Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

حال👉👉
نبیہہ نے کمرے میں جا کر شاور لیا اور بالوں میں ٹاول رگڑتی باہر آئی اور آئینے کے سامنے آ کر بالوں میں برش پھیرنے لگی۔
ایک چھینک ، دوسری ، تیسری اور پھر چوتھی چھینک نے اسے قریبی ڈبے سے ٹشو کھینچنے پر مجبور کر دیا بے موسمی بارش کے نتائج نمودار ہو رہے تھے۔۔۔
ناک کو اچھے سے رگڑ کر نبیہہ نے بال برش کرنے کہ بعد انہیں جھٹک کر پشت پر پھیلایا اور ڈریسنگ ٹیبل کا وہ دراز کھولا جسے وہ پیچھلے پانچ سال میں تب ہی کھولتی تھی جب محتشم کیساتھ کہیں باہر جانا ہوتا یا پھر کسی فیملی فنکشن میں۔۔۔۔
دراز کھول کر اس نے کپڑوں کی میچنگ ساری چیزیں نکالیں اور گنگناتے ہوئے پہننے لگی جھمکے ، چوڑیاں ، رنگز باری باری ساری جیولری پہنے کے بعد اس نے میچینگ لپ اسٹک شیڈ اٹھایا اور ہونٹوں پر پھیرنے لگی ہونٹوں کو باہم ملا کر لپ اسٹک سیٹ کی اور گالوں پر ہلکا سا بلش آن لگا کر خود کو ہر زاویے سے چیک کر کے اوکے کرتی بیڈ کی طرف آئی اور سیل پر پھر سے
i M Waiting Mohtaisham
کے الفاظ لکھ کر سینڈ کرتی کمرے سے نکل گئی۔۔
……………………………………….…….……….
محتشم آفس سے نکلنے کے بعد ابصار علی کی خیریت معلوم کرنے انکے گھر چلا گیا تھا کہ بارش شروع ہو گئی۔ اس کے کہنے کے باوجود بھی ابصار علی نے اسے اتنی تیز برستی بارش میں نکلنے سے منع کر دیا تھا اور اب دو گھنٹے کے وقفے سے نبیہہ کے دوسرے میسج پر وہ بے چین ہوتا اٹھ کھڑا ہوا۔
میں چلتا ہوں سر بارش ناجانے کب تھمے نبیہہ میرا انتظار کر رہی ہو گی۔۔۔۔وہ گھڑی دیکھتا بولا
ہوں۔۔۔۔میں نے تم سے پچھلی ملاقات میں بھی کہا تھا نبیہہ کو ساتھ لانا تم۔۔۔
جی میں ضرور لاتا مگر آپ جانتے ہیں مجھے دوپہر میں آپکی طبیعت کا پتہ چلا تھا تو رہا نہیں گیا اس لیے آفس سے سیدھا یہیں آیا ہوں۔۔۔۔وہ مسکرا کر بولا
ہوں خوش رہو۔۔۔۔ابصار علی اسکی بات پر مسکرائے وہ جانتے تھے وہ محتشم کو اور محتشم انہیں کتنا عزیز تھے۔
تو پھر اجازت دیں۔۔۔۔۔وہ اجازت طلب کرتا انکی طرف جھکا۔
ابصار علی نے اپنے ضعیف ہاتھوں کو پیار سے اسکے سر پر پھیر کر کندھا تھپکا۔۔۔۔جیتے رہو اور مزید کامیابیاں سمیٹو۔۔۔۔انہوں نے دل سے دعا دی
آپ بھی اپنی صحت کا خیال رکھا کریں سر۔۔۔۔۔محتشم نے مسکراتے ہوئے ان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر دباؤ ڈالا
ہوں گزر گئی زندگی بس اب تو بلاوے کا انتظار ہے۔۔۔۔۔وہ افسردگی سے بولے
