Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Dasht E Dil) Episode 22

ذامل کے کہنے پر وہ دونوں تھوڑی دیر کیلیے نیچے واک کرنے کیلیے آ گئے تھے وہ دونوں ایک دوسرے سے قدم ملا کر چلتے ہوئے خاموشی سے واک کررہے تھے
“کتنا اچھا ہو نا تم ساری زندگی یوں ہی خاموشی سے میرے ساتھ چلتی رہو”
ذامل حور کو دیکھتے ہوئے مسکرا کر شرارت سے کہنے لگا حور نے اسے دیکھا
“خاموش تو میں کبھی نہیں رہ سکتی ہوں سمجھیں”
حور اسے گھور کر منہ بنائے جواب دینے لگی جس پر ذامل کے لبوں کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی
“تم ہمیشہ یوں ہی مسکراتے ہو کیا؟”
حور اسے مسکراتا دیکھ نظریں اس کی مسکراہٹ پر جمائے پوچھنے لگی ذامل نے اسے دیکھا
“میرے خوش رہنے کی وجہ میرے ساتھ موجود ہے تو یہ مسکراہٹ چہرے پر خود ہی آجاتی ہے”
وہ حور کے چہرے نظریں جمائے محبت بھرے لہجے میں بولتا حور کو پلکیں جھکانے پر مجبور کر گیا۔۔
“میرے خیال سے اب ہمیں واپس اوپر چلے جانا چاہیے”
حور کچھ دیر چلنے کے بعد ذامل کو دیکھتے ہوئے کہنے لگی جس پر وہ اثبات میں سر ہلا گیا اور دونوں اوپر کی طرف بڑھ گئے
روم میں آکر حور نے ذامل کی بینڈچ چیخ کی اور اسے سوپ ہلا کر میڈیسن دی تھی۔۔۔


“کیسا ہے اب”
شہریار اس کے پاس بیٹھا دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا
“بہت بہتر”
ذامل اسے دیکھتے ہوئے جواب دینے لگا جس پر شہریار مسکرا دیا
“خوب خدمتیں لی جارہی ہیں بھابی کی”
وہ مسکراتے ہوئے مزاحیہ انداز میں کہنے لگا ذامل کے لب مسکرا دیے
“بلکل”
وہ حور پر نظریں جمائے مسکرا کر جواب دینے لگا جس پر شہریار مسکرا دیا
“اب کیا لگتا ہے ڈیوارس کی بات کریں گے؟؟”
شہریار نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنا ضروری سمجھا جس پر ذامل فوراً نفی میں سر ہلا گیا
“جان ذامل کے بغیر نہیں رہ سکتی اتنا تو میں جان گیا ہوں”
ذامل لہجے میں اعتماد لیے اسے جواب دینے لگا جس پر شہریار اثبات میں سر ہلا گیا۔۔
“تم اپنے بارے میں سوچو”
ذامل اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا شہریار خاموش رہا۔۔
“میں چلتا ہوں پھر آؤں گا خیال رکھنا”
وہ کہتے ساتھ اس سے ملتا وہاں سے چلا گیا ذامل اسے جاتا دیکھنے لگ گیا۔۔۔


