Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

ماضی 👉👉
مختصر سے مہمانوں کی موجودگی میں محتشم ابراہیم نبیہہ عباسی کو اپنی محرم بنا کر ابراہیم ولا لے آیا تھا۔۔
آف وائٹ کلر کی فراک اور چوری دار پاجامے میں ہم رنگ کھسہ پہنے وہ پرستان سے آئی پری ہی معلوم ہو رہی تھی۔۔
چند ایک ضروری رسموں کے بعد محتشم کی بڑی بھابھی صائقہ نبیہہ کو محتشم کے کمرے میں چھوڑ گئی تھی۔
نبیہہ نے چاروں طرف نگاہ دوڑا کر کمرے کا جائزہ لیا جو محتشم ابراہیم کی پرسنیلٹی کی طرح اسکی نفاست اور خوبصورتی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔۔
وہ بیڈ سے اٹھ کر لان میں کھلنے والی ونڈو کے پاس آ کھڑی ہوئی اور آسمان پر چمکتے ستاروں کو غور سے دیکھنے لگی۔۔
کب کمرے کا دروازہ کھلا اور کب محتشم قدم قدم چلتا اس تک آیا نبیہہ کو کچھ خبر نہ ہوئی وہ مگن سی ان چکمتے ستاروں کی جگمگاہٹ کو ٹکٹکی باندھے دیکھتی جا رہی تھی۔
چند لمحوں بعد محتشم نے گلا کھنکار کر اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔
محتشم کے گلا کھنکارنے پر نبیہہ چونک کر دائیں جانب مڑی جہاں کھڑا محتشم ابراہیم بغور اسی کو دیکھ رہا تھا۔۔نبیہہ کو اپنی طرف تکتا پا کر وہ ہلکا سا مسکرایا
کیسی ہیں۔۔۔۔۔؟؟؟
میں۔۔۔۔۔ٹھیک۔۔۔۔۔وہ دونوں الفاظ میں وقفہ دے کر بولی۔
یہاں کیوں کھڑی ہیں۔۔۔۔؟؟
بس ایسے ہی میں ان ستاروں کی چمک دمک کو دیکھ رہی تھی جو کسی صورت بھی ماند نہیں پڑتی۔۔۔چاہے آندھی، طوفان کچھ بھی آ کر گزر جائے۔۔۔وہ آہستگی سے بتاتی پھر سے انہیں دیکھنے لگی۔
ہوں۔۔۔۔محتشم نے نبیہہ کے چہرے پر پھیلے حزن کو دیکھتے ہوئے لمبا سا ہوں کیا اور خود بھی باہر آسمان پر چمکتے ستاروں کو دیکھنے لگا۔۔
میرے خیال سے انسان کو بھی ایسا ہی ہونا چاہیے جس پر کوئی طوفان کوئی آندھی اثر نہ کر پائے۔۔۔۔
نہیں۔۔۔انسان ایسا نہیں ہو سکتا میرے خیال سے باوجود کوشش کے بھی یہ حالات کی آندھیاں کچھ نہ کچھ تو بگاڑ دیتی ہی ہیں اس میں۔۔۔۔۔وہ محتشم کی بات سے متفق نہ تھی۔
مگر یہی آندھیاں اسے آگے بڑھنے کی نوید بھی تو سناتی ہیں۔۔۔۔محتشم نے ونڈو پین سے ٹیک لگا کر رخ اسکی جانب کیا اور بازو سینے پر باندھے۔
ہوں۔۔۔۔اس بات سے اتفاق کرتی ہوں میں۔۔۔۔۔اب کے نبیہہ نے مسکرا کر متفق رائے کا اظہار کیا۔
مسکراتی رہا کریں اچھی لگتی ہیں۔۔۔۔محتشم اسکے ہونٹوں پر بکھرتی مدھم مسکراہٹ دیکھ کر بولا۔
مجھے ہسنا مسکرانا اور پھر اچھا بھی لگنا راس نہیں آتا۔۔۔۔۔
اس بار ضرور آئے گا۔۔۔۔وہ پریقین سا بولا۔
اچھا۔۔۔۔۔۔۔! نبیہہ اسکے یقین پر مسکرا دی۔
i love u Nabeeha….!!