ایسا مت کہیں سر آپ جانتے ہیں آپ میرے لیے بابا سے کم نہیں ہیں انکے بعد جسطرح سے آپ نے مجھے ہیلپ آؤٹ کیا اس فیلڈ میں اور اس کرپشن کے کیس سے مجھے باہر نکالا تھا میں تازندگی آپ کا مشکور رہوں گا۔۔۔۔۔
جانتا ہوں بیٹا یہ بڑھاپا ایک زندگی گزار کر آیا ہے سب جانتا ہوں کون اپنا ہے اور کون پرایا۔۔۔۔۔انکی آنکھوں میں نمی پھیلتی جا رہی تھی۔
تم جاؤ نبیہہ اکیلی ہو گی گھر پر بارش تو ناجانے کب رکے۔۔۔۔۔وہ نمی کو اندر اتارتے بولے
جی اپنا خیال رکھیے گا۔۔۔۔محتشم ان کا ہاتھ تھپتھپاتا دروازے کی جانب بڑھا۔
گاڑی احتیاط سے چلانا محتشم بارش کافی تیز ہے۔۔۔
جی سر۔۔۔۔وہ انکی فکر پر بلند آواز سے جی سر کہتا کمرے سے نکل گیا۔
ابصار علی کا ایک ہی بیٹا تھا ارحم ابصار جو الحان ملک کا بیسٹ فرینڈ تھا۔۔۔۔اور اپنے بیسٹ فرینڈ کی خاطر ہی وہ پانچ سال پہلے اپنے بوڑھے باپ کو اکیلا چھوڑ گیا تھا۔۔۔
کہتے ہیں انسان اپنا پہلا پیار نہیں بھولتا پھر بھی ناجانے کیوں لوگ والدین کو بھول جاتے ہیں۔۔۔۔
ارحم اپنے اس عظیم باپ کو چھوڑ گیا تھا جس نے اسکی تربیت تن تنہا کی تھی۔بیوی کے چلے جانے کے بعد اس ڈر سے دوسری شادی نہ کی کہیں ان کے اکلوتے بیٹے کو سوتیلی ماں کا ظلم نہ سہنا پڑ جائے۔۔۔۔۔وہ بیٹا جسے انہوں نے پڑھایا ، لکھایا تھا اس قابل بنایا تھا کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو سکے اور جب وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے قابل ہوا تو ذرا سی بات پر پیروں پر کھڑا کرنے والے کو ہی چھوڑ گیا۔۔۔۔۔
ابصار علی کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ نبیہہ اور محتشم کے نکاح میں شریک ہوئے تھے جو انکے بیٹے کو گوارا نہ تھا کہ اسکا باپ اسکے دوست کی ایکس وائف کے دوسرے نکاح میں شریک ہو نکاح بھی اسی بندے سے جس کے ساتھ اس پر الزام لگا تھا۔۔۔۔۔مگر ابصار علی جانتے تھے کون صیح اور کون غلط ہے لہذا وہ بیٹے کی بات کو جھٹلاتے اس نکاح میں نبیہہ کیطرف سے بطور گواہ شریک ہوئے تھے۔
جس پر انکا بیٹا ان سے خفا ہو کر اپنی بیوی کیساتھ اس ملک کو ہی چھوڑ گیا تھا اور پلٹ کر نہیں آیا تھا اب تک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور شاید پلٹتا بھی نہ کیونکہ کچھ لوگوں کی زندگی میں انکے کیے کی سزا اذیت ناک پچھتاوں کی صورت میں ملتی ہے اور شاید ارحم ابصار کو بھی پچھتاوں کی آگ میں ہی جلنا تھا۔
…………………………………….……….……………
مکمل داستاں کہہ دوں۔۔؟؟
یا بس اتنا کافی ہے
تم ہی تھے تم ہی ہو تم ہی رہو گے۔۔۔!
