No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
ماضی 👉👉
کچھ دن سے نبیہہ نوٹ کر رہی تھی کہ الحان کا رویہ اسکے ساتھ کافی رسمی سا ہو گیا ہے۔۔۔۔پہلے جسطرح وہ آفس جا کر ہر گھنٹے دو گھنٹے بعد مس یو ، لو یو کے ٹیکسٹ بھیجتا تھا اب کئی دن سے یہ سلسلہ بند کر دیا تھا اور یہی نہیں بلکہ گھر آ کر بھی وہ رسمی سلام دعا کے بعد اسٹڈی چلا جاتا اور وہاں سے رات کو سونے کے لیے نکلتا تھا نبیہہ ایک دو بار باتوں باتوں میں اس سے پوچھ بھی چکی تھی پر وہ آفس میں کام کا برڈن بتا کر جان چھڑوا لیتا تھا۔
آج نبیہہ کا ارادہ ہاشم عباسی سے ملنے ہوسپٹل جانے کا تھا۔۔۔۔اسی لیے وہ چینج کرنے کے لیے ڈریسنگ روم میں تھی۔۔
جب الحان کمرے میں آیا۔۔۔۔وہ کوئی فائل اسٹڈی میں بھول گیا تھا اسے ہی لینے آیا تھا کہ ٹیبل پر پڑا نبیہہ کا سیل بجا۔۔۔۔
الحان اسٹڈی جانا ترک کرتا بیڈ کی طرف آیا اور سائیڈ ٹیبل پر پڑا نبیہہ کا سیل اٹھایا جسکی سکرین پر لکھا نام دیکھ کر اسکے ماتھے پر سلوٹیں ابھریں۔
وہ کال اوکے کرنے ہی والا تھا جب کال آنا بند ہو گئی۔۔۔۔
اس نے سیل واپس رکھا اور اسٹڈی میں چلا گیا۔
اپنی مطلوبہ فائل لے کر وہ واپس کمرے میں آیا تو نبیہہ آئینے کے سامنے کھڑی لپ اسٹک لگا رہی تھی۔۔۔
کہیں جا رہی ہو۔۔۔۔۔؟؟؟الحان نے فائل الٹ پلٹ کرتے سرسری سا پوچھا
الحان کی آواز پر وہ چونک کر مڑی۔
تم کب آئے۔۔۔۔؟؟؟
ابھی آیا تھا یہ فائل لینی تھی۔۔۔۔تم کہیں جا رہی ہو۔۔۔۔؟؟؟
ہوں۔۔۔۔بابا سے ملے کافی دن ہو گئے ان سے ہی ملنے جا رہی ہوں۔۔۔۔
ہوں اوکے۔۔۔۔الحان نے ایک اچٹتی نظر سے نبیہہ کو دیکھا جو لپ اسٹک کے بعد اب گالوں پر بلش آن لگا رہی تھی۔۔۔
تیاری تو باپ سے ملنے کی نہیں بلکہ کسی خاص شخص سے ملنے کی کی جا رہی ہے۔۔۔وہ دل میں سوچتا سر جھٹک کر نبیہہ کو بائے کہہ کر کمرے سے نکل گیا۔
کہیں کچھ غلط تو ہے۔۔۔۔۔اس کا دماغ اسے خبردار کر رہا تھا۔
شک کے بیج کی جڑیں پھیل کر اب دل تک پہنچنے والی تھیں۔
……………………………………..……..….…….
ایس توں ڈاڈھا دکھ نہ کوئی
پیار نہ بچھڑے
کسے دا یار نہ بچھڑے
کسے دا پیار نہ بچھڑے۔۔۔۔!!
