Dasht E Dil By Mahnoor Shehzad Readelle50291 (Dasht E Dil) Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
(Dasht E Dil) Last Episode
آج مہندی کا دن تھا ذامل کی آنکھ کھلی اور اپنے پہلو میں نظر ڈالی مگر حور وہاں موجود نہیں تھی اس کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے وہ پریشانی سے اٹھا اور کمرے سے باہر کی طرف بڑھا اس سے پہلے وہ نیچے اترتا اس کی نظر حور پر گئی جو ازقہ کے سامنے کھڑی مزے سے ڈانس کررہی تھی ذامل کے لبوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی اس کی نظر اسی پر رک گئی۔۔
ازقہ جو بیٹھی ہنستے ہوئے اس کا ڈانس دیکھ رہی تھی اچانک نظر اوپر گئی اور ذامل کو دیکھا جو حور کو دیکھنے میں مصروف تھا اس کے لبوں پر موجود مسکراہٹ مزید گہری ہوئی اور وہ واپس حور کو دیکھنے لگ گئی
“افف بجو آپ کی مہندی ہے کتنا مزے آئے گا نا”
حور خوش ہوتی چہک کر کہنے لگی جس پر ازقہ ہنس دی اور اثبات میں سر ہلا گئی اور اسے اوپر دیکھنے کا اشارہ کیا اس کا اشارہ سمجھتی حور نے نظریں اوپر اٹھائیں ذامل کو کھڑا پاکر لبوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی
“مجھے نظر لگانے کا ارادہ ہے کیا؟؟”
حور اسے دیکھتے ہوئے سینے پر بازو باندھے مسکرا کر پوچھنے لگی
“میری نظر لگ سکتی ہے تمہیں”
ذامل اسے دیکھتے ہوئے بدلے میں سوال کرنے لگا جس پر نے آئبرو اچکائی
“لگ بھی سکتی ہے نظر نظر ہے”
حور اسے جان کر مذاقیہ انداز میں کہنے لگی ذامل کے لبوں کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی
“بری نظر لگتی پیار بھری نظر نہیں”
ذامل شوخیہ لہجے میں آنکھ مارے اسے کہنے لگا حور نے اسے آنکھیں دیکھائی اور ازقہ کو دیکھا جو مسکرا رہی تھی
“تم واقع انتہائی لچے اور ٹھرکی ہو”
وہ اسے گھورتے ہوئے شرما کر سرخ گال لیے کہنے لگی
“بس اب کیا کریں گزارا اسی کے ساتھ کرنا ہے روم میں آؤ”
ذامل کہتے ساتھ واپس کمرے کی طرف بڑھ گیا حور اسے جاتا دیکھنے لگی
“میں آئی”
کہتے ساتھ حور اوپر کی طرف بڑھ گئی اور ازقہ کمرے کی جانب بڑھ گئی ۔۔
ازقہ گرین کلر کے ڈریس میں ملبوس لائٹ سے میک ایپ میں سر پر ہم رنگ دوپٹہ کیے جیولری پہنے بےحد حسین لگ رہی تھی اپنا عکس شیشے میں دیکھ وہ لبوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی
زاہد وائٹ رنگ کی شلوار قمیض میں ملبوس بالوں کو نفاست سے سجائے بڑھی ہوئی بئیرڈ میں پیروں پر کھیڑے پہنے ہینڈسم لگ رہا تھا
نوال لائٹ گرین رنگ کے ڈریس میں سر پر گولڈن رنگ کا دوپٹہ لیے لائٹ سے میک ایپ جیولری پہنے بہت پیاری لگ رہی تھی چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی
