندگی کیوں برباد کی۔۔۔۔۔وہ چلاتا جنونی انداز میں نبیہہ کی طرف بڑھا تھا۔
اپنی حد میں رہ کر بات کرو الحان ملک میں نہ تو اب تمہاری منکوحہ ہوں اور نہ ہی بیوی۔۔۔۔۔
میں تم جیسی گھٹیا عورت کو ایسے کسی رشتے میں رکھنا بھی نہیں چاہتا ۔۔۔۔۔
تو پھر اب اس گھٹیا عورت کے پاس کیوں آئے ہو چلے جاؤ اپنی جیسی کسی پاکباز عورت کے پاس۔۔۔۔۔وہ آنسؤوں کے ریلے کو باہر آنے سے روکتی دبی دبی آواز میں چیخی۔
چلا جاؤں گا۔۔۔۔تمہیں میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔۔
مجھے تمہاری فکر ہے بھی نہیں میں اپنی نئی زندگی شروع کرنے جا رہی ہوں جہاں مجھے صرف اور صرف محتشم ابراہیم کی فکر کرنی ہے۔۔۔
اونہہ۔۔۔۔دیکھتا ہوں وہ تم جیسی گری ہوئی عورت کیساتھ کتنا عرصہ نباہ کرتا ہے۔۔۔۔وہ حقارت سے کہہ کر زمین پر تھوکتا واپس مڑ گیا۔
نبیہہ نے گال پر پھسلتے آنسوؤں کو بےدردی سے رگڑ ڈالا۔۔
کاش تم میری زندگی میں آنے والے پہلے مرد نہ ہوتے الحان ملک۔۔۔۔!
” معتبر بن کر ڈستے ہیں یہاں لوگ
کاش ہم بھی چہرہ شناس ہوتے۔۔”
…………………………………………………………
حال 👉👉
آج پانچ سال بعد وہ ہوسپٹل کی راہداری میں ٹہلتا بے چینی سے اس عورت کا منتظر تھا جسے بڑی حقارت سے زمین پر تھوک کر وہ گری ہوئی اور گھٹیا عورت کہہ کر آیا تھا۔
نبیہہ نے واقعی ٹھیک کہا تھا اسے ایک شاندار انسان مل گیا ہے۔۔۔
محتشم ابراہیم تم واقعی شاندار انسان تھے اسی لیے تو اوپر والے نے تمہیں نبیہہ عباسی دی۔۔۔۔۔
میں اس قابل تھا نہیں کہ اسکے ساتھ ساری زندگی بیتا پاتا اسی لیے تو بیچ راہ میں تنہا کر گیا تھا اسے۔۔۔۔۔وہ مسلسل ٹہلتا ہوا ماضی میں بیتی باتوں کو یاد کر رہا تھا۔
وہ محتشم کی فیملی سے کچھ فاصلے پر تھا ان کے آنے پر الحان نے انہیں بتا دیا تھا کہ کیسے اسکی گاڑی سے ایکسیڈینٹ ہوا تھا۔
ساری بات سننے پر محتشم کے بھائیوں نے کوئی ری ایکش نہیں دیا تھا۔۔اس لیے وہ خاموشی سے اٹھ کر ان سے کچھ فاصلے پر چلا گیا تھا۔
اور اب وہ بار بار بے چینی سے گھڑی دیکھ رہا تھا وہ نہیں جانتا تھا کہ محتشم کے گھر والے نبیہہ کو آگاہ کر چکے ہیں کہ نہیں۔۔۔۔۔مگر پھر بھی وہ منتظر تھا۔
کافی لمبے اور بے قرار انتظار کے بعد الحان ملک کو وہ چہرہ نظر آ ہی گیا تھا جو چہرہ اسے اپنی ماں کے بعد سب سے زیادہ عزیز تھا اس دنیا میں۔۔۔۔!