نصرت فتح علی خان کی خوبصورت آواز میں بجتے میوزک کو انجوائے کرتی وہ ڈرائیونگ کر رہی تھی جب پاؤچ میں پڑا اسکا سیل بجا۔۔۔
نبیہہ نےایک ہاتھ سے اسٹئیرنگ کو تھام کر دوسرے سے سیل پاؤچ سے نکالا۔
اوہ۔۔۔۔۔محتشم ابراہیم۔۔۔۔۔اسکے ہونٹوں سے سرگوشی برآمد ہوئی۔
اس نے گاڑی کی اسپیڈ سلو کی اور ہاتھ بڑھا کر میوزک بند کیا۔
ہیلو اسلام علیکم۔۔۔۔۔!!! کال اوکے کر کے سیل کان سے لگا کر سلام کیا
وعلیکم سلام۔۔۔۔!! کیسی ہیں مسز ملک۔۔۔۔دوسری طرف سے فریش آواز میں پوچھا گیا
فائن۔۔۔۔۔آپ کیسے ہیں محتشم ابراہیم۔۔۔۔؟؟؟
محتشم اسکے محتشم ابراہیم کہنے پر مسکرا دیا یہ واحد ہستی تھی جو اسے صرف محتشم کہنے کی بجائے محتشم ابراہیم کہہ کر مخاطب کرتی تھی۔۔
اللہ کا شکر ہے۔۔۔۔سب فٹ فاٹ۔۔۔۔
بڑے خوش لگ رہے ہیں خیریت۔۔۔۔؟؟اب کہ نبیہہ اسکی فریش مسکراتی آواز پر ٹھٹھکی۔
جی بلکل صیح پہچانا میں واقعی بہت خوش ہوں۔۔۔۔وہ مسکرایا
وجہ۔۔۔۔؟؟نبیہہ بھنویں اچکا کر بولی
وجہ۔۔جہ۔۔۔۔جہ۔۔۔۔۔وجہ میں سوچ رہا ہوں آپ سے مل کر بتاؤں کیا ہم مل سکتے ہیں۔۔۔۔؟؟محتشم نے پرسوچ انداز میں پوچھا
کہیں آپ کرپشن کے کیس سے معجزانہ طور پر بری تو نہیں ہو گئے۔۔۔۔نبیہہ نے مسکراتے ہوئے اندازہ لگایا
تکا ٹھیک لگا لیتی ہیں آپ بلکل یہی وجہ ہے میری خوشی کی۔۔۔لیکن اسکے علاوہ ملک سلطان کے کیس پر بھی مجھے آپ سے کچھ ڈسکس کرنا ہے مسز ملک۔۔۔۔کیا ہم آج ہی مل سکتے ہیں کیونکہ میں کل لاہور واپس چلا جاؤں گا اور فون پر اتنی لمبی بات نہیں ہو سکتی۔۔۔۔
شیئور۔۔۔۔میں ابھی بابا سے ملنے ہوسپٹل جا رہی ہوں لنچ ساتھ کرتے ہیں۔۔۔۔وہ خوشگوار موڈ میں بولی
اوکے ڈن۔۔۔۔۔محتشم نے اسے ریسٹورانٹ کا نام بتایا۔
اوکے۔۔۔میں دو بجے تک پہنچ جاؤں گی۔۔۔
تھینکس۔۔۔۔آئی ول بی ویٹنگ دئیر۔۔۔۔۔وہ مسکرا کر بولا
ہوں۔۔۔۔۔خدا حافظ۔۔۔۔نبیہہ نے آنے کا بتا کر کال بند کی اور میوزک پھر سے آن کر کے گاڑی کی اسپیڈ بڑھا دی۔۔۔۔
اب وہ میوزک کیساتھ خود بھی گنگناتی ہوئی اسٹئیرنگ پر انگلیاں بجا رہی تھی۔۔۔۔۔
اسکے چہرے کے تاثرات اسکے پہلے سے زیادہ فریش موڈ کا پتہ دے رہے تھے۔۔
…………………………………………………………