شہریار گرے کلر کی شلوار قمیض میں ملبوس بالوں کو نفاست سے سجائے بڑھی ہوئی بئیرڈ میں اچھا لگ رہا تھا
چاروں کے لیے آج کا دن بہت خوشی کا تھا سب کے چہروں پر خوشی صاف واضح تھا۔۔۔
آج صبح وہ دونوں ایک دوسرے کے نکاح میں آ چکے تھے ۔۔۔
“جان ہوگئی تیار؟”
ذامل سیاہ شلوار قمیض میں ملبوس بڑھی ہوئی بئیرڈ میں سیاہ شال کیے وہ اسوقت بےحد ڈیشنگ لگ رہا تھا
کمرے میں آتا حور سے پوچھنے لگا جو گولڈن ڈریس میں ملبوس جس پر خوبصورت نفیس سا کام ہوا ہوا تھا بالوں کو کھولے ماتھے پر ٹکا لگائے لائٹ سے میک ایپ میں وہ اسوقت بےحد خوبصورت لگ رہی تھی اور ملک ذامل کو سیدھا دل میں اترتی محسوس ہورہی تھی
“ہائے”
وہ موچھوں پر ہاتھ پھیر کر گہری نظروں سے اسے دیکھ کر کہنے لگا حور نے اسے دیکھا
“کوئی اتنا حسین کیسے ہوسکتا ہے”
وہ اس کے قریب آکر اس کا ہاتھ تھامے محبت سے پوچھنے لگا حور اسے دیکھ رہی تھی
“یہ مجھے نہیں معلوم”
حور اسے معصومیت سے جواب دینے لگی جس پر ذامل کے لبوں پر مسکراہٹ مزید گہری ہوئی
“میری معصوم جان”
وہ اس کے چہرے نظریں گاڑھے محبت سے کہتا اس کی گال پر لب رکھ گیا حور آنکھیں بند کر گئی
“مشکل ہے آج فنکشن پر تم سے نظر ہٹانا”
ذامل گھمبیر لہجے میں اسے اپنے ساتھ لگائے محبت سے کہنے لگا
“نظریں مجھ پر ہی ٹکی رہنی چاہیے ملک ذامل ورنہ میں تمہاری آنکھوں کی گارنٹی نہیں دے سکتی”
حور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہنے لگا ذامل قہقہ لگا گیا اور اس کے ماتھے پر لب رکھ دیے ۔۔۔
مہندی کا فنکشن بھی لان میں ہی رکھا گیا تھا بہت ہی خوبصورتی سے اسے سجایا گیا تھا سب مہمان آ چکے تھے نوال شہریار ایک ساتھ بیٹھے تھے ازقہ اور زاہد ایک ساتھ بیٹھے زاید کی نظریں بار بار ازقہ پر جارہی تھی اور شہریار بھی نوال کو ہی دیکھ رہا تھا ان چاروں کو ساتھ خوش دیکھ حور کو بےحد خوشی ہوئی ہر کسی کی زندگی سکون میں تھی کوئی پریشانی نہیں تھی حور نے دل سے خدا کا شکر ادا کیا تھا
ذامل اور حور نے ڈانس کیا تھا سب لوگوں نے ان کے ڈانس پر تالیاں بجائیں تھی
مہندی کی رسم ادا ہونے کا وقت ہوا تھا اور اب سب مہندی کی رسم کررہے تھے
مہندی کا فنکشن بہت ہی اچھے سے ہورہا تھا اور رونق لگی ہوئی تھی
“بھابی کو گھور لیا ہو تو دوست کو کچھ کھانے کیلیے ہی لادے بہت بھوک لگ رہی ہے”
شہریار ذامل کے پاس آتے ہوئے اسے کہنے لگا جس پر ذامل نے اسے دیکھا
“تو ہمیشہ کباب میں ہڈی بنی “
ذامل اسے گھور کر کہتے ساتھ آگے کی جانب بڑھ گیا
“صحیح ہے اب تو میری بیوی بھی آ گئی ہے “
شہریار اسے جاتا دیکھتے ہوئے منہ بنا کر کہنے لگا اور نوال کے ساتھ بیٹھ گیا
