Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Dasht E Dil) Episode 12

ذامل اپنے چہرے کے تاثرات درست کرتا نیچے کی جانب بڑھا اور ڈائننگ ٹیبل پر گیا جہاں ملک شہراز چہرے پر دلفریب مسکراہٹ سجائے بیٹھے تھے
“دل خوش کردیا تم نے ذامل”
وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ کر کہنے لگے وہ بھی جواباً مسکرایا
“مجھے بات کرنی ہے دادا”
وہ کرسی کھسکا کر بیٹھتا ملک شہراز کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا
“ہاں بولو”
ملک شہراز ناشتے کرتے ہوئے اس سے کہنے لگے ذامل نے ایک گہرا سانس لیا۔
“میں حور سے شادی کرنا چاہتا ہوں”
وہ ملک شہراز کو دیکھتے ہوئے ہمت سے یہ الفاظ بول سکا ملک شہراز کا منہ کی طرف بڑھتا ہاتھ رکا ذامل انہیں دیکھ رہا تھا۔
“ذامل تم اپنے ہوش میں ہو”
ملک شہراز لہجے میں سرد پن لیے اسے کہنے لگے ذامل نے انہیں دیکھا ۔
“میں نے آپ کا کام کیا ہے آپ کو میری بات ماننی ہوگی”
ذامل فوراً کرسی سے کھڑا ہوتا کہنے لگا جس پر ملک شہراز بھی چہرے پر سرد تاثرات لیے کھڑے ہوئے۔
“وہ لڑکی اس گھر میں کبھی نہیں آسکتی سمجھے میں اپنے دشمن خاندان کی لڑکی نہیں لاؤں گا ماردو اور اسے بنا دو “
وہ غصے سے ڈائننگ ٹیبل پر ہاتھ مار کر اسے کہنے لگے ذامل انہیں دیکھنے لگا۔
“بچپن سے لے کر اب تک اس لیے تمہیں ہم نے پالا تھا کہ ایک دن تم یوں ہمارے خلاف ہوجاؤ “
وہ ذامل کو غصے سے دیکھتے ہوئے بولے ذامل انہیں دیکھ رہا تھا ۔
“نہیں دادا ملک ذامل دنیا میں سب سے زیادہ آپ سے پیار کرتا ہے سب سے زیادہ آپ اہم ہیں میرے لیے میں ایسا کچھ نہیں کروں گا جو آپ کو تکلیف دے “
ذامل ان کی حالت دیکھ فوراً سے کہتے ساتھ انہیں کرسی پر بٹھانے لگا جس پر ملک شہراز کو تھوڑی تسلی ہوئی اور ذامل چہرے پر مایوسی سجائے خاموشی سے باہر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔


“مدد چاہیے مجھے”
ذامل حویلی سے سیدھا ڈیڑے پر آیا تھا جہاں شہریار پہلے موجود تھا
“کیا؟”
شہریار نے فوراً اسے دیکھتے ہوئے پوچھا ذامل نے ایک نظر اسے دیکھا اور اسے ساری بات بتائی۔
“تو پاگل ہوگیا ہے ذامل ایسا کیسے”
شہریار اسے پریشانی سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا ذامل نے گردن موڑ کر اسے دیکھا ۔
“دادا کیلیے کچھ بھی شہری تو کررہا ہے یا نہیں”
ذامل اسے دیکھ کر کہتا آخری لفظوں پر نظریں سامنے کر گیا۔
“ذامل”
وہ اسے پکارنے لگا ذامل سامنے ہی دیکھ رہا تھا ۔
“کررہا ہے یا نہیں “
وہ اپنی بات پھر سے دہرانے لگا شہریار ایک پل اسے دیکھتا رہ گیا وہ اس کے چہرے سے اس کے اندر کی تکلیف کا اندازہ لگا سکتا تھا۔
