Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

Dil -E- Muzter
دل مضطر از ماہ وش چوھدری
Last Episode…Part 1…

دروازے میں الحان ملک کھڑا تھا جسکے آگے وہیل چئیر پر ملک سلطان پیشمان سے بیٹھے تھے۔
اس سے پہلے کہ نبیہہ غصے سے بھری کچھ بولتی محتشم نے اسکے ہاتھ پر دباؤ ڈال کر خاموش رہنے کی تلقین کی۔
کیا ہم اندر آ سکتے ہیں۔۔؟
الحان کے پوچھنے پر نبیہہ نے کڑی نظروں سے اسے گھورا تھا۔
جی ضرور۔۔۔محتشم کے ہاں میں سر ہلانے پر نبیہہ نے خفگی سے اسے دیکھا۔۔محتشم نے آنکھ کے اشارے سے نبیہہ کو کول رہنے کی تنبیہ کی۔
الحان وہیل چئیر دھکیلتا آگے بڑھ آیا۔
کیسی طبیعت ہے اب آپکی۔۔؟؟چند منٹ کی خاموشی کے بعد الحان ملک نے بات کا آغاز کیا۔
اللہ کا شکر ہے۔۔۔محتشم نے آہستگی سے کہتے ہوئے بیڈ کی بیک سے ٹیک لگا لی۔
ڈیڈ کافی عرصے سے نبیہہ اور آپ سے ملنا چاہتے تھے۔
مگر میں کسی سے ملنا نہیں چاہتی اس لیے برائے مہربانی آپ خود سمیت اپنے ڈیڈ کو لے کر چلے جائیں یہاں سے۔۔
نبیہہ۔۔!!
محتشم کی تنبیہ کو سنی ان سنی کر کے وہ آنکھوں میں غصہ لیے الحان کو وہاں سے دفعان ہونے کا کہہ رہی تھی۔
نبیہہ۔۔بی۔۔بیٹا۔۔
مت کہیں مجھے بیٹا میں آپکی کچھ نہیں لگتی سمجھے ملک صاحب آپ۔۔۔خدا کا واسطہ آپ لوگ یہاں سے چلے جائیں ورنہ۔۔
مم۔۔مجھے۔۔مجھے۔۔معاف کر۔۔دو نبیہہ۔۔
اونہہ۔۔معافی۔۔!وہ استہزائیہ ہنسی
کیسی معافی ملک صاحب کس جرم کی معافی۔۔آپ نے آج تک میری ماں کیساتھ میرے باپ کیساتھ اور میرے ساتھ جو بھی کیا وہ سب تو ٹھیک تھا سچ تھا پھر معافی کیوں۔۔۔کس لیے۔۔۔؟؟
مم۔۔۔میں۔۔۔ما۔۔۔نتا۔۔۔ہوں۔۔۔میں اب۔۔۔اب تک۔۔۔بہت بڑے۔۔۔بڑے گناہ۔۔۔کر چکا۔۔۔ہوں۔۔۔جو ناقابل معافی ہیں۔۔۔مگر۔۔۔مگر میں۔۔۔میں۔۔۔چاہتا۔۔۔ہوں۔۔۔تم۔۔۔نبیہہ۔۔۔بیٹا۔۔۔تم۔۔۔مجھے معاف۔۔۔کر دو گی۔۔۔تو۔۔۔میرا آدھے۔۔۔سے۔۔۔زیادہ۔۔۔بوجھ کم۔۔۔ہو جائے گا۔۔۔ملک سلطان اٹک اٹک کر بمشکل بولے پائے تھے۔
نہیں ملک صاحب نہیں آپ جو کچھ کر چکے ہیں اور جتنوں کیساتھ کر چکے ہیں ان میں سے کسی ایک کی معافی بھی آپ کا بوجھ کم نہیں کر سکتی ہے ملک صاحب میں تو ویسے بھی اپنا اور اپنی ماں کا معاملہ اللہ کے سپرد کر چکی ہوں۔۔۔
نبیہہ کی بات پر ملک صاحب کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ابھری تھی۔
نن۔۔نہیں۔۔۔نبیہہ۔۔۔تم۔۔۔تم مجھے۔۔۔معاف کر دو۔۔۔گی۔۔۔تو۔۔۔تو اللہ بھی۔۔۔مم۔۔۔مجھے۔۔۔معاف کر دے گا۔۔۔تمہیں۔۔۔خدا کا۔۔۔واسطہ ہے۔۔۔مم۔۔۔مجھے۔۔۔اوپر والے کی عدالت سے بچا لو۔۔۔انکی آنکھوں سے خوف اور ندامت کے آنسو ایک سمندر کی مانند رواں تھے۔