کچھ دیر میں وہ اس کیلیے کھانا لے آیا تھوڑی دیر والا غصہ شہریار کا ختم ہوگیا اور ذامل پھر سے اپنے کام میں لگ گیا اسے حور کو دیکھنا شروع سے پسند تھا اور وہ اسے ابھی بھی دیکھ رہا تھا
“آج تو۔ بہت تھک گئی”
حور جیولری اتارنے کے بعد بیڈ پر آکر بیٹھ کر جوتے اتارتے ہوئے کہنے لگی
“میں مدد کردیتا ہوں”
ذامل کہتے ساتھ گھٹنوں کے بل بیٹھا حور نے اسے دیکھا
“ارے نہیں میں کرلوں گی”
حور فوراً سے اسے کہنے لگی جس پر ذامل نے اسے دیکھا
“مجھے اچھا لگے گا”
وہ اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہنے لگا حور اسے دیکھنے لگی
“لیکن مجھے نہیں لگے گا تم اٹھ جاؤ”
حور اسے کہتے ساتھ اپنے پاؤں مزید پیچھے کر گئی ذامل خاموشی سے اٹھ گیا
“گڈ”
حور مسکرا کر کہتے ساتھ جوتی اتار کر اٹھ کر وارڈروب سے نائٹ ڈریس لیتی واشروم کی طرف بڑھ گئی
“اب تھوڑا بہتر فیل کررہی ہوں”
حور گہرا سانس لے کر کہتی بیڈ پر آئی ذامل بیٹھا ہوا تھا
“آجاؤ میرے پاس”
ذامل اسے اسے پاس آنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا حور مسکرا کر اس کی باہوں میں آ گئی ذامل نے اسے اپنے بلکل ساتھ لگا گیا
“سب کتنا اچھا ہوگیا ہے نا ذامل سب خوش ہیں ازقہ بجو اور زاہد بھائی بھی نوال اور شہریار بھائی بھی”
وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ کر کہنے لگی جس پر ذامل مسکرا دیا
“ہاں جان سب خوش ہیں”
ذامل اس کے بالوں پر کب رکھتا کہنے لگا حور اسے دیکھنے لگ گئی
“ذامل ہم ہنی مون پر ہی نہیں گئے”
وہ اسے منہ بنائے کہنے لگی ذامل اسے دیکھنے لگ گیا
“ہم اپنا ہنی مون یہی کرتے ہیں”
وہ آنکھ مار کر اسے دیکھتے ہوئے کہتے ساتھ اس کی گردن پر انگلیاں پھیرنے لگ گیا
“نہیں مجھے گھومنے جانا ہے”
حور اس کی حرکت پر اپنی تیز ہوتی ہارٹ بیٹ کو نارمل کرتی بولی جس پر ذامل اس کے بالوں کو آگے کرتا اس کی بیک پر انگلیوں کا لمس محسوس کروانے لگا حور کے پورے جسم میں کرنٹ سا لگا
“ذامل مجھے نیند آرہی ہے”
حور کنفیوز سی ہوتی نظریں جھکائے اسے کہنے لگی
“لیکن مجھے نہیں”
ذامل اسے کہتے ساتھ اس کی گردن پر شدت سے اپنے ہونٹوں کا لمس محسوس کروا گیا حور آنکھیں زور سے میچ گئی
ذامل اسے بیڈ پر لٹا کر اس کے اوپر جھکا حور آنکھیں بند کیے اپنی سانس روکے ہوئے تھی ذامل اس کی حالت سے محفوظ ہوتا اپنی محبت کا ثبوت ایک بار پھر اسے دینے لگا۔۔۔۔
بارات کا فنکشن بھی لان میں ہوا تھا مگر حاکم چوہدری کی حویلی کے لان میں ہوا تھا بہت ہی خوبصورت سجایا گیا تھا
ازقہ لاک رنگ کے لہنگے میں بالوں کو جوڑے میں قید کیے لائٹ سے میک ایپ میں ہونٹوں پر ریڈ لپسٹک لگائے ہیوی جیولری وہ بےحد پیاری لگ رہی تھی