” کررہا ہوں”
شہریار فوراً سے اسے بتانے لگا ذامل نے ایک نظر اسے دیکھا اور گلے لگایا۔
“ایک ایک بات کرنی ہے سمجھا”
وہ اسے سمجھاتے ہوئے کہنے لگا جس پر شہریار اثبات میں سر ہلا گیا وہ اس کی حالت سے واقف تھا ملک ذامل کیلیے اس کا دادا اس کے ماں باپ دونوں تھا اور حور بھی اس کیلیے اہم تھی مگر اس کے دادا سے زیادہ نہیں تھی۔


چھٹی کے وقت شہریار حور کے کالج آیا جہاں وہ ابھی گراؤنڈ میں آئی تھی شہریار کو دیکھ ذامل کیساتھ آنے کا اندازہ لگاتی وہ اس طرف بڑھی تھی۔
“ذامل کہاں ہے”
حور نے فوراً سے اس سے پوچھا شہریار چہرے پر سنجیدہ تاثرات سجائے اسے دیکھ رہا تھا۔
“وہ نہیں آیا حور میں تمہیں کچھ بتانا چاہتا ہوں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے گھبراتے ہوئے کہنے لگا حور نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھا
“سب ٹھیک ہے؟”
حور پریشانی سے اسے دیکھتی پوچھنے لگی جس پر شہریار نفی میں سر ہلا گیا۔
“میں تمہیں کب سے بتانا چاہ رہا تھا مگر ہمت ہی نہیں ہورہی تھی”
شہریار اسے دیکھتے ہوئے چہرے پر سنجیدگی لیے بولتا مزید پریشان کرنے لگا۔
“بولو بھی شہریار”
حور فوراً سے اکتا کر بولی جس پر شہریار نے ایک گہرا سانس لیا
“ذامل میرا بہت بہترین دوست ہے مگر وہ ایک لڑکی کیساتھ غلط کرے یہ بات مجھے زیب نہیں دیتی وہ تمہیں صرف بہلا رہا ہے اور کچھ نہیں کررہا ہے حور کل جو بھی تمہارے ساتھ رات میں ہوا وہ ذامل نے کروایا تھا وہ یہ سب اپنے دادا کیلئے کررہا تھا زمینوں اور فیکٹری کی خاطر سمجھ رہی ہو نا میں جھوٹ نہیں بول رہا ہوں اس کیلیے صرف اس کے دادا اہمیت رکھتے ہیں اور کوئی تم سے صرف جھوٹا پیار کررہا ہے وہ”
شہریار اسے دیکھتے ہوئے ایک ایک بات بتانے لگا شہریار کے الفاظ تھے یا جلتا ہوا سیسہ جو حور کو اندر ہی اندر ختم کررہے تھے۔
“میں تمہارا یقین کیسے کرلوں”
حور اپنے آنسو پر ضبط کرتی سرد لہجے میں پوچھنے لگی جس پر شہریار نے فون نکال کر ریکارڈنگ آن کردی۔
“جان سے شادی اچھا مذاق تھا صرف دادا کیلیے کیاہے یہ سب”
ذامل کی آواز نے حور کے ضبط کیے آنسوؤں کو بہنے پر مجبور کردیا تھا آج وہ بہت بری طرح ٹوٹی تھی دل کیا وہ مکمل ختم ہو جائے وہ مضبوط بہادر لڑکی بلکل ٹوٹ گئی تھی۔
“کہاں ہے وہ”
حور نظریں موبائل پر جمائے اس سے مخاطب ہوئی۔
“ڈیڑے پر”
شہریار نے اسے فوراً جواب دیا وہ بغیر کچھ کہے بس آگے کی جانب بڑھ گئی۔
“یہ کہاں گئی ہے کیا ہوا”
نوال فوراً شہریار کے پاس آکر پریشانی سے پوچھنے لگی شہریار نے اسے دیکھا۔
