Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Dasht E Dil) Episode 7

“امی اتنی تیاری کیوں ہورہی ہے آج”
جبران کچن میں آتے ہوئے لہجے میں پریشانی لیے پوچھنے لگا
“آج حور کا رزلٹ ہے نا تو ابا جان نے دعوت رکھی ہے”
ہاجرہ بیگم مسکراتے ہوئے اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگی جس پر جبران بھی مسکرا دیا
“افف دادا جان پہلی دفعہ تھوڑی وہ پہلی پوزیشن لے گی”
جبران نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہنے لگا ہاجرہ بیگم مسکرا دی۔
“تمہیں پتہ تو ہے دادا جان کا پھر اور کیوں تمہیں خوشی نہیں ہے “
ہاجرہ بیگم اسے بتاتے ہوئے دیکھ پوچھنے لگی
“آپ کے بعد سب سے زیادہ پیار مجھے اس سے ہے یہ بات سب جانتے ہیں پھر اس کی کامیابی میں خوشی کیوں نہیں ہوگی”
وہ انہیں دیکھ مسکرا کر بتانے لگا ہاجرہ بیگم بھی مسکرا دی وہ یہ بات بہت اچھے سے جانتی تھی تینوں بھائیوں کی اپنی بہن میں جان بسی ہے۔
حاکم چوہدری نے حور کے پہلی پوزیشن آنے پر ہمیشہ گاؤں کے لوگوں کی دعوت کی تھی اور سب لوگ اسی کاموں میں مصروف تھے۔


حور حویلی میں داخل ہوئی حاکم چوہدری اور باقی سب لوگ اسی کے انتظار میں تھے اسے آتا دیکھ حاکم چوہدری کے لب مسکرا دیے تھے۔
“دادا”
وہ مسکراتے ہوئے بولتی ان کے گلے لگ گئی جس پر حاکم چوہدری مسکرا دیے اور پھر باری باری وی گھر کے سب افراد سے مبارکباد لینے لگی تھی۔
“آپ سب کو یہ دعوت میری پوتی حورِ جان کے پہلی پوزیشن آنے پر دی گئی ہے زاہد کھانے کھلوا دو”
حاکم چوہدری گاؤں کے افراد کو بتاتے ساتھ زاہد کو حکم دیتے خود ڈائننگ ٹیبل کی طرف بڑھ گئے تھے جہاں گھر کے افراد کھانا کھا رہے تھے۔
سب نے مل کر کھانا کھایا تھا گاؤں کے سب لوگ بھی کھانا وغیرہ کھا کر جا چکے تھے
حور کمرے میں آکر تھوڑی دیر سونے کا ارادہ کرتی بیڈ پر آ گئی دو تین دن سے نیند اسے مشکل سے آرہی تھی۔


“مبارک ہو”
شہریار اسوقت ذامل کی حویلی میں موجود اس کے کمرے میں بیٹھا کہنے لگا اس نے آئبرو اچکائی۔
“حور نے ہمیشہ کی طرح پوزیشن لی ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگا جس پر ذامل کے لب مسکرا دیے
“جانتا ہوں میں”
وہ مسکراتے ہوئے مونچھوں کو تاؤ دیے اسے بولا
“مبارک باد دی”
وہ اس کے پاس آکر بیٹھتے ہوئے پوچھنے لگا ذامل نے اسے دیکھا
“آج جواب لے کر اور مبارکباد دے کر آؤں گا”
ذامل نظریں سامنے مرکوز کیے مسکرا کر اسے کہنے لگا شہریار اثبات میں سر ہلا گیا۔
“تیری زندگی کا ایک ہی مقصد رہ گیا ہے “
وہ اسے ہنستے ہوئے کہنے لگا ذامل نے اسے ترچھی نگاہ سے دیکھا
“اور تیرا بھی ایک ہی میری لو سٹوری کہاں پہنچی”
ذامل اسے دو ٹوک جواب دیتا اس کی ہنسی غائب کروا گیا اب کی بار مسکرانے کی باری ذامل کی تھی۔
“اچھا ٹھیک ہے”
وہ منہ بنا کر اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا ذامل بس مسکرایا۔