وہ گولڈن رنگ کی شیروانی میں ملبوس بالوں کو اچھے سے سیٹ کیے بئیرڈ میں بےحد ہینڈسم لگ رہا تھا
نوال گولڈن کلر کے لہنگے میں ملبوس سر پر ہم رنگ دوپٹہ کیے لائٹ سے میک ایپ میں بالوں کو کھولے ہیوی جیولری میں وہ بےحد حسین لگ رہی تھی
شہریار بلیک شیروانی میں ملبوس بہت ڈیشنگ لگ رہا تھا
“افف دیر ہوگئی”
حور ائیر رنگ پہنتے ہوئے منہ بنائے کہنے لگی پیچ کلر کے فراک میں بالوں کو کرل کیے لائٹ سے میک ایپ میں ہونٹوں پر پیچ ہی لپسٹک لگائے ہیوی جیولری پہنے وہ اسوقت بےحد خوبصورت لگ رہی تھی
ذامل وائٹ شلوار قمیض میں ملبوس بالوں کو نفاست سے سجائے بڑھی ہوئی بئیرڈ میں چہرے پر مسکراہٹ سجائے ہمیشہ کی طرح ڈیشنگ لگ رہا تھا
“آرام سے گر جاؤ گی”
ذامل اسے تیز جاتے ہوئے دیکھ کر کہنے لگا حور ایکدم رکی اور مڑ کر اسے دیکھا
“کیسی لگ رہی ہوں”
وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ کر پوچھنے لگی ذامل اس کی طرف بڑھا
“میری نظروں سے دیکھو تو تم سا حسیں کوئی نہیں”
وہ گہری نظریں اس کے چہرے پر جمائے مسکرا کر کہنے لگا حور آنکھیں چھوٹی کیے اسے گھورنے لگی
“زیادہ فلمی ہیرو بننے کی ضرورت نہیں بتاؤ سیریس”
حور آنکھیں چھوٹی کیے اس کے کرتے کا بٹن بند کرتے ہوئے بولی
“غضب کی لگ رہی ہو”
وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ کر کہنے لگی جس پر حور شرماتے ہوئے نظریں جھکا گئی
“مجھے پتہ ہے”
ہنستے ہوئے کہتے ساتھ وہ باہر کی طرف بڑھ گئی ذامل نفی میں سر ہلا گیا ۔
“آج تو بہت حسین لگ رہی ہو”
شہریار اسے مسکراتے ہوئے دیکھ کر کہنے لگا نوال نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا
“کل نہیں لگ رہی تھی کیا”
نوال بدلے میں سوال کرنے لگی جس پر شہریار کے لبوں کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی
“کل بھی لگ رہی تھی لیکن دلہن کے روپ میں سب سے زیادہ حسین لگ رہی ہو”
وہ اسی پر نظریں جمائے کہنے لگا نوال مسکرا دی اور نظریں جھکا گئی
“ایسے نہ دیکھیں سب ہمیں دیکھ رہے ہیں”
ازقہ دھیمی آواز میں اسے بولی زاہد کی نظریں اسی پر تھیں
“دیکھنے دو”
وہ اسی پر نظریں جمائے کہنے لگا ازقہ کے گال سرخ ہوگئے
“اچھا نہیں لگتا مجھے “
وہ اس پر ایک نظر ڈال کر کہتے ساتھ آگے دیکھنے لگ گئی
“مجھے صرف تمہیں دیکھنا ہی اچھا لگتا ہے”
وہ مسکراتے ہوئے اسے کہنے لگ گیا جس پر ازقہ کے لبوں پر شرمیلی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔۔۔
“حور بیٹا اندر سے مٹھائی لے کر آؤ”
ہاجرہ بیگم حور کو کھڑا پاکر فوراً سے کہنے لگی جس پر حور اثبات میں سر ہلا کر اندر کی طرف بڑھ گئی