وہ اسکے حسین چہرے پر امڈتی بکھرتی مسکراہٹ کو دیکھتا جذب سے بولا تھا۔
میرا اب اس بات پر یقین نہیں رہا۔۔۔۔وہ محتشم کی آنکھوں میں دیکھتی اعتماد سے بولی۔
ہوں۔۔۔۔۔محتشم نے مسکرا کر سر ہلایا اور قدم بڑھاتا نبیہہ کے بلکل قریب آیا
i want to grow old with u Nabeeha….!!
(میں تمہارے ساتھ بوڑھا ہونا چاہتا ہوں نبیہہ)
نبیہہ اس انوکھے اظہارے محبت پر دل کھول کر مسکرا دی۔
ہنستی رہا کریں اچھی لگتی ہیں۔۔۔۔وہ مسکراہٹ دباتا شرارت سے بولا
آپ کے مسکرانے پر بھی کوئی پابندی نہیں۔۔۔۔نبیہہ نے اسکی دبی دبی مسکراہٹ پر چوٹ کی۔
نبیہہ کی بات پر محتشم نے پورے دل سے مسکراتے ہوئے نبیہہ کے وجود کو بازو کے حلقے میں لے کر ماتھے پر بوسہ دیا۔۔
اپنی بات پر قائم رہئیے گا محتشم۔۔۔۔وہ پرامید نظروں سے محتشم کی آنکھوں میں دیکھتی بولی۔
میں آخری سانس تک اپنی بات پر قائم رہوں گا مسز محتشم۔۔۔۔وہ یقین دلاتا مسکرایا۔
اور مجھے آخری سانس تک آپ کی بات پر یقین رہے گا مسٹر محتشم۔۔۔۔وہ بھی اسی کے انداز میں مسکرا کر کہتی سر محتشم کے بازو سے ٹکا گئی۔
محتشم نے سرشار ہو کر نبیہہ کے وجود کے گرد اپنے بازؤں کا مضبوط حصار باندھ دیا۔
“تم نے رکھا ہے قدم ہماری سلطنت میں بڑے مان کیساتھ٬
ہم ضمانت نہیں دیتے اپنی سلطنت میں محبت کی قید کیساتھ۔۔۔۔”
…………………………………………………………
حال 👉👉
you want to grow old with me Mohtaisham…
(آپ میرے ساتھ بوڑھا ہونا چاہتے تھے محتشم)
آپ نے وعدہ کیا تھا آپ اپنی بات پر قائم رہیں گے پھر اب کیوں اپنی بات سے مکر رہیں ہیں پلیز اس طرح مت کریں محتشم۔۔۔وہ بینچ پر سر گھٹنوں میں دیے بیٹھی آئی سی یو میں بند محتشم سے ہمکلام تھی۔
میری ذات کی بکھری کرچیوں کو بہت مشکل سے سمیٹا ہے آپ نے اب پھر سے یہ کرچیاں بکھر گئیں تو پھر کبھی جڑ نہیں پائیں گی محتشم آپ کو خدا کا واسطہ ہے پلیز مجھے اکیلا مت کرئیے گا۔۔۔۔۔وہ ہچکیوں سے روتی ہوئی بڑبڑا رہی تھی جب مؤذن کی آواز اسکے کانوں میں پڑی جو نئے دن کی نوید سناتا سب کو بارگاہ الہی میں حاضر ہونے کی دعوت دے رہا تھا۔
نبیہہ نے بھی گھٹنوں سے سر اٹھایا اور اس دعوت پر لبیک کہتی وضو کرنے چل دی۔
………………………………………………………
معیز ابراہیم کا بلڈ محتشم کے بلڈ سے میچ کر گیا تھا۔۔۔۔۔
ڈاکٹرز نے مکمل ٹریٹمنٹ کے بعد محتشم کو ابھی روم میں شفٹ نہیں کیا تھا اسکے ہوش میں آنے تک اسے انڈر آبزرویشن ہی رکھا گیا تھا۔
