Dasht E Dil By Mahnoor Shehzad Readelle50291 (Dasht E Dil) Episode 15
No Download Link
Rate this Novel
(Dasht E Dil) Episode 15
ہاجرہ بیگم کے کمرے میں داخل ہونے سے پہلے ذامل اسے باہوں میں بھرتا بیلکونی سے لے گیا
ہاجرہ بیگم کمرے میں داخل ہوئی اور نظر پورے کمرے میں دوہرائی حور نہیں تھی وہ پریشان ہوئی۔
“حور”
وہ اسے پکارتے ہوئے باتھروم کی طرف بڑھی مگر اس کی لائٹ بند دیکھ کر ہاجرہ بیگم کو پریشانی ہوئی اور پریشان سی وہی کھڑی رہی
“ماں لے آئیں نا حور کو”
صارم کمرے میں آتے ہوئے ہاجرہ بیگم کو دیکھتے ہوئے کہنے لگی جس پر انہوں نے اسے دیکھا
“کیا ہوا ماں”
ہاجرہ بیگم کو پریشان سا دیکھ کر وہ فوراً سے پوچھنے لگا
“حور کہیں نہیں ہے”
ہاجرہ بیگم فوراً سے اسے بتانے لگی صارم کمرے میں نظر دوہرانے لگا
“کہاں گئی ہے”
صارم پریشانی سے ان سے پوچھنے لگا ہاجرہ بیگم نفی میں سر ہلا گئی
“میں دادا کو بتاتا ہوں “
صارم فوراً سے کہتے ساتھ باہر کی طرف بڑھا ہاجرہ بیگم بھی باہر چل دی
“کیا ہوا حور کہاں ہے”
حاکم چوہدری ان دونوں کو بغیر حور کے آتا دیکھ پریشان سے پوچھنے لگے
“دادا وہ حور کہیں بھی نہیں ہے”
صارم فوراً سے انہیں دیکھتے ہوئے بتانے لگا جس پر حاکم چوہدری اسے دیکھنے لگے
“ایسے کیسے کیوں نہیں ہے”
حاکم چوہدری ہاجرہ بیگم کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگے دراب چوہدری جو اندر آرہے تھے ان کے بڑھتے قدم رکے چہرے کی مسکراہٹ سمٹی
“مجھے نہیں پتہ ابا جان”
ہاجرہ بیگم گھبراتے ہوئے جواب دینے لگی حاکم چوہدری پریشان ہوئے
“کہاں گئے ہے حور”
دراب چوہدری پریشانی سے اس طرف بڑھ کر پوچھنے لگے حاکم چوہدری نے انہیں دیکھا
“بتائیں ابا جان”
دراب چوہدری فوراً سے ہیرخسے کہنے لگے
“نہیں ہے کہیں بھی”
حاکم چوہدری نے غصے سے جواب دیا جس پر دراب چوہدری پریشان ہوئے
“خود گئے ہے یا کوئی زبردستی لے گیا ہے؟”
حاکم چوہدری پریشان سے ان سب پر باری باری نظر ڈالتے سوچتے ہوئے کہنے لگے
“پتہ نہیں دادا جان”
صارم فوراً سے کہنے لگا حاکم چوہدری نے اسے دیکھا
“پتہ کرواؤ”
سرد لہجے میں کہتے ساتھ وہ باہر کی طرف بڑھ گئے ۔۔۔۔
ذامل حور کو اپنے گھر میں لایا تھا جہاں کبھی کبھار آیا کرتا اس کے علاؤہ وہاں کوئی نہیں ہوتا تھا اور اس کے اس گھر کا بہت کم لوگوں کو ہی معلوم تھا
ذامل اسے کمرے میں لاکر بیڈ پر لٹانے لگا اور کرسی کھسکا وہی بیٹھ کر اس کے اٹھنے کا انتظار کرنے لگا
“آدم جیسے انسان سے تمہیں دور رکھنے کیلیے یہی کرنا بہتر لگا مجھے”
ذامل اس کی ماتھے پر ماتھا پٹی درست کرتے ہوئے بولا وہ دنیا سے بیگانہ بےہوش تھی
وہ اسے ویسے چھوڑتا باہر کی طرف بڑھ گیا تھا ۔۔
حور دلہن کے سرخ جوڑے میں ملبوس بےہوش سی حالت میں بیڈ پر لیٹی تھی اچانک اس نے اپنی پلکوں پر جبنش کی اور آہستہ آہستہ آنکھیں کھولنے لگی سر بہت بھاری تھا پوری آنکھیں کھول کر وہ نظریں ارد گرد گھمانے لگی خود کو ایک کمرے میں موجود پاکر اس کے ذہن میں بہت سے خیالوں نے گردش کی تھی وہ پریشان اور گھبراتے ہوئے دونوں ہاتھ سر پر رکھے یاد کرنے کی کوشش کرنے لگی اچانک چہرے پر سرد تاثرات سج گئے