حور کچن کی طرف ہی بڑھ رہی تھی جب اچانک کسی نے اسے کھینچا حور ایک دم گھبرائی اپنے سامنے کھڑے شخص کو دیکھ اس کا وجود جیسے ساکت سا ہوگیا تھا آنکھیں بڑی ہو گئی
“تمہیں کیا لگا تھا میں خاموش رہوں گا”
آدم چہرے پر مسکراہٹ سجائے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا حور اسے دیکھ رہی تھی
“آدم”
حور اسے بس دیکھتی رہ گئی آدم نے اس کے منہ کو زور سے دبوچا
“چھوڑو مجھے آدم ذامل تمہارا قتل کردے گا”
حور درد سے اس کا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کرتے ہوئے چیخی آدم اسے تکلیف میں دیکھ مسکرا رہا تھا
“یہ موقع ہاتھ سے جانے نہیں دوں گا”
آدم غصے سے کہتے ساتھ اس کے سر پر گن مار گیا اور حور اسے اسٹل دیکھ رہی تھی اچانک دماغ گھومتا ہوا محسوس ہوا
“جان کہاں ہے”
ذامل پورے لان میں نظریں گھمائے حور کو موجود نہ پاکر کہنے لگا
“بیٹا وہ میٹھائی اٹھانے گئے ہے کچن سے دیر ہوگئی ہے اسے دیکھنا زرا”
ہاجرہ بیگم ذامل کو دیکھتے ہوئے بتانے لگی ذامل اثبات میں سر ہلا کر اندر کی طرف بڑھا
آدم حور کو بےہوش حالت میں گھسیٹتے ہوئے لے جارہا تھا تبھی ذامل اندر داخل ہوا
“اے کون ہو تم”
ذامل کی نظر آدم کی پیٹھ پر پڑی تو فوراً پوچھنے لگا آدم کے بڑھتے قدم رکے
ذامل گھور کر اسے دیکھنے لگا جب ذامل کی نظر حور کے ہاتھ پر گئی
“جان”
ذامل ماتھے پر بل لیے پریشانی سے چلا کر اسے پکارنے لگ گیا اور فوراً اس طرف بڑھا اس سے پہلے آدم بھاگتا ذامل نے فوراً اسے پکڑا اور اس کا رخ اپنی طرف کیا
“آدم “
ذامل آنکھوں میں سرخی لیے اسے دیکھ غصے سے چیخا آدم گھبرا گیا ذامل نے لات مار کر حور کو اس کی قید سے نکالا اور اسے اپنے سینے سے لگایا
“جان آنکھیں کھولو”
ذامل اس کے بال ٹھیک کرتے ہوئے پریشانی سے اسے پکارنے لگا تبھی آدم اٹھا اور واس اٹھا کر اس کی طرف بڑھا ذامل نے زوردار مکہ اس کے منہ پر دے مارا اس جبڑا ہل گیا
“اگر جان کو کچھ ہوا تو تیری جان کی گارنٹی نہیں ہے آدم”
ذامل سرخ آنکھیں لیے ہر لفظ پر زور دیتا پتھریلے لہجے میں اسے کہنے لگا آدم اسے دیکھ رہا تھا اور نظریں ادھر ادھر گھمائی
“تم لوگوں کی وجہ سے میرا باپ مرا ہے تم لوگوں کو میں نہیں چھوڑوں گا”
آدم غصے سے کہتے ساتھ اس کی طرف گولی کر گیا ذامل اسے دیکھ رہا تھا
“حور اور ذامل کہاں ہے”
ملک شہراز ہاجرہ بیگم کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگے
“پتہ نہیں کہاں”
ہاجرہ بیگم اپنی بات بول رہی تھی اچانک گولی کی آواز سنائی دی اور وہ وہی ساکت سی ہوگئی ہر ایک پریشانی سے خاموشی سا اندر کی طرف دیکھنے سب لوگ اندر کی طرف بھاگے