محتشم کا وجود اچھل کر فٹ پاتھ کنارے گرا تھا جس سے چوٹ اسکے سر میں آئی تھی جو کافی نقصان دہ ثابت ہو سکتی تھی۔۔اسلئیے ڈاکٹرز نے قبل از وقت انہیں کوئی اچھی خبر نہیں سنائی تھی۔
وہ سب آئی سی یو کے باہر بند دروازے کے اس پار پٹیوں میں جکڑے وجود کے لیے تہہ دل سے دعا گو تھے۔
صبح کے سات بجے وہ دروازہ کھلا تھا جس کے کھلنے کے وہ سب رات سے منتظر تھے۔
ڈاکٹر رضی قدم قدم چلتے ان تک آئے تھے۔
محتشم کو روم میں شفٹ کر دیا گیا ہے ناؤ ہی از آؤٹ آف ڈینجر۔۔۔۔۔
جہاں یہ سن کر سب نے سکون کی سانس لی تھی وہیں ڈاکٹر رضی کی اس بات نے نبیہہ کے نیم مردہ وجود میں بھی جان پھونک دی تھی وہ پرسکون ہو کر پیچھے ہٹتی بینچ پر بیٹھنا چاہتی تھی مگر بیٹھنے سے پہلے ہی وہ لہرا کر زمین بوس ہوئی تھی۔۔
نبیہہ۔۔۔نبیہہ۔۔۔۔کی پکار کیساتھ وہ سب اسکی طرف لپکے تھے۔
………………………………………………………
ماضی 👉👉
محتشم واقعی نبیہہ کے لیے ایک سایہ دار درخت ثابت ہوا تھا جس نے اپنی چھاؤں میں نبیہہ کے تپتے وجود کو ڈھانپ کر اسکی ساری تپش چھین لی تھی۔۔
نبیہہ نے شادی سے پہلے ہی محتشم اور راعنہ کی ٹیلی فونک گفتگو سیکنڈ فلور پر پڑے ایکسٹینشن سے سن لی تھی جس میں محتشم نے راعنہ کو اپنی نبیہہ سے محبت کے بارے میں بتایا تھا۔ اس لیے وہ نکاح سے پہلے ہی محتشم کی محبت سے واقف ہو چکی تھی مگر وہ اس حد تک اس کا دیوانہ ہے وہ اب جان پائی تھی۔۔۔جو نبیہہ کی ہر غفلت کو دل بڑا کر کے نظرانداز کر دیتا تھا۔
نبیہہ ماضی میں کھو کر اکثر اسکے ساتھ زیادتی کر جاتی تھی مگرمحتشم برا منائے بغیر ہر بار بڑی فراخدلی کا مظاہرہ کرتا تھا جس پر نبیہہ اکثر شرمندگی محسوس کرتی تھی پر وہ بھی مجبور تھی دل کے ہاتھوں جو اسے ماضی بھولنے ہی نہیں دے رہا تھا۔۔۔ہر بار عہد کرتی سب کچھ بھلانے کی مگر ہر بار ہی اسکا دل آڑے آ جاتا تھا اور وہ آگے بڑھنے کی جدوجہد میں پھر سے اسی نکتہ پے آ کھڑی ہوتی جہاں الحان ملک نے اسے اپنی زندگی سے بے دخل کیا تھا۔۔۔۔
ان سب کے باوجود اس گزرتے ماہ و سال میں ان کے درمیان ایک دوستانہ رشتہ قائم ہو چکا تھا وہ صرف اچھے دوست ہی نہیں بلکہ اچھے میاں بیوی بھی تھے جو ایک دوسرے کی کمزوریوں کو نظرانداز کرتے ایک ساتھ اچھے دن گزار رہے تھے۔۔
…………………………………………………………
نبیہہ کی محتشم سے شادی کے چند ماہ بعد ثمر نے ملک سلطان سے ابیرہ اور الحان کی شادی کی بات کی تھی۔۔ملک صاحب تو پہلے ہی الحان کی حالت کے پیش نظر اسکی جلد سے جلد شادی کر دینا چاہتے تھے تاکہ آنے والی ان کے بیٹے کو اپنی محبت سے پہلے والا خوش مزاج الحان بنا دے۔۔۔