ماضی میں گم نبیہہ کی ذات کو یاد کرتے کرتے ناجانے کتنا وقت بیت گیا تھا۔۔۔الحان نے ٹیبل پر جھکے سر کو اٹھا کر وال کلاک دیکھا جو رات کے نو بجنے کا اعلان کر رہا تھا۔
وہ اٹھا اٹھ کر چئیر کی بیک پر پڑا کوٹ اٹھا کر بازو پر ڈالا گاڑی کی چابی اور سیل اٹھا کر وہ آفس سے نکل آیا۔
نیچے پارکنگ میں آیا تو بارش ابھی بھی زوروشور سے برسنے میں بزی تھی۔
الحان نے ایک نظر آسمان پر ڈالی اور بارش سے بچتا بچاتا اپنی گاڑی کیطرف بڑھ گیا۔
اب وہ واپس گھر جا رہا تھا۔
……………………………………….….……………
محتشم ابصار علی کے گھر سے آٹھ بجے نکل آیا تھا اور اب نو بجنے والے تھے اتنی تیز بارش کیساتھ تیز طوفانی ہوا میں ڈرائیونگ کرنا بہت مشکل ثابت ہو رہا تھا۔۔۔
اس نے موسم کے تیور دیکھتے ہوئے گاڑی سائیڈ پر پارک کی اور ڈیش بورڈ پر پڑا سیل اٹھا کر نبیہہ کا نمبر ملایا۔
ابھی بیل نہیں گئی تھی کہ ڈیڈ بیٹری کی ٹون ابھری۔
شٹ۔۔۔۔۔محتشم نے غصے سے اسٹیئرنگ پر ہاتھ مارا۔
واٹ دا ہیل اسے بھی ابھی ڈیڈ ہونا تھا۔۔۔اس نے چڑ کر سیل واپس ڈیش بورڈ پر ٹپخا۔
اب وہ سیٹ کی پشت سے سر ٹکائے باہر برستی طوفانی بارش کو دیکھ رہا تھا۔
دل ناجانے کیوں بے چین سا ہو رہا تھا شاید نبیہہ کی وجہ سے وہ گھر پر اکیلی تھی صرف گیٹ کیپر ہی تھا اسکے علاوہ۔۔میڈ تو کل ہی دو دن کی چھٹی لے کر بھائی کی شادی میں گئی تھی۔۔۔وہ کنپٹی مسلتا ہوا مسلسل باہر دیکھتا بے چین ہو رہا تھا۔
بیس سے پچیس منٹ بعد بارش کو اپنے تیور نہ بدلتے دیکھ کر وہ چابی گھما کر گاڑی اسٹارٹ کر چکا تھا۔۔۔
……………………………………………………..
ماضی 👉👉
ملک صاحب پانچ مہینے ہونے والے ہیں اور نبیہہ عباسی ابھی تک آپ کے گھر میں آپکی بہو کے طور پر موجود ہے۔
تو۔۔۔۔۔؟؟؟ملک سلطان نے ابرو اچکا کر پوچھا
تو کب آپ اسے۔۔۔۔
دیکھو سیال فلحال ہم محتشم کو کرپشن کے کیس میں ڈلوا کر مصروف کر چکے ہیں اور نبیہہ کا بھی شاید اب اس سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔
میڈ سے پتہ چلا تھا الحان اور میرے آفس آنے کے بعد وہ گھر پر ہی ہوتی ہے۔
گھر پر تو وہ پہلے بھی تھی جاب سے ٹرمینیٹ کیے جانے پر اور گھر پر بیٹھے بیٹھے ہی اس نے محتشم ابراہیم سے رابطہ کیا تھا۔۔۔۔احمد سیال نے پھر گھما پھرا کر بات کی۔
کتنی دفعہ کہا ہے سیال بات سیدھی کیا کرو مگر تمہاری پہیلیاں بھجوانے کی عادت سخت زہر لگتی ہے مجھے۔۔۔۔وہ غصے میں تھوڑا لاؤڈ ہوئے۔
انکے تیور دیکھ کر احمد سیال نے مزید بےعزتی کے ڈر سے بچنے کو اپنا سیل انکے سامنے کیا جس پر محتشم اور نبیہہ کی ایک ساتھ کھڑوں کی تصویر تھی۔
کب کی ہے یہ۔۔۔۔۔وہ بے چین سے بولے
آپ کے دبئی جانے کے بعد ارحم ابصار کی پارٹی کی ہے یہ تصویر۔۔۔۔
پھر تو الحان آگاہ ہو گا اس سے۔۔۔۔۔ملک صاحب کو مایوسی ہوئی
نہیں ملک صاحب۔۔۔۔الحان صاحب دوستوں میں بزی تھے اور تصویر میں نے پارکنگ میں کھینچی تھی جہاں ان دونوں کے علاوہ کوئی نہیں تھا۔
کیا بات ہوئی انکی۔۔۔۔۔؟؟؟