چار ماہ تک کھٹن حالات کا سامنہ کرتے ہوئے بلآخر محتشم خود پر لگے کرپشن کے کیس کو جھوٹ ثابت کرنے میں کامیاب ہو چکا تھا۔۔۔۔۔اس سارے پروسیس میں ابصار علی نے جسطرح سے اسے ہیلپ آوٹ کیا تھا محتشم انکا احسان مند تھا ابصار علی کے علاوہ اور بھی بہت سے سینئر آفسیرز نے اس کیس میں اسے مکمل سپورٹ دی تھی اور ان سب کی مدد اور محتشم کی ایمانداری کا نتیجہ ہی تھا کہ وہ انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے دائرہ کردہ پیسے کی ہیراپھیری کے کیس سے باعزت بری ہو چکا تھا۔۔۔۔
ان چار ، پانچ ماہ میں محتشم صرف خود کو اس جھوٹے کیس سے چھڑوانے کی تگ دو میں لگا ہوا تھا مگر اس کیس کے پیچھے کن عناصر کا ہاتھ تھا یا پھر کس کو اس سے ذاتی دشمنی تھی کہ جس نے اس پر یہ کیس کروایا تھا وہ فلحال اس سے بے خبر تھا۔
وہ جو کوئی بھی تھا بہت پاورفل اور ہیراپھیری کرنے کا ماہر تھا کیونکہ جسطرح سے بھرپور ثبوتوں کیساتھ یہ کیس کیا گیا تھا وہ بہت سولڈ ثبوت تھے۔۔۔۔۔۔
شروع میں تو محتشم ان ثبوتوں کو دیکھ کر خود بھی چکرا گیا تھا۔۔کہ آیا کیا وہ واقعی یہ سب کر چکا ہے۔۔۔۔؟؟؟
لیکن پھر اپنے کولیگز اور سینئرز کی مکمل سپورٹ نے اسے باور کروایا کہ وہ اکیلا نہیں ہے سب سینئرز اسکے ساتھ ہیں جو اس پر یقین رکھتے ہیں جنہیں محتشم ابراہیم کے سچا ہونے پر یقین ہے جو یہ بات مانتے ہیں کہ محتشم ابراہیم اپنی جاب کے ساتھ کبھی فراڈ نہیں کر سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔
اسی حوصلے نے اس میں خود کو سچ ثابت کرنے کی ہمت دلائی تھی اور وہ کامیاب بھی رہا تھا۔۔۔۔۔مگر اس سارے عمل میں وہ ان دشمن عناصر تک نہیں پہنچ پایا تھا۔۔۔۔۔مگر اب ہر طرح سے بری ہو کر وہ ارادہ کر چکا تھا کہ وہ جلد ہی ان کا پتہ لگا کر رہے گا۔
………………………………………………………
نبیہہ ہاشم عباسی سے مل کر محتشم کے بتائے گئے ریسٹورانٹ جا رہی تھی جب اسے الحان کی کال آئی۔۔۔۔
جی۔۔۔۔۔نبیہہ نے کال اوکے کی
کہاں ہو۔۔۔۔۔؟؟
بتایا تو تھا بابا سے ملنے جاؤں گی۔۔۔۔
وہیں ہو میں سوچ رہا تھا آج لنچ ساتھ کرتے ہیں کافی دن ہو گئے ایکساتھ باہر لنچ کیے۔۔۔۔۔الحان نے اسٹئیرنگ پر مضبوطی سے ہاتھ جما کر نارمل لہجے میں کہا۔
آج نہیں الحان کل۔۔۔۔آج مجھے اپنی فرینڈ سے ملنا ہے اور لنچ کا پروگرام بھی اسی کیساتھ ڈن ہے۔۔۔۔۔نبیہہ بنا رکے ایک ہی سانس میں بولی۔
کونسی فرینڈ۔۔۔۔۔۔؟؟؟الحان نے بمشکل لہجے کو سرسری بنا کر پوچھا
وہ۔۔۔۔۔۔وہ میرے ساتھ تھی الحان اخبار کے دفتر میں جب میں جاب کرتی تھی تب ۔۔۔۔۔۔وہ گھبرا کر بولی
الحان اسکی گھبراہٹ نوٹ کر چکا تھا۔
اوکے فائن ہم کل چلے جائیں گے ہیو فن ود یئور فرینڈ۔۔۔۔۔وہ کنپٹی مسلتا مسکرا کر بولا