سو انکی بھر پور کوششوں سے الحان اس شادی پر مان گیا تھا اور ایک سال کے اندر اندر ہی وہ دونوں اپنی اپنی نئی منزلوں کی طرف گامزن ہو چکے تھے۔۔۔
ابیرہ جبران کو ابیرہ الحان بن کر الحان کی ذات سے سوائے اذان کے کوئی خوشی نہیں ملی تھی۔۔
وہ ابیرہ کے لیے پتھر ثابت ہوا تھا جس سے وہ سر پھوڑ پھوڑ کر ہارتی خود ہی پیچھے ہٹ گئی تھی۔۔۔۔
ماہ و سال اسی بے رخی میں گزرتے جا رہے تھے۔۔
جب ایک روز ملک اندسٹریز میں ایک دھماکہ ہوا تھا آگہی کا دھماکہ سچ اور جھوٹ کے انکشاف کا دھماکہ۔۔۔اور اسی دھماکے نے الحان ملک کو اوندھے منہ زمین چٹا دی تھی۔۔۔وہی زمین جس پر وہ بڑی حقارت سے نبیہہ عباسی کے سامنے تھوک کر آیا تھا۔۔
…………………………………………………………
آپ پریشان لگ رہے ہیں کچھ دن سے محتشم کوئی سیریس بات ہے کیا۔۔۔؟؟
محتشم کنپٹی مسلتا لیپ ٹاپ کی سکرین دیکھ رہا تھا جب نبیہہ اسکے ساتھ آ کر بیٹھی۔
ہوں۔۔۔۔۔نہیں کوئی بات نہیں۔۔۔۔وہ مسکرا کر اسکی طرف مڑا۔
بات تو ہے آپ بتانا نہیں چاہتے یہ اور بات ہے۔۔۔۔۔وہ خفگی سے کہتی اسکے کندھے پر سر ٹکا گئی۔
میرا ای میل آئی ڈی ہیک ہو چکا ہے کچھ دن پہلے۔۔۔۔
اوہ۔۔۔ہ۔۔۔۔ہ۔۔۔۔وہ کیسے۔۔۔۔؟؟؟ کس نے کیا۔۔۔۔۔؟؟؟
پتہ چل جائے گا کس نے کیا ہے لیکن آپ پریشان مت ہوں مائی سویٹ وائف۔۔۔محتشم نبیہہ کی اڑی رنگت دیکھ کر بظاہر ہلکا پھلکا بولا مگر اندر سے وہ واقعی بہت پریشان تھا کیونکہ جس مقصد سے کسی نے اسکا آئی ڈی ہیک کیا تھا وہ پورا ہو چکا تھا اس کی تمام ضروری میلز جنہیں اس نے سیو نہیں کیا تھا وہ ڈلیٹ کر دی گئیں تھیں۔
اور ان میلز میں محتشم اور اسکے دوست شہزاد کی پورے سال کی محنت پوشیدہ تھی اب یہ سب شہزاد کے پاس سیو تھا کہ نہیں فلوقت وہ نہیں جانتا تھا۔۔۔اس لیے وہ نبیہہ کو ریلیکس کر کے خود بالکونی میں آ چکا تھا۔۔
شہزاد کا نمبر ملا کر اس نے سیل کان سے لگایا اور بے چینی سے کال رسیو ہونے کا انتظار کرنے لگا۔
ہیلو۔۔۔۔۔شہزاد ملک سلطان کے کیسز والی ساری ڈاکومینٹس تمہارے پاس سیو ہیں۔۔۔۔وہ کال رسیو ہونے پر فورا بولا۔
دھیرج کہ یار اتنی جلدی کس بات کی ہے۔۔۔
تم وہ بتاؤ جو میں نے پوچھا ہے۔۔۔۔
ہاں بھئی سیو ہیں۔۔۔۔
اوہ۔۔ہ۔۔۔ہ۔۔۔تھینکس۔۔۔۔محتشم نے پرسکون سانس لی۔
پر ہوا کیا۔۔۔۔؟؟
میرا میل آئی ڈی ہیک ہو چکا ہے اور یہ سب ملک سلطان کے چمچوں کا کیا دھرا ہے ساری میلز ڈلیٹ کروا دی ہیں
اس نے۔۔۔۔۔ محتشم نے گرل پر مکا مار کرگالی دی۔