ذامل کو ڈسچارج کردیا گیا تھا ملک شہراز اسے اور حور کو اپنی والی حویلی لے آئے تھے ان کے ساتھ ازقہ بھی آئی تھی اور حور ذامل کو سہارا دے کر اس کے والے روم کی طرف بڑھ گئی
کمرے میں آتے ہی اسے بیڈ پر لٹایا تھا ذامل اسے دیکھ رہا تھا
“تو یہ ہے تمہارا روم”
حور اس کے روم کس جائزہ لیتے ہوئے مسکرا کر بولی جس پر ذامل ہاں میں سر ہلا گیا
“یہ انکل آنٹی ہیں؟”
وہ دہوار پر لگی تصویر سے اندازہ لگاتے ہوئے مسکرا کر پوچھنے لگی ذامل اثبات میں سر ہلا گیا
“جان”
ذامل نے اسے پکارا حور نے مڑ کر اسے دیکھا ذامل نے اسے اپنے پاس آنے کا اشارہ کیا
“تمہیں ڈیوارس کب چاہیے”
ذامل چہرے پر سنجیدہ تاثرات سجائے اس سے پوچھنے لگا اور اسکی بات سے حور بس اسے دیکھتی رہ گئی
“ڈیوارس ؟”
حور اسے دیکھتے ہوئے بامشکل بول سکی جس پر ذامل اثبات میں سر ہلا گیا
“یاد نہیں تمہیں ہی چاہیے تھی”
ذامل اسے جان کر اپنی مسکراہٹ ضبط کیے پوچھنے لگا جس پر حور اسے خاموشی سے دیکھنے لگی
“بولو بھی”
ذامل اسے خاموش پاکر پھر سے بولا حور ہوش میں آئی
“مجھے اب نہیں چاہیے”
حور نے اسے فوراً اپنا جواب دیا ذامل اسے دیکھنے لگا
“کیوں”
ذامل آئبرو اچکائے جان کر اس سے پوچھنے لگا حور کی نظریں اس پر ہی تھیں
“بس نہیں چاہیے اب”
حور اسے جواب دیتی اٹھ کر جانے لگی ذامل نے اس کی کلائی تھامی
“آخر کیوں نہیں چاہیے “
ذا اسے اپنے پاس بٹھا کر پوچھنے لگا حور صحیح معنوں میں بے س ہوئی تھی
“ذامل تم جانتے ہو پھر بھی”
حور اس سے نظریں چرا کر تھوڑا خفگی سے کہنے لگی ذامل نے حور کو اپنے قریب کیا
“مجھے تمہارے منہ سے سننا ہے”
ذامل اس کے چہرے پر نظریں جمائے گھمبیر لہجے میں بولا حور نے اسے دیکھا
“مجھ نہیں ہوگا”
حور نظریں جھکائے بےبسی سے کہنے لگی ذامل حور کے کان کے قریب لب لایا
“میرے لیے”
ذامل دھیمے لہجے میں بولتا اپنی سانسیں محسوس کروا گیا حور نے آنکھیں میچ کی دل بہت تیز دھڑک رہا تھا ایسا لگ رہا تھا ابھی باہر اجائے گا
“میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی ملک ذامل”
حور آنکھیں بند کیے ہمت پیدا کیے اپنی دلی کیفیت بول گئی ذامل کے لبوں پر دلفریب مسکراہٹ آئی اس نے حور کے چہرے پر نظریں جمائے اور اسے سینے سے لگایا حور کے لب بھی مسکرا دیے تھے اس سے الگ ہوکر ذامل نے حور کے چہرے پر ہاتھ رکھے اور اسے دیکھنے لگا حور نظریں جھکا گئی ذامل نے تھوڑی پر ہاتھ رکھ کر چہرہ اوپر کیا اور اس کے ہونٹوں کو نشانہ بنانا چاہا حور نے فوراً پیچھے کیا
“بیمار ہو اور حرکتوں سے بعاز نہیں آرہے خاموشی سے سوجاؤ”
حور بیڈ سے اٹھتی اسے گھور کر کہتے ساتھ سرخ چہرہ لیے باہر کی طرف بڑھنے لگی
“کہاں؟؟”
ذامل اسے باہر جاتا دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا حور جاتے جاتے مڑی
“بجو کے پاس “
وہ اسے جواب دے کر کمرے سے چلی گئی ذامل نے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور لیٹ گیا