بات تو معلوم نہیں ہو سکی میں اپنی گاڑی میں تھا لیکن ضرور آپ سے ریلیٹڈ ہی ہو گی کیونکہ نبیہہ میڈم ہی محتشم ابراہیم کو پیچھے سے پکارتیں اس تک آئی تھیں۔۔۔۔
ہوں۔۔۔۔۔مطلب وہ ابھی بھی محتشم ابراہیم سے کانٹیکٹ میں ہے۔۔۔۔ملک سلطان پرسوچ انداز میں بولے
جی ملک صاحب۔۔۔۔۔
اور کوئی ثبوت کوئی میل وغیرہ۔۔۔۔۔؟؟؟
نہیں میل کا سلسلہ نہیں ہوا دوبارہ۔۔۔۔۔احمد سیال تابعداری سے بولا
ہوں۔۔۔۔تم ایسا کرو اس تصویر کو اور جو تم نے مہندی کی رات لی تھی وہ ان دونوں کو ڈویلپ کراؤ۔
مگر یہ ناکافی ثبوت ہیں ملک صاحب ان چند تصویروں سے الحان صاحب ہر گز بدظن نہیں ہوں گے نبیہہ عباسی سے۔۔۔۔۔
بدظن تو وہ ہو چکا ہے سیال مگر کس حد تک اسکا اندازہ نہیں۔۔تمہیں فلحال جتنا کہا ہے وہ کرو اگر ضرورت پڑی تو انہی تصویروں کو ویسا بھی کروا لیں گے جس سے الحان ملک مکمل طور پر بدظن ہو جائے گا اس نبیہہ عباسی سے۔۔۔۔۔وہ مکروہ مسکراہٹ چہرے پر سجاتے چئیر سے اٹھ کھڑے ہوئے۔
انکے اٹھنے پر احمد سیال بھی تعظیما کھڑا ہوا اور ملک صاحب کے آفس سے نکلنے پر وہ بھی مسکراتا ہوا باہر نکل گیا۔۔
…….….…………….……………………….………….
الحان اپنے آفس میں فائل پر جھکا بیٹھا تھا جب ملک سلطان اسکے آفس میں داخل ہوئے۔۔۔۔
باپ کو دیکھ کر وہ فائل کھسکا کر کھڑا ہوا۔۔کوئی کام تھا تو مجھے بلا لیتے آپ۔۔۔
ہوں بیٹھو تم۔۔۔۔۔ملک صاحب اسے کہہ کر خود بھی سامنے پڑی چئیر گھسیٹ کر بیٹھ گئے۔۔۔۔
خیریت۔۔۔۔۔الحان نے باپ کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر پوچھا
میں تم سے پہلے بھی کہہ چکا ہوں اور اب بھی یہی کہنے آیا ہوں کہ اپنی بیوی پر نظر رکھو۔۔۔
ڈیڈ میری بیوی کوئی چورنی نہیں ہے جو میں اس پر نظر رکھوں۔۔۔۔۔وہ باپ کی بات کا برا منا کر بولا
چورنی نہیں ہے مگر تمہیں دھوکہ ضرور دے رہی ہے۔۔۔۔۔ ملک صاحب اسکے چہرے کو اپنی چیل جیسی نگاہوں میں رکھے ہوئے تھے۔
محتشم ابراہیم ہاشم انکل کا کزن اور راعنہ آنٹی کا بھائی ہے ڈیڈ۔۔۔۔وہ لوگ ریلیٹیوز ہیں میل ملاقات تو ہوتی ہو گی میں بھی تو اپنی کزنز سے ملتا ہوں لیکن اسکا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ میرا ان سے کوئی افیئر ہے۔۔۔۔۔
فائن۔۔۔۔۔تمہیں لگ رہا ہے میں ہوائی بات کر رہا ہوں۔
میرا یہ مطلب نہیں ہے ڈیڈ میں صرف یہ کہنا چاہ رہا ہوں کہ آپکو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔۔
ہوں۔۔۔۔۔اس پیکٹ میں موجود تصویروں کو دیکھو اور بتاؤ کیا یہ میری غلط فہمی ہے یا پھر تم اپنی بیوی پر غلط اعتماد کر رہے ہو۔۔۔۔ملک صاحب نے ہاتھ میں پکڑا خاکی پیکٹ ٹیبل پر ٹپخنے کے انداز میں رکھا۔
الحان نے ایک نظر باپ کو دیکھ کر پیکٹ اپنی طرف کھینچ کر چاک کیا۔
پیکٹ میں چار سے پانچ تصویریں تھیں۔