“ضروری تھا یہ سب اسے بتانا”
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا نوال نے اسے دیکھا۔
“وہ خود کو کوئی نقصان نہ پہنچا لے”
نوال پریشانی سے اسے جاتا دیکھ کہنے لگی جس پر شہریار مسکرایا۔
“حور ہے وہ ہمت والی ہے بہت”
وہ اسے کہتے ساتھ خاموشی سے چلا گیا نوال اسے جاتا دیکھنے لگی جب سے وہ ملے تھے نوال کو وہ آج پہلی دفعہ اچھا لگا تھا نوال اسے جاتا دیکھنے لگی۔


وہ ڈیڑے پر بیٹھا سگریٹ پینے میں مصروف تھا حور سرد نگاہوں سے اسے دیکھتی تیز تیز قدم اٹھائے اس طرف بڑھی۔
“یہ سب تم نے زمینوں کیلیے کیا ہاں صرف اپنے دادا کی خاطر؟”
حور اس کے سامنے کھڑی سینے پر بازو باندھے سرد لہجے میں سوال کرنے لگی اس کی آواز پر ذامل نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
“ہاں ایسا ہی ہے”
وہ اس سے نظریں چراتا اسے بولا حور بےیقین سا اسے دیکھ رہی تھی اس کے الفاظ حور کو بےحد تکلیف پہنچا گئے تھے ۔
“ایک دفعہ میرے بارے میں نہیں سوچا تم نے ہاں؟”
حور اس کے آنکھوں میں آنکھیں ڈالے غصے سے اس سے سوال کررہی تھی ذامل نے اسے دیکھا ۔
“نہیں پیار ملک ذامل کو کبھی نہیں ہوسکتا “
وہ اسے دیکھتے ہوئے پرسکون سا جواب دے رہا تھا حور کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا بھی محال لگ رہا تھا ۔
“وہ سب کیا تھا کیا تھا وہ باتیں وہ مجھے ہر وقت آکر دیکھنا ہاں”
حور غصے سے اس کے سینے پر تھپڑ مار کر چیخ کر پوچھنے لگی ذامل اسے دیکھ رہا تھا ۔
“وہ سب زمینوں کی خاطر کیا”
وہ اسے دیکھتے ہوئے جواب دینے لگا حور بھی اسے دیکھ رہی تھی ایک زوردار تھپڑ حور نے ذامل کی گال پر دے مارا ذامل اسے دیکھنے لگا۔
“تم نے میرا دل بہت بری طرح توڑا ہے ملک ذامل خدا تمہیں کبھی معاف نہیں کرے گا تم نے آج حورِ جان کو پورا ختم کردیا دیکھنا جو کسی کا دل تورا ہے خدا کیا کرتا ہے واقع میں تم میرے پیار کے قابل نہیں ہو”
حور اسے نم آنکھوں سے دیکھتے ہوئے ہر لفظ پر زور دیتی انگلی اٹھا کر اسے کہنے لگی ذامل نے اسے بازوؤں سے پکڑ کر قریب کیا۔
“مجھ سے دور رہو سمجھو”
وہ غصے سے اپنے بازو اس کی گرفت سے نکال کر غصے سے کہتے ساتھ وہاں سے چلی گئی ملک ذامل اسے جاتا دیکھنے لگا۔
اس کے الفاظ اس کیا آنکھوں میں موجود تکلیف ملک ذامل کو اندر تک تکلیف دے رہی تھی وہ فوراً سے گاڑی کی طرف بڑھا اور گاڑی سڑک ہر دوہرا دی
حور ڈیڑے سے کالج کا سفر آنسو بہاتے ہی طے کررہی تھی اور ذامل حویلی آکر سیدھا کمرے کی طرف بڑھا اور کمرے کا دروازہ بند کرتا وہ وہی بیٹھتا کسی بچے کی طرح رونے لگا تھا حور کی آنکھوں میں خود کیلیے تکلیف دیکھ کر ملک ذامل کی روح تک کانپ گئی تھی۔