“دماغ خراب ہے تمہارا آدم”
حاکم چوہدری اس کا ہاتھ چھت کی طرف کیے درشت لہجے میں چیخے جس پر آدم انہیں دیکھنے لگ گیا
“ہائے میری بچی کو کیا ہوا”
ہاجرہ بیگم حور کو دیکھ پریشان سی کہتی اس طرف بھاگی
“ہم نے تمہارے باپ کو نہیں مارا اس کی اپنی حرکتوں نے اسے مارا ہے”
حاکم چوہدری چیخ کر اسے بولے آدم انہیں دیکھ رہا تھا
“بہتر یہی ہے تم ہم سب کی زندگیوں سے دور رہو ورنہ تمہیں جیل بھجوا دوں گا”
حاکم چوہدری اسے وارن کرنے والے انداز میں کہنے لگے جس پر وہ سر جھٹک گیا
“اپنی شکل گم کرو کے میں کچھ غلط کر بیٹھوں”
وہ چیخ کر اسے بولے سب پریشان ہوگئے آدم خاموشی سے چلا گیا
اور سب حور کی طرف بڑھے اور اسے جگانے کی کوشش کرنے لگے
“ہوسپٹل لے کر جانا ہوگا اسے آپ لوگ رخصتی کی رسم ادا کریں میں لے کر جارہا ہوں”
ذامل کہتے ساتھ اسے گود میں اٹھاتا باہر کی طرف بڑھ گیا سب لوگ خاموشی سے باہر آ گئے۔۔
رخصتی کی رسم ادا ہوگئی نوال اپنی والدہ کے گلے لگ کر بےحد روئی اور ازقہ بھی ملک شہراز سے مل کر اور پھر وہ اپنے اپنے گھر چل دیے۔۔
“ہم نے بینڈچ کردی ہے کچھ دیر میں ہوش آجائے گا”
ڈاکٹر اسے بتاتے ساتھ خاموشی سے آگے کی جانب بڑھ گئی اور ذامل اسے دیکھنے لگ گیا
حور نے آنکھوں پر جبنش کی اور بامشکل اپنی آنکھیں مکمل کھولی نظر ذامل پر گئی
“جان تم ٹھیک ہو”
ذامل پریشان سا اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا حور کے لبوں پر مسکراہٹ آئی اور اثبات میں سر ہلا گئی
“زیادہ درد تو نہیں ہورہا نا”
ذامل اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر پوچھنے لگا حور نفی میں سر ہلا گئی
“تھینکیو”
حور اسے دیکھتے ہوئے مسکراتے ہوئے بولی ذامل اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگ گیا
“ہمیشہ میری حفاظت کرنے کیلیے”
وہ اسے مسکراتے ہوئے کہنے لگی جس پر ذامل نے اس کے ماتھے پر لب رکھ دیے
“میرے پاس ایک ہی جان ہے اس کی حفاظت کرنا میرے پر لازم ہے”
وہ اسے پیار بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا حور مسکرا کر دی اور اس کے چہرے پر دونوں ہاتھ رکھ گئی
چھ مہینے بعد۔۔۔۔۔
“ذامل”
حور اسے نیند سے جگاتے ہوئے پکارنے لگی ذامل نے تھوڑی تھوڑی آنکھیں کھول کر اسے دیکھا
“میرا آئسکریم کھانے کا دل ہورہا ہے”
حور اسے دیکھتے ہوئے منہ بنائے کہنے لگی ذامل اسے دیکھ کر پھر ایک نظر گھڑی پر ڈالنے لگا جہاں رات کے دو بج رہے تھے اور ایک دم اٹھ بیٹھا
“جان دو بج رہے ہیں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے نیند سے بھری آواز میں کہنے لگا
“میں کیا کروں میرا دل کررہا ہے تو کررہا ہے میرا بھی اور میرے بےبی کا بھی”