“کیسے آنا ہوا آپا”
نوال کی والدہ زینیہ بیگم اپنی نند سے مسکراتے ہوئے پوچھنے لگی
“یہ کہنے آئی ہوں تم اپنی نوال کی شادی کہیں بھی کردو کیونکہ میرا بیٹا کسی اور کو پسند کرتا ہے معزرت”
وہ کہتے ساتھ اٹھ کر چل دی اور زینیہ بیگم انہیں جاتا دیکھنے لگ گئی
“یہ کیا کہ دیا آپا نے”
زینیہ بیگم مایوسی سے کہنے لگی نوال فوراً ان کے پاس آئی
“امی چھوڑیں جو ہوا اچھا ہوا مجھے پہلے ہی پتہ تھا پھوپھو نے کبھی نہیں کرنی سہیل کی شادی یہاں آپ پریشان نہ ہو”
نوال انہیں تسلی بخشتے ہوئے کہنے لگی دل سے تو وہ خود بھی خوش تھی جان جو چھوٹ گئی تھی ۔۔


حور کمرے میں بیٹھی نماز ادا کررہی تھی ذامل کی نظریں حور پر مرکوز تھیں حور نے سلام پھیر کر اسے دیکھا اور آئبرو اچکائی
“بہت حسین لگ رہی ہو”
ذامل نظریں اس کے چہرے پر جمائے اسے بولا حور مسکرا دی
“کب نہیں لگتی”
حور کہتے ساتھ دعا مانگنے میں مصروف ہوگئی
“مجھے تو ہر وقت ہر لمحہ ہر گھڑی پیاری لگتی ہو”
ذامل اسے جواب دینے لگا حور نے دعا مانگی اور جائے نماز جگہ پر رکھ کر اس کے پاس آئی
“میں نے کبھی نہیں سوچا تھا مجھے تم سے پیار ہو گیا ذامل”
وہ اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہنے لگی ذامل نے اسے اپنے حصار میں قید کیا
“اور میں نے بولا تھا تمہیں مجھ سے محبت ہو گی”
ذامل اس کے بالوں کی خوشبو سونگھتے ہوئے بتانے لگا حور مسکرا دی
“تم واقع بہت ضدی ہو”
حور اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی ذامل نے اپنی داڑھی اس کی گال پر پھیری حور آنکھیں بند کر گئی ذامل اس کی گردن سے بال ہٹاتا اس کی گردن پر انگلیوں کا لمس محسوس کرواتا وہ اپنے ہونٹ قریب لایا حور سانس روک گئی
“مجھے تمہاری خوشبو سے بھی عشق ہے”
ذامل لبوں کا لمس محسوس کروا کر اس کے کان میں بولنے لگا حور ویسے ہی ساکت بیٹھی رہی
“تم بہت چھیچھوڑے ہو”
حور کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہنے لگی جس پر ذامل قہقہ لگا گئی
“ابھی تو میں نے کچھ بھی نہیں کیا ہے جانم”
ذامل شوخیہ لہجے میں اسے بتاتے ساتھ ہونٹوں پر انگوٹھا پھیرنے لگا۔۔
“مجھے نیند آرہی ہے”
حور فوراً سے اسے بولی ذامل بغیر کچھ کہے بڑی بے باکی سے اپنے لب اس کے ہونٹوں پر رکھ گیا حور کا وجود کانپنے لگا سانس بند ہونے لگی ذامل یوں ہی اسے لٹا گیا اور اس کی سانسیں خود میں قید کرنے لگا کچھ دیر بعد ذامل نے اس کے ہونٹوں کو ازادی بخشی اور اس کے بال ٹھیک کرتا اسے دیکھنے لگا
“اب سوجاؤ”
وہ اسے پیار سے کہتے ساتھ اپنے میں قید کیے سو گیا اور حور خود کو نارمل کرتی سونے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔


“کون؟”
شہریار نے بغیر دیکھے فون کان سے لگائے پوچھا
“نوال”
نوال نے اسے فوراً بتایا اس کی آواز پر وہ سیدھا ہوا
“خیریت”
شہریار فوراً سے پوچھنے لگا نوال نے ایک گہرا سانس لیا
“اگر سچ میں شادی کرنا چاہتے ہو تو اپنی فیملی کو کل میرے گھر بھیج دو”
نوال نے یہ کہتے ساتھ فون رکھ دیا اور شہریار دو منٹ اپنی جگہ پر ساکت رہا اور پھر ہوش میں آیا
“سچییی یاہووو”
شہریار خوشی سے شور مچا کر ناچنے لگ گیا۔۔۔