جو بھی تھا وہ یہ مانتا تھا وہ حورِ جان کے پیچھے بچپن سے پاگل ہے۔
“حور”
حور کالج پہنچی تو نوال اسے روتا دیکھ پریشانی سے پکارنے لگی
“کیا ہوا ہے”
نوال اسے بٹھا کر نرمی سے پوچھنے لگی حور نے اسے دیکھا ۔
“وہ بھی سب کی طرح نکلا نوال میں سچا پیار کرنے لگی تھی اس سے لیکن اس نے سب ختم کردیا”
حور نم آنکھوں سے نوال کو دیکھتی ٹوٹے ہوئے لہجے میں بولی نوال فوراً اسے گلے لگا گئی
“کہ رہا تھا اسے کبھی پیار ہی نہیں ہوا”
حور اس کے سینے سے لگی بھیگی ہوئی آواز میں بتانے لگی تبھی راشد آگیا۔
“حور راشد بابا آ گئے ہیں خود کو نارمل رکھو”
نوال اسے کان میں کہنے سے بولتی الگ ہوئی حور اپنے آنسو صاف کرتی خود کو نارمل کرتی گاڑی کی طرف بڑھی اور خاموشی سے بیٹھ گئی ۔
پورے راستے حور خاموشی سے کھڑکی کیساتھ سر ٹکائے آنکھوں میں نمی لیے گزار گئی اور حویلی آتے ہی سیدھا وہ کمرے کی طرف بڑھ گئی تھی ۔
“اسے کیا ہوا ہے”
ہاجرہ بیگم حور کو سیدھا کمرے میں جاتا دیکھ پریشانی سے پوچھنے لگی۔
“پتہ نہیں میں دیکھتی ہوں”
ازقہ کہتے ساتھ کمرے کی طرف بڑھی اور ہاجرہ بیگم بھی کمرے کے باہر کھڑی ہوئی ۔


“حور”
حور کو کمرے میں موجود نہ پاکر پکارنے لگی جس پر حور واشروم سے باہر نکلی۔
“کیا ہوا ہے”
ازقہ اسے غور سے دیکھتی پریشانی سے پوچھنے لگی
“کچھ نہیں”
حور اس سے نظریں چراتی مختصر سا جواب دیتی کمرے کی چیزیں ٹھیک کرنے لگی۔
“حور ادھر دیکھو تم روئی ہو کیا ہوا ہے”
ازقہ اس کا رخ کیے اپنی طرف کیے غصے سے پوچھنے لگی حور آنسو بہانے لگی۔
“خوش ہوجائیں آپ بجو ویسا ہی ہوا جیسا آپ سوچ رہی تھی دھوکے باز نکلا ملک ذامل میں نے شادی کی بات کی تو اپنا اصل چہرہ میرے سامنے لے آیا”
حور آنکھوں میں آنسو لیے بھیگی آواز میں کہنے لگی ازقہ اس کی حالت دیکھ کر فوراً سے اسے گلے لگا گئی ازقہ کے گلے لگتے ہی حور اونچا اونچا رونے لگی اور ہاجرہ بیگم باہر کھڑی باتیں سن اپنی جگہ ساکت ہوگئی تھی
“حور”
وہ غصے سے کمرے میں آتی اسے پکارنے لگی حور نے فوراً ہاجرہ بیگم کی جانب دیکھا۔
“یہ تربیت کی تھی میں نے تمہاری”
ہاجرہ بیگم کہتے ساتھ پہلی دفعہ حور پر ہاتھ اٹھا گئی حور کے ساتھ ساتھ ازقہ بھی اپنی جگہ ساکت ہوگئی۔
“ماں مجھے معاف کردیں میں پاگل بن گئی تھی پاگل بن گئی تھی”
حور ہاجرہ بیگم کے قدموں میں گر کر اس سے معافی مانگ کر خود کو مارنے لگ گئی ۔
“اس کی باتوں میں آ گئی تھی “
حور روتے ہوئے خود سے کہنے لگی ہاجرہ بیگم اور ازقہ اس کی حالت دیکھ پریشان ہوئے