“ذامللللللل”
وہ اٹھ کر بیٹھتی بھاری سر کیساتھ چلا کر اسے پکارنے لگی
تبھی دروازہ کھولا وہ سینے پر بازو باندھے چہرے پر مسکراہٹ سجائے اسے دیکھنے لگا
“میں تمہارے سامنے ہوں”
ذامل پرسکون سے انداز میں اسے جواب دینے لگا حور سرد اور نفرت بھری نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی
“مجھے جانا ہے یہاں ابھی اسی وقت مجھے حویلی چھوڑ کر آؤ”
وہ غصے سے لہنگہ سنبھال کر بیڈ سے اٹھ کر سرد لہجے میں اسے کہتے ساتھ باہر کی جانب بڑھنے لگی
“اگر واپس تمہیں جانے ہوتا تو یہاں لاتا کیوں”
وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر حور کے باہر جانے کا ارادہ ترک کرتا کہنے لگا
“کیوں کررہے ہو یہ سب ایک ہی دفعہ مار دو مجھے کیوں مجھے میرے خاندان کی نظروں میں ذلیل کرنا چاہتے ہو شادی ہے میری مجھے جانے دو”
حور آج صحیح معنوں میں بےبسی سے نم آنکھوں سے اس سے بولی
“ایک بات کیوں تمہیں سمجھ نہیں آتی تمہارے لیے میں بنا ہوں تمہاری شادی مجھ سے ہوگی صرف مجھ سے”
وہ مضبوط گرفت حور کے دونوں بازوؤں میں قائم کیے سختی سے اسے بولا حور اسے دیکھنے لگی
“نفرت کرتی ہوں میں تم سے سمجھے”
حور اس کی سرد سرخ نگاہوں میں نگاہیں پتھریلے لہجے میں کہنے لگی ذامل نے اسے غصے سے مزید قریب کیا
“میں تو پیار کرتا ہوں”
اس کی سیاہ آنکھوں میں نظریں جمائے گھمبیر لہجے میں بولا
“مجھے تمہارے سامنے کھڑے ہوکر تم سے بحث کرنے کا کوئی شوق نہیں”
وہ اسے غصے سے کہتے ساتھ کمرے سے تیزی سے باہر کی طرف بڑھ گئی
ذامل زبردستی اس کی کلائی تھامے کمرے کی جانب بڑھنے لگا وہ اپنا آپ اس کی قید نکالنے کی سعی کررہی تھی
” ملک ذامل تمہاری قسمت میں لکھ دیا گیا ہے مجھ سے چھٹکارا پانا آسان نہیں”
وہ اس دیوار سے پن کیے دونوں ہاتھ دیوار سے لگائے اس کے چہرے پر جھک کر بولا
“چاہتے کیا ہو مجھ سے”
سامنے موجود اس کی آنکھوں میں صرف ذامل کیلیے نفرت تھی جو ملک ذامل کو بری طرح چبھ رہی تھی
“اپنا بنا کر رکھنا”
اس کے چہرے پر گہری نظریں جمائے گھمبیر لہجے میں اسے کہنے لگا
“کون سا نیا کھیل کھیل رہے ہو کیونکہ ذامل چوہدری کو تو پیار کے اصل معنی ہی نہیں ہے پتہ”
وہ لفظ پر زور دیتے ہوئے سرد لہجے میں پوچھنے لگی
“واقع پیار کرتا ہوں “
وہ اسے نرمی سے مسکرا کر بولا حور کے لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ آئی
“لیکن نفرت کرتی ہے جتنی تمہارے پیار میں پاگل ہوئی تھی اب اس سے دگنی نفرت کرنے لگی ہوں ملک ذامل”
وہ اسے زہر خند لہجے میں اونچی آواز میں سرد نگاہوں سے دیکھتی بتانے لگی جب اس نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی حور کے لہجے میں موجود کڑواہٹ ملک ذامل کی برداشت سے باہر تھی