حور کمرے میں ٹہلتے ہوئے بس یہی سوچ رہی تھی کیا جواب دے اسے سمجھ نہیں آرہا تھا ایک طرف اس کے دادا تھے تو دوسری طرف اس کی محبت اس کی سمجھ سے باہر تھا۔
(“جب کوئی فیصلہ کرنا ہو اور سمجھ نہیں آرہی ہو تو آنکھیں بند کرو اور جو دل کہتا ہے وہی کرو”
ہاجرہ بیگم کے کہے الفاظ یاد کرتی وہ ایک گہرا سانس لیتی آنکھیں بند کر گئی اور اپنے دل کی آواز سننے لگی
“مجھے لگ گیا پتہ کیا کرنا ہے”
وہ آنکھیں کھول کر مسکرا کر فیصلہ کرتے ہوئے بولی اور پھر کمرے سے باہر چلی گئی۔
کچن میں آکر اپنے لیے کافی بنانے لگی لبوں پر مسکراہٹ تھی تبھی ازقہ کچن میں داخل ہوئی نظر اس پر گئی۔
“اکیلے میں مسکرا رہی ہوں ضرور کچھ چھپا رہی ہو”
وہ اسے کہانی مارتی چھیڑتے ہوئے کہنے لگی اس کے اچانک پر حور پہلے تو پریشان ہوئی اور پھر نارمل ہوئی۔
“نہیں ایسا کچھ نہیں ہے”
حور فورا سے انہیں دیکھتے ہوئے نفی میں سر ہلا کر جواب دیتی کافی میں چمچ ہلانے لگ گئی
“کچھ تو ہے”
ازقہ شیلف سے لگے اسے غور سے دیکھ بولی جس پر وہ مسکرا دی۔
“میں نے فیصلہ کرلیا ہے”
وہ مسکرا کر اسے دیکھ اطمینان سے بتانے لگی جس پر ازقہ فوراً سیدھی ہوئی۔
“کیسا فیصلہ؟”
ازقہ فورا سے اس سے پوچھنے لگی جس پر وہ مسکرا کر اسے دیکھنے لگی۔
“مجھے پیار ہوگیا ہے”
حور شیلف سے پشت ٹکائے اسے بتانے لگی ازقہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔
“واقع؟”
ازقہ اس کی بات پر یقین نہ کرتے ہوئے پھر سے پوچھنے لگی
“جی”
وہ مسکراتے ہوئے اسے اثبات میں سر ہلا کر جواب دینے لگی
“کون”؟
ازقہ فورا سے پوچھنے لگی اس کی بے چینی دیکھ حور ہنس دی
“ملک ذامل”
حور نے جتنے آرام سے اسے نام بتایا تھا اتنی ہی جلدی ازقہ کے لبوں سے مسکراہٹ غائب ہوئی تھی۔
“ملک ذامل “
ازقہ نے جیسا کنفرم کرنا چاہا حور اثبات میں سر ہلا گئی۔
“حور تمہارا دماغ ٹھیک ہے؟”
ازقہ اسے دیکھ سنجیدگی سے پوچھنے لگی حور نے ازقہ کو دیکھا۔
“بلکل تھیک ہے اور دشمنی دادا اور انکل ملک شہراز کے بیچ میں ہے تو کم دونوں کیوں اپنی خوشیوں قربان کریں”
حور اسے ذامل کے کہے گئے الفاظ بولی جس پر ازقہ اسے دیکھنے لگی
“حور دادا کبھی نہیں مانیں گے”
وہ فورا سے اسے سمجھانے کیلیے کہنے لگی حور مسکرادی
“وہ بہت پیار کرتے ہیں میرے لیے مان جائیں گے اور اگر نہیں مانے تو خدا کوئی معجزہ کردے گا”
حور اعتماد سے خود کو اور ازقہ کو امید دیتے ہوئے بتانے لگی ۔
“مجھے یہ ٹھیک نہیں لگ رہا ہے حور”
ازقہ لہجے میں پریشانی لیے فکرمندی سے کہنے لگی حور نے اس کے ہاتھ تھامے
“یہی ٹھیک ہے آپ نے کہا تھا آپ میرا ساتھ دیں گے ہر حال میں تو بجو حور کو صرف آپ کے ساتھ کی ضرورت ہے”
حور اس کا ہاتھ تھامے اسے دیکھتے ہوئے امید بھرت لہجے میں بولی ازقہ بھی اسے دیکھ رہی تھی ۔
“اللہ جو کرے بہتر کرے میں تمہارے ساتھ ہوں ہمیشہ “
ازقہ اسے امید دلاتی لبوں پر بامشکل مسکراہٹ سجائے بولی حور مسکرا کر اس کے گلے لگ گئی اور کافی کا مگ اٹھاتی کمرے کی طرف قدم بڑھا گئی ازقہ اسے جاتا دیکھنے لگی۔