“حور اٹھو پانی پیو “
وہ اسے اٹھا کر بیڈ پر بٹھا کر کہنے لگی حور نفی میں سر ہلا گئی
“خود کو ٹھیک رکھو گھر کے سب مرد آتے ہی ہوں گے”
ہاجرہ بیگم خفگی سے اسے دیکھ کر کہتے ساتھ کمرے سے چلی گئی حور انہیں جاتا دیکھنے لگ گئی۔


شام ہو چکی تھی اور ذامل ابھی تک ویسے ہی بیٹھا تھا بال بکھرے کر ماتھے پر آئے ہوئے تھے آنکھیں بھیگی ہوئی تھی
“ذامل صاحب آپ کو ملک صاحب نیچے بلارہے ہیں”
ملازم دروازے پر دستک دیتے ہوئے اسے ملک شہراز کو پیغام دینے آیا وہ ویسے ہی ساکت بیٹھا تھا حور کی باتیں اس کے ذہن میں گردش کررہی تھی۔
“صاحب وہ کوئی جواب نہیں دے رہے ہیں”
ملازم نیچے آکر ملک شہراز کو بتانے لگا وہ پریشانی سے ایکدم اٹھ کھڑے ہوئے اور اوپر کی طرف بڑھے۔
“ذامل دروازہ کھولو کیا ہوا ہے؟”
ملک شہراز دروازے پر دستک دیتے ہوئے اونچی آواز میں کہنے لگے۔
“مجھے اکیلا رہنا ہے دادا”
وہ انہیں جواب دے کر اٹھ کر بیڈ پر آتا فون میں موجود اس کی تصویر دیکھ کر ساتھ سگریٹ جلا کر پینے میں مصروف ہوگیا
ملک شہراز خاموشی سے چلے گئے تھے ۔۔۔۔


“ہماری گڑیا نظر نہیں آرہی ہے”
حاکم چوہدری رات کے کھانے کے وقت ڈائننگ ٹیبل پر آئے اور حور کو نہ پاکر بولے
“وہ ابا جان اس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی”
ہاجرہ بیگم فوراً سے بتانے لگی حاکم چوہدری پریشانی سے فوراً اٹھے ۔
“کیا ہوا ہے “
وہ پریشانی سے کہتے ساتھ اس کے کمرے کی طرف بڑھے زاہد صارم اور جبران بھی فوراً اٹھ کر کمرے کی طرف بڑھے۔
“حور کیا ہوا ہے”
حاکم چوہدری کمرے میں آتے ہوئے پریشان سے پوچھنے لگے۔۔
“کچھ نہیں دادا بس بخار ہے ہلکا سا”
حور رخ دوسری طرف کیے اپنی آواز کو نارمل رکھتے ہوئے بولی حاکم چوہدری نے اس کے ماتھے پر ہاتھ پر رکھا
“ہلکا سا آپ تو بخار میں جل رہی ہیں ٹھنڈے پانی کی پٹیاں لائے ہاجرہ بیگم”
حاکم چوہدری حور کو اتنے تیز بخار میں دیکھ پریشان سے بولے وہ اثبات میں سر ہلا گئی
“اچانک کیسے بیمار ہوگئی”
دراب چوہدری فوراً سے کہنے لگے سب نے ان کی طرف دیکھا ۔
“شاید گرمی لگ گئی ہوگی”
ازقہ فوراً سے بولی زاہد اثبات میں سر ہلا گیا۔
“ہاں گرمی کا ہی اثر ہے”
کہتے ساتھ وہ حور کا رخ اپنی طرف کرگئے حور نے چہرے پر ہاتھ بازو رکھ لیا تھا ۔
“ٹھیک ہو جائے گا”
وہ اسے پیار سے کہتے ساتھ اسکا بلینکٹ ٹھیک کرنے لگے تھے ۔
ایک طرف وہ اس کی تصویر دیکھ کر اپنی اس اذیت بھری رات کو گزار رہا تھا اور دوسری طرف وہ بخار میں جل رہی تھی ۔
“عشق میں اگر بیوفائی مل جائے
دنیا تباہ سی ہوجاتی ہے”
جاری ہے ۔