تھینکس مسٹر ملک۔۔۔۔میں فون رکھتی ہوں ڈرائیونگ کر رہی ہوں۔۔
ہوں اوکے بائے۔۔۔۔۔الحان نے بائے کر کے کال کاٹ دی اور گاڑی کی اسپیڈ بڑھاتا عین نبیہہ کی گاڑی کے پیچھے لے آیا وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ نبیہہ اپنی کس فرینڈ سے ملنے جا رہی ہے۔۔۔۔۔
دوسری طرف نبیہہ نے کال بند کر کے سیل واپس پاؤچ میں رکھا۔۔۔
مجھے الحان سے جھوٹ نہیں بولنا چاہیے تھے۔۔۔۔وہ اپنے جھوٹ پر گلٹی فیل کرتی بڑبڑائی اور گاڑی کی اسپیڈ بڑھا دی۔۔
…………………………………….…….…..……
نبیہہ جب ریسٹورانٹ پہنچی تو محتشم وہاں پہلے سے موجود تھا۔
نبیہہ کو اپنی طرف آتے دیکھ کر محتشم اپنی بے ہنگم دھڑکنوں کو کنٹرول کرتا کھڑا ہوا۔
اسلام علیکم۔۔۔۔۔نبیہہ نے مسکرا کر سلام کیا
محتشم نے سر ہلا کر جواب دیا۔
ہیو آ سیٹ پلیز۔۔۔۔۔وہ مسکرایا
نبیہہ چئیر گھسیٹتی بیٹھ گئی۔
اینٹرنس پر موجود الحان ملک نے یہ منظر اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھا اور نبیہہ اور اس کی/کے فرینڈ پر ایک خون آلود نگاہ ڈالتا واپس مڑ گیا۔۔۔
شک کے بیج کی پھیلتی جڑوں نے اس کے دل کو چاروں طرف سے گھیر لیا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جی تو محتشم ابراہیم پہلے تو آپ کو بہت بہت مبارکباد کہ آپ خود پر لگے جھوٹے کیس سے بری ہونے میں کامیاب ہو گئے جو ہمارے ملک میں بلکل ایک unexpected سا قصہ معلوم ہوتا ہے۔
یو نو یہاں بے قصور کو سزا اور مجرم کو باعزت بری کر دیا جاتا ہے۔۔۔۔وہ بات کر کے ہلکا سا مسکرائی۔
کہیں آپ کے کہنے کا یہ مقصد تو نہیں کہ میں مجرم تھا۔۔۔۔وہ آنکھیں سکیڑ کر مشکوک سا بولا
ہاہاہا۔۔۔۔۔اسکے ایکسپریشنز پر نبیہہ کھل کر ہنسی
نن۔۔۔۔نہیں۔۔۔بلکل بھی نہیں۔۔۔۔میں جانتی ہوں آپ بے قصور تھے۔۔۔۔۔۔وہ ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر ہنسی روکتی بولی۔
محتشم نے اسکا گلابی کھلتا چہرہ نظروں کے رستے دل میں اتارا اور کمپوز ہوتا مسکرا دیا۔
تھینکس فار یور ٹرسٹ۔۔۔۔
مینشن ناٹ۔۔۔۔۔میں جانتی ہوں آپ بہت شریف سلجھے ہوئے اور دیانتدار آفیسر ہیں۔۔۔۔۔
میری اتنی ساری خوبیوں کا آپ کو کیسے پتہ چلا۔۔۔۔۔وہ مسکراہٹ دباتا شرارت سے بولا
آپ صفدر ابراہیم کے بیٹے ، ہاشم عباسی کے کزن ، راعنہ عباسی کے بھائی اور نبیہہ عباسی کے دور۔۔۔رررر۔۔۔کے رشتے دار ہیں اسلیے سب جانتی ہوں۔۔۔۔۔وہ جوابا شرارتی مسکراہٹ چہرے پر لا کر بولی تھی۔