وہ دھندلائی ہوئی آنکھوں سے نبیہہ کو بے قراری سے معیز ابراہیم سے بات کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔۔۔
آنکھوں میں موجود دھند پانی کی شکل اختیار کرتی الحان ملک کی گالوں پر پھسلتی جا رہی تھی اور وہ انجان سا بس اسے دیکھتا جا رہا تھا دیکھتا جا رہا تھا۔۔۔۔
” مدت ہوئی ہے بچھڑے ہوئے اپنے آپ سے
دیکھا جو آج تم کو تو ہم یاد آ گئے۔۔۔! “
……………………………………………….….…
معیز کے بتانے پر کہ محتشم کا ایکسیڈینٹ کیسے ہوا نبیہہ نے کچھ فاصلے پر کھڑے اس شخص پر ایک قہر آلود نظر ڈالی تھی وہ ہر گز اس کی شکل نہیں دیکھنا چاہتی تھی آج ہی تو اس نے اس شخص کو آزاد کرنے کا سندیسہ دیا تھا اور پھر سے وہ شخص اسے اجاڑنے پر تل گیا تھا آخر کیا بگاڑا ہے میں نے اس شخص کا جو اتنے سال بعد پھر سے میری زندگی کی خوشیوں کو ڈسنے آ گیا ہے۔۔
نبیہہ بیٹھ جاؤ ان شا اللہ محتشم کو کچھ نہیں ہو گا وہ ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔۔معیز نے اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر تسلی دی۔
معیز بھائی ہر بار مجھ سے ہی کیوں میری عزیز از جاں ہستی چھینی جاتی ہے۔۔۔وہ زبان سے کہنا چاہتی تھی مگر الفاظ گلے میں ہی پھنس گئے تھے اس سے پہلے کہ وہ گرتی معاذ نے آگے بڑھ کر اسے سہارا دے کر بیٹھا دیا۔
سب ٹھیک ہو جائے گا نبیہہ تم پریشان مت ہو۔۔۔۔اب کہ معاذ نے بھی بڑے بھائیوں کے انداز میں سر تھپتھپا کر تسلی دی تھی۔
مگر اسکا دل کسی بھی تسلی سے نہیں سنبھل رہا تھا۔۔۔۔دل میں بس ایک ہی تکرار چھڑی ہوئی تھی اگر محتشم چلا گیا تو میرا کیا ہو گا۔۔۔۔۔؟؟؟
وہ سر جھکائے آنسو پیتی اپنے رب سے محتشم کی صحت یابی کے لیے دعا گو تھی جب آئی سی یو کا درواز کھول کر ڈاکٹر باہر آیا۔
معیز صاحب پیشنٹ کا بلڈ بہت بہہ چکا ہے ہمیں فوری طور پر او نیگیٹو بلڈ کی ضرورت ہے ہمارے پاس جتنا available تھا وہ ناکافی ہے آپ پلیز جلدی سے بلڈ کی ارینجمنٹ کریں او نیگٹیو بلڈ ملنا بہت مشکل ہے آپ کی فیملی سے ہی کسی کا اگر میچ ہو جائے تو بہتر رہے گا۔۔۔۔
جی ڈاکٹر صاحب میں کوشش کرتا ہوں۔۔۔۔
ہوں۔۔۔۔۔معیز ابراہیم کے کہنے پر ڈاکٹر سر ہلاتا واپس مڑ گیا۔
معاذ تم بلڈ بینک سے پتہ کرو جا کر میں اپنا بلڈ گروپ ٹیسٹ کرواتا ہوں۔
جی بھائی۔۔۔۔معاذ سر ہلاتا سیل پر نمبر ڈائل کرتا باہر کی طرف چلا گیا۔
ان دونوں کے جانے کے بعد نبیہہ نے آنسو صاف کیے اور خود میں ہمت پیدا کرتی اٹھ کر کچھ فاصلے پر کھڑے اس شخص کیطرف بڑھ گئی جسکی شکل بھی وہ دیکھنا نہیں چاہتی تھی۔
الحان نے اسے اپنی طرف آتے دیکھ کر بے اختیار نظروں سمیت سر بھی جھکا دیا۔
نبیہہ آہستگی سے قدم قدم اٹھاتی الحان کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔
اب کیا چاہتے ہو تم۔۔۔۔؟؟کیا ایک بار مجھے برباد کر کے تمہارے سینے میں ٹھنڈ نہیں پڑی جو دوسری بار برباد کرنے چلے آئے۔۔۔۔وہ سپاٹ نظروں سے اسکے جھکے سر کو دیکھتی ٹہر ٹہر کر بولی۔
نبیہہ کی بات پر الحان نے اپنی لال آنکھوں سمیت لال چہرہ اوپر اٹھایا۔۔۔۔۔شدت ضبط سے اسکی آنکھیں اور چہرہ دونوں ہی اس حد تک سرخ ہو چکے تھے کہ جیسے ابھی ان سے خون چھلک پڑے۔۔۔۔
میں ایسا کچھ نہیں چاہتا ہوں نبیہہ یہ سب اچانک ہوا۔۔۔۔۔
میرا نام مت لو میں اپنا نام لینے کا حق تمہیں نہیں دیتی ہوں سمجھے۔۔ مجھے نبیہہ کہنے کا حق صرف میرے شوہر کو ہے باقی سب کے لیے میں مسز محتشم ابراہیم ہوں۔۔۔اور اگر آج تم نے یہ حق مجھ سے چھین لیا تو یاد رکھنا مسٹر ملک میں روز حشر تک اپنی بربادی تم کو معاف نہیں کروں گی۔
محتشم اچانک سے گاڑی کہ سامنے آ گیا تھا میں نے ارادتا ایکسیڈینٹ نہیں کیا ہے۔۔۔۔میں اپنی ایک بار کی غلطی دوسری بار کیوں دہراؤں گا میں کیوں تمہیں برباد کروں گا۔۔۔۔۔وہ نبیہہ کو یقین دلاتا بے بسی سے بولا۔
تم ملک سلطان جیسے شیطان کے بیٹے ہو لہذا تم سے مجھے ہر برے فعل کی امید ہے۔۔
مگر اس بار تمہاری جیت نہیں ہو گی مسٹر ملک اس بار میں تمہیں اپنے آشیانے کو آگ نہیں لگانے دوں گی۔۔۔اگر تم نے مجھ سے محتشم ابراہیم کو چھینا تو میں تمہارے پاس کچھ بھی نہیں چھوڑوں گی اور تم جانتے ہو جب عورت انتقام لینے پر آتی ہے تو نسلوں کی نسلیں برباد ہو جاتی ہیں مگر اس بار برباد ہونے کی باری تمہاری ہو گی میرے پاس محتشم کے علاوہ کوئی قیمتی چیز نہیں جس کے کھونے کا مجھے دکھ ہو گا اس لیے دعا کرو کہ محتشم ابراہیم کو کچھ نہ ہو ورنہ۔۔۔۔۔۔۔ !!
نبیہہ خونخوار آنکھوں سے اسے دیکھتی بات ادھوری چھوڑ کر واپس مڑ گئی۔
الحان ملک نے شکستہ نظروں سے خود سے دور ہوتی مسز محتشم ابراہیم کی پشت کو دیکھا۔۔
میں تمہیں کوئی دکھ نہیں دینا چاہتا نبیہہ تم۔۔۔تم اپنے آشیانے میں محتشم ابراہیم کیساتھ سدا ہنستی مسکراتی رہو۔۔۔۔۔وہ دل کی صدا کو بارگاہ الہی تک پہنچاتا راہداری سے نکلتا چلا گیا۔۔
نبض چلتی ہے سانس جاری ہے
بس ترے بعد یوں گزاری ہے
کبھی سینے میں گنگناہٹ تھی
اب مسلسل سی آہ و زاری ہے
ہم جو تیرے بغیر زندہ ہیں
سب دکھاوا ہے دنیاداری ہے
رات کا روز یہ دلاسہ ہے
آج کی رات صرف بھاری ہے
کیا بھروسہ ہو اِن طبیبوں کا
یہ تو کہتے تھے، زخم کاری ہے
ہم تو ہارے ہیں زندگی سے مگر
زندگی موت سے نہ ہاری ہے
خود سے ٹالا ہر اک سکوں اپنا
جب سے تیری نظر اتاری ہے
کسی آہٹ پہ چونکنا کیسا
جب ہے معلوم، بے قراری ہے
فیصلہ جو کیا، کیا ہے اٹل
اچھی عادت یہی تمہاری ہے
جتنا جینا تھا جی لیا اب تک
اب تو جینے کی رسم جاری ہے
۔۔۔۔۔ـــــــــــــــــــ۔۔۔۔۔ـــــــــــــ ۔۔۔۔۔