اوہ۔۔۔۔۔۔اس کا مطلب ہے وہ ہماری کاروایوں سے آگاہ ہے۔
بلکل۔۔۔۔۔اب جو بھی کرنا ہے جلدی کرنا ہے تم وہ سارے ثبوت ایس پی سمیر تک پہنچا دو اعتماد کا بندہ ہے میری بات ہو چکی ہے اس سے۔۔۔۔۔
میں کل تک پہنچا دوں گا تم بے فکر رہو۔۔۔۔۔
جب تک ملک سلطان سلاخوں کے اندر نہیں ہو جاتا میں بےفکر نہیں ہو سکتا شہزاد۔۔۔۔
میں جانتا ہوں سب کل تک میں یہ سب ایس پی سمیر تک پہنچا دوں گا اس سے آگے تم اسے پریشرائز کرو گے کہ وہ دو، چار دن میں ساری کاروائی مکمل کر کے اس دو نمبری کرپٹ انسان کو ہتھکڑی لگا دے۔۔۔۔
ہوں ان شا اللہ۔۔۔۔۔۔ایسا ہی ہو گا تم باحفاظت یہ سب ایس پی تک پہنچا دو۔۔
اوکے۔۔۔۔۔شہزاد نے اوکے کر کے سیل آف کیا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھا جہاں اس کا لیپ ٹاپ پڑا تھا۔۔۔مگر اسکے پاؤں تلے زمین اس وقت پھسلی جب اسے اپنے کمرے کی ایک ایک چیز بکھری پڑی ملی۔
وہ بھاگتا ہوا اپنی کھلی کبڈ اور سارے ڈارڑ کو چیک کرنے لگا۔۔۔اس کے کمرے میں موجود ساری فائلز سارے کاغذات کو کمرے کے عین بیچوں بیچ رکھ کر آگ لگائی گئی تھی اور یہی نہیں لیپ ٹاپ کو اس بےدری سے پرزے پرزے کیا گیا کہ بےرحمی کی حد نہیں۔۔۔۔
شہزاد لٹا پٹا سا سر ہاتھوں میں گرائے بیٹھا تھا۔۔۔۔وہ ایجنسی کا بندہ تھا اسکے پاس ملک سلطان کے کیس کے علاوہ اور بھی بہت سے کیسز کے ثبوت تھے مگر اب وہ سارے ثبوت ضائع کر دیے گئے تھے۔۔۔۔وہ جہاں سے چلا تھا وہیں آ کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔۔چند منٹ تک خود کو کمپوز کر کے وہ کمرے سے باہر آیا تاکہ چیک کر سکے کہ وہ شخص فلیٹ میں کیسے آیا۔۔
اس نے باہر کا دروزاہ چیک کیا مگر لاک سلامت تھا تو پھر کیسے۔۔۔۔۔؟؟
کیا ڈپلیکیٹ چابی ہو گی اسکے پاس مگر نہیں چابی نہیں ہو سکتی چوکیدار ہر وقت الرٹ رہتا ہے پھر۔۔۔۔۔پھر۔۔۔۔۔پھر۔۔۔۔۔وہ سوچتا ایک ایک چیز کو مشکوک نظروں سے گھورتا بالکونی کی طرف آیا جسکا نہ صرف دروازہ کھلا تھا بلکہ لاک بھی توڑا گیا تھا۔۔۔شہزاد جلدی سے آگے بڑھ کر نیچے دیکھنے لگا۔
نیچے سے تھرڈ فلور پر اس طرح سے آنا کوئی آسان بات نہیں تھی۔۔۔۔پھر۔۔۔۔؟؟؟وہ پھر سے اس پھر کی کھوج لگانے کے لیے ادھر أدھر دیکھنے لگا۔۔۔
چند منٹ کی کوشش کے بعد وہ پتہ لگا چکا تھا کہ آنے والا کہا سے آیا تھا۔
………………………………………………………۔
جی۔۔۔۔۔۔؟؟؟
تیئس سے چوبیس سالہ لڑکی نے بھنویں اچکا کر شہزاد کے سپاٹ چہرے کو دیکھ کر پوچھا۔