اسکی تفصیلی وضاحت پر محتشم کھل کر مسکرا دیا۔
اٹس بگ آنر فار می متحرمہ نبیہہ عباسی صاحبہ کہ آپ مجھے ان اچھی خوبیوں سمیت جانتی ہیں۔۔۔۔۔
ہوں۔۔۔۔وہ مسکرائی
اچھا وہ ملک سلطان کے کیس کے بارے میں کیا ڈسکس کرنا تھا آپ کو۔۔۔۔۔۔نبیہہ یاد آنے پر فورا بولی
جی مجھے اپنے کانٹیکٹس کے تھرو کچھ ثبوت ملے ہیں۔۔۔وہی آپ سے ڈسکس کرنا چاہتا ہوں پہلے لنچ ہو جائے۔۔۔۔محتشم نے ویٹر کو آتے دیکھ کر کہا
جی۔۔۔۔۔۔نبیہہ نے اثبات میں سر ہلایا
ویٹر ان کے بتائے گئے مینیو کے مطابق لنچ ٹیبل پر سرو کر کے پروفیشنل مسکراہٹ چہرے پر سجا کر ان دونوں کو دیکھتا اینی تھنگ مور پوچھ کر واپس مڑ گیا۔
دس پندرہ منٹ بعد محتشم نے لنچ فنش کر کے نیپکن سے ہونٹ تھپتھپائے اور نبیہہ کی طرف متوجہ ہوا جو پانی پی رہی تھی۔۔۔
نبیہہ نے پانی پی کر گلاس واپس رکھا اور محتشم کی طرف دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
اسے دیکھتے پا کر نبیہہ نے ہلکی سی مسکراہٹ اچھالی۔۔۔۔جوابا محتشم بھی مسکرا دیا
اب بات ہو جائے۔۔۔۔۔؟؟؟
جی بلکل ۔۔۔۔۔۔وہ گھڑی دیکھتے بولی
میں اپنے کیس میں انوالو تھا اس لیے پرسنلی ملک سلطان کے کیس کو ہینڈاور نہیں کر سکا میرا ایک دوست ہے شہزاد انٹیلی جنس ایجنسی میں اسی کے ذمے یہ کام لگایا تھا میں نے۔۔۔
نبیہہ سر ہلاتی بہت غور سے محتشم کی بات سن رہی تھی۔۔
اصل میں مس نبیہہ ٹیکس کی عدم ادائیگی ۔۔۔الیگل ایکسپورٹ۔۔۔اور اسی قسم کی چند اور ہیراپھیریوں کے علاوہ اور بھی بہت سے پوائنٹ سامنے آئے ہیں اس کیس میں۔۔۔۔
مطلب۔۔۔۔؟؟نبیہہ کہنیوں کو ٹیبل پر ٹکا کر ہاتھوں کے پیالے میں منہ دیے رازداری سے بولی
مطلب۔۔۔۔نبیہہ۔۔۔۔وہ ہچکچایا
نبیہہ آپ اپنی مدر کی death سے ریلیٹڈ کچھ جانتی ہیں۔۔۔۔آئی مین ٹو سے کیا واقعی انہوں نے suiside ہی کی تھی۔
محتشم کی بات پر نبیہہ کے چہرے پر تکلیف دہ تاثرات نمودار ہوئے۔
میرا مطلب آپ کو ہر گز ہرٹ کرنا نہیں تھا نبیہہ میں تو بس۔۔۔۔۔
جی انہوں نے سوسائیڈ ہی کی تھی۔۔۔۔نبیہہ اسکی بات کاٹ کر سپاٹ سی بولی
ہوں۔۔۔۔محتشم نے سر ہلایا
کیا میں اسکے علاوہ کچھ اور بھی پوچھ سکتا ہوں۔۔۔۔۔وہ اسکے چہرے کے پتھریلے تاثرات دیکھ کر محتاط سا بولا۔
اگر اس پوچھ گچھ کا تعلق ملک سلطان کے کیس سے ہے تو آپ پوچھ سکتے ہیں ورنہ میرے دس سال پرانے زخم مت کھریدیں۔۔۔۔۔۔وہ اکھڑ لہجے میں کہتی ہوئی ذرا بھی کچھ دیر پہلے والی خوش مزاج نبیہہ نہیں لگ رہی تھی۔۔۔