“ششش جان صرف ملک ذامل سے پیار کرے گی انڈرسٹیند”
ذامل اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھے بولتے ہوئے کسی جنونی سے کم نہیں لگا حور بس اسے دیکھتی رہ گئی۔۔۔۔
“مجھے جانا ہے”
وہ اونچی آواز میں چیخ کر کہنے لگی جس پر ذامل اسے دیکھنے لگ گیا۔
“اب یہاں سے نہیں جا سکتی ہم دونوں کا نکاح ہوگا”
ذامل اس کے بالوں کو ٹھیک کرتے ہوئے نرمی سے اسے بتانے لگا
“میں مرنا پسند کرو گی زبردستی نہیں کرسکتے تم”
حور نظریں دوسری سمت کیے اسے سخت لہجے میں کہنے لگی
“نہیں کوئی زبردستی نہیں ہے دادا کی جان پیاری ہے اپنے”
ذامل اطمینان سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا حور اسے دیکھنے پر مجبور ہوگئی
“ذامل تم ایسا کچھ نہیں کرو گے”
وہ اسے انگلی دیکھا کر وارن کرنے والے انداز میں کہنے لگی
“کرنے کو بہت کچھ کرسکتا ہوں خاموشی سے نکاح کر لو مجھ سے اگر دادا جان کی جان پیاری ہے”
وہ ہر لفظ پر زور دیتے ہوئے چہرے پر مسکراہٹ سجائے اسے کہنے لگا
“کتنا گرو گے میری نظروں میں”
حور اسے دیکھتے ہوئے نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولی
“تمہارے لیے ہی کررہا ہوں یہ سب سمجھی”
ذامل اب کی بار پتھریلے لہجے میں غصے سے بتانے لگا حور سہم گئی
“نکاح کرنے کیلیے تیار ہو بولو ورنہ ادھر میری ایک کال ادھر تمہارے دادا اوپر”
ذامل اسے دیکھتے ہوئے اپنے غصے کو ضبط کرتا پوچھنے لگا حور اسے بےبسی سے دیکھ رہی تھی
“میرے بس میں ہوتا نا تو آج تمہیں قتل کردیتی میں”
حور غصے سے اسے دیکھتے ہوئے ہر لفظ پر زور دیتی بولی ذامل کے لبوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی
“تم رضامند ہوگئی کپڑے بدلو”
ذامل اسے دیکھتے ہوئے نرمی سے کہتے ساتھ وارڈروب سے سرخ رنگ کا جوڑا نکال کر آیا
“میں نہیں بدلوں گی”
حور غصے سے ڈریس سائیڈ پر کرتی بولی اس کی آنکھیں غصے سے سرخ ہو چکی تھی
“کرنا تو ہوگا تمہیں کیونکہ مجھے تمہیں سرخ جوڑے میں دیکھنا اگر نہیں کرو گی تو میں خود کردوں”
ذامل ضدی انداز میں اسے دیکھتے ہوئے اپنے الفاظ بول رہا تھا جب حور نے گھور کر اسے دیکھا
“انتہائی کوئی لچے انسان ہو تم”
سحر اسے ایک لقب دیتی اس کے ہاتھ سے ڈریس لیتی باتھروم کی طرف بڑھ گئی ذامل اسے جاتا دیکھنے لگ گیا۔
سرخ جوڑے میں ملبوس جس پر گولڈن نفیس سا کام ہوا ہوا تھا ہم رنگ دوپٹہ لیے وہ باہر نکلی تھی ذامل کی نظر اس پر گئی عروسی جوڑے میں ذامل کو وہ آسمان سے اتری کوئی پری لگ رہی تھی اور سرخ تو اس کی سفید رنگت پر خوب جچ رہا تھا نظریں اس پر جمائے وہ اسے دیکھ رہا تھا حور کی آنکھوں میں صرف آنسو تھے اس شخص نے اسے بےبس کرکے رکھ دیا تھا۔
“مولوی صاحب”
ذامل حور سے نظریں ہٹائے روعبدار آواز میں کہنے لگا تبھی مولوی صاحب کمرے میں آئے
“نکاح پڑھائیں”
ذامل حور کی طرف بڑھ کر اس کا ہاتھ تھامے اپنے ساتھ لایا حور ناچاہتے ہوئے بھی اس کے ساتھ چل دی