وہ مسکرا کر پیٹ کر ہاتھ رکھے اسے بولی ذامل اسے دیکھنے لگ گیا
“میں اسوقت کہاں سے لاؤ آئسکریم”
ذامل اسے پریشان سا دیکھتے ہوئے معصومیت سے پوچھنے لگا
“مجھے نہیں معلوم لیکن مجھے کھانی ہے”
حور اسے صاف لفظوں سے بولی ذامل کو مجبوراً اٹھنا پڑا حور ہنس دی اور ذامل چلا گیا
آدھے گھنٹے بعد وہ واپس۔ کمرے میں آیا اور حور کو شاپر بیگ دیا جس میں چاکلیٹ فلیور کی بہت سی آئسکریم موجود تھی
“تم بہت اچھے ہو آئی لو یو”
حور اسے مسکراتے ہوئے پیار سے کہتے ساتھ آئسکریم کھانے میں مصروف ہوگئی ذامل کی نظریں اس پر تھیں اسے یوں ہر وقت اسے دیکھنا بےحد پسند حور اس کی ان نظروں کی عادی ہو چکی تھی
“چاہیے ؟؟”
حور اسے دیکھتے ہوئے آئسکریم اس کی طرف کیے پوچھنے لگی جس پر ذامل نے اسے جھٹکے سے آہنی طرف کھینچا اور اس۔ کے ہونٹوں کے قریب لگی چاکلیٹ۔ پر اپنے ہونٹ رکھ گیا حور اسے دیکھتی رہ گئی
“میں نے کھا لی”
وہ اسے حیران بیٹھا دیکھ بولتے ساتھ لیٹ گیا اور حور اسے دیکھنے لگ گئی
“لچہ”
حور منہ بنا کر بولتی مزے سے دوبارہ آئسکریم کھانے میں مصروف ہوگئی۔۔۔
چند مہینے بعد۔۔۔۔
نوال اور شہریار اپنی زندگی میں بےحد خوش تھے وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ سے اپنی زندگی حسین بنا رہے تھے
ازقہ اور زاہد بھی ایک ساتھ بےحد خوش تھے اور خدا نے اسے خوش خبری سے بھی نوازا تھا اور جلد ہی ان کا ننھا مہمان بھی۔ اس دنیا میں۔ آنے والا تھا
“افف جان بس کردو تھوڑا وقت شوہر کو بھی دے دو”
ذامل حور کو اپنے کچھ ماہ کے بیٹے کیساتھ کھیلتے ہوئے دیکھ منہ بنا کر کہنے لگا
“کیا ہے میرا بےبی ہے یہ کیوٹ سا ظہور ہے مجھے کھیلنے دو”
حور اسے جواب دیتی دوبارہ سے ظہور کے ساتھ کھیلنے میں مصروف ہوگئی جو دیکھنے میں ذامل کی طرح مگر حرکتوں میں حور کی۔ طرح تھا
“تم جیلس نہ ہو”
حور اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی ذامل اسے دیکھ رہا تھا
“کاش مجھے پہلے معلوم ہوتا کہ تمہیں بچوں سے عشق ہے”
ذامل اسے گھورتے ہوئے کہنے لگا حور مسکرا دی اور اٹھ کر اس کے پاس آکر اس کے گلے میں باہوں کا ہار ڈالا
“نہیں عشق تو مجھے تم سے ہی ہے صرف بچے پسند بہت ہیں”
حور اسے دیکھتے ہوئے پیار سے بولی ذامل نے کھینچ کر اسے اپنے بلکل قریب کرلیا جس پر حور مسکرا دی
“میں اپنے علاؤہ کسی سے ہونے بھی نہیں دوں گا”
ذامل اسے محبت سے کہنے لگا جس پر حور قہقہ لگا گئی
ملک شہراز اور حاکم چوہدری کی دوستی پہلے جیسے گہری ہوگئی اور پورے گاؤں میں ان دونوں کی دوستی کے چرچے پھر سے ہونے لگے ہر کوئی اپنی زندگی میں خوش ہوگیا۔۔۔۔
ختم شد۔۔۔۔۔