ازقہ کچن میں کھڑی حور کے بولے گئے الفاظ سوچ رہی تھی زاہد جو گزر کر کمرے میں جارہا تھا کچن سے نظر اس پر گئی جو شیلف سے پشت ٹکائے نظریں زمین پر جمائے ہوئے تھی وہ قدم اس طرف بڑھا گیا
“ازقہ”
زاہد اسے دیکھ پکارنے لگا ازقہ ہوش میں آئی اور اسے دیکھا۔
“آپ آ گئے چائے پیے گے”
ازقہ اسے دیکھ فورا سے چہرے کے تاثرات نارمل کرتی پوچھنے لگی
“سب ٹھیک ہے”؟
زاہد اس کے چہرے کو غور سے دیکھتا پوچھنے لگا ازقہ لبوں پر مسکراہٹ سجا گئی ۔
“جی سب ٹھیک ہے کیوں”
ازقہ اسے نارمل لہجے میں مسکرا کر جواب دینے لگی زاہد کو تھوڑی تسلی ہوئی وہ اثبات میں سر ہلا گیا۔
“میں چائے بنا دیتی ہوں”
وہ کہتے ساتھ چولہے پر چائے رکھنے لگی زاہد اس کے بلکل پیچھے کھڑا ہوا ازقہ جو پانی کا جگ اٹھانے کیلیے مڑی
“آہہہ”
ازقہ چیخ مارتی اسے قریب دیکھ وہ شیلف سے جا لگی زاہد کے لب مسکرا دیے
“زاہد”
وہ خفگی سے اسے پکارنے لگی جس پر وہ مسکرا دیا اور اپنے لب اس کے کان کے قریب کیے ازقہ کے دل نے بیٹ مس کی
“مجھے تمہیں ڈرانے میں مزا آتا ہے”
وہ اسے گھمبیر لہجے میں بولتا اس کی دھڑکنیں بےترتیب کرتا خاموشی سے پیچھے ہوکر چلا گیا وہ اسے جاتا دیکھنے لگ گئی ۔


حور کمرے میں داخل ہوئی تبھی کھڑکی پر ہلکا سا ناک ہوا وہ فورا سے اس طرف بڑھی اور کھڑکی کھولی نگر کوئی موجود نہیں تھا تبھی اس کے سامنے گلاب کا پھول آیا حور پریشانی سے نظریں نیچے کی جانب کر گئی ۔
“کانگریچولیشنز”
وہ سیدھا ہوکر کھڑا ہوتا اسے مسکرا کر کہتا پھول اس کے آگے کیا
“تھینک یو”
حور اس کے ہاتھ سے پھول لیتی اسے بولی ذامل کی مسکراہٹ گہری ہوئی ۔
“یہ کون سا طریقہ تھا ؟”
وہ آئبرو اچکائے اسے دیکھ پھول کی خوشبو سونگھتی پوچھنے لگی
“ملک ذامل کا”
وہ ہمیشہ کی طرح مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے کہنے لگا حور کے لب ہلکے سے مسکرا دیے۔
“پیاری لگ رہی ہو”
سفید سٹالر سے سر پر حجاب کیے میک اپ سے چہرہ بلکل پاک مگر اس سادگی میں بھی ملک ذامل کو وہ اپنے دل میں اترتی ہوئی محسوس ہوئی
“اچھا”
حور سرخ گال کیے نظریں جھکائے بس یہی بول سکی
“ہائے”
وہ ایک بار پھر موچھوں کو تاؤ دیتا اس کا شرماتا روپ دیکھ کر بولا۔
“کیا کرنے آئے ہو”
وہ اسے دیکھ آئبرو اچکائے دھیمے سے لہجے میں پوچھنے لگی
“اپنی جان کو دیکھنے کیلیے جان”
وہ اس کے چہرے پر نظریں ٹکائے کہتا حور کو نظریں جھکانے ہر مجبور کردیا
“ویسے اتنا پیار کرتے کیوں ہو؟”
حور کے دل میں جو کب سے سوال تھا وہ اس سے پوچھ ہی گئی۔
“مجھے نہیں پتہ بس اتنا معلوم ہے کہ حورِ جان ملک ذامل کی زندگی میں بہت اہمیت رکھتی ہے حورِ جان کو دیکھے بغیر ملک ذامل کا دن نہیں گزرتا ہے تمہارا غصہ مجھے بےحد پسند ہے تم بچپن سے لے کر آج تک اس دل میں رہتی ہو”
ذامل اس کی سیاہ آنکھوں پر نظریں جمائے دل میں پر ہاتھ رکھ اسے بولا حور اسے بس دیکھتی رہ گئی۔
“جواب کیا سوچا؟”
ذامل اب سیدھا اپنے مطلب کی بات پر آیا حور نے نظر اٹھا کر دیکھا دل نے بیٹ مس کی تھی۔
“تمہیں سمجھ نہیں آئی ابھی تک”
حور اس سے نظریں چراتی بدلے میں اس سے سوال کرنے لگی
“آ گئی ہے مگر تمہارے منہ سے اقرار سننا چاہتا ہوں”
وہ حور کے چہرے پر گہری نظریں جمائے بولا حور کو اس کی طرف دیکھنا بھی محال لگ رہا تھا ۔
“بس میرا ایسا ہی اقرار ہے قبول ہے تو ہے نہیں تو پھر نہیں”
حور کنفیوز ہوتی تیز ہارٹ بیٹ ہاتھوں کی انگلیاں چٹکاتے ہوئے کانپتے ہوئے جواب دینے لگی
“تم کنفیوز ہورہی ہو”
ذامل اس کی حالت سے محفوظ ہوتا مسکرا کر پوچھنے لگا حور نے فورا اسے دیکھا
“حورِ جان کنفیوز کرنے والوں میں سے ہے ہونے والوں میں سے نہیں”
حور فورا سے خود کو نارمل کرتی اسے اپنے انداز میں جواب دینے لگی۔
“لیکن دیکھو تم کالج مت آنا سمجھے اور اب جاؤ کوئی دیکھ لے گا”
حور چہرہ تھوڑا باہر کو کیے نظریں ارد گرد گھماتی اسے بولی ذامل اپنا چہرہ اس کے چہرے کے قریب لایا حور اپنی سانس روک گئی اور فورا پیچھے ہوئی ۔
“جاؤ جواب دے دیا ہے میں نے اور کالج نہ آنا”
حور اپنی غیر ہوتی حالت پر قابو پاتے ہوئے اسے تھوڑا رک رک کر بولی
“ایک شرط پر”
ذامل اسے نظروں کے حصار میں لیے بولا حور نے آئبرو اچکائی
“بولو ملک ذامل تم مجھے پسند ہو”
ذامل اسے دیکھ مسکراتے ہوئے فرمائش کرنے لگا حور نے اسے دیکھا
“میں نہیں بول رہی”
حور فورا سے اسے جواب دینے لگی ذامل کندھے آچکا گیا
“مرضی ہے”
کہتے ساتھ وہ مڑ کر جانے لگا حور نے اسے دیکھا اسے لگا وہ ناراض ہوگیا
“ملک ذامل تم حور کو پسند ہو”
حور اسے جاتا دیکھ آنکھیں بند کیے ایک ہی سانس میں بول گئی ذامل کے بڑھتے قدم رکے اور مڑ کر اسے دیکھا مگر وہ کھڑکی بند کر چکی تھی
“جاری”
ذامل کھڑکی بند دیکھ منہ بناتا چلا گیا اور حور کھڑکی سے لگی بےترتیب دھڑکنوں کو ترتیب میں لانے لگی۔
“پیار پر اعتبار نہ کرنے والی لڑکی کو تم نے ملک ذامل پیار کروا ہی دیا”
حور مسکرا کر چہرے پر شرمیلی مسکراہٹ سجائے بولتی کمرے میں آ گئی ۔۔