مجھے آپ کے فلیٹ کی تلاشی لینی ہے۔۔۔۔؟؟
کس خوشی میں۔۔۔۔۔؟؟اب کے وہ الرٹ ہو کر کھڑی ہوئی۔
آپ کے فلیٹ سے چور میرے فلیٹ تک آیا ہے اس لیے۔۔۔۔
چور۔۔۔۔۔؟؟؟؟
جی ہاں چور۔۔۔۔۔۔
پر ہمارے گھر تو کوئی ڈاکہ نہیں پڑا۔۔۔لڑکی حیرانگی سے بولی۔
محترمہ ڈاکہ آپکے نہیں میرے گھر میں پڑا ہے ہٹیں مجھے چیک کرنے دیں۔۔۔۔شہزاد اسکا بازو ہٹا کر اندر داخل ہوا۔
ارے۔۔۔۔ارے رکیں تو۔۔۔کس قدر المینرڈ انسان ہیں آپ۔۔۔۔۔وہ چیختی جلدی سے اسکے سامنے آئی۔
المینرڈ تو آپ بھی ہیں کب سے دروازے پر کھڑی ہو کر تفتیش کر رہی ہیں اتنا نہیں ہو سکا کہ اندر بلا لیں۔۔
مسٹر۔۔۔۔۔!فلرٹ کرنے کا یہ کونسا طریقہ ہے۔۔۔۔وہ ناک پر آئی عینک واپس آنکھوں پر ٹکاتی بولی۔
فلرٹ۔۔۔۔۔؟؟؟
کیسا فلرٹ کونسا فلرٹ۔۔۔۔؟؟؟ محترمہ ہوش میں تو ہیں آپ۔۔۔۔شہزاد کے سر پر لگی تلؤں پر بھجی۔۔
میں بلکل ہوش میں ہوں مگر آپ مجھے ضرور نشے میں لگ رہے ہیں۔۔
آپ کے گھر میں کوئی بڑا نہیں ہے کیا میں چھوٹے چھوٹے بچوں سے بڑی بڑی باتیں نہیں کیا کرتا۔۔۔۔۔۔وہ بمشکل تحمل سے بولا تھا پر اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ اس چشمش کو رسے سے باندھ دے اور اپنا کام کر کے واپس پلٹ جائے۔۔۔مگر وہ اسکے سامنے بازو پھیلا کر سیسہ پلائی دیوار بنے کھڑی تھی۔
میں ہی یہاں کی بڑی ہوں سمجھے آپ جو بھی بات کرنی ہے مجھ سے کریں اور نو دو گیارہ ہو جائیں۔۔۔۔
اسکی بات پر شہزاد نے حیرت سے اسے دیکھا
رئیلی۔۔۔۔؟؟؟؟
یس رئیلی۔۔۔۔۔میں ہی بڑی ہوں یہاں سب سے پر ڈرتی وڑتی کسی سے نہیں ہوں سمجھے۔۔۔۔۔
سمجھ گیا۔۔۔۔اب کہ لڑکی کہ انداز پر شہزاد کے ہونٹوں پر مدھم مسکراہٹ بکھری۔
ائیکچولی محترمہ کل دن کے وقت میری
ایبسینس میں کوئی آدمی آپ کے فلیٹ سے میرے فلیٹ کی بالکونی میں کودا ہے۔۔۔۔۔
میرے گھر میں سوائے لڑکیوں کے کوئی لڑکا نہیں ہے محترم۔۔۔۔مہربانی ہو گی آپ یہاں سے جائیں مجھے یونیورسٹی کے لیے دیر ہو رہی ہے۔۔۔۔۔وہ کلاک پر نظر دوڑاتی بے زاری سے بولی۔
کون کون ہے آپ کے گھر میں۔۔۔۔شہزاد تجسس سے بولا۔
میں نے کہا ناں میں ڈرتی وڑتی کسی سے نہیں۔۔۔اسلیے جائیں آپ میں آپ کو آپ کی بات کا جواب دے چکی ہوں۔۔۔۔
ہو سکتا ہے چور بھی کوئی لڑکی ہو۔۔۔۔وہ محظوظ ہوتا بولا۔
وہ سب چھوٹی ہیں مسٹر۔۔۔۔۔
مگر آپ تو بڑی ہیں ناں۔۔۔۔اور مجھے لگتا ہے آپ آسانی سے کچھ بھی چرا سکتی ہیں۔۔۔۔وہ دوسری بات منہ میں بڑابڑایا۔
دیکھیں محترم پلیز۔۔۔۔
میرا نام شہزاد ہے۔۔۔