مولوی صاحب نے نکاح شروع کروایا حور کا دل کیا وہ کسی طرح یہاں سے بھاگ جائے حویلی جائے مگر شاید قسمت کو یہی منظور تھا
نکاح ہوچکا تھا ذامل مولوی صاحب کو چھوڑنے کیلیے باہر کی طرف بڑھا
“اگر آپ نے کسی کو بھی ہمارے نکاح کی خبر بتائی تو آپکی جان پہلی فرصت میں لوں گا یہ بات بھول جائیں”
ذامل مولوی صاحب کو گن دیکھاتے ہوئے کہنے لگا مولوی صاحب گن دیکھ آنکھیں بڑی کیے تھوک نگلتے اثبات میں سر ہلا گئے اور چلے گئے ذامل گن جیب میں رکھتا مونچھوں کو تاؤ دیے مسکراتا ہوا کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
دلہن کے جوڑے میں ملبوس وہ سرخ آنکھیں لیے سرخ ہی ناک کے ساتھ اسوقت غضب کی لگ رہی تھی۔
“نکاح مبارک ہو جان”
ذامل کمرے میں داخل ہوتا اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہنے لگا حور نے غصے سے سر اٹھا کر اسے دیکھا
“تم نے جو میرے ساتھ کیا ہے نا خدا تم سے ایسا بدلہ لے گا تم یاد رکھو گے میری زندگی ختم کرکے رکھ دی ہے تم نے ملک ذامل “
حور اسے سرد نگاہوں سے گھورتے ہوئے چلا کر کہنے لگی جب ذامل نے کانوں پر ہاتھ رکھا۔
” ننھی جان اتنا زور مت لگاؤ”
وہ اس کے چہرے پر گہری نظریں جمائے مسکرا کر کہنے لگا۔
“میں لگاؤ گی جینا حرام کردوں گی میں تمہارا سمجھے”
وہ اسے سرخ آنکھیں لیے انگلی دیکھا کر وارن کرنے والے انداز میں مزید اونچا چیخی جب ذامل نے اس کی انگلی پکڑ کر اپنا ہاتھ کلائی تک لایا اور کھینچ کر اپنے قریب کیا۔
“میں ہر وار کیلیے تیار ہوں جان”
ذامل اس کی کمر پر دونوں طرف ہاتھ رکھتا کان کے قریب جھک کر گھمبیر لہجے میں کہنے لگا حور نے اپنے ناخن اس کی گردن میں چبائے۔
“افف جنگلی شیرنی”
وہ اس سے دور ہوتا اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا جو کھا جانے والی نظروں سے اسے گھور رہی تھی
“میں تو ایسی ہی ہوں تمہیں ہی شوق تھا نکاح کرنے کا اڈجسٹ کرنا ہوگا”
حور اسے دیکھتے ہوئے لفظوں پر زور دیتی بولی ذامل کے لب مسکرا دیے۔
“اڈجسٹ تو میں کروا لوں گا “
وہ اسے دیکھتے ہوئے اسی کے انداز میں کہنے لگا سیاہ آنکھیں لائٹ براؤن آنکھوں سے ٹکرائیں تھیں ذامل اس کے قریب آنے لگا حور پیچھے کی طرف قدم بڑھانے لگی
“ککک۔۔۔کیا کررہے ہو”
حور ناچاہتے ہوئے بھی اسے اپنی طرف بڑھتا دیکھ کپکپاتے ہوئے لگی ادا کرنے لگی
“تمہیں بتارہا ہوں اڈجسٹ میں کر حال میں کرلوں گا”
وہ اس کے چہرے کے قریب چہرہ لائے کہنے لگا حور آنکھیں زور سے بند کر گئی
“تم نے کچھ کیا نا”
حور آنکھیں نیچے غصے سے اسے کہنے لگی ذامل کے لبوں پر دلفریب مسکراہٹ نمودار ہوئی
“تو”
ذامل اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اپنے ساتھ لگائے آئبرو اچکائے پوچھنے لگا
“میرے پاس اب سارے اختیار ہے تمہارے قریب آنے کے مسز ملک ذامل “
حور کے کام کے قریب لب لائے گھمبیر لہجے میں اسے کہنے لگا حور غصے سے اس کے سینے پر ہاتھ رکھے خود سے دور کرنے کی سعی کرنے لگی۔
جاری ہے۔۔