محتشم نے ایک نظر اسکے تنے چہرے پر ڈال کر گلا کھنکارا۔
سنبل عباسی اور ملک سلطان کا رلیشن شپ کیسا تھا۔۔۔۔۔مطلب ہاشم بھائی تو دوست تھے ملک سلطان کے اس لیے گھر بھی کافی آنا جانا ہوتا ہو گا۔۔۔۔۔؟؟وہ محتاط ہو کر بولا
میں تب چھوٹی تھی محتشم ابراہیم اتنی باریک بینی سے کسی بھی رلیشن شپ کو جج نہیں کر سکتی تھی۔۔۔۔اس لیے بظاہر تو سب ٹھیک ہی تھا۔۔۔
ہوں۔۔۔۔۔تھینکس۔۔۔۔ محتشم مسکرایا مجھے یہی پوچھنا تھا آپ سے۔۔۔
آپ کہہ رہے تھے جو پوائنٹس میں نے آپ کو دیے ان کے علاوہ بھی کچھ پوائنٹس ہیں اس کیس میں تو کیا میں پوچھ سکتی ہوں وہ پوائنٹس کیا ہیں۔۔۔۔؟؟وہ تفتیشی انداز میں محتشم کو دیکھتی بولی۔
اصل میں مسز ملک۔۔۔۔میرے دوست نے ملک سلطان کا پرانہ کھاتہ سرچ آؤٹ کیا ہے جس کے مطابق ماضی میں ملک سلطان پر ایک ، دو ۔۔۔۔۔ محتشم نے رک کر نبیہہ کو دیکھا
نبیہہ آنکھوں کے درمیان بل ڈالے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
ملک سلطان پر کچھ ریپ کیسز بھی چلے تھے ماضی میں جو کسی بھی نتیجے کے بغیر بند کر دیے گئے تھے۔۔۔۔
اوکے تھینکس۔۔۔۔۔میں چلتی ہوں۔۔۔۔نبیہہ اپنا پاؤچ اٹھاتی کھڑی ہوئی۔
بہتر ہو گا محتشم ابراہیم کہ آپ مجھے انوالو کیے بغیر ہی اس کیس کو ہینڈل کریں۔۔۔میں الحان سے جھوٹ بول کر آپ سے نہیں مل سکتی اور اس کیس کو آپ سے ڈسکس کرتے ہی میں نے آپ کو انفارم کر دیا تھا کہ میرا نام بیچ میں مت آئے کیونکہ میں اب نبیہہ عباسی نہیں بلکہ مسز نبیہہ الحان ملک بن چکی ہوں۔۔۔۔لہذا اس کیس کو لے کر مجھے اپنا گھر خراب نہیں کرنا ہے۔۔۔۔ہوپ سو کہ آپ سمجھ گئے ہوں گے۔۔۔۔خدا حافظ۔۔۔۔وہ تنے تاثرات سے ساری بات کہتی ایگزٹ کی طرف بڑھ گئی۔
محتشم نے اسکی نظروں سے اوجھل ہوتی پشت کو دیکھا اور سر جھٹک کر سیل اور کیز اٹھاتا باہر نکل گیا۔
وہ جان گیا تھا نبیہہ عباسی ایکدم سے پہلے والی نک چڑی نبیہہ عباسی کیوں بن گئی تھی۔۔
……………………………………….…….…………
وہ بدکردار ہی تھی ہاشم۔۔۔۔۔
آپکی مدر نے سوسائیڈ ہی کی تھی ناں۔۔۔۔۔؟؟
اسکی خودکشی ثابت کرتی ہے وہ بدکردار تھی۔۔۔۔۔
سنبل عباسی اور ملک سلطان کا رلیشن شیپ کیسا تھا۔۔۔۔۔؟؟
ایک بدکردار عورت کے لیے کیوں روگ لے رہے ہو ہاشم۔۔۔۔۔
ملک سلطان پر ماضی میں ایک ، دو ریپ کیسز بھی چلے تھے۔۔۔۔۔!