جی محترم شہزاد صاحب پلیز شریف مردوں کو یہ طور طریقے بلکل زیب نہیں دیتے اس لیے پلیز ڈسٹرب مت کریں اور جائیں یہاں سے۔۔۔۔
مگر مجھے ایک بار اس طرف دیکھ تو لینے دیں ہو سکتا ہے چور آپ کے گھر بھی ساتھ والے گھر سے پھلانگ کر آیا ہو۔۔۔
کون چور۔۔۔۔۔۔قریبی کمرے کے کھلے دروازے سے خوبصورت سی لڑکی برآمد ہوئی جس نے وائٹ یونیفارم پہن رکھا تھا۔۔۔
مانا۔۔۔۔ان صاحب کو لگتا ہے انکے گھر میں جو ڈاکہ پڑا ہے وہ ڈاکہ ہمارے گھر سے ان کے گھر کود کر ڈالا گیا ہے۔۔۔
اوہ۔۔۔ہ۔۔۔ہ۔۔۔۔بہت زیادہ نقصان ہو گیا کیا آپ کا۔۔۔۔؟؟؟ وہ لڑکی جسے چشمش نے مانا کہا تھا افسردہ سا چہرہ بنا کر بولی۔
اوف کہاں پھنس گیا صبح ہی صبح۔۔۔۔شہزاد نے بےزاری سے سوچا۔
ویسے بیلا کہہ تو یہ محترم ٹھیک ہی رہے ہیں ڈاکہ ہمارے گھر سے ہی کود کر ڈالا گیا ہے۔
کیا مطلب۔۔۔۔؟؟ چشمش سمیت شہزاد کے بھی کان کھڑے ہوئے۔
وہ کل دوپہر میں تمہارے آنے سے پہلے ایک آدمی آیا تھا الیکٹریشن بن کر کہنے لگا وہ ساتھ والے فلیٹ کی الیکٹرسٹی پرابلم کو سیٹ کرنے آیا تھا مگر اپنی ضروری چیزیں اندر بھول گیا جن صاحب کا یہ فلیٹ ہے وہ بھی اب جا چکے ہیں اور ان کا سیل نمبر بھی بند ہے اس لیے میں آپکی بالکونی سے جا سکتا ہوں تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؛
مانا نے بات ادھوری چھوڑ کر رابیل کی شکل دیکھی جو غصے سے سرخ پڑتی جا رہی تھی۔۔۔۔کیونکہ رابیل صاحبہ کی ہدایت تھی کہ اسکی غیرموجودگی میں گھر کا دروازہ کسی دستک پر نہیں کھلے گا پر مانا ایسا کر چکی تھی۔۔۔
تو۔۔۔۔ ؟؟؟؟
تو یہ کہ میں نے اسے اندر آنے دیا وہ ہماری بالکونی سے آپکی بالکونی چلا گیا اور میں چائے بنانے کیچن۔۔۔جب میں چائے بنا کر واپس یہاں آئی تو وہ میرا شکریہ ادا کر کے چلا گیا۔۔۔میں چلتی ہوں مجھے دیر ہو رہی ہے۔۔۔۔وہ بات مکمل کرتی بیگ سنبھالتی جلدی سے باہر کی طرف بھاگی مگر رابیل کا پھینکا گیا جوتا عین نشانے پر لگا تھا۔
رک کمینی میں بتاتی ہوں تجھے۔۔۔۔وہ دانت پیستی اسکے پیچھے بھاگی مگر مانا ایک جوتا کھا کہ روپوش ہو چکی تھی۔۔۔اسکے لفٹ میں غائب ہوتے ہی رابیل واپس مڑی۔
شہزاد بھی انکے پیچھے ہی فلیٹ سے نکل آیا تھا۔
سوری شہزاد صاحب میں نے منع بھی کیا تھا کہ کسی کے لیے بھی دروازہ نہ کھولا کریں پر۔۔۔آئی ایم رئیلی سوری ہماری وجہ سے آپ کا نقصان ہوا۔
اٹس اوکے اس میں آپ کا قصور نہیں۔۔۔
قصور تو واقعی نہیں ہے ہمارا پر چور چوری ہمارے گھر سے بھی تو کر سکتا تھا پھر آپ کے۔۔۔