میری نبیہہ عباسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے وہ میرے دوست کی بیٹی اور میرے اکلوتے بیٹے کی محبت ہے اور مجھے بہت عزیز ہے لیکن تم میری اولاد ہو تم سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے میرے لیے اسی لیے میں چاہتا ہوں تم اپنی آنکھوں کو کھولو تاکہ کسی بڑے دکھ اور دھچکے سے بچ سکو۔۔۔۔۔۔۔اور نہ ہی میرامقصد نبیہہ پر بہتان لگانا ہے۔۔۔۔۔میں صرف تمہیں انفارم کر رہا ہوں۔۔۔۔۔۔آگے تم یقین کرو یا نہ کرو یہ تم پر ڈیپینڈ کرتا ہے۔۔۔۔اب ان تصویروں کو دیکھنے کے بعد نبیہہ سے کوئی باز پرس مت کرنا کوئی بھی مجرم اپنے منہ سے جرم کا اقرار نہیں کرتا اس لیے خاموشی سے جج کرو اگر یہ سب سچ ہوا تو جلد ہی تمہارےسامنے آ جائے گا۔۔۔۔۔سو بی کام۔۔۔۔۔وہ خنجر کی نوک پر دلاسا رکھ کر اسے دیتے آفس سے نکل گئے۔۔
ان کے جانے کے بعد الحان نے ٹیبل پر اوندھی پڑی تصویروں کو دیکھا۔
ایک طرف دل چاہ رہا تھا کہ انکو دیکھے بنا پھاڑ دے یہ جھوٹ ہے نبیہہ مجھے چیٹ نہیں کر سکتی مگر دوسری طرف دل چاہ رہا تھا کہ دیکھ لے آخر ڈیڈ اتنے وثوق سے کہہ رہے ہیں تو یقینا کچھ تو گڑ بڑ ہے۔۔۔۔
دل میں لگی سچ جھوٹ کی جنگ میں سچ کی فتح ہوئی اور الحان نے باپ کے داوعوں کو سچ مانتے ہوئے تصویریں اٹھا کر سامنے کی۔۔۔۔
تصویر میں نبیہہ اور محتشم دونوں آمنے سامنے کھڑے تھے دونوں کے چہروں پر ہلکی مسکراہٹ تھی۔
دوسری تصویر بھی اسی جگہ کی تھی مگر اس میں محتشم گاڑی میں بیٹھتا ہوا نبیہہ کو ہاتھ ہلا کر اللہ حافظ کر رہا تھا۔۔۔۔اس سے اگلی تصویر میں محتشم گاڑی میں بیٹھ چکا تھا اور نبیہہ ہاتھ ہلاتی چہرے پر دلکش مسکراہٹ سجائے اسے خدا حافظ کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔
یہ تصویریں تو شاید ارحم کی پارٹی کی ہیں۔۔۔۔تو کیا محتشم ابراہیم اس پارٹی میں شامل تھا۔۔۔۔مگر یہ دونوں کب ملے۔۔۔۔الحان نے پھر سے تینوں تصویروں کو غور سے دیکھا وہ پارکنگ میں لی گئی تھیں جہاں اس وقت گاڑیوں کی لمبی قطار کے علاوہ وہ دونوں کھڑے تھے دور دور تک کوئی ذی روح نظر نہیں آ رہا تھا۔۔۔۔
نبیہہ تو میرے ساتھ تھی پھر کب یہ اس سے ملنے گئی۔۔۔۔۔وہ کنپٹی مسلتا سوچ رہا تھا
مجھے بتایا بھی نہیں اس بارے میں کچھ۔۔۔۔۔ کیا ڈیڈ صیح کہہ رہے ہیں نبیہہ مجھے چیٹ کر رہی ہے۔۔۔۔۔۔مگر کیوں۔۔۔۔؟؟؟ اس کیوں کا جواب نہ پاکر محتشم نے چوتھی اور آخری تصویر سامنے کی۔
اس تصویر کو دیکھ کر وہ کرنٹ کھانے کے انداز میں اچھل کر کھڑا ہوا۔
واٹ از دس۔۔۔۔۔وہ پھٹی پھٹی آنکھیں تصویر پر جمائے بڑبڑایا۔
تصویر میں نبیہہ مہندی کا ڈریس پہنے اپنے ہوش ربا سراپے سمیت محتشم کے سینے سے لگی کھڑی تھی۔۔۔۔محتشم کا ایک ہاتھ نبیہہ کے کندھے پر جبکہ دوسرا پہلو میں گرا ہوا تھا۔
دونوں کے بیچ شاید کوئی ایک ، دو انچ کا فاصلے ہو جو سرسری دیکھنے سے بلکل بھی معلوم نہیں ہو رہا تھا۔
واٹ دا ہیل از دس۔۔۔۔الحان نے چیختے ہوئے ٹیبل پر پڑے گلاس کو ہاتھ مار کر نیچے گرایا نیچے گرنے سے گلاس کا کانچ ادھر أدھر بکھر گیا۔۔
یہ سچ نہیں ہے نبیہہ مجھ چیٹ نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔وہ چلایا
شی لوز می۔۔۔۔۔شی از مائی لو۔۔۔۔شی کانٹ دسیو می۔۔۔۔اٹس رونگ۔۔۔۔اٹس آل رونگ۔۔۔۔۔وہ بالوں کو مٹھی میں جکڑتا پاگلوں کی طرح چلاتے ہوا چئیر پر بیٹھا۔
کچھ دیر بعد اس نے ٹیبل کی سطح سے اپنا سرخ چہرا اٹھایا۔۔۔۔
آئی ڈونٹ بلیو دس ڈیڈ۔۔۔آئی ڈونٹ بلیو۔۔۔۔۔۔الحان نے بڑبڑاتے ہوئے مہندی کی رات لی گئی تصویر کو کئی ٹکڑوں میں بانٹ کر قریبی ڈسٹ بین میں اچھالا اور ٹیبل پر ہاتھ مارتا سخت تاثرات لیے کھڑا ہوا۔۔۔۔
آئی اونلی جج ہر ڈیڈ۔۔۔۔۔اف شی شیئورلی دسیوڈ می دین آئی ول ٹیک دا فائنل اینڈ لاسٹ ڈسیزن۔۔۔۔وہ سانس لیتا رکا
آئی۔۔۔۔۔آئی ول ڈراپ آوٹ ہر فرام مائی لائف فارایور۔۔۔۔۔
وہ ٹیبل پر زوردار انداز میں مکا مارتا راستے میں آئی ہر چیز کو پیروں تلے روندتا آفس سے باہر نکل گیا۔
…………………………………….…….……………….
حال👉👉
چڑ۔۔۔۔ڑ۔۔۔۔ڑ۔۔۔۔۔ڑ۔۔۔۔۔۔کی آواز ابھری اور گاڑی کا انجن بند ہو گیا۔
واٹس رونگ ٹو ڈے۔۔۔۔۔محتشم نے اسٹئیرنگ پر ہاتھ مارا۔
وہ اتنی احتیاط سے گاڑی چلا رہا تھا اور وہ تھی کہ بیچ سڑک رک گئی تھی۔۔۔۔۔ چہرے پر سنجیدہ اور غصے کے تاثرات سجائے وہ باہر نکلا اور گاڑی کا بونٹ اٹھائے اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔اس قدر طوفانی بارش میں فیڈر بھی شاید ٹریپ ہو گئے تھے اسی لیے اسٹریٹ لائٹس بھی بند تھیں۔۔۔۔موبائل کی بیٹری تو پہلے ہی ڈیڈ تھی پھر وہ کیسے گاڑی کی خرابی جانچ سکتا اندھیرے میں ہی اس نے اندازے سے ہاتھ ہلا کر ایک دو پرزوں کو چھیڑا اور گاڑی اسٹارٹ کرنے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔۔وہ چڑڑڑڑ کی آواز نکال کر پھر بند ہو جاتی۔۔۔۔چند منٹ کوشش کے بعد محتشم نے گاڑی لاک کی اور اپنا سیل پینٹ کی جیب میں ڈالتا دائیں جانب مڑ گیا ٹیکسی لینے۔۔۔۔۔
بارش اور ہوا اسقدر تیز تھی کہ وہ بمشکل ہی خود کو متوازن رکھتا چل رہا تھا۔۔۔۔۔۔فٹ پاتھ پر کھڑے ہو کر آتی جاتی گاڑی کی ہیڈ لائٹس میں اسنے سڑک کی دوسری جانب کھڑی گاڑی کو دیکھا وہ ٹیکسی تھی یا کسی کی ذاتی گاڑی اندھیرے میں محتشم اندازہ نہیں کر پایا تھا۔۔۔۔اسی لیے وہ سڑک کراس کرنے کے لیے فٹ پاتھ سے اترا تھا تاکہ وہاں جا کر دیکھ سکے اگر ٹیکسی ہوئی تو وہ گھر جانے کے لیے اسے ہائر کر لے گا۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسری طرف لیفٹ سائیڈ سے آتی بلیک ہونڈا کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا الحان جھک کر نبیہہ کی پسند کی سی ڈی ڈھونڈ رہا تھا جو وہ بارش میں ڈرائیونگ کے دوران سنتی تھی۔۔۔۔ادھر أدھر ہاتھ مار کر مطلوبہ سی ڈی تلاش کر کے جب وہ سیدھا ہوا تو بہت دیر ہو چکی تھی۔۔۔
گاڑی زوردار انداز میں روڈ کراس کرتے محتشم کے وجود سے ٹکرائی تھی۔۔۔۔اس زبردست تصادم کے نتیجے میں محتشم کا وجود ہوا میں اچھل کر بہت دور جا گرا تھا۔۔۔۔۔
اس وحشت ناک ماحول میں طوفانی ہوا کی سنسناہٹ کیساتھ کتوں کے بھونکنے کی آوازیں گونجتی دور دور تک سنائی دے رہی تھیں۔۔۔
………………………………………………………….