“میرے باپ کو منھ سے دور کیا ہے نا کسی کو بھی چین نہیں لینے دوں گا”
آدم اکیلا بیٹھا بالوں میں ہاتھ پھیرتے غصے سے یہی بول رہا تھا
“اور حورِ جان پہلا نمبر تو تیرا ہی ہوگا “
آدم حور کو سوچتے ہوئے کہنے لگا اور بالوں میں ہاتھ پھیرا
“تم لوگوں نے مجھے برباد کرکے رکھ دیا میں اتنا آسانی سے تو چھوڑنے والا نہیں ہوں”
آدم کہتے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا اور حاکم چوہدری کی حویلی کو دیکھنے لگا
“یہ تیس نہس کردوں گا “
وہ حویلی پر نظریں گاڑھے غصے سے کہنے لگا اور واپس غصے سے چلا گیا۔۔۔


“سب کچھ ٹھیک ہوگیا بس ازقہ بچی کو اب اس گھر کی بیٹی بن کر لانا ہے”
ہاجرہ بیگم مسکراتے ہوئے ناشتہ لگاتی کہنے لگی جس پر حاکم چوہدری اثبات میں سر ہلا گئے
“اگلے ہفتے ان کی رخصتی کردیتے ہیں”
حاکم چوہدری مسکراتے ہوئے کہنے لگے زاہد کے لبوں پر بھی مسکراہٹ نمودار ہوئی اور صارم اور جبران نے زاہد کو چھیڑا جس پر اس نے گھورا
“آدم کا پتہ ہے کسی کو؟؟”
حاکم چوہدری زاہد کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگے زاہد نے ان کی طرف دیکھا
“نہیں دادا ہوسپٹل کے بعد سے نہیں دیکھا”
زاہد نے فوراً سے انہیں بتایا حاکم چوہدری اثبات میں سر ہلا گئے
“نظر رکھو وہ کچھ بھی کرسکتا ہے”
حاکم چوہدری انہیں آگاہ کرتے ہوئے ناشتہ میں مصروف ہوگئے۔۔


“ذامل اٹھ جاؤ ناشتہ کرکے پین کلر کو”
حور اسے ناجانے کب سے جگانے کی کوششیں کررہی تھی لیکن ذامل ثس سے مس نہ ہوا
“ذامل اٹھ جاؤ ورنہ یہ پانی کا جگ تمہارے منہ پر الٹ دوں گی”
حور ذامل کو گھور کر یہی دھمکے استعمال کرتے ہوئے اونچی آواز میں کہنے لگی جب ذامل نے کھینچ کر اسے اپنے اوپر گرایا
“تمہیں اتنا ظلم کرتے ہوئے شرم نہیں آئے گی”
ذامل اس کی کمر پر بازو حائل کیے مسکراتے ہوئے پوچھنے لگا
“نہیں ہرگز نہیں “
حور اسے غصے سے گھورتے ہوئے جواب دینے لگی اس نے اس کی ناک کو چھوا
“کب سے اٹھا رہی ہوں اٹھنے کا نام نہیں لے رہے”
حور اسے گھور کر کہتے ساتھ اس کی بائیں بازو پر مکہ مار گئے
“آہہہہ”
ذامل درد سے چیخ مار گیا حور پریشان سی ہوئی
“زیادہ زور سے لگ گئی کیا؟”
حور بازو پکڑ کر فکرمند سی اس سے پوچھنے لگی جس پر ذامل اسے دیکھنے لگ گیا اور قہقہ لگا کر ہنسا۔۔۔
“بھاڑ میں جاؤ تم”
حور اسے دھکا دے کر اٹھتی اسے بولی ذامل بس ہنس رہا تھا
“فریش ہوجاؤ میں ناشتہ لارہی”
حور کہتے ساتھ کمرے سے باہر کی طرف بڑھ گئی جس پر ذامل اسے جاتا دیکھنے لگ گئی
جاری ہے ۔۔۔