ہوں۔۔۔وہ استہزائیہ ہوئی
آپ کو لگتا ہے ملک صاحب میرے معاف کر دینے سے آپ اس عدالت سے بچ جائیں گے۔۔؟؟
تم۔۔۔معاف۔۔۔کر دو گی تو۔۔۔میری سزا۔۔۔میں کچھ تو۔۔۔کمی آ۔۔۔جائے گی نبیہہ۔۔۔میرے پاس۔۔۔اب وہ۔۔۔وہ لوگ موجود۔۔۔نہیں ہیں جن کے ساتھ۔۔۔۔میں زیادتیاں۔۔۔کر چکا ہوں کہ۔۔۔ان کے۔۔۔سامنے جا کر۔۔۔معافی مانگ سکوں۔۔۔میں نے۔۔۔میں نے تم سے۔۔۔تمہاری ماں۔۔۔چھین لی۔۔۔باپ چھین لیا اور۔۔۔۔اور تمہارا گھر۔۔۔بھی۔۔۔
وہ گھر میرا کبھی بھی نہیں تھا ملک صاحب بہرحال آپ نے مجھ سے جو بھی چھینا میرے رب نے مجھے اس سے بڑھ کر نوازا ہے میں اس پاک ذات کا جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہے۔۔۔نبیہہ پرسکون سی بولی تھی۔
مم۔۔۔مجھے معاف کردو نبیہہ۔۔۔میں تمہارا۔۔۔احسان مند رہوں گا بیٹا۔۔۔بس ایک بار۔۔۔صرف ایک بار کہہ دو کہ تم نے مم۔۔۔مجھے معاف کیا۔
ندامت اور شرمندگی کے آنسو ملک سلطان کی آنکھوں سے بہہ کر انکا چہرہ بھگوتے جا رہے تھے۔۔۔وہ اسوقت بہت قابل رحم لگ رہے تھے جسکی نہ دونوں ٹانگیں موجود تھیں جنسے وہ متکبرانہ چال چلتے تھے نہ ایک بازو تھا اور منہ کا دائیاں حصہ بھی لقوے کی وجہ سے بگڑ کر اپنی جگہ سے کھسک چکا تھا لڑکھڑاتی زبان کپکپاتے ہونٹوں اور جسم سے ہاتھ باندھ کر وہ سر جھکائے روتے ہوئے بلکل بھی پانچ سال پہلے والے ظالم و جابر ملک سلطان نہیں لگ رہے تھے۔
نبیہہ نے ایک نظر انکے بوڑھے اور بیمار لرزتے وجود پر ڈال کر محتشم کو دیکھا جس نے آنکھوں میں ہاں کا اشارہ دیتے ہوئے آہستگی سے اثبات میں سر ہلایا۔
اگر۔۔۔۔
اگر آپکو لگتا ہے ملک صاحب کہ میرے معاف کر دینے سے آپکی سزا آپکا بوجھ ہلکا ہو جائے گا تو میں آپ کو اپنے ساتھ کی گئی زیادتیاں معاف کرتی ہوں۔۔۔ایک آنسو چپکے سے نبیہہ کی آنکھ سے گر کر گریبان میں جذب ہو گیا۔
میں معاف کرتی ہوں آپ کو ملک صاحب۔۔۔وہ اپنے آنسو اور ہچکیاں دباتی منہ پر ہاتھ رکھے کمرے سے نکل گئی۔۔
محتشم نے ایک نظر الحان کو دیکھا جو اس سارے عمل میں چپ چاپ سر جھکائے سرخ چہرے کیساتھ ایک طرف کھڑا تھا۔
محتشم کی نظروں کو بھانپتے ہوئے الحان نے آہستگی سے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
اگر ہو سکے تو مجھے اور ڈیڈ کو معاف کر دینا محتشم ہم نبیہہ کے علاوہ تمہارے بھی گنہگار ہیں۔۔۔وہ شرمندگی سے سر جھکائے آہستگی سے کہہ کر ملک سلطان کی چئیر دھکیتا واپس مڑ گیا۔
محتشم نے افسردہ نظروں سے الحان کے جھکے کندھوں اور ملک سلطان کے جھکے سر کو دیکھ کر آنکھیں موند لیں اور سر بیڈ کی پشت سے ٹکا دیا۔
میں نے تم دونوں کو معاف کیا الحان ملک۔۔۔!