نبیہہ کیچن میں کھڑی اپنے لیے چائے بنا رہی تھی چائے بنانے کے بعد اسنے چائے کپ میں نکالی اور کپ اٹھا کر لاؤنج میں جانے کے لیے مڑی تھی کہ اچانک کپ اسکے ہاتھ سے چھوٹ کر زمین سے ٹکرا کر کرچی کرچی ہو گیا۔۔۔۔۔۔نبیہہ حیرت سے کھڑی دیکھ رہی تھی کہ اچانک کیسے ہوا یہ۔۔۔۔۔چند لمحوں بعد وہ ٹوٹی کرچیوں کو سمیٹنے کی بجائے ان پر سے پھلانگی اور سیڑھیاں چڑھتی ہوئی اپنے کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔۔بیڈ سائیڈ ٹیبل سے اپنا سیل اٹھا کر محتشم کا نمبر ملا کر سیل کان سے لگا
The number you have dailed is powered off..
کی آنسرنگ ٹون سے وہ بے چین ہو اٹھی۔۔۔
اتنے خراب موسم میں سیل کیوں آف کر دیا محتشم۔۔۔۔اس نے بڑبڑاتے ہوئے ٹیکسٹ لسٹ کھولی محتشم کا
i am Coming dear
کا ٹیکسٹ آئے تقریبا ڈیڑھ گھنٹا ہونے والا تھا۔۔۔۔ابصار انکل کا گھر اتنا دور تو نہیں کہ اتنی دیر لگ جائے۔۔۔۔ وہ ہمکلامی کرتی سیل ہاتھ پر مارتی کھڑی تھی جب باہر کوئی چیز بہت بری طرح سے گری تھی۔۔۔وہ ڈر کر چونکی۔۔۔۔
شاید کوئی کھڑکی کھلی ہے۔۔۔۔۔وہ جلدی سے اپنے کمرے کی ونڈوپین برابر کرکے کرٹن آگے کرتی کمرے سے نکل آئی۔۔۔گھر کے سارے دروازے کھڑکیاں لاک کرنے کے بعد وہ لاؤنج میں آ کر ٹہلنے لگی۔
کہاں رہ گئے محتشم۔۔۔۔ہر دس منٹ بعد وہ چکر کاٹتی بے چینی سے یہ فقرہ دہرائے جا رہی تھی۔۔۔
ٹہل ٹہل کر جب پاؤں شل ہو گئے تو نبیہہ نے وال کلاک کی طرف دیکھا جو ساڑھے گیارہ کا ہندسہ عبور کر گیا تھا۔۔۔۔نبیہہ کو ٹہلتے ایک گھنٹہ ہو چکا تھا۔۔۔۔وہ تھک کر پاس پڑے صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھی۔۔۔۔
سیل پر پھر سے محتشم کا نمبر ملایا مگر پاور آف کی ٹون پر اسنے بدمزا ہو کر سیل ٹیبل پر ٹپخا اور خود ٹانگیں اوپر کر کے گھٹنوں میں سر دے کر بیٹھ گئی۔
دل کے دھڑکنے کی رفتار اسے کسی انہونی کا پتہ دے رہی تھی۔۔۔۔مگر وہ انہونی کیا تھی فلحال نبیہہ اس بات سے بے خبر تھی۔
……………………………………………..………