وہ بدکردار تھی ہاشم۔۔۔۔۔۔
ملک سلطان کی ماضی کی آواز اور محتشم ابراہیم کے ابھی پوچھے گئے سوال نبیہہ کے اردگرد گونج رہے تھے۔۔۔۔۔وہ سر اسٹئیرنگ پر گرائے کانوں پر ہاتھ رکھے ہوئے تھی مگر یہ آوازیں پھر بھی اسکے کانوں تک پہنچ کر اسے اذیت دے رہی تھیں۔۔۔۔
وہ بہت مشکل سے ریسٹورانٹ سے اٹھ کر گاڑی تک آئی تھی اور اب بھی اسکی حالت اچھی معلوم نہیں ہو رہی تھی اور نہ ہی وہ ڈرائیو کرنے کی پوزیشن میں تھی۔
محتشم ابراہیم نے ایسا کیوں کہا۔۔۔۔۔ملک سلطان کا ممی کیساتھ رلیشن شیپ۔۔۔۔۔ملک سلطان پر ریپ کے کیسز۔۔۔۔۔ملک سلطان کا بابا کو بار بار باور کروانا کہ سنبل عباسی بدکردار عورت تھی۔۔۔۔۔کیا ہے یہ سب۔۔۔۔محتشم نے کیوں پوچھا مجھ سے ممی کا۔۔۔۔؟؟
کیا ملک سلطان اور ممی کا کوئی رلیشن شپ تھا۔۔۔۔اسکے دماغ میں سوال ابھرا
نن۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔میری ماں بدکردار نہیں تھی۔۔۔۔نہیں تھی میری ماں بدکردار۔۔اور نہ ہی اسکا ملک سلطان سے کوئی رلیشن شیپ تھا۔۔۔۔۔وہ کانوں پر ہاتھ رکھے پوری طاقت سے چلائی تھی۔۔۔۔
اسکی آواز گاڑی کے بند شیشوں سے پلٹ
کر گاڑی میں گونج اٹھی تھی۔
اگر۔۔۔۔۔اگر میری ماں کے کیس میں بھی تم ملوس ہوئے ملک سلطان تو۔۔۔۔۔۔۔
تو میں۔۔۔۔۔۔۔۔!
میں اپنے ہاتھوں سے تمہیں قتل کروں گی ذلیل کمینے انسان۔۔۔۔اپنے ہاتھوں سے ماروں گی میں تمہیں۔۔۔۔وہ سر اسٹئیرنگ پر جمائے بلند آواز سے رونے لگی۔۔۔۔
اس بات سے بے خبر کے عنقریب اسکی اپنی ذات پر بھی بدکردای کا بھیانک دھبہ لگنے والا ہے۔۔۔۔۔!