حاکم چوہدری گہری نیند اپنے کمرے میں سورہے تھے تبھی اچانک ان کا فون بجا حاکم چوہدری نے وال کلاک کی جانب کی جو پانچ بجا رہی تھی انہوں نے پریشانی سے فون کان سے لگا گئے۔
“چوہدری صاحب آپ کی فیکٹری پر آگ لگ گئی”
حاکم چوہدری کا ملازم پریشانی سے بتانے لگا حاک۔ چوہدری ایکدم اٹھ کھڑے ہوئے
“کیا فیکٹری”
وہ پریشانی سے کہنے لگے اور ہاتھ بڑھا کر کمرے کی لائٹ آن کی
“جی چوہدری صاحب”
وہ انہیں بتانے لگا حاکم چوہدری پریشان سے چہرے پر ہاتھ پھیرنے لگے
“میں آرہا ہوں”
حاکم چوہدری کہتے ساتھ فون بند کرتے اٹھے اور شال لیتے باہر کی جانب بڑھے
“زاہد”
اونچی آواز میں زاہد کو پکارنے لگے تبھی آدم کمرے سے باہر آیا
“کیا ہوا دادا”
وہ پریشانی سے حاکم چوہدری اسوقت جاگتا دیکھ پوچھنے لگے
“فیکٹری میں آگ لگ گئی ہے”
وہ آدم کو دیکھ جواب دیتے اس زاہد کے کمرے کی طرف نظریں کر گئے
“فیکٹری میں آگ”
آدم پریشانی سے کہنے لگا حاکم چوہدری سر کو خم دے گئی
“جی دادا سب خیریت تو ہے نا؟”
وہ تیزی سے کمرے سے باہر آتے ہوئے سیڑھیاں اترتے ہوئے پوچھنے لگا
“فیکٹری میں آگ لگ گئی ہے جلدی چلو”
وہ فورا سے کہتے ساتھ باہر کی طرف بڑھے زاہد فورا پیچھے آیا اور آدم بھی ان کے ساتھ چل دیا۔
حاکم چوہدری کے آدمی بھی ان کے سر پر کھڑے ہوگئے اور وہ لوگ گاڑیوں میں سوار ہوتے چل دیے۔
جاری ہے ۔