اٹس رلیٹنگ ٹو مائی آفیئشیل میٹر۔۔۔۔
اوہ اچھا آپ کیا کرتے ہیں۔۔۔۔؟رابیل کو تجسس ہوا۔
میں چلتا ہوں آپ کو یونیورسٹی سے دیر ہو رہی ہے۔۔۔۔وہ کہتا جلدی سے اپنے فلیٹ کے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
رابیل کھڑی اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔
وہ چند قدم آگے جا کر مڑا
کیا میں آپ کا نام جان سکتا ہوں۔۔۔؟؟؟
رابیل۔۔۔۔رابیل سکندر۔۔۔۔وہ ہاں میں سر ہلاتی جلدی سے بولی۔
نائس نیم۔۔۔۔وہ مسکرا کر کہتا اپنے فلیٹ میں گم ہو گیا۔
اسکے غائب ہوتے ہی رابیل بھی مسکراتی ہوئی اپنے فلیٹ چل دی۔
………………………………………………………
تم۔۔۔۔تم نے مجھے انفارم کیوں نہیں کیا۔۔۔۔۔۔؟؟محتشم دکھ اور غصے سے چیخا تھا۔
کر تو دیا ہے اب کر لو جو کر سکتے ہو۔۔۔شہزاد لاپرواہی سے کہتا سگریٹ کا کش لینے لگا۔
محتشم اور شہزاد اس وقت محتشم کے آفس میں بیٹھے تھے اور شہزاد نے ابھی کل اسکے فلیٹ میں ہوئی کاروائی سے محتشم کو آگاہ کیا تھا۔
اب۔۔۔اب کیا ہو گا شہزاد ہماری پورے سال کی محنت ضائع ہو گئی۔۔۔وہ ٹیبل پر پینسل مارتا اپنا اندورنی اضطراب نکال رہا تھا۔
کچھ بھی نہیں ہو گا اب اس سب سے ہمیں یہ سبق ملا ہے کہ انسان کو اپنے کام سے کام رکھنا چاہیے۔۔۔وہ منہ سے دھواں نکالتا مسکرا کر بولا۔
بی سیرئیس شہزاد۔۔۔۔۔۔
آئی ایم سیرئیس محتشم۔۔۔۔
تم ایس پی کمال سے رابطہ کرو پہلے بھی انہوں نے ہمیں ملک سلطان کے پرانے کیسز کے ثبوت فراہم کیے تھے اگر اب بھی۔۔۔۔۔
ہوں کرتا ہوں کچھ۔۔۔۔انتہائی مکار شخص ہے یہ ملک سلطان دل تو چاہتا ہے سیدھا جا کر گولی مار دوں اس_
کو۔۔۔۔۔۔۔!
وہ اتنی آسانی سے مرنے والا نہیں ہے جو کر چکا اب تک اس کا حساب چکا کر ہی جائے گا اس دنیا سے تو ٹینشن مت لے۔۔۔میں چلتا ہوں اب ایک دو کام نپٹانے ہیں مجھے۔۔۔۔شہزاد نے تسلی کے انداز میں اسکے کندھے پر دھپ ماری۔
ہوں۔۔۔۔محتشم کے سر ہلانے پر شہزاد اس سے ہاتھ ملاتا چلا گیا۔
محتشم نے مزید دو دن ہر طرح سے ضائع ہوئے ثبوت پھر سے حاصل کرنے کی کوشش کی مگر اسکی ساری کوششیں بیکار گئیں کیونکہ ملک سلطان نے صرف محتشم اور شہزاد کے حاصل کردہ ثبوت ضائع نہیں کیے تھے بلکہ ہر جگہ سے وہ اپنے پیسے کے بل بوتے پر تمام ثبوت ختم کروا چکا تھا۔
محتشم کے ہاتھ اتنی محنت کے بعد بھی خالی تھے جس کی اذیت برداشت کرنا محتشم کے لیے مشکل تھا اسی لیے وہ ضبط کے آخری مراحل پر پہنچتا ملک انڈسٹریز میں ملک سلطان کے آفس پہنچ گیا تھا۔
………………………………………………………