…………………………………………………………
حال 👉👉
الحان نے جلدی سے گاڑی کو بریک لگائی اور دروازہ کھول کر باہر نکلا۔
موبائل کی روشنی میں وہ آگے بڑھتا گاڑی سے ٹکرانے والے بندے کو دیکھ رہاتھا۔
کافی آگے جا کر اسے فٹ پاتھ کے پاس گرے وجود کا احساس ہوا
وہ بھاگنے کے انداز میں اس وجود تک پہنچا تھا۔۔۔۔
محتشم کا وجود سڑک پر اوندھے منہ گرا ہوا تھا۔۔۔۔۔بارش کے پانی کیساتھ ہی اسکے وجود سے نکلتا خون بھی تیزی سے اردگرد پھیلتا جا رہا تھا۔۔۔۔
الحان نے موبائل کی روشنی اسکی پشت پر ڈالی اور سڑک پر پھیلتے خون سے گھبرا کر وہ جلدی سے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر محتشم کے وجود کو سیدھا کرنے لگا۔۔۔۔۔
بارش کے قطرے اسکے منہ پر گر کر بار بار آنکھوں کو بند کرنے پر مجبور کر رہے تھے۔۔۔۔۔الحان نے پوری طاقت سے محتشم کے وجود کو سیدھا کیا تھا۔
لمبے لمبے سانس لے کر اس نے جیسے ہی روشنی اس وجود کے چہرے پر ڈالی تو خون میں لت پت اس چہرے کو دیکھ کر اسکے منہ سے سرگوشی برآمد ہوئی
محتشم ابراہیم۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
…………………………………………………………
جن لوگوں کیساتھ ہمارے دل کا رشتہ ہو انکے ساتھ ہمارے وجدان کا تعلق ہوتا ہے۔انکی پریشانی کی خبر سن کر دل کو بےچینی کے پر لگ جاتے ہیں۔انکے سب دکھ سکھ ہمارے دلوں پر اترتے ہیں اور نبیہہ اور محتشم کا رشتہ بھی دل کا تھا۔سو اسی لیے وہ محتشم کے لیے فکرمند اور بےچین تھی۔
وہ دل کی بےقابو ہوتی دھڑکن سے گھبرا کر اٹھی اور لاؤنج کا دروازہ کھول کر باہر نکل آئی۔
زوردار بارش ، تیز ہوا بلکل کسی طوفان کی آمد کی خبر دے رہے تھے۔
وہ سینے پر ہاتھ پھیرتی وہیں پیلر سے ٹیک لگا کر کھڑی ہو گئی۔
میرے مالک یہ بارش رک جائے پلیز۔۔۔۔۔مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے اللہ جی۔۔۔۔پلیز یہ طوفان تھم جائے۔۔۔۔۔وہ بے چینی سے چکر کاٹتی ٹہلنے لگی محتشم۔۔۔۔۔محتشم کو اپنے حفظ و ایمان میں رکھنا میرے مالک وہ جہاں کہیں بھی ہوں خیریت سے ہوں۔۔۔۔۔وہ بےبسی سے دعا مانگتی اپنے آنسو پونچھنے لگی۔۔
کیا ہوا بی بی صیب۔۔۔۔؟؟؟ گیٹ کیپر اسے باہر نکل کر ٹہلتے دیکھ کر اس کے پاس آیا۔
وہ خان۔۔۔۔محتشم ابھی تک نہیں آئے۔۔۔۔وہ بےچارگی کی انتہا پر پہنچتی ذرا سا آسرا پا کر خان سے ہی دل کی بےچینی شیئر کرنے لگی۔
بی بی صیب۔۔۔۔موسم بوت خراب اے صاب آفس میں ہی رک گیا ہو گا طوفان میں آنا بھی تو مشکل تا۔۔۔۔۔
آفس سے تو کب کے نکل چکے ہیں وہ۔۔۔۔نبیہہ بےچینی سے بولی
پھر آپ صاب کو فون ملا کر پوچھو بی بی صیب۔۔۔۔ وہ مؤدب سا بولا
فون بند ہے شاید بارش کیوجہ سے سنگل پرابلم ہے۔۔۔۔۔
میں خود جا کر دیکھ آؤں رستے میں۔۔۔۔۔خان نے اپنی بی بی صیب کے چہرے پر پھیلی پریشانی دیکھ کر کہا
نبیہہ نے اسکی مخلصی پر بےدل سا مسکرا کر نفی میں سر ہلایا۔
نہیں خان تم کہاں جاؤ گے انہیں دیکھنے آفس کو کونسا ایک راستہ جاتا ہے۔۔۔۔میں پھر سے فون کر کے دیکھتی ہوں۔
جی اچھا۔۔۔۔خان سر ہلاتا واپس گیٹ کی طرف بڑھ گیا۔
نبیہہ محتشم کا نمبر ملا کر سیل کان سے لگاتی واپس لاؤنج میں آ گئی۔
…………………………………………………………