اسکے نرم دل سے صدا ابھری تھی۔
بسا اوقات معاف کرنے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اسے گلے سے لگا لیا جائے، اسے دوست بنا لیا جائے بلکہ ایک عہد کرنا ہوتا ہے کہ اس نے جو اذیت مجھے دی وہ میں نے اسے نہیں دینی۔۔۔محتشم نے بھی یہی عہد کرتے ہوئے الحان ملک کو اسکے باپ سمیت دل بڑا کر کے معاف کر دیا تھا۔
…………………………………………………
نبیہہ گرل کیساتھ لگی اپنے آنسو ضبط کر رہی تھی جب قدموں کی چاپ اسکے قریب آ کر رک گئی۔
نبیہہ۔۔۔!!
الحان ملک کی پکار پر نبیہہ بنا پلٹے کھڑی رہی۔
نبیہہ میں۔۔۔میں تمہارا مجرم ہوں تمہارا گنہگار۔۔۔!
نبیہہ میں وہ بدقسمت مرد ہوں جس نے خود اپنے ہاتھوں اپنا سب کچھ لٹا دیا۔۔ان گزرے ماہ و سال میں میں زندہ ہونے کی رسم نبھا رہا ہوں ورنہ میں تو اسی دن مر گیا تھا جس دن تم پر شک کرنا شروع کیا تھا۔بہت تکلیف میں گزارے ہیں میں نے یہ دن۔۔۔
تم۔۔۔تمہاری یادیں ایک لمحے کے لیے مجھے نہیں بھولی ہیں نبیہہ میں۔۔۔وہ سانس لینے کو رکا۔
میں چاہ کر بھی تمہاری محبت اپنے دل سے نکال نہیں پایا یا شاید نکالنا ہی نہیں چاہتا ہوں۔۔!
تمہارے ساتھ کی گئی زیادتی مجھے ایک پل کو چین نہیں لینے دیتی ہے نبیہہ اور یہی میری سزا تھی اب تک جو میں سہہ رہا تھا مگر آج۔۔۔
آج میں تمہارے سامنے کھڑا ہوں تم۔۔۔
تم جو چاہے سزا دے دو میں اف بھی نہیں کروں گا نبیہہ تم۔۔۔مجھے۔۔۔۔۔۔
میں نے تمہیں آزاد کیا الحان ملک۔۔۔وہ اسکی بات کاٹ کر سپاٹ لہجے میں بولی۔
تمہاری ہر سوچ ہر یاد کو اپنی یادوں اپنی محبت سے آزاد کیا۔۔۔تم چلے جاؤ واپس اور باقی کی زندگی اسطرح سے گزارو کے کسی بھی ذی روح کو تمہارے وجود سے تکلیف نہ ہو۔۔۔باقی اوپر والا تمہارے لیے آسانیاں پیدا کرے۔۔۔
وہ بڑے دل سے اپنے مجرم کا ہر جرم ہر گناہ معاف کرتی واپس کمرے کی طرف چل دی جہاں محتشم اسکا منتظر تھا۔
“جسے میں چھوڑ دیتی ہوں اسے میں بھول جاتی ہوں
پھر اس ہستی کی جانب میں کبھی دیکھا نہیں کرتی”
الحان نے دھندلائی آنکھوں سے نبیہہ کی دور سے دور ہوتی پشت کو دیکھا۔۔
بعض یادیں اسلیے بھی آنکھوں میں نمی لے آتی ہیں کہ ہم انکو دوبارہ جی نہیں سکتے۔
الحان نے آنکھوں میں آئی نمی کو اندر اتارا۔۔۔
تم محتشم کی سنگت میں سدا خوش رہو نبیہہ تمہیں زندگی کی ہر وہ خوشی ہر وہ سکھ ملے جسکی تم حقدار ہو۔۔۔!!!
وہ دل سے دعا دیتا بوجھل اعصاب کیساتھ واپس پلٹ گیا۔

وفا کہ قید خانوں میں
سزائیں کب بدلتی ہیں؟؟
بدلتا دل کا موسم ہے
ہوائیں کب بدلتی ہیں؟؟
میری ساری دعائیں
تم سے ہی منسوب ہیں ہمدم
محبت ہو اگر سچی
دعائیں کب بدلتی ہیں؟؟
کوئی پا کر نبھاتا ہے
کوئی کھو کر نبھاتا ہے
نئے انداز ہوتے ہیں
وفائیں کب بدلتی ہیں؟؟
………………